صابر ہمارے گاؤں کا ایک ایماندار شخص تھا۔ اس کی چند ایکڑ زمین تھی، جس کو وہ خود ہی کاشت کرتا تھا۔ وہ زیادہ خوش حال نہیں تھا، مگر بد حال بھی نہ تھا۔ دونوں میاں بیوی محنتی تھے، یوں اچھا گزارہ ہو رہا تھا۔ صابر کو اللہ نے ایک بیٹے اور ایک بیٹی سے نوازا تھا۔ عامر اور ارم بڑے پیارے بچے تھے؛ وہ آزاد فضاؤں کے پروردہ، کھیتوں میں کھیل کود کر بڑے ہوئے تھے۔ صابر کا جی چاہتا تھا کہ اس کے بچے شہری بچوں کی طرح پڑھیں لکھیں، صاف ستھرے اور تمیز والے ہوں، لیکن گاؤں میں ایک ہی اسکول تھا جس کی حالت بہت خراب تھی۔ چار دیواری اور کمرہ تو پختہ اینٹوں کا بنا ہوا تھا، لیکن اس اسکول کی اصل روح یعنی استاد بے روح تھا۔
جن دنوں ارم تیسری جماعت اور عامر چھٹی میں تھا، صابر کی زندگی کو اجل کا ہاتھ لگ گیا۔ جن بچوں کو پڑھ لکھ کر کچھ بن کر دکھانا تھا، وہ دنیا کے رحم و کرم پر پلنے لگے یعنی یتیم ہو گئے۔ عامر کے ماموں شہر میں رہتے تھے، اسی وجہ سے ان کا وہاں آنا جانا رہتا تھا۔ جب صابر کی بیوی صاحباں اپنے بھائی عثمان کے گھر جاتی اور بھتیجوں کو اسکول جاتے دیکھتی، تو اس کا دل چاہتا کہ وہیں رہ جائے تاکہ اس کے بچے بھی کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں جا سکیں، مگر اس کی بھابھی کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اسے تو بیوہ نند کا اپنے گھر آنا بھی گوارا نہ تھا، البتہ عثمان، جو خود اسکول ہیڈ ماسٹر تھا، اپنی بہن کو ڈھارس دیتا تھا کہ تم فکر نہ کرو۔ عامر اور ارم کو مڈل تک گاؤں میں پڑھا لو، پھر میں تمہیں اور تمہارے بچوں کو یہاں بلا لوں گا اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلاؤں گا۔
عامر ماموں کے گھر چلا گیا تو ممانی نے اسے دیکھتے ہی منہ پھلا لیا۔ وہ بات بات پر اپنے بچوں کو ڈانٹنے اور شور مچانے لگی کہ “کیا دیہاتی بچوں کی طرح اچھل کود رہے ہو؟” ایسی باتیں کر کے اس نے ایک دن میں ہی عامر کے ذہن کو پراگندہ کر ڈالا۔ وہ سمجھ گیا کہ ہم یہاں نہ رہ سکیں گے، ممانی ہمیں ذرا بھی برداشت نہیں کرے گی۔ دوپہر کو عثمان اسکول سے لوٹا تو اسے اپنا منتظر پایا۔ وہ بیچارہ سہما سکڑا برآمدے میں بیٹھا تھا۔ اس کا بیگ بھی باہر ہی رکھا تھا، جیسے اس گھر سے اس کا کوئی رشتہ نہ ہو، جیسے وہ بھکاری ہو۔ عثمان اسے کمرے میں لے گیا اور کھانا وغیرہ کھلا کر سلا دیا تاکہ تھکا ہارا لڑکا کچھ دیر آرام کر لے۔ شام کو اس نے عامر کو ساتھ لیا اور گھر سے نکل گیا۔ بیوی یہ سب ٹیڑھی نظروں سے دیکھ رہی تھی مگر چپ تھی؛ شاید وہ ہوا کے رخ کا اندازہ کر رہی تھی۔
عثمان، عامر کو سیر کے بہانے چڑیا گھر لایا اور پھر ایک بینچ پر دونوں سستانے بیٹھ گئے، تبھی وہ گویا ہوا: “بیٹے عامر! میں نے تیری ماں سے یہ وعدہ ضرور کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو شہر بلا کر پڑھاؤں گا، لیکن میں تم لوگوں کو اپنے گھر پہ رکھنے سے مجبور ہوں۔ یہ بات تمہاری ممانی کو منظور نہیں ہے۔ میں تمہارے لیے کرایے کا مکان دیکھنے گیا تھا، لیکن یہاں مکانوں کے کرایے بہت زیادہ ہیں۔ تمہاری ماں اتنا کرایہ کہاں سے ادا کر سکے گی؟ اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ تم لوگ اپنی دیہات والی زمین فروخت کر کے یہاں شہر میں مکان لے لو، تبھی تم پڑھائی کا ارمان پورا کر سکتے ہو۔”
یوں عامر ایک رات کسی نہ کسی طرح ماموں کے گھر کاٹ کر صبح ہی صبح واپس گاؤں روانہ ہو گیا، جہاں صاحباں سمجھ رہی تھی کہ عامر اپنے ماموں کے پاس گیا ہے تو اسے وہاں پندرہ بیس دن تو لگ ہی جائیں گے، مگر وہ تو دوسری صبح ہی گھر آ گیا۔ صاحباں کو بڑی حیرانی ہوئی، “تم اتنی جلدی آ گئے؟” اس نے حیرت سے دریافت کیا۔
“ہاں اماں، وہاں زیادہ رہ کر کیا کرتا؟” “کیوں؟ تم ماموں کے گھر گئے تھے، کچھ دن چھٹیاں گزارتے، اسکول میں داخلے کا پتا کرتے۔” “شکر کرو کہ ایک رات بھی رہ لیا، ممانی نے گھر کے باہر گلی میں چارپائی ڈال کر سلا دیا۔ دو راتیں اور رہ جاتا تو وہ میرا بیگ ہی باہر گلی میں رکھ دیتیں،” لڑکے نے جواب دیا۔
یہ باتیں سن کر صاحباں کا دل دھڑکنا بھول گیا۔ اس کے اندر امیدوں کا جو دیا جگمگا رہا تھا، وہ جیسے ایک جھٹکے سے بجھ گیا۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو جھلملاتے دیکھ کر عامر نے بات کو سنبھالنا مناسب سمجھا، اس نے کہا: “ماں! ہمیں شہر میں اپنا گھر لینا چاہیے۔ ماموں کے گھر میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ ہم وہاں رہ سکیں، پھر اپنے گھر کی بات ہی اور ہوتی ہے، اس میں عزت ہے۔” “بیٹا! ہمارے پاس اتنی رقم کہاں ہے کہ ہم وہاں گھر خرید سکیں؟” “ماموں کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنی زمین فروخت کر دیں، تو اس رقم سے وہاں کسی سستی آبادی میں دو کمروں کا بنا بنایا گھر مل سکتا ہے۔” “یہ زمین ہماری پہچان اور تمہارے باپ کی نشانی ہے۔ میں اسے نہیں بیچ سکتی،” صاحباں نے تڑپ کر کہا۔ “ماں! ہمارے مستقبل کی خاطر تم کو یہ سودا مہنگا نہیں پڑے گا۔ یہ زمین کا ٹکڑا ہمیں کیا دے گا؟ ہمارا مستقبل تو نہیں بنا سکے گا۔” “اچھا، میں تمہارے چچا سے مشورہ کروں گی،” صاحباں نے ٹوٹے ہوئے دل سے جواب دیا۔
وہ ہفتہ بھر شش و پنج میں رہی؛ کبھی سوچتی کہ خود شہر جا کر عثمان سے بات کرے اور کبھی ہمت ہار جاتی۔ نویں دن عثمان خود گاؤں آ گیا۔ اسے اپنے گھر دیکھ کر صاحباں کھل اٹھی، بس نہیں چلتا تھا کہ آسمان سے ستاروں کی کہکشاں اتار لائے اور بھائی کے قدموں میں بچھا دے۔ آج وہ اتنی خوش تھی جیسے کسی نے اس کے دامن میں دنیا کے سارے پھول ڈال دیے ہوں۔ بہن بھائی محبت سے گلے ملے۔ صاحباں نے گھر میں پلتی مرغی ذبح کروائی، عمدہ چاول پکائے، مکھن، روٹی اور شہد غرض جو کچھ بن پڑا دستر خوان پر سجا دیا۔
شام کو بہن بھائی حال احوال کرنے بیٹھے تو عثمان نے کہا: “میری پیاری بہنا! میرا دل چاہتا ہے کہ میں تم کو آج ہی شہر لے چلوں، مگر کیا کروں؟ بیوی کی وجہ سے مجبور ہوں۔ وہ تم کو دو دن بھی خوشی سے برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے کڑوے کسیلے الفاظ سن کر تم دل گرفتہ ہو جاؤ گی اور دوسرے ہی دن بھاری دل کے ساتھ لوٹ آؤ گی، اس لیے میری تجویز ہے کہ تم اپنی زمین بیچ کر شہر میں اپنا گھر خرید لو۔ باقی تمہاری ذمہ داری میں اٹھا لوں گا اور بچوں کی دیکھ بھال بھی کروں گا۔ میں نے وہاں تمہارے لیے ایک بہت اچھا مکان دیکھا ہے جو زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ وہ میرے گھر سے کچھ دور ہے، مگر تمہارے لیے اچھا رہے گا کیونکہ تم کھلے گھر میں رہنے کی عادی ہو اور شہر کے بیچوں بیچ مکان چھوٹے ملتے ہیں۔”
“بھیا! میں وہاں اکیلی کیسے رہوں گی؟ بیٹی کا ساتھ ہے اور چاروں طرف اجنبی لوگ ہوں گے،” صاحباں نے خدشے کا اظہار کیا۔ عثمان نے تسلی دی: “اس کی تم فکر مت کرو، میں روز تمہارے پاس چکر لگایا کروں گا۔ ارد گرد اچھے لوگ ہوں گے، میں خود تسلی کر لوں گا۔ وہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ اسکول بھی قریب ہیں۔ عامر اور ارم پڑھ لکھ جائیں گے تو تمہاری اور صابر کی دیرینہ آرزو پوری ہو جائے گی۔”
“اسی آرزو کے شوق میں ہی تو تمہاری بات مان رہی ہوں بھیا! عامر ہل نہیں چلا سکتا اور نہ ہی جلتی دھوپ میں فصل بو سکتا ہے۔ میں اس کے چاچو کو بلاتی ہوں، تم دونوں آپس میں صلاح مشورہ کر کے میرے بچوں کے حق میں کوئی اچھا فیصلہ کر لو۔”
عثمان نے محمد بخش سے مشورہ کیا اور زمین بیچنے کی بات کی تو اس نے کہا: “بھائی! میرا مشورہ تو یہ ہے کہ تم پانچ بیگھے بیچ دو اور باقی تین رہنے دو، یا پھر زمین گروی رکھ کر بینک سے کچھ قرضہ لے لو۔” عثمان نے جواب دیا: “میں ان چکروں میں نہیں پھنس سکتا، میرے پاس اتنا وقت کہاں ہے؟ میں تو ملازمت پیشہ آدمی ہوں۔ چھ بیگھے فروخت کر دیتے ہیں اور دو بیگھے، جس پر ان کا گھر بنا ہوا ہے، رہنے دیتے ہیں تاکہ گاؤں میں ان کا نام اور ٹھکانہ بھی رہے۔”
غرض زمین بک گئی، جسے محمد بخش نے اپنی زمین بینک میں گروی رکھ کر خود ہی خرید لیا۔ عثمان نے بہن کو شہر سے دور ایک کچی آبادی میں مکان خرید کر دیا اور باقی رقم صاحباں کے نام پر بینک میں جمع کرا دی تاکہ منافع سے گھر کا گزارہ چلتا رہے۔ صاحباں کو یہ مکان اور یہ آبادی پسند نہ آئی تھی، وہ بھائی کے گھر کے پاس رہنا چاہتی تھی مگر مجبوراً اسے قبول کر لیا، کیونکہ جہاں عثمان کا گھر تھا وہاں مکان مہنگے تھے۔ بچوں کا شہر آ کر پڑھنے کا مسئلہ حل ہو گیا؛ عامر کو ایک عام سے اسکول میں داخلہ مل گیا اور ارم بھی لڑکیوں کے اسکول جانے لگی۔ یوں تعلیم کی رکی ہوئی گاڑی پھر سے چل پڑی۔
عامر پڑھائی میں تیز تھا، وہ ہر سال اچھی پوزیشن لے کر پاس ہو جاتا تھا۔ ارم بھی پاس ہو جاتی تھی۔ صاحباں نے اسے دس جماعتیں پڑھا کر پی ٹی سی کرا دی، حالانکہ ارم کالج جانا چاہتی تھی لیکن کالج اس آبادی سے کافی دور تھا، پھر وہ کالج کے اخراجات بھی پورا نہیں کر سکتی تھی۔ سب سے بڑی رکاوٹ ارد گرد کی آبادی تھی۔ یہ طبقہ نہ تو تعلیم یافتہ تھا اور نہ ہی ملازمت پیشہ؛ ان کے بچے پڑھنے لکھنے کی بجائے آوارہ گردی میں پڑے ہوئے تھے۔
نوجوان طبقہ تاش کھیلتا تھا جس کی آڑ میں جوا ہوتا، وہ ہیروئن کا نشہ بھی کرتے تھے۔ کسی بال بچے دار شریف شخص کا وہاں رہنا ٹھیک نہ تھا، تاہم صاحباں کو مجبوراً وہیں رہنا تھا؛ اور وہ کہاں جاتی؟ وہ نہ محلے والوں سے ملتی تھی اور نہ بچوں کو گھر سے نکلنے دیتی تھی۔ عثمان نے سختی سے تہیہ کر رکھا تھا کہ “اگر میں نے محلے کے بیکار لڑکوں کی آوارہ ٹولیوں میں عامر کو کبھی دیکھ لیا، تو اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔” وہ صبح پڑھنے جاتا اور واپس آ کر گھر میں بیٹھ کر کتابوں میں مگن رہتا۔ ارم تو اسکول کے بعد گھر سے نکلتی ہی نہ تھی۔ صاحباں نے اسے سمجھا دیا تھا کہ آس پاس کی لڑکیوں سے دوستی نہ کرنا: “یہ لوگ ہماری طرح کے نہیں ہیں، تم ان کے ساتھ دوستی نبھا نہیں سکو گی۔”
میٹرک کے بعد عامر نے شہر کے ایک اچھے کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہ روز اتنی دور سے گھر نہیں آ سکتا تھا، لہذا عثمان نے اپنی بیوی کو سمجھا بجھا کر اس بات پر راضی کر لیا کہ عامر ہفتے میں چار پانچ دن ہمارے گھر رہے گا اور جمعرات، جمعہ کو اپنے گھر لوٹ جایا کرے گا، کیونکہ اسے کالج دور پڑتا ہے۔ عثمان کی بیٹی بھی بڑی ہو رہی تھی۔ ممانی نے سوچا کہ لڑکا اچھا ہے، اگر پڑھ لکھ کر کچھ بن گیا تو ہاتھ میں رہے گا اور لڑکی کا رشتہ غیروں میں نہیں ڈھونڈنا پڑے گا۔ یہ سوچ کر وہ چپ ہو گئی۔
پی ٹی سی کر کے ارم گھر بیٹھ گئی، نوکری ملنا آسان نہ تھا۔ یہ سوچ کر ٹریننگ لی تھی کہ شاید قسمت کھل جائے۔ جس مقصد کے لیے زمین بیچ کر شہر میں گھر لیا تھا، وہ کسی حد تک پورا ہو گیا تھا؛ عامر کالج میں پڑھ رہا تھا اور ارم بھی تعلیم مکمل کر چکی تھی۔ اب صاحباں کو ارم کی شادی کی فکر ستانے لگی۔ ادھر محلے والوں کو علم ہو گیا کہ عامر ماموں کے ہاں چلا گیا ہے اور اب ماں بیٹی گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔ کچھ غلط قسم کے نوجوان، جو پہلے اس گھر سے دور رہتے تھے، اب ارد گرد منڈلانے لگے۔ انہیں خبر ہو گئی تھی کہ اس گھر کا نوجوان محافظ ہفتے میں صرف ایک دن کے لیے ہی گھر آتا ہے۔
ارم گھر میں بور ہوتی اور ماں سے الجھتی رہتی تھی، وہ چڑچڑی اور بد زبان ہو گئی تھی۔ اسے یہ غم تھا کہ ماں نے بیٹے کو تو کالج بھیج دیا، مگر اسے داخلہ نہیں لینے دیا۔ وہ ماں کی مجبوریاں نہیں سمجھتی تھی بلکہ اس کے رویے کو نا انصافی پر محمول کرتی تھی۔ ارم کے ہر وقت الجھنے پر صاحباں سخت پریشان رہنے لگی۔ اس کا جی چاہتا کہ جلدی سے کوئی رشتہ آ جائے تو وہ لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دے، مگر اچھے رشتے بھی نصیبوں سے ملتے ہیں۔ ماں باپ تو صرف انتظار ہی کر سکتے ہیں۔ جب ارم پژمردہ اور بیمار رہنے لگی، تو صاحباں نے سوچا کہ گھر سے کچھ فاصلے پر جو سلائی سینٹر ہے، کیوں نہ ارم کو وہاں داخل کروا دوں۔ یوں وہ کچھ ہنر بھی سیکھ لے گی اور اس کا دل بھی ہم عمر لڑکیوں میں لگا رہے گا۔ چنانچہ اس نے ارم کو اس انڈسٹریل ہوم میں داخل کرا دیا۔
شروع میں وہ ارم کو خود چھوڑنے جاتی اور پھر لینے بھی، مگر یہ بڑا مشکل کام تھا۔ سارا دن اسی آنے جانے میں بیت جاتا اور گھر کا کام پڑا رہتا تھا۔ وہ محنت مشقت یا سلائی کڑھائی جیسا کوئی کام بھی نہ کر سکتی تھی جس سے چار پیسے کی آمدنی ہو جاتی۔ انہی دنوں ارم کے ساتھ ایک اور لڑکی نے بھی داخلہ لے لیا، جو محلے کی ہی تھی۔ یوں دونوں ساتھ آنے جانے لگیں۔ صاحباں مطمئن ہو گئی کہ اس نے ارم کی بیزاری کا اچھا حل نکال لیا ہے۔ اسے کیا خبر تھی کہ محلے کے آوارہ لڑکوں کی نظریں اس کی بیٹی پر ہیں۔ اگر وہ جانتی تو کبھی اسے گھر سے باہر قدم نہ نکالنے دیتی، مگر جب قسمت میں بھونچال لکھا ہو تو اچھی تدبیر بھی الٹ جاتی ہے۔
ایک رات دروازے پر دستک ہوئی۔ صاحباں نے پوچھا: “کون ہے؟” وہ سمجھی شاید عامر ہو گا جو جمعرات کی بجائے بدھ کو ہی آ گیا ہے۔ اس نے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی دروازہ کھول دیا۔ دروازہ کھلتے ہی تین نوجوان گھر میں یوں گھستے چلے آئے جیسے یہ ان کا اپنا ہی گھر ہو۔ صاحباں حیران و پریشان کھڑی رہ گئی، اس کی عقل کام نہیں کر رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے آتے ہی صاحباں کا منہ کس کر باندھ دیا اور اسے بے ہوش کر کے چارپائی پر ڈال دیا۔ ارم دوسرے کمرے میں سو رہی تھی، انہوں نے اس کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ پھر ان بدمعاشوں نے اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جسے کوئی عزت دار لڑکی برداشت نہیں کر سکتی۔ ان خبیثوں کے جانے کے کچھ دیر بعد وہ حواس باختہ اپنے کمرے کے فرش پر پڑی رہی، پھر نجانے اسے کیا ہوا کہ وہ دیوانی سی ہو گئی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ آدھی رات کا وقت تھا لیکن اسے وقت کا احساس نہ رہا تھا، وہ روتی جا رہی تھی۔ گھر کے قریب ہی ایک پرانی عمارت کا کھنڈر تھا؛ وہ اس کھنڈر پر چڑھی اور بلندی سے چھلانگ لگا دی۔
صاحباں کو ہوش آیا تو وہ اٹھی اور ارم کے کمرے کی طرف دوڑی، مگر وہاں ارم نہ تھی۔ وہ بدحواس ہو کر گھر سے بھاگی اور پڑوسیوں کے دروازے زور زور سے پیٹنے لگی۔ یہ سحر کا وقت تھا۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو صاحباں نے چلانا شروع کر دیا: “ارم گھر میں نہیں ہے! میری ارم کو ڈھونڈو، اسے کوئی لے گیا ہے!” ایک دم سارا محلہ اکٹھا ہو گیا۔ سب کے پوچھنے پر صاحباں نے رو رو کر رات کا واقعہ بڑی مشکل سے سنایا، لیکن اس کی بات کوئی ماننے کو تیار نہ تھا۔ کوئی ارم کی بے گناہی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے کہ “کیا پتا خود ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو؟” اس گھڑی سب صاحباں اور ارم کی شرافت کو بھول گئے۔
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ عامر بھی اسی وقت گھر آگیا اور اپنے گھر پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ماں سسک رہی تھی اور اب ارم کو بھی تھوڑا ہوش آ گیا تھا۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ لوگ ایک دوسرے کا نام لے رہے تھے، اس نے ایک نام دہرایا بھی۔ سب نے پہچان لیا کہ یہ محلے کے کس بدمعاش لڑکے کا کام ہے۔ ماں اور بھائی تو ہوش و حواس کھو چکے تھے، لوگ ہی ارم کو اسپتال لے گئے جہاں اس نے دم توڑ دیا۔ اس کی لاش جب گھر آئی تو صاحباں دیوار سے ٹکریں مار مار کر رو رہی تھی، وہ ہاتھ ملتی جاتی اور کہتی جاتی: “میری بیٹی! میں تو تیرے ماموں کے آسرے پر اپنا گھر بار چھوڑ کر اتنی دور آ گئی تھی۔ افسوس کہ میں تیری عزت کی پاسبانی نہ کر سکی اور تو جان سے بھی گئی۔ کاش! تیرے بجائے موت مجھے لے جاتی۔”
کچھ دن تو عامر گم صم رہا، پھر لوگوں کے بھڑکانے پر آپے سے باہر ہو گیا اور ایک روز اس بدمعاش لڑکے ‘جیرے’ کی بیٹھک کی طرف چلا گیا۔ سامنے ہی وہ اسے نظر آیا تو عامر نے جیرے کے سر پر اینٹ سے ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ نجانے اس میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی تھی کہ وہ ایک جنونی بن گیا تھا۔ جیرے کے سر پر ایسی سخت ضربیں لگیں کہ اس کا بھیجا باہر آ گیا۔ اتنے میں لوگ اکٹھے ہونے لگے تو عامر وہاں سے بھاگ نکلا۔ اسی وقت سڑک سے ایک بس سست رفتاری سے گزر رہی تھی، عامر جلدی سے اس پر سوار ہو گیا۔ بس نے رفتار پکڑ لی اور لوگ پیچھے دوڑتے رہ گئے۔ کچھ آگے جا کر عامر بس سے اتر گیا اور اس کے بعد وہ غائب ہی ہو گیا۔ نہ معلوم وہ کہاں چلا گیا؛ آج اس واقعے کو کئی برس گزر گئے ہیں مگر وہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔
کاش یہ کہانی عامر پڑھ لے اور اپنی ماں کی بے بسی کا خیال کر کے گھر لوٹ آئے۔ کاش یہ کہانی ان عورتوں پر بھی اثر کرے جو شہر میں رہ کر اس قدر مغرور اور خود غرض ہو جاتی ہیں کہ اپنے دیہاتی رشتہ داروں کو حقارت کی نظروں سے دیکھنے لگتی ہیں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی بجائے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتی ہیں۔ اگر صاحباں کی بھابھی اپنی بیوہ نند کے دونوں بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دیتی، تو ارم کو اپنے ماموں کا بھرپور تحفظ حاصل ہو جاتا اور یہ حادثہ کبھی پیش نہ آتا۔
جن دنوں ارم تیسری جماعت اور عامر چھٹی میں تھا، صابر کی زندگی کو اجل کا ہاتھ لگ گیا۔ جن بچوں کو پڑھ لکھ کر کچھ بن کر دکھانا تھا، وہ دنیا کے رحم و کرم پر پلنے لگے یعنی یتیم ہو گئے۔ عامر کے ماموں شہر میں رہتے تھے، اسی وجہ سے ان کا وہاں آنا جانا رہتا تھا۔ جب صابر کی بیوی صاحباں اپنے بھائی عثمان کے گھر جاتی اور بھتیجوں کو اسکول جاتے دیکھتی، تو اس کا دل چاہتا کہ وہیں رہ جائے تاکہ اس کے بچے بھی کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں جا سکیں، مگر اس کی بھابھی کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اسے تو بیوہ نند کا اپنے گھر آنا بھی گوارا نہ تھا، البتہ عثمان، جو خود اسکول ہیڈ ماسٹر تھا، اپنی بہن کو ڈھارس دیتا تھا کہ تم فکر نہ کرو۔ عامر اور ارم کو مڈل تک گاؤں میں پڑھا لو، پھر میں تمہیں اور تمہارے بچوں کو یہاں بلا لوں گا اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلاؤں گا۔
عامر ماموں کے گھر چلا گیا تو ممانی نے اسے دیکھتے ہی منہ پھلا لیا۔ وہ بات بات پر اپنے بچوں کو ڈانٹنے اور شور مچانے لگی کہ “کیا دیہاتی بچوں کی طرح اچھل کود رہے ہو؟” ایسی باتیں کر کے اس نے ایک دن میں ہی عامر کے ذہن کو پراگندہ کر ڈالا۔ وہ سمجھ گیا کہ ہم یہاں نہ رہ سکیں گے، ممانی ہمیں ذرا بھی برداشت نہیں کرے گی۔ دوپہر کو عثمان اسکول سے لوٹا تو اسے اپنا منتظر پایا۔ وہ بیچارہ سہما سکڑا برآمدے میں بیٹھا تھا۔ اس کا بیگ بھی باہر ہی رکھا تھا، جیسے اس گھر سے اس کا کوئی رشتہ نہ ہو، جیسے وہ بھکاری ہو۔ عثمان اسے کمرے میں لے گیا اور کھانا وغیرہ کھلا کر سلا دیا تاکہ تھکا ہارا لڑکا کچھ دیر آرام کر لے۔ شام کو اس نے عامر کو ساتھ لیا اور گھر سے نکل گیا۔ بیوی یہ سب ٹیڑھی نظروں سے دیکھ رہی تھی مگر چپ تھی؛ شاید وہ ہوا کے رخ کا اندازہ کر رہی تھی۔
عثمان، عامر کو سیر کے بہانے چڑیا گھر لایا اور پھر ایک بینچ پر دونوں سستانے بیٹھ گئے، تبھی وہ گویا ہوا: “بیٹے عامر! میں نے تیری ماں سے یہ وعدہ ضرور کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو شہر بلا کر پڑھاؤں گا، لیکن میں تم لوگوں کو اپنے گھر پہ رکھنے سے مجبور ہوں۔ یہ بات تمہاری ممانی کو منظور نہیں ہے۔ میں تمہارے لیے کرایے کا مکان دیکھنے گیا تھا، لیکن یہاں مکانوں کے کرایے بہت زیادہ ہیں۔ تمہاری ماں اتنا کرایہ کہاں سے ادا کر سکے گی؟ اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ تم لوگ اپنی دیہات والی زمین فروخت کر کے یہاں شہر میں مکان لے لو، تبھی تم پڑھائی کا ارمان پورا کر سکتے ہو۔”
یوں عامر ایک رات کسی نہ کسی طرح ماموں کے گھر کاٹ کر صبح ہی صبح واپس گاؤں روانہ ہو گیا، جہاں صاحباں سمجھ رہی تھی کہ عامر اپنے ماموں کے پاس گیا ہے تو اسے وہاں پندرہ بیس دن تو لگ ہی جائیں گے، مگر وہ تو دوسری صبح ہی گھر آ گیا۔ صاحباں کو بڑی حیرانی ہوئی، “تم اتنی جلدی آ گئے؟” اس نے حیرت سے دریافت کیا۔
“ہاں اماں، وہاں زیادہ رہ کر کیا کرتا؟” “کیوں؟ تم ماموں کے گھر گئے تھے، کچھ دن چھٹیاں گزارتے، اسکول میں داخلے کا پتا کرتے۔” “شکر کرو کہ ایک رات بھی رہ لیا، ممانی نے گھر کے باہر گلی میں چارپائی ڈال کر سلا دیا۔ دو راتیں اور رہ جاتا تو وہ میرا بیگ ہی باہر گلی میں رکھ دیتیں،” لڑکے نے جواب دیا۔
یہ باتیں سن کر صاحباں کا دل دھڑکنا بھول گیا۔ اس کے اندر امیدوں کا جو دیا جگمگا رہا تھا، وہ جیسے ایک جھٹکے سے بجھ گیا۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو جھلملاتے دیکھ کر عامر نے بات کو سنبھالنا مناسب سمجھا، اس نے کہا: “ماں! ہمیں شہر میں اپنا گھر لینا چاہیے۔ ماموں کے گھر میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ ہم وہاں رہ سکیں، پھر اپنے گھر کی بات ہی اور ہوتی ہے، اس میں عزت ہے۔” “بیٹا! ہمارے پاس اتنی رقم کہاں ہے کہ ہم وہاں گھر خرید سکیں؟” “ماموں کا خیال ہے کہ اگر ہم اپنی زمین فروخت کر دیں، تو اس رقم سے وہاں کسی سستی آبادی میں دو کمروں کا بنا بنایا گھر مل سکتا ہے۔” “یہ زمین ہماری پہچان اور تمہارے باپ کی نشانی ہے۔ میں اسے نہیں بیچ سکتی،” صاحباں نے تڑپ کر کہا۔ “ماں! ہمارے مستقبل کی خاطر تم کو یہ سودا مہنگا نہیں پڑے گا۔ یہ زمین کا ٹکڑا ہمیں کیا دے گا؟ ہمارا مستقبل تو نہیں بنا سکے گا۔” “اچھا، میں تمہارے چچا سے مشورہ کروں گی،” صاحباں نے ٹوٹے ہوئے دل سے جواب دیا۔
وہ ہفتہ بھر شش و پنج میں رہی؛ کبھی سوچتی کہ خود شہر جا کر عثمان سے بات کرے اور کبھی ہمت ہار جاتی۔ نویں دن عثمان خود گاؤں آ گیا۔ اسے اپنے گھر دیکھ کر صاحباں کھل اٹھی، بس نہیں چلتا تھا کہ آسمان سے ستاروں کی کہکشاں اتار لائے اور بھائی کے قدموں میں بچھا دے۔ آج وہ اتنی خوش تھی جیسے کسی نے اس کے دامن میں دنیا کے سارے پھول ڈال دیے ہوں۔ بہن بھائی محبت سے گلے ملے۔ صاحباں نے گھر میں پلتی مرغی ذبح کروائی، عمدہ چاول پکائے، مکھن، روٹی اور شہد غرض جو کچھ بن پڑا دستر خوان پر سجا دیا۔
شام کو بہن بھائی حال احوال کرنے بیٹھے تو عثمان نے کہا: “میری پیاری بہنا! میرا دل چاہتا ہے کہ میں تم کو آج ہی شہر لے چلوں، مگر کیا کروں؟ بیوی کی وجہ سے مجبور ہوں۔ وہ تم کو دو دن بھی خوشی سے برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے کڑوے کسیلے الفاظ سن کر تم دل گرفتہ ہو جاؤ گی اور دوسرے ہی دن بھاری دل کے ساتھ لوٹ آؤ گی، اس لیے میری تجویز ہے کہ تم اپنی زمین بیچ کر شہر میں اپنا گھر خرید لو۔ باقی تمہاری ذمہ داری میں اٹھا لوں گا اور بچوں کی دیکھ بھال بھی کروں گا۔ میں نے وہاں تمہارے لیے ایک بہت اچھا مکان دیکھا ہے جو زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ وہ میرے گھر سے کچھ دور ہے، مگر تمہارے لیے اچھا رہے گا کیونکہ تم کھلے گھر میں رہنے کی عادی ہو اور شہر کے بیچوں بیچ مکان چھوٹے ملتے ہیں۔”
“بھیا! میں وہاں اکیلی کیسے رہوں گی؟ بیٹی کا ساتھ ہے اور چاروں طرف اجنبی لوگ ہوں گے،” صاحباں نے خدشے کا اظہار کیا۔ عثمان نے تسلی دی: “اس کی تم فکر مت کرو، میں روز تمہارے پاس چکر لگایا کروں گا۔ ارد گرد اچھے لوگ ہوں گے، میں خود تسلی کر لوں گا۔ وہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ اسکول بھی قریب ہیں۔ عامر اور ارم پڑھ لکھ جائیں گے تو تمہاری اور صابر کی دیرینہ آرزو پوری ہو جائے گی۔”
“اسی آرزو کے شوق میں ہی تو تمہاری بات مان رہی ہوں بھیا! عامر ہل نہیں چلا سکتا اور نہ ہی جلتی دھوپ میں فصل بو سکتا ہے۔ میں اس کے چاچو کو بلاتی ہوں، تم دونوں آپس میں صلاح مشورہ کر کے میرے بچوں کے حق میں کوئی اچھا فیصلہ کر لو۔”
عثمان نے محمد بخش سے مشورہ کیا اور زمین بیچنے کی بات کی تو اس نے کہا: “بھائی! میرا مشورہ تو یہ ہے کہ تم پانچ بیگھے بیچ دو اور باقی تین رہنے دو، یا پھر زمین گروی رکھ کر بینک سے کچھ قرضہ لے لو۔” عثمان نے جواب دیا: “میں ان چکروں میں نہیں پھنس سکتا، میرے پاس اتنا وقت کہاں ہے؟ میں تو ملازمت پیشہ آدمی ہوں۔ چھ بیگھے فروخت کر دیتے ہیں اور دو بیگھے، جس پر ان کا گھر بنا ہوا ہے، رہنے دیتے ہیں تاکہ گاؤں میں ان کا نام اور ٹھکانہ بھی رہے۔”
غرض زمین بک گئی، جسے محمد بخش نے اپنی زمین بینک میں گروی رکھ کر خود ہی خرید لیا۔ عثمان نے بہن کو شہر سے دور ایک کچی آبادی میں مکان خرید کر دیا اور باقی رقم صاحباں کے نام پر بینک میں جمع کرا دی تاکہ منافع سے گھر کا گزارہ چلتا رہے۔ صاحباں کو یہ مکان اور یہ آبادی پسند نہ آئی تھی، وہ بھائی کے گھر کے پاس رہنا چاہتی تھی مگر مجبوراً اسے قبول کر لیا، کیونکہ جہاں عثمان کا گھر تھا وہاں مکان مہنگے تھے۔ بچوں کا شہر آ کر پڑھنے کا مسئلہ حل ہو گیا؛ عامر کو ایک عام سے اسکول میں داخلہ مل گیا اور ارم بھی لڑکیوں کے اسکول جانے لگی۔ یوں تعلیم کی رکی ہوئی گاڑی پھر سے چل پڑی۔
عامر پڑھائی میں تیز تھا، وہ ہر سال اچھی پوزیشن لے کر پاس ہو جاتا تھا۔ ارم بھی پاس ہو جاتی تھی۔ صاحباں نے اسے دس جماعتیں پڑھا کر پی ٹی سی کرا دی، حالانکہ ارم کالج جانا چاہتی تھی لیکن کالج اس آبادی سے کافی دور تھا، پھر وہ کالج کے اخراجات بھی پورا نہیں کر سکتی تھی۔ سب سے بڑی رکاوٹ ارد گرد کی آبادی تھی۔ یہ طبقہ نہ تو تعلیم یافتہ تھا اور نہ ہی ملازمت پیشہ؛ ان کے بچے پڑھنے لکھنے کی بجائے آوارہ گردی میں پڑے ہوئے تھے۔
نوجوان طبقہ تاش کھیلتا تھا جس کی آڑ میں جوا ہوتا، وہ ہیروئن کا نشہ بھی کرتے تھے۔ کسی بال بچے دار شریف شخص کا وہاں رہنا ٹھیک نہ تھا، تاہم صاحباں کو مجبوراً وہیں رہنا تھا؛ اور وہ کہاں جاتی؟ وہ نہ محلے والوں سے ملتی تھی اور نہ بچوں کو گھر سے نکلنے دیتی تھی۔ عثمان نے سختی سے تہیہ کر رکھا تھا کہ “اگر میں نے محلے کے بیکار لڑکوں کی آوارہ ٹولیوں میں عامر کو کبھی دیکھ لیا، تو اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔” وہ صبح پڑھنے جاتا اور واپس آ کر گھر میں بیٹھ کر کتابوں میں مگن رہتا۔ ارم تو اسکول کے بعد گھر سے نکلتی ہی نہ تھی۔ صاحباں نے اسے سمجھا دیا تھا کہ آس پاس کی لڑکیوں سے دوستی نہ کرنا: “یہ لوگ ہماری طرح کے نہیں ہیں، تم ان کے ساتھ دوستی نبھا نہیں سکو گی۔”
میٹرک کے بعد عامر نے شہر کے ایک اچھے کالج میں داخلہ لے لیا۔ وہ روز اتنی دور سے گھر نہیں آ سکتا تھا، لہذا عثمان نے اپنی بیوی کو سمجھا بجھا کر اس بات پر راضی کر لیا کہ عامر ہفتے میں چار پانچ دن ہمارے گھر رہے گا اور جمعرات، جمعہ کو اپنے گھر لوٹ جایا کرے گا، کیونکہ اسے کالج دور پڑتا ہے۔ عثمان کی بیٹی بھی بڑی ہو رہی تھی۔ ممانی نے سوچا کہ لڑکا اچھا ہے، اگر پڑھ لکھ کر کچھ بن گیا تو ہاتھ میں رہے گا اور لڑکی کا رشتہ غیروں میں نہیں ڈھونڈنا پڑے گا۔ یہ سوچ کر وہ چپ ہو گئی۔
پی ٹی سی کر کے ارم گھر بیٹھ گئی، نوکری ملنا آسان نہ تھا۔ یہ سوچ کر ٹریننگ لی تھی کہ شاید قسمت کھل جائے۔ جس مقصد کے لیے زمین بیچ کر شہر میں گھر لیا تھا، وہ کسی حد تک پورا ہو گیا تھا؛ عامر کالج میں پڑھ رہا تھا اور ارم بھی تعلیم مکمل کر چکی تھی۔ اب صاحباں کو ارم کی شادی کی فکر ستانے لگی۔ ادھر محلے والوں کو علم ہو گیا کہ عامر ماموں کے ہاں چلا گیا ہے اور اب ماں بیٹی گھر میں اکیلی رہتی ہیں۔ کچھ غلط قسم کے نوجوان، جو پہلے اس گھر سے دور رہتے تھے، اب ارد گرد منڈلانے لگے۔ انہیں خبر ہو گئی تھی کہ اس گھر کا نوجوان محافظ ہفتے میں صرف ایک دن کے لیے ہی گھر آتا ہے۔
ارم گھر میں بور ہوتی اور ماں سے الجھتی رہتی تھی، وہ چڑچڑی اور بد زبان ہو گئی تھی۔ اسے یہ غم تھا کہ ماں نے بیٹے کو تو کالج بھیج دیا، مگر اسے داخلہ نہیں لینے دیا۔ وہ ماں کی مجبوریاں نہیں سمجھتی تھی بلکہ اس کے رویے کو نا انصافی پر محمول کرتی تھی۔ ارم کے ہر وقت الجھنے پر صاحباں سخت پریشان رہنے لگی۔ اس کا جی چاہتا کہ جلدی سے کوئی رشتہ آ جائے تو وہ لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دے، مگر اچھے رشتے بھی نصیبوں سے ملتے ہیں۔ ماں باپ تو صرف انتظار ہی کر سکتے ہیں۔ جب ارم پژمردہ اور بیمار رہنے لگی، تو صاحباں نے سوچا کہ گھر سے کچھ فاصلے پر جو سلائی سینٹر ہے، کیوں نہ ارم کو وہاں داخل کروا دوں۔ یوں وہ کچھ ہنر بھی سیکھ لے گی اور اس کا دل بھی ہم عمر لڑکیوں میں لگا رہے گا۔ چنانچہ اس نے ارم کو اس انڈسٹریل ہوم میں داخل کرا دیا۔
شروع میں وہ ارم کو خود چھوڑنے جاتی اور پھر لینے بھی، مگر یہ بڑا مشکل کام تھا۔ سارا دن اسی آنے جانے میں بیت جاتا اور گھر کا کام پڑا رہتا تھا۔ وہ محنت مشقت یا سلائی کڑھائی جیسا کوئی کام بھی نہ کر سکتی تھی جس سے چار پیسے کی آمدنی ہو جاتی۔ انہی دنوں ارم کے ساتھ ایک اور لڑکی نے بھی داخلہ لے لیا، جو محلے کی ہی تھی۔ یوں دونوں ساتھ آنے جانے لگیں۔ صاحباں مطمئن ہو گئی کہ اس نے ارم کی بیزاری کا اچھا حل نکال لیا ہے۔ اسے کیا خبر تھی کہ محلے کے آوارہ لڑکوں کی نظریں اس کی بیٹی پر ہیں۔ اگر وہ جانتی تو کبھی اسے گھر سے باہر قدم نہ نکالنے دیتی، مگر جب قسمت میں بھونچال لکھا ہو تو اچھی تدبیر بھی الٹ جاتی ہے۔
ایک رات دروازے پر دستک ہوئی۔ صاحباں نے پوچھا: “کون ہے؟” وہ سمجھی شاید عامر ہو گا جو جمعرات کی بجائے بدھ کو ہی آ گیا ہے۔ اس نے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی دروازہ کھول دیا۔ دروازہ کھلتے ہی تین نوجوان گھر میں یوں گھستے چلے آئے جیسے یہ ان کا اپنا ہی گھر ہو۔ صاحباں حیران و پریشان کھڑی رہ گئی، اس کی عقل کام نہیں کر رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے آتے ہی صاحباں کا منہ کس کر باندھ دیا اور اسے بے ہوش کر کے چارپائی پر ڈال دیا۔ ارم دوسرے کمرے میں سو رہی تھی، انہوں نے اس کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ پھر ان بدمعاشوں نے اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جسے کوئی عزت دار لڑکی برداشت نہیں کر سکتی۔ ان خبیثوں کے جانے کے کچھ دیر بعد وہ حواس باختہ اپنے کمرے کے فرش پر پڑی رہی، پھر نجانے اسے کیا ہوا کہ وہ دیوانی سی ہو گئی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ آدھی رات کا وقت تھا لیکن اسے وقت کا احساس نہ رہا تھا، وہ روتی جا رہی تھی۔ گھر کے قریب ہی ایک پرانی عمارت کا کھنڈر تھا؛ وہ اس کھنڈر پر چڑھی اور بلندی سے چھلانگ لگا دی۔
صاحباں کو ہوش آیا تو وہ اٹھی اور ارم کے کمرے کی طرف دوڑی، مگر وہاں ارم نہ تھی۔ وہ بدحواس ہو کر گھر سے بھاگی اور پڑوسیوں کے دروازے زور زور سے پیٹنے لگی۔ یہ سحر کا وقت تھا۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو صاحباں نے چلانا شروع کر دیا: “ارم گھر میں نہیں ہے! میری ارم کو ڈھونڈو، اسے کوئی لے گیا ہے!” ایک دم سارا محلہ اکٹھا ہو گیا۔ سب کے پوچھنے پر صاحباں نے رو رو کر رات کا واقعہ بڑی مشکل سے سنایا، لیکن اس کی بات کوئی ماننے کو تیار نہ تھا۔ کوئی ارم کی بے گناہی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے کہ “کیا پتا خود ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو؟” اس گھڑی سب صاحباں اور ارم کی شرافت کو بھول گئے۔
آخر علاقے کے نمبردار کو کسی نے اطلاع دی۔ وہ آیا اور کہنے لگا: “چند آدمی میرے ساتھ چلو، کیا خبر کہیں پیروں کے نشان مل جائیں۔” لالٹینیں لے کر سب اسی وقت ارم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ تھوڑا سا آگے گئے تو انہیں ارم کا سراغ مل گیا۔ جب وہ کھنڈر کے پاس پہنچے تو ایک آدمی نے کہا: “اس کھنڈر میں دیکھ لیں۔” انہوں نے ٹارچوں کی روشنی وہاں پھینکنی شروع کر دی۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہاں تلاش بیکار ہے، یہ صدیوں سے ویران پڑا ہے، لیکن جب انہوں نے کھنڈر پر چڑھ کر نیچے روشنی ڈالی تو گڑھے میں انہیں ارم پڑی نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ سارا معاملہ سمجھ گئے۔ اس کے بال بکھرے ہوئے اور کپڑے کئی جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔ اس کے جسم پر بھی تشدد کے نشان واضح تھے۔ انہوں نے ارم کو ہلا کر سیدھا کیا، وہ ابھی تک زندہ تھی مگر اس کی سانس اٹک اٹک کر چل رہی تھی۔ وہ جلدی سے اسے اٹھا کر گھر لے آئے۔ محلے کی عورتیں جمع تھیں اور صبح ہو چکی تھی۔ صاحباں رو رہی تھی، مگر اب اس سے رویا بھی نہ جا رہا تھا۔ وہ بین کرنا چاہتی تھی مگر بین کرنے کی طاقت باقی نہ رہی تھی۔ اس کی ایسی عجیب حالت تھی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ عامر بھی اسی وقت گھر آگیا اور اپنے گھر پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ماں سسک رہی تھی اور اب ارم کو بھی تھوڑا ہوش آ گیا تھا۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ لوگ ایک دوسرے کا نام لے رہے تھے، اس نے ایک نام دہرایا بھی۔ سب نے پہچان لیا کہ یہ محلے کے کس بدمعاش لڑکے کا کام ہے۔ ماں اور بھائی تو ہوش و حواس کھو چکے تھے، لوگ ہی ارم کو اسپتال لے گئے جہاں اس نے دم توڑ دیا۔ اس کی لاش جب گھر آئی تو صاحباں دیوار سے ٹکریں مار مار کر رو رہی تھی، وہ ہاتھ ملتی جاتی اور کہتی جاتی: “میری بیٹی! میں تو تیرے ماموں کے آسرے پر اپنا گھر بار چھوڑ کر اتنی دور آ گئی تھی۔ افسوس کہ میں تیری عزت کی پاسبانی نہ کر سکی اور تو جان سے بھی گئی۔ کاش! تیرے بجائے موت مجھے لے جاتی۔”
کچھ دن تو عامر گم صم رہا، پھر لوگوں کے بھڑکانے پر آپے سے باہر ہو گیا اور ایک روز اس بدمعاش لڑکے ‘جیرے’ کی بیٹھک کی طرف چلا گیا۔ سامنے ہی وہ اسے نظر آیا تو عامر نے جیرے کے سر پر اینٹ سے ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ نجانے اس میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی تھی کہ وہ ایک جنونی بن گیا تھا۔ جیرے کے سر پر ایسی سخت ضربیں لگیں کہ اس کا بھیجا باہر آ گیا۔ اتنے میں لوگ اکٹھے ہونے لگے تو عامر وہاں سے بھاگ نکلا۔ اسی وقت سڑک سے ایک بس سست رفتاری سے گزر رہی تھی، عامر جلدی سے اس پر سوار ہو گیا۔ بس نے رفتار پکڑ لی اور لوگ پیچھے دوڑتے رہ گئے۔ کچھ آگے جا کر عامر بس سے اتر گیا اور اس کے بعد وہ غائب ہی ہو گیا۔ نہ معلوم وہ کہاں چلا گیا؛ آج اس واقعے کو کئی برس گزر گئے ہیں مگر وہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔
صاحباں اپنا سب کچھ لٹا کر، ہاتھ ملتی واپس گاؤں چلی گئی۔ وہ اب صرف عامر کے انتظار میں زندہ ہے؛ پہروں خلاؤں میں گھورتی رہتی ہے اور خود سے باتیں کرتی ہے۔ افسوس! ارم کی موت کا صرف چرچا ہوا، کسی نے اس کے قاتلوں کو پکڑنے اور سزا دینے کی بات نہیں کی۔ ہاں، مگر جیرے کی موت کا الزام عامر پر ہے اور ایف آئی آر (FIR) میں عامر کا نام بطورِ قاتل درج ہے۔ آج میں اس لیے صاحباں کی کہانی لکھ رہی ہوں کہ یہ ہمارے گاؤں کی وہ مجبور عورت ہے جو اپنے بچوں کی تعلیم کے شوق میں اپنا گھر بار چھوڑ کر اور زرعی زمین بیچ کر شہر آئی، مگر اپنی عزت گنوا کر ہاتھ ملتی لوٹ گئی۔ کاش! ہمارے ملک کے دیہاتوں میں تعلیم کا نظام ٹھیک ہو جائے اور لوگ اپنے بچوں کو پڑھانے کے شوق میں شہروں کا رخ نہ کریں۔
کاش یہ کہانی عامر پڑھ لے اور اپنی ماں کی بے بسی کا خیال کر کے گھر لوٹ آئے۔ کاش یہ کہانی ان عورتوں پر بھی اثر کرے جو شہر میں رہ کر اس قدر مغرور اور خود غرض ہو جاتی ہیں کہ اپنے دیہاتی رشتہ داروں کو حقارت کی نظروں سے دیکھنے لگتی ہیں اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی بجائے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتی ہیں۔ اگر صاحباں کی بھابھی اپنی بیوہ نند کے دونوں بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دیتی، تو ارم کو اپنے ماموں کا بھرپور تحفظ حاصل ہو جاتا اور یہ حادثہ کبھی پیش نہ آتا۔
(ختم شد)
