زندگی بھی عجیب ہے جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو محلے کے جوان آنکیھں بھر بھر کر دیکھتے ہیں۔ ہمارے گھر کے سامنے وحید میاں کا مکان تھا، جن کو سب ‘ویدو’ پکارتے تھے۔ وہ کافی عرصے سے بے روزگار تھے۔ ایک دن انہوں نے اپنے گھر کی بیٹھک میں کریانہ کا سامان رکھ کر بے روزگاری کا حل نکال لیا۔ شروع میں ان کی دکان پر گاہک کم ہی آتے تھے۔ وہ ذرا خشک مزاج تھے اور محلے والوں سے بنا کر نہیں رکھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ کوئی ان کی دکان کا رخ نہیں کرتا تھا۔ ان کے لڑکے کا نام رشید تھا، جسے پیار سے ‘شیدا’ بلاتے تھے۔ جب اس نے میٹرک کر لیا، تو ویدو چچا نے دکان اس کے سپرد کر دی تاکہ وہ گلیوں میں آوارہ پھرنے کے بجائے آنکھوں کے سامنے رہے۔ یار باشی سے بہتر تھا کہ وہ دکان کے کھونٹے سے بندھ جاتا۔
باپ کی نسبت شیدا ہنس مکھ اور خوش مزاج تھا۔ وہ گاہکوں سے عزت سے بات کرتا اور پڑوسیوں کا لحاظ کرتا، جبکہ ویدو چچا پائی پائی کو دانتوں سے پکڑتے تھے۔ انہوں نے دکان پر ایک بورڈ بھی لگا رکھا تھا جس پر لکھا تھا: ”سودا نقد، ادھار پیار کا دشمن“۔ عقل کا اندھا تو شیدا بھی نہ تھا، لیکن وہ عمر کے اس دور میں تھا جب انسان کو خود پر زیادہ اعتماد ہوتا ہے۔ اسی لیے اس نے محلے والوں پر بھروسہ کر کے کچھ غریب گھرانوں کے ‘کھاتے’ کھول لیے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سارا محلہ ہی شیدے کی دکان سے سودا سلف لینے لگا۔ ہمارے محلے میں کچھ معمولی تنخواہ دار سرکاری ملازم بھی رہتے تھے، جو پورے ماہ ادھار لیتے اور تنخواہ ملنے پر پچھلا حساب بے باق کر دیتے۔ اس طرح شیدے نے رفتہ رفتہ پکے گاہک بنا لیے۔ یہ ایک کاروباری نکتہ تھا جس پر اس کی کامیابی کا دارومدار تھا، مگر باپ اس بات کو نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اسے ٹوکتا رہتا کہ “میاں! اس طرح تو تم ایک دن دکان کا بھٹہ بٹھا دو گے۔ یہ کھاتے داری بند کرو، ورنہ دکان ہی بند کر دو۔” شیدا کہتا، “ابا! جب دکان میرے سپرد کی ہے تو مجھ پر اعتماد بھی کریں۔ میں کما کر دکھاؤں گا، بشرطیکہ آپ مداخلت نہ کریں اور آرام سے گھر میں بیٹھ کر حقہ گڑگڑاتے رہیں۔” دکان چلانا اب چچا ویدو کے بس کی بات نہ تھی، چنانچہ وہ صبر کا گھونٹ پی کر ایک طرف ہو گئے اور تمام معاملات بیٹے کے حوالے کر دیے۔
تنخواہ دار طبقے کے علاوہ دیہاڑی دار بھی شیدے کی ہٹی کے متوالے تھے۔ وہ جب ادھار کی سہولت مانگتے، رشید انکار نہ کرتا، یوں وہ پورے علاقے میں مقبول ہو گیا۔ اس کے سامنے ارد گرد کے دکانداروں کا کاروبار مانند پڑنے لگا۔ چند ہی دنوں میں اس کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گیا۔
ہم دیہاڑی دار لوگ تھے؛ ابا کو کبھی کام ملتا اور کبھی وہ گھر بیٹھ جاتے۔ ماں محلے کے کپڑے سیتی تھیں، جن کی اجرت ہفتے بھر بعد ملتی، وہ بھی قسطوں میں۔ ساجد بھائی ورکشاپ پر جاتے تھے، جن کا مالک روز شام کو چند روپے ان کی ہتھیلی پر رکھ دیتا تھا۔ ایسی قلیل آمدنی میں مہینے بھر کا راشن ایک ساتھ خریدنا ناممکن تھا۔ ماں روزانہ تھوڑا تھوڑا سودا لینے مجھے شیدے کی دکان پر بھیجتی تھیں۔ میں دوڑی جاتی اور ضرورت کی چیز لے آتی۔ دن بھر میں میرے چار پانچ چکر لگ جاتے۔ شیدا بہت نرم لہجے میں بات کرتا تھا، مجھے اس کا انداز اچھا لگتا۔ کبھی دکان پر گاہک نہ ہوتا تو وہ ادھر ادھر کی باتیں بھی کر لیتا اور کبھی میٹھے چنے یا گڑ کا لڈو مفت دے دیتا۔ ان عنایتوں نے مجھے اس کا گرویدہ بنا دیا تھا۔
جب میں ذرا با شعور ہوئی تو اوڑھنی لپیٹ کر جانے لگی۔ بچپن سے شناسائی تھی، اس لیے شیدے کا ہنسی مذاق برا نہیں لگتا تھا۔ اب تو وہ پہلے سے زیادہ اخلاق سے پیش آتا، ہنس ہنس کر باتیں کرتا اور سودا بھی اچھا دیتا۔ کبھی اس کی دکان بند ہوتی تو ماں قریبی کسی دوسری دکان سے سودا منگوا لیتی۔ یہ ایک مجبوری تھی، کیونکہ اکثر سالن بناتے وقت مرچیں یا چولہا جلاتے وقت مٹی کا تیل ختم ہو جاتا تھا، تب دکان کھلنے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دوسری دکان سے لایا ہوا سودا دیکھ کر ماں حیران رہ جاتیں اور کہتیں، “عارفہ! اپنا شیدا تو بہت اچھا ہے، کتنا زیادہ سودا دیتا ہے۔ یہ دوسرے موئے دکاندار تو لوٹ لیتے ہیں، تول کم کرتے ہیں اور پیسے پورے لیتے۔” انہیں کیا معلوم تھا کہ دوسرے دکاندار تو حق سچ کی تول دیتے ہیں، یہ تو شیدا تھا جو مجھ پر عنایت کرتا تھا۔ میں سوچتی تھی کہ مائیں بھی کتنی نادان ہوتی ہیں، بچیاں سمجھدار ہو جاتی ہیں مگر وہ پھر بھی انہیں دکانوں پر بھیج دیتی ہیں۔ ایک دن شیدے نے مذاق میں مجھ سے ایک ایسی بات کہہ دی جو اسے نہیں کہنی چاہیے تھی، مگر میں انجان بن گئی حالانکہ بات سمجھ گئی تھی۔ اس کا مذاق برا لگا، مگر میں خاموش رہی اور گھر آکر اماں کو بھی نہ بتایا۔
اگلے دن جب ماں نے دو کلو آٹا لانے کو کہا تو میں نے انکار کر دیا، “اماں! منی کو بھیج دیں، میں اب دکان پر نہیں جاؤں گی۔” انہوں نے پوچھا، “کیوں نہیں جائے گی؟ منی ناسمجھ ہے، پیسے گرا آئے گی۔” میں نے بہانہ بنایا، “اماں! محلے کے لڑکے دیکھ کر جملے کستے ہیں۔” اماں کا چہرہ اتر گیا، بولیں، “اچھا! تو اب سیانی ہو گئی ہے۔ میں خود لے آیا کروں گی۔” مگر گھر کے کاموں کی وجہ سے اماں خود کہاں جا سکتیں، چنانچہ اب زیادہ تر منی ہی جانے لگی۔ ایک دن منی نے بتایا کہ “آپا! ساجی بھیا شیدے کی ہٹی پر بیٹھے تھے۔” میں چوکنی ہو گئی؛ گویا شیدے نے ادھار سگریٹ دے کر میرے بھائی کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس نے بھائی سے دوستی کر لی اور ہمارے گھر آنے جانے لگا۔ جب بھی وہ بھائی کا پوچھنے آتا، ماں اس سے بہت اخلاق سے ملتیں کیونکہ وہ ہم غریبوں کا خیال رکھتا تھا۔ رقم ہوتی یا نہ ہوتی، وہ سودا دے دیتا۔ اماں سے کہتا، “خالہ! کوئی مسئلہ نہیں، جب پیسے ہوں تب دے دینا۔ ساجد میرا دوست ہے، میں آپ کا کھاتا کھول دیتا ہوں۔” ہم غریب تھے اور شیدا اب خوشحال ہو چکا تھا، مگر وہ جب بھی آتا، اماں کے پاس چولہے کے قریب زمین پر بیٹھ جاتا۔ وہ دال روٹی سامنے رکھتیں تو وہ مزے سے کھاتا اور کہتا، “خالہ! آپ کے ہاتھ کی دال روٹی میں جو سواد ہے، وہ مرغ گوشت میں بھی نہیں۔ یہاں بیٹھ کر مجھے بڑا سکون ملتا ہے۔” اماں خوش ہوتیں کہ وہ امیری غریبی کا فرق کیے بغیر اپنوں کی طرح ملتا ہے اور برے وقت میں کام آتا ہے۔
ماں شیدے کے آنے کا اصل مطلب نہیں سمجھتی تھیں، مگر میں جانتی تھی۔
وہ اسی وقت آتا جب ابا اور ساجی بھائی گھر پر نہ ہوتے۔ دکان پر کسی دوست کو بٹھا کر دس پندرہ منٹ کے لیے آجاتا اور کہتا، “خالہ! آپ کے ہاتھ کی چائے پینے آیا ہوں، ایسی چائے تو میری ماں بھی نہیں بنا سکتیں۔” میری بھولی ماں پھولی نہ سماتیں اور فوراً کیتلی چولہے پر رکھ دیتیں۔ کبھی دودھ ختم ہوتا تو منی کو رابو خالہ کے گھر بھیجتیں۔ منی کے انکار پر وہ خود چلی جاتیں اور پیچھے موقع پا کر شیدا مجھ سے باتیں کر لیتا۔
“اب تم دکان پر کیوں نہیں آتیں؟ اتنی بڑی ہو گئی ہو کیا؟” وہ ایسی باتیں کرتا کہ میں اس کا منہ تکتی رہ جاتی۔ رفتہ رفتہ اس کی ذو معنی باتیں میرے دل میں جگہ بنانے لگیں۔ وہ مجھے قسم دے کر جاتا کہ “آج دو منٹ کے لیے دکان پر آنا، میں نے تمہارے لیے باداموں والے لڈو رکھے ہیں۔” لڈو تو بہانہ تھا، وہ تنہائی چاہتا تھا۔ دوپہر کو جب اماں سو جاتیں تو میں دکان پر چلی جاتی، وہ مجھے دروازے کی اوٹ میں بٹھا لیتا تاکہ گلی والوں کی نظر نہ پڑے۔ ایک روز چھت پر جاتے ہوئے میرا پاؤں پھسل گیا اور میں سیڑھیوں سے گر پڑی۔ ٹانگ میں سخت چوٹ آئی اور میں بستر سے لگ گئی۔ جب منی سودا لینے گئی تو شیدے نے پوچھا۔ اگلے دن وہ کسی بہانے گھر آگیا۔ مجھے تکلیف میں دیکھ کر اس نے اماں سے کہا، “خالہ جی! آپ اسے ہسپتال کیوں نہیں لے جاتیں؟” اماں نے مجبوری ظاہر کی تو اس نے جیب سے پیسے نکال کر دیے اور کہا، “آپ میری ماں جیسی ہیں، یہ روپے رکھیں، جب توفیق ہو لوٹا دینا۔” اماں نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد روپے رکھ لیے۔ شیدے نے اپنے دوست کی گاڑی کی پیشکش بھی کی، مگر بھائی نے ورکشاپ سے گاڑی کا انتظام کر لیا۔ ہڈی میں فریکچر تھا، لہٰذا پلستر لگ گیا۔ دو ماہ کے علاج کا سارا خرچہ شیدا ہی دیتا رہا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اسے مجھ سے واقعی محبت ہے، ورنہ کون کسی کے لیے اتنی پریشانی اٹھاتا ہے۔
ایک دن جب گھر میں کوئی نہ تھا، شیدا آگیا۔ اسے موقع مل گیا اور میں بھی احسان مندی تلے دبی ہوئی تھی۔ اس نے کہا، “عارفہ! میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اگر میں رشتہ مانگوں تو تم منع تو نہیں کرو گی؟” میں نے کہا، “میں بڑوں کے فیصلے میں کیا بول سکتی ہوں، لیکن اگر میری ٹانگ ٹھیک نہ ہوئی اور میں لنگڑا کر چلی تو؟” اس نے دلاسا دیا کہ “محبت میں یہ سب نہیں دیکھا جاتا، میں تمہارا بڑے شہر سے علاج کرواؤں گا۔” مجھے لگا میری سب پریشانیاں ختم ہو گئیں، مگر یہ خام خیالی تھی۔
وہ تنہائی میرے لیے عمر بھر کا روگ بن گئی۔ جب ماں کو حقیقت کا علم ہوا تو انہوں نے شیدے کو خوب سنائیں، مگر وہ اپنی بات پر قائم رہا۔ اس نے کہا، “خالہ! میں ابھی نکاح کے لیے تیار ہوں، بس آپ اپنے شوہر اور بیٹے کو منا لیں۔” لیکن ابا ضد پر اڑ گئے کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے بھائی کے بیٹے (راول) سے ہی کریں گے۔ ابا کے غصے کے سامنے ماں بے بس تھی۔ میں نے حالات بگڑتے دیکھ کر رشید سے کہا کہ “ابا اور بھائی ہمیں مار ڈالیں گے، تم مجھ سے چھپ کر نکاح کر لو۔” اس نے گھبرا کر نکاح نامہ بنوایا اور اگلے دن دکان پر مولوی صاحب کی موجودگی میں میرا نکاح کر دیا۔ اس نے نکاح نامے کی ایک کاپی مجھے دی اور کہا، “جب ابا زیادہ زبردستی کریں تو یہ دکھا دینا۔”
ایک ماہ بعد جب ابا نے راول کے ساتھ میرے رشتے کا اعلان کیا تو میں نے منی کے ذریعے وہ نکاح نامہ ابا تک پہنچا دیا۔ ابا نے غصے میں کاغذ کے پرزے کر دیے اور مجھے مارنے لگے۔ اسی دوران ساجد بھائی آگئے اور حقیقت جان کر انہوں نے بھی مجھے اتنا مارا کہ میں ادھ موئی ہو گئی۔ بھائی نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میں روتی ہوئی رابو خالہ کے گھر چلی گئی۔ شیدا دکان بند کر کے روپوش ہو چکا تھا۔ تایا کے مشورے پر ابا نے وہ گھر بیچ دیا اور سب وہاں سے کوچ کر گئے۔ ساجد بھائی کو سعودی عرب بھیج دیا گیا۔
میں رابو خالہ کے پاس رہ گئی، مگر وہ کب تک رکھتی تھیں؟ انہوں نے شیدے کے والدین سے بات کی، مگر ویدو چچا آگ بگولہ ہو گئے۔ شیدا جب واپس آیا تو اس نے نکاح کا اعتراف کیا، لیکن اس کے والدین نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور وہ بھی گھر چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے۔ شیدا مجھے خرچہ بھیجتا رہا۔ ایک سال بعد رابو خالہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے میری ماں سے رابطہ کیا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ۔ میں اب ایک بچی کی ماں بن چکی تھی۔ ماں نے ابا کو منا لیا اور میں گھر واپس آگئی، مگر اس شرط پر کہ رشید کبھی وہاں قدم نہیں رکھے گا۔ رشید کی شادی اس کے گھر والوں نے اس کی بھانجی سے کر دی تھی۔
پندرہ سال گزر گئے۔ ابا انتقال کر گئے اور تایا نے منی کو اپنی بہو بنا لیا۔ ماں نے محنت مزدوری کر کے میری بیٹی ‘نور’ کو پالا۔ ایک دن رشید کی ماں دو عورتوں کے ساتھ آئیں اور پوتی کا مطالبہ کر دیا۔ رشید کی بیوی بانجھ تھی، اس لیے انہیں اب اپنی پوتی یاد آئی تھی۔ ماں نے انہیں دھتکار دیا لیکن اگلے دن شیدا خود آگیا اور معافی مانگتے ہوئے بیٹی کا ہاتھ مانگا تاکہ وہ اسے اپنا نام دے سکے۔ ماں نے نور کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور مجھ سے کہا، “عارفہ! اگر تو میری بیٹی ہے تو اس کے ساتھ ہرگز مت جانا۔ ان لوگوں نے مشکل وقت میں تمہیں بے آسرا چھوڑا، اب یہ صرف نور کو لینے آئے ہیں۔” میں نے ماں کا حکم مانا اور دل پر پتھر رکھ کر بیٹی کو رخصت کر دیا، مگر خود ان کے ساتھ نہیں گئی۔
آج نہ وہ ماں رہی، نہ شیدا اور نہ اس کے والدین۔ رشید اپنی وفات سے قبل بیٹی کی شادی ایک اچھے گھرانے میں کر گیا تھا۔ اب وہی بیٹی میرے بڑھاپے کا سہارا ہے، جو ماں کی وفات کے بعد مجھے اپنے ساتھ لے آئی ہے۔ میرا داماد بالکل بیٹوں جیسا ہے اور مجھے بہت عزت دیتا ہے۔ اللہ نے میری زندگی کے آخری سفر میں ایک نیک داماد کی صورت میں میرے صبر کا اجر دے دیا ہے۔ میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں، کم ہے۔
باپ کی نسبت شیدا ہنس مکھ اور خوش مزاج تھا۔ وہ گاہکوں سے عزت سے بات کرتا اور پڑوسیوں کا لحاظ کرتا، جبکہ ویدو چچا پائی پائی کو دانتوں سے پکڑتے تھے۔ انہوں نے دکان پر ایک بورڈ بھی لگا رکھا تھا جس پر لکھا تھا: ”سودا نقد، ادھار پیار کا دشمن“۔ عقل کا اندھا تو شیدا بھی نہ تھا، لیکن وہ عمر کے اس دور میں تھا جب انسان کو خود پر زیادہ اعتماد ہوتا ہے۔ اسی لیے اس نے محلے والوں پر بھروسہ کر کے کچھ غریب گھرانوں کے ‘کھاتے’ کھول لیے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سارا محلہ ہی شیدے کی دکان سے سودا سلف لینے لگا۔ ہمارے محلے میں کچھ معمولی تنخواہ دار سرکاری ملازم بھی رہتے تھے، جو پورے ماہ ادھار لیتے اور تنخواہ ملنے پر پچھلا حساب بے باق کر دیتے۔ اس طرح شیدے نے رفتہ رفتہ پکے گاہک بنا لیے۔ یہ ایک کاروباری نکتہ تھا جس پر اس کی کامیابی کا دارومدار تھا، مگر باپ اس بات کو نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اسے ٹوکتا رہتا کہ “میاں! اس طرح تو تم ایک دن دکان کا بھٹہ بٹھا دو گے۔ یہ کھاتے داری بند کرو، ورنہ دکان ہی بند کر دو۔” شیدا کہتا، “ابا! جب دکان میرے سپرد کی ہے تو مجھ پر اعتماد بھی کریں۔ میں کما کر دکھاؤں گا، بشرطیکہ آپ مداخلت نہ کریں اور آرام سے گھر میں بیٹھ کر حقہ گڑگڑاتے رہیں۔” دکان چلانا اب چچا ویدو کے بس کی بات نہ تھی، چنانچہ وہ صبر کا گھونٹ پی کر ایک طرف ہو گئے اور تمام معاملات بیٹے کے حوالے کر دیے۔
تنخواہ دار طبقے کے علاوہ دیہاڑی دار بھی شیدے کی ہٹی کے متوالے تھے۔ وہ جب ادھار کی سہولت مانگتے، رشید انکار نہ کرتا، یوں وہ پورے علاقے میں مقبول ہو گیا۔ اس کے سامنے ارد گرد کے دکانداروں کا کاروبار مانند پڑنے لگا۔ چند ہی دنوں میں اس کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گیا۔
ہم دیہاڑی دار لوگ تھے؛ ابا کو کبھی کام ملتا اور کبھی وہ گھر بیٹھ جاتے۔ ماں محلے کے کپڑے سیتی تھیں، جن کی اجرت ہفتے بھر بعد ملتی، وہ بھی قسطوں میں۔ ساجد بھائی ورکشاپ پر جاتے تھے، جن کا مالک روز شام کو چند روپے ان کی ہتھیلی پر رکھ دیتا تھا۔ ایسی قلیل آمدنی میں مہینے بھر کا راشن ایک ساتھ خریدنا ناممکن تھا۔ ماں روزانہ تھوڑا تھوڑا سودا لینے مجھے شیدے کی دکان پر بھیجتی تھیں۔ میں دوڑی جاتی اور ضرورت کی چیز لے آتی۔ دن بھر میں میرے چار پانچ چکر لگ جاتے۔ شیدا بہت نرم لہجے میں بات کرتا تھا، مجھے اس کا انداز اچھا لگتا۔ کبھی دکان پر گاہک نہ ہوتا تو وہ ادھر ادھر کی باتیں بھی کر لیتا اور کبھی میٹھے چنے یا گڑ کا لڈو مفت دے دیتا۔ ان عنایتوں نے مجھے اس کا گرویدہ بنا دیا تھا۔
جب میں ذرا با شعور ہوئی تو اوڑھنی لپیٹ کر جانے لگی۔ بچپن سے شناسائی تھی، اس لیے شیدے کا ہنسی مذاق برا نہیں لگتا تھا۔ اب تو وہ پہلے سے زیادہ اخلاق سے پیش آتا، ہنس ہنس کر باتیں کرتا اور سودا بھی اچھا دیتا۔ کبھی اس کی دکان بند ہوتی تو ماں قریبی کسی دوسری دکان سے سودا منگوا لیتی۔ یہ ایک مجبوری تھی، کیونکہ اکثر سالن بناتے وقت مرچیں یا چولہا جلاتے وقت مٹی کا تیل ختم ہو جاتا تھا، تب دکان کھلنے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دوسری دکان سے لایا ہوا سودا دیکھ کر ماں حیران رہ جاتیں اور کہتیں، “عارفہ! اپنا شیدا تو بہت اچھا ہے، کتنا زیادہ سودا دیتا ہے۔ یہ دوسرے موئے دکاندار تو لوٹ لیتے ہیں، تول کم کرتے ہیں اور پیسے پورے لیتے۔” انہیں کیا معلوم تھا کہ دوسرے دکاندار تو حق سچ کی تول دیتے ہیں، یہ تو شیدا تھا جو مجھ پر عنایت کرتا تھا۔ میں سوچتی تھی کہ مائیں بھی کتنی نادان ہوتی ہیں، بچیاں سمجھدار ہو جاتی ہیں مگر وہ پھر بھی انہیں دکانوں پر بھیج دیتی ہیں۔ ایک دن شیدے نے مذاق میں مجھ سے ایک ایسی بات کہہ دی جو اسے نہیں کہنی چاہیے تھی، مگر میں انجان بن گئی حالانکہ بات سمجھ گئی تھی۔ اس کا مذاق برا لگا، مگر میں خاموش رہی اور گھر آکر اماں کو بھی نہ بتایا۔
اگلے دن جب ماں نے دو کلو آٹا لانے کو کہا تو میں نے انکار کر دیا، “اماں! منی کو بھیج دیں، میں اب دکان پر نہیں جاؤں گی۔” انہوں نے پوچھا، “کیوں نہیں جائے گی؟ منی ناسمجھ ہے، پیسے گرا آئے گی۔” میں نے بہانہ بنایا، “اماں! محلے کے لڑکے دیکھ کر جملے کستے ہیں۔” اماں کا چہرہ اتر گیا، بولیں، “اچھا! تو اب سیانی ہو گئی ہے۔ میں خود لے آیا کروں گی۔” مگر گھر کے کاموں کی وجہ سے اماں خود کہاں جا سکتیں، چنانچہ اب زیادہ تر منی ہی جانے لگی۔ ایک دن منی نے بتایا کہ “آپا! ساجی بھیا شیدے کی ہٹی پر بیٹھے تھے۔” میں چوکنی ہو گئی؛ گویا شیدے نے ادھار سگریٹ دے کر میرے بھائی کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس نے بھائی سے دوستی کر لی اور ہمارے گھر آنے جانے لگا۔ جب بھی وہ بھائی کا پوچھنے آتا، ماں اس سے بہت اخلاق سے ملتیں کیونکہ وہ ہم غریبوں کا خیال رکھتا تھا۔ رقم ہوتی یا نہ ہوتی، وہ سودا دے دیتا۔ اماں سے کہتا، “خالہ! کوئی مسئلہ نہیں، جب پیسے ہوں تب دے دینا۔ ساجد میرا دوست ہے، میں آپ کا کھاتا کھول دیتا ہوں۔” ہم غریب تھے اور شیدا اب خوشحال ہو چکا تھا، مگر وہ جب بھی آتا، اماں کے پاس چولہے کے قریب زمین پر بیٹھ جاتا۔ وہ دال روٹی سامنے رکھتیں تو وہ مزے سے کھاتا اور کہتا، “خالہ! آپ کے ہاتھ کی دال روٹی میں جو سواد ہے، وہ مرغ گوشت میں بھی نہیں۔ یہاں بیٹھ کر مجھے بڑا سکون ملتا ہے۔” اماں خوش ہوتیں کہ وہ امیری غریبی کا فرق کیے بغیر اپنوں کی طرح ملتا ہے اور برے وقت میں کام آتا ہے۔
ماں شیدے کے آنے کا اصل مطلب نہیں سمجھتی تھیں، مگر میں جانتی تھی۔
وہ اسی وقت آتا جب ابا اور ساجی بھائی گھر پر نہ ہوتے۔ دکان پر کسی دوست کو بٹھا کر دس پندرہ منٹ کے لیے آجاتا اور کہتا، “خالہ! آپ کے ہاتھ کی چائے پینے آیا ہوں، ایسی چائے تو میری ماں بھی نہیں بنا سکتیں۔” میری بھولی ماں پھولی نہ سماتیں اور فوراً کیتلی چولہے پر رکھ دیتیں۔ کبھی دودھ ختم ہوتا تو منی کو رابو خالہ کے گھر بھیجتیں۔ منی کے انکار پر وہ خود چلی جاتیں اور پیچھے موقع پا کر شیدا مجھ سے باتیں کر لیتا۔
“اب تم دکان پر کیوں نہیں آتیں؟ اتنی بڑی ہو گئی ہو کیا؟” وہ ایسی باتیں کرتا کہ میں اس کا منہ تکتی رہ جاتی۔ رفتہ رفتہ اس کی ذو معنی باتیں میرے دل میں جگہ بنانے لگیں۔ وہ مجھے قسم دے کر جاتا کہ “آج دو منٹ کے لیے دکان پر آنا، میں نے تمہارے لیے باداموں والے لڈو رکھے ہیں۔” لڈو تو بہانہ تھا، وہ تنہائی چاہتا تھا۔ دوپہر کو جب اماں سو جاتیں تو میں دکان پر چلی جاتی، وہ مجھے دروازے کی اوٹ میں بٹھا لیتا تاکہ گلی والوں کی نظر نہ پڑے۔ ایک روز چھت پر جاتے ہوئے میرا پاؤں پھسل گیا اور میں سیڑھیوں سے گر پڑی۔ ٹانگ میں سخت چوٹ آئی اور میں بستر سے لگ گئی۔ جب منی سودا لینے گئی تو شیدے نے پوچھا۔ اگلے دن وہ کسی بہانے گھر آگیا۔ مجھے تکلیف میں دیکھ کر اس نے اماں سے کہا، “خالہ جی! آپ اسے ہسپتال کیوں نہیں لے جاتیں؟” اماں نے مجبوری ظاہر کی تو اس نے جیب سے پیسے نکال کر دیے اور کہا، “آپ میری ماں جیسی ہیں، یہ روپے رکھیں، جب توفیق ہو لوٹا دینا۔” اماں نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد روپے رکھ لیے۔ شیدے نے اپنے دوست کی گاڑی کی پیشکش بھی کی، مگر بھائی نے ورکشاپ سے گاڑی کا انتظام کر لیا۔ ہڈی میں فریکچر تھا، لہٰذا پلستر لگ گیا۔ دو ماہ کے علاج کا سارا خرچہ شیدا ہی دیتا رہا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اسے مجھ سے واقعی محبت ہے، ورنہ کون کسی کے لیے اتنی پریشانی اٹھاتا ہے۔
ایک دن جب گھر میں کوئی نہ تھا، شیدا آگیا۔ اسے موقع مل گیا اور میں بھی احسان مندی تلے دبی ہوئی تھی۔ اس نے کہا، “عارفہ! میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اگر میں رشتہ مانگوں تو تم منع تو نہیں کرو گی؟” میں نے کہا، “میں بڑوں کے فیصلے میں کیا بول سکتی ہوں، لیکن اگر میری ٹانگ ٹھیک نہ ہوئی اور میں لنگڑا کر چلی تو؟” اس نے دلاسا دیا کہ “محبت میں یہ سب نہیں دیکھا جاتا، میں تمہارا بڑے شہر سے علاج کرواؤں گا۔” مجھے لگا میری سب پریشانیاں ختم ہو گئیں، مگر یہ خام خیالی تھی۔
وہ تنہائی میرے لیے عمر بھر کا روگ بن گئی۔ جب ماں کو حقیقت کا علم ہوا تو انہوں نے شیدے کو خوب سنائیں، مگر وہ اپنی بات پر قائم رہا۔ اس نے کہا، “خالہ! میں ابھی نکاح کے لیے تیار ہوں، بس آپ اپنے شوہر اور بیٹے کو منا لیں۔” لیکن ابا ضد پر اڑ گئے کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے بھائی کے بیٹے (راول) سے ہی کریں گے۔ ابا کے غصے کے سامنے ماں بے بس تھی۔ میں نے حالات بگڑتے دیکھ کر رشید سے کہا کہ “ابا اور بھائی ہمیں مار ڈالیں گے، تم مجھ سے چھپ کر نکاح کر لو۔” اس نے گھبرا کر نکاح نامہ بنوایا اور اگلے دن دکان پر مولوی صاحب کی موجودگی میں میرا نکاح کر دیا۔ اس نے نکاح نامے کی ایک کاپی مجھے دی اور کہا، “جب ابا زیادہ زبردستی کریں تو یہ دکھا دینا۔”
ایک ماہ بعد جب ابا نے راول کے ساتھ میرے رشتے کا اعلان کیا تو میں نے منی کے ذریعے وہ نکاح نامہ ابا تک پہنچا دیا۔ ابا نے غصے میں کاغذ کے پرزے کر دیے اور مجھے مارنے لگے۔ اسی دوران ساجد بھائی آگئے اور حقیقت جان کر انہوں نے بھی مجھے اتنا مارا کہ میں ادھ موئی ہو گئی۔ بھائی نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میں روتی ہوئی رابو خالہ کے گھر چلی گئی۔ شیدا دکان بند کر کے روپوش ہو چکا تھا۔ تایا کے مشورے پر ابا نے وہ گھر بیچ دیا اور سب وہاں سے کوچ کر گئے۔ ساجد بھائی کو سعودی عرب بھیج دیا گیا۔
میں رابو خالہ کے پاس رہ گئی، مگر وہ کب تک رکھتی تھیں؟ انہوں نے شیدے کے والدین سے بات کی، مگر ویدو چچا آگ بگولہ ہو گئے۔ شیدا جب واپس آیا تو اس نے نکاح کا اعتراف کیا، لیکن اس کے والدین نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور وہ بھی گھر چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے۔ شیدا مجھے خرچہ بھیجتا رہا۔ ایک سال بعد رابو خالہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے میری ماں سے رابطہ کیا کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ۔ میں اب ایک بچی کی ماں بن چکی تھی۔ ماں نے ابا کو منا لیا اور میں گھر واپس آگئی، مگر اس شرط پر کہ رشید کبھی وہاں قدم نہیں رکھے گا۔ رشید کی شادی اس کے گھر والوں نے اس کی بھانجی سے کر دی تھی۔
پندرہ سال گزر گئے۔ ابا انتقال کر گئے اور تایا نے منی کو اپنی بہو بنا لیا۔ ماں نے محنت مزدوری کر کے میری بیٹی ‘نور’ کو پالا۔ ایک دن رشید کی ماں دو عورتوں کے ساتھ آئیں اور پوتی کا مطالبہ کر دیا۔ رشید کی بیوی بانجھ تھی، اس لیے انہیں اب اپنی پوتی یاد آئی تھی۔ ماں نے انہیں دھتکار دیا لیکن اگلے دن شیدا خود آگیا اور معافی مانگتے ہوئے بیٹی کا ہاتھ مانگا تاکہ وہ اسے اپنا نام دے سکے۔ ماں نے نور کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور مجھ سے کہا، “عارفہ! اگر تو میری بیٹی ہے تو اس کے ساتھ ہرگز مت جانا۔ ان لوگوں نے مشکل وقت میں تمہیں بے آسرا چھوڑا، اب یہ صرف نور کو لینے آئے ہیں۔” میں نے ماں کا حکم مانا اور دل پر پتھر رکھ کر بیٹی کو رخصت کر دیا، مگر خود ان کے ساتھ نہیں گئی۔
آج نہ وہ ماں رہی، نہ شیدا اور نہ اس کے والدین۔ رشید اپنی وفات سے قبل بیٹی کی شادی ایک اچھے گھرانے میں کر گیا تھا۔ اب وہی بیٹی میرے بڑھاپے کا سہارا ہے، جو ماں کی وفات کے بعد مجھے اپنے ساتھ لے آئی ہے۔ میرا داماد بالکل بیٹوں جیسا ہے اور مجھے بہت عزت دیتا ہے۔ اللہ نے میری زندگی کے آخری سفر میں ایک نیک داماد کی صورت میں میرے صبر کا اجر دے دیا ہے۔ میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں، کم ہے۔
(ختم شد)
.jpg)
