کم سن دلہن

Urdu Stories

میں اور سکینہ بچپن کی دوست تھیں۔ رشتے میں کزن بھی تھیں اور گھر پاس پاس تھے، لہٰذا ہمیشہ ساتھ رہا۔ بچپن کا سہانا وقت ابھی تک یاد ہے۔ بڑے بوڑھے کہتے تھے کہ لڑکیوں کو جوان ہوتے دیر نہیں لگتی؛ وہ سچ کہتے تھے کیونکہ ہم دونوں بھی ہنس کھیل کر دیکھتے ہی دیکھتے جوان ہو گئیں۔

اب ہمارے مستقبل کے بارے میں مائیں فکر مند رہنے لگیں۔ سکینہ بہت خوبصورت تھی، اسی غرور کے باعث وہ تند مزاج (نک چڑھی) تھی۔ وہ دوسروں کی صورت میں کیڑے نکالتی تو ان سے لڑائی ہو جاتی۔ میں سمجھاتی تھی کہ اچھی صورت اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے، تم دوسروں کی دل آزاری نہ کیا کرو، مگر وہ میری بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی تھی۔ ماں باپ اس کے لیے ایسا لڑکا ڈھونڈنا چاہتے تھے جو شریف گھرانے سے ہو اور بہت ٹھنڈے مزاج کا ہو تاکہ وہ سکینہ کے غصے کو سہہ سکے؛ وہ ایک صابر اور تحمل مزاج داماد کی تلاش میں تھے۔ کچھ تگ و دو کے بعد ان کو ایک ایسا رشتہ مل گیا۔ لڑکے والے سکینہ کے گھر آئے اور اس کو پسند کر کے اپنی رضامندی کا اظہار کر کے چلے گئے اور چچا چچی کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے گئے۔ کچھ دن بعد چچی لڑکے کے گھر گئیں۔ لڑکے کو اپنی منشا کے مطابق پایا، دونوں طرف سے والدین کی رضامندی کے بعد رشتہ طے ہو گیا اور شادی کی تاریخ بھی رکھ دی گئی۔

وہ دن آگیا جب شادی کی تقریبات کا آغاز ہوا اور سکینہ کو سجا سنوار کر دلہن بنانے لگے۔ لڑکے کا نام باسط تھا، اس کے نین نقش اچھے تھے لیکن رنگت گہری سانولی تھی، تبھی کسی لڑکی نے بارات آنے پر سکینہ کے کان میں کہہ دیا کہ “اف سکینہ! تم اتنی خوبصورت ہو لیکن دولہا کالا کلوٹا ہے۔”

سکینہ دلہن بنی پریوں جیسی لگ رہی تھی اور اپنی صورت کو آئینے میں دیکھ کر خوش ہو رہی تھی، مگر یہ سن کر اس کے دماغ کا فیوز اڑ گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اماں کو بلاؤ۔ جب میں چچی جان کو بلا لائی تو اس نے رونا شروع کر دیا کہ “آپ کو میرے لیے کالا کلوٹا ہی لڑکا ملا تھا؟ ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ لڑکا کالا ہے۔ آخر آپ نے اپنی بیٹی سے کون سا انتقام لیا ہے؟” ماں باپ دونوں نے لاکھ سمجھایا کہ کسی نے غلط کہا ہے اور ہماری خوشی کے رنگ میں بھنگ ڈالی ہے۔ لڑکے کے نقوش تیکھے اور خوبصورت ہیں، بس ذرا سانولا ہے مگر پرکشش ہے۔ صورت میں کیا رکھا ہے، اس کی سیرت لاکھوں میں ایک ہے۔

ماں باپ کی التجاؤں کا سکینہ پر کوئی اثر نہ ہوا، وہ شور مچانے لگی کہ “ہرگز کالے لڑکے سے شادی نہ کروں گی، نکاح کے وقت انکار کر دوں گی۔” والدین جانتے تھے کہ وہ بے حد ضدی ہے اور ایسا ضرور کر گزرے گی، تب عزت خاک میں مل جائے گی۔ چچا جان میرے والد کے پاس آئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا، ابو بھی سوچ میں پڑ گئے۔

سب حیران پریشان تھے اور ماں کو سکتہ ہو گیا تھا۔ ہر ایک کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ اگر بیٹی اتنی ضدی تھی تو اسے لڑکا پہلے دکھا دینا چاہیے تھا، پھر ہاں کرتے، مگر اب کیا ہو سکتا تھا، وقت تو بیت چکا تھا۔

جب سکینہ نہ مانی تو مسئلے کو لڑکے کے والد پر کھولا گیا۔ وہ بیچارے بھی ہکا بکا رہ گئے۔ بالآخر جب بارات واپس جانے لگی تو ابو نے انہیں میرا رشتہ پیش کر دیا۔ ان شریف لوگوں نے ابو کی پیشکش کو رد نہ کیا اور کہا: “ٹھیک ہے، وہ بھی آپ کی بیٹی ہے اور یہ بھی آپ کی بیٹی ہے۔ دونوں بچیاں ایک ہی گھر کی ہیں، ہم دلہن لے کر جائیں گے۔”

والد صاحب نے امی کو حکم دیا کہ رانیہ کو جلدی دلہن بناؤ۔ امی بیچاری بوکھلا گئیں مگر ابو کا حکم تھا، مجھ میں بھی چوں چرا کرنے کی مجال نہ تھی؛ بلا چوں چرا جیسا والد نے کہا ویسا ہی کیا اور میں دلہن بن گئی۔

ہمارے گھروں کے دروازے ملے ہوئے تھے۔ مجھے چچا جان کے گھر لے آئے اور سکینہ کی جگہ بٹھا دیا گیا۔ میں صابر و شاکر ہو کر اپنے والدین کے حکم کے آگے سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ یوں میری شادی باسط سے ہو گئی اور میں پیا کے گھر آ گئی۔ کچھ دنوں بعد جب سکینہ نے باسط کو دیکھا تو وہ اسے برا نہ لگا بلکہ اچھا لگا۔ وہ پریشان ہوئی اور پچھتائی کہ ناحق ماں باپ کو دکھی کیا، لڑکا تو پرکشش تھا۔ سانولا رنگ بھی اس پر سج رہا تھا، لیکن اب پچھتانے کا کیا فائدہ تھا، وہ تو اب اس کا بہنوئی بن چکا تھا۔ میں باسط کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارنے لگی اور سکینہ کے والدین اس کے لیے کسی خوبصورت نوجوان کی تلاش میں مصروف رہے۔ پڑوسن کے توسط سے اس کے لیے رشتہ مل گیا، اس بار اس کو لڑکا دکھایا گیا۔ اس نے پسند کیا تو پھر بات پکی کی گئی۔

وہ بہت مال دار گھرانے میں بیاہ کر گئی تھی۔ شوہر کافی جائیداد کا مالک تھا؛ اچھی شکل، گاڑی، بنگلہ، سبھی کچھ تھا۔ وہ کہتی تھی: “دیکھا! میں نے انکار کیا تو اللہ نے میری مرضی کا رشتہ بھیج دیا۔”

توقیر کے گھر والوں کی الگ سوچ تھی، وہ کہتے تھے کہ سکینہ کو لڑکے پیدا کرنے ہوں گے۔ وہ کسی صورت بیٹی قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے، لیکن اللہ کی مرضی کے معاملے میں کسی کا کیا زور؟ جب وہ امید سے ہوئی تو کسی کو نہ بتایا، صرف ماں کو بتایا اور کہا کہ میرا الٹرا ساؤنڈ کرائیے۔ اگر لڑکی ہوئی تو جنم نہ دوں گی، ورنہ سسرال والوں کی نظر میں میری توقیر (عزت) جاتی رہے گی۔

ماں نے بیٹی کے اصرار پر سسرال والوں سے چوری چھپے الٹرا ساؤنڈ کرایا تو پتا چلا کہ بیٹی ہے۔ سکینہ کی پریشانی دیدنی تھی۔ اس نے رٹ لگا دی کہ اسے جنم دینے سے پہلے ختم کرانا ہے۔ ماں نے لاکھ سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ ایک روز خود ہی کسی واقف عورت کے ساتھ چلی گئی اور ایک نرس سے کوئی دوا لے آئی۔ دوا کھاتے ہی اس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ تین روز تک وہ ماں کے گھر رہی اور اس مسئلے سے نجات پالی۔

اللہ تعالیٰ انسان کو آزماتا ہے؛ خالق کی مرضی یہی تھی کہ وہ دوبارہ امید سے ہو تو بیٹی کی ہی ماں بنے۔ دوسری بار بھی اس نے وہی کیا جو پہلے کیا تھا۔ یوں اس نے تین بیٹیوں کی جان ان کی پیدائش سے پہلے ہی لے لی۔ میں اسے سمجھاتی کہ یہ خونِ ناحق ہے، ایسا نہ کرو؛ تمہارا یہ عمل اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے۔ اپنے شوہر کو بتا دو، وہ یقیناً زبانی ایسا کہتے ہیں، جب حقیقت معلوم ہو گی تو تمہیں روکیں گے، لیکن وہ کسی کی بات نہ سمجھتی تھی۔

چوتھی بار جب وہ امید سے ہوئی تو اسی نرس نے سمجھایا کہ اب ایسا مت کرنا، میں تمہارا ساتھ نہ دوں گی؛ اپنی صحت کو برباد مت کرو، اللہ جو چاہے وہی ہوتا ہے۔ صد شکر کہ اس بار معلوم ہوا کہ وہ بیٹے کی ماں بنے گی۔ وہ خوشی سے پھولی نہ سماتی تھی۔ بیٹا ہوا تو خوشی کے شادیانے بجائے گئے۔ پھر تو یکے بعد دیگرے بیٹے ہوتے گئے اور جب وہ تین لڑکوں کی ماں بن گئی تو اس نے آپریشن کروا کر خود کو بانجھ کر لیا تاکہ لڑکی ہونے کا خوف جاتا رہے۔ کہتی تھی: “بس تین بیٹے کافی ہیں۔” وہ خودسر، ضدی اور اپنی مرضی کی مالک تھی۔ میں اپنی زندگی میں خوش اور مصروف تھی۔ میری دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہوئے، جن کی پرورش سے فرصت نہ ملتی تھی، اب ہمارا ملنا جلنا کم ہو گیا تھا۔ ماں باپ نے بیٹوں کو بہت لاڈ پیار سے پالا، سکینہ اور توقیر دونوں اپنی اولاد سے بہت محبت کرتے تھے۔ وقت گزرنے کا پتا نہیں چلتا؛ اولاد جوان اور ماں باپ بوڑھے ہو گئے۔

بڑے بیٹے جب اپنی تعلیم مکمل کر چکے تو باپ کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو گئے۔ ہر ماں کی طرح سکینہ کی بھی آرزو تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کے سروں پر سہرا دیکھے۔ وہ بڑے کی دلہن تلاش کرنے لگی، اور چونکہ شروع سے حسن پرست تھی، اس لیے ایک ہی گھر کی دو لڑکیاں پسند کر کے دونوں لڑکوں کی اکٹھی شادیاں کر دیں۔

سب بہت خوش تھے کہ گھر میں چاند جیسی بہوئیں آ گئی ہیں۔ وہ مجھے کہتی کہ بہوؤں سے بیٹی کی کمی پوری ہو جاتی ہے، “بہوئیں نہیں بیٹیاں لے آئی ہوں۔” جب تیسرا بیٹا بیاہ دیا تو اس کی بہو آ جانے سے گھر کا ماحول ناگوار ہو گیا۔ دونوں بہنوں نے تیسری کے خلاف محاذ قائم کر لیا اور یوں سب ایک دوسرے سے کھنچے کھنچے رہنے لگے۔ سکینہ پریشان تھی اور اس کی صحت خراب ہو رہی تھی۔ اب تینوں بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ ساتھ رہنا مشکل ہے، لہٰذا الگ الگ گھروں میں منتقل ہو جائیں تاکہ تناؤ والا ماحول ختم ہو۔

انہی دنوں توقیر بھائی کو دل کا دورہ پڑا اور وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اب لڑکوں کی بن آئی، انہوں نے کاروبار اور جائیداد کا بٹوارا کر لیا۔ باپ کی وفات کے بعد لڑکے بیویوں کے ہو گئے اور ماں سے رویہ بدل لیا؛ وہ انہیں بوجھ لگنے لگی۔ بہوؤں نے بھی توہین کرنا شروع کر دی۔ بیٹوں نے ملی بھگت سے جائیداد کے کاغذات تیار کر لیے اور ماں کے جعلی دستخط کر کے یا انگوٹھے لگوا کر سب اپنے نام کر لیا۔

سکینہ کو جب بیٹوں کی اس چال کا پتا چلا کہ انہوں نے ساری جائیداد اور سرمایہ اپنے نام منتقل کر لیا ہے تو وہ سخت صدمے سے دوچار ہو گئی، پھر یہ سوچ کر کہ اب کہاں جائے گی، بالآخر بیٹوں کا ہی سہارا لینا ہے، اس نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اور خاموش ہو گئی۔

اب وہ جس بہو کے گھر ہوتی وہ اس کی اہانت کرتی اور سکینہ دکھی ہو جاتی۔ وہ مسلسل پریشان رہنے لگی؛ کبھی ایک بیٹے کے گھر اور کبھی دوسرے کے گھر۔ ہر بیٹے اور بہو کی یہ خواہش ہوتی کہ وہ اس کے گھر سے چلی جائے۔ انہی سوچوں میں ایک روز، جبکہ وہ تیسرے بیٹے کے گھر میں تھی، پریشانی کے عالم میں چھت پر چلی گئی۔ وہاں اسے چکر آگیا، اس نے منڈیر کو تھاما لیکن وہ کمزور تھی اور ٹوٹ گئی۔ وہ منڈیر سمیت نیچے گر پڑی۔ صحن میں گملے رکھے تھے، وہ ان کے اوپر گری اور شدید زخمی ہو گئی۔ بازو اور ٹانگوں میں فریکچر ہو گیا جبکہ سر میں شدید چوٹیں آئیں۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا، وہ زخموں سے چور تھی۔

وہ کافی دن ہسپتال رہی۔ میں روز ہی اس کو دیکھنے جاتی۔ نرسیں ویسی دیکھ بھال نہ کرتیں جیسی بیٹیاں کرتی ہیں، جبکہ بہوئیں صرف ایک دو بار آئیں اور اسے ایسی حالت میں دیکھ کر دوبارہ نہ آئیں۔ بیٹے بھی تھوڑی دیر کو آ کر چلے جاتے۔ میں نے اور باسط نے اس کا خاصا خیال رکھا۔ جس روز ہسپتال سے چھٹی ہونا تھی، ہم نے تینوں لڑکوں کو فون کیا مگر ان میں سے کوئی ماں کو لینے نہ آیا؛ ہر ایک نے مصروفیت کا بہانہ کر دیا۔ بالآخر میں اور باسط سکینہ کو اپنے گھر لے آئے۔

اب اس کا دماغ ٹھیک طرح کام نہ کرتا تھا لیکن وہ بیٹوں کو ہر گھڑی یاد کرتی تھی۔ کبھی کہتی: “آج اگر کوئی بیٹی ہوتی تو وہ مجھے اس طرح اور اس حالت میں تنہا نہ چھوڑتی۔ اے کاش! میں بیٹیوں کی پیدائش میں حارج نہ ہوتی، شاید اس گناہ کی سزا مجھے ملی ہے کہ اس معذوری میں میرے بیٹوں اور بہوؤں نے مجھے تنہا چھوڑ دیا ہے۔” میں اسے تسلیاں دیتی اور کہتی کہ میری بیٹیاں تمہاری ہی بیٹیاں ہیں، وہ تمہاری دیکھ بھال کرتی ہیں۔ وہ اپنے گھر نہ جا سکتی تھی کیونکہ اب اس کا کوئی گھر نہ تھا۔ بیٹوں کے گھر بہوؤں کے تھے، وہاں اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا۔ والدین وفات پا چکے تھے، بہن بھائی بھی کوئی نہ تھا، وہ اب بالکل تنہا تھی۔

وہ زندہ تو تھی لیکن کسی لاش کی طرح۔ سب کچھ آنکھوں سے دیکھتی مگر کچھ بول نہ سکتی تھی۔ چلنا پھرنا تو دور کی بات، وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکتی تھی۔ اس کے بیٹوں نے مڑ کر نہ پوچھا کہ ہماری ماں کس حال میں ہے۔ سکینہ نے بالآخر ہمارے گھر ہی جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دی اور بیٹوں نے ماں کی خدمت کا موقع گنوا کر اپنی جنت گنوا دی۔ اللہ ایسی اولاد کسی کو نہ دے۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ