ادھوری سہاگ رات

Urdu Stories

جب میں اسکول میں پڑھتی تھی، ملازم ہاتھ باندھے میرے آگے پیچھے گھومتے تھے اور ڈرائیور مجھے اسکول لینے آتا تھا۔ ان دنوں کی یادیں میں عمر بھر بھلا نہیں پاؤں گی، مگر کہتے ہیں کہ اچھے دن سدا نہیں رہتے؛ میرے بھی اچھے دن جلد ختم ہو گئے۔ ان دنوں میں بیس سال کی تھی کہ والد صاحب کو میری شادی کی فکر ستانے لگی۔ خاندان سے کافی رشتے آئے، مگر میں نے ٹھکرا دیے کیونکہ میں خاندان میں شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مجھ کو اپنے خاندان میں صرف ایک ہی لڑکا پسند تھا اور وہ بھی صرف دوستی کی حد تک؛ میں اسے اپنا دوست سمجھتی تھی لیکن اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

والد صاحب کا بزنس کینیڈا میں تھا، جہاں ان کے پارٹنر انکل فہد کاروبار دیکھتے تھے۔ ان کا ایک بیٹا تھا، احمد، اور والد صاحب کی نظر میں اس سے بہتر کوئی نہیں تھا۔ وہ بار بار مجھ کو سمجھاتے کہ میرا کہا مان لو، سکھی رہو گی۔ وہ میرے بزنس پارٹنر کا بیٹا ہے، اسی میں ہماری بھلائی اور تمہارا تحفظ بھی ہے۔ میں ابھی آگے پڑھنا چاہتی تھی، لیکن والد صاحب کی ضد کی وجہ سے میں نے شادی کے لیے ہاں کر دی۔ تمام والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کی شادیاں وقت پر ہو جائیں تاکہ وہ سکون سے زندگی گزار سکیں۔ پاپا نے اسی وجہ سے احمد کو چنا تھا کہ وہ ان لوگوں کو بہت اچھی طرح جانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ احمد ان کے بزنس پارٹنر کا بیٹا ہے، لہٰذا ان کے لحاظ میں رہے گا۔

شادی خانہ آبادی ہو گئی، لیکن کبھی کبھی خانہ آبادی ہی خانہ بربادی ثابت ہوتی ہے۔ یہاں سے ہی میرے برے دنوں کا آغاز ہو گیا۔ میری شادی کی تقریب بہت یادگار تھی۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں نے شرکت کی۔ اپنے ماں باپ اور عزیزوں کی دعاؤں کے ساتھ مجھے رخصت کر دیا گیا۔ ہر لڑکی کی طرح میرے بھی کچھ خواب اور ارمان تھے، مگر سہاگ رات میں نے اکیلے جاگ کر گزار دی۔ شادی کے دو ماہ تک میں پاکستان میں رہی، لیکن ایک دن بھی مجھے اپنے دولہا کی قربت نصیب نہ ہوئی۔ خدا جانے کیوں وہ مجھ سے دور دور رہتے تھے؟ یہ بات میں اپنے پاپا کو نہیں بتا پاتی تھی۔ ہم دعوتوں اور پارٹیز میں اکٹھے جاتے تھے، لوگ ہماری جوڑی دیکھ کر رشک کرتے تھے، لیکن صرف میں ہی جانتی تھی کہ مجھ پر کیا بیت رہی ہے۔

دو ماہ بعد جب میں کینیڈا جا رہی تھی تو روانگی کے وقت ابو نے کینیڈا کا سارا بزنس میرے نام کر دیا، جو اب احمد کو سنبھالنا تھا۔ میں سمجھ رہی تھی کہ بابل کے گھر سے اپنے گھر جا رہی ہوں، لیکن پردیس جا کر پتا چلا کہ جب میکہ پیچھے چھوٹ جائے تو اصل پردیس کسے کہتے ہیں۔ احمد کے گھر میں اس کی ماں، دو بھائی اور تین بہنیں رہتی تھیں۔ وہاں سب لوگ ملازمت کرتے تھے اور گھر میں صرف میں اکیلی رہ جاتی تھی۔ مجھے تنہائی تنگ کرنے لگی، میں دن رات اپنے گھر والوں اور وطن کو یاد کر کے روتی تھی۔ اب بھی احمد نے مجھے وہ پیار نہ دیا جو شوہر بیوی کو دیتا ہے۔ ہم دونوں الگ الگ کمروں میں سوتے تھے، مگر میں نے اپنی خودداری کے باعث کبھی ان سے یہ نہ پوچھا کہ وہ الگ کیوں سوتے ہیں۔

ایک دن میں احمد کے ساتھ آفس جا رہی تھی کہ راستے میں دیکھا ایک بچہ اسے ‘پاپا’ کہہ کر پکار رہا ہے۔ وہ بچہ بھاگ کر ان سے چمٹ گیا اور انگریزی میں ان سے گلے شکوے کرنے لگا؛ وہ اپنی انگریز نرس کے ساتھ تھا۔ میں حیران تھی کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ راستے میں تو میں خاموش رہی، لیکن گھر آکر جب احمد سے باز پرس کی تو انہوں نے زندگی کی وہ تلخ حقیقت بتائی جو وہ آج تک مجھ سے چھپاتے آئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ شادی شدہ اور ایک بیٹے کے باپ ہیں۔ احمد نے ٹیکساس میں ایک بہت امیر خاندان میں شادی کر رکھی تھی اور یہ ان کی پسند کی شادی  تھی۔ احمد نے مجھے صاف لفظوں میں بتا دیا کہ ‘ابو اور انکل نے بزنس کو یکجا رکھنے کی خاطر ہم دونوں کو رشتہ ازدواج میں باندھا ہے؛ تم بھی مجبور تھیں اور میں بھی باپ کی فرماں برداری پر مجبور تھا، لیکن میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ میں کبھی تم کو بیوی جیسا پیار نہیں دے سکتا کیونکہ میں روزی کو دل و جان سے چاہتا ہوں۔’

اس دن موسم ابر آلود تھا، پھر بارش اور طوفان بہت تیز ہو گیا، لیکن جو طوفان میرے اندر اٹھ رہا تھا اس کا مقابلہ دنیا کا کوئی طوفان نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے معاملات میں کوئی تیسرا دخل اندازی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میں بھی ایک معاملہ فہم لڑکی تھی اور احمد بھی ایک صلح جو اور خاموش طبع انسان تھا۔ بہر حال، میں نے بظاہر کوئی ہنگامہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی جھگڑا کیا۔ میں پاپا کو بالکل دکھ نہیں دینا چاہتی تھی، اس لیے لڑے جھگڑے بغیر ہم دونوں اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف رہے۔ نہ میں احمد کے کسی معاملے میں دخل دیتی اور نہ وہ میری کسی مصروفیت میں مداخلت کرتا۔ اس نے زیادہ وقت گھر سے باہر رہنا شروع کر دیا اور اب وہ کبھی کبھار ہی گھر آتا، وہ بھی صرف تب جب کوئی کام ہوتا۔

ایک دن اس نے میرے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھمایا۔ پوچھنے پر بتایا کہ اس میں تمہارا پاسپورٹ، ٹکٹ اور دوسرے لفافے میں کچھ ضروری کاغذات ہیں۔ میں سمجھی شاید بزنس کے کاغذات ہوں گے جو ابو کو دکھانے ہوں گے، چنانچہ میں نے وہ لفافہ اپنے سوٹ کیس میں رکھ دیا۔ پورے ایک سال بعد میں پاکستان اپنے والدین سے ملنے جا رہی تھی اور بے حد خوش تھی؛ مجھے خیال بھی نہ آیا کہ اس لفافے میں کوئی سنگین معاملہ چھپا ہوگا۔ یہ ایک سال میں نے ایک ایک لمحہ گن کر گزارا تھا۔ جب فون پر پاپا کو بتایا کہ میں فلاں تاریخ کو فلاں فلائٹ سے آ رہی ہوں، تو وہ خوشی کے مارے بول نہیں پا رہے تھے کیونکہ وہ میرے لیے بہت اداس تھے۔ آخر دسمبر کا وہ دن بھی آ گیا جب میں پاکستان جا رہی تھی۔ مجھے توقع تھی کہ احمد ایئرپورٹ تک چھوڑنے آئے گا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اپنے دیس پہنچ کر یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی کی پیار بھری بانہوں میں آکر محفوظ ہو گئی ہوں۔

ماما اور پاپا سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میری چھوٹی بہن کی بات پکی ہو گئی تھی اور جنوری میں اس کی شادی تھی؛ میں بہت خوش تھی۔ گھر والوں سے مل کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کئی سالوں بعد ان سے مل رہی ہوں، آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ میں اپنوں میں ایسی کھوئی کہ احمد کا دیا ہوا وہ پیکٹ دیکھنا ہی بھول گئی۔ ایک دن اچانک نظر پڑی تو میں نے وہ لفافہ نکال کر کھولا؛ کاش میں اسے کبھی نہ کھولتی! ان کاغذات میں طلاق نامہ تھا؛ اس ظالم نے بغیر کسی وجہ کے مجھے چھوڑ دیا تھا، حالانکہ میں نے احمد کی زندگی میں کبھی مداخلت نہیں کی تھی۔ یہاں تک کہ جب اس نے مجھے شوہر جیسا پیار نہ دیا تو بھی میں نے کسی سے گلہ نہیں کیا تھا، مگر اس کے باوجود اس نے مجھے طلاق دے دی۔

طلاق کے کاغذات پڑھتے ہی بے اختیار میرا رونا نکل گیا۔ میرے رونے کی آواز سن کر امی اور ابو کمرے میں آ گئے۔ میں نے وہ کاغذات ان کے آگے کر دیے۔ پاپا نے ان کاغذات کو بغور دیکھا، پھر مجھے تسلی دی کہ ‘فکر مت کرو، میں ابھی زندہ ہوں؛ میرے ہوتے ہوئے تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی، میں تمہارے لیے دنیا کی ہر خوشی کا اہتمام کروں گا۔’ لیکن اس دن کے بعد مجھے جیسے چپ لگ گئی۔ میں نہ ہنستی تھی اور نہ مسکراتی تھی۔ والد صاحب میری حالت دیکھ کر کڑھتے رہتے تھے۔ امی اس صدمے سے بیمار پڑ گئیں کیونکہ وہ میری آنکھوں کی چمک کو بجھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ بالآخر ایک دن والدہ ہمیں روتا چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملیں اور والد صاحب تنہا میرا دکھ سمیٹنے کے لیے رہ گئے۔
والد صاحب کینیڈا گئے اور ان لوگوں سے اپنا بزنس واپس لے کر فروخت کر آئے؛ انکل فہد نے بہت معافیاں مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘مجھے معلوم نہیں تھا کہ احمد اتنی رازداری سے کام لے گا، میں اپنے بیٹے کو ایسا نہیں سمجھتا تھا لیکن وہ بہت گھناؤنا نکلا۔’ والد صاحب نے جواب دیا کہ ‘جو ہونا تھا، وہ ہو گیا۔ میں بھی تو اپنی بیٹی کا مجرم ہوں جس نے اس قدر میرا مان رکھا اور میری ضد کے آگے سر جھکا دیا۔’

والد صاحب اکثر اس بات پر رنجیدہ ہوتے اور کہتے کہ ‘میں نے تمہاری زندگی تباہ کر دی ہے’؛ میں انہیں تسلی دیتی کہ ‘آپ نے تو اچھا ہی سوچا تھا، لیکن یہ میری قسمت تھی۔ والدین ہمیشہ اچھا ہی سوچتے ہیں؛ وہ رشتہ تو دیکھ سکتے ہیں مگر بیٹی کا نصیب نہیں دیکھ سکتے۔ یہ تو صرف خدا کو ہی پتا ہوتا ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔’

یہ شاید قدرت کا قانون ہے کہ اگر کسی کو بیوی اچھی ملتی ہے تو شوہر اچھا نہیں ہوتا، اور کہیں شوہر اچھا ہو تو بیوی اچھی نہیں ہوتی۔ میں سوچتی ہوں کہ کسی کا ایک غلط فیصلہ زندگی میں کیسا طوفان برپا کر دیتا ہے۔

جب ایک دن میری زندگی میں سہیل آیا، وہ غریب گھر کا سلجھا ہوا لڑکا تھا، مجھ سے عمر میں دو سال بڑا تھا۔ سہیل آفس میں جاب کرتا تھا جو ہماری کمپنی تھی۔ پہلی ملاقات تو بس ایک رسمی سی تھی، جب وہ مجھے فائل دیتے ہوئے مسکرایا اور کہا، "آپ ٹھیک ہیں نا؟" اس ایک جملے میں اتنی فکرمندی تھی کہ میرا دل ایک لمحے کو تھم سا گیا۔ میں نے جواب میں بس سر ہلا دیا، مگر اندر سے کچھ ٹوٹا ہوا سا محسوس ہوا۔

دن گزرتے گئے اور سہیل کی چھوٹی چھوٹی توجہات نے میرے دل کے زخموں پر مرہم لگانا شروع کر دیا۔ وہ کبھی چائے کا کپ میرے لیے لے آتا، کبھی کہتا کہ "آج موسم اچھا ہے، ذرا باہر چل کر آئیں؟" میں انکار کرتی، مگر وہ اصرار نہیں کرتا تھا۔ بس خاموشی سے میری تکلیف سمجھتا رہتا۔ آہستہ آہستہ وہ میری زندگی کا وہ حصہ بن گیا جس کی مجھے ضرورت تھی، مگر جس کا مجھے انتظار بھی نہیں تھا۔

 ایک شام جب آفس خالی ہو رہی تھی، میں رو رہی تھی۔ سہیل آ گیا۔ اس نے کچھ نہ پوچھا، بس پاس بیٹھ گیا اور کہا، "رونا اچھا لگتا ہے، کیونکہ جب آنسو نکلتے ہیں تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔" اس دن پہلی بار میں نے اسے اپنی پوری کہانی سنا دی۔ احمد کی دھوکہ دہی، طلاق، ماں کا جانا، باپ کی خود کو موردِ الزام ٹھہرانا، سب کچھ۔ سہیل نے خاموشی سے سنا، اور جب میں خاموش ہوئی تو اس نے بس اتنا کہا، "اب سے تم اکیلی نہیں ہو۔"

اس کے بعد ہماری دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔ وہ مجھے ہنسانے کی کوشش کرتا، چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا، کبھی اپنے گھر کی غربت کی کہانیاں سناتا کہ کیسے وہ اپنے بہن بھائیوں کے لیے پڑھائی چھوڑ کر نوکری کرنے لگا تھا۔ اس کی سادگی اور ایمانداری مجھے حیران کرتی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو پیار مانگتے نہیں، بس دیتے ہیں۔

ایک دن بارش ہو رہی تھی۔ ہم دونوں آفس کے باہر کھڑے تھے۔ سہیل نے اپنا کوٹ اتار کر میرے سر پر ڈال دیا اور کہا، "تم بھیگ جاؤ گی تو بیمار ہو جاؤ گی۔" میں نے کہا، "تم بھی تو بھیگ رہے ہو۔" وہ ہنس پڑا اور بولا، "میں تو عادی ہوں، تم نہیں ہو۔" اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہ لڑکا مجھے صرف دوست نہیں سمجھتاوہ مجھے اپنا سمجھتا ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ میرے والد صاحب بھی سہیل سے ملے۔ پہلے تو وہ حیران ہوئے کہ یہ غریب گھر کا لڑکا ہے، مگر جب سہیل نے ان سے بات کی، ان کی آنکھوں میں احترام تھا۔ پاپا نے مجھ سے پوچھا، "بیٹی، کیا تم خوش ہو اس کے ساتھ؟" میں نے آنسوؤں کے ساتھ سر ہلا دیا۔ پاپا نے سہیل کو گلے لگایا اور کہا، "میری بیٹی کی خوشی اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔"

شادی سادہ سی تھی، مگر دل سے دل تک تھی۔ کوئی شان و شوکت نہیں، کوئی دکھاوا نہیں—بس ہم دونوں، چند رشتہ دار، اور بہت ساری دعائیں۔ جب سہیل نے مجھے گھر لے کر آیا تو اس نے کہا، "یہ گھر چھوٹا ہے، مگر اس میں تمہارے لیے بہت سارا پیار ہے۔" میں رو پڑی، کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب مجھے لگا کہ میں واقعی کسی کی بیوی ہوں۔

 شادی کے بعد زندگی بالکل مختلف ہو گئی۔ سہیل صبح جلدی اٹھتا، مجھے چائے بناتا، آفس جاتا اور شام کو واپس آ کر میری بات سنتا۔ ہم دونوں مل کر گھر چلاتے، ہنستے، کبھی کبھی جھگڑتے بھی، مگر جھگڑا ختم ہونے سے پہلے ہی ایک دوسرے کو گلے لگا لیتے۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ شادی محبت کی تکمیل ہوتی ہے، نہ کہ بزنس کا معاہدہ۔

آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے کہ زندگی نے مجھے بہت کچھ کھویا، مگر بدلے میں مجھے سہیل جیسا ساتھی دیا۔ احمد کی یاد اب صرف ایک سبق رہ گئی ہےکہ پیار زبردستی نہیں ہوتا۔ سہیل نے مجھے سکھایا کہ سچا پیار وہی ہے جو خاموشی سے ساتھ دے، جو تمہارے دکھوں کو اپنا سمجھے، اور جو تمہیں کبھی تنہا نہ چھوڑے۔

اب ہمارے گھر میں ہنسی کی آوازیں گونجتی ہیں۔ پاپا بھی اب مسکراتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ "بیٹی، اب تمہاری آنکھوں میں وہی چمک واپس آ گئی ہے۔" میں سہیل کا ہاتھ تھام کر سوچتی ہوں کہ شاید یہی خوشی تھی جس کا مجھے انتظار تھا۔ زندگی نے مجھے بہت رُلایا، مگر آخر میں اس نے مجھے سچا سہارا دے دیا۔ ایک ایسا سہیل، جو میرا سب کچھ بن گیا۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ