گناہ کی سزا

گناہ کی سزا

میرے تایا چوہدری ارشاد علی کے تین بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے عثمان نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر باد کہا اور ڈرائیونگ سیکھنے کے بعد گاڑی چلانے لگا، جبکہ چھوٹے بیٹے احسن اور ایاز ابھی پڑھ رہے تھے۔ احسن ایف اے کا اور ایاز میٹرک کا طالب علم تھا۔

تینوں بھائیوں کی ایک ہی بہن تھی جو سب سے چھوٹی تھی، اس کا نام ماہرہ تھا۔ چوہدری صاحب کو اپنے بچوں سے بڑی محبت تھی اور وہ ان کی ہر خواہش پوری کرتے تھے۔ عثمان جو کچھ کماتا، اپنی والدہ کے سامنے رکھ دیتا اور وہ اس کی آمدنی علیحدہ رکھتی جاتی تھیں۔ دو سال بعد تایا ابو اور تائی نے ثمینہ کی صورت میں ایک خوبصورت بہو ڈھونڈ لی اور اسے دھوم دھام سے بیاہ کر گھر لے آئے۔ ایاز اور ماہرہ بہت خوش تھے کہ انہیں ایسی اچھی بھابھی ملی تھی۔ بھابھی کو دیکھ کر احسن کا بھی دل چاہتا کہ اس کی بھی دلہن آئے۔ وہ اب بی اے میں تھا۔ ایک دن صبح کالج جا رہا تھا کہ راستے میں ایک کتاب پڑی ملی، وہ اسے اٹھا کر دیکھنے لگا، تبھی سامنے سے ایک لمبے قد والی خوبصورت لڑکی واپس پلٹتی دکھائی دی۔ اس نے قریب آکر کہا، “یہ میری کتاب ہے”۔ کتاب لوٹاتے ہوئے احسن نے اس پر لکھا ہوا نام پڑھ لیا؛ وہ اسی کے کالج کی طالبہ تھی اور اس کا نام رمشا تھا۔

ایک دن کالج سے چھٹی کے بعد وہ باہر آرہا تھا تو پیچھے سے رمشا آتی دکھائی دی۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھ گئی، پھر تھوڑی دور جا کر واپس آئی اور کہا، “اس روز میں نے آپ کا شکریہ ادا نہیں کیا تھا، آپ کا شکریہ”۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے چلی گئی۔ احسن نے بہت دن سوچا، مگر وہ رمشا سے براہِ راست بات کرنے کی جرات نہ کر سکا، تاہم اس کی ایک سہیلی سے بات چیت کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اسی کے ذریعے اپنے دل کا پیغام رمشا تک پہنچا دیا۔ رمشا نے جواب میں کہا، “میں بھی یہی چاہتی ہوں کیونکہ آپ مجھے اچھے لگتے ہیں۔ پیپر ہو جائیں، تو پھر اس بارے میں بات کریں گے”۔ اس جواب سے احسن کے دل کا باغ مہک اٹھا اور وہ دن رات رمشا کے خیالوں میں کھویا رہنے لگا۔

آخری پیپر والے دن وہ کینٹین میں ملے، کیونکہ اب وہ بچھڑنے والے تھے۔ احسن نے وعدہ کیا کہ رزلٹ آؤٹ ہوتے ہی میں اپنے والدین کو تمہارے گھر بھیجوں گا، تم انتظار کرنا اور اپنے والدین کو منا لینا۔ رزلٹ آنے کے بعد احسن نے اپنے والد سے کہا، “میں جنرل اسٹور کھولنا چاہتا ہوں تاکہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاؤں”۔ باپ نے بیٹے کی یہ فرمائش پوری کر دی۔ پھر ایک دن اس نے والد سے اپنے دل کی بات کہہ دی، جس کے بعد ماں، بیٹی اور بہو کو لے کر رمشا کے گھر گئی۔ یہ بچی انہیں پسند آگئی۔ تائی نے گھر آکر شوہر سے کہا، “خدا کا شکر ہے کہ ہمارے بیٹے نے ایک اچھی لڑکی کا انتخاب کیا ہے جس کا خاندان بھی اچھا ہے”۔

ان کی شادی ہو گئی اور وقت کا پنچھی اپنے پر پھیلائے اڑتا رہا۔ شادی کے ایک سال بعد رمشا کی گود میں ایک ننھا سا پھول کھلا۔ احسن اور رمشا بہت خوش تھے۔ دادا کی خواہش پر بچے کا نام آفتاب رکھا گیا۔ دوسرے سال بیٹی پیدا ہوئی تو دادی نے اس کا نام سویرا تجویز کیا۔ یہ بچے بڑے خوش نصیب ثابت ہوئے۔ اسٹور کی آمدنی بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ احسن نے اپنے کاروبار پر کافی محنت کی اور اب اس کے اسٹور کا شمار شہر کے بڑے اسٹورز میں ہونے لگا۔ ایک شام کا ذکر ہے، احسن اسٹور پر بیٹھے بیٹھے تھک گیا تھا کیونکہ وہ صبح سویرے ہی آگیا تھا۔ وہ گھر جانے کی تیاری کرنے لگا تبھی ایک لڑکی آئی اور کہا، “مجھے میک اپ کا سامان خریدنا ہے”۔ اس نے چند چیزیں لیں اور چلی گئی، احسن بھی گھر آگیا۔ دوسرے روز وہ پھر آئی، ادھر ادھر کی باتیں کیں، کچھ اشیاء نکلوا کر دیکھیں اور چلی گئی۔ پھر تو یہ معمول ہو گیا، وہ ہر دوسرے تیسرے روز آنے لگی۔

ایک دن کی بات ہے، احسن کو کچھ حرارت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ اتنے میں وہ آ پہنچی۔ آتے ہی سلام کیا، احسن نے جواب نہ دیا تو بولی، “خیر تو ہے؟ سلام کا جواب نہیں دیا”۔ احسن بولا، “میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں، بخار سا ہے، گھر جانے کی سوچ رہا ہوں”۔ لڑکی نے فوراً اس کی کلائی پر ہاتھ رکھا اور بولی، “ارے! آپ تو بخار میں تپ رہے ہیں”۔ وہ سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس وقت کوئی اور گاہک نہیں تھا۔ اس نے کہا، “احسن! میں آپ کا سر دبا دوں؟” ایسی بات سن کر کون نہیں چونکتا۔ احسن نے پوچھا، “آپ کو میرا نام پتا ہے؟” وہ بولی، “ہاں، بورڈ پر لکھا ہے ‘احسن جنرل اسٹور’۔ اب میں اتنی بھی جاہل نہیں ہوں۔ خیر، سر دبانے کی بات تو ویسے ہی کہی ہے، جانے دیجیے، لیکن ایک بات کہوں گی کہ اپنی صحت کا خیال رکھا کرو”۔ پھر وہ طبیعت پوچھنے کے بہانے ہر روز اسٹور پر آنے لگی۔

احسن بہرحال ایک مرد تھا، وہ اسے دل لگی کے طور پر لیتا رہا۔ وہ لڑکی، آصفہ، اپنی ساحرانہ گفتگو سے اس کے دل کو مسخر کرنے لگی، حالانکہ باتوں باتوں میں احسن نے بتا دیا تھا کہ وہ شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے۔ آصفہ نے اسے رکاوٹ نہ سمجھا اور روزانہ اس سے ملنے آتی رہی۔ دونوں کی ایک دوسرے میں دلچسپی بڑھتی گئی۔ اگر وہ نہ آتی تو احسن کا دکان پر دل نہ لگتا۔ ان ملاقاتوں کا اثر یہ ہوا کہ احسن اب دیر سے گھر آنے لگا۔ رمشا کو اس پر اندھا اعتماد تھا، اسی لیے اس نے کوئی خاص نوٹس نہ لیا اور یہی خیال کیا کہ احسن ان کے اور بچوں کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے۔ اسے کیا خبر تھی کہ وہ کیا گل کھلا رہا ہے۔ دوپہر کے وقت جب گاہکوں کا رش کم ہوتا تو وہ آجاتی اور کافی دیر تک اپنی دل لبھانے والی باتوں سے احسن کو مائل رکھتی۔

آصفہ نے جب دیکھا کہ احسن پوری طرح اس کے سحر میں جکڑ چکا ہے تو اس نے موقع کی نزاکت سمجھتے ہوئے شادی کی فرمائش کر دی۔ احسن نے کہا، “آصفہ! بے شک تم بہت اچھی ہو۔ تم ایک دن نہیں آتیں تو میرا دن نہیں گزرتا، لیکن میں مجبور ہوں، شادی شدہ ہوں اور تم کو دلہن بنا کر اپنے گھر نہیں لے جا سکتا۔ رمشا تو کیا میرے والدین بھی یہ برداشت نہیں کریں گے”۔ آصفہ یہ سن کر رونے لگی اور اسے ہچکیاں بندھ گئیں۔ احسن نے اسے پانی دیا اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا، “خدا کے لیے آصفہ رونا بند کرو، گاہک آگئے تو میرے بارے میں کیا سوچیں گے”۔ وہ روتی ہوئی چلی گئی اور پھر ہفتہ بھر نہ آئی۔ احسن کا دل اداس رہنے لگا، وہ خود کو مجرم سمجھ رہا تھا کہ اس نے اس لڑکی سے محبت جتلائی ہی کیوں۔ اب جبکہ وہ اسے اپنے دل کا دیوتا سمجھ بیٹھی ہے تو وہ اس سے دامن چھڑا رہا ہے۔

مرد کی فطرت میں حسن پرستی شامل ہے۔ احسن بھی اب انہی مردوں میں شامل ہو چکا تھا جو ایک سے زیادہ عورتوں کو پسند کر کے راحت محسوس کرتے ہیں۔ وہ ہفتہ احسن پر بہت بھاری گزرا، اس کا کسی کام میں دل نہیں لگا اور وہ گاہکوں پر توجہ نہ دے پایا۔ اتفاق سے ان دنوں رمشا بھی میکے گئی ہوئی تھی۔ رمشا سال بعد ایک ماہ کے لیے میکے گئی تھی اور تنہائی نے احسن کو کچھ اور ہی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ہفتے بعد آصفہ خود ہی آگئی، شاید وہ صدمہ سہار نہیں پا رہی تھی کیونکہ اسے واقعی احسن سے محبت ہو گئی تھی۔ احسن ایک نرم دل شخص تھا، وہ آصفہ کے آنسو نہ دیکھ سکا اور اسے دوسری بیوی بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ تاہم اس نے آصفہ کو سمجھایا کہ کچھ دن صبر کرو، دکان کے پیچھے میرا ایک پلاٹ ہے، میں پندرہ دن کے اندر وہاں ایک کمرہ بنوا لوں گا، پھر تم سے نکاح کروں گا۔

انہی دنوں رمشا کی طبیعت خراب ہو گئی اور اس نے فون کر کے بتایا کہ وہ ابھی ایک ماہ مزید امی کے پاس رہنا چاہتی ہے کیونکہ وہاں بچے بھی سنبھل جاتے ہیں اور ڈاکٹر نے اسے مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ بیوی گھر سے زیادہ دن غیر موجود رہے تو ایسے حادثات ہو جاتے ہیں اور خالی گھونسلے میں کوئی اور چڑیا بسیرا کر لیتی ہے۔ احسن نے واقعی پندرہ دنوں میں وہاں ایک کمرہ اور کچن بنوا لیا اور رمشا کی غیر موجودگی میں آصفہ سے شادی کر لی۔

دو ماہ بعد رمشا نے احسن کو فون کیا کہ آکر مجھے لے جاؤ کیونکہ بچوں کی چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں، لیکن وہ اسے لینے نہ گیا کیونکہ وہ اپنی نئی دلہن کے ساتھ وقت گزار رہا تھا۔ آخر کار رمشا بچوں سمیت خود ہی گھر آگئی۔ اس نے شوہر سے شکوہ کیا کہ تم لینے کیوں نہیں آئے؟ احسن نے ٹالتے ہوئے کہا کہ میں نے اسٹور کے پیچھے جگہ خریدی تھی، وہاں مکان تعمیر کروا رہا ہوں۔ اس وقت تو وہ کہہ گیا لیکن بعد میں اسے فکر ہوئی کہ جب رمشا اس مکان کا پوچھے گی تو کیا جواب دوں گا؟ رمشا نے یہ سوچ کر زیادہ کرید نہ کی کہ شاید وہ مکان ان ہی کے لیے بن رہا ہوگا۔

جب دوسری بیوی آجائے تو پہلی سے پہلو تہی کرنا پڑتی ہے کیونکہ نئی ساتھی کو بھی وقت دینا ہوتا ہے۔ رویے کی اس تبدیلی کو رمشا نے محسوس تو کیا لیکن شوہر کی مصروفیت سمجھ کر دل کو بہلا لیا۔ اب احسن کبھی رات کو گھر آتا اور کبھی نہ آتا۔ رمشا کو تشویش ہوئی اور اس نے کئی بار وجہ پوچھنی چاہی مگر احسن ہوشیاری سے بات گول کر جاتا۔ تاہم مسلسل بہانوں سے رمشا کو یقین ہو گیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اس نے اپنی جیٹھانی ثمینہ سے تذکرہ کیا کہ احسن اب گھر نہ آنے کی وجہ نہیں بتاتے اور نہ ہی نیا مکان دکھاتے ہیں۔ ثمینہ بولی، “وہ نیا مکان کسی کو نہیں دکھاتے، مجھے اسی بات پر شک ہے۔ کل ہم خود جا کر دیکھتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے”۔

دوسرے روز وہ دونوں اسٹور پر گئیں، احسن سامان لینے شہر گیا ہوا تھا۔ انہوں نے نوکر سے کہا کہ ہمیں ٹھنڈا پانی پلاؤ۔ نوکر نے بتایا کہ دکان کے پیچھے والے گھر میں پانی کا انتظام ہے، آپ اندر جا کر پی لیں۔ چونکہ دونوں نے برقعے اوڑھ رکھے تھے، نوکر نے انہیں عام گاہک سمجھا اور سودا دینے میں مصروف ہو گیا۔ وہ دونوں اندر چلی گئیں۔ سامنے کمرے میں انہیں ایک سترہ اٹھارہ سال کی خوبصورت لڑکی نظر آئی جو پلنگ پر لیٹی رسالہ پڑھ رہی تھی۔ ثمینہ نے کہا، “بہن! ذرا پانی تو پلانا”۔ وہ اٹھی اور ریفریجریٹر سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال لائی۔ پانی پینے کے بعد ثمینہ نے پوچھا، “باہر اسٹور پر جو صاحب بیٹھتے ہیں، وہ آپ کے کیا لگتے ہیں؟” وہ بولی، “وہ میرے شوہر ہیں، جنرل اسٹور کے مالک ہیں، اور میرا نام آصفہ ہے”۔ ثمینہ نے پوچھا، “آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا؟” جواب ملا، “چھ ماہ ہونے والے ہیں، لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟” ثمینہ نے سنبھل کر کہا، “ویسے ہی، وہ میرے بھائی بنے ہوئے ہیں، دکان پر نہیں تھے تو ہم اندر آگئیں”۔ ثمینہ نے چہرے سے پریشانی ظاہر نہ ہونے دی مگر رمشا کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ ثمینہ نے اس کا ہاتھ تھاما اور وہ اسٹور سے باہر آگئیں۔ اب رمشا سے ضبط نہ ہو سکا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ثمینہ نے اسے حوصلہ دیا کہ گھر چل کر جی بھر کے رو لینا۔ گھر پہنچتے ہی رمشا جیٹھانی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس پر فدا ہونے والا احسن کسی اور کا اسیر ہو گیا ہے۔

سسکیوں کی آواز سن کر تائی جان رمشا کے کمرے کی طرف بھاگیں کہ کیا ہوا؟ جو بہو ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہتی تھی، وہ آج اس حال میں کیوں ہے؟ جب تائی نے دوسری شادی کا سنا تو واویلا مچ گیا۔ شور سن کر چوہدری صاحب اسٹور پہنچے اور احسن کو پکڑ کر گھر لائے۔ گھر لاتے ہی بیٹے کے منہ پر تھپڑ مارا اور گرج کر پوچھا، “نالائق! یہ بتا میری اس بہو میں کیا کمی تھی جو تو نے دوسری شادی کر لی؟” گھر والے افسردہ کھڑے رمشا کو دیکھ رہے تھے جس کی حالت خزاں کے اس پتے کی طرح تھی جو ٹہنی سے ٹوٹ کر گرنے ہی والا ہو۔ احسن سب کے سامنے مجرم بنا کھڑا تھا جب تایا ابو نے فیصلہ سنایا، “اسی وقت میرے گھر سے دفع ہو جاؤ اور پھر کبھی ادھر کا رخ نہ کرنا۔ تم نے صرف رمشا ہی کا نہیں، ہم سب کا دل دکھایا ہے”۔

ایک ماہ تک احسن گھر نہیں آیا اور نہ ہی کسی نے اسے دیکھنے کی زحمت کی۔ رمشا کے والدین کو خبر ہوئی تو وہ اسے لینے آگئے لیکن تایا ابو نے بہو کو جانے نہ دیا اور کہا، “یہ میرے پوتوں کی ماں ہے اور میری بیٹی بن کر یہیں رہے گی۔ احسن نہیں آتا تو نہ آئے”۔ رمشا کی امی رو رہی تھیں کہ آپا! مجھے دوسری شادی کا اتنا دکھ نہ ہوتا اگر کوئی معقول وجہ ہوتی، لیکن احسن کو کیا مجبوری تھی؟ اس نے تو رمشا کو خود پسند کیا تھا۔ تایا جی نے اعلان کیا کہ وہ احسن کو جائیداد سے عاق کر دیں گے اور اس کے حصے کے مالک رمشا اور بچے ہوں گے؛ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ احسن نے اس بات پر ناراض ہو کر سب سے ناتا توڑ لیا اور کسی سے کوئی واسطہ نہ رکھا۔

وقت گزرتا رہا، دیور ایاز بچوں سے پیار کرتا تھا لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسے اسکالر شپ ملی اور وہ امریکہ چلا گیا۔ نند کی شادی ہو گئی اور وہ اپنے گھر چلی گئی۔ رمشا ساس کے ساتھ رہتی رہی اور اپنی تمام تر توجہ بچوں پر مرکوز کر دی تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ وہ ان کی اچھی تربیت نہ کر سکی۔ جنرل اسٹور گھر سے کچھ فاصلے پر تھا مگر دادا بچوں کو ادھر جانے نہیں دیتے تھے، بچے اپنے دادا کو ہی ‘ابو’ کہتے تھے۔ وہ اکثر پوچھتے، “امی! ہمارے اصل ابو کہاں ہیں؟ وہ گھر کیوں نہیں آتے؟” رمشا انہیں گلے لگا کر کہتی، “تمہارے بڑے ابو ہیں تو سہی، کیا وہ تم سے پیار نہیں کرتے؟” وقت کے ساتھ بچوں کو سب معلوم ہو گیا۔ وہ اسکول جاتے ہوئے اکثر احسن کو اسٹور پر بیٹھا دیکھتے، ان کا دل چاہتا کہ باپ کے پاس جائیں اور پوچھیں کہ آپ گھر کیوں نہیں آتے، لیکن وہ چاہتے ہوئے بھی نہ جا پاتے تھے۔ رمشا اکثر کہتی کہ بچوں! وہ تمہارا باپ ہے، تم اس سے ملنے جایا کرو، میں نہیں روکوں گی۔ مگر بچے اب سیانے ہو چکے تھے، وہ جواب دیتے کہ جب انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے تو ہم کیوں جائیں۔ کبھی کبھی اسکول جاتے ہوئے وہ باپ کو دکان پر بیٹھا دیکھ کر ٹھہر جاتے اور حیرت سے اس شخص کو تکتے جو باپ ہو کر بھی انہیں پکارتا نہ تھا۔

یوں بارہ برس بیت گئے۔ احسن کی دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ شاید یہ اس کے گناہ کی سزا تھی کہ اولاد ہوتے ہوئے بھی وہ ان سے دور تھا۔ وہ بچوں کو اسکول جاتے دیکھ کر نظریں جھکا لیتا تھا، شاید اسے انہیں بلاتے ہوئے شرم آتی تھی۔ انسان کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، وہ پانی کا بلبلہ ہے؛ سامان سو برس کا ہے اور پل کی خبر نہیں۔ ایک دن کسی نے آکر اطلاع دی کہ احسن کا دکان پر بیٹھے ہوئے اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا ہے۔ سبھی رو رہے تھے، ماں باپ کہہ رہے تھے کہ کاش ہم اسے عاق نہ کرتے اور ناتا نہ توڑتے۔ رمشا رو رو کر نڈھال تھی کہ بے شک وہ میرے نہ رہے، مگر میرے بچوں کے باپ تو تھے۔ خدا انہیں سلامت رکھتا تو اچھا تھا۔ وہ بچے جو احسن کی زندگی میں اسے حسرت سے دیکھ کر گزر جاتے تھے، اپنے باپ کا آخری دیدار کرنے گئے، کیونکہ باپ اور اولاد کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ