عیاش جذبے

urdu stories

آج سے پانچ سال پہلے کا واقعہ جب یاد آتا ہے، تو دل چاہتا ہے کہ خودکشی کر لوں، مگر جب اپنے بچوں کی طرف دیکھتی ہوں تو یہ خواہش دم توڑ دیتی ہے۔ نواز میرے ماموں کے بیٹے تھے۔ جب میں نے ہوش سنبھالا، انہیں دل میں بسا لیا؛ حالانکہ وہ مجھ سے دس سال بڑے تھے اور میں ایک البیلی و معصوم نو عمر لڑکی۔ نواز اکثر ہمارے گھر آیا کرتے تھے، مجھے وہ بے حد اچھے لگتے تھے۔ جی چاہتا تھا کہ وہ ہمیشہ میرے سامنے رہیں اور میں ان کی من موہنی صورت کو تکتی رہوں۔ میں اپنے دل میں نواز کی محبت کو ایک خوبصورت خواب کی طرح بنا سنوار کر پوجتی رہی اور گھر والوں کو علم تک نہ ہو سکا کہ اب میں بڑی ہو چکی ہوں۔ وہ تو ابھی تک مجھے بچی ہی سمجھتے تھے اورگڑیا کہہ کر پکارتے تھے۔

جب نواز کی شادی کی تیاریاں ہونے لگیں، تو اماں نے مجھ سے کہا: “گڑیا! تم بھی اپنے بھائی جان کی شادی پر کوئی اچھا سا جوڑا بنا لو، کس رنگ کے کپڑے پہنو گی؟” اس وقت نواز سامنے ہی بیٹھے تھے۔ میں نے بے اختیار ان کی طرف دیکھ کر کہا: “سرخ رنگ کے”۔ اس کے بعد میں بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی اور بستر پر گر کر خوب پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ ذرا دیر بعد نواز ادھر آئے اور مجھے روتا پا کر حیران رہ گئے۔ پوچھنے لگے: “گڑیا! تجھے کیا ہوا ہے؟” میں کیا کہتی، بس اتنا کہا کہ اتنی بے خبری بھی اچھی نہیں، پھر فوراً ہی بزدل بن گئی اور بات بدل کر بولی: “یہ کانچ کی چوڑی ٹوٹ کر میری کلائی میں چبھ گئی ہے”۔

اس روز پہلی بار انہوں نے میرے چہرے پر بکھرے زخمی احساسات کو دیکھا تھا۔ مجھے گمان سا ہوا کہ وہ کچھ سمجھ بھی رہے ہیں، مگر ہمارے درمیان نہ کوئی رابطہ موجود تھا، نہ کوئی ماضی کی یاد؛ یوں دل کی بات دل میں رہ گئی۔ شاید وہ مجھے کم سن اور نادان سمجھ کر نظر انداز کر گئے۔ پھر نواز کی شادی ہو گئی، لیکن میں نے اکثر محسوس کیا کہ وہ مجھ سے ملتے ہوئے الجھن محسوس کرتے ہیں۔ آخر ایک دن انہوں نے پوچھ ہی لیا: “تم مجھ سے ملنے کیوں آتی ہو؟ سچ کہنا۔” میں نے جواب دیا: “سچ سن سکیں گے، تو سن لیجیے۔ بے شک اب آپ کسی اور کے ہیں، مگر میں اب بھی دل سے آپ کی ہوں اور آپ ہی کی رہوں گی۔ یہ دل اب کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔” کہنے کو تو میں نے کہہ دیا، مگر بعد میں احساس ہوا کہ میں نے کتنی بڑی غلطی کر دی ہے۔ پھر یہی سوچا کہ اب نواز کے گھر نہیں جاؤں گی، حالانکہ ان کا اور ہمارا گھر جدا نہیں تھا، بس ایک دیوار بیچ میں تھی، لیکن اس دیوار سے مضبوط ایک اور دیوار بھی تو تھی۔ ان کی بیویاور میں اس دیوار کو کبھی بھی گرانا نہیں چاہتی تھی۔

نواز کی شخصیت کے سحر نے میرے سارے وجود کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ان کی محبت نور کا ایک ہالہ ہے جس میں میں قید ہوں، اور میں چاہوں بھی تو اس ہالے کو توڑ کر باہر نہیں آ سکتی۔ یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ نواز اپنی شریکِ حیات کا ہے، میرا نہیں، میں کس دل سے ان کی بیگم کو بھابھی کہا کرتی تھی، یہ تو میرا دل ہی جانتا ہے؛ حالانکہ وہ ایک اچھی عورت تھی۔ اس نے کبھی ہمیں اکیلے بیٹھے بات کرتے ہوئے شک کی نظر سے نہیں دیکھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ میں اور نواز بس ادھر ادھر کی بے مقصد باتیں کرتے، جیسے محتاط لوگ کرتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے دلوں کی کیا حالت ہے۔

جب تک نواز سے نہ ملتی تھی، مجھے چین نہ آتا تھا، حالانکہ میں کسی غرض کے تحت ان سے نہیں ملتی تھی۔ بس ان سے بات کر کے سکون مل جاتا تھا۔ میرا مقصد ان کا گھر توڑنا نہ تھا، اور کون سی محبت کرنے والی عورت اپنے محبوب کا گھر اجاڑنا پسند کرے گی؟ میں نے ہی دل پر جبر کر لیا۔ جب تک میں نواز کے ہاں جاتی رہی، انہوں نے صرف میری محبت کا لحاظ کیا، نہ مجھے کوئی اہمیت دی، نہ میری محبت کو اپنے لیے ناگزیر سمجھا؛ مگر جب بہت دن گزر گئے اور میں نہ گئی، تو انہوں نے میرے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ ایک دو بار میری امی سے پوچھا، چند بار ہمارے گھر آئے، مگر میں ان کے سامنے نہ گئی۔ دن گزرتے رہے، ان کے دو بچے بھی ہو گئے، پھر میں نے بھی سمجھ لیا کہ حالات کو اسی طرح قبول کر لینا چاہیے، شاید اسی کا نام قسمت ہے۔ میرے ملنے نہ ملنے سے ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

پھر میری بھی شادی ہو گئی۔ شوہر اچھے اور پیار کرنے والے ملے؛ زندگی ایسے بسر ہونے لگی جیسے عام عورتوں کی گزرتی ہے۔ ان میں کوئی عیب یا برائی نہ تھی، وہ میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ مجھے بظاہر کوئی تکلیف نہ تھی، بس ایک خلش تھی اور وہ نواز کی یاد تھی جو ابھی تک میرے دل میں پنجے گاڑے ہوئے تھی، لیکن یہ تکلیف ایسی نہ تھی جو ناقابلِ برداشت ہو، کیونکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ نواز نے کبھی میرے نادان جذبوں کی ہمت افزائی نہ کی تھی۔

میری شادی کو چار سال گزر گئے۔ ایک روز میں امی کے گھر جا رہی تھی کہ جیسے ہی بس سے اتری، نواز کو بس اسٹاپ پر کھڑا دیکھا۔ وہ اپنے دفتر کی بس کا انتظار کر رہے تھے۔ نہ جانے میرے دل میں کیا سمائی کہ میں ان کے پاس چلی گئی؛ پھر نہ تو میں امی کے گھر گئی اور نہ وہ دفتر۔ یہ سب کچھ کیسے اور کیوں ہوا؟ ہم دونوں حیران تھے۔ ہم شہر سے دور ایک تفریحی مقام پر چلے گئے اور وقت گزارنے کے لیے ایک پارک میں ٹہلنے لگے، گویا ہمارے پاس کہنے کو خاموشی کے سوا کچھ نہ ہو، مگر خاموشی بھی اپنی ایک زبان رکھتی ہے۔ ہم ایک جگہ بیٹھ گئے۔ چونکہ رات کو بارش ہوئی تھی، اس لیے ہر طرف پانی تھا اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، چنانچہ ہم ایک ٹیلے پر دھوپ سینکنے بیٹھ گئے۔ ہلکی ہلکی تپش بہت بھلی لگ رہی تھی۔

ابھی ہمیں بیٹھے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک پولیس والا آ گیا۔ اس نے نواز سے کہا کہ “صاحب بلا رہے ہیں”۔ حالانکہ ہم دونوں کھلی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور کوئی ایسی بات نہ تھی جس کی وجہ سے ہم ڈرتے۔ بہرحال، جب ہم صاحب کے پاس پہنچے تو اس نے نواز سے (سختی سے) کہا کہ “تم اس لڑکی کو قتل کرنے کے لیے لائے ہو، اس سے پہلے بھی یہاں سے ایک لڑکی کی لاش ملی تھی”۔ ہم نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا مگر سب بے سود رہا۔ پھر ایک پولیس والا نواز کو الگ لے گیا اور بھاری رقم کا مطالبہ کیا؛ رقم نہ ملنے کی صورت میں اس نے دوسرا مطالبہ کیا جو میرے بارے میں تھا۔ اس نے کہا: “تم سرِ عام عیاشی کر رہے ہو، چلو تھانے!”

نواز نے کہا: “جو چاہو سزا دو، مگر میں یہ ہرگز نہ ہونے دوں گا۔ ٹھیک ہے، تم مجھے تھانے لے چلو، مگر لڑکی کی عزت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو میں جان پر کھیل جاؤں گا”۔ جب پولیس دونوں طرح سے ناکام ہو گئی تو انہوں نے میرے شوہر کو اطلاع کر دی کہ “تمہاری بیوی کسی مرد کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑی گئی ہے”۔ انہوں نے میرے پرس کی تلاشی لے کر شناختی کارڈ سے پتہ معلوم کر لیا تھا، حالانکہ نواز نے مجھے ہاتھ تک نہ لگایا تھا؛ ہاتھ تو کجا، ابھی ہم نے ڈھنگ سے بات تک نہ کی تھی۔

اب اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا کہ ہم یہاں کیوں آئے تھے؟ اس سے پہلے تو کبھی ایسی لغزش نہ ہوئی تھی، آج کیوں اکٹھے ہو گئے؟ تھوڑی دیر میں میکدے سے والدہ اور بڑے بھائی آ گئے۔ ان کے سامنے جانے کی ہمت نہ ہو رہی تھی اور شوہر سے تو آنکھیں ملانا بھی محال تھا۔ دل لرز رہا تھا کہ میرا کیا انجام ہو گا اور میرے دو چھوٹے بچوں کا کیا بنے گا؟ سب ہمیں گھر لے آئے اور پوچھا کہ ہم وہاں کیوں گئے تھے؟ میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ گھر والوں کو میری پاکدامنی پر شک ہونے لگا؛ میں نے بہت یقین دلایا کہ ایسی کوئی بات نہیں، مگر میں جس جگہ سے لائی گئی تھی وہاں ان کا شک کرنا فطری تھا۔ میں اب شوہر کی نظروں کی تاب نہ لا سکتی تھی، کسی سے ہنس کر بات کرنا بھی چھٹ گیا تھا۔ اب میں اپنے ہی گھر میں ایک مجرم بن کر رہ رہی تھی۔

اس واقعے کے بعد ہمارے اور نواز کے گھرانوں کے تعلقات ختم ہو گئے، حالانکہ اس میں نواز کی کوئی غلطی نہ تھی، پھر بھی انہیں زیادہ سزا بھگتنی پڑی۔ ان کی بیوی ان سے روٹھ گئی۔ ادھر میں نے قرآن پاک اٹھا کر اپنے شوہر کو اپنی پاکیزگی کا یقین دلانا چاہا، مگر ٹوٹا ہوا اعتبار بھلا قسموں سے کب بحال ہوتا ہے؟ انہوں نے قرآن تو میرے ہاتھ سے لے کر ادب سے رکھ دیا، مگر ان کی آنکھوں میں میرے لیے جو مان تھا، وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ وہ مجھ سے بدتمیزی نہیں کرتے تھے، مگر ان کی خاموشی کسی بھی گالی یا مار پیٹ سے زیادہ اذیت ناک تھی۔ وہ اب مجھ سے بات تو کرتے، مگر مجھ میں دیکھتے نہیں تھے۔ میرے بچوں کی خاطر انہوں نے مجھے گھر سے تو نہیں نکالا، لیکن اس ایک دن کی نادانی نے مجھے زندگی بھر کے لیے تنہائی کے سپرد کر دیا۔

نواز کے گھر میں بھی آگ لگ چکی تھی۔ ان کی بیوی، جو کبھی مجھ پر شک نہیں کرتی تھی، اب نواز کی کسی بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھی۔ ایک دیوار جو ہمارے گھروں کے بیچ تھی، اب وہ آسمان تک بلند ہو چکی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو کر بھی ایک دوسرے کے لیے مر چکے تھے۔

آج جب میں اپنے بچوں کو دیکھتی ہوں، تو سوچتی ہوں کہ اس دن بس سٹاپ پر اگر میں نے اپنے قدموں کو نہ ڈگمگانے دیا ہوتا، تو آج میری زندگی میں یہ پچھتاوا نہ ہوتا۔ وہ ایک لمحے کی مہم جوئی میری پوری زندگی کا روگ بن گئی۔ محبت اپنی جگہ سچی سہی، مگر سماج کی دیواروں اور اپنوں کے اعتبار سے بڑی نہیں ہوتی۔ اب میں جی تو رہی ہوں، مگر اپنی ہی نظروں میں گری ہوئی ایک ایسی مجرمہ بن کر، جسے نہ تو سزا ملتی ہے اور نہ ہی معافی۔ بس ایک خاموش ماتم ہے جو میرے اندر ہر پل جاری رہتا ہے۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ