حوس پرست شوہر

Sublimegate Urdu Stories

میرا شوہر احمد شوقین مزاج تھا، ایک رات مجھ سے جھوٹ بول کر گھر سے چلا گیا لیکن میری دینا ہی لٹ گئی جب ہسپتال سے کال آئی کہ اس کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے۔ مگر وہاں منظر کچھ اور تھا۔ احمد کے ساتھ ایک لڑکی بھی زخمی ہوئی تھی۔ اس کا نام منزه درج کرایا گیا تھا، گوری سی، نازک سی، خوبصورت لڑکی جس کی عمر بیس بائیس برس ہوگی۔ ساری بات میری سمجھ میں آ گئی۔ میں شوہر کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگی۔
👇cknwrites👇
احمد کی بیوی میں وہ تمام خوبیاں تھیں جو ایک شریف عورت میں ہوتی ہیں۔ وہ اپنے شوہر کی خدمت گزاری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتی تھی۔ سلیقہ شعار اتنی کہ گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنا دیا تھا۔ سسرال والے اور پڑوسی سب ہی اس کی تعریف کرتے تھے۔ وہ احمد سے کہتے کہ تم کتنے خوش قسمت ہو، ایسی خوبصورت اور وفاشعار بیوی پائی ہے۔ جس گھر میں ایسی عورت ہو، وہاں خدا کی رحمتیں کیوں نہ نازل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اولاد سے بھی نوازا تھا۔ تین چھوٹے بچوں کی چہکاروں سے ان کا آنگن مہکا کرتا تھا۔ احمد جب دفتر سے گھر آتا تو صاف ستھرا ماحول اور خوشیوں بھری آوازیں اس کے کانوں میں رس گھولنے لگتیں۔ تب ہی اس کا دل جامِ مسرت سے بھر جاتا اور وہ اپنی شریکِ حیات بانو سے کہتا کہ تم کیا ملی ہو، مجھے تو ساری دنیا کی دولت مل گئی ہے۔ کبھی کسی غیر عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھوں تو میری جان لے لینا 

۔سب یہی سمجھتے تھے کہ احمد کو اپنی بیوی سے بڑی محبت ہے، لیکن یہ سچ نہیں تھا۔ وہ کوئی پاکباز آدمی نہ تھا، اس نے بس پاکبازی کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ اسے نئے نئے پھول اچھے لگتے تھے۔ جب وہ نوخیز حسن دیکھتا تو اس کا دل مچل اٹھتا اور وہ ان پھولوں کو توڑنے کے لیے بے قرار ہو جاتا۔ شاید اس کی فطرت ہی ایسی تھی۔جب تک گھر میں رہتا، نگاہوں میں بانو جچی رہتی، اور جہاں گھر سے باہر کوئی حسین چہرہ نظر آ جاتا، نگاہیں اس کا تعاقب کرنے لگتیں۔ اس کے پاس دولت تھی جس کے زور پر وہ ہر دفعہ عشق کی نئی بازی کھیلتا تھا۔ کبھی مراد بر آتی اور پھول ڈالی سے خود بخود ٹوٹ کر اس کی جھولی میں آ گرتے، اور کبھی نامرادی دامن تھام لیتی۔

تاہم بانو پر خدا کی رحمت تھی کہ اس کو خاوند کی ان سرگرمیوں کا علم نہ تھا۔ آج کے معاشرے میں جب عورت سج سنور کر گھر سے باہر نکلنے لگی ہے تو کچھ ناقابلِ یقین المیے بھی جنم لینے لگے ہیں۔ پہلے عورت چاردیواری میں تھی۔ سبھی کا خیال تھا کہ عورت اپنے گھر میں محفوظ رہتی ہے، مگر جب باہر نکل کر شمعِ محفل بن جائے تو کہیں کی نہیں رہتی۔بس، اپنے اپنے سوچ و خیال ہوتے ہیں۔ اب تو جب سے برادری سسٹم کمزور ہوا ہے، شادی بھی لڑکیوں کے لیے ایک مسئلہ بن چکی ہے۔ دفتروں میں ٹھیک ٹھاک ملبوس پہن کر جانے کے تقاضے اور ہیں۔ یہ نئی وضع قطع کے ملبوسات نظروں کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں، اور مجھ سی ضرورت مند، جو نوخیزی عمر میں کمانے نکلی ہوں، خوابوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک جاتی ہیں، مگر شادی کا خواب پورا نہیں ہوتا۔میرا محکمہ ایسا ہی تھا جہاں روز نئی لڑکیوں سے سابقہ پڑتا تھا۔

 احمد بھی ہمارے محکمے میں کام کرتا تھا، وہ میرا آفیسر تھا۔ اس کی رنگین مزاجیاں اس کی بیوی سے ضرور ڈھکی چھپی تھیں، مگر ہم سے نہیں۔ وہ لڑکیوں کے ساتھ چکر چلانے میں ماہر تھا۔ اکثر شامیں رنگین کر لیتا۔ کبھی ہم سنتے کہ فلاں کے ساتھ بڑی گہری دوستی چل رہی ہے اور وہ ہوٹل میں رہ رہے ہیں۔ بیچاری سیدھی سادی بانو کو کیا خبر کہ اس کے گھر میں کیسی بادِ مخالف چل رہی ہے۔ وہ خدمت گزار تو گھر پر پڑی رات رات بھر شوہر کا انتظار کرتی تھی۔ وہ احمد کو وفاشعار سمجھتی تھی کہ ایئر لائن میں رات بھر ڈیوٹیاں دینی پڑتی ہیں۔ اور احمد کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں۔ وہ معمولی عہدے پر نہ تھا بلکہ اعلیٰ افسر تھا۔کبھی بانو بچوں کی سالگرہ پر ہمیں بھی مدعو کرتی اور بڑے فخر سے کہتی کہ میں احمد کے دل کی ملکہ ہوں، وہ میرے سوا کسی کا نہیں ہو سکتا۔ اسے کیا خبر کہ اس کا ایک دوست ذیشان عورتوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا تھا۔

جب احمد کو بوریت محسوس ہوتی تو وہ ذیشان سے کہتا کہ یار، مدت سے کسی نئے پھول کا چہرہ نہیں دیکھا۔ گھر جا کر بار بار ایک ہی چہرہ دیکھنے کو جی نہیں کرتا۔ بیوی تو صرف بچوں کی ماں ہوتی ہے، معشوقہ نہیں بن سکتی۔ نو پرابلم، ذیشان نے جواب دیا۔ لڑکی الٹرا ماڈل ہے اور ماڈلنگ کرنا چاہتی ہے۔ اس کی لگام آج کل میرے ہاتھ میں ہے، بس ذرا زیادہ مال خرچ کرنا پڑے گا۔ اس کے معیار کے مطابق کوئی مسئلہ نہیں، آخر ہم کماتے کس لیے ہیں، احمد نے جواب دیا۔میں نے یہ باتیں ان کو فون پر کہتے سنی۔ ان دنوں میں ان کی پرسنل سیکریٹری تھی۔ یہ سچ تھا کہ سر احمد اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ گھر کے باہر اپنی عیاشی پر خرچ کر رہے تھے اور کبھی کبھی تو ایک رات کی عیاشی پر لاکھوں روپے اڑا دیتے۔ انسان اپنے من کو خوش کرنے کے لیے کیا کیا نہیں کرتا۔ بانو بیچاری ان دنوں بڑی پریشان تھی۔ اسے خرچے کے لیے بہت کم رقم شوہر سے مل رہی تھی۔ وہ چلاتی کہ اتنے کم رقم میں میرا اور بچوں کا گزارہ نہیں ہو رہا۔ اور احمد بیوی کو ہر ماہ جھوٹے وعدوں پر ٹرخا دیتے تھے۔ میں تمہارے لیے اس بار جدہ سے سونے کا سیٹ خرید کر لاؤں گا، ذرا سا انتظار کر لو، وہ تھنڈی آہ بھر کر کہتی، احمد جانے کب تم میرے لیے کوئی چھوٹا سا بھی تحفہ لاؤ گے۔ جواب ملتا، کیا میری لاکھوں کی محبت کافی نہیں، جو کسی معمولی تحفے کی تمنا میں گھل جاتی ہو۔ 

میں ان کی یہ ساری گفتگو فون پر سنتی اور چپ رہتی۔اس شام سر احمد نے بانو سے کہہ دیا تھا کہ میں رات کو نہ آپاؤں گا، دفتر کے کام سے اسلام آباد جانا ہے، تم فکر نہ کرنا۔ آج بچوں کو آیا کے پاس سلانے کی بجائے اپنے بیڈ روم میں سلا دینا۔ تمہیں تنہائی محسوس نہ ہوگی۔دیکھو احمد، تم مجھے کہیں چکر تو نہیں دے رہے؟ کچھ دنوں سے تم لگاتار ایسا ہی کر رہے ہو، بانو نے پوچھا۔ احمد نے کہا، ایسا کچھ نہیں، تمہارے سوا کسی اور کے بارے سوچوں بھی تو مجھ پر خدا کا غضب پڑے۔ تم پر سکون ہوجاؤ، ورنہ رات بھر نیند نہیں آئے گی۔ تمہیں جانے یہ کیسی گھڑی تھی کہ احمد کی دعا قبول ہو گئی۔ قدرت کا انتقام بھی بڑا سخت ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی خطاؤں کی معافی ملتی ہے، مگر ایک حد تک۔ گناہ کی رسی آخر کتنی دراز ہو سکتی ہے؟ شاید پاپ کا گھڑا بھر گیا تھا اور اب ڈوبنے کو تھا۔اس روز احمد مشروب کے نشے میں ڈرائیونگ کر رہا تھا کہ رفتار کو کنٹرول نہ کر سکا۔ گاڑی جس رفتار سے جارہی تھی، ایکسیڈنٹ ہونا تھا، مگر اسے محسوس نہ ہوا کہ وہ بے قابو گاڑی چلا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی گاڑی کھمبے سے جاٹکرائی اور وہ اسپتال پہنچ گیا۔

جب یہ اطلاع بانو کو ملی تو وہ پریشان ہو گئی اور اسی وقت اسپتال چلی گئی، مگر وہاں منظر کچھ اور تھا۔ احمد کے ساتھ ایک خاتون بھی زخمی ہوئی تھی۔ اس کا نام منزه درج کرایا گیا تھا، گوری سی، نازک سی، خوبصورت لڑکی جس کی عمر بیس بائیس برس ہوگی۔ وہ بھی احمد کے ساتھ، اس کی ہم نشست تھی اور دورانِ سفر زخمی ہو گئی تھی۔ دونوں ہی بے ہوش تھے۔ دو دن بعد احمد کو ہوش آیا۔ اس کی حالت خطرے سے باہر تھی، مگر چوٹیں شدید آئیں تھیں۔ بس، اللہ نے زندگی رکھ لی تھی اور لڑکی بھی اب خطرے سے باہر تھی۔ بانو جائے نماز پر سجدے میں گری، دعا مانگ رہی تھی کہ جب میں اس کو تسلی دینے اس کے گھر پہنچی، اسے روتے گڑگڑاتے اور اپنے شوہر کی زندگی کی دعائیں مانگتے دیکھ کر میرے کانوں میں احمد کے کہے الفاظ گونج رہے تھے کہ کیوں نہ اپنی خوشی پر ہزاروں خرچ کروں؟ آخر کماتا بھی تو میں ہی ہوں۔ یہ بیویاں تو خرچے کے لیے سدا چلاتی رہتی ہیں۔ بانو چلاتی ہے تو چلاتی رہے۔ یہ دنیا مردوں کی ہے، خوشیاں بھی ہماری ہیں اور بہاریں بھی ہمارے لیے ہیں۔میں ان کے گھر سے اسپتال چلی گئی۔ وہاں اس خاتون کو بھی دیکھا، جو ان کے ساتھ زخمی ہوئی تھی۔ اس پر سفید چادر گردن تک پڑی تھی۔ اس کا چہرہ دیکھ کر میرے ہوش اُڑ گئے۔ واقعی وہ چہرہ کسی حور کا تھا، جو چاند کو بھی شرماتا تھا۔ احمد صاحب اگر اس کے دیوانے ہوئے تھے، تو یونہی نہیں ہوئے تھے۔
سیکریٹری ہونے کے ناتے میرے سینے میں احمد صاحب سے متعلق کئی راز دفن تھے، جو میں ان کی بیگم کو نہیں بتا سکتی تھی۔ خیر، وہ تو کچھ عرصہ بعد بھلے چنگے ہوگئے، مگر بانو بیمار پڑ گئی۔ خدا جانے اس کو کیا صدمہ لگا کہ گھن کی طرح وہ اسے کھا رہا تھا۔ بالآخر ایک روز، جب وہ کچن میں کھانا بنا رہی تھی، بے ہوش ہو کر گری اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ اس کے دماغ کی نس پھٹ گئی تھی۔ شاید بلڈ پریشر بہت بڑھ گیا تھا۔کچھ دن سوگوار رہنے کے بعد احمد نے اُسی پری چہرے کے ساتھ بیاہ رچا لیا، جو اس حادثے میں زخمی ہوئی تھی۔ خدا نے ان کو اپنی معشوق کے ساتھ شادی کا موقع دے دیا تھا۔چار سال بخیریت گزر گئے۔ دفتر آتے تو خوش خوش دن میں کئی بار اس ماہ لقا کو فون کرتے، جو ان کی دوسری بیوی اور معشوقہ تھی۔ وہ اسے پا کر جیسے بانو کو بالکل ہی بھول چکے تھے۔

 کچھ عرصہ بعد احمد اور ماہ لقا میں ناچاقیاں شروع ہو گئیں۔ وہ ذہنی طور پر اپ سیٹ رہنے لگے، جیسے کوئی بات مسلسل انہیں مضطرب رکھتی ہو۔ماہ لقا کے بارے میں سنا تھا کہ وہ اکثر گھر سے باہر رہتی ہے، بچوں کی پرواہ نہیں کرتی، آزاد خیال تھی، اس لیے باہر جاتی تو شوہر کو مطلع کرنا اپنی توہین سمجھے۔ کوئی عیاش مرد جب ایسے بے چین ہو تو بے راہ روی میں سکون تلاش کرتا۔ احمد پھر سے بھٹک گیا۔ایک روز اس نے ایک لڑکی کو بک کیا اور ہوٹل گیا، جہاں وہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو لڑکی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی وہ مڑا اور احمد کی نظر اس لڑکی کے چہرے پر پڑی، تو وہ دنگ رہ گیا۔ یہ تو اس کی اپنی ہی چیز تھی، جسے آج اس نے خریدا تھا۔اس نے زور دار طیش میں ماہ لقا کے منہ پر رسید کیا اور پوچھا، یہ تم…؟کیا میں پاگل تو نہیں ہو گیا یا اندھا ہو رہا ہوں؟ وہ بولی۔ کیا تم سمجھتے تھے کہ مجھے تمہارے کرتوتوں کی کوئی خبر نہیں ہے؟ تم ایسے بھنورے ہو کہ جب تک کوئی نیا پھول نہ سونگھ لو، جی ہی نہیں سکتے۔ آخر میرا حسن بھی کیوں رائیگاں جائے؟ کسی دن یہ تمہارے کام آئے گا۔ بند کرو یہ بکواس، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ دے دو طلاق، مجھے تمہاری پرواہ نہیں ہے۔ میں خود تم سے چھٹکارا چاہتی ہوں۔یہ کہہ کر اس نے احمد کو پرے دھکیلا، تو اس نے بھی ماہ لقا کو زور سے دھکا دیا اور اس کا سر دیوار سے جا ٹکرایا۔ 
وہ غصے میں زخمی ناگ کی طرح پھنکارا۔ آج اس عورت نے اس کی مردانگی کو چیلنج کیا تھا۔کافی دن بعد احمد دفتر آیا، ٹوٹا ہوا سا۔ جب میں نے اس سے طلاق کی وجہ پوچھی تو اس نے بھرائی آواز میں کہا، عورت اگر شریف ہو تو وہ مر جائے گی، مگر ایسی راہ اختیار نہیں کرے گی۔ بانو کتنی اچھی عورت تھی۔میں نے پوچھا، جی سر، ان کو کیا بتاتی؟ وہ کہنے لگے، میں بانو کو کتنا جانتی تھی۔ وہ تو ایک شریف بیوی تھی، ایک لاجواب عورت، مگر میں نے اس سے اس بارے کچھ نہ کہا۔ بس اتنا پوچھا کہ سر! کیا آپ کو بانو یاد آتی ہیں اب بھی؟ ہاں، اس رات جب میں نے ہوٹل کے کمرے میں ماہ لقا کو طلاق دی تھی، مجھے وہ بہت یاد آئی۔ شاید اس لمحے میں ماہ لقا کو قتل بھی کر دیتا، مگر بانو میرے اعصاب پر چھا گئی، جیسے وہ مجھے اس غلط فعل سے روک رہی تھی۔

میں چکرا کر بستر پر جا گرا تھا۔ مجھے نہیں خبر کہ کیسے ماہ لقا رات کے وقت ہوٹل سے چلی گئی تھی۔ آج بھی مجھے یقین نہیں آتا کہ میری بانو واقعی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے اور اپنے تین بچے بھی سنبھالنے کو میرے سپرد کر گئی ہے۔ اب میں اس کو یاد کرکے خون کے آنسو روتا ہوں۔ یہ بچے مجھ سے نہیں سنبھلتے، دن رات اپنی ماں کو یاد کرتے ہیں۔ مس، میری کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟ یہ کہہ کر وہ رو دیا۔ جی نہیں۔ میں نے بے ساختہ کہا اور ان کے پاس سے اُٹھ کر چلی گئی۔ میں نے وہ ملازمت بھی چھوڑ دی، گرچہ مجھے شادی کی چاہ تھی، مگر ایسے مرد سے نہیں جو بھنورے جیسا تھا۔

(ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ