یہ قیامِ پاکستان سے دس برس قبل کا واقعہ ہے۔ میری والدہ کی پھوپھی کا نام صوفیہ تھا۔ وہ بے حد خوبصورت تھیں۔ ان کی شادی سولہ برس کی عمر میں ایک زمیندار گھرانے میں ہوئی اور وہ بیاہ کر اپنے گھر چلی گئیں۔ ان کے شوہر سجاد کوئی ملازمت نہیں کرتے تھے۔ وہ کبھی شہر چلے جاتے اور کبھی حویلی آتے تو زمینوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو جاتے۔ ان دنوں ان کی عمر بائیس برس کے قریب ہو گی۔
سجاد نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ان دنوں اکثر زمیندار گھرانوں کا یہ نظریہ ہوتا تھا کہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب نوکری ہی نہیں کرنی اور اپنی زمینداری ہے تو خدا کا دیا بہت کچھ ہے۔ سجاد احمد نے بھی اسی نظریے کے تحت میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اس زمانے میں میٹرک بھی کافی تعلیم سمجھی جاتی تھی۔ سجاد احمد کو صوفیہ بیگم سے بہت محبت تھی اور وہ بھی اپنے شوہر پر دل و جان سے فریفتہ تھیں۔ اس وجہ سے ان کی تینوں جٹھانیاں ان سے بہت حسد کرتی تھیں۔ صوفیہ اپنی سادہ طبیعت اور فرمانبرداری کی وجہ سے ساس سسر کی بھی بہت چہیتی تھیں۔ اس دور میں مسلمان گھرانے پردے کے سخت پابند ہوا کرتے تھے، خاص طور پر صوفیہ کے میکے اور سسرال میں پردے کی سخت پابندی کی جاتی تھی۔ وہ جب محض چھ برس کی تھیں، تبھی سے انہیں پردہ کرا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی گھر سے باہر قدم نہ نکالا؛ شادی ہوئی تو ڈولی میں بیٹھ کر سسرال پہنچ گئیں، جہاں پردے کے معاملے میں میکے سے بھی زیادہ سختی تھی۔
ایک دن جب گھر کے مرد اپنے کاموں پر باہر گئے ہوئے تھے اور نوکرانیاں اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھیں، اچانک ایک شخص حویلی میں گھس آیا۔ عورتوں نے جب ایک غیر مرد کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو سب نے لمبے گھونگھٹ نکال لیے اور چیختی ہوئی اپنے اپنے کمروں کی طرف بھاگیں۔ سب سے آخر میں صوفیہ کی ساس تھیں؛ بھاگتے ہوئے ان کا پاؤں کسی چیز سے الجھا اور وہ گر پڑیں۔ نووارد کو شاید انہی کی تلاش تھی اور اس مقصد کے لیے وہ کلہاڑی بھی ساتھ لایا تھا۔ اس نے ان پر پے در پے کلہاڑی کے وار کرنے شروع کر دیے۔ ساس چیخنے چلانے اور مدد کے لیے پکارنے لگیں، مگر جان کے خوف سے نہ کوئی نوکرانی انہیں بچانے آئی اور نہ ہی کسی بہو میں ساس کو بچانے کی ہمت تھی کیونکہ وہ سب نہتی اور خوفزدہ تھیں، اور اگر ایسا نہ بھی ہوتا، تب بھی وہ پردے کی وجہ سے ایک غیر مرد کے سامنے آنے کی جرات نہ کرتیں۔
تاہم ساس کی چیخیں صوفیہ سے برداشت نہ ہو سکیں۔ وہ بے قرار ہو کر واپس پلٹیں اور ساس کو بچانے کے لیے اس آدمی سے کلہاڑی چھیننے لگیں، جس کے نتیجے میں اوڑھنی ان کے سر سے گر گئی اور ہاتھ کی تین انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ یہ شخص ان کے خاندان کا کوئی پرانا دشمن تھا۔ اب یہ دشمنی کیوں تھی؟ یہ ایک الگ کہانی ہے؛ بہرحال وہ آدمی تو بھاگ گیا، لیکن صوفیہ کی ساس زخموں کی تاب نہ لا سکیں اور موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ اس واقعے کے بعد جب مرد حویلی واپس آئے تو کہرام مچا ہوا تھا۔ ساس کی وفات کے ایک ہفتے بعد صوفیہ کے شوہر کے کان میں طرح طرح کی باتیں پڑنے لگیں کہ گھر کی تمام عورتوں نے غیر مرد کو دیکھتے ہی پردہ کر لیا تھا اور فوراً چھت پر چلی گئی تھیں، صرف ایک صوفیہ ہی تھی جو اس مرد کے سامنے آئی تھی۔ بے شک وہ ساس کو بچانے گئی تھی، لیکن ایک اجنبی شخص کے سامنے بے پردہ تو ہو گئی اور غیر کی نگاہ اس پر پڑ گئی۔
اس بات پر سجاد نے شدید سبکی محسوس کی اور بیوی سے جھگڑا کیا کہ “تم کیوں غیر مرد کے سامنے گئی تھیں؟ بے شک وہ میری ماں کو قتل کر رہا تھا، لیکن تم نہ میری ماں کو بچا پائیں اور اپنا پردہ بھی گنوا دیا۔ اب تم پر ایک غیر آدمی کی نظر پڑ چکی ہے، لہٰذا تم میرے لائق نہیں رہی ہو۔” یہ کہہ کر سجاد گھر سے نکل گیا۔ بزرگوں نے بہت سمجھایا کہ ساس کی محبت میں بے قرار ہو کر وہ قاتل کے سامنے آئی تھی، مگر سجاد نہ مانا۔ وہ یہی کہتا رہا کہ جب گھر کی تمام بہوئیں اس وقت بھاگ کر چھپ گئی تھیں تو یہ کیوں نہ بھاگی اور اس شخص کے سامنے کیوں آئی؟ بس اسی بات پر اس نے صوفیہ کو چھوڑ دیا اور طلاق دیے بغیر بنگال چلا گیا۔ اس وقت وہ صرف چھ ماہ کی دلہن تھیں۔ سجاد اس کے بعد کبھی واپس نہ آیا اور وہیں ایک بنگالی لڑکی سے شادی کر لی۔
صوفیہ ان دنوں امید سے تھیں۔ چند ماہ بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ صوفیہ کے سسر کو بہو کے اجڑنے کا بڑا قلق تھا۔ انہوں نے بیٹے (سجاد) کے حصے کی تمام جائیداد بہو اور پوتے کے نام کر دی۔ کچھ عرصہ بعد جب سسر کا انتقال ہو گیا تو صوفیہ اپنے بھائی کے پاس شہر آ گئیں۔ اب وہ صرف اپنے بیٹے کی خاطر جی رہی تھیں۔ میکے والوں نے بہت چاہا کہ صوفیہ کی دوسری شادی کر دیں اور وہ خلع کے لیے عدالت سے رجوع کر لیں، مگر صوفیہ نہ مانیں۔
ادھر سجاد کا دل بھی بدل چکا تھا۔ اسے شدید افسوس تھا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ سنگدلانہ سلوک کیا۔ اب اسے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اور وہ صلح کا خواہش مند تھا۔ ان دنوں صوفیہ کا بیٹا ملٹری اکیڈمی میں زیرِ تعلیم تھا اور گھر سے دور تھا۔ یوں باپ اور بیٹے کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جب صوفیہ نے ملنے سے انکار کر دیا تو سجاد بیٹے سے ملے بغیر ہی واپس چلا گیا۔
صوفیہ کی زندگی میں اب صرف ایک ہی بڑی خوشی باقی رہ گئی تھی کہ ان کا بیٹا ایک فوجی افسر بننے والا تھا۔ آخر کار ان کی محنت اور دعائیں رنگ لائیں اور بیٹے کو فوج میں کمیشن مل گیا۔ وہ بے حد خوش تھیں اور بیٹے کا چہرہ دیکھ دیکھ کر جیتی تھیں۔ وہ اب ادھیڑ عمر کو پہنچ چکی تھیں، مگر پردے کی اب بھی سختی سے پابندی کرتی تھیں، کیونکہ اسی پردے کی خاطر ان کی زندگی کی خوشیاں لٹ گئی تھیں۔ گھر میں کسی مرد نوکر کا داخلہ ممنوع تھا اور گھر کے تمام کام وہ خود ہی انجام دیتی تھیں۔
سجاد نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ان دنوں اکثر زمیندار گھرانوں کا یہ نظریہ ہوتا تھا کہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب نوکری ہی نہیں کرنی اور اپنی زمینداری ہے تو خدا کا دیا بہت کچھ ہے۔ سجاد احمد نے بھی اسی نظریے کے تحت میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اس زمانے میں میٹرک بھی کافی تعلیم سمجھی جاتی تھی۔ سجاد احمد کو صوفیہ بیگم سے بہت محبت تھی اور وہ بھی اپنے شوہر پر دل و جان سے فریفتہ تھیں۔ اس وجہ سے ان کی تینوں جٹھانیاں ان سے بہت حسد کرتی تھیں۔ صوفیہ اپنی سادہ طبیعت اور فرمانبرداری کی وجہ سے ساس سسر کی بھی بہت چہیتی تھیں۔ اس دور میں مسلمان گھرانے پردے کے سخت پابند ہوا کرتے تھے، خاص طور پر صوفیہ کے میکے اور سسرال میں پردے کی سخت پابندی کی جاتی تھی۔ وہ جب محض چھ برس کی تھیں، تبھی سے انہیں پردہ کرا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی گھر سے باہر قدم نہ نکالا؛ شادی ہوئی تو ڈولی میں بیٹھ کر سسرال پہنچ گئیں، جہاں پردے کے معاملے میں میکے سے بھی زیادہ سختی تھی۔
ایک دن جب گھر کے مرد اپنے کاموں پر باہر گئے ہوئے تھے اور نوکرانیاں اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھیں، اچانک ایک شخص حویلی میں گھس آیا۔ عورتوں نے جب ایک غیر مرد کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو سب نے لمبے گھونگھٹ نکال لیے اور چیختی ہوئی اپنے اپنے کمروں کی طرف بھاگیں۔ سب سے آخر میں صوفیہ کی ساس تھیں؛ بھاگتے ہوئے ان کا پاؤں کسی چیز سے الجھا اور وہ گر پڑیں۔ نووارد کو شاید انہی کی تلاش تھی اور اس مقصد کے لیے وہ کلہاڑی بھی ساتھ لایا تھا۔ اس نے ان پر پے در پے کلہاڑی کے وار کرنے شروع کر دیے۔ ساس چیخنے چلانے اور مدد کے لیے پکارنے لگیں، مگر جان کے خوف سے نہ کوئی نوکرانی انہیں بچانے آئی اور نہ ہی کسی بہو میں ساس کو بچانے کی ہمت تھی کیونکہ وہ سب نہتی اور خوفزدہ تھیں، اور اگر ایسا نہ بھی ہوتا، تب بھی وہ پردے کی وجہ سے ایک غیر مرد کے سامنے آنے کی جرات نہ کرتیں۔
تاہم ساس کی چیخیں صوفیہ سے برداشت نہ ہو سکیں۔ وہ بے قرار ہو کر واپس پلٹیں اور ساس کو بچانے کے لیے اس آدمی سے کلہاڑی چھیننے لگیں، جس کے نتیجے میں اوڑھنی ان کے سر سے گر گئی اور ہاتھ کی تین انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ یہ شخص ان کے خاندان کا کوئی پرانا دشمن تھا۔ اب یہ دشمنی کیوں تھی؟ یہ ایک الگ کہانی ہے؛ بہرحال وہ آدمی تو بھاگ گیا، لیکن صوفیہ کی ساس زخموں کی تاب نہ لا سکیں اور موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ اس واقعے کے بعد جب مرد حویلی واپس آئے تو کہرام مچا ہوا تھا۔ ساس کی وفات کے ایک ہفتے بعد صوفیہ کے شوہر کے کان میں طرح طرح کی باتیں پڑنے لگیں کہ گھر کی تمام عورتوں نے غیر مرد کو دیکھتے ہی پردہ کر لیا تھا اور فوراً چھت پر چلی گئی تھیں، صرف ایک صوفیہ ہی تھی جو اس مرد کے سامنے آئی تھی۔ بے شک وہ ساس کو بچانے گئی تھی، لیکن ایک اجنبی شخص کے سامنے بے پردہ تو ہو گئی اور غیر کی نگاہ اس پر پڑ گئی۔
اس بات پر سجاد نے شدید سبکی محسوس کی اور بیوی سے جھگڑا کیا کہ “تم کیوں غیر مرد کے سامنے گئی تھیں؟ بے شک وہ میری ماں کو قتل کر رہا تھا، لیکن تم نہ میری ماں کو بچا پائیں اور اپنا پردہ بھی گنوا دیا۔ اب تم پر ایک غیر آدمی کی نظر پڑ چکی ہے، لہٰذا تم میرے لائق نہیں رہی ہو۔” یہ کہہ کر سجاد گھر سے نکل گیا۔ بزرگوں نے بہت سمجھایا کہ ساس کی محبت میں بے قرار ہو کر وہ قاتل کے سامنے آئی تھی، مگر سجاد نہ مانا۔ وہ یہی کہتا رہا کہ جب گھر کی تمام بہوئیں اس وقت بھاگ کر چھپ گئی تھیں تو یہ کیوں نہ بھاگی اور اس شخص کے سامنے کیوں آئی؟ بس اسی بات پر اس نے صوفیہ کو چھوڑ دیا اور طلاق دیے بغیر بنگال چلا گیا۔ اس وقت وہ صرف چھ ماہ کی دلہن تھیں۔ سجاد اس کے بعد کبھی واپس نہ آیا اور وہیں ایک بنگالی لڑکی سے شادی کر لی۔
صوفیہ ان دنوں امید سے تھیں۔ چند ماہ بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ صوفیہ کے سسر کو بہو کے اجڑنے کا بڑا قلق تھا۔ انہوں نے بیٹے (سجاد) کے حصے کی تمام جائیداد بہو اور پوتے کے نام کر دی۔ کچھ عرصہ بعد جب سسر کا انتقال ہو گیا تو صوفیہ اپنے بھائی کے پاس شہر آ گئیں۔ اب وہ صرف اپنے بیٹے کی خاطر جی رہی تھیں۔ میکے والوں نے بہت چاہا کہ صوفیہ کی دوسری شادی کر دیں اور وہ خلع کے لیے عدالت سے رجوع کر لیں، مگر صوفیہ نہ مانیں۔
اسی طرح چودہ برس بیت گئے۔ اچانک ایک دن سجاد بنگال سے واپس آ گیا اور اس نے صوفیہ کو پیغام بھجوایا کہ وہ ان سے ملنا چاہتا ہے، مگر صوفیہ نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ “میرا کوئی شوہر نہیں ہے اور نہ ہی اب میرا نکاح باقی رہا ہے۔” درحقیقت انہیں بے حد صدمہ پہنچا تھا کیونکہ وہ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔ اسی محبت کے باعث انہوں نے اپنی ساس کی جان بچانے کے لیے اپنی جان تک کی پروا نہ کی تھی، مگر شوہر نے یہ صلہ دیا کہ بے پردگی کا الزام لگا کر انہیں چھوڑ دیا اور چودہ برس تک خیر خبر تک نہ لی۔ اتنے طویل عرصے میں صوفیہ کے دل میں شوہر کے لیے موجود محبت کے تمام جذبات دم توڑ چکے تھے۔
ادھر سجاد کا دل بھی بدل چکا تھا۔ اسے شدید افسوس تھا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ سنگدلانہ سلوک کیا۔ اب اسے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا اور وہ صلح کا خواہش مند تھا۔ ان دنوں صوفیہ کا بیٹا ملٹری اکیڈمی میں زیرِ تعلیم تھا اور گھر سے دور تھا۔ یوں باپ اور بیٹے کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جب صوفیہ نے ملنے سے انکار کر دیا تو سجاد بیٹے سے ملے بغیر ہی واپس چلا گیا۔
صوفیہ کی زندگی میں اب صرف ایک ہی بڑی خوشی باقی رہ گئی تھی کہ ان کا بیٹا ایک فوجی افسر بننے والا تھا۔ آخر کار ان کی محنت اور دعائیں رنگ لائیں اور بیٹے کو فوج میں کمیشن مل گیا۔ وہ بے حد خوش تھیں اور بیٹے کا چہرہ دیکھ دیکھ کر جیتی تھیں۔ وہ اب ادھیڑ عمر کو پہنچ چکی تھیں، مگر پردے کی اب بھی سختی سے پابندی کرتی تھیں، کیونکہ اسی پردے کی خاطر ان کی زندگی کی خوشیاں لٹ گئی تھیں۔ گھر میں کسی مرد نوکر کا داخلہ ممنوع تھا اور گھر کے تمام کام وہ خود ہی انجام دیتی تھیں۔
وہ اپنے بیٹے کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں کہ پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ خدائے بزرگ و برتر کی مرضی کہ ان کے بیٹے نے وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جان، جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ جب شہید کا جسدِ خاکی گھر آیا تو ماں صدمے سے ساکت رہ گئی۔ ان کی عمر بھر کی کمائی آج وطن پر نچھاور ہو گئی تھی اور وہ خالی دامن رہ گئی تھیں۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ “ایک بہادر ماں نے ایک بہادر سپوت کو جنم دیا ہے”، مگر صوفیہ کے لیے یہ الفاظ تسلی بخش نہ تھے۔ وہ خاموشی سے اپنا سب کچھ—بیٹا، خواب اور زندگی—قربان کر چکی تھیں۔ وہ بس اتنا کہتی تھیں: “میں نے اپنا سب کچھ دے دیا، اب یہ وطن ایک امانت ہے۔”
(ختم شد)

