میرا نام عروسہ ہے۔ ہم چار بہنیں اور ہمارے تین بھائی تھے۔ ہم ہنسی خوشی رہ رہے تھے کہ اچانک امی بیمار ہو گئیں ۔ کافی علاج معالجہ ہوا، مگر وہ ٹھیک نہ ہو سکیں اور ہمیں بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ گئیں۔ یہ ہم پر ایک بڑا سانحہ ٹوٹا تھا۔ کچھ دن تو دادی جان ہمارے پاس آکر رک گئیں، مگر وہ معلمہ قرآن تھیں اور ایک مدرسہ سنبھالتی تھیں۔ ان کی شاگرد لڑکیاں بھی تعداد میں کافی تھیں، لہذا وہ واپس اپنے شہر جانا چاہتی تھیں تاکہ مدرسے کے امور میں تعطل نہ ہو۔ انہوں نے تبھی ابو پر دباؤ ڈالا کہ دوسری شادی کر لو تاکہ نئی بیوی آکر تمہارا گھر سنبھال لے، بچوں کو وقت پر کھانا وغیرہ مل جائے اور یہ باقاعدگی سے اسکول جا سکیں۔
cknwrites
میری سب سے بڑی بہن آپا سطوت تب سولہ برس کی تھیں۔ دادی جانتی تھیں کہ آپا گھر سنبھال سکتی ہیں، پھر بھی انہوں نے میرے والد کی دوسری شادی کروا دی اور خود ہم سے گلو خلاصی کروا کر اپنے شہر لوٹ گئیں۔ نئی ماں کے آنے سے شروع میں آپا بہت اپ سیٹ (پریشان) ہوئیں۔ اس بات کو نئی امی نے سمجھ لیا اور وہ ان کی شادی کے لیے بھاگ دوڑ میں لگ گئیں۔ جلد ہی آپا کا رشتہ امی جان کے کزن سے طے کر دیا گیا۔ ابھی آپا کی عمر سولہ برس تھی، مگر پھر بھی ان کی شادی کر دی گئی۔ میں نے بھی سوتیلی والدہ سے سمجھوتہ کر لیا۔ ان کی تابعداری اور خدمت کرنے لگی، گھر میں سکون ہو گیا، لیکن بدقسمتی سے انہی دنوں ابو کو فالج ہو گیا۔ انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ بڑھاپے کی شادی کا یہ انجام ہوا کہ اب ہمارے ساتھ ان کے دو چھوٹے بچے بھی دربدر ہو گئے۔
دادی ہمیں اپنے پاس لے آئیں اور سوتیلی ماں اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ میرے بڑے بھائی کے پاس رہنے لگیں۔ اس وقت بڑے بھائی کی شادی ہو گئی تھی۔ وہ برسرِ روزگار تھا اور اپنی بیوی کے ہمراہ علیحدہ گھر میں رہتا تھا۔ والد صاحب کی خدمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ بیوی نے کہہ دیا کہ “میں ان کی خدمت کروں یا چھوٹے بچوں کو سنبھالوں؟” تبھی میرے چچا آئے اور مجھے اور والد صاحب کو اپنے گھر لے گئے۔ یوں ہمارا خاندان بکھر گیا۔
ہمارے ساتھ والے گھر میں اسرار نامی لڑکا رہتا تھا۔ وہ دسویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ میں اب کافی بڑی اور سیانی ہو گئی تھی۔ ایک انجانی قوت مجھے اس لڑکے کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی تھی، حالانکہ کوشش کرتی تھی کہ اس کی طرف نہ دیکھوں۔ ایک بار میری چچازاد بہن نے کہا کہ جاؤ، اسرار سے فلاں کتاب لے آؤ۔ میں گئی اور اس سے کتاب لے آئی۔ دوسری بار جب میں کتاب لینے گئی تو مجھے اسرار کی کزن عظمیٰ مل گئی۔ میں نے اس سے کہا کہ تم مجھے اسرار سے کتاب لا دو۔ اسرار نے اس کو کتاب نہ دی بلکہ کہلوا دیا کہ “عروسہ سے کہو خود آکر لے جائے، نہ جانے وہ کون سی کتاب مانگ رہی ہے”۔ عظمیٰ نے آکر مجھے بتایا، مگر میں نے اس کے گھر جانے سے انکار کر دیا۔ اگلے دن پتا چلا کہ وہ پڑھنے کے لیے کل کراچی روانہ ہو رہا ہے۔ یہ خبر سن کر میں افسردہ ہو گئی اور سوچا، کاش! خود کتاب لینے چلی جاتی۔ جانے وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔
اسی افسردگی میں چھت پر چلی گئی۔ وہاں وہ پہلے سے موجود تھا۔ مجھے علم نہ تھا کہ وہ وہاں ہوگا لیکن اس کو دیکھ کر مجھے یک گونہ سکون سا ملا۔ اس نے اشارے سے کہا کہ “میں جا رہا ہوں”۔ میں چپ رہی۔ اسی لمحے اس نے چاکلیٹ کا پیکٹ ہماری چھت پر پھینک دیا، تبھی چچی آگئیں اور انہوں نے وہ پیکٹ اٹھا لیا۔ اس کے اندر چاکلیٹ کی بجائے خط تھا۔ انہوں نے خط پڑھا اور مجھے کہا کہ “تمہارے یہ کرتوت ہیں۔ ابھی جا کر تیرے چچا کو بتاتی ہوں”۔ میں نے ان کو یقین دلانا چاہا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں، میں تو ویسے ہی چھت پر آئی تھی۔ مجھے تو پتا بھی نہیں تھا کہ اسرار یہاں ہوگا، لیکن چچی نے میری بات کا یقین نہیں کیا اور خط چچا جان کو دے دیا۔ خدا جانے اس میں کیا درج تھا کہ چچا جان نے اسرار کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ یوں وہ بیچارا جیل چلا گیا۔ اس کی تعلیم کا خواب دھرا کا دھرا رہ گیا۔ اب میں خود کو اس کا مجرم سمجھتی تھی۔ مجھے چچی جان سے نفرت ہو گئی تھی۔ روز ہی اسرار کی والدہ آکر چچی کی خوشامد کرتیں، ہاتھ جوڑتیں کہ ان کا بیٹے بے گناہ ہے، اسے جیل سے چھڑا دو، لیکن چچی جان کو رحم نہ آتا۔
میرے دل میں پہلے تو اسرار کے لیے محبت کے جذبات نہیں تھے، لیکن جب وہ پکڑا گیا، اسے پولیس نے مارا پیٹا اور وہ جیل چلا گیا تو پھر میرے دل میں اس کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گئے۔ اب میں ہر وقت دعا کرتی تھی کہ “اے اللہ! اسرار کو جیل سے رہائی دلا دے”۔ انہی دنوں ابو فوت ہو گئے۔ یہ شاید اسرار کی بد دعا تھی۔ چار ماہ بعد اسرار رہا ہو کر گھر آیا۔ اس دن میں داخلہ ٹیسٹ کا آخری پرچہ دے کر آئی تو برابر والے گھر سے اسرار کی آواز سنائی دی۔ اس کی آواز سن کر میں خوش بھی ہوئی کہ وہ واپس آ گیا تھا اور غم بھی تھا کہ اب اس کی والدہ پورے محلے میں پھیلا دیں گی کہ عروسہ بری لڑکی ہے، وہ میرے بیٹے سے تعلق رکھتی تھی جس کی وجہ سے میرا لڑکا جیل گیا۔ ابھی تک تو وہ چپ تھیں، لیکن اب چپ نہ رہ سکتی تھیں۔
یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ اسرار کی ماں اعتکاف میں بیٹھی تھی۔ میں نے اس دن کپڑے دھوئے اور رسی پر لٹکانے کے لیے چھت پر گئی، تو میں نے وہاں اسرار کو دیکھا۔ اس نے میرا نام لیا۔ میں ڈر گئی کیونکہ نیچے صحن میں میرے چچا چچی بیٹھے تھے، جبکہ اسرار کی چھت پر ایک کمرہ تھا جس میں اس کی ماں اعتکاف میں بیٹھی تھی۔ میں فوراً ڈر کر نیچے آ گئی۔ اس دن ہماری افطاری دوسرے چچا کے گھر پر تھی۔ ہم مغرب سے پہلے ہی وہاں چلے گئے۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ جب اسرار کی ماں اعتکاف سے فارغ ہوئی، تو اس نے سارے محلے میں پھیلا دیا کہ “عروسہ اسرار سے چھت پر آکر باتیں کرتی ہے۔ ناحق ان لوگوں نے میرے لڑکے کو جیل کروائی، اپنی لڑکی کو کچھ نہ کہا اور میرے بیٹے کو سزا دلوا دی”۔ اسرار کی ماں کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ اس کا بیٹا شہر جا کر پڑھنے سے رہ گیا تھا اور اب جیل جانے کی وجہ سے سب کی نظروں میں برا ٹھہرا تھا۔
اسرار کو بھی اس بات کا اتنا دکھ ہوا کہ اس نے پڑھائی میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ وہ کہتا تھا کہ “میرا جرم اتنا بڑا تو نہ تھا جتنی مجھے سزا دی، اللہ ان کو ضرور پکڑے گا”۔ میں اسرار کی بد دعا سے ڈرتی تھی، لیکن اس میں میرا تو کوئی قصور نہ تھا، تاہم سوچتی ضرور تھی کہ اگر کبھی وہ مل گیا تو میں اس سے معافی مانگوں گی کیونکہ میری وجہ سے اس نے اتنے برے دن دیکھے تھے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد چچا کے گھر میں میرا دم گھٹنے لگا تھا۔ چچی کا رویہ روز بروز سخت ہوتا جا رہا تھا۔ جلد ہی انہوں نے اپنی ذمہ داری سے چھٹکارا پانے کے لیے میرا رشتہ حسیب نامی شخص سے کر دیا، جو آپا سطوت کے سسرال کا دور کا رشتہ دار تھا۔ میں نے سر جھکا کر تقدیر کا یہ فیصلہ قبول کر لیا اور رخصت ہو کر ایک نئے گھر آ گئی۔ مگر میری بدقسمتی نے یہاں بھی میرا پیچھا نہ چھوڑا؛ شادی کے چند ہی دنوں بعد پتا چلا کہ حسیب نہ صرف نشے کا عادی ہے بلکہ وہ جسمانی طور پر شادی کے قابل بھی نہیں ہے۔
میری ساس بوڑھی تھیں اور آپا دوسرے شہر میں تھیں۔ میں سارا دن گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ ہمارے گھر میں فون بھی تھا، لہذا تنہائی کاٹنے کو میں نے فون کا سہارا لیا۔ ایک دن میں نے ویسے ہی چچی کے گھر فون کیا، تو نمبر ساتھ والے گھر کا جا لگا جو اسرار کا تھا۔ میری بدقسمتی کہ فون بھی اس نے اٹھایا۔ میں نے گھبرا کر فون رکھ دیا، لیکن اس نے میری آواز پہچان لی تھی۔ خدا جانے اس نے کیسے ہمارا نمبر معلوم کیا کہ آدھ گھنٹے کے بعد فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون اٹھایا۔ اسرار نے کہا: “فون بند مت کرنا، میں اسرار بول رہا ہوں۔ بڑی مشکل سے تمہارا نمبر ملا ہے۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہے تو مجھے بتاؤ۔ ڈرو نہیں، میری ذات سے کبھی تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا”۔ “مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے لیکن میرا شوہر شادی کے قابل نہیں ہے”، بے اختیار سچ میرے منہ سے نکل گیا۔ “اگر تم اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں تو اس سے فوراً طلاق لے لو، ایسے شخص کے ساتھ تمام عمر رہنا ظلم ہے”۔ “اچھا میں پھر بات کروں گی”، یہ کہہ کر میں نے فون رکھ دیا۔ ڈر اور گھبراہٹ کی وجہ سے مجھے پسینہ آ رہا تھا کہ یہ میں نے کیا بات اس سے کہہ دی؟ ایک غیر آدمی سے! حالانکہ میرا دل اندر سے گواہی دیتا تھا کہ وہ غیر نہیں ہے، لیکن میرا اس کے ساتھ کوئی رشتہ بھی تو نہیں تھا۔
ایسے ہی دن گزرتے رہے۔ کبھی فون کی گھنٹی بجتی اور بچ بچ کر خود ہی خاموش ہو جاتی۔ میرا دل دھڑکتا رہتا، لیکن میں فون نہ اٹھاتی۔ ایک دن میرا شوہر آیا، آج وہ نشے میں تھا۔ اس نے آتے ہی مجھے بلاوجہ مارنا شروع کر دیا اور جب مار چکا تو دوسرے کمرے میں لیٹ گیا۔ اس وقت شام کے آٹھ بجے تھے، میں بیٹھی رو رہی تھی۔ میرا کیا قصور تھا جو اس نے مجھے مارا ہے؟ یہی سوچ رہی تھی کہ کاش اس وقت کوئی میرا ہمدرد ہوتا، کوئی میری فریاد سننے والا ہوتا۔ شاید دل سے آہ نکلی تھی کہ دعا قبول ہو گئی اور اسی وقت فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے فون اٹھایا، اسرار کا فون تھا۔ اس نے ہیلو کہا تو میں رونے لگی۔ حسیب نشے میں ہونے کی وجہ سے سو چکا تھا، پھر بھی میں نے خوف کی وجہ سے بات نہیں کی اور اسرار سے کہا کہ “بعد میں فون کرنا، میں سب بتاؤں گی”۔ اگلے دن اس نے فون کیا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اس روز اس سے بہت ساری باتیں کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال دی، کیونکہ گھر میں اکیلی تھی۔اس طرح وہ روز فون کرتا اور میں گھنٹوں اس سے باتیں کرتی۔ یوں دو سال کا عرصہ میں نے اس کے ساتھ صرف فون پر باتیں کر کے گزار دیا، مگر کبھی اس سے ملاقات نہیں کی، البتہ جب چچا کے گھر جاتی تو چھت کی دیوار سے ان کے صحن میں جھانک کر اسے دیکھنے کی کوشش ضرور کرتی۔ میری شادی کو چار سال ہونے والے تھے۔ ایک شام اس نے فون کیا، میں نے اٹھایا اور اس کے ساتھ باتیں کرنے لگی۔ یہ خیال بھی نہ رہا کہ میرا شوہر اس وقت آ جائے گا کیونکہ وہ دکان سے دیر سے آتا تھا، لیکن اس دن حسیب جلدی آ گیا۔ وہ باہر صحن میں تھا، مجھے پتا نہ چلا وہ کس وقت آیا۔ اس نے پوچھا: “کس کا فون ہے؟” میں نے جھوٹ بول دیا کہ میری سہیلی کا فون ہے۔ جب اس نے فون سننے کے تجسس میں دوسرا سیٹ اٹھا لیا (حالانکہ میں نے فون بند کر دیا تھا، لیکن ادھر سے اسرار کی آواز آ رہی تھی) تو اب میرا شوہر آپے سے باہر ہو گیا اور مجھے طلاق کی دھمکیاں دینے لگا۔ تبھی میں نے اس کے پاؤں پکڑ لیے اور معافی مانگی، کیونکہ اگر وہ مجھے طلاق دیتا تو پھر میری بہن کو بھی طلاق مل جاتی جن کے تین بچے تھے، ان کا گھر اجڑ جاتا۔ یہ قربانی میں نے اپنی بہن کی خاطر دی تھی، ورنہ یہ سب رائیگاں چلا جاتا۔
اب میرے شوہر کا موڈ ٹھیک نہیں رہتا تھا۔ وہ ہر وقت مجھ پر برستا اور خفا رہتا۔ آخر میں نے اس کو ایک دن ہاتھ جوڑ کر کہا: “دیکھو، غلطی انسان سے ہو جاتی ہے، میں بھی انسان ہوں۔ جب میں تمہارے جیسے انسان کے ساتھ تمہارے گھر میں رہ سکتی ہوں، تو تم مجھے معاف کیوں نہیں کرتے؟ جبکہ تم شادی کے قابل نہیں اور کوئی عورت ایسے مرد کے ساتھ نہیں رہتی بلکہ طلاق لے لیتی ہے”۔
اس نے کہا: “میں تم کو صرف ایک شرط پر معاف کر سکتا ہوں اور وہ شرط یہ ہے کہ تم اسرار کو فون کر کے کہو کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے، لہذا اب وہ تم سے شادی کر لے”۔
شوہر کے مجبور کرنے پر میں نے ایسا ہی کہا، لیکن اسرار نے یہ بات سن کر کہا: “عروسہ، میں مجبور ہوں، میرے گھر والے نہیں مانیں گے۔ تم سے بات چیت تو میں صرف اس وجہ سے کر لیتا تھا کہ تم کو ایک ہمدرد اور غمگسار کی ضرورت تھی۔ اگر مجھے تم سے محبت ہوتی، تو کیا میں نے تم سے کبھی ملاقات کے لیے نہ کہا ہوتا؟”
یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسرار جس کے لیے میں نے دنیا سے بیر لیا، جس کے لیے میں نے بدنامی سہی، اس نے کتنی آسانی سے اسے صرف ایک “ہمدردی” کا نام دے کر اپنا دامن جھاڑ لیا تھا۔ یہ گفتگو میرے خاوند نے دوسرے سیٹ پر سنی اور طنزیہ ہنستے ہوئے کہا: “دیکھو، شوہر کے علاوہ تمہارا کوئی نہیں ہے۔ گھر سے نکل کر کہاں جاؤ گی؟”آج میری شادی کو چھ سال ہونے کو ہیں۔ اسرار کراچی چلا گیا ہے۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے اپنی بے رخی سے اتنا بڑا دھوکا دیا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ کبھی میرا ہمدرد تھا ہی نہیں، وہ تو بس میری بے بسی کا تماشائی تھا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اسے ڈھیروں بد دعائیں دوں، لیکن اس لیے نہیں دیتی کہ میں خود ان حالات کا شکار ہوں۔ کاش ہماری ماں نہ مرتی تو شاید زندگی اتنی بے رحم نہ ہوتی۔ آج میں ایک ایسے گھر میں قید ہوں جہاں نہ محبت ہے، نہ سکون اور نہ ہی وہ اولاد کی تمنا پوری ہونے کی کوئی امید، جس کے لیے میں تڑپتی ہوں۔ اب صرف پچھتاوا ہے اور یہ خاموش دیواریں!
cknwrites
میری سب سے بڑی بہن آپا سطوت تب سولہ برس کی تھیں۔ دادی جانتی تھیں کہ آپا گھر سنبھال سکتی ہیں، پھر بھی انہوں نے میرے والد کی دوسری شادی کروا دی اور خود ہم سے گلو خلاصی کروا کر اپنے شہر لوٹ گئیں۔ نئی ماں کے آنے سے شروع میں آپا بہت اپ سیٹ (پریشان) ہوئیں۔ اس بات کو نئی امی نے سمجھ لیا اور وہ ان کی شادی کے لیے بھاگ دوڑ میں لگ گئیں۔ جلد ہی آپا کا رشتہ امی جان کے کزن سے طے کر دیا گیا۔ ابھی آپا کی عمر سولہ برس تھی، مگر پھر بھی ان کی شادی کر دی گئی۔ میں نے بھی سوتیلی والدہ سے سمجھوتہ کر لیا۔ ان کی تابعداری اور خدمت کرنے لگی، گھر میں سکون ہو گیا، لیکن بدقسمتی سے انہی دنوں ابو کو فالج ہو گیا۔ انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ بڑھاپے کی شادی کا یہ انجام ہوا کہ اب ہمارے ساتھ ان کے دو چھوٹے بچے بھی دربدر ہو گئے۔
دادی ہمیں اپنے پاس لے آئیں اور سوتیلی ماں اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ میرے بڑے بھائی کے پاس رہنے لگیں۔ اس وقت بڑے بھائی کی شادی ہو گئی تھی۔ وہ برسرِ روزگار تھا اور اپنی بیوی کے ہمراہ علیحدہ گھر میں رہتا تھا۔ والد صاحب کی خدمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ بیوی نے کہہ دیا کہ “میں ان کی خدمت کروں یا چھوٹے بچوں کو سنبھالوں؟” تبھی میرے چچا آئے اور مجھے اور والد صاحب کو اپنے گھر لے گئے۔ یوں ہمارا خاندان بکھر گیا۔
ہمارے ساتھ والے گھر میں اسرار نامی لڑکا رہتا تھا۔ وہ دسویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ میں اب کافی بڑی اور سیانی ہو گئی تھی۔ ایک انجانی قوت مجھے اس لڑکے کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی تھی، حالانکہ کوشش کرتی تھی کہ اس کی طرف نہ دیکھوں۔ ایک بار میری چچازاد بہن نے کہا کہ جاؤ، اسرار سے فلاں کتاب لے آؤ۔ میں گئی اور اس سے کتاب لے آئی۔ دوسری بار جب میں کتاب لینے گئی تو مجھے اسرار کی کزن عظمیٰ مل گئی۔ میں نے اس سے کہا کہ تم مجھے اسرار سے کتاب لا دو۔ اسرار نے اس کو کتاب نہ دی بلکہ کہلوا دیا کہ “عروسہ سے کہو خود آکر لے جائے، نہ جانے وہ کون سی کتاب مانگ رہی ہے”۔ عظمیٰ نے آکر مجھے بتایا، مگر میں نے اس کے گھر جانے سے انکار کر دیا۔ اگلے دن پتا چلا کہ وہ پڑھنے کے لیے کل کراچی روانہ ہو رہا ہے۔ یہ خبر سن کر میں افسردہ ہو گئی اور سوچا، کاش! خود کتاب لینے چلی جاتی۔ جانے وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔
اسی افسردگی میں چھت پر چلی گئی۔ وہاں وہ پہلے سے موجود تھا۔ مجھے علم نہ تھا کہ وہ وہاں ہوگا لیکن اس کو دیکھ کر مجھے یک گونہ سکون سا ملا۔ اس نے اشارے سے کہا کہ “میں جا رہا ہوں”۔ میں چپ رہی۔ اسی لمحے اس نے چاکلیٹ کا پیکٹ ہماری چھت پر پھینک دیا، تبھی چچی آگئیں اور انہوں نے وہ پیکٹ اٹھا لیا۔ اس کے اندر چاکلیٹ کی بجائے خط تھا۔ انہوں نے خط پڑھا اور مجھے کہا کہ “تمہارے یہ کرتوت ہیں۔ ابھی جا کر تیرے چچا کو بتاتی ہوں”۔ میں نے ان کو یقین دلانا چاہا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں، میں تو ویسے ہی چھت پر آئی تھی۔ مجھے تو پتا بھی نہیں تھا کہ اسرار یہاں ہوگا، لیکن چچی نے میری بات کا یقین نہیں کیا اور خط چچا جان کو دے دیا۔ خدا جانے اس میں کیا درج تھا کہ چچا جان نے اسرار کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ یوں وہ بیچارا جیل چلا گیا۔ اس کی تعلیم کا خواب دھرا کا دھرا رہ گیا۔ اب میں خود کو اس کا مجرم سمجھتی تھی۔ مجھے چچی جان سے نفرت ہو گئی تھی۔ روز ہی اسرار کی والدہ آکر چچی کی خوشامد کرتیں، ہاتھ جوڑتیں کہ ان کا بیٹے بے گناہ ہے، اسے جیل سے چھڑا دو، لیکن چچی جان کو رحم نہ آتا۔
میرے دل میں پہلے تو اسرار کے لیے محبت کے جذبات نہیں تھے، لیکن جب وہ پکڑا گیا، اسے پولیس نے مارا پیٹا اور وہ جیل چلا گیا تو پھر میرے دل میں اس کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گئے۔ اب میں ہر وقت دعا کرتی تھی کہ “اے اللہ! اسرار کو جیل سے رہائی دلا دے”۔ انہی دنوں ابو فوت ہو گئے۔ یہ شاید اسرار کی بد دعا تھی۔ چار ماہ بعد اسرار رہا ہو کر گھر آیا۔ اس دن میں داخلہ ٹیسٹ کا آخری پرچہ دے کر آئی تو برابر والے گھر سے اسرار کی آواز سنائی دی۔ اس کی آواز سن کر میں خوش بھی ہوئی کہ وہ واپس آ گیا تھا اور غم بھی تھا کہ اب اس کی والدہ پورے محلے میں پھیلا دیں گی کہ عروسہ بری لڑکی ہے، وہ میرے بیٹے سے تعلق رکھتی تھی جس کی وجہ سے میرا لڑکا جیل گیا۔ ابھی تک تو وہ چپ تھیں، لیکن اب چپ نہ رہ سکتی تھیں۔
یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ اسرار کی ماں اعتکاف میں بیٹھی تھی۔ میں نے اس دن کپڑے دھوئے اور رسی پر لٹکانے کے لیے چھت پر گئی، تو میں نے وہاں اسرار کو دیکھا۔ اس نے میرا نام لیا۔ میں ڈر گئی کیونکہ نیچے صحن میں میرے چچا چچی بیٹھے تھے، جبکہ اسرار کی چھت پر ایک کمرہ تھا جس میں اس کی ماں اعتکاف میں بیٹھی تھی۔ میں فوراً ڈر کر نیچے آ گئی۔ اس دن ہماری افطاری دوسرے چچا کے گھر پر تھی۔ ہم مغرب سے پہلے ہی وہاں چلے گئے۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ جب اسرار کی ماں اعتکاف سے فارغ ہوئی، تو اس نے سارے محلے میں پھیلا دیا کہ “عروسہ اسرار سے چھت پر آکر باتیں کرتی ہے۔ ناحق ان لوگوں نے میرے لڑکے کو جیل کروائی، اپنی لڑکی کو کچھ نہ کہا اور میرے بیٹے کو سزا دلوا دی”۔ اسرار کی ماں کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ اس کا بیٹا شہر جا کر پڑھنے سے رہ گیا تھا اور اب جیل جانے کی وجہ سے سب کی نظروں میں برا ٹھہرا تھا۔
اسرار کو بھی اس بات کا اتنا دکھ ہوا کہ اس نے پڑھائی میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ وہ کہتا تھا کہ “میرا جرم اتنا بڑا تو نہ تھا جتنی مجھے سزا دی، اللہ ان کو ضرور پکڑے گا”۔ میں اسرار کی بد دعا سے ڈرتی تھی، لیکن اس میں میرا تو کوئی قصور نہ تھا، تاہم سوچتی ضرور تھی کہ اگر کبھی وہ مل گیا تو میں اس سے معافی مانگوں گی کیونکہ میری وجہ سے اس نے اتنے برے دن دیکھے تھے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد چچا کے گھر میں میرا دم گھٹنے لگا تھا۔ چچی کا رویہ روز بروز سخت ہوتا جا رہا تھا۔ جلد ہی انہوں نے اپنی ذمہ داری سے چھٹکارا پانے کے لیے میرا رشتہ حسیب نامی شخص سے کر دیا، جو آپا سطوت کے سسرال کا دور کا رشتہ دار تھا۔ میں نے سر جھکا کر تقدیر کا یہ فیصلہ قبول کر لیا اور رخصت ہو کر ایک نئے گھر آ گئی۔ مگر میری بدقسمتی نے یہاں بھی میرا پیچھا نہ چھوڑا؛ شادی کے چند ہی دنوں بعد پتا چلا کہ حسیب نہ صرف نشے کا عادی ہے بلکہ وہ جسمانی طور پر شادی کے قابل بھی نہیں ہے۔
میری ساس بوڑھی تھیں اور آپا دوسرے شہر میں تھیں۔ میں سارا دن گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ ہمارے گھر میں فون بھی تھا، لہذا تنہائی کاٹنے کو میں نے فون کا سہارا لیا۔ ایک دن میں نے ویسے ہی چچی کے گھر فون کیا، تو نمبر ساتھ والے گھر کا جا لگا جو اسرار کا تھا۔ میری بدقسمتی کہ فون بھی اس نے اٹھایا۔ میں نے گھبرا کر فون رکھ دیا، لیکن اس نے میری آواز پہچان لی تھی۔ خدا جانے اس نے کیسے ہمارا نمبر معلوم کیا کہ آدھ گھنٹے کے بعد فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون اٹھایا۔ اسرار نے کہا: “فون بند مت کرنا، میں اسرار بول رہا ہوں۔ بڑی مشکل سے تمہارا نمبر ملا ہے۔ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہے تو مجھے بتاؤ۔ ڈرو نہیں، میری ذات سے کبھی تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا”۔ “مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے لیکن میرا شوہر شادی کے قابل نہیں ہے”، بے اختیار سچ میرے منہ سے نکل گیا۔ “اگر تم اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں تو اس سے فوراً طلاق لے لو، ایسے شخص کے ساتھ تمام عمر رہنا ظلم ہے”۔ “اچھا میں پھر بات کروں گی”، یہ کہہ کر میں نے فون رکھ دیا۔ ڈر اور گھبراہٹ کی وجہ سے مجھے پسینہ آ رہا تھا کہ یہ میں نے کیا بات اس سے کہہ دی؟ ایک غیر آدمی سے! حالانکہ میرا دل اندر سے گواہی دیتا تھا کہ وہ غیر نہیں ہے، لیکن میرا اس کے ساتھ کوئی رشتہ بھی تو نہیں تھا۔
ایسے ہی دن گزرتے رہے۔ کبھی فون کی گھنٹی بجتی اور بچ بچ کر خود ہی خاموش ہو جاتی۔ میرا دل دھڑکتا رہتا، لیکن میں فون نہ اٹھاتی۔ ایک دن میرا شوہر آیا، آج وہ نشے میں تھا۔ اس نے آتے ہی مجھے بلاوجہ مارنا شروع کر دیا اور جب مار چکا تو دوسرے کمرے میں لیٹ گیا۔ اس وقت شام کے آٹھ بجے تھے، میں بیٹھی رو رہی تھی۔ میرا کیا قصور تھا جو اس نے مجھے مارا ہے؟ یہی سوچ رہی تھی کہ کاش اس وقت کوئی میرا ہمدرد ہوتا، کوئی میری فریاد سننے والا ہوتا۔ شاید دل سے آہ نکلی تھی کہ دعا قبول ہو گئی اور اسی وقت فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے فون اٹھایا، اسرار کا فون تھا۔ اس نے ہیلو کہا تو میں رونے لگی۔ حسیب نشے میں ہونے کی وجہ سے سو چکا تھا، پھر بھی میں نے خوف کی وجہ سے بات نہیں کی اور اسرار سے کہا کہ “بعد میں فون کرنا، میں سب بتاؤں گی”۔ اگلے دن اس نے فون کیا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اس روز اس سے بہت ساری باتیں کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال دی، کیونکہ گھر میں اکیلی تھی۔اس طرح وہ روز فون کرتا اور میں گھنٹوں اس سے باتیں کرتی۔ یوں دو سال کا عرصہ میں نے اس کے ساتھ صرف فون پر باتیں کر کے گزار دیا، مگر کبھی اس سے ملاقات نہیں کی، البتہ جب چچا کے گھر جاتی تو چھت کی دیوار سے ان کے صحن میں جھانک کر اسے دیکھنے کی کوشش ضرور کرتی۔ میری شادی کو چار سال ہونے والے تھے۔ ایک شام اس نے فون کیا، میں نے اٹھایا اور اس کے ساتھ باتیں کرنے لگی۔ یہ خیال بھی نہ رہا کہ میرا شوہر اس وقت آ جائے گا کیونکہ وہ دکان سے دیر سے آتا تھا، لیکن اس دن حسیب جلدی آ گیا۔ وہ باہر صحن میں تھا، مجھے پتا نہ چلا وہ کس وقت آیا۔ اس نے پوچھا: “کس کا فون ہے؟” میں نے جھوٹ بول دیا کہ میری سہیلی کا فون ہے۔ جب اس نے فون سننے کے تجسس میں دوسرا سیٹ اٹھا لیا (حالانکہ میں نے فون بند کر دیا تھا، لیکن ادھر سے اسرار کی آواز آ رہی تھی) تو اب میرا شوہر آپے سے باہر ہو گیا اور مجھے طلاق کی دھمکیاں دینے لگا۔ تبھی میں نے اس کے پاؤں پکڑ لیے اور معافی مانگی، کیونکہ اگر وہ مجھے طلاق دیتا تو پھر میری بہن کو بھی طلاق مل جاتی جن کے تین بچے تھے، ان کا گھر اجڑ جاتا۔ یہ قربانی میں نے اپنی بہن کی خاطر دی تھی، ورنہ یہ سب رائیگاں چلا جاتا۔
اب میرے شوہر کا موڈ ٹھیک نہیں رہتا تھا۔ وہ ہر وقت مجھ پر برستا اور خفا رہتا۔ آخر میں نے اس کو ایک دن ہاتھ جوڑ کر کہا: “دیکھو، غلطی انسان سے ہو جاتی ہے، میں بھی انسان ہوں۔ جب میں تمہارے جیسے انسان کے ساتھ تمہارے گھر میں رہ سکتی ہوں، تو تم مجھے معاف کیوں نہیں کرتے؟ جبکہ تم شادی کے قابل نہیں اور کوئی عورت ایسے مرد کے ساتھ نہیں رہتی بلکہ طلاق لے لیتی ہے”۔
اس نے کہا: “میں تم کو صرف ایک شرط پر معاف کر سکتا ہوں اور وہ شرط یہ ہے کہ تم اسرار کو فون کر کے کہو کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے، لہذا اب وہ تم سے شادی کر لے”۔
شوہر کے مجبور کرنے پر میں نے ایسا ہی کہا، لیکن اسرار نے یہ بات سن کر کہا: “عروسہ، میں مجبور ہوں، میرے گھر والے نہیں مانیں گے۔ تم سے بات چیت تو میں صرف اس وجہ سے کر لیتا تھا کہ تم کو ایک ہمدرد اور غمگسار کی ضرورت تھی۔ اگر مجھے تم سے محبت ہوتی، تو کیا میں نے تم سے کبھی ملاقات کے لیے نہ کہا ہوتا؟”
یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسرار جس کے لیے میں نے دنیا سے بیر لیا، جس کے لیے میں نے بدنامی سہی، اس نے کتنی آسانی سے اسے صرف ایک “ہمدردی” کا نام دے کر اپنا دامن جھاڑ لیا تھا۔ یہ گفتگو میرے خاوند نے دوسرے سیٹ پر سنی اور طنزیہ ہنستے ہوئے کہا: “دیکھو، شوہر کے علاوہ تمہارا کوئی نہیں ہے۔ گھر سے نکل کر کہاں جاؤ گی؟”آج میری شادی کو چھ سال ہونے کو ہیں۔ اسرار کراچی چلا گیا ہے۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے اپنی بے رخی سے اتنا بڑا دھوکا دیا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ کبھی میرا ہمدرد تھا ہی نہیں، وہ تو بس میری بے بسی کا تماشائی تھا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اسے ڈھیروں بد دعائیں دوں، لیکن اس لیے نہیں دیتی کہ میں خود ان حالات کا شکار ہوں۔ کاش ہماری ماں نہ مرتی تو شاید زندگی اتنی بے رحم نہ ہوتی۔ آج میں ایک ایسے گھر میں قید ہوں جہاں نہ محبت ہے، نہ سکون اور نہ ہی وہ اولاد کی تمنا پوری ہونے کی کوئی امید، جس کے لیے میں تڑپتی ہوں۔ اب صرف پچھتاوا ہے اور یہ خاموش دیواریں!
(ختم شد)

