ایک روز میں کچن سے نکلی تو اپنی بہن کو اپنے کمرے سے نکلتے دیکھا، نجانے وہ وہاں کیا کرنے گئی تھی۔ میرے سر میں درد ہونے لگا تو میری بہن نے مجھے جوس کا گلاس دیا۔ اس کے کہنے پر میں نے وہ جوس پی لیا جس سے اس وقت تو کچھ راحت محسوس ہوئی لیکن پھر مجھ پر شدید غنودگی طاری ہونے لگی اور میں گہری نیند سو گئی۔
👇sublimegate👇
👇sublimegate👇
سچ ہے برا وقت کہہ کر نہیں آتا لیکن مشکل وقت میں اپنے ہی کام آتے ہیں۔ لوگ اکثر اپنوں کی شکایت کرتے ہیں مگر میں انہیں نعمتِ خداوندی سمجھتی ہوں۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب ابو ریلوے میں ملازم تھے۔ ہماری ایک پھپھو تھیں جو بیوہ اور غریب تھیں، لیکن عادت کی بہت اچھی تھیں اور ہم سے پیار کرتی تھیں؛ ابو بھی اپنی اس بہن کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ والد کی تنخواہ زیادہ نہ تھی، مگر وہ گھر والوں کو خوش رکھنے کا فن جانتے تھے اور ہمیں بھی ہمیشہ کفایت شعاری کی نصیحت کرتے تھے۔
مجھے اپنے والد سے بہت پیار تھا، اسی لیے ان کی ہر بات غور سے سنتی اور اس پر عمل کرتی تھی، مگر میری بہن مزاجاً بالکل مختلف تھی اور وہ اپنی والدہ پر گئی تھی۔ اسے ہمیشہ کم پیسوں کی شکایت رہتی اور باپ پر غصہ آتا تھا۔ وہ کہتی: “یہ کتنے ظالم باپ ہیں جنہوں نے ہمیشہ ہماری خواہشوں کو دبایا اور کم پیسوں میں خوش رہنے کو کہا، حالانکہ کم پیسوں میں خوش رہنا ایک ناممکن بات ہے اور یہ خود کو فریب دینے کے مترادف ہے۔” میں امی کو بتاتی کہ رافعیہ ایسا کہتی ہے، آپ اس کو سمجھائیں۔ ابو اپنی تنخواہ کا ایک ایک پیسہ ہم پر خرچ کرتے ہیں، وہ رزقِ حلال کماتے ہیں اور غلط ذرائع سے تو پیسہ نہیں کماتے، پھر ہم ان سے شکایت کیوں کریں؟ یہ غلط بات ہے۔ یہ سن کر والدہ خاموش ہو جاتیں اور کبھی کہتیں کہ رافعیہ ابھی چھوٹی اور ناسمجھی ہے۔ بڑی ہونے پر وہ خود ہی والدین کی مجبوریاں سمجھ جائے گی، تم اس سے جھگڑا نہ کیا کرو۔ اس طرح وہ ہم دونوں بہنوں میں صلح کرا دیا کرتی تھیں، تاہم ہمارا اکثر جھگڑا انہی باتوں پر ہوتا تھا، اسی لیے رافعیہ مجھ سے خار کھانے لگی۔
ایف اے کا امتحان دیا تو امی نے مجھے گھر داری میں لگا دیا۔ ایک روز چائے بنا کر ابو کو دینے جا رہی تھی کہ اندر سے باتیں کرنے کی آواز پر میرے قدم ٹھٹھک گئے۔ والد دادی سے کہہ رہے تھے کہ راحت کا رشتہ طے ہو جائے تو منگنی کر دیں گے، شاہدہ آ جائے تو بات کرتے ہیں۔ دادی نے بھی اثبات میں جواب دیا۔ میں نے سوچا کہ ابو شاید اپنی بہن سے مشورہ ضروری سمجھتے ہیں، میری پھوپی کا نام شاہدہ تھا۔ ابھی میں چائے کی ٹرے ہاتھ میں پکڑے دروازے پر ہی کھڑی تھی کہ امی جان آ گئیں اور مجھے ڈانٹتے ہوئے بولیں: “تم ابھی تک یہاں کھڑی ہو؟ اندر جا کر چائے دو، ورنہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔” تبھی میں جلدی سے دادی کے کمرے میں داخل ہو گئی۔ ٹرے ان کے سامنے رکھ کر جب اپنے کمرے میں واپس آئی تو دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ جانے کس کے ساتھ یہ میری شادی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ رات بھر میں انہی سوچوں میں گم رہی اور اگلے دن کالج گئی تو وہاں بھی یہی سوچ دماغ پر حاوی رہی کہ نجانے وہ کون ہو گا جس کے پلے یہ مجھے باندھ رہے ہیں! کالج سے لوٹی تو شاہدہ پھوپی آئی ہوئی تھیں۔ میں سمجھ گئی کہ آج پھر میری شادی کے مسئلے پر یہ تینوں بیٹھ کر بات کریں گے، اس لیے میں نے سوچا کہ چھپ کر ان کی باتیں سنوں تا کہ کچھ پتا چلے کہ میری قسمت کا فیصلہ کس کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ کھانے کے بعد امی نے ہم بہنوں کو اپنے کمرے میں جانے کا اشارہ کر دیا، اب میں دروازے کی اوٹ سے بھی کچھ نہیں سن سکتی تھی جس کی وجہ سے مجھے کافی بے چینی رہی۔
ایف اے کا امتحان دیا تو امی نے مجھے گھر داری میں لگا دیا۔ ایک روز چائے بنا کر ابو کو دینے جا رہی تھی کہ اندر سے باتیں کرنے کی آواز پر میرے قدم ٹھٹھک گئے۔ والد دادی سے کہہ رہے تھے کہ راحت کا رشتہ طے ہو جائے تو منگنی کر دیں گے، شاہدہ آ جائے تو بات کرتے ہیں۔ دادی نے بھی اثبات میں جواب دیا۔ میں نے سوچا کہ ابو شاید اپنی بہن سے مشورہ ضروری سمجھتے ہیں، میری پھوپی کا نام شاہدہ تھا۔ ابھی میں چائے کی ٹرے ہاتھ میں پکڑے دروازے پر ہی کھڑی تھی کہ امی جان آ گئیں اور مجھے ڈانٹتے ہوئے بولیں: “تم ابھی تک یہاں کھڑی ہو؟ اندر جا کر چائے دو، ورنہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔” تبھی میں جلدی سے دادی کے کمرے میں داخل ہو گئی۔ ٹرے ان کے سامنے رکھ کر جب اپنے کمرے میں واپس آئی تو دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ جانے کس کے ساتھ یہ میری شادی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ رات بھر میں انہی سوچوں میں گم رہی اور اگلے دن کالج گئی تو وہاں بھی یہی سوچ دماغ پر حاوی رہی کہ نجانے وہ کون ہو گا جس کے پلے یہ مجھے باندھ رہے ہیں! کالج سے لوٹی تو شاہدہ پھوپی آئی ہوئی تھیں۔ میں سمجھ گئی کہ آج پھر میری شادی کے مسئلے پر یہ تینوں بیٹھ کر بات کریں گے، اس لیے میں نے سوچا کہ چھپ کر ان کی باتیں سنوں تا کہ کچھ پتا چلے کہ میری قسمت کا فیصلہ کس کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ کھانے کے بعد امی نے ہم بہنوں کو اپنے کمرے میں جانے کا اشارہ کر دیا، اب میں دروازے کی اوٹ سے بھی کچھ نہیں سن سکتی تھی جس کی وجہ سے مجھے کافی بے چینی رہی۔
کچن سے امی کے برتن اٹھانے کی آواز آئی تو میں پانی لینے کے بہانے وہاں چلی گئی اور دیکھا کہ امی کا چہرہ غصے سے تمتما رہا ہے۔ اتنے میں دادی کی آواز آئی جو مجھے پکار رہی تھیں؛ میں دھڑکتے دل کے ساتھ وہاں گئی تو مجھے دیکھ کر پھوپی کھڑی ہو گئیں اور مجھے گلے سے لگا لیا، پھر انہوں نے پانچ سو روپے کا نوٹ نکال کر مجھے دینے کی کوشش کی۔ میں نے جھجھک کر ابو کی طرف دیکھا تو وہ بولے: “لے لو بیٹی…!” ابو کے کہنے پر میں نے نوٹ لے لیا، تبھی پھوپی نے خوش ہو کر ابو سے کہا: “اصغر میاں! اب راحت تمہارے پاس میری امانت ہے، جیسے ہی عابد کی نوکری لگے گی، میں اسے بیاہ کر اپنے گھر لے جاؤں گی۔” میں شرما کر اپنے کمرے میں آ بیٹھی؛ دل ابھی تک دھڑک رہا تھا اور مٹھی میں پھوپی کا دیا ہوا پانچ سو کا نوٹ دبا تھا۔ تبھی رافعیہ نے سوال کیا کہ دادی جان نے کیوں بلایا تھا؟ میں نے مٹھی کھول کر نوٹ دکھایا اور کہا کہ میری عابد کے ساتھ منگنی کر رہے ہیں! یہ سن کر وہ بولی: “بڑی خوش ہو رہی ہو بے وقوف! ایسے غریب گھر میں جا کر تمہیں کیا ملے گا؟ سوائے بھوک اور پیاس کے، تم زندگی بھر ہر شے کے لیے ترستی رہو گی۔ کیا تم جانتی ہو کہ امی اس رشتے پر بالکل راضی نہیں ہیں؟ وہ ہم دونوں کی شادیاں امیر گھرانوں میں کرنے کے خواب دیکھ رہی ہیں، اس لیے نادان نہ بنو اور انکار کر دو…!” میں نے جواب دیا: “ہرگز نہیں! میں ابو کو دکھ نہیں دے سکتی اور ان کی خوشی کے لیے اپنی جان بھی قربان کر سکتی ہوں۔ پھوپی غریب ہیں تو کیا ہوا، دیکھو تو وہ ہم سے پیار کتنا کرتی ہیں! کیا اتنا پیار ہمیں کسی غیر کے گھر میں ملے گا؟” یہ حقیقت تھی کہ پھوپی بہت مفلس تھیں اور جب سے ان کے شوہر کی وفات ہوئی تھی، سسرال والوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی؛ اسی وجہ سے والدہ نے کہا کہ اب آگے نہیں پڑھنا، گھر بیٹھو اور گھرداری سیکھو کیونکہ لڑکی کو گھر بسانے کے لیے گھرداری ہی کام آتی ہے۔
ایک روز ابو نے شاہدہ پھوپی کی دعوت کی اور کھانے کے بعد یہ صلاح مشورہ ہونے لگا کہ عابد اور راحت کی منگنی کس دن کرنی ہے۔ آج عابد بھی ان کے ساتھ آیا تھا اور وہ دزدیدہ نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ ابو نے فخر سے بتایا کہ میری بیٹی نے ایف اے میں نہایت شاندار نمبر لیے ہیں، جس پر پھوپی نے مبارکباد دی۔ ابو نے مجھ سے پوچھا: “راحت! بتاؤ اس خوشی میں تمہیں کیا تحفہ دیں؟” تو میں نے وقت ضائع کیے بغیر بلا تامل کہہ دیا: “مجھے آگے پڑھنا ہے۔” امی فوراً بولیں: “بس اب مزید نہیں پڑھنا، اب گھر کے کام کاج سیکھو۔” لیکن ابو نے آہستہ سے میرے کان میں کہا: “تم ضرور پڑھو گی، میں دیکھوں گا کہ تمہیں کون روکتا ہے۔” اس روز میری منگنی کی رسم کا دن بھی طے ہو گیا۔ منگنی والے دن زیادہ لوگوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا، صرف ابو کے پرانے دوست انکل ناصر مع فیملی آئے تھے جن کے بارے میں ابو اکثر کہا کرتے تھے کہ ناصر میرا وہ واحد دوست ہے جو میرے دکھ سکھ کا سچا ساتھی ہے اور ہر مشکل میں میرے کام آنے والا ہے؛ میرے والد اپنے اس دوست پر بہت بھروسہ کرتے تھے۔ انکل ناصر کا ایک پرائیویٹ اسکول تھا اور وہ تعلیم کی ترویج پر بہت محنت کرتے تھے کیونکہ انہیں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ تھا، بلکہ انہوں نے ہی والد صاحب کو ہمیں آگے پڑھانے پر راغب کیا تھا۔
ہماری زندگی کے دن وقت کے پروں پر اڑتے جا رہے تھے اور ہم ایک خوشیوں بھرے گھر میں جی رہے تھے کہ اچانک ایک روز، جب والد صاحب ڈیوٹی پر تھے، فون پر یہ المناک اطلاع دی گئی کہ جس ٹرین میں ابو ڈیوٹی پر تھے اس کا حادثہ ہو گیا ہے اور دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی ہیں۔ یہ اطلاع ہمارے لیے قیامت کا پیغام تھی؛ میں تو یہ خبر سنتے ہی جہاں کھڑی تھی وہیں گر گئی، امی نے اپنی چوڑیاں توڑ دیں اور بلند آواز میں رونا شروع کر دیا۔ ہمیں پتا چل گیا کہ ابو اب اس دنیا میں نہیں رہے اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے ہمارے گھر کی چھت ہی گرا دی ہو۔ اس دن کے بعد سب کچھ بدل گیا اور ہمارے گھر کے حالات خراب ہو گئے۔ اب تک گھر کا گزارہ ابو کی تنخواہ پر ہو رہا تھا اور اب ان کی پنشن ہی ہمارا آخری سہارا بن گئی تھی، مگر اتنے تھوڑے پیسوں میں گھر چلانا مشکل تھا۔ چنانچہ مجبوراً مجھے ابو کے دوست ناصر صاحب کے اسکول میں نوکری کرنی پڑی۔ پھوپی ہر ہفتے ہمارے گھر آتیں اور ہماری دل جوئی کرتیں، لیکن نجانے کیا ہوا کہ ایک دن جب میں اسکول میں پڑھا کر واپس گھر لوٹ رہی تھی، میں نے پھوپی کو اپنے گھر سے نکلتے دیکھا۔ میں نے آگے بڑھ کر انہیں سلام کیا تو مجھے سخت حیرت ہوئی کہ انہوں نے میرے سلام کا کوئی جواب نہ دیا اور رخ پھیر کر آگے بڑھ گئیں۔
جانے ایسی کیا بات ہو گئی تھی کہ میری شفیق پھوپی نے اس طرح کا طرزِ عمل اپنایا تھا۔ میں نے گھر جا کر امی سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ آج منگنی توڑنے کا اعلان کر کے گئی ہے۔ اب ہم سے اس کا کیا ناتا، کیونکہ اس کا بھائی جو نہیں رہا؛ ان کی محبت تو ہم سے بھائی کی زندگی تک ہی تھی۔ اب وہ عابد کے لیے کسی امیر گھرانے کا رشتہ چاہتی ہوں گی کیونکہ عابد کی ملازمت جو لگ گئی ہے۔ امی کی بات سن کر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں ابو کو یاد کر کے رونے لگی، مگر آنسو بھی کب تک ساتھ دیتے، آخرکار میں نے اپنا دل مضبوط کر لیا۔ گھر کا سارا بار اب میرے کندھوں پر تھا اور مجھے اپنی ذمہ داریاں نبھانی تھیں، کیونکہ ملازمہ کیے بغیر گھر کیسے چلتا۔ میں نے ابو کی وفات کے بعد پانچ سال تک نوکری کی جس سے گھر کے حالات کافی سدھر گئے، تو امی کو میری شادی کی فکر ستانے لگی۔
ایک روز ابو نے شاہدہ پھوپی کی دعوت کی اور کھانے کے بعد یہ صلاح مشورہ ہونے لگا کہ عابد اور راحت کی منگنی کس دن کرنی ہے۔ آج عابد بھی ان کے ساتھ آیا تھا اور وہ دزدیدہ نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ ابو نے فخر سے بتایا کہ میری بیٹی نے ایف اے میں نہایت شاندار نمبر لیے ہیں، جس پر پھوپی نے مبارکباد دی۔ ابو نے مجھ سے پوچھا: “راحت! بتاؤ اس خوشی میں تمہیں کیا تحفہ دیں؟” تو میں نے وقت ضائع کیے بغیر بلا تامل کہہ دیا: “مجھے آگے پڑھنا ہے۔” امی فوراً بولیں: “بس اب مزید نہیں پڑھنا، اب گھر کے کام کاج سیکھو۔” لیکن ابو نے آہستہ سے میرے کان میں کہا: “تم ضرور پڑھو گی، میں دیکھوں گا کہ تمہیں کون روکتا ہے۔” اس روز میری منگنی کی رسم کا دن بھی طے ہو گیا۔ منگنی والے دن زیادہ لوگوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا، صرف ابو کے پرانے دوست انکل ناصر مع فیملی آئے تھے جن کے بارے میں ابو اکثر کہا کرتے تھے کہ ناصر میرا وہ واحد دوست ہے جو میرے دکھ سکھ کا سچا ساتھی ہے اور ہر مشکل میں میرے کام آنے والا ہے؛ میرے والد اپنے اس دوست پر بہت بھروسہ کرتے تھے۔ انکل ناصر کا ایک پرائیویٹ اسکول تھا اور وہ تعلیم کی ترویج پر بہت محنت کرتے تھے کیونکہ انہیں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ تھا، بلکہ انہوں نے ہی والد صاحب کو ہمیں آگے پڑھانے پر راغب کیا تھا۔
ہماری زندگی کے دن وقت کے پروں پر اڑتے جا رہے تھے اور ہم ایک خوشیوں بھرے گھر میں جی رہے تھے کہ اچانک ایک روز، جب والد صاحب ڈیوٹی پر تھے، فون پر یہ المناک اطلاع دی گئی کہ جس ٹرین میں ابو ڈیوٹی پر تھے اس کا حادثہ ہو گیا ہے اور دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی ہیں۔ یہ اطلاع ہمارے لیے قیامت کا پیغام تھی؛ میں تو یہ خبر سنتے ہی جہاں کھڑی تھی وہیں گر گئی، امی نے اپنی چوڑیاں توڑ دیں اور بلند آواز میں رونا شروع کر دیا۔ ہمیں پتا چل گیا کہ ابو اب اس دنیا میں نہیں رہے اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے ہمارے گھر کی چھت ہی گرا دی ہو۔ اس دن کے بعد سب کچھ بدل گیا اور ہمارے گھر کے حالات خراب ہو گئے۔ اب تک گھر کا گزارہ ابو کی تنخواہ پر ہو رہا تھا اور اب ان کی پنشن ہی ہمارا آخری سہارا بن گئی تھی، مگر اتنے تھوڑے پیسوں میں گھر چلانا مشکل تھا۔ چنانچہ مجبوراً مجھے ابو کے دوست ناصر صاحب کے اسکول میں نوکری کرنی پڑی۔ پھوپی ہر ہفتے ہمارے گھر آتیں اور ہماری دل جوئی کرتیں، لیکن نجانے کیا ہوا کہ ایک دن جب میں اسکول میں پڑھا کر واپس گھر لوٹ رہی تھی، میں نے پھوپی کو اپنے گھر سے نکلتے دیکھا۔ میں نے آگے بڑھ کر انہیں سلام کیا تو مجھے سخت حیرت ہوئی کہ انہوں نے میرے سلام کا کوئی جواب نہ دیا اور رخ پھیر کر آگے بڑھ گئیں۔
جانے ایسی کیا بات ہو گئی تھی کہ میری شفیق پھوپی نے اس طرح کا طرزِ عمل اپنایا تھا۔ میں نے گھر جا کر امی سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ آج منگنی توڑنے کا اعلان کر کے گئی ہے۔ اب ہم سے اس کا کیا ناتا، کیونکہ اس کا بھائی جو نہیں رہا؛ ان کی محبت تو ہم سے بھائی کی زندگی تک ہی تھی۔ اب وہ عابد کے لیے کسی امیر گھرانے کا رشتہ چاہتی ہوں گی کیونکہ عابد کی ملازمت جو لگ گئی ہے۔ امی کی بات سن کر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں ابو کو یاد کر کے رونے لگی، مگر آنسو بھی کب تک ساتھ دیتے، آخرکار میں نے اپنا دل مضبوط کر لیا۔ گھر کا سارا بار اب میرے کندھوں پر تھا اور مجھے اپنی ذمہ داریاں نبھانی تھیں، کیونکہ ملازمہ کیے بغیر گھر کیسے چلتا۔ میں نے ابو کی وفات کے بعد پانچ سال تک نوکری کی جس سے گھر کے حالات کافی سدھر گئے، تو امی کو میری شادی کی فکر ستانے لگی۔
انہی دنوں اسکول میں سالانہ فنکشن ہوا اور ایک صاحب بحیثیت چیف گیسٹ تشریف لائے جو ایک کم عمر بزنس مین تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے تمام اساتذہ کا تفصیلی تعارف کروایا اور ان کے ہاتھوں انعامات تقسیم کروائے؛ اس دوران چیف گیسٹ نے مجھے بہت بغور دیکھا تھا۔ اس کے بعد اسکول میں چھٹیاں ہو گئیں اور کچھ دنوں بعد انکل ناصر اور ان کی بیگم نے امی کو بتایا کہ آپ کی بیٹی راحت کے لیے ایک امیر گھرانے سے رشتہ آیا ہے۔ یہ رشتہ انہی چیف گیسٹ کا تھا جو کم عمر بزنس مین تھے، انہوں نے اپنی والدہ سے میرا ذکر کیا تھا اور ان کے گھر والے ناصر انکل کے پاس میرے بارے میں دریافت کرنے آئے تھے۔
امی یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں کہ اب رافعیہ نے بھی تعلیم مکمل کر لی ہے تو وہ راحت کی جگہ اسکول میں پڑھا لے گی۔ انہوں نے ناصر انکل سے کہا کہ چونکہ یہ لوگ آپ کے توسط سے آئے ہیں تو یقیناً آپ نے تسلی کر لی ہو گی، پھر بھلا مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے، بیٹیوں کو بالآخر بیاہنا ہی ہوتا ہے۔ انکل ناصر نے امی کو اس گھرانے کے بارے میں ہر طرح کی تسلی دی اور یوں میرا رشتہ سالار سے طے ہو گیا۔ وہ لوگ واقعی بہت اچھے اور امیر تھے، مگر ان میں غرور نام کو نہ تھا اور وہ دولت کے بجائے شرافت پر یقین رکھتے تھے۔ میرے دل میں عابد کو کھو دینے کا ملال تو تھا لیکن جب شوہر اتنا اچھا ملا تو میں نے ہر بات بھلا دی، کیونکہ عابد سے صرف منگنی ہی ہوئی تھی اور ہمارا کوئی رومانس یا افیئر والا تعلق کبھی نہ رہا تھا؛ پھوپی ہم سے محبت کرتی تھیں تو ہم بھی ان سے محبت کرتے تھے۔
امی یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں کہ اب رافعیہ نے بھی تعلیم مکمل کر لی ہے تو وہ راحت کی جگہ اسکول میں پڑھا لے گی۔ انہوں نے ناصر انکل سے کہا کہ چونکہ یہ لوگ آپ کے توسط سے آئے ہیں تو یقیناً آپ نے تسلی کر لی ہو گی، پھر بھلا مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے، بیٹیوں کو بالآخر بیاہنا ہی ہوتا ہے۔ انکل ناصر نے امی کو اس گھرانے کے بارے میں ہر طرح کی تسلی دی اور یوں میرا رشتہ سالار سے طے ہو گیا۔ وہ لوگ واقعی بہت اچھے اور امیر تھے، مگر ان میں غرور نام کو نہ تھا اور وہ دولت کے بجائے شرافت پر یقین رکھتے تھے۔ میرے دل میں عابد کو کھو دینے کا ملال تو تھا لیکن جب شوہر اتنا اچھا ملا تو میں نے ہر بات بھلا دی، کیونکہ عابد سے صرف منگنی ہی ہوئی تھی اور ہمارا کوئی رومانس یا افیئر والا تعلق کبھی نہ رہا تھا؛ پھوپی ہم سے محبت کرتی تھیں تو ہم بھی ان سے محبت کرتے تھے۔
سسرال میں میری ساس، ایک نند اور ایک ہی دیور تھا؛ نند شادی شدہ تھی اور میری شادی کے کچھ عرصے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ جدہ چلی گئی۔ دیور کا نام الیاس تھا جو میرا ہم عمر تھا اور میری بہت عزت کرتا تھا، میں بھی اسے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھتی تھی۔ وہ بھی بھابھی کے رشتے کا احترام کرتے ہوئے ہر بات مجھ سے پوچھ کر کرتا تھا اور میں جو کہتی، وہ سرِ تسلیم خم کر دیا کرتا تھا۔ جلد ہی میری نند نے اپنی ماں کو بھی جدہ بلوا لیا کیونکہ وہ انہیں عمرہ اور حج کرانا چاہتے تھے، اب گھر میں صرف میں اور میرا دیور رہ گئے۔ میرے شوہر بزنس کے سلسلے میں اکثر اسلام آباد، لاہور اور کراچی جاتے رہتے تھے، مگر انہیں پورا اطمینان تھا کہ میں گھر پر اکیلی نہیں ہوں بلکہ ان کی غیر موجودگی میں دیور گھر پر موجود ہوتا ہے۔
میری شادی کو چھ ماہ گزر چکے تھے اور سارے گھر کی ذمہ داری مجھ پر تھی۔ کبھی اکیلے میں میرا جی گھبراتا تو میں دیور سے کہتی: “الیاس! اب تمہاری بھی شادی ہو جانی چاہیے، تمہاری دلہن آئے گی تو میرا ہاتھ بٹائے گی اور میرا جی بھی بہلے گا۔ اگر کوئی لڑکی پسند ہو تو بتاؤ؟” ایک دن وہ جھجکتے ہوئے بولا: “بھابھی! اگر آپ برا نہ مانیں تو بتا دوں؟” میں نے کہا: “ہاں ہاں ضرور بتاؤ۔” تو وہ بولا: “مجھے آپ کی بہن رافعیہ پسند ہے، آپ اس کے ساتھ میری شادی کروا دیں۔” میں نے یہ بات اپنے شوہر کو بتائی اور ہم امی کے پاس الیاس کے لیے رافعیہ کا رشتہ لینے چلے گئے۔ کچھ دنوں بعد میں اپنی بہن کو دیورانی بنا کر اپنے گھر لے آئی اور ہمارے گھر کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں؛ میں بہت خوش تھی کہ میری بہن میرے پاس آ گئی ہے، مگر میں یہ نہ جانتی تھی کہ اس کی سوچ بالکل مختلف ہو جائے گی۔ گھر میں جلد ہی مسائل شروع ہو گئے اور اس کی وجہ یہ بنی کہ میرا دیور، جو میری بہت عزت کرتا تھا، ہر معاملے میں مجھے اہمیت اور تکریم دیتا تھا اور یہی بات میری بہن کو ناگوار گزرنے لگی۔ وہ بظاہر تو چپ رہتی مگر اندر ہی اندر میرے لیے اپنے دل میں غصہ پالتی رہی؛ جب وہ دونوں کبھی باہر سیر کے لیے جاتے تو الیاس مجھ سے یوں اجازت لیتا جیسے بیٹے مائوں سے پوچھ کر کہیں جاتے ہیں، اور وہ اکثر اصرار کرتا کہ: “بھابھی جان! آپ بھی ہمارے ساتھ چلیے، گھر میں اکیلی رہ کر کیا کریں گی۔”
مجھے بالکل معلوم نہ تھا کہ میری بہن اس بات پر کڑھتی ہے اور اندر ہی اندر اپنے شوہر سے لڑتی ہے کہ تم کیوں باجی سے پوچھ کر کہیں جاتے ہو اور انہیں ساتھ چلنے کی ضد کرتے ہو، تم انہیں ہمارے بیچ کباب میں ہڈی کیوں بناتے ہو؟ یہ بات کبھی میرے دیور نے مجھے نہ بتائی بلکہ وہ ایسی باتیں چھپا جاتا تھا تا کہ مجھے دکھ نہ پہنچے۔ رافعیہ کا ماننا تھا کہ: “ہمارا اپنا ذاتی جیون ہے، ہم جہاں چاہیں جائیں، تم کون ہوتی ہو ہم پر حکمرانی کرنے والی؟” اور مجھے اپنی بہن کی یہ زہریلی سوچ سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ رافعیہ نے امی سے بھی میرے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کیں اور کہا کہ میرا چال چلن ٹھیک نہیں ہے اور میں نے اس کے شوہر کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے۔ مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ رافعیہ کسی بھی قیمت پر مجھ سے جان چھڑانے کے درپے ہے کیونکہ وہ اکیلی ہی اس گھر پر راج کرنا چاہتی تھی اور اسے اپنے سامنے کسی اور کا وجود برداشت نہیں تھا۔
ایک روز میں کچن سے نکلی تو اپنی بہن کو اپنے کمرے سے نکلتے دیکھا، نجانے وہ وہاں کیا کرنے گئی تھی؛ خیر میں نے سوچا کہ سالار کو فون کر کے کہتی ہوں کہ وہ جلدی گھر آ جائیں کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ جب میں نے میز سے فون اٹھانا چاہا تو وہاں میرا سیل فون موجود نہ تھا، میں نے اسے بہت ڈھونڈا مگر وہ نہ ملا؛ تبھی رافعیہ کمرے میں آئی اور بولی: “کیا بات ہے باجی، کیوں پریشان ہو؟” میں نے کہا: “گرمی سی محسوس ہو رہی ہے اور سر میں شدید درد ہے، طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔” وہ بولی: “اچھا یہ جوس پی لو، تمہاری طبیعت ابھی بحال ہو جائے گی۔” بہن کے کہنے پر میں نے وہ جوس پی لیا جس سے اس وقت تو کچھ راحت محسوس ہوئی لیکن پھر مجھ پر شدید غنودگی طاری ہونے لگی اور میں گہری نیند سو گئی۔
میری شادی کو چھ ماہ گزر چکے تھے اور سارے گھر کی ذمہ داری مجھ پر تھی۔ کبھی اکیلے میں میرا جی گھبراتا تو میں دیور سے کہتی: “الیاس! اب تمہاری بھی شادی ہو جانی چاہیے، تمہاری دلہن آئے گی تو میرا ہاتھ بٹائے گی اور میرا جی بھی بہلے گا۔ اگر کوئی لڑکی پسند ہو تو بتاؤ؟” ایک دن وہ جھجکتے ہوئے بولا: “بھابھی! اگر آپ برا نہ مانیں تو بتا دوں؟” میں نے کہا: “ہاں ہاں ضرور بتاؤ۔” تو وہ بولا: “مجھے آپ کی بہن رافعیہ پسند ہے، آپ اس کے ساتھ میری شادی کروا دیں۔” میں نے یہ بات اپنے شوہر کو بتائی اور ہم امی کے پاس الیاس کے لیے رافعیہ کا رشتہ لینے چلے گئے۔ کچھ دنوں بعد میں اپنی بہن کو دیورانی بنا کر اپنے گھر لے آئی اور ہمارے گھر کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں؛ میں بہت خوش تھی کہ میری بہن میرے پاس آ گئی ہے، مگر میں یہ نہ جانتی تھی کہ اس کی سوچ بالکل مختلف ہو جائے گی۔ گھر میں جلد ہی مسائل شروع ہو گئے اور اس کی وجہ یہ بنی کہ میرا دیور، جو میری بہت عزت کرتا تھا، ہر معاملے میں مجھے اہمیت اور تکریم دیتا تھا اور یہی بات میری بہن کو ناگوار گزرنے لگی۔ وہ بظاہر تو چپ رہتی مگر اندر ہی اندر میرے لیے اپنے دل میں غصہ پالتی رہی؛ جب وہ دونوں کبھی باہر سیر کے لیے جاتے تو الیاس مجھ سے یوں اجازت لیتا جیسے بیٹے مائوں سے پوچھ کر کہیں جاتے ہیں، اور وہ اکثر اصرار کرتا کہ: “بھابھی جان! آپ بھی ہمارے ساتھ چلیے، گھر میں اکیلی رہ کر کیا کریں گی۔”
مجھے بالکل معلوم نہ تھا کہ میری بہن اس بات پر کڑھتی ہے اور اندر ہی اندر اپنے شوہر سے لڑتی ہے کہ تم کیوں باجی سے پوچھ کر کہیں جاتے ہو اور انہیں ساتھ چلنے کی ضد کرتے ہو، تم انہیں ہمارے بیچ کباب میں ہڈی کیوں بناتے ہو؟ یہ بات کبھی میرے دیور نے مجھے نہ بتائی بلکہ وہ ایسی باتیں چھپا جاتا تھا تا کہ مجھے دکھ نہ پہنچے۔ رافعیہ کا ماننا تھا کہ: “ہمارا اپنا ذاتی جیون ہے، ہم جہاں چاہیں جائیں، تم کون ہوتی ہو ہم پر حکمرانی کرنے والی؟” اور مجھے اپنی بہن کی یہ زہریلی سوچ سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ رافعیہ نے امی سے بھی میرے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کیں اور کہا کہ میرا چال چلن ٹھیک نہیں ہے اور میں نے اس کے شوہر کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے۔ مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ رافعیہ کسی بھی قیمت پر مجھ سے جان چھڑانے کے درپے ہے کیونکہ وہ اکیلی ہی اس گھر پر راج کرنا چاہتی تھی اور اسے اپنے سامنے کسی اور کا وجود برداشت نہیں تھا۔
ایک روز میں کچن سے نکلی تو اپنی بہن کو اپنے کمرے سے نکلتے دیکھا، نجانے وہ وہاں کیا کرنے گئی تھی؛ خیر میں نے سوچا کہ سالار کو فون کر کے کہتی ہوں کہ وہ جلدی گھر آ جائیں کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہ تھی۔ جب میں نے میز سے فون اٹھانا چاہا تو وہاں میرا سیل فون موجود نہ تھا، میں نے اسے بہت ڈھونڈا مگر وہ نہ ملا؛ تبھی رافعیہ کمرے میں آئی اور بولی: “کیا بات ہے باجی، کیوں پریشان ہو؟” میں نے کہا: “گرمی سی محسوس ہو رہی ہے اور سر میں شدید درد ہے، طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔” وہ بولی: “اچھا یہ جوس پی لو، تمہاری طبیعت ابھی بحال ہو جائے گی۔” بہن کے کہنے پر میں نے وہ جوس پی لیا جس سے اس وقت تو کچھ راحت محسوس ہوئی لیکن پھر مجھ پر شدید غنودگی طاری ہونے لگی اور میں گہری نیند سو گئی۔
اصل میں ہوا یہ تھا کہ رافعیہ نے میرا سیل فون اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا تھا جس پر سالار نے مجھے اسی دن یہ میسج بھی کیا تھا کہ میں رات کو دس بجے تک گھر آؤں گا کیونکہ مجھے ایک پارٹی کو ڈنر کرانا ہے۔ اس نے مجھے نشہ آور جوس پلا کر سلا دیا اور جب مغرب سے کچھ اوپر وقت ہو گیا تو اپنے شوہر سے جھوٹ بولی کہ: “باجی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور وہ ابھی تک بے ہوش پڑی ہیں؛ الیاس! لگتا ہے ان کو ہسپتال لے جانا پڑے گا، ایسا کرو کہ تم ان کے پاس ٹھہرو، میں لباس تبدیل کر کے آتی ہوں پھر ان کو ہسپتال لے جاتے ہیں، کیا خبر سالار بھائی کب تک گھر آئیں کیونکہ ان کی ایک بزنس پارٹی کے ساتھ ڈیل چل رہی ہے اور وہ ڈنر پر گئے ہیں۔”
الیاس میرے کمرے میں کرسی پر بیٹھ گیا اور رافعیہ اپنے کمرے میں جانے سے پہلے مین گیٹ پر گئی، جہاں اس نے گیٹ کا اندرونی لاک کھول دیا اور پھر اپنے کمرے میں جا کر سو گئی۔ اس بد نیت نے اپنے کمرے میں جانے سے قبل میرے کمرے کا دروازہ بھی باہر سے لاک کر دیا یعنی مقفل کرنے والا بٹن دبا دیا۔ الیاس نے سمجھا کہ وہ ویسے ہی دروازہ بھیڑ کر گئی ہے، اس لیے وہ کرسی پر بیٹھ کر اطمینان سے اخبار پڑھتا رہا۔ اسی دوران سالار گھر آ گئے اور یہ کوئی رات دس بجے کا وقت تھا۔ وہ سیدھے اپنے کمرے کی طرف آئے جو اب باہر سے نہیں کھل سکتا تھا جب تک کہ اندر سے بٹن نہ دبایا جاتا؛ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو الیاس نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا اور سامنے سالار کو کھڑے پایا۔
الیاس میرے کمرے میں کرسی پر بیٹھ گیا اور رافعیہ اپنے کمرے میں جانے سے پہلے مین گیٹ پر گئی، جہاں اس نے گیٹ کا اندرونی لاک کھول دیا اور پھر اپنے کمرے میں جا کر سو گئی۔ اس بد نیت نے اپنے کمرے میں جانے سے قبل میرے کمرے کا دروازہ بھی باہر سے لاک کر دیا یعنی مقفل کرنے والا بٹن دبا دیا۔ الیاس نے سمجھا کہ وہ ویسے ہی دروازہ بھیڑ کر گئی ہے، اس لیے وہ کرسی پر بیٹھ کر اطمینان سے اخبار پڑھتا رہا۔ اسی دوران سالار گھر آ گئے اور یہ کوئی رات دس بجے کا وقت تھا۔ وہ سیدھے اپنے کمرے کی طرف آئے جو اب باہر سے نہیں کھل سکتا تھا جب تک کہ اندر سے بٹن نہ دبایا جاتا؛ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو الیاس نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا اور سامنے سالار کو کھڑے پایا۔
وہ اندر آئے تو میں بستر پر بے خبر سو رہی تھی، تبھی انہوں نے حیرت سے سوال کیا: “الیاس…! تم میرے کمرے میں اس وقت کیا کر رہے ہو اور کمرے کو باہر سے لاک کیوں کیا ہوا تھا؟” الیاس نے گھبرا کر جواب دیا: “میں نے کمرہ لاک نہیں کیا بھائی جان…! بھابھی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لیے میں یہاں بیٹھا ہوا تھا کیونکہ رافعیہ لباس تبدیل کرنے گئی تھی اور ہم ابھی بھابھی کو ہسپتال لے جانے والے تھے، ہم سمجھ رہے تھے شاید آپ کو گھر آنے میں دیر ہو جائے گی۔” سالار نے کہا: “میں نے تو فون پر میسج کر کے اپنا تمام پروگرام پہلے ہی بتا دیا تھا، کدھر ہے فون…؟” رافعیہ میرے سو جانے کے بعد میرا سیل فون واپس میز پر رکھ گئی تھی، چنانچہ انہوں نے فون اٹھایا اور دکھایا کہ دیکھو میں نے رات دس بجے کا کہا تھا اور میں بالکل ٹھیک ٹائم پر آ گیا ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ رافعیہ کہاں ہے؟ اور یہ کہہ کر جب وہ رافعیہ کے کمرے میں گئے تو دیکھا کہ وہ اپنے بستر پر گہری نیند سو رہی ہے کیونکہ اس نے خود بھی ایک خواب آور گولی کھا لی تھی۔
اسے اس طرح سوتا پا کر سالار کا پارہ چڑھ گیا اور وہ اپنے چھوٹے بھائی سے الجھ پڑے کہ: “تم جھوٹ بول رہے ہو کہ تمہاری بیوی ہسپتال ساتھ جانے کے لیے لباس تبدیل کرنے گئی تھی، وہ تو اپنے بستر پر بے خبر سو رہی ہے، آخر یہ کیا معاملہ ہے؟” معاملہ کچھ نہ تھا، بس صرف بہن کے حسد کا معاملہ تھا۔ رافعیہ چاہتی تھی کہ وہ اکیلی راج کرے، جبکہ الیاس کا خیال تھا کہ راحت بڑی بھابھی ہے اور گھر میں چونکہ کوئی بزرگ نہیں ہے تو بڑے بھائی اور بھابھی ہی بزرگوں کے مانند ہیں، اس لیے ان کی تکریم لازمی ہے اور ان سے ہر بات پوچھ کر ان کی رضا سے قدم اٹھانا ہی عین سعادت مندی ہے۔ یہ روایات اور یہ تہذیب و تمدن میرے سسرال کا خاصہ تھا اور صدیوں سے انہی روایات کی پاسداری چلی آ رہی تھی لیکن رافعیہ اس باریک نکتے کو نہ سمجھ سکی؛ اس کی سوچ شروع سے ہی گھٹیا تھی یعنی غریبوں سے نفرت کرنا، امیروں کو اپنا آدرش بنانا اور خود کو انا کے حصار میں قید رکھنا، اور انہی طور طریقوں میں وہ خود کو آسودہ خیال کرتی تھی۔
میں نے اپنی بہن کو اس لیے دیورانی بنایا تھا کہ وہ میری ہمدرد، مونس اور غم خوار ہو گی، ہم دونوں ایک ہو کر ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بنیں گے، سالار اور الیاس بھی اتفاق سے رہیں گے اور ہمارے بچوں میں بھی محبت ہو گی، لیکن اس نے دور کی نہ سوچی۔ اس نے تو بس اتنا سوچا کہ میکے میں بھی ماں باپ اس کو مجھ پر فوقیت دیتے تھے تو یہاں سسرال میں بھی اس کی ہر بات کو افضل سمجھا جائے۔ رافعیہ کو رشتوں کا کوئی پاس نہیں تھا اور یہ سراسر میری غلطی تھی کہ میں اسے اپنی بہن سمجھ کر اس گھر میں لے آئی تھی۔ وہ ہر ممکن طریقے سے اپنے شوہر کے کان میرے خلاف بھرتی رہی اور جب کچھ بن نہ پڑا تو اس نے یہ گھناؤنا ڈرامہ کھیلا کہ مجھے بیمار ظاہر کر کے خواب آور جوس پلا کر سلا دیا، اپنے شوہر سے جھوٹ بول کر اسے میرے کمرے میں منتظر بٹھایا اور خود جا کر سو گئی۔
اسے اس طرح سوتا پا کر سالار کا پارہ چڑھ گیا اور وہ اپنے چھوٹے بھائی سے الجھ پڑے کہ: “تم جھوٹ بول رہے ہو کہ تمہاری بیوی ہسپتال ساتھ جانے کے لیے لباس تبدیل کرنے گئی تھی، وہ تو اپنے بستر پر بے خبر سو رہی ہے، آخر یہ کیا معاملہ ہے؟” معاملہ کچھ نہ تھا، بس صرف بہن کے حسد کا معاملہ تھا۔ رافعیہ چاہتی تھی کہ وہ اکیلی راج کرے، جبکہ الیاس کا خیال تھا کہ راحت بڑی بھابھی ہے اور گھر میں چونکہ کوئی بزرگ نہیں ہے تو بڑے بھائی اور بھابھی ہی بزرگوں کے مانند ہیں، اس لیے ان کی تکریم لازمی ہے اور ان سے ہر بات پوچھ کر ان کی رضا سے قدم اٹھانا ہی عین سعادت مندی ہے۔ یہ روایات اور یہ تہذیب و تمدن میرے سسرال کا خاصہ تھا اور صدیوں سے انہی روایات کی پاسداری چلی آ رہی تھی لیکن رافعیہ اس باریک نکتے کو نہ سمجھ سکی؛ اس کی سوچ شروع سے ہی گھٹیا تھی یعنی غریبوں سے نفرت کرنا، امیروں کو اپنا آدرش بنانا اور خود کو انا کے حصار میں قید رکھنا، اور انہی طور طریقوں میں وہ خود کو آسودہ خیال کرتی تھی۔
میں نے اپنی بہن کو اس لیے دیورانی بنایا تھا کہ وہ میری ہمدرد، مونس اور غم خوار ہو گی، ہم دونوں ایک ہو کر ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بنیں گے، سالار اور الیاس بھی اتفاق سے رہیں گے اور ہمارے بچوں میں بھی محبت ہو گی، لیکن اس نے دور کی نہ سوچی۔ اس نے تو بس اتنا سوچا کہ میکے میں بھی ماں باپ اس کو مجھ پر فوقیت دیتے تھے تو یہاں سسرال میں بھی اس کی ہر بات کو افضل سمجھا جائے۔ رافعیہ کو رشتوں کا کوئی پاس نہیں تھا اور یہ سراسر میری غلطی تھی کہ میں اسے اپنی بہن سمجھ کر اس گھر میں لے آئی تھی۔ وہ ہر ممکن طریقے سے اپنے شوہر کے کان میرے خلاف بھرتی رہی اور جب کچھ بن نہ پڑا تو اس نے یہ گھناؤنا ڈرامہ کھیلا کہ مجھے بیمار ظاہر کر کے خواب آور جوس پلا کر سلا دیا، اپنے شوہر سے جھوٹ بول کر اسے میرے کمرے میں منتظر بٹھایا اور خود جا کر سو گئی۔
سالار نے اگرچہ ہم پر کوئی غلط شک نہ کیا تھا لیکن وہ جھوٹ پر بہت زیادہ غصہ کرتے تھے کیونکہ ان کو جھوٹ سے سخت نفرت تھی؛ وہ خود بھی کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے اور نہ ہی کسی کا جھوٹ برداشت کرتے تھے۔ اس دن وہ یہی سمجھے کہ الیاس انہیں کوئی جھوٹی کہانی سنا رہا ہے جبکہ اس کی بیوی اپنے کمرے میں سکون سے سو رہی ہے اور میری بیوی بھی سو رہی ہے، تو پھر وہ کمرے میں کیوں موجود تھا؟ کیا وہ کمرے کو مقفل کر کے ان کے اہم کاغذات چرانے کے چکر میں تھا یا نہ جانے کیا تلاش کر رہا تھا؟ سوتی ہوئی بھابھی کو بیمار کہہ کر ہسپتال لے جانے کا جھوٹ کس وجہ سے بولا گیا تھا؟ سالار غصے میں کسی کو کچھ کہے بغیر رات کو ہی گھر سے چلے گئے۔
وہ رات انہوں نے اپنے آفس میں سگریٹ پیتے ہوئے گزاری اور صبح جب گھر آئے تو مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کل بیمار تھیں؟ میں نے بتایا کہ نہیں، بس ذرا طبیعت میں گرانی سی محسوس ہو رہی تھی اسی لیے سو گئی اور پھر گہری نیند آ گئی۔ سالار نے رافعیہ سے پوچھا: “کیا تم اور الیاس، راحت کو ہسپتال لے جانے والے تھے؟” تو وہ انتہائی معصوم بن کر بولی: “نہیں تو بھائی جان! میں تو اپنے وقت پر سو گئی تھی؛ باجی اتنی بیمار تو نہ تھیں کہ ان کو ہم ہسپتال لے جاتے، مجھے تو اس بارے میں کوئی خبر ہی نہیں ہے۔” سالار غصے سے الیاس پر گرجے: “پھر تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا الیاس؟ تمہیں میرے کمرے سے کیا چاہیے تھا، اگر کہو تو الماری کے لاکر کی چابیاں تمہارے حوالے کر دوں؟” الیاس نے تڑپ کر کہا: “ایسی بات ہرگز نہیں ہے بھائی جان…!” مگر اس بیچارے سے کوئی بات بن نہ پڑی، لیکن اس کی بیوی کی مکاری اب کھل چکی تھی۔ وہ دراصل مجھے اور الیاس کو سالار کی نظروں سے گرانا چاہتی تھی اور اپنے شوہر کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتی تھی تا کہ علیحدہ گھر میں رہنے کا جواز بن جائے اور دونوں بھائی آپس میں خفا ہو کر الگ ہو جائیں؛ وہ میری اہمیت اور رعب کے احساس سے نکلنا چاہتی تھی کیونکہ اپنے خاوند کی بڑے بھائی اور بھابھی کے ساتھ سعادت مندی اسے شدید تکلیف دیتی تھی۔
اس سازش کے نتیجے میں بھائیوں کی دیرینہ محبت میں دراڑ پڑ گئی اور رافعیہ الیاس کے دل سے بالکل اتر گئی، جس پر اس نے جذبات اور غصے میں آ کر بیوی کو طلاق دینے کا احمقانہ قدم اٹھا لیا۔ غصے میں اٹھائے گئے اس قدم کا میری والدہ کو اس قدر دکھ ہوا کہ انہوں نے سالار پر شدید دباؤ ڈال کر میری بھی طلاق کروا دی اور کہا کہ اگر میری ایک بیٹی کو گھر بدر کرو گے تو دوسری بھی تمہارے گھر نہیں رہ سکتی۔ اس طرح والدہ نے رافعیہ کی اندھی حمایت میں میرا ہنستا بست گھر بھی اجاڑ دیا؛ اگر وہ چاہتیں تو ہم دونوں بیٹیوں کے گھر آباد رکھ سکتی تھیں کیونکہ الیاس نے رافعیہ کو تنبیہاً صرف ایک ہی طلاق دی تھی، اگر والدہ دونوں کو سمجھا بجھا کر دوبارہ ان کا گھر آباد کروا دیتیں تو مجھے یوں در بدر نہ ہونا پڑتا۔
وہ رات انہوں نے اپنے آفس میں سگریٹ پیتے ہوئے گزاری اور صبح جب گھر آئے تو مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کل بیمار تھیں؟ میں نے بتایا کہ نہیں، بس ذرا طبیعت میں گرانی سی محسوس ہو رہی تھی اسی لیے سو گئی اور پھر گہری نیند آ گئی۔ سالار نے رافعیہ سے پوچھا: “کیا تم اور الیاس، راحت کو ہسپتال لے جانے والے تھے؟” تو وہ انتہائی معصوم بن کر بولی: “نہیں تو بھائی جان! میں تو اپنے وقت پر سو گئی تھی؛ باجی اتنی بیمار تو نہ تھیں کہ ان کو ہم ہسپتال لے جاتے، مجھے تو اس بارے میں کوئی خبر ہی نہیں ہے۔” سالار غصے سے الیاس پر گرجے: “پھر تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا الیاس؟ تمہیں میرے کمرے سے کیا چاہیے تھا، اگر کہو تو الماری کے لاکر کی چابیاں تمہارے حوالے کر دوں؟” الیاس نے تڑپ کر کہا: “ایسی بات ہرگز نہیں ہے بھائی جان…!” مگر اس بیچارے سے کوئی بات بن نہ پڑی، لیکن اس کی بیوی کی مکاری اب کھل چکی تھی۔ وہ دراصل مجھے اور الیاس کو سالار کی نظروں سے گرانا چاہتی تھی اور اپنے شوہر کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتی تھی تا کہ علیحدہ گھر میں رہنے کا جواز بن جائے اور دونوں بھائی آپس میں خفا ہو کر الگ ہو جائیں؛ وہ میری اہمیت اور رعب کے احساس سے نکلنا چاہتی تھی کیونکہ اپنے خاوند کی بڑے بھائی اور بھابھی کے ساتھ سعادت مندی اسے شدید تکلیف دیتی تھی۔
اس سازش کے نتیجے میں بھائیوں کی دیرینہ محبت میں دراڑ پڑ گئی اور رافعیہ الیاس کے دل سے بالکل اتر گئی، جس پر اس نے جذبات اور غصے میں آ کر بیوی کو طلاق دینے کا احمقانہ قدم اٹھا لیا۔ غصے میں اٹھائے گئے اس قدم کا میری والدہ کو اس قدر دکھ ہوا کہ انہوں نے سالار پر شدید دباؤ ڈال کر میری بھی طلاق کروا دی اور کہا کہ اگر میری ایک بیٹی کو گھر بدر کرو گے تو دوسری بھی تمہارے گھر نہیں رہ سکتی۔ اس طرح والدہ نے رافعیہ کی اندھی حمایت میں میرا ہنستا بست گھر بھی اجاڑ دیا؛ اگر وہ چاہتیں تو ہم دونوں بیٹیوں کے گھر آباد رکھ سکتی تھیں کیونکہ الیاس نے رافعیہ کو تنبیہاً صرف ایک ہی طلاق دی تھی، اگر والدہ دونوں کو سمجھا بجھا کر دوبارہ ان کا گھر آباد کروا دیتیں تو مجھے یوں در بدر نہ ہونا پڑتا۔
میری کہانی بس اتنی سی ہے کہ مجھے اپنی والدہ کی طرف سے تھوڑی سی خیر خواہی اور سمجھداری کی ضرورت تھی جس سے تمام غلط فہمیاں دور ہو سکتی تھیں؛ مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا کیونکہ ہماری بزرگ اب صرف میری والدہ ہی تھیں، جن میں معاملہ فہمی اور فراست کی کمی نے معاملے کو مزید الجھا کر ایک بہت بڑے المیے کو جنم دیا۔ بعد میں والدہ زندگی بھر پچھتاتی رہیں کہ انہوں نے ناحق رافعیہ کا ساتھ دیا اور صلح کا بہترین موقع گنوا دیا، اور رافعیہ بھی رو رو کر مجھ سے معافیاں مانگتی تھی کہ: “باجی…! ساری غلطی میری ہی تھی، میں جب آپ کو خود پر فوقیت پاتے دیکھتی تھی تو مجھے جلن ہوتی تھی”، لیکن اب پچھتانے سے کیا حاصل کیونکہ وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
آج ہماری والدہ بھی اس جہانِ فانی میں نہیں ہیں اور ہم دونوں بہنیں ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے پر مجبور ہیں؛ ہم دونوں ملازمت کرتی ہیں اور گزرے ہوئے اچھے وقت کو یاد کر کے ٹھنڈی آہ بھرتیں ہیں۔ الیاس ہمیشہ کے لیے جدہ چلے گئے اور سننے میں آیا ہے کہ سالار نے بھی دوسری شادی کر لی ہے؛ کیا خبر وہ بھی اپنے ان جذباتی فیصلوں پر، جو انہوں نے عجلت میں کیے تھے، اندر ہی اندر پچھتاتے ہوں۔
آج ہماری والدہ بھی اس جہانِ فانی میں نہیں ہیں اور ہم دونوں بہنیں ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے پر مجبور ہیں؛ ہم دونوں ملازمت کرتی ہیں اور گزرے ہوئے اچھے وقت کو یاد کر کے ٹھنڈی آہ بھرتیں ہیں۔ الیاس ہمیشہ کے لیے جدہ چلے گئے اور سننے میں آیا ہے کہ سالار نے بھی دوسری شادی کر لی ہے؛ کیا خبر وہ بھی اپنے ان جذباتی فیصلوں پر، جو انہوں نے عجلت میں کیے تھے، اندر ہی اندر پچھتاتے ہوں۔

