دل رُبا اسکول کے زمانے سے میری سہیلی تھی۔ وہ اتنی خوبصورت تھی کہ جہاں بیٹھتی، اندھیرے میں بھی روشنی ہو جاتی۔ اس کا سارا خاندان ہی حسن میں یکتا تھا۔ میٹرک پاس کرتے ہی اس کی منگنی تایا کے بیٹے احمد سے ہو گئی۔ اس کا منگیتر دوسرے شہر میں رہتا تھا، اس لیے وہ ہمارے شہر کم ہی آتا تھا۔ جلد ہی دل رُبا کی شادی ہو گئی اور وہ تایا کی چھوٹی بہو بن کر سسرال چلی گئی۔
احمد، دل رُبا سے بہت پیار کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے جیتے تھے۔ شادی کے بعد دولہا روز اسے سیر کو لے جاتا؛ اس روز بھی یہ دونوں سیر کو نکلے ہوئے تھے۔ احمد کار چلا رہا تھا اور دل رُبا بنی سنوری اس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ گاڑی چلاتے ہوئے بار بار اس کی نظر اپنی بیوی کے چہرے کی طرف اٹھ جاتی تھی؛ ڈرائیونگ سے زیادہ اس کا دھیان اپنی محبوبہ دلربا کی طرف تھا۔ ہر پل اس کا تاباں مکھڑا دیکھ کر احمد کو سکھ مل رہا تھا۔
اچانک ایک ریڑھی والا، جس کے کپڑے میلے اور پھٹے ہوئے تھے، شدت کے ساتھ احمد کی گاڑی سے ٹکرایا اور منہ کے بل سڑک پر جا گرا۔ قصور اس مفلس ریڑھی والے کا نہیں تھا؛ وہ تو سڑک کے کنارے اپنی راہ چلا جا رہا تھا۔ احمد کی گاڑی نے پشت سے اسے ٹکر ماری تھی کیونکہ وہ بیوی کی صورت دیکھنے میں محو تھا۔ کار کے ترچھا ہو جانے کا اسے احساس ہی نہ ہوا۔
دل رُبا بوڑھے کو اوندھے منہ سڑک پر گرتے دیکھ کر بدحواس ہو گئی۔ وہ بے ہوش ہو چکا تھا، اس کا منہ کھلا تھا اور آنکھیں پھیل گئی تھیں، جبکہ چہرہ لہولہان تھا۔ اس کے کچلے جانے میں بس تھوڑی سی کسر رہ گئی تھی۔ یہ ایسا وقت تھا کہ سڑک پر رش زیادہ نہ تھا۔ لمحہ بھر کو احمد نے گاڑی روکی، اسٹیئرنگ سیدھا کیا اور ترچھی جاتی کار کو موڑ کر سڑک کے بیچ لے گیا، پھر رفتار تیز کر دی۔
“ایسا نہ کرو احمد!” دل رُبا نے کہا، “یہ کیا کر رہے ہو؟ اپنی گاڑی بھگائے لیے جا رہے ہو؟ تمہاری اس غلطی سے جو شخص زخمی ہوا ہے اسے بے یار و مددگار چھوڑے جا رہے ہو، اسے کون اٹھائے گا؟ ایسا نہ ہو کہ اسپتال پہنچانے میں دیر ہو جائے اور وہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے مر جائے۔”
“مرتا ہے تو مر جائے، ویسے بھی یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ قریب المرگ ہی تھا۔” احمد نے جواب دیا۔ “کیا تم اتنے سنگدل ہو احمد؟” دل رُبا نے پوچھا۔ اس نے کہا، “سنگدلی کی بات نہیں، تم ساتھ ہو۔ اگر وہ مر گیا تو خواہ مخواہ تھانے کچہری کے چکر کاٹنے پڑیں گے۔ اگر زندہ ہونا ہوا تو بچ جائے گا، کوئی نہ کوئی اسے اٹھا کر اسپتال پہنچا ہی دے گا۔”
یہ حادثہ ایسا تھا جس کا اثر کافی دنوں تک دل رُبا پر رہا۔ وہ دکھی رہتی اور رہ رہ کر اسے خیال آتا کہ وہ بے چارہ مفلس اور مفلوک الحال بوڑھا روزی روٹی کمانے نجانے کن حالات میں گھر سے نکلا ہو گا، سارا دن دھوپ میں مارا مارا پھرتا ہو گا۔ گھر گھر سے ردی اخبار، خالی بوتلیں اور ڈبے جمع کر کے بیچنے سے چند روپے بنتے ہوں گے جن سے اس کے گھر کا چولہا جلتا ہو گا۔ خدا جانے اس کے گھر میں کمانے والا کوئی دوسرا تھا بھی یا نہیں۔ کیا پتا بچے کتنے بڑے ہوں؟ اکثر غربت جوانی کو بھی بڑھاپے میں بدل دیتی ہے، وہ تو ویسے بھی فاقہ زدہ لگتا تھا۔
وہ کبھی کبھی احمد سے اپنے اس ذہنی خلفشار کا ذکر کرتی تو شوہر اسے ٹال دیتا۔ وہ کہتا، “خدا جانے تم کیوں اتنی حساس ہو۔ ارے اب بھول بھی جاؤ، میں نے جان بوجھ کر تو اسے نہیں مارا، حادثہ تھا، ہو گیا۔”
وقت ہر دکھ کا مداوا اور ہر غم کا مرہم ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ دل رُبا کے ذہن سے بھی یہ واقعہ دھندلانے لگا اور وہ اپنی زندگی کی خوشیوں میں مگن ہو گئی۔ بوڑھا گاڑی بان مر گیا یا زندہ رہا، اس واقعے کی اب کوئی اہمیت باقی نہ رہی تھی۔ شادی کے تین سال بعد دل رُبا امید سے ہو گئی۔ خاندان کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔ اس کے سسرال والوں نے کہا کہ یہ بچہ میکے میں پیدا ہونا چاہیے کیونکہ احمد کے بڑے بھائی کے گھر تین بچے پیدا ہوئے مگر پیدائش کے کچھ ہی دن بعد فوت ہو گئے۔ تبھی ساس نے چھوٹی بہو کو میکے بھیج دیا تاکہ اگر ان کے گھر میں کوئی نحوست ہے تو اس کا سایہ دل رُبا کے ہونے والے بچے پر نہ پڑے۔
احمد نے کہا کہ والدہ توہمات کا شکار ہیں، لیکن تائی کے اصرار پر اسے میکے آنا پڑا اور احمد بھی ساتھ ہی آگیا۔ تین ہفتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے چاند سا بیٹا عطا کیا۔ بچے کی بخیریت پیدائش پر پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
جب بچہ ڈیڑھ ماہ کا ہوا تو ایک روز احمد اسے لے کر باہر نکلا۔ شہر کے قریب ہی کھیت تھے، وہ وہاں سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بزرگ کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ بزرگ نے قریب پہنچ کر گھوڑا روک لیا اور بچے کو غور سے دیکھنے کے بعد بولے: “یہ پتا نہیں کیا چیز ہے۔” یہ جملہ سن کر احمد نے اپنے بچے کو دیکھا اور سوچ میں پڑ گیا کہ وہ انجان شخص کون تھا اور اس نے ایسی بات کیوں کہی؟ ابھی وہ اسی شش و پنچ میں تھا کہ بزرگ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ گھر آ کر احمد نے یہ بات سب کو بتائی؛ سب حیران تو ہوئے مگر پھر بات آئی گئی ہو گئی۔
گھر سے دور کافی دن گزر چکے تھے، اب احمد اور دل رُبا واپس جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ سفر پانچ گھنٹے کا تھا؛ دو گھنٹے کی مسافت کے بعد احمد کے منجھلے بھائی کا گھر آتا تھا، جس نے انہیں دعوت دے رکھی تھی۔ لہٰذا دعوت کی خاطر اور کچھ آرام کی غرض سے وہ وہاں رک گئے۔ وہاں پہنچ کر ابھی ذرا سا آرام ہی کیا تھا کہ اچانک بچے کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ اسے فوراً اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اس اچانک صدمے سے دل رُبا کے حواس مختل ہو گئے؛ اس کے بھائی کو اطلاع دی گئی اور بچے کی تدفین کے لیے اسے سسرال لایا گیا جہاں کہرام مچ گیا۔ میکے والے بھی وہاں پہنچ گئے۔
جس گھر میں بچے کی آمد پر دو ماہ سے خوشیاں منائی جا رہی تھیں، وہاں اب صفِ ماتم بچھی تھی۔ تدفین کے بعد تمام رشتہ دار رخصت ہو گئے لیکن دل رُبا کا بہنوئی، والدہ اور بڑی بہن وہیں ٹھہر گئے۔ اس واقعے کے پندرہ دن بعد دل رُبا کے بھائی اور بھابی بھی احمد کے گھر کے لیے روانہ ہوئے، کچھ رشتہ دار خواتین نے بھی تعزیت کے لیے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی۔ یوں چار گھرانوں کی عورتیں اور بچے تیار ہو گئے اور کل چودہ افراد ایک پک اپ میں سوار ہو کر دل رُبا کے گھر پہنچے۔
ایک رات وہاں قیام کے بعد اگلے روز سب واپسی کے لیے تیار تھے کہ دل رُبا کی والدہ، بہنوئی اور بڑی بہن نے بھی ساتھ جانے کا ارادہ کر لیا۔ رخصت ہوتے وقت سب نے ڈھارس بندھائی کہ “پریشان نہ ہونا، اللہ تعالیٰ ان شاء اللہ صاحبِ حیات اولاد بھی دے گا۔” جیٹھ اور جٹھانی نے بھی اجازت چاہتے ہوئے کہا کہ “اللہ کا یہی حکم تھا، اس غم کے موقع پر ملاقات ہوئی، اب خدا حافظ! کیا خبر دوبارہ ملاقات ہو یا نہ ہو، زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔”
یہ سب قافلے کی صورت میں احمد کے گھر سے نکلے، ابھی شاہراہ پر سفر کرتے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ سامنے سے آنے والا ٹرک آگے والی گاڑی سے ٹکرا گیا، جس میں جیٹھ اور جٹھانی اگلی نشست پر سوار تھے۔ پیچھے آنے والی گاڑی میں دل رُبا کے میکے والے تھے؛ وہ گاڑی اتنی تیز تھی کہ جیٹھ کی کار سے پیچھے سے جا ٹکرائی۔ اس میں دل رُبا کے بھائی، بھابی، بڑی بہن، بہنوئی اور والدہ کے علاوہ بھائی کا تین سالہ بیٹا اور بہن کی پانچ ماہ کی بچی بھی سوار تھی۔
حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ تمام سواریاں گاڑیوں سے نکل کر سڑک پر بکھر گئیں۔ دل رُبا کا بھائی شدید زخمی ہونے کے باوجود ہوش میں تھا، اس نے اٹھ کر سب کو دیکھا۔ جیٹھ گاڑی کا دروازہ ٹوٹنے کے سبب دور جا گرے تھے اور سر پر گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے۔ تمام مسافروں میں سے صرف دل رُبا کا بھائی، بھابی اور والدہ ہی بچ پائے؛ والدہ پچھلی نشست پر ہونے کی وجہ سے محفوظ رہیں۔ جلد ہی لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ وہ رشتہ دار خواتین جو ساتھ گئی تھیں، وہ بھی جاں بحق ہو گئیں۔ کسی کے سر اور دماغ پر چوٹ تھی تو کسی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ ان عورتوں میں سے دو کی گود میں چھوٹے بچے تھے جو حیرت انگیز طور پر محفوظ رہے؛ سچ ہے کہ ‘جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے’۔ وفات پانے والی خواتین میں علی کی دونوں بہنیں بھی شامل تھیں۔
یہ خبر جب میکے پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ ہمارے محلے میں اتنا شدید حادثہ پہلی بار ہوا تھا؛ ہر طرف قیامت کا سماں تھا۔ چودہ افراد میں سے صرف پانچ زندہ بچے تھے۔ ہر شخص سکتے کے عالم میں تھا، رات بھر قبروں کی کھدائی ہوتی رہی۔ کوئی بھی کسی سے کلام کرنے کے قابل نہ تھا۔ جوں جوں قبریں تیار ہوتی گئیں، ساتھ ساتھ تدفین کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ یوں لگتا تھا جیسے ساری دنیا وہیں جمع ہو گئی ہے؛ گاؤں میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ ایسا قیامت خیز منظر کبھی کسی نے نہ دیکھا تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی۔
جب دل رُبا سسرال جانے پر کسی طور راضی نہ ہوئی تو احمد نے اس کی خاطر میکے ہی میں رہنا شروع کر دیا کیونکہ یہ اس کے چچا کا گھر تھا۔ واقعے کے دو برس بعد ان کے ہاں دوبارہ اولاد ہوئی مگر وہ بھی کچھ دن بعد وفات پا گئی۔ پھر ایک بیٹی کے بعد دو جڑواں بیٹے پیدا ہوئے؛ ایک انتقال کر گیا مگر دوسرے کو دعاؤں کے سائے میں خدا نے زندگی بخش دی۔ اب دل رُبا کا وہی ایک بیٹا ہے جو اکلوتا ہونے کے ناطے ماں باپ کی جان ہے، وہ اسے دیکھ دیکھ کر ہی جیتے ہیں۔ اللہ نے بیٹا تو دے دیا لیکن مالی حالات خراب ہو گئے اور دولت نہ رہی۔ انہوں نے اس پر بھی صبر و شکر کیا کہ اللہ کے کرم سے گود تو بھری ہے اور اولاد کی نعمت پاس ہے۔
سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا۔ ہر کوئی اس بوڑھے ریڑھی والے کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کو بھلا چکا ہے، لیکن دل رُبا کو وہ واقعہ آج تک نہیں بھولا۔ کبھی کبھی جب ہماری ملاقات ہوتی ہے تو وہ مجھ سے اس کا ذکر ضرور کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ بے شک سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے اور دنیا میں حادثات ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن “جس تن لاگے وہی جانے”۔
احمد، دل رُبا سے بہت پیار کرتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے جیتے تھے۔ شادی کے بعد دولہا روز اسے سیر کو لے جاتا؛ اس روز بھی یہ دونوں سیر کو نکلے ہوئے تھے۔ احمد کار چلا رہا تھا اور دل رُبا بنی سنوری اس کے پہلو میں بیٹھی تھی۔ گاڑی چلاتے ہوئے بار بار اس کی نظر اپنی بیوی کے چہرے کی طرف اٹھ جاتی تھی؛ ڈرائیونگ سے زیادہ اس کا دھیان اپنی محبوبہ دلربا کی طرف تھا۔ ہر پل اس کا تاباں مکھڑا دیکھ کر احمد کو سکھ مل رہا تھا۔
اچانک ایک ریڑھی والا، جس کے کپڑے میلے اور پھٹے ہوئے تھے، شدت کے ساتھ احمد کی گاڑی سے ٹکرایا اور منہ کے بل سڑک پر جا گرا۔ قصور اس مفلس ریڑھی والے کا نہیں تھا؛ وہ تو سڑک کے کنارے اپنی راہ چلا جا رہا تھا۔ احمد کی گاڑی نے پشت سے اسے ٹکر ماری تھی کیونکہ وہ بیوی کی صورت دیکھنے میں محو تھا۔ کار کے ترچھا ہو جانے کا اسے احساس ہی نہ ہوا۔
دل رُبا بوڑھے کو اوندھے منہ سڑک پر گرتے دیکھ کر بدحواس ہو گئی۔ وہ بے ہوش ہو چکا تھا، اس کا منہ کھلا تھا اور آنکھیں پھیل گئی تھیں، جبکہ چہرہ لہولہان تھا۔ اس کے کچلے جانے میں بس تھوڑی سی کسر رہ گئی تھی۔ یہ ایسا وقت تھا کہ سڑک پر رش زیادہ نہ تھا۔ لمحہ بھر کو احمد نے گاڑی روکی، اسٹیئرنگ سیدھا کیا اور ترچھی جاتی کار کو موڑ کر سڑک کے بیچ لے گیا، پھر رفتار تیز کر دی۔
“ایسا نہ کرو احمد!” دل رُبا نے کہا، “یہ کیا کر رہے ہو؟ اپنی گاڑی بھگائے لیے جا رہے ہو؟ تمہاری اس غلطی سے جو شخص زخمی ہوا ہے اسے بے یار و مددگار چھوڑے جا رہے ہو، اسے کون اٹھائے گا؟ ایسا نہ ہو کہ اسپتال پہنچانے میں دیر ہو جائے اور وہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے مر جائے۔”
“مرتا ہے تو مر جائے، ویسے بھی یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ قریب المرگ ہی تھا۔” احمد نے جواب دیا۔ “کیا تم اتنے سنگدل ہو احمد؟” دل رُبا نے پوچھا۔ اس نے کہا، “سنگدلی کی بات نہیں، تم ساتھ ہو۔ اگر وہ مر گیا تو خواہ مخواہ تھانے کچہری کے چکر کاٹنے پڑیں گے۔ اگر زندہ ہونا ہوا تو بچ جائے گا، کوئی نہ کوئی اسے اٹھا کر اسپتال پہنچا ہی دے گا۔”
یہ حادثہ ایسا تھا جس کا اثر کافی دنوں تک دل رُبا پر رہا۔ وہ دکھی رہتی اور رہ رہ کر اسے خیال آتا کہ وہ بے چارہ مفلس اور مفلوک الحال بوڑھا روزی روٹی کمانے نجانے کن حالات میں گھر سے نکلا ہو گا، سارا دن دھوپ میں مارا مارا پھرتا ہو گا۔ گھر گھر سے ردی اخبار، خالی بوتلیں اور ڈبے جمع کر کے بیچنے سے چند روپے بنتے ہوں گے جن سے اس کے گھر کا چولہا جلتا ہو گا۔ خدا جانے اس کے گھر میں کمانے والا کوئی دوسرا تھا بھی یا نہیں۔ کیا پتا بچے کتنے بڑے ہوں؟ اکثر غربت جوانی کو بھی بڑھاپے میں بدل دیتی ہے، وہ تو ویسے بھی فاقہ زدہ لگتا تھا۔
وہ کبھی کبھی احمد سے اپنے اس ذہنی خلفشار کا ذکر کرتی تو شوہر اسے ٹال دیتا۔ وہ کہتا، “خدا جانے تم کیوں اتنی حساس ہو۔ ارے اب بھول بھی جاؤ، میں نے جان بوجھ کر تو اسے نہیں مارا، حادثہ تھا، ہو گیا۔”
وقت ہر دکھ کا مداوا اور ہر غم کا مرہم ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ دل رُبا کے ذہن سے بھی یہ واقعہ دھندلانے لگا اور وہ اپنی زندگی کی خوشیوں میں مگن ہو گئی۔ بوڑھا گاڑی بان مر گیا یا زندہ رہا، اس واقعے کی اب کوئی اہمیت باقی نہ رہی تھی۔ شادی کے تین سال بعد دل رُبا امید سے ہو گئی۔ خاندان کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔ اس کے سسرال والوں نے کہا کہ یہ بچہ میکے میں پیدا ہونا چاہیے کیونکہ احمد کے بڑے بھائی کے گھر تین بچے پیدا ہوئے مگر پیدائش کے کچھ ہی دن بعد فوت ہو گئے۔ تبھی ساس نے چھوٹی بہو کو میکے بھیج دیا تاکہ اگر ان کے گھر میں کوئی نحوست ہے تو اس کا سایہ دل رُبا کے ہونے والے بچے پر نہ پڑے۔
احمد نے کہا کہ والدہ توہمات کا شکار ہیں، لیکن تائی کے اصرار پر اسے میکے آنا پڑا اور احمد بھی ساتھ ہی آگیا۔ تین ہفتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے چاند سا بیٹا عطا کیا۔ بچے کی بخیریت پیدائش پر پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
جب بچہ ڈیڑھ ماہ کا ہوا تو ایک روز احمد اسے لے کر باہر نکلا۔ شہر کے قریب ہی کھیت تھے، وہ وہاں سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بزرگ کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ بزرگ نے قریب پہنچ کر گھوڑا روک لیا اور بچے کو غور سے دیکھنے کے بعد بولے: “یہ پتا نہیں کیا چیز ہے۔” یہ جملہ سن کر احمد نے اپنے بچے کو دیکھا اور سوچ میں پڑ گیا کہ وہ انجان شخص کون تھا اور اس نے ایسی بات کیوں کہی؟ ابھی وہ اسی شش و پنچ میں تھا کہ بزرگ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ گھر آ کر احمد نے یہ بات سب کو بتائی؛ سب حیران تو ہوئے مگر پھر بات آئی گئی ہو گئی۔
گھر سے دور کافی دن گزر چکے تھے، اب احمد اور دل رُبا واپس جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ سفر پانچ گھنٹے کا تھا؛ دو گھنٹے کی مسافت کے بعد احمد کے منجھلے بھائی کا گھر آتا تھا، جس نے انہیں دعوت دے رکھی تھی۔ لہٰذا دعوت کی خاطر اور کچھ آرام کی غرض سے وہ وہاں رک گئے۔ وہاں پہنچ کر ابھی ذرا سا آرام ہی کیا تھا کہ اچانک بچے کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ اسے فوراً اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اس اچانک صدمے سے دل رُبا کے حواس مختل ہو گئے؛ اس کے بھائی کو اطلاع دی گئی اور بچے کی تدفین کے لیے اسے سسرال لایا گیا جہاں کہرام مچ گیا۔ میکے والے بھی وہاں پہنچ گئے۔
جس گھر میں بچے کی آمد پر دو ماہ سے خوشیاں منائی جا رہی تھیں، وہاں اب صفِ ماتم بچھی تھی۔ تدفین کے بعد تمام رشتہ دار رخصت ہو گئے لیکن دل رُبا کا بہنوئی، والدہ اور بڑی بہن وہیں ٹھہر گئے۔ اس واقعے کے پندرہ دن بعد دل رُبا کے بھائی اور بھابی بھی احمد کے گھر کے لیے روانہ ہوئے، کچھ رشتہ دار خواتین نے بھی تعزیت کے لیے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی۔ یوں چار گھرانوں کی عورتیں اور بچے تیار ہو گئے اور کل چودہ افراد ایک پک اپ میں سوار ہو کر دل رُبا کے گھر پہنچے۔
ایک رات وہاں قیام کے بعد اگلے روز سب واپسی کے لیے تیار تھے کہ دل رُبا کی والدہ، بہنوئی اور بڑی بہن نے بھی ساتھ جانے کا ارادہ کر لیا۔ رخصت ہوتے وقت سب نے ڈھارس بندھائی کہ “پریشان نہ ہونا، اللہ تعالیٰ ان شاء اللہ صاحبِ حیات اولاد بھی دے گا۔” جیٹھ اور جٹھانی نے بھی اجازت چاہتے ہوئے کہا کہ “اللہ کا یہی حکم تھا، اس غم کے موقع پر ملاقات ہوئی، اب خدا حافظ! کیا خبر دوبارہ ملاقات ہو یا نہ ہو، زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔”
یہ سب قافلے کی صورت میں احمد کے گھر سے نکلے، ابھی شاہراہ پر سفر کرتے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ سامنے سے آنے والا ٹرک آگے والی گاڑی سے ٹکرا گیا، جس میں جیٹھ اور جٹھانی اگلی نشست پر سوار تھے۔ پیچھے آنے والی گاڑی میں دل رُبا کے میکے والے تھے؛ وہ گاڑی اتنی تیز تھی کہ جیٹھ کی کار سے پیچھے سے جا ٹکرائی۔ اس میں دل رُبا کے بھائی، بھابی، بڑی بہن، بہنوئی اور والدہ کے علاوہ بھائی کا تین سالہ بیٹا اور بہن کی پانچ ماہ کی بچی بھی سوار تھی۔
حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ تمام سواریاں گاڑیوں سے نکل کر سڑک پر بکھر گئیں۔ دل رُبا کا بھائی شدید زخمی ہونے کے باوجود ہوش میں تھا، اس نے اٹھ کر سب کو دیکھا۔ جیٹھ گاڑی کا دروازہ ٹوٹنے کے سبب دور جا گرے تھے اور سر پر گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے۔ تمام مسافروں میں سے صرف دل رُبا کا بھائی، بھابی اور والدہ ہی بچ پائے؛ والدہ پچھلی نشست پر ہونے کی وجہ سے محفوظ رہیں۔ جلد ہی لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ وہ رشتہ دار خواتین جو ساتھ گئی تھیں، وہ بھی جاں بحق ہو گئیں۔ کسی کے سر اور دماغ پر چوٹ تھی تو کسی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ ان عورتوں میں سے دو کی گود میں چھوٹے بچے تھے جو حیرت انگیز طور پر محفوظ رہے؛ سچ ہے کہ ‘جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے’۔ وفات پانے والی خواتین میں علی کی دونوں بہنیں بھی شامل تھیں۔
یہ خبر جب میکے پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ ہمارے محلے میں اتنا شدید حادثہ پہلی بار ہوا تھا؛ ہر طرف قیامت کا سماں تھا۔ چودہ افراد میں سے صرف پانچ زندہ بچے تھے۔ ہر شخص سکتے کے عالم میں تھا، رات بھر قبروں کی کھدائی ہوتی رہی۔ کوئی بھی کسی سے کلام کرنے کے قابل نہ تھا۔ جوں جوں قبریں تیار ہوتی گئیں، ساتھ ساتھ تدفین کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ یوں لگتا تھا جیسے ساری دنیا وہیں جمع ہو گئی ہے؛ گاؤں میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ ایسا قیامت خیز منظر کبھی کسی نے نہ دیکھا تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی۔
دل رُبا اور احمد بھی وہاں پہنچے۔ احمد زار و قطار رو رہا تھا اور دل رُبا کی حالت انتہائی خراب تھی۔ چند دن قبل بیٹے کا غم، اور پھر احمد کو اپنے بڑے بھائی، بھابی اور ان کے دو بچوں کا صدمہ؛ دیگر بھی قریبی رشتے دار ہی تھے، ہر ایک کا دکھ اپنی جگہ اٹل تھا۔ اس واقعے کا دل رُبا کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ وہ یہ صدمہ بھلا ہی نہ پاتی تھی۔ وہ ہر وقت اس واقعے کو یاد کر کے روتی رہتی، یہاں تک کہ اس کی ذہنی حالت بگڑنے لگی۔ حادثے کے بعد اس کا دل کچھ ایسا مرجھایا کہ وہ دوبارہ سسرال نہ گئی۔ بہنوئی تایا زاد بھی تھا، اس لیے بہن اور بہنوئی کا غم تو اسے بھولتا ہی نہ تھا۔
جب دل رُبا سسرال جانے پر کسی طور راضی نہ ہوئی تو احمد نے اس کی خاطر میکے ہی میں رہنا شروع کر دیا کیونکہ یہ اس کے چچا کا گھر تھا۔ واقعے کے دو برس بعد ان کے ہاں دوبارہ اولاد ہوئی مگر وہ بھی کچھ دن بعد وفات پا گئی۔ پھر ایک بیٹی کے بعد دو جڑواں بیٹے پیدا ہوئے؛ ایک انتقال کر گیا مگر دوسرے کو دعاؤں کے سائے میں خدا نے زندگی بخش دی۔ اب دل رُبا کا وہی ایک بیٹا ہے جو اکلوتا ہونے کے ناطے ماں باپ کی جان ہے، وہ اسے دیکھ دیکھ کر ہی جیتے ہیں۔ اللہ نے بیٹا تو دے دیا لیکن مالی حالات خراب ہو گئے اور دولت نہ رہی۔ انہوں نے اس پر بھی صبر و شکر کیا کہ اللہ کے کرم سے گود تو بھری ہے اور اولاد کی نعمت پاس ہے۔
سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا۔ ہر کوئی اس بوڑھے ریڑھی والے کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کو بھلا چکا ہے، لیکن دل رُبا کو وہ واقعہ آج تک نہیں بھولا۔ کبھی کبھی جب ہماری ملاقات ہوتی ہے تو وہ مجھ سے اس کا ذکر ضرور کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ بے شک سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے اور دنیا میں حادثات ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن “جس تن لاگے وہی جانے”۔
ضروری نہیں کہ اس خاندانی حادثے کا تعلق اس پرانے واقعے سے ہو، کیونکہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا ہے، مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو کبھی بھلائے نہیں جاتے۔ میری یادداشت میں بھی اس خستہ حال بوڑھے کی ریڑھی سے احمد کی کار کا ٹکرانا محفوظ ہے۔ وہ حادثہ احمد کی غفلت سے ہوا تھا اور اس شخص کی حالت ایسی تھی کہ وہ منظر ذہن پر نقش ہو کر رہ گیا۔ میں آج بھی اس بوڑھے، مفلس شخص کو سڑک پر خون میں لت پت اوندھے منہ پڑا دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ کاش… احمد اس وقت ہمت کر کے اسے دیکھ لیتا اور فوراً اسپتال لے جاتا۔ خواہ بعد میں جو بھی نتیجہ نکلتا، ہمیں اسے بھگت لینا چاہیے تھا؛ کم از کم ہم ضمیر کی سزا سے تو بچ جاتے۔ احمد کو بھی اب اپنی اس غفلت اور لاپروائی کا شدید افسوس ہوتا ہے مگر اب کیا ہو سکتا ہے جب وقت گزر چکا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خوشیوں کا اس قدر پجاری نہ بنے کہ دوسروں کے دکھ درد کا احساس ہی جاتا رہے۔
(ختم شد)
