1000 بہترین کہانیاں

اردو کی بہترین ویب سائٹ جہاں آپ اسلامی کہانیاں، سبق آموز کہانیاں، اخلاقی کہانیاں، خوفناک کہانیاں، بچوں کی کہانیاں اور قسط وار کہانیاں پڑھ سکتے ہیں۔
---------------------------
  • چال باز افسر
    جن دنوں میری عمر آٹھ برس تھی ، ہمارے گھر ایک لڑکا آیا۔ یہ ماجھے کریم کا بیٹا غفور تھا۔ ماجھے کی آٹا پینے کی چکی تھی۔ لڑکے کو اس نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ اسکول جاتا تھا، باپ کے ساتھ چکی پر نہیں بیٹھتا تھا۔ ابا کا تبادلہ ، گاؤں سے شہر کے اسکول میں ہوا تو ہم شہر آ گئے۔ والد صاحب نے غ...
  • چال باز رشتے
    جہاں آرا چپ بھی کر جا میری بچی مجھے تو ہول اٹھ رہے ہیں- تیرا رونا دیکھ کے سوچنے دے مجھے، ایسا کروں کہ تجھے رلانے والے خود خون کے آنسو روئیں – عفت آرا جذبا تی لہجے میں بولی آخر کو بڑی اور چہیتی بیٹی تھی ان کی – اس کے کسی بھی مسئلے پر کیسے جذباتی نہ ہوتیں – ارے اماں شوہر تو چھوڑو اولاد بھی اپنی نہیں ر...
  • چال باز رشتے - آخری حصہ
    میں معیز کو لانے کی کوشش کروں گی۔ مجھے تو ، اس کی فکر کھائے جارہی ہے۔ پر مجھے نہیں لگتا کہ وہ میرے ساتھ آئے۔ وہ مایوسی سے بولیں – اچھا پیر بابا کے مؤکل خود ہی سیدھا کرلیں گے ۔ اسے عفت آرا بے نیازی سے بولیں تو صفت آرا بے ساختہ بولیں۔ “اماں! موکل تو بڑا سخت عمل کرتے ہیں ایک ہی تو بھانجا ہے ہمارا خدا ن...
  • لڑکی کا گناہ
    عمر میری چودہ برس تھی جب سارے جہان کی رنگینیاں آنچل میں سمیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ انہی دنوں ہی امی ابو کو اچانک خیال آگیا کہ گل رخ بڑی ہو گئی ہے ، اب اسے سات پردوں میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ انہیں ادراک نہ تھا سات پردے چادر کے ہوں یا اینٹوں کی چار دیواری کے، یہ رکاوٹیں خوابوں اور خیالات کے پر نہیں کا...
  • دوسری شادی کا انجام
    وہ ایک بہت خوبصورت لڑکا تھا۔ پہلی بار وہ مجھے ایک ٹی وی اسٹیشن پر ملا تھا۔ میں اس کے چہرے کی معصومیت اور خوبروئی دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔ اس روز ہم کسی ڈرامے کی ریہرسل کر رہے تھے۔ وہ آڈیشن دینے آیا تھا۔ میں نے کچھ فلموں میں اداکاری کی تھی ، جو ہٹ ہو گئی تھیں تبھی جہاں جاتی ، لوگ مجھے پہچان لیتے تھے۔ ...
  • عیاش بیوی کا انجام
    دادی نے لاکھ منع کیا کہ تہمینہ سے شادی نہ کرو مگر ابو نہ مانے لیکن جب بیوی کے گن کھلے تو وہ پریشان رہنے لگے ، تب دادی ان سے کہتیں۔ میں نے سمجھایا تھانا ! بیوی ہو خاندانی، بے شک ہو کانی، لیکن تم نے اس وقت میری بات نہ مانی۔ میرے والد صاحب بھی شادی کی بازی محض اس باعث ہا رے کہ انہوں نے جس لڑکی کا انتخا...
  • جڑواں بہنیں
    شادی کے بعد بہت عرصے تک میرے والدین بہت عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ کچھ مدت اسی انتظار میں گزر گئی کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت اپنا کرم کر دے گا اور وہ اولاد کی خوشی دیکھ سکیں گے۔ اسی لیے، لوگوں کے کہنے کے باوجود انہوں نے کوئی بچہ گود نہ لیا، بلکہ دعا اور دوا میں مصروف رہے۔ جب صدقِ دل سے دعائیں ک...
  • کم عمر شوہر
    فہیم میرے ماموں کا بیٹا اور رابعہ خالہ زاد تھی۔ ان دونوں کی منگنی بچپن میں ہو چکی تھی۔ ہم سب کے گھر قریب قریب تھے۔ فہیم اور رابعہ کا پیار ایک قدرتی بات تھی۔ وہ ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے۔کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں، اور یہ سچ ہی ہے۔ میرے تو کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میری ش...
  • بے وفا منگیتر
    عارف پھوپھی جان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جن دنوں میں آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھی، میری منگنی عارف سے ہو گئی۔ وہ پڑھائی میں کافی ہوشیار تھا۔ جب اس نے ایف ایس سی کر لیا تو اسے بیرون ملک جانے کا شوق ہوا، لیکن پھوپھی جان کے مالی حالات ایسے نہ تھے کہ وہ اس خواہش کو پورا کر پاتیں۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھ...
  • چال بازکنڈیکٹر
    میں اور میرا بھائی ندیم ایک ساتھ پشاور یونیورسٹی میں پڑھتے تھے اور اپنی خالہ کے گھر پشاور میں ہی قیام پذیر تھے۔ انہی دنوں جبکہ موسم سرما کی چھٹیاں قریب تھیں، ندیم کے ایک دوست فخر کی شادی کا دعوت نامہ ملا۔ ان دنوں ہم ایسے دعوت ناموں کے منتظر رہا کرتے تھے کہ گھر سے دور رہنے کے باعث طبیعت اس قسم کی رون...
  • پتھردل رشتے
    یہ کہانی میری خالہ کی ہے، جو آج سے پچیس سال پہلے اغوا ہوگئی تھیں۔ اس کہانی کو پڑھ کر آپ سوچیں گے کہ انسان پر انسانوں کے ہاتھوں کیسے کیسے ستم ڈھائے جاتے ہیں اور کتنی عورتیں صرف انسانی خودغرضی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ انہیں انصاف دلوانے والا آج بھی کوئی نہیں۔ ہمارے نانا ایک خوشحال آدمی تھے۔ گھر میں کسی ...
  • خوشیوں کا قاتل
    آج میں جس عورت کی زندگی سے پردہ اٹھا رہی ہوں، وہ ان بدنصیب عورتوں میں سے ہے جو سب کچھ لٹانے کے باوجود تہی دست و تہی داماں رہتی ہیں۔ اس عورت کا نام مریم ہے۔ یوں تو مریم کا تعلق ایک محنت کش گھرانے سے تھا، مگر اس کے والد اپنے کاروبار کی وجہ سے بیٹی کو زیادہ وقت اور محبت نہ دے سکے۔ اس محرومی کا خمیازہ ا...
  • بھائی کی تلاش
     میرا بھائی اسلم بہت شرارتی تھا۔ وہ بچپن میں ایک منٹ آرام سے نہیں بیٹھتا تھا۔ کبھی کبھی تو ابو اس کی شرارتوں سے اس قدر تنگ آجاتے کہ اس کی خوب پٹائی کرتے۔وہ میرا اکلوتا بھائی تھا اور میں اس کی اکلوتی بہن۔ امی ہم دونوں سے بہت پیار کرتی تھیں، لیکن بیٹے کے لئے ماں کے دل میں خاص جگہ ہوتی ہے۔ میرا بھ...
  • بربادی کا سامان
    خواب زندگی کو کبھی سنوارتے ہیں، اجاڑتے ہیں اور کبھی ویرانیوں اور تنہائیوں میں بھی دھکیل دیتے ہیں۔ میری زندگی جن بربادیوں کی نذر ہوئی ہے، وہ سب خود میری نادانیوں کے سبب ہے۔ کوئی اور قصور وار ہوتا تو اس کا دامن پکڑتی اور خود کو اس کرب سے نکال لیتی۔ میں خود کو قصور وار ٹھہراتی ہوں، مگر سزا نہیں دے پاتی...
  • تیسرا شوہر
    ہانیہ کو کافی دیر ہو گئی تھی۔ وہ کالج کے فنکشن سے فری ہو کر بس ٹاپ پہ کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی۔ تاکہ گھر پہنچ سکے۔ گھر میں اس کے بوڑھے والدین اور ایک بہن تھی۔ جس کا نام سونو تھا۔ سونوکچھ ایب نارمل تھی۔ اس لیے ہانیہ اس کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی کیونکہ سونو ہانیہ کے ساتھ کھانا کھاتی تھی اور اسی ...
  • تیسرا شوہر - آخری حصہ
    انور کی موت کی اطلاع محلے میں پھیل گئی۔ کسی نے پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس آئی۔ اس کی لاش کو لے کے گئی۔ پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا کہ اس کے کھانے میں زہر ملایا گیا تھا۔ کچھ یہ بھی قیاس آرائیاں ہوئی کہ ہو سکتا ہے جو چیز کھانے کے لیے باہر سے منگوائی گئی ہو وہ زہر الودہ ہو اور زہر خوانی سے ہی اس کی موت ہ...
  • گاؤں کی گوری
    عادل شاہ نے گاؤں کی اس گوری کو اپنے کزن کی شادی میں دیکھا تھا۔ واقعی، وہ اپنے نام کی لاج تھی۔ سوہنی، خود ماہ تمام تھی اور حسن اس پر تمام تھا۔ عادل نے اسی دن عہد کر لیا تھا کہ وہ اس ماہ جبیں کو حاصل کرکے رہے گا.ان دنوں، عادل شاہ کی شادی کو ایک برس ہوا تھا۔ اس کی بیوی، نور، اس سے عمر میں بڑی اور معمول...
  • اجڑی بہاریں
    راحیلہ سے میری دوستی تھی۔ بہت اچھی عادت کی مالک تھی۔ بدقسمتی سے اس کی شادی شوکت نامی ہمارے ایک پڑوسی سی ہو گئی۔ ہم تو جانتے تھے کہ یہ شخص سخت بد مزاج اور شکی ہے لیکن بیچاری راحیلہ کے والدین نہیں جانتے تھے۔ وہ بہت شریف لوگ تھے۔ اس کے والد منان صاحب کی چار بیٹیاں تھیں۔ جن میں راحیلہ سب سے بڑی تھی۔ ایک...
  • دھوکے باز دوست
    ہم کل چار بہن بھائی تھے۔ راحیلہ باجی، شمر بھائی، ندا آئی اور میرا نمبر آخری تھا۔ ہم سب ہی ان دنوں پڑھ رہے تھے۔ راحیلہ باجی نے بی اے کے پیپر ز دیئے تو ان کی شادی ہو گئی۔ ندا آپی نے میٹرک کیا تھا۔ ان کا داخلہ ایک قریبی کا لج میں ہو گیا۔ یہ انگلش میڈیم کالج تھا جبکہ آپی نے اردو میڈیم اسکول سے پڑھا تھا۔...
  • سوتیلی ماں کا انجام
    یہ اس وقت کی بات ہے جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔ ہم دو بہن بھائی تھے آپس میں بڑی محبت کرتے تھے۔ میرا نام فرح اور بھائی کا نام انور تھا۔ ہمارا بچپن پیاری ماں کی زیر سایہ بہت سکون اور آرام سے گزر رہا تھا۔ خوشیوں بھرے دن تھے۔ ممتا کے گلاب ہمارے اطراف کھلتے رہتے تھے۔ اچانک امی بیمار ہو گئی اور دو م...
  • شکی مزاج بیوی
    جب میرے والد صاحب کی پھوپی کی بیٹی چھ برس کی تھیں ، وہ اپنے والدین سے بچھڑ گئیں۔ وہ مشرقی پنجاب کے کسی گائوں میں رہتے تھے ، بلوہ میں ان کے والدین کو مارا گیا تو یہ منظر کنول نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کا ذہن معصوم تھا۔ صدمہ نا قابل برداشت تھا مگر کوئی کیا کر سکتا تھا کہ شاید خدا کو یہی منظور تھا۔ و...
  • اندھی محبت
    میری عمر کوئی پندرہ برس ہو گی سات بھائیوں کی میں اکلوتی اور بہت ہی لاڈلی تھی ہماری کافی زمین تھی دو بھائی شہر میں پڑھتے تھے اور باقی پانچ زمینداری و کاشتکاری کا ہی کام کرتے تھے ہمارے ڈیرے کے نزدیک کوئی آبادی نہ تھی چند گز کے فاصلے پر ایک ٹیوب ویل تھا باقی ارد گرد کوئی آبادی نہ تھی اِکا دُکا کوئی جو ...
  • اندھی محبت - آخری حصہ
    جب محافظ ہی لٹیرے بن جائیں تو انسان کہاں تک ہاتھ پاؤں مارسکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے ساری صورت حال کھل کر میرے سامنے آچکی تھی جبکہ پہلے خدشات تھے اور میں یہ بھی سمجھ رہی تھی یہ میرا وہم ہے وقار بہت اچھا انسان ہے.. خود کو سنبھا لو مشتاق ٹھیک ہے میں تمہاری بات سمجھ گئی ہوں ۔ میں نے حواس پر قابو پاتے ہوئے ...
  • جورو کا غلام
     چاچا فضل کی کریانے کی دکان تھی۔ سارے محلے میں یہی ایک اچھی اور بڑی دکان تھی جہاں ہر شے ملتی تھی۔ چاچا بھی دین دار اور نیک انسان تھے تبھی ان کی دُکان خوب چلتی تھی اور وہ خوشحال تھے۔ بد قسمتی سے ایک روز دو شخص موٹر سائیکل پر آئے اور انہوں نے چاچا کے پڑوسی سے جھگڑا شروع کر دیا۔  پہلے تو...
  • لڑکپن کی بھول
    مجھے یہ بتانے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ میرے ابا ریلوے اسٹیشن پہ قلی کا کام کرتے تھے۔ وہ مسافروں کا بھاری سامان اٹھاتے تھے۔ لیکن جب بیماری سے کمزور ہو گئے اور بھاری سامان اٹھانے سے قاصر ہو گئے تو بے روزگار ہو کر گھر بیٹھ گئے۔ آخر والدہ نے اپنی سونے کی بالیاں دیں کہ ان کو بیچ کر قسطوں پر رکش...