بیوی کی بربادی

Urdu Stories

تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات تھیں۔ ہم گھر میں بیٹھے بور ہو رہے تھے کہ ایک روز امی نے کہا: “تم لوگ تیار ہو جاؤ، آج خالہ جان کے گھر جانا ہے۔” یہ سن کر ہماری باچھیں کھل گئیں۔ ان دنوں میں نویں جماعت میں تھی اور میری چھوٹی بہن عالیہ ساتویں میں پڑھتی تھی۔ خالہ جان کا گھر خاصا دور تھا اور سواری کے بغیر جانا محال تھا، اس لیے ہم نے ٹیکسی لی اور خالہ کے ہاں جا پہنچے۔ ہماری خالہ اور ان کی تین بیٹیاں ہمیں دیکھ کر پھولے نہ سمائیں، کیونکہ ہم پورے ایک سال بعد ان کے گھر گئے تھے۔ انہوں نے والہانہ انداز میں ہمارا استقبال کیا۔
cknwrites
خالہ کی تینوں بیٹیاں مجھ سے بڑی تھیں، تاہم منجھلی بیٹی صوفیہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھی۔ وہ مجھ سے پانچ سال بڑی تھی لیکن اس نے کبھی یہ احساس نہ ہونے دیا؛ ہماری بے تکلفی کی وجہ سے ہم سہیلیاں لگتی تھیں۔ جوں ہی ہم ان کے گھر پہنچے، صوفیہ نے مجھے اشارہ کیا۔ میں سیدھی اس کے کمرے میں چلی گئی جہاں وہ میرا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے میرے کان میں سرگوشی کی: “شہنیلا! پلیز، کیا تم میرا ایک کام کرو گی؟” میں نے کہا: “جی آپ بتائیے، کیا کام ہے؟” اس نے کہا: “پہلے وعدہ کرو کہ کسی کو نہیں بتاؤ گی”؛ میں نے وعدہ کر لیا۔

سچ تو یہ ہے کہ خالہ کی بیٹیوں میں صوفیہ مجھے سب سے زیادہ عزیز تھی اور میں اس کی کسی بات سے انکار نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے بتایا کہ فواد کا فون آنے والا ہے، تم ریسیو کر لینا اور اگر وہ میرے بارے میں پوچھے تو کہنا کہ باورچی خانے میں کام بہت ہے، آپ شام پانچ بجے فون کریں۔ میں نے پوچھا: “لیکن یہ فواد ہے کون؟” اس نے کہا: “کوئی ہے، بعد میں بتا دوں گی۔” یہ کہہ کر وہ کھانا بنانے باورچی خانے میں چلی گئی اور میں فون کے پاس بیٹھ گئی۔ دس منٹ بعد گھنٹی بجی، میں نے فون اٹھایا۔ اس نے اپنا نام فواد بتایا اور پوچھا: “آپ کون بول رہی ہیں؟” میں نے جواب دیا: “میں صوفیہ کی کزن ہوں۔” کہنے لگا: “پھر تو تم میری چھوٹی بہن ہو”؛ اس نے تھوڑی دیر باتیں کیں، اس کی گفتگو مجھے اچھی لگی۔ اس نے پیغام دیا: “صوفیہ سے کہنا ایک گھنٹے بعد فون کروں گا، مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے۔”

اس پیغام کی وجہ سے میں بری طرح پھنس گئی۔ خالہ بار بار آوازیں دے رہی تھیں: “شہنیلا! ادھر آؤ، وہاں کیوں اکیلی بیٹھی ہو؟ دیکھو کتنی عمدہ فلم لگی ہے اور کہانی بھی بہت اچھی ہے۔” اب فون سے پیچھا کیسے چھڑاتی؟ صوفیہ کی خاطر بہانہ بنایا کہ میرے سر میں درد ہے اور کمرے میں اندھیرا کر کے لیٹ گئی تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ مگر اکیلے وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا۔ ایک گھنٹہ گزرنے میں ابھی کافی وقت تھا اور سچ مچ بوریت ہونے لگی تھی، کیونکہ میں نہ تو میگزین پڑھ سکتی تھی اور نہ ہی ٹیپ ریکارڈر چلا سکتی تھی۔

کافی بور ہونے کے بعد دل میں خیال آیا کہ جب تک ایک گھنٹے بعد فواد کا فون نہیں آتا، تب تک میں رانگ نمبر ملا کر دل بہلاتی ہوں۔ میں نے جیسے ہی ایک نمبر ملایا، دوسری طرف سے ایک بھاری مردانہ آواز سنائی دی، جیسے کوئی ادھیڑ عمر شخص بول رہا ہو۔ مجھے آواز پسند نہ آئی تو میں نے فوراً فون رکھ دیا؛ یہ سوچ کر کہ ان انکل سے بھلا میں کیا مذاق کر پاؤں گی۔

اب میں پہلے سے بھی زیادہ بور ہونے لگی۔ دس منٹ بعد پھر ایک نمبر ملایا۔ دوسری جانب سے ایک شوخ و شریر لب و لہجے میں کسی نے “ہیلو جانِ من” کہا تو میری ہنسی نکل گئی۔ وہ مجھ سے اس طرح باتیں کرنے لگا جیسے مجھے برسوں سے جانتا ہو۔ اس نے میرا نام پوچھا اور پھر اپنا نام افنان بتایا اور کہنے لگا: “آپ کی آواز بہت خوبصورت ہے، خدا جانے آپ خود کتنی خوبصورت ہوں گی۔” اس نے مجھے اپنا صحیح نمبر لکھوایا اور اپنے ایک دوست کا نمبر بھی دیا کہ اگر وہ گھر پر نہ ملے تو سمجھ لینا کہ وہ اپنے دوست کے گھر پر ہے۔ اس نے دوست کا نام مشتاق بتایا اور بہت اصرار کرنے لگا کہ: “مجھ سے ملو، میں تمہیں دیکھنے کے لیے بے تاب ہوں۔”

سچ پوچھو تو اسی ایک لمحے میں میری دنیا بدل چکی تھی۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اسے اپنی خالہ کے گھر کا پتا دے دیا۔ خالہ کا گھر تیسری منزل پر تھا۔ میں نے افنان سے کہا کہ شام پانچ بجے آ جانا کیونکہ چھ بجے ہم واپس چلے جائیں گے۔ اس نے کہا کہ میں ہر حال میں آؤں گا، نیلے رنگ کی شرٹ پہنی ہوگی اور ہاتھ میں نیلے رنگ کی کیپ (ٹوپی) ہوگی، تم پہچان لینا۔ میں نے بتایا کہ میں نے گلابی جوڑا پہنا ہوا ہے اور ہاتھ میں سرخ کڑا ہوگا، تم بھی پہچان لینا۔ اسے اپنی پہچان بتا کر میں مطمئن ہو گئی اور پانچ بجے کا انتظار کرنے لگی۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ فواد کے فون کے انتظار کی ڈیوٹی مجھے صوفیہ نے سونپی تھی، لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ اسے پسِ پشت ڈال کر اب میں کسی اور کے انتظار میں سلگ رہی تھی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ بے حد گرم دن تھا۔ لگتا تھا جیسے آسمان سے آگ برس رہی ہو، مگر میں اتنی گرمی میں بھی بار بار گیلری میں آ جاتی تھی۔ افنان کا انتظار مجھے ایک منٹ بھی چین سے نہیں بیٹھنے دے رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ اپنی چھوٹی بہن عالیہ سے دل کی بات کہہ دوں، چنانچہ اسے گیلری میں بلا کر ساری بات سمجھا دی۔ میں نے کہا: “میں اندر بیٹھتی ہوں، تم گیلری میں افنان کا انتظار کرو، جیسے ہی وہ دکھائی دے مجھے آ کر بتا دینا۔” عالیہ کے ذمے یہ کام لگا کر میں خالہ جان کے پاس بیٹھ گئی تاکہ انہیں شک نہ ہو کہ میں کیوں بار بار گیلری کے چکر لگا رہی ہوں۔

میں خالہ سے باتیں کر ہی رہی تھی کہ عالیہ آئی اور اشارے سے مجھے بلایا۔ جب میں اس کے پاس گئی تو وہ بولی: “شہنیلا باجی! باہر بہت گرمی ہے اور جس حلیے کا لڑکا آپ نے بتایا ہے، ویسا کوئی نظر نہیں آیا۔” میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے اس نے مذاق کیا ہو، آخر اتنی گرمی میں آنا کیسے ممکن ہے!

دل کو پھر بھی تسلی نہ ہوئی، فیصلہ کیا کہ آخری مرتبہ دیکھتی ہوں، آ گیا تو ٹھیک ہے ورنہ اسے فون پر ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہہ دوں گی۔ گھڑی دیکھی تو پانچ بجنے میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔ جیسے ہی گیلری میں پہنچ کر نیچے جھانکا تو حیران رہ گئی۔ وہ میرے تصور سے کہیں زیادہ حسین تھا؛ اسے دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا جیسے چاند زمین پر اتر آیا ہو۔ کچھ دیر کے لیے خود پر رشک آنے لگا کہ میرا انتخاب کتنا اچھا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور یہ احساس ہی نہیں رہا کہ آس پاس کے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں، تبھی اس نے مجھے اشارے سے نیچے آنے کو کہا۔

میں نیچے جا کر اس سے بات کرنے سے عاجز تھی، کیونکہ خالہ کے گھر سے اکیلے باہر نہیں جا سکتی تھی؛ وہاں گھر کا ہر کام خالہ کے بیٹے ہی کرتے تھے۔ پھر افنان نے اشارے سے کہا کہ “میں فون کرتا ہوں”، میں نے جواباً اشارہ کیا “اوکے”۔ دس منٹ بعد فون آیا، صوفیہ سمجھی کہ شاید فواد کا فون ہوگا۔ جب اس نے ریسیور اٹھایا تو حیران ہو کر کہنے لگی: “آپ کون ہیں؟ یہاں کا نمبر آپ کو کس نے دیا ہے؟” تب میں نے صوفیہ کو سارا قصہ سنا دیا۔ وہ مجھ پر غصہ ہونے کے بجائے مسکرا کر بولی: “سچ ہے، خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ نہ میں تم سے ایسا کام کرنے کو کہتی اور نہ تم اس چکر میں پڑتیں۔ اچھا خیر! اب اگر گرفتارِ بلا ہو ہی گئی ہو تو بات کر لو، میں کسی سے نہیں کہوں گی؛ تم اطمینان سے بات کرو، میں کسی کو کمرے میں نہیں آنے دوں گی۔”

حوصلہ افزائی ہوئی تو میں نے جرأت کر کے افنان کو فون کیا، پہلے اس کے گھر سے کسی لڑکی نے فون اٹھایا تو میں نے ڈر کر رکھ دیا، لیکن پانچ منٹ بعد دوبارہ فون کیا۔ دوسری طرف سے وہی آواز سنائی دی جس کی میں منتظر تھی۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی؛ اس نے کہا: “شہنیلا! تم مجھے بہت اچھی لگی ہو۔ میں لڑکیوں کے پیچھے بھاگنے والا نہیں ہوں، میری زندگی میں پہلی بار اگر کسی لڑکی نے قدم رکھا ہے تو وہ تم ہو۔ تم سے پہلے کوئی تھا اور نہ تمہارے بعد کوئی ہوگی۔”

اس وقت میری کیا کیفیت تھی، یہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ ہمارا گھر نہیں ہے، ہم یہاں مہمان آئے ہیں اور رات کو چلے جائیں گے۔ اس نے مجھ سے فون نمبر مانگا، مگر اتفاق سے ہمارے گھر فون نہیں تھا۔ یہ سن کر اسے کافی مایوسی ہوئی، لیکن میں نے وعدہ کیا کہ میں کسی نہ کسی طرح رابطہ رکھوں گی۔ وہ بار بار اصرار کر رہا تھا کہ کسی طرح اس سے ملاقات کروں، مگر میں نے اپنی مجبوری بتائی کہ میں اکیلی نہیں آ سکتی۔ وہ بولا: “اپنی کزنوں کو بھی ساتھ لے آؤ، اچھا ہے رونق بڑھ جائے گی”؛ اس کی بات سن کر میں ہنس دی۔ افنان جتنا حسین تھا، اس کی تاریخِ پیدائش بھی اتنی ہی خاص تھی؛ وہ 14 اگست کو پیدا ہوا تھا۔ اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اس کی سالگرہ سے پہلے اس سے ملوں۔ دل تو بہت چاہتا تھا کہ ملاقات کا کوئی راستہ نکالوں، لیکن دل میں ایک انجانا خوف بھی تھا، کیونکہ کسی اجنبی پر بھروسہ کرنا ٹھیک نہیں تھا۔ خیر! میں نے وعدہ کیا کہ کوشش کروں گی۔

اتنے میں امی کی آواز آئی: “شہنیلا! کہاں ہو؟ جلدی آؤ، اب گھر چلنا ہے۔” یہ آواز فون کے ذریعے افنان کے کانوں تک بھی پہنچی تو وہ پریشان ہو گیا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ میں ہر صورت تم سے ملنے آؤں گی۔ یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا اور ہم لوگ گھر واپس آ گئے۔ لیکن یہ واپسی کیسی واپسی تھی؟ میں تو صحیح سلامت گئی تھی، مگر اب میرا دل وہیں رہ گیا تھا۔ گھر آ کر میں بے کل ہو گئی، مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ کبھی اس کی باتیں سوچ کر ہنس دیتی، تو کبھی جدائی کا خیال آتے ہی رو پڑتی۔

میری ایک کزن نیما میرے پاس آئی، وہ میری یہ حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی اور کہنے لگی: “شہنیلا! کیا بات ہے؟ تمہیں پہلے کبھی اتنا اپ سیٹ (پریشان) نہیں دیکھا۔” شاید اس وقت مجھے کسی غمگسار کی شدید ضرورت تھی، چنانچہ میں نے دل کا حال اسے سنا دیا اور آبدیدہ ہو گئی۔ وہ کہنے لگی: “گھبراؤ نہیں، میں تمہارا ساتھ دوں گی۔”

وہ رات میں نے جاگ کر گزاری۔ صبح نیما امی کے پاس آئی اور کہنے لگی: “خالہ! جب آپ لوگ گئے ہوئے تھے تو شازیہ کی امی، جو ہماری رشتے کی خالہ لگتی ہیں، قرآن خوانی کا کہہ کر گئی تھیں۔ ہم لوگ وہاں جا رہے ہیں، اگر آپ اجازت دیں تو شہنیلا کو بھی ساتھ لے جائیں۔” امی نے کہا: “ٹھیک ہے، پر عالیہ کو بھی ساتھ لے جانا ورنہ وہ میرا سر کھائے گی۔” اجازت کیا ملی، گویا پورے بدن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہم سیدھے شازیہ کے گھر پہنچے؛ وہ میری بہت اچھی کزن تھی اور مزے کی بات یہ کہ ان کے ہاں فون بھی تھا۔

اب مسئلہ کیا تھا؟ شازیہ کو ساری تفصیل بتائی تو اس نے جلدی سے نمبر ملا کر دیا، فون پھر کسی لڑکی نے اٹھایا۔ میں نے مجبور ہو کر افنان کا پوچھا تو اس لڑکی نے کافی بدتمیزی سے بات کی۔ میں تو رونے بیٹھ گئی کہ اب کیا ہوگا؟ کتنی مصیبت سے یہاں آئے تھے مگر گوہرِ مراد نہ مل سکا۔ تبھی نیما نے یاد دلایا کہ افنان نے تمہیں اپنے دوست مشتاق کا نمبر بھی تو دیا تھا، اسے فون کرو شاید وہ وہاں مل جائے۔ میں نے جوں ہی نمبر ملایا، مشتاق نے فون اٹھایا۔ افنان کا پوچھا تو اس نے سوال کیا: “آپ کون؟” مجھے نام بتانا پڑا، تبھی اس نے فوراً فون افنان کو دے دیا۔

افنان کی آواز سن کر میری جان میں جان آئی۔ اس نے کہا: “میں بھی تمہیں بہت یاد کر رہا تھا، ابھی دوست سے تمہارا ہی ذکر ہو رہا تھا؛ سچ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ چین تو ہم دونوں کا کھو گیا ہے، آج ہر حال میں مجھ سے ملو ورنہ مجھے کھو دو گی۔”

میں نویں جماعت کی نادان لڑکی تھی اور کسی قیمت پر اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔ جب دوپہر کو سب سو گئے تو میں، نیما اور شازیہ “سہیلی کے گھر” جانے کا بہانہ کر کے نکل آئے۔ افنان نے ہمیں نزدیکی ایک بیوٹی پارلر پر بلایا تھا، وہ وہاں پہلے سے موجود تھا۔ میری دونوں کزنیں پارلر میں رک گئیں اور مجھ سے کہا کہ جلدی واپس آ جانا۔

مجھے کافی ڈر لگ رہا تھا، پھر بھی میں افنان کے ساتھ چلی گئی۔ وہ مجھے ایک سنسان بنگلے میں لے آیا جو ابھی نامکمل تھا۔ جب اس نے کہا “اترو” تو میری سانس رک گئی۔ میں نے شکوہ کیا: “افنان! یہ تم مجھے کیسی بھیانک جگہ لے آئے ہو؟” اس نے دلاسا دیا: “ڈرو مت! یہ ایک دوست کا بنگلہ بن رہا ہے۔ ہم کسی ہوٹل میں تو مل نہیں سکتے تھے، اگر تمہارے یا میرے کسی رشتے دار نے دیکھ لیا تو غضب ہو جائے گا۔” میں نے کہا: “وہ تو ٹھیک ہے، مگر ہم یہاں اکیلے ہیں اور یہ سنسان جگہ مجھے اچھی نہیں لگ رہی۔” اس نے کہا: “ابھی تھوڑی دیر میں مشتاق بھی آ جائے گا، اسے تم سے ملنے کا بڑا شوق ہے۔” واقعی تھوڑی دیر بعد مشتاق آ گیا تو میری سانس میں سانس آئی کہ اب ہم اکیلے نہیں تھے بلکہ ایک تیسرا شخص بھی موجود تھا۔

میں نے تو اسے “مشتاق بھائی” کہہ کر سلام کیا، مگر اس کے گھورنے کا انداز عجب تھا؛ وہ مسلسل مجھے تک رہا تھا۔ اسی وقت افنان نے کہا: “میں ابھی کولڈ ڈرنک لے کر آتا ہوں، گرمی بہت ہے۔” میں نے گھبرا کر کہا: “تم سے پھر کبھی مل لوں گی۔” وہ بولا: “اچھا بھئی! جیسی تمہاری مرضی، کوئی زبردستی نہیں ہے؛ لیکن ایک بات غور سے سن لو، مجھے کبھی غلط انسان نہ سمجھنا، تم ایک معصوم لڑکی ہو اور تمہاری عزت مجھے عزیز ہے۔” جب اس نے یہ بات کہی تو وہ مجھے اور بھی اچھا لگنے لگا۔

“میں تمہاری سالگرہ کے لیے تحفے جمع کر رہی ہوں۔” اس نے جواب دیا: “ٹھیک ہے، میں بھی تمہیں تحفہ دینا چاہتا ہوں، مگر تم پہلے مجھ پر اعتبار کرنا تو سیکھ لو۔” تب میں نے سرگوشی کی: “افنان! مجھے تم پر تو پورا بھروسہ ہے، مگر تمہارے اس دوست پر بالکل نہیں۔ میں اس کی آنکھوں میں کچھ اور ہی (شرارت) دیکھ رہی ہوں۔” وہ ہنس کر بولا: “یہ شخص ہماری مجبوری ہے، وقت پڑنے پر تو گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔” پھر میں نے اصرار کیا کہ اب مجھے چھوڑ آؤ۔ افنان بولا: “چلو، جلدی گھر جانا شاید تمہاری مجبوری ہو۔”

ہم گھر چلے آئے۔ اب مجھے افنان پر پورا بھروسہ ہو گیا تھا، لیکن اس کے بعد میری اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔ جب بھی فون کرتی وہ نہ ملتا؛ مجبوراً مشتاق کو فون کرنا پڑتا تو وہ انتہائی گھٹیا باتیں کرنے لگتا۔ وہ مجھ سے فرمائش کرتا کہ “تم مجھ سے اکیلی ملو” اور نہ جانے کیا کیا بکواس کرتا رہا۔ یہاں تک کہ کہنے لگا: “مجھے تمہاری کزن شازیہ پسند ہے، اسے کہو مجھ سے دوستی کرے۔” غرض ایسی باتیں سن کر میں نے فون بند کر دیا۔

اسی دوران میری کزن نیما کی منگنی ہو گئی۔ اس کی ماں نے کہا کہ تم سارے رشتے داروں کو مٹھائی دے آؤ۔ میں خوش ہو گئی کیونکہ ہمارے تمام رشتے داروں کے گھروں میں فون تھا۔ میں نے ہر گھر سے افنان کو فون کیا اور آخر کار وہ مل گیا۔ ہم باتیں کر کے بہت خوش ہوئے۔ میں نے اسے بتایا کہ تمہاری سالگرہ کے لیے بہت اچھے تحفے لیے ہیں۔ اس نے کہا: “مگر میری سالگرہ کا دن تو گزر گیا ہے۔” میں نے جواب دیا: “کوئی بات نہیں، میں کل آؤں گی۔ افنان! مجھے تم پر بھروسہ ہے، جہاں بلاؤ گے میں آ جاؤں گی، ذرا بلا کر تو دیکھو۔”
یہ ستمبر کا مہینہ اور جمعرات کا دن تھا۔ میں کس مشکل سے ملنے گئی، یہ صرف میں ہی جانتی ہوں۔ ہم افنان کے دوست کے فلیٹ پر ملے اور باتیں کرتے رہے۔ اس دن یہ المیہ ہوا کہ جو تحفے میں نے افنان کو دینے تھے، انہیں میں ٹیکسی میں ہی بھول گئی۔ جب وہاں پہنچ کر سامان یاد آیا تو میرا موڈ خراب ہو گیا۔ افنان نے کہا: “کوئی بات نہیں”، مگر میرا رو رو کر برا حال تھا۔ میری کزن دوسرے کمرے میں تھی اور میں افنان کے ساتھ الگ کمرے میں تھی۔

مجھے روتا دیکھ کر نہ جانے اسے کیا ہوا کہ اس کی آنکھیں عجیب سی ہونے لگیں۔ آخر باتوں باتوں میں اس نے مجھ سے ایک ایسی بات کہی جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے حیران ہو کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا: “افنان! ہوش میں ہو؟ آج تم کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو؟” وہ بولا: “میرا دوست مشتاق کہتا ہے کہ جو لڑکی اپنے دوست کو قریب نہ آنے دے، سمجھ لو کہ وہ اسے دھوکا دے رہی ہے۔”

میں اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ مشتاق کی نیت کیا تھی، آخر کار وہ اپنی چال میں کامیاب ہو گیا تھا (یعنی اس نے افنان کے کان بھر دیے تھے)۔ میں نے تبھی افنان سے کہہ دیا: “اگر تم اس بات کو محبت سمجھتے ہو، تو آئندہ میں تم سے کبھی نہیں ملوں گی۔” اس وقت وہ بھی کافی غصے میں تھا، اس نے مجھے دھکا دے دیا تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

میں واپس گھر آگئی اور سوچا کہ کچھ دن بعد فون کر کے اسے منا لوں گی اور مشتاق کی ساری حقیقت اسے بتا دوں گی۔ ایک دن فون کیا تو افنان ہی نے اٹھایا۔ میں باتیں کرنے لگی، وہ پہلے تو خاموشی سے سنتا رہا، لیکن جب میں نے پوچھا: “کیا اب ملو گے نہیں؟” تو دو ٹوک لہجے میں بولا: “نہیں، کبھی نہیں!” میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا: “شہنیلا! تمہاری بھلائی اسی میں ہے۔ ایک بات بتا دوں، تمہاری قسمت اچھی تھی ورنہ ہم اچھے لڑکے نہیں ہیں۔ ہم بہت خراب لوگ ہیں اور جو لڑکی تنہائی میں ملنے آ جائے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ ہمارے ہاتھ سے بچ کر نکل جائے۔ تم واحد خوش قسمت ہو کہ ابھی تک محفوظ ہو، اور اس کی وجہ شاید تمہاری معصومیت ہے۔ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے؛ اگر مشتاق جیسا آدمی میرا گہرا دوست ہے تو تم خود سوچ سکتی ہو کہ میں کیسا ہوں گا۔ خدا جانے کیوں، میرا دل نہیں چاہا کہ میں تمہیں برباد کروں۔”
میری سسکیاں نکل گئیں، میں نے کہا: “افنان، بس کرو!” وہ بولا: “سچ کہتا ہوں، شکر کرو کہ میں اپنے غلط ارادوں سے باز آگیا، مگر ہر بار ایسا نہیں ہوتا کیونکہ میں انسان ہوں، فرشتہ نہیں۔ لہٰذا ہمیشہ کے لیے خدا حافظ، کبھی مجھ سے ملنے کی آرزو نہ کرنا۔” یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ اس کے بعد میں نے کئی بار فون کیا مگر رابطہ نہ ہو سکا کیونکہ اس نے تمام نمبر بدل دیے تھے۔ مجبوراً مشتاق کو فون کرتی تو وہ آگے سے بیہودہ باتیں کرنے لگتا، پھر کچھ وقت بعد اس کا نمبر بھی بدل گیا۔

کافی دن اسے تلاش کیا مگر کوئی سراغ نہ ملا، یوں تمام رابطے ختم ہو گئے۔ افنان ایک کبھی نہ بھولنے والی یاد بن گیا۔ اس کی یاد ذہن سے چپک کر دل کا ناسور اور روح کا روگ بن گئی۔ وہ چاہتا تو خود رابطہ کر سکتا تھا، اس کے پاس میرے اور میری کزنوں کے تمام نمبر تھے، لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔ شاید وہ مجھے غلط راستے سے روکنا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے ناتا توڑ لیا؛ ورنہ اگر وہ برا تھا تو اسے میرے ساتھ برائی کرنے سے کون روک سکتا تھا؟ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے سچی محبت کرنے لگا تھا، اسی لیے اس نے راستہ بدل لیا، کیونکہ جس سے محبت ہو اسے اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتے نہیں دیکھا جا سکتا۔

اس واقعے کے چار سال بعد میری شادی ہوگئی۔ میں ماضی کی ان گہری یادوں کو دل کے نہاں خانوں میں چھپا کر اپنے شوہر کے ساتھ نئی زندگی میں آگئی۔ میرے شوہر الیاس ایک بہت اچھے انسان ہیں اور مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ میں نے بھی ایک اچھی بیوی کی طرح ان کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور کبھی شکایت کا موقع نہ دیا، لیکن افنان کو نہ بھلا سکی۔ شاید وہ ایک بھولی بسری کہانی بن جاتا، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

ایک دن الیاس نے کہا کہ آج میرا ایک پرانا دوست آنے والا ہے، اچھا سا کھانا تیار کر دو۔ میں نے حکم بجا لاتے ہوئے ان کی پسند کے مطابق دعوت کا اہتمام کیا۔ دیرینہ دوست کے آنے پر الیاس بہت خوش نظر آ رہے تھے۔ میں نے کھانا لگا دیا اور جب وہ کھانا کھا چکے اور میں برتن اٹھانے گئی، تو اچانک مہمان پر نظر پڑی۔ وہ افنان تھا! اسے دیکھ کر میرا دل دھک سے رہ گیا اور میں دیر تک کچن میں گم صم کھڑی رہی۔
اس کے چلے جانے کے بعد الیاس نے خود بخود بتانا شروع کیا: “اس کی بھی عجیب کہانی ہے۔ لڑکیوں کو پھنسانا ان لوگوں کا مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ میٹرک میں یہ میرا کلاس فیلو تھا، بعد میں، میں لاہور پڑھنے چلا گیا اور یہ ملتان ہی رہ گیا۔ تب ان کا ایک گروہ بن گیا تھا جو بدمعاشوں کا گروپ تھا اور جس کا سرغنہ مشتاق نامی شخص تھا۔ یہ لوگ کسی بھی لڑکی کو ورغلا کر لاتے اور اسے برباد کر دیتے، لیکن پھر افنان کی زندگی میں ایک لڑکی ایسی آئی جس کو برباد کرنے پر اس کا دل آمادہ نہ ہوا۔ اس لڑکی کی خاطر اس کی مشتاق سے لڑائی ہوگئی اور یہ اس گروہ سے علیحدہ ہوگیا۔ تب سے یہ بالکل پارسا ہو گیا ہے، مگر وہ لڑکی کہیں کھو گئی اور یہ اب تک اس کی یاد میں آہیں بھرتا ہے۔”

اپنے شوہر کی زبانی یہ رُوداد سُن کر میں سُن ہو کر رہ گئی۔ میں اپنے شوہر کو یہ بھی نہ بتا سکی کہ وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ میں ہی تھی۔ سچ ہے کہ کوئی بھی بیوی اپنے شوہر سے ایسی بات نہیں کر سکتی، سو میں چپ رہی اور آج تک چپ ہوں؛ مگر اس دن کے بعد افنان پھر کبھی ہمارے گھر نہیں آیا۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ