اچھی بیوی زندگی کا سہارا ہوتی ہے جو شوہر کے غم اور پریشانیاں بانٹ لیتی ہے۔ امی نہ رہیں تو ابو ذہنی طور پر اکیلے اور بے سہارا ہو کر ہر وقت پریشان رہنے لگے۔ ایک غم یہ بھی تھا کہ اولادِ نرینہ نہیں تھی۔ جب امی فوت ہوئیں، اس وقت باجی کی عمر آٹھ دس سال تھی جبکہ سب سے چھوٹی بہن ابھی صرف چار سال کی تھی۔ اماں کے جاتے ہی گھر کا شیرازہ بکھر گیا۔ کچھ عرصہ ایک پھوپھی ہمارے گھر آ کر رہتیں، وہ چلی جاتیں تو دوسری پھوپھو گھر سنبھال لیتیں۔ آخر کون کب تک کسی کی خاطر اپنا گھر چھوڑتا؟ وقت گزرتا رہا، باجی چودہ پندرہ برس کی ہوئیں تو انہوں نے گھر سنبھال لیا، حالانکہ وہ ابھی کم سن تھیں۔ ان کے گڑیاں کھیلنے کے دن تھے، مگر جب قدرت کم سنی میں بوجھ کندھوں پر ڈال دے، تو اسے اٹھانا ہی پڑتا ہے۔
والد صاحب کی برتنوں کی دکان تھی اور پہلے کاروبار اچھا خاصا تھا۔ جب بیوی نہ رہیں، تو وہ گھر کی پریشانیوں میں ایسے الجھے کہ کاروبار بھی ٹھپ ہو گیا۔ سچ ہے کہ شوہر کی ترقی میں بیوی کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے، یہی نہیں، لڑکیوں کی حفاظت بھی یہی عظیم ہستی بہتر طور پر کر سکتی ہے۔ خاندان بھر نے مشورہ دیا کہ دوسری شادی کر لو، مگر ابو جان کی ہمت نہ ہوئی۔ کچھ سوتیلی ماں کے روایتی سلوک کا ڈر تھا اور کچھ حالات بھی سازگار نہ تھے، کیونکہ وہ معاشی طور پر تباہ ہو چکے تھے۔ کافی سرمایہ تو والدہ کی علالت پر خرچ ہو گیا تھا اور اب وہ قرض دار ہو چکے تھے۔ انہیں دن رات قرض کی ادائیگی کی فکر کھائے جاتی تھی۔ ایسے حالات میں بھلا کوئی دوسری شادی کا کیا سوچ سکتا ہے؟ ایک روز وہ اسی سوچ میں غلطاں دکان پر بیٹھے تھے کہ میرا کوئی بیٹا بھی نہیں جو میرے بعد میری بچیوں کی حفاظت کرتا، تبھی ایک نوجوان دکان پر آیا جو کچھ پریشان تھا۔ ابا جان نے وجہ دریافت کی تو اس نے کہا: “چچا جان! میں اپنے گاؤں سے نوکری کی تلاش میں آیا ہوں، رہنے کو معقول ٹھکانہ نہیں مل رہا اور ہوٹل کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ اگر آپ کوئی مکان کرایے پر دلوا دیں تو بہت مشکور ہوں گا۔”
نوجوان کی پریشانی دیکھ کر ابا جان کا دل پسیج گیا۔ سوچا کہ اگر میرا بیٹا ہوتا اور وہ اس طرح پردیس میں بے آسرا ہوتا تو کیا حالت ہوتی۔ ہمدردی سے بولے: “بیٹا! تم شریف معلوم ہوتے ہو اور میرا کوئی بیٹا نہیں ہے، بس بیٹے کی حسرت ہی ہے۔ اگر تم مجھے اپنے باپ کی جگہ سمجھو تو میرا ایک مکان ہے جس کا ایک کمرہ میں کرایے پر دے سکتا ہوں، لیکن میرے گھر میں تین بچیاں ہیں جن کی ماں فوت ہو چکی ہے، تمہیں انہیں اپنی بہنوں کی جگہ سمجھنا ہوگا۔” نوجوان نے خوش ہو کر کہا: “آپ فکر نہ کیجیے چچا! مجھے اپنا بیٹا ہی سمجھیے۔ مجھے صرف ایک کمرے کی ضرورت ہے اور اگر دو وقت کا پکا ہوا کھانا مل جائے تو میں اس کی رقم بھی علیحدہ ادا کر دوں گا۔ میں ہوٹل کا کھانا نہیں کھا سکتا، بیمار ہو جاتا ہوں۔”
کچھ والد صاحب رحم دل تھے اور کچھ اس نوجوان کے اطوار شریفانہ تھے، ابا جان اس پر بھروسہ کر کے اسے گھر لے آئے اور بیٹھک والا حصہ اس کے حوالے کر کے چابی تھما دی۔ ایک پلنگ مع بستر، ایک میز، دو کرسیاں اور ایک الماری، گویا کمرہ بمع فرنیچر نوجوان کے حوالے کر دیا گیا۔ کھانے کا بندوبست بھی ہمیں ہی کرنا تھا۔ ہمارے کرایے دار کا نام مشتاق احمد تھا۔ وہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو کمرے کا کرایہ اور کھانے کے اخراجات ادا کر دیتا، جو ہمارے لیے کسی غیبی امداد سے کم نہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ گھر کے اندر بھی نہیں آتا تھا۔ بیرونی دروازے سے بیٹھک میں چلا جاتا اور وہیں سے اس کا آنا جانا تھا۔ ہم بڑی بہنیں اس کے سامنے نہیں جاتی تھیں، البتہ ہماری چھوٹی بہن نادرہ اس سے بات چیت کر لیتی تھی اور وہی اسے ناشتہ اور کھانا بھی دیتی تھی۔ جب وہ صبح ناشتہ کر کے چلا جاتا تو باجی یا میں جا کر اس کے کمرے کی صفائی کر دیا کرتی تھیں۔ ہفتے میں ایک بار ہم اس کے بستر کی چادر بدل دیتیں اور برتن وغیرہ اٹھا لیتیں۔ اس کے علاوہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہ تھا، البتہ رات کو جب ابا جان دکان سے لوٹتے اور ان کا موڈ ہوتا تو وہ تھوڑی دیر کے لیے مشتاق کے پاس بیٹھ کر گپ شپ لگا لیتے۔ اس طرح مشتاق کو تنہائی کا احساس نہ ہوتا اور ابا جان کا بھی اچھا وقت گزر جاتا۔
مشتاق ایک کمپنی میں ملازم تھا اور اسے خاصی اچھی تنخواہ ملتی تھی۔ وہ اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ اپنے گھر منی آرڈر کر دیا کرتا تھا۔ اسے ہم سے اور ہمیں اس سے کوئی شکایت نہ تھی، وقت اچھا گزر رہا تھا۔ چھ ماہ بعد جب اس کی ترقی ہوئی تو اس نے کھانے کی رقم میں خود ہی کچھ اضافہ کر دیا۔ اس نوجوان کو ہمارے ہاں رہتے ہوئے آٹھ ماہ ہو چکے تھے کہ ایک روز ساہیوال سے میرے چچا ابا جان سے ملنے آئے۔ انہوں نے جب گھر میں یہ “چھوٹا سا ہوٹل” کھلا دیکھا تو انہیں سخت ناگوار گزرا۔
وہ ابا جان سے کہنے لگے: “میاں بھائی صاحب! آپ کی عقل کو کیا ہو گیا ہے؟ گھر میں تین جوان بچیاں ہیں جن کے سر پر ماں کا سایہ بھی نہیں اور آپ نے ایک غیر شخص کو گھر میں ٹھہرا رکھا ہے؟ حد تو یہ ہے کہ اس کا کھانا پینا بھی سب سے ہے۔”
ابا جان نے جواب دیا: “بھائی! ہر کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ لڑکا شریف اور پردیسی ہے، یہاں اس کا کوئی نہیں تھا۔ ہم نے محض ہمدردی کی خاطر اسے پناہ دی ہے اور اس نے آج تک ہمیں شکایت کا موقع نہیں دیا۔”
چچا جان بولے: “جو بھی ہو، آپ کا یہ اقدام درست نہیں۔ زمانہ بہت خراب ہے اور ابھی آپ نے بچیوں کو بیاہنا بھی ہے۔ رشتہ کرنے والے ان تمام باتوں پر نظر رکھتے ہیں۔”
تاہم ابا جان نے کچھ ایسی دلیلیں دیں کہ چچا خاموش ہو گئے۔ وہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے زیادہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے۔
وقت گزرتا رہا۔ کچھ دنوں سے میں باجی کے رویے میں تبدیلی محسوس کر رہی تھی۔ وہ مشتاق کا بے چینی سے انتظار کرتیں اور ذرا سی آہٹ پر جلدی سے کھانا گرم کرنے لگتیں۔ کبھی کبھی وہ کھڑکی کی اوٹ سے اس کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش بھی کرتیں۔ اس دوران کئی بار مشتاق کی نظر بھی اچانک اٹھ جاتی اور وہ باجی کو دیکھ لیتا۔ اسے بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ کوئی اسے چوری چھپے دیکھتا ہے اور اس کے تمام کام نہایت دلجمعی سے کرتا ہے۔ اب اس کا کھانا پکانا، کمرے کی صفائی، یہاں تک کہ کپڑے دھونے جیسے کام بھی باجی اپنے ہاتھ سے کرنے لگی تھیں۔ میں نے اندازہ لگا لیا کہ باجی نے شاید دل میں یہ آس لگا لی ہے کہ ابا جان ان کا رشتہ مشتاق سے کر دیں گے۔ کیا خبر ابا جان کے دل میں بھی یہی خیال ہو، کیونکہ وہ واقعی ایک اچھا لڑکا تھا۔ بہر حال، دل کی بات دل ہی میں رہ گئی اور حالات نے کچھ اس انداز سے کروٹ بدلی کہ ہم سب بھونچکے رہ گئے۔
ہوا یہ کہ ایک دن اچانک ابا جان کو ساہیوال سے تار ملا کہ ان کی بہن فوت ہو گئی ہیں۔ اس مجبوری کے تحت ابا جان کا جانا لازمی تھا۔ وہ میری چھوٹی بہن کو ساتھ لے کر ساہیوال روانہ ہو گئے۔ جاتے ہوئے ہمیں ہدایت کی: “بیٹا! تم لوگ فکر نہ کرنا، میں رات دس بارہ بجے تک واپس لوٹ آؤں گا۔ اگر نہ آ سکوں تو سامنے والی خالہ آمنہ کو بلا کر اپنے پاس سلا لینا، میں ان سے کہتا جاؤں گا۔”
جب گھر میں صرف میں اور باجی نویدہ اکیلے رہ گئے، تو ظاہر ہے ناشتہ اور کھانا ہم دونوں میں سے کسی ایک ہی کو دینا تھا۔ میں نے کہا: “باجی! آج آپ ہی مشتاق کو ناشتہ دے دیں، میں سامنے نہیں جاتی۔” میں باورچی خانے میں بیٹھی رہی اور باجی ناشتے کی ٹرے لے کر مشتاق کے کمرے کی طرف چلی گئیں۔ انہوں نے دروازے پر دستک دے کر کہا: “ٹرے پکڑ لیجیے، آج بے بی (چھوٹی بہن) گھر پر نہیں ہے۔”
“وہ کہاں گئی ہے؟” مشتاق نے سوال کیا، جو دفتر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔
“کل شام ابا جان کو اطلاع ملی تھی کہ ان کی بہن کا انتقال ہو گیا ہے، وہ صبح چار بجے والی گاڑی سے اسے ساتھ لے کر ساہیوال چلے گئے ہیں، شاید رات تک لوٹ آئیں۔”
یہ سن کر مشتاق کو گویا قدرے سکون ملا۔ وہ بولا: “آپ اندر آ کر ٹرے میز پر رکھ دیجیے، باہر کیوں کھڑی ہیں؟ کیا مجھ پر اعتبار نہیں؟ سال بھر ہونے کو ہے، کیا ابھی تک آپ مجھے غیر ہی سمجھتی ہیں؟”
باجی کا دل تو پہلے ہی دھک دھک کر رہا تھا، یہ جذباتی جملے سن کر وہ خود پر قابو نہ رکھ سکیں اور سر پر دوپٹہ جما کر بیٹھک میں داخل ہو گئیں۔ مشتاق نے کہا: “آپ کتنی اچھی ہیں اور میرا کتنا خیال رکھتی ہیں۔ اس پردیس میں جس طرح آپ لوگ میرے ساتھ پیش آئے، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لوگ اتنے مخلص بھی ہوتے ہیں۔ ایسے تو اپنے بھی خدمت نہیں کرتے۔ میں بہت دنوں سے شکریہ ادا کرنا چاہ رہا تھا مگر موقع نہیں ملا، شکر ہے آج بات ہو گئی۔”
میں نے پردے کی اوٹ سے دیکھا، باجی سر جھکائے خاموش کھڑی رہیں اور پھر دھیمے سے “جی ہاں” کہہ کر الٹے قدموں لوٹ آئیں۔ مشتاق کے منہ سے ایسے تعریفی کلمات سن کر میں بھی خوش ہو گئی اور میرے دل میں بھی اس کی قدر بڑھ گئی۔
رات آٹھ بجے وہ دفتر سے واپس آگیا۔ اس نے رات کے کھانے کی ٹرے لی، کھانا کھایا اور پھر سر پر رومال باندھ کر سو گیا۔ میں نے اور باجی نے مشورہ کیا کہ ہم رات دس بجے تک ابا جان کا انتظار کریں گے، ورنہ سامنے والی خالہ آمنہ کو بلا لیں گے۔ ساڑھے نو بجے کے قریب بیٹھک کے اندرونی دروازے پر، جو ہمارے گھر کے اندر کھلتا تھا، مشتاق نے دستک دی۔ باجی دروازے پر گئیں تو وہ بولا: “اگر زحمت نہ ہو تو ایک پیالی چائے بنا دیں، میرے سر میں سخت درد ہو رہا ہے۔ میں ذرا باہر سے درد کی گولی لے آتا ہوں، آپ دروازہ اندر سے بند کر لیں، جب میں آؤں گا تو کھول دینا۔”
ہوا یہ کہ جب باجی مشتاق کو چائے دینے گئیں تو اس نے چکنی چپڑی باتوں میں الجھا کر انہیں روکنا چاہا اور بولا: “کیا آج آپ ایک پیالی میرے ساتھ یہاں بیٹھ کر پی سکتی ہیں؟” باجی اپنے لیے بھی چائے بنا کر لے گئی تھیں۔ اتنی دیر میں مشتاق نے خاموشی سے پیالی میں خواب آور گولیاں ملا دی تھیں، وہ پیالی اس نے باجی کو تھماتے ہوئے کہا: “میری آرزو ہے کہ آج آپ یہ چائے میرے پاس بیٹھ کر پئیں۔” اس طرح اس نے باجی والی پیالی خود اٹھا لی اور جس میں نشہ آور دوا ملی تھی، وہ باجی کو دے دی۔ رات کا وقت تھا، باجی گھبرا رہی تھیں کیونکہ میں سو چکی تھی اور انہوں نے مشتاق کے انتظار میں آمنہ خالہ کو بھی نہیں بلایا تھا۔ انہوں نے جلدی جلدی چائے پی لی اور جب اٹھ کر جانے لگیں تو مشتاق نے بہانے سے کہا: “میرے سر میں بہت درد ہے، اگر تکلیف نہ ہو تو الماری کے خانے سے بام کی شیشی نکال دیں۔”
باجی نے الماری کھولی اور تلاش کرنے لگیں، مگر وہاں شیشی ہوتی تو ملتی۔ اس کے بعد باجی بتاتی ہیں کہ انہیں چکر سا آیا اور وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئیں۔ انہیں کچھ خبر نہ رہی کہ پھر کیا ہوا۔ رات کے تین بج رہے تھے، میں اس وقت کسی کو بلا بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ اس میں ہماری رسوائی اور بدنامی تھی، مگر باجی کو طبی امداد دینا بھی ضروری تھا کیونکہ ان کی جان جانے کا اندیشہ تھا۔ ایک لمحے کے لیے میں نے غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ عزت جان سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ مجھے رات گئے کسی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹانا چاہیے، ممکن ہے باجی کو خود ہی ہوش آجائے۔ اگر زندگی ہوئی تو بچ جائیں گی، ورنہ اس زندگی سے موت بہتر ہے جو بدنامی کے داغوں سے بدصورت ہو جائے۔
باجی کچھ دنوں بعد سنبھل گئیں۔ ہم سب نے چپ سادھ لی اور اس واقعے کا کسی سے ذکر نہ کیا، کیونکہ اس میں ہماری اپنی سبکی تھی۔ اگر ذرا سی بات پھیل جاتی تو صرف باجی ہی نہیں بلکہ ہم سب بہنوں کی زندگی خراب ہو جاتی۔ آج ہم سب بہنیں بیاہی جا چکی ہیں اور اپنے گھروں میں خوش ہیں، لیکن آج بھی جب وہ بھیانک واقعہ یاد آتا ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔
والد صاحب کی برتنوں کی دکان تھی اور پہلے کاروبار اچھا خاصا تھا۔ جب بیوی نہ رہیں، تو وہ گھر کی پریشانیوں میں ایسے الجھے کہ کاروبار بھی ٹھپ ہو گیا۔ سچ ہے کہ شوہر کی ترقی میں بیوی کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے، یہی نہیں، لڑکیوں کی حفاظت بھی یہی عظیم ہستی بہتر طور پر کر سکتی ہے۔ خاندان بھر نے مشورہ دیا کہ دوسری شادی کر لو، مگر ابو جان کی ہمت نہ ہوئی۔ کچھ سوتیلی ماں کے روایتی سلوک کا ڈر تھا اور کچھ حالات بھی سازگار نہ تھے، کیونکہ وہ معاشی طور پر تباہ ہو چکے تھے۔ کافی سرمایہ تو والدہ کی علالت پر خرچ ہو گیا تھا اور اب وہ قرض دار ہو چکے تھے۔ انہیں دن رات قرض کی ادائیگی کی فکر کھائے جاتی تھی۔ ایسے حالات میں بھلا کوئی دوسری شادی کا کیا سوچ سکتا ہے؟ ایک روز وہ اسی سوچ میں غلطاں دکان پر بیٹھے تھے کہ میرا کوئی بیٹا بھی نہیں جو میرے بعد میری بچیوں کی حفاظت کرتا، تبھی ایک نوجوان دکان پر آیا جو کچھ پریشان تھا۔ ابا جان نے وجہ دریافت کی تو اس نے کہا: “چچا جان! میں اپنے گاؤں سے نوکری کی تلاش میں آیا ہوں، رہنے کو معقول ٹھکانہ نہیں مل رہا اور ہوٹل کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ اگر آپ کوئی مکان کرایے پر دلوا دیں تو بہت مشکور ہوں گا۔”
نوجوان کی پریشانی دیکھ کر ابا جان کا دل پسیج گیا۔ سوچا کہ اگر میرا بیٹا ہوتا اور وہ اس طرح پردیس میں بے آسرا ہوتا تو کیا حالت ہوتی۔ ہمدردی سے بولے: “بیٹا! تم شریف معلوم ہوتے ہو اور میرا کوئی بیٹا نہیں ہے، بس بیٹے کی حسرت ہی ہے۔ اگر تم مجھے اپنے باپ کی جگہ سمجھو تو میرا ایک مکان ہے جس کا ایک کمرہ میں کرایے پر دے سکتا ہوں، لیکن میرے گھر میں تین بچیاں ہیں جن کی ماں فوت ہو چکی ہے، تمہیں انہیں اپنی بہنوں کی جگہ سمجھنا ہوگا۔” نوجوان نے خوش ہو کر کہا: “آپ فکر نہ کیجیے چچا! مجھے اپنا بیٹا ہی سمجھیے۔ مجھے صرف ایک کمرے کی ضرورت ہے اور اگر دو وقت کا پکا ہوا کھانا مل جائے تو میں اس کی رقم بھی علیحدہ ادا کر دوں گا۔ میں ہوٹل کا کھانا نہیں کھا سکتا، بیمار ہو جاتا ہوں۔”
کچھ والد صاحب رحم دل تھے اور کچھ اس نوجوان کے اطوار شریفانہ تھے، ابا جان اس پر بھروسہ کر کے اسے گھر لے آئے اور بیٹھک والا حصہ اس کے حوالے کر کے چابی تھما دی۔ ایک پلنگ مع بستر، ایک میز، دو کرسیاں اور ایک الماری، گویا کمرہ بمع فرنیچر نوجوان کے حوالے کر دیا گیا۔ کھانے کا بندوبست بھی ہمیں ہی کرنا تھا۔ ہمارے کرایے دار کا نام مشتاق احمد تھا۔ وہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو کمرے کا کرایہ اور کھانے کے اخراجات ادا کر دیتا، جو ہمارے لیے کسی غیبی امداد سے کم نہ تھا۔ اس کے علاوہ وہ گھر کے اندر بھی نہیں آتا تھا۔ بیرونی دروازے سے بیٹھک میں چلا جاتا اور وہیں سے اس کا آنا جانا تھا۔ ہم بڑی بہنیں اس کے سامنے نہیں جاتی تھیں، البتہ ہماری چھوٹی بہن نادرہ اس سے بات چیت کر لیتی تھی اور وہی اسے ناشتہ اور کھانا بھی دیتی تھی۔ جب وہ صبح ناشتہ کر کے چلا جاتا تو باجی یا میں جا کر اس کے کمرے کی صفائی کر دیا کرتی تھیں۔ ہفتے میں ایک بار ہم اس کے بستر کی چادر بدل دیتیں اور برتن وغیرہ اٹھا لیتیں۔ اس کے علاوہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہ تھا، البتہ رات کو جب ابا جان دکان سے لوٹتے اور ان کا موڈ ہوتا تو وہ تھوڑی دیر کے لیے مشتاق کے پاس بیٹھ کر گپ شپ لگا لیتے۔ اس طرح مشتاق کو تنہائی کا احساس نہ ہوتا اور ابا جان کا بھی اچھا وقت گزر جاتا۔
مشتاق ایک کمپنی میں ملازم تھا اور اسے خاصی اچھی تنخواہ ملتی تھی۔ وہ اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ اپنے گھر منی آرڈر کر دیا کرتا تھا۔ اسے ہم سے اور ہمیں اس سے کوئی شکایت نہ تھی، وقت اچھا گزر رہا تھا۔ چھ ماہ بعد جب اس کی ترقی ہوئی تو اس نے کھانے کی رقم میں خود ہی کچھ اضافہ کر دیا۔ اس نوجوان کو ہمارے ہاں رہتے ہوئے آٹھ ماہ ہو چکے تھے کہ ایک روز ساہیوال سے میرے چچا ابا جان سے ملنے آئے۔ انہوں نے جب گھر میں یہ “چھوٹا سا ہوٹل” کھلا دیکھا تو انہیں سخت ناگوار گزرا۔
وہ ابا جان سے کہنے لگے: “میاں بھائی صاحب! آپ کی عقل کو کیا ہو گیا ہے؟ گھر میں تین جوان بچیاں ہیں جن کے سر پر ماں کا سایہ بھی نہیں اور آپ نے ایک غیر شخص کو گھر میں ٹھہرا رکھا ہے؟ حد تو یہ ہے کہ اس کا کھانا پینا بھی سب سے ہے۔”
ابا جان نے جواب دیا: “بھائی! ہر کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ لڑکا شریف اور پردیسی ہے، یہاں اس کا کوئی نہیں تھا۔ ہم نے محض ہمدردی کی خاطر اسے پناہ دی ہے اور اس نے آج تک ہمیں شکایت کا موقع نہیں دیا۔”
چچا جان بولے: “جو بھی ہو، آپ کا یہ اقدام درست نہیں۔ زمانہ بہت خراب ہے اور ابھی آپ نے بچیوں کو بیاہنا بھی ہے۔ رشتہ کرنے والے ان تمام باتوں پر نظر رکھتے ہیں۔”
تاہم ابا جان نے کچھ ایسی دلیلیں دیں کہ چچا خاموش ہو گئے۔ وہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے زیادہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے۔
وقت گزرتا رہا۔ کچھ دنوں سے میں باجی کے رویے میں تبدیلی محسوس کر رہی تھی۔ وہ مشتاق کا بے چینی سے انتظار کرتیں اور ذرا سی آہٹ پر جلدی سے کھانا گرم کرنے لگتیں۔ کبھی کبھی وہ کھڑکی کی اوٹ سے اس کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش بھی کرتیں۔ اس دوران کئی بار مشتاق کی نظر بھی اچانک اٹھ جاتی اور وہ باجی کو دیکھ لیتا۔ اسے بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ کوئی اسے چوری چھپے دیکھتا ہے اور اس کے تمام کام نہایت دلجمعی سے کرتا ہے۔ اب اس کا کھانا پکانا، کمرے کی صفائی، یہاں تک کہ کپڑے دھونے جیسے کام بھی باجی اپنے ہاتھ سے کرنے لگی تھیں۔ میں نے اندازہ لگا لیا کہ باجی نے شاید دل میں یہ آس لگا لی ہے کہ ابا جان ان کا رشتہ مشتاق سے کر دیں گے۔ کیا خبر ابا جان کے دل میں بھی یہی خیال ہو، کیونکہ وہ واقعی ایک اچھا لڑکا تھا۔ بہر حال، دل کی بات دل ہی میں رہ گئی اور حالات نے کچھ اس انداز سے کروٹ بدلی کہ ہم سب بھونچکے رہ گئے۔
ہوا یہ کہ ایک دن اچانک ابا جان کو ساہیوال سے تار ملا کہ ان کی بہن فوت ہو گئی ہیں۔ اس مجبوری کے تحت ابا جان کا جانا لازمی تھا۔ وہ میری چھوٹی بہن کو ساتھ لے کر ساہیوال روانہ ہو گئے۔ جاتے ہوئے ہمیں ہدایت کی: “بیٹا! تم لوگ فکر نہ کرنا، میں رات دس بارہ بجے تک واپس لوٹ آؤں گا۔ اگر نہ آ سکوں تو سامنے والی خالہ آمنہ کو بلا کر اپنے پاس سلا لینا، میں ان سے کہتا جاؤں گا۔”
جب گھر میں صرف میں اور باجی نویدہ اکیلے رہ گئے، تو ظاہر ہے ناشتہ اور کھانا ہم دونوں میں سے کسی ایک ہی کو دینا تھا۔ میں نے کہا: “باجی! آج آپ ہی مشتاق کو ناشتہ دے دیں، میں سامنے نہیں جاتی۔” میں باورچی خانے میں بیٹھی رہی اور باجی ناشتے کی ٹرے لے کر مشتاق کے کمرے کی طرف چلی گئیں۔ انہوں نے دروازے پر دستک دے کر کہا: “ٹرے پکڑ لیجیے، آج بے بی (چھوٹی بہن) گھر پر نہیں ہے۔”
“وہ کہاں گئی ہے؟” مشتاق نے سوال کیا، جو دفتر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔
“کل شام ابا جان کو اطلاع ملی تھی کہ ان کی بہن کا انتقال ہو گیا ہے، وہ صبح چار بجے والی گاڑی سے اسے ساتھ لے کر ساہیوال چلے گئے ہیں، شاید رات تک لوٹ آئیں۔”
یہ سن کر مشتاق کو گویا قدرے سکون ملا۔ وہ بولا: “آپ اندر آ کر ٹرے میز پر رکھ دیجیے، باہر کیوں کھڑی ہیں؟ کیا مجھ پر اعتبار نہیں؟ سال بھر ہونے کو ہے، کیا ابھی تک آپ مجھے غیر ہی سمجھتی ہیں؟”
باجی کا دل تو پہلے ہی دھک دھک کر رہا تھا، یہ جذباتی جملے سن کر وہ خود پر قابو نہ رکھ سکیں اور سر پر دوپٹہ جما کر بیٹھک میں داخل ہو گئیں۔ مشتاق نے کہا: “آپ کتنی اچھی ہیں اور میرا کتنا خیال رکھتی ہیں۔ اس پردیس میں جس طرح آپ لوگ میرے ساتھ پیش آئے، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لوگ اتنے مخلص بھی ہوتے ہیں۔ ایسے تو اپنے بھی خدمت نہیں کرتے۔ میں بہت دنوں سے شکریہ ادا کرنا چاہ رہا تھا مگر موقع نہیں ملا، شکر ہے آج بات ہو گئی۔”
میں نے پردے کی اوٹ سے دیکھا، باجی سر جھکائے خاموش کھڑی رہیں اور پھر دھیمے سے “جی ہاں” کہہ کر الٹے قدموں لوٹ آئیں۔ مشتاق کے منہ سے ایسے تعریفی کلمات سن کر میں بھی خوش ہو گئی اور میرے دل میں بھی اس کی قدر بڑھ گئی۔
رات آٹھ بجے وہ دفتر سے واپس آگیا۔ اس نے رات کے کھانے کی ٹرے لی، کھانا کھایا اور پھر سر پر رومال باندھ کر سو گیا۔ میں نے اور باجی نے مشورہ کیا کہ ہم رات دس بجے تک ابا جان کا انتظار کریں گے، ورنہ سامنے والی خالہ آمنہ کو بلا لیں گے۔ ساڑھے نو بجے کے قریب بیٹھک کے اندرونی دروازے پر، جو ہمارے گھر کے اندر کھلتا تھا، مشتاق نے دستک دی۔ باجی دروازے پر گئیں تو وہ بولا: “اگر زحمت نہ ہو تو ایک پیالی چائے بنا دیں، میرے سر میں سخت درد ہو رہا ہے۔ میں ذرا باہر سے درد کی گولی لے آتا ہوں، آپ دروازہ اندر سے بند کر لیں، جب میں آؤں گا تو کھول دینا۔”
وہ چلا گیا، باجی نے اس کے کمرے کے دروازے کی کنڈی اندر سے چڑھائی اور چائے بنانے لگیں۔ میں بستر پر لیٹ کر رسالہ پڑھ رہی تھی کہ ورق گردانی کرتے کرتے میری آنکھ لگ گئی۔ مجھے نہیں معلوم کہ باجی کب تک اس کا انتظار کرتی رہیں اور وہ کب واپس آیا، کیونکہ نہ میری آنکھ کھلی اور نہ ہی کوئی آہٹ سنائی دی۔ چونکہ ابا جان کو صبح چار بجے والی گاڑی پکڑنی تھی، اس لیے ہم دونوں بہنیں گزشتہ شب تین بجے ہی کی جاگی ہوئی تھیں، اسی تھکن کی وجہ سے میں گہری نیند سو گئی۔
ہوا یہ کہ جب باجی مشتاق کو چائے دینے گئیں تو اس نے چکنی چپڑی باتوں میں الجھا کر انہیں روکنا چاہا اور بولا: “کیا آج آپ ایک پیالی میرے ساتھ یہاں بیٹھ کر پی سکتی ہیں؟” باجی اپنے لیے بھی چائے بنا کر لے گئی تھیں۔ اتنی دیر میں مشتاق نے خاموشی سے پیالی میں خواب آور گولیاں ملا دی تھیں، وہ پیالی اس نے باجی کو تھماتے ہوئے کہا: “میری آرزو ہے کہ آج آپ یہ چائے میرے پاس بیٹھ کر پئیں۔” اس طرح اس نے باجی والی پیالی خود اٹھا لی اور جس میں نشہ آور دوا ملی تھی، وہ باجی کو دے دی۔ رات کا وقت تھا، باجی گھبرا رہی تھیں کیونکہ میں سو چکی تھی اور انہوں نے مشتاق کے انتظار میں آمنہ خالہ کو بھی نہیں بلایا تھا۔ انہوں نے جلدی جلدی چائے پی لی اور جب اٹھ کر جانے لگیں تو مشتاق نے بہانے سے کہا: “میرے سر میں بہت درد ہے، اگر تکلیف نہ ہو تو الماری کے خانے سے بام کی شیشی نکال دیں۔”
باجی نے الماری کھولی اور تلاش کرنے لگیں، مگر وہاں شیشی ہوتی تو ملتی۔ اس کے بعد باجی بتاتی ہیں کہ انہیں چکر سا آیا اور وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئیں۔ انہیں کچھ خبر نہ رہی کہ پھر کیا ہوا۔ رات کے تین بج رہے تھے، میں اس وقت کسی کو بلا بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ اس میں ہماری رسوائی اور بدنامی تھی، مگر باجی کو طبی امداد دینا بھی ضروری تھا کیونکہ ان کی جان جانے کا اندیشہ تھا۔ ایک لمحے کے لیے میں نے غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ عزت جان سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ مجھے رات گئے کسی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹانا چاہیے، ممکن ہے باجی کو خود ہی ہوش آجائے۔ اگر زندگی ہوئی تو بچ جائیں گی، ورنہ اس زندگی سے موت بہتر ہے جو بدنامی کے داغوں سے بدصورت ہو جائے۔
میں نے باجی کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تو وہ ہوش میں آگئیں، مگر وہ دوا کے اثر سے زیادہ صدمے سے نڈھال تھیں۔ اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کا احساس کر کے وہ پھر بے ہوش ہو گئیں۔ میں تمام رات ان کے سرہانے بیٹھ کر روتی رہی اور دعا کرتی رہی کہ اے خدا! ہماری لاج رکھ لے۔ غالباً باجی کی حالت دیکھ کر ہی مشتاق نے رات کی تاریکی میں فرار ہونے میں عافیت جانی۔ والد صاحب دوسرے روز رات کو لوٹ سکے۔ اس وقت تک باجی پر سے دوا کا نشہ تو اتر چکا تھا، مگر جو ظلم ہوا تھا اس کی وجہ سے ان کی حالت غیر تھی۔ مجھے تمام حالات ابا جان کو بتانے پڑے کیونکہ حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی تھی۔ وہ بہت دکھی ہوئے، مگر اب پچھتانے سے کیا ہوتا؟ اپنی عزت کے لٹیرے کو انہوں نے خود گھر میں جگہ دی تھی۔ انہوں نے اس ناگ کو خود پالا تھا جس نے احسان کا بدلہ ناموس ڈس کر دیا۔ انہیں چچا کی بات یاد آرہی تھی کہ انہوں نے کتنا سچ کہا تھا کہ اس زمانے میں کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
باجی کچھ دنوں بعد سنبھل گئیں۔ ہم سب نے چپ سادھ لی اور اس واقعے کا کسی سے ذکر نہ کیا، کیونکہ اس میں ہماری اپنی سبکی تھی۔ اگر ذرا سی بات پھیل جاتی تو صرف باجی ہی نہیں بلکہ ہم سب بہنوں کی زندگی خراب ہو جاتی۔ آج ہم سب بہنیں بیاہی جا چکی ہیں اور اپنے گھروں میں خوش ہیں، لیکن آج بھی جب وہ بھیانک واقعہ یاد آتا ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے۔
(ختم شد)

