زویا میری نند کی بیٹی تھی۔ جب وہ پیدا ہوئی تو فرحانہ نے اسی وقت کہہ دیا تھا: “بھابھی! یہ آپ کی بہو بنے گی۔” انہی دنوں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھ...
مزید کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریںمیرے تایا چوہدری ارشاد علی کے تین بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے عثمان نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر باد کہا اور ڈرائیونگ سیکھنے کے بعد گاڑی چلانے لگا، ج...
مزید کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریںجن دنوں میری عمر پندرہ برس تھی، خالہ مجھے اپنے گھر لے گئیں۔ وہ لاہور میں رہتی تھیں، قریب ہی ان کے رشتے داروں کا گھر تھا، جن کی بیٹی فوزیہ خا...
مزید کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریںمیری والدہ کا انتقال تب ہوا جب میں صرف دو برس کی تھی۔ میری پھوپھی جان مجھے اپنے گھر لے گئیں، بعد میں والد صاحب بھی وہیں آگئے اور یوں میری پر...
مزید کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریںہم لوگ پہاڑی علاقے کے رہنے والے ہیں، جہاں روایات سخت ہیں اور قبائلی قانون کی پاسداری کی جاتی ہے۔ یہاں دو مشہور قبائل آباد ہیں جن کی برسوں سے...
مزید کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریںمیری شادی سولہ سال کی عمر میں ہوئی اور اٹھارہ سال کی ہوتے ہی میں بیوگی کی بے رونق چادر اوڑھ کر میکے واپس آگئی۔ شادی کے دو سالہ مختصر عرصے می...
مزید کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریں