مجبور لڑکی اور بس ڈرائیور

urdu stories

یہ پندرہ برس قبل کی بات ہے۔ ان دنوں میں نے اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور ملازمت کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ ملازمت میرا شوق نہیں، بلکہ ضرورت تھی۔ بھائی ابھی بہت چھوٹا تھا اور چار چھوٹی بہنیں پڑھ رہی تھیں۔ والد صاحب کو فوت ہوئے پانچ برس ہو چکے تھے۔ ہم نہایت تنگ دستی اور کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ جہاں کہیں پتا چلتا کہ آسامی خالی ہے، تو میں ملازمت کے لیے درخواست دے دیتی تھی، مگر کہیں ملازمت نہ ملی۔ میں درخواستیں ٹائپ کرا کرا کر تنگ آگئی تھی۔ بس یہی سوچتی تھی کہ شاید قسمت میں ملازمت نہیں ہے۔

ایک دن اخبار میں ایک اشتہار دیکھا۔ ملازمت تو ہمارے شہر میں تھی، لیکن انٹرویو کے لیے لاہور جانا تھا، جب کہ ہمارے شہر سے لاہور کا فاصلہ پورے بارہ گھنٹے کا تھا۔ لاہور جانے کا کرایہ تک میرے پاس نہ تھا اور نہ ہی میرے ساتھ کوئی جانے والا تھا۔ امی جان نے کہا: “تم ملازمت کا خیال دل سے نکال دو”، لیکن میں نے اپنی مجبوری کو دیکھتے ہوئے یہاں بھی قسمت آزمانے کی ٹھان لی۔ بڑی مشکل سے کرایے کے پیسے جمع کیے۔ کچھ رقم امی نے پڑوسن سے ادھار لے کر دی اور میں نے اپنی بالیاں فروخت کر دیں، کیونکہ پردیس میں رقم پاس نہ ہو تو آدمی رُل جاتا ہے۔ اگلے دن میں نے بس کا ٹکٹ خریدا، ایک جوڑا بیگ میں رکھا اور خدا کا نام لے کر شام سات بجے لاری اڈے پر پہنچ گئی، کیونکہ بس کو ہمارے شہر سے رات آٹھ بجے روانہ ہونا تھا۔

تمام رات سفر طے کیا اور صبح سات بجے منزلِ مقصود پر پہنچی۔ لاری اڈے پر اتر کر وہیں لیڈیز باتھ میں جا کر ہاتھ منہ دھویا اور حلیہ درست کیا۔ تمام رات سفر کی بے آرامی نے سونے نہ دیا تھا اور اب بے خوابی سے آنکھوں کے گرد حلقے نمودار ہو چکے تھے۔ بہرحال منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور سوچا کہ کیوں نہ اڈے پر ہی چائے پی لوں اور پھر اخبار میں دیے گئے پتے پر جا کر وہ دفتر تلاش کروں جہاں آج دوپہر دو بجے انٹرویو کے لیے جانا تھا۔ چائے پینے کے بعد میں نے پیسے دینے کے لیے پرس کھولا، تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ پرس میں سے وہ سارے روپے غائب تھے جو میں سفر خرچ کے لیے گھر سے لے کر چلی تھی۔ خدا جانے کس نے اور کب بیگ میں سے رقم نکال لی تھی۔ میرے ساتھ والی سیٹ پر جو عورت بیٹھی تھی، یقیناً یہ اس کی کارستانی تھی کیونکہ پرس تو میری گود میں رکھا تھا اور سفر کے دوران اگرچہ میں مکمل طور پر نہیں سوئی تھی، مگر کبھی کبھی نیند کی جھپکیاں آتی رہی تھیں۔

میں بری طرح لٹ چکی تھی۔ کیا کروں؟ کس کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں؟ کس سے اپنی مجبوری ظاہر کروں؟ واپس کیسے جاؤں گی؟ میرے پاس تو اب ایک دھیلا بھی نہیں تھا اور لاہور شہر میں دفتر تلاش کرنا ‘جوئے شیر لانے’ سے کم نہیں تھا۔ اب امی جان کے الفاظ یاد آئے کہ اکیلے سفر کرنا ٹھیک نہیں۔ “خدا نخواستہ کہیں پردیس میں کوئی حادثہ پیش آگیا تو کیا کرو گی؟” ماں نے کتنا منع کیا تھا، مگر میں چل پڑی تھی۔ میرا بھی کیا قصور تھا؛ جو انسان بے روزگاری سے تنگ آیا ہو، وہ ہر حال میں روزگار کے مواقع تلاش کرتا ہے۔ میں لاری اڈے پر کھڑی شش و پنج میں گرفتار تھی۔ پرس کو ٹٹولا تو کچھ ریزگاری (سکے) پڑے تھے۔ میں نے چائے والے کو دے کر جان چھڑائی، مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ واپس کیسے جاؤں؟ ظاہر ہے خالی جیب میں کسی رکشے پر بیٹھ کر انٹرویو والا دفتر تو نہیں ڈھونڈ سکتی تھی۔ رکشے والا مجھ کو خدا جانے کیا سمجھ کر کہاں لے جاتا۔ پس میں نے انٹرویو دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اب مجھ کو فکر تھی کہ واپس اپنے شہر جاؤں تو کیسے؟ بغیر ٹکٹ بس میں کیسے چڑھوں؟

کچھ دیر میں لاری اڈے پر کھڑی سوچتی رہی۔ دفعتاً میں نے محسوس کیا کہ ارد گرد کی کچھ آوارہ نگاہوں نے میری پریشانی کو بھانپ لیا ہے۔ گھبرا کر عافیت اسی میں جانی کہ فوراً بس میں سوار ہو جاؤں۔ یوں میں اپنا بیگ سنبھالے بس میں سوار ہو گئی اور ایک عورت کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ میں نے اپنے بیگ کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کیونکہ اس میں میری زندگی کا انتہائی قیمتی سرمایہ، یعنی میری تعلیمی اسناد تھیں۔ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ مجھے اپنی بے عزتی کا ڈر لگ رہا تھا کہ خدایا اب کیا ہو گا؟

بس چل پڑی اور تقریباً ایک گھنٹے تک چلتی رہی۔ میں دل ہی دل میں کلامِ پاک کی آیات پڑھتی جا رہی تھی کہ اے اللہ! میری لاج رکھنا کہ تو ہی عزت دینے والا اور تو ہی ذلت سے بچانے والا ہے۔ اچانک کنڈیکٹر اپنی سیٹ سے اٹھا اور اس نے مسافروں کی ٹکٹیں چیک کرنا شروع کر دیں۔ جب وہ میرے پاس آیا تو میرے ہاتھ ہی نہیں، بلکہ سارا جسم کانپ رہا تھا اور میں پسینے سے شرابور تھی۔

“بی بی! اپنا ٹکٹ دکھائیے، آپ نے کہاں جانا ہے؟” میں چپ رہی؛ ٹکٹ ہوتا تو دکھاتی۔ کچھ دیر انتظار کے بعد وہ آگے والی سیٹوں کی طرف چلا گیا اور اگلے دو چار مسافروں کی ٹکٹیں چیک کرنے کے بعد پھر میری جانب لوٹ آیا۔ وہ سمجھا کہ شاید میں نے اب تک ٹکٹ نکال لیا ہو گا۔ “بی بی ٹکٹ دکھاؤ!” اس نے دوبارہ کہا۔ میں نے چپ سادھے رکھی۔ اب کی بار وہ جھنجھلا کر کہنے لگا: “پتا نہیں یہ گونگی ہے یا بہری؟ اس لڑکی کے ساتھ کون سفر کر رہا ہے بھائی؟” بس میں خاموشی چھائی رہی۔ کوئی ساتھ سفر کر رہا ہوتا تو بولتا۔

ٹکٹ چیکر نے جب تیسری بار ذرا بدتمیزی سے بات کی، تو میں چپ نہ رہ سکی اور کہنا ہی پڑا: “پیسے کسی نے پرس سے نکال لیے ہیں۔ میرے پاس ٹکٹ نہیں ہے۔” “ٹکٹ نہیں ہے؟ تو ٹکٹ بنوا لو۔” “کہا نا کہ پیسے نہیں ہیں۔” “اگر پیسے نہیں تھے، تو لاری میں بیٹھی ہی کیوں؟ نکالو پیسے، ہم مفت کی سواریاں نہیں بٹھاتے۔” میں چپ رہی۔

میں نے برقع اوڑھ رکھا تھا۔ برقعے کے اندر ہی آنسو آنکھوں سے گرنے لگے۔ “بس روکو بھائی!” کنڈیکٹر نے آواز دی تو ڈرائیور نے بس روک دی۔ “بی بی! یا تو ٹکٹ بنواؤ یا پھر اتر جاؤ۔” “میں آپ کو اپنے شہر پہنچ کر ٹکٹ کے پیسے دے دوں گی، ابھی میرے پاس رقم نہیں ہے اور بس سے میں اتروں گی نہیں۔” میں نے ڈھٹائی سے کہا۔ “اس ویرانے میں اتر کر کہاں جاؤں گی؟ تم مجھے بیچ راستے میں نہیں اتار سکتے، میں ایک لڑکی ہوں۔”
ساری بس کے مسافر اب میری جانب متوجہ تھے، مگر سبھی خاموش تھے اور کنڈیکٹر تھا کہ اول فول بک رہا تھا اور مسلسل مجھ سے الجھ رہا تھا۔ کہہ رہا تھا: “ٹکٹ لینا ہو گا یا بس سے اترنا ہو گا۔ آ جاتے ہیں مفت سفر کرنے! جب روپے جیب میں نہیں ہوتے تو بس میں کیوں بیٹھتے ہیں؟”

آج میری اتنی اہانت ہو رہی تھی کہ پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ آج ماں کی باتیں یاد آ رہی تھیں کہ “اکیلا سفر نہ کرو” اور میں نے ان کا کہا نہ مان کر کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ سچ ہے کہ جس ارادے میں ماں کی رضا اور دعا شاملِ حال نہ ہو، اولاد کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔

“اتر جاؤ بی بی!” کنڈیکٹر نے پھر مجھ کو یاد دہانی کرائی، تبھی ایک بزرگ سے رہا نہ گیا۔ انہوں نے کنڈیکٹر کو ڈانٹا: “ارے میاں! کیوں بدتمیزی سے بات کر رہے ہو؟ تمہیں یہ کسی شریف گھرانے کی لڑکی نظر نہیں آ رہی کیا؟ ہو سکتا ہے کہ واقعی اس کی رقم گر گئی ہو یا کسی نے اچک لی ہو۔ سفر میں سب کچھ ہو سکتا ہے۔”

“تو میاں جی! آپ ہی دے دیجیے ان کا ٹکٹ، اگر اتنی حمایت کر رہے ہیں،” کنڈیکٹر نے طنزیہ کہا۔ بڑے میاں کو بھی غصہ آگیا اور انہوں نے جیب سے پیسے نکال کر میرے ٹکٹ کی رقم ادا کر دی۔ تب کہیں جا کر میری جان میں جان آئی۔ میں نے ان سے درخواست کی: “آپ مجھے اپنا پتا دے دیجیے، میں آپ کی رقم آپ کو پہنچا دوں گی۔” لیکن انہوں نے پتا دینے سے انکار کر دیا اور کمالِ شفقت سے بولے: “بیٹی! تم مشکل میں تھیں اور میں نے تمہاری مدد کر دی۔ بس یہی کافی ہے اور یہ میرا فرض تھا۔”

میں نے گھر آ کر خدا کا شکر ادا کیا اور امی کو تمام حال سنایا۔ امی نے بھی بیٹی کی لاج رہ جانے پر شکرانے کے نفل ادا کیے۔ اس کے بعد میں نے کبھی اکیلے دوسرے شہر کا سفر نہ کیا۔ کچھ عرصے بعد مجھے اپنے ہی شہر میں ایک اچھی ملازمت مل گئی۔
اس واقعے کے پانچ برس بعد میرا رشتہ آیا اور آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ میرے سسر وہی بزرگ ہیں جنہوں نے اس دن بس میں میرا ٹکٹ لیا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا، بلکہ خدا کو شاید یہی منظور تھا کہ وہ ایک آزمائش کے ذریعے مجھے اس گھرانے سے متعارف کروائے جہاں میرا مستقبل لکھا تھا۔

جب شادی کے بعد ایک دن میں نے اپنے سسر کو وہ پرانا واقعہ یاد دلایا، تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے: “بیٹی! اس دن اللہ نے مجھ سے میرا ہی فرض ادا کروایا تھا، اسے معلوم تھا کہ تم میری ہونے والی بہو ہو۔” میں نے اس دن جان لیا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی مدد کے لیے فرشتے نہیں بھیجتا، بلکہ وہ انسانوں کے دلوں میں رحم پیدا کر کے انہیں ایک دوسرے کا وسیلہ بنا دیتا ہے۔ آج میں ایک خوش و خرم زندگی گزار رہی ہوں اور جب بھی وہ دن یاد آتا ہے، تو میرا ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے کہ اللہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
 
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ