سرار نے جس صورت کو بالکونی میں دیکھا تھا، اسی کا انتخاب کر لیا۔ اس کی شادی میری چھوٹی بہن زرینہ سے طے پا گئی اور میں، جس نے فون کی گھنٹی کے ساتھ اس کے تصور کو دل میں بسا لیا تھا، خاموش رہ گئی۔ اسرار کی منگنی زرینہ سے ہو چکی تھی، تب بھی میں کچھ نہ بولی اور نہ ہی اس راز کو کسی پر ظاہر ہونے دیا۔ گھر میں میری پوزیشن ایسی تھی کہ میں کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی۔ منگنی کے بعد ایک دن اس نے فون کیا۔ میں نے فون اٹھایا تو اس کی آواز سن کر میرا گلا بھر آیا۔
👇👇
👇👇
اس دن شام کے سات بجے تھے۔ میں نے فون اپنے قریب رکھ لیا اور یونہی کوئی نمبر ملایا۔ یہ نہیں پتا تھا کہ کس کا نمبر ہے اور فون کہاں جا ملے گا۔ ایک لڑکی نے فون اٹھایا۔ “ہیلو جی! کون بول رہا ہے؟” کسی لڑکے نے فون اٹھا کر کہا۔ تب میں نے کہا: “میں آپ سے پانچ دس منٹ بات کرنا چاہتی ہوں، مجھے اکیلا پن محسوس ہو رہا ہے، اس لیے نمبر ملا دیا ہے۔” اس نے غصے میں جواب دیا: “کیوں! ہم تمہیں اتنے فالتو لگتے ہیں؟” وہ پتا نہیں کیا کیا کہنے لگا۔ اتنے میں ریسیور کسی لڑکی نے لے لیا۔ “آپ اس سے کیوں بات کرنا چاہتی ہیں؟ مجھ سے بات کریں، میں آپ کی بوریت دور کر دیتی ہوں۔” یہ سن کر میں نے فون رکھ دیا۔
دوسرے دن امی نے سیر پر جانے کا پروگرام بنایا۔ سب گئے، مگر میں نہ گئی۔ اسی شام سات بجے فون کی گھنٹی بجی۔ ہیلو کہتے ہی ایک لڑکے نے مخاطب کیا: “کیا آپ وہی ہیں جس نے کل ہمارے گھر فون کیا تھا اور میں نے آپ سے بدتمیزی کی تھی؟ دراصل میں اپنے رویے کی معافی مانگنا چاہتا ہوں۔” “آپ ہیں کون؟ اور کس سے بات کرنی ہے؟” “جی میرا نام اسرار ہے اور مجھے آپ سے بات کرنی ہے، بلکہ معافی مانگنی ہے۔ مجھے معاف کر دیں۔” “کیا آپ کو یقین ہے کہ میں وہی لڑکی ہوں جس نے آپ کے ہاں فون کیا تھا؟” “جی ہاں! آپ وہی لڑکی ہیں، میں آپ کی آواز نہیں بھول سکتا۔” “مگر میرا نمبر کس نے دیا ہے آپ کو؟” “ایکسچینج سے پتا کر لیا ہے۔” مجھے ڈر لگنے لگا تو فون رکھ دیا۔ دوبارہ گھنٹی بجی، میں نے فون اٹھا لیا۔ “بات تو سنیے! میں آپ کو چاہتا ہوں۔” میں نے کہا: “اچھا؟ یہ تو کوئی نئی بات نہیں۔ میرے ابو، بھائی، چچا، ماموں سب مجھ کو چاہتے ہیں۔ اگر ان میں آپ کا نام بھی شامل کر لوں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔” اس نے کہا: “میں ان سب لوگوں سے الگ چاہتا ہوں۔ میں تم کو اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتا ہوں۔”
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہوش میں تو ہیں؟” وہ بولا: “نہیں، میں ہوش میں نہیں ہوں۔ پاگل ہو گیا ہوں آپ کی باتوں سے، آپ کی آواز میں جادو ہے۔” میں سہم گئی۔ مجھے اس کا انداز اچھا نہیں لگا اور فون رکھ دیا۔ پھر یہ روز کا معمول بن گیا۔ وہ روز ہی مجھے دن میں کئی بار فون کرنے لگا۔ جب میں فون اٹھاتی تو میری آواز پہچانتے ہی کہتا: “میں بول رہا ہوں۔” “کیا بولنا چاہتے ہو؟ تم کیوں مجھے تنگ کرتے ہو؟” تب اس نے دیدہ دلیری سے کہا: “میں آپ کو جیون ساتھی بنانا چاہتا ہوں اور آپ کے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں، اس کے علاوہ میں کچھ نہیں چاہتا۔” “بغیر مجھے دیکھے ہی؟” بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ “دیکھ بھی لوں گا، اگر آپ اجازت دیں گی تو۔” میں نے فون رکھ دیا۔
دوسرے ہفتے میں نانی کے گھر چلی گئی۔ واپس آئی تو چھوٹی بہن نے کہا: “تمہیں اتنا چاہنے والا ملا ہے، تو پھر مصیبت کیا ہے؟” اس دن بھی گھر میں کوئی نہ تھا۔ فون کی گھنٹی بجی تو میں نے اٹھایا اور “ہیلو” کہا۔ وہ بولا: “کیسی ہو تم؟ کتنے دنوں بعد تمہاری آواز سنی ہے۔ تمہاری آواز سنے بغیر مجھے چین نہیں آتا۔ میری بات کا جواب نہیں دیا، کیوں؟” اب وہ روز ہی سوال کرتا۔ میں بات کرتے کرتے تھک گئی تھی، لیکن میں نے اُف تک نہ کی۔
ایک دن اس نے کہا: “اپنا خیال رکھنا، میں کام سے پنڈی جا رہا ہوں ایک ماہ کے لیے۔” “اچھا، خدا حافظ۔” یوں کئی دنوں تک گھنٹی نہ بجی۔ کانوں کو جیسے گھنٹی سننے کی عادت پڑ گئی تھی۔ عجیب سی بے قراری رہنے لگی۔ جب فون آتا تھا تو کوفت ہوتی تھی، بے دلی سے اس کی باتیں سنتی تھی، اسے فضول آدمی سمجھ کر؛ اور اب جب فون نہیں آ رہا تھا تو دل بجھا بجھا سا محسوس ہونے لگا تھا۔
پندرہ روز بعد اچانک فون آیا۔ اس کی بہن بول رہی تھی—جس نے کبھی چند منٹ بات کرنے کا بُرا منایا تھا، آج وہ کہہ رہی تھی: “میرا بھائی اسرار اسپتال میں ہے۔ اس کا بہت برا حادثہ (ایکسیڈنٹ) ہوا ہے، دعا کرنا۔ شاید اس نے تمہارا دل دکھایا ہو، شاید تمہاری بددعا لگ گئی ہو۔” یہ سنتے ہی میرے ہوش اڑ گئے اور میں زار و قطار رونے لگی۔ میری بہن بھی پریشان ہو گئی۔ اس طرح میرے پندرہ دن اس کے بغیر شدید اداسی میں گزرے۔ یوں لگتا تھا جیسے مجھے بھی اس کے فون کا انتظار رہنے لگا ہو۔
پھر اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ “ہیلو، کون؟” مگر کوئی آواز نہ آئی۔ میں سمجھی کہ اسی کا فون ہے، مگر وہ میری خالہ تھیں۔ ان کو امی سے بات کرنی تھی۔ امی نے کہا: “میں جا رہی ہوں، تمہاری خالہ نے بلایا ہے۔ کیا تم بھی چلو گی؟ “میں نے جواب دیا: “نہیں، مجھے کہیں نہیں جانا۔” میں ان کے ساتھ نہ گئی۔ شاید اس لیے کہ مجھے فون کی گھنٹی کا انتظار تھا۔
چھ بجے کے قریب گھنٹی بجی۔ میں اس وقت عصر کی نماز پڑھ رہی تھی اور اللہ سے رو رو کر اس کی سلامتی کے لیے دعا کر رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد گھنٹی دوبارہ بجی۔ “ہیلو!” “میں بول رہا ہوں۔” اس کے یہ کہتے ہی میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکی: “کیسے ہو تم؟ زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟ تمہاری بہن کہہ رہی تھی کہ حادثہ خطرناک تھا۔ مجھے بہت فکر تھی!” اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ میں بول رہی ہوں۔ اس نے (ہنستے ہوئے) کہا: “میں ٹھیک ہوں۔ میں نے صرف تمہیں پرکھنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا تھا، ورنہ میں کہیں نہیں گیا تھا۔ میں بھلا چنگا ہوں، میرا کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ یہ سب ایک ناٹک تھا۔”
“اُف!” میرے منہ سے نکلا۔ “کتنے بڑے دھوکے باز ہو تم! آئندہ مجھے فون نہ کرنا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں؟” میں نے غصے سے فون بند کر دیا۔
اگلے دن اس کا فون نہ آیا۔ میں نے خود پر ضبط کر لیا۔ اس سے اگلے دن بھی خاموشی رہی۔ پھر دن پر دن گزرتے گئے، یہاں تک کہ ایک ماہ بیت گیا۔ اب پھر میرا دل اداس رہنے لگا۔ زندگی میں کسی شے کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی۔ میں سوچتی تھی کہ خواہ مخواہ اس روز اسے اتنا برا بھلا کہہ دیا؛ کسی کی اس طرح تذلیل نہیں کرنی چاہیے تھی۔
ایک دن جب میں اداسی کے اندھیروں میں گھری بیٹھی تھی، اچانک اس کا فون آ گیا۔ میں نے اسے اپنا فرضی نام “سونو” بتایا تھا۔ اس نے پوچھا: “کیا سونو بات کر رہی ہیں؟” حالانکہ وہ میرے محض “ہیلو” کہنے سے ہی پہچان لیتا تھا کہ میں ہوں۔ میرا دل بلیوں اچھلنے لگا، مگر میں نے انجان بن کر کہا: “جی نہیں!” اور فون رکھ دیا۔
تھوڑی دیر بعد پھر گھنٹی بجی۔ اس بار امی نے فون اٹھایا۔ اس نے پوچھا: “سونو ہیں؟ مجھے سونو سے بات کرنی ہے۔” امی بولیں: “کون سونو؟ یہاں کوئی سونو نہیں رہتی، رانگ نمبر ہے۔”
رات کو امی کسی رشتے دار کے ہاں چلی گئیں۔ اس نے پھر فون کیا۔ میں نے فون اٹھایا اور اسے ڈانٹا: “میں نے تمہیں اپنا غلط نام بتایا تھا، صرف تمہارا امتحان لینے کے لیے کہ کہیں تم مجھے بدنام تو نہیں کرنا چاہتے؟ میرا اندیشہ درست نکلا، تم میرے گھر والوں کو بھی میرا (فرضی) نام بتانے لگے ہو۔” وہ پشیمان ہوا اور معافی مانگنے لگا۔ میں نے کہا: “معاف کیا، اب پرسکون ہو جاؤ۔”
اگلے روز اس نے نئی فرمائش کر دی: “ایک بار چہرہ دکھا دو تاکہ میں امی کو رشتے کے لیے تمہارے گھر بھیجوں، صرف ایک جھلک۔” وہ منتیں کرنے لگا۔ میں نے کہا: “اچھا، کل شام چار بجے میں اپنی بالکونی میں کھڑی ہوں گی، تم دیکھ لینا۔”
ٹھیک شام کے چار بجے میں کسی وجہ سے بالکونی پر نہ جا سکی، لیکن میری چھوٹی بہن اتفاقاً وہاں چلی گئی۔ وہ اس تمام معاملے سے بے خبر تھی۔ وہ تھوڑی دیر بالکونی سے جھانکنے کے بعد واپس اندر آ گئی، مگر اس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہ تھا، جیسے اس نے کسی کو نہ دیکھا ہو۔
اگلے دن ہمارے محلے کی ایک بزرگ خاتون کے ہمراہ اسرار کی والدہ رشتے کے لیے ہمارے گھر آ گئیں۔ امی نے کہا کہ کچھ روز بعد آئیے گا، تب ہم جواب دیں گے۔ وہ کچھ دن بعد پھر آئیں تو امی نے ہاں میں جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ اسرار کے والد سے ابو کی پہلے سے جان پہچان تھی۔ اس کی امی اور بہن دوبارہ آئیں اور کہنے لگیں کہ آپ لڑکے کو دیکھ لیں اور لڑکی کی تصویر ہمیں دے دیں، ہم ایک دن بعد واپس کر دیں گے۔ امی نے اکیلی میری تصویر دینے کے بجائے گروپ فوٹو دے دی اور کہا کہ اس میں شاہینہ بھی ہے، دیکھ کر واپس کر دینا۔
اگلے دن فوٹو واپس آگیا۔ پتا چلا کہ اسرار نے شاہینہ کے بجائے زرینہ سے منگنی کا مطالبہ کیا ہے۔ امی بولیں کہ شاہینہ بڑی ہے، پہلے ہم اس کا رشتہ کریں گے۔ انہوں نے وضاحت کی، مگر وہ بضد رہے کہ ہم تو زرینہ کے رشتے کے لیے آئے ہیں۔ معاملہ کافی دنوں تک الجھا رہا۔ اس دوران اسرار نے کوئی فون نہ کیا۔ ابا جان نے امی سے کہا کہ “لڑکا اچھا ہے اور گھرانہ میرا دیکھا بھالا ہے، آپ نے یہ رشتہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا۔ بڑی نہ سہی، چھوٹی سہی—آخر وہ بھی ہماری بیٹی ہے۔ بڑی کا رشتہ پھر کہیں ہو جائے گا۔”
یوں اسرار نے جس صورت کو بالکونی میں دیکھا تھا، اسی کا انتخاب کر لیا۔ اس کی شادی میری چھوٹی بہن زرینہ سے طے پا گئی اور میں، جس نے فون کی گھنٹی کے ساتھ اس کے تصور کو دل میں بسا لیا تھا، خاموش رہ گئی۔ اسرار کی منگنی زرینہ سے ہو چکی تھی، تب بھی میں کچھ نہ بولی اور نہ ہی اس راز کو کسی پر ظاہر ہونے دیا۔ گھر میں میری پوزیشن ایسی تھی کہ میں کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی۔
منگنی کے بعد ایک دن اس نے فون کیا۔ میں نے فون اٹھایا تو اس کی آواز سن کر میرا گلا بھر آیا۔ اس نے گھبرا کر پوچھا: “کیا ہوا سونو؟” میں نے جواب دیا: “سونو نہیں، شاہینہ… اور اب تمہارا میرا رشتہ ایک مقدس رشتے (بہنوئی اور سالی) میں بدل چکا ہے، اس لیے اب مجھے فون مت کرنا۔” وہ حیرت سے بولا: “کیوں نہ کروں؟ پہلے بھی تم تھیں، اب بھی تم ہو۔ منگنی سے تو یہ رشتہ اور بھی مضبوط ہو گیا ہے، اب تو مجھے تم سے بات کرنے کا پورا حق ہے۔”
تب میں نے وضاحت کی کہ “میں وہ نہیں ہوں جس سے تمہاری منگنی ہوئی ہے، بلکہ میں اس کی بڑی بہن شاہینہ ہوں۔ تمہاری منگیتر کا نام زرینہ ہے۔” یہ سن کر وہ ہکا بکا رہ گیا اور بولا: “مگر میں نے تو تم سے پیار کیا تھا! تمہارے لیے ہی امی کو بھیجا تھا۔ اس دن جب تم بالکونی میں آئی تھیں، تبھی تم میری نظروں اور میرے دل میں اتر گئی تھیں۔”
میں نے کہا: “وہ میں نہیں تھی بلکہ میری چھوٹی بہن زرینہ تھی۔ تم نے میری بجائے اسے دیکھا تھا۔” وہ حیرت سے بولا: “اوہ! اسی لیے تو میں نے تصویر میں اسے دیکھ کر امی سے کہہ دیا تھا کہ یہی لڑکی ہے، لیکن مجھے تو تم نے بالکونی میں آ کر صورت دکھانے کو کہا تھا۔”
میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا: “خیر، اب جو ہونا تھا ہو چکا۔ تم جس کی قسمت میں تھے، اسے مل گئے۔ اب اس بندھن کو نبھانا ہوگا۔ اگر تم نے یہ منگنی توڑ بھی دی تو بھی مجھے نہ پا سکو گے۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بہن سے منگنی توڑنے کے بعد وہی والدین تمہیں اپنی دوسری بیٹی کا رشتہ دے دیں؟ اس لیے چپ کا زہر اب ہم دونوں کو عمر بھر پینا ہوگا۔ اس واقعے کو ایک خواب سمجھ کر بھلا دو۔”
میں رو رہی تھی۔ اس نے تڑپ کر کہا: “میں یہ سب کیسے بھلا سکوں گا؟ سنو! میں سچ کہتا ہوں، اگر مجھے تمہارا ہاتھ نہیں مل سکتا تو میں یہ منگنی توڑ دوں گا۔” میں نے التجا کی: “ایسا ہرگز نہ کرنا اسرار، تمہیں میری قسم! میری بہن تم سے منسوب ہو کر بہت خوش ہے۔ میں اس کی خوشیاں چھین کر کبھی سُکھی نہیں رہ سکوں گی۔ میرے دل پر تو زخم لگ چکا ہے، اب اس کے دل کو داغدار نہ کرنا۔”
میری قسم نے اسے مجبور کر دیا اور وہ خاموش ہو گیا۔ تب میں نے اسے ایک اور قسم دے کر کہا: “تمہیں میری قسم، اب دوبارہ مجھے فون نہ کرنا اور اس راز کو زہر کا گھونٹ سمجھ کر پی جانا۔ کبھی کسی پر یہ ظاہر نہ کرنا کہ ہم ایک دوسرے سے آشنا تھے۔”
اس نے میری قسموں کی لاج رکھی، پھر کبھی مجھے فون نہ کیا اور اس راز کو سینے میں دفن کر دیا۔ ہم دونوں نے تلخ حقیقت کو ایک خواب سمجھ کر بھلا دیا۔ اگرچہ اب بھی دل کے کسی کونے میں ایک کسک باقی ہے، مگر ہم اپنے رشتے کے تقدس کا دل سے احترام کرتے ہیں۔
زرینہ اور اسرار کی شادی کے بعد میں نے شادی کا خیال دل سے نکال دیا اور ایک اسکول میں ملازمت کر لی، جو آج بھی جاری ہے۔ میں نے اپنی زندگی تعلیم کے لیے وقف کر دی ہے۔ بچوں کو پڑھا کر سکون ملتا ہے، تھک جاتی ہوں تو سو جاتی ہوں۔ میں ماضی کو یاد کرنے کی کوشش نہیں کرتی، اگرچہ انسان کا ماضی اسے کبھی نہیں بھولتا، مگر اسے بھلانا ہی پڑتا ہے کہ اسی میں انسان کی عظمت اور آبرو ہے۔
میرا دل چاہتا ہے کہ میں زرینہ کے گھر کبھی نہ جاؤں، لیکن بعض اوقات جانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تب بھی میں اپنے بہنوئی سے بات نہیں کرتی یا بہت کم بات کرتی ہوں۔ میں ہمیشہ فاصلہ برقرار رکھتی ہوں، البتہ زرینہ کے بچوں سے مجھے بہت لگاؤ ہے۔ وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتے اور نہ میں ان کے بغیر، اس لیے وہ اکثر ہمارے گھر آتے رہتے ہیں۔ زرینہ کو آج تک اس بات کا علم نہیں کہ اس کا شوہر کبھی مجھ سے محبت کرتا تھا۔ ہمارا رازداں صرف ایک ہی شخص ہے اور وہ ہے اسرار کی بہن، جس نے اپنے بھائی کی خاطر ہمیشہ کے لیے چپ سادھ لی ہے۔
دوسرے دن امی نے سیر پر جانے کا پروگرام بنایا۔ سب گئے، مگر میں نہ گئی۔ اسی شام سات بجے فون کی گھنٹی بجی۔ ہیلو کہتے ہی ایک لڑکے نے مخاطب کیا: “کیا آپ وہی ہیں جس نے کل ہمارے گھر فون کیا تھا اور میں نے آپ سے بدتمیزی کی تھی؟ دراصل میں اپنے رویے کی معافی مانگنا چاہتا ہوں۔” “آپ ہیں کون؟ اور کس سے بات کرنی ہے؟” “جی میرا نام اسرار ہے اور مجھے آپ سے بات کرنی ہے، بلکہ معافی مانگنی ہے۔ مجھے معاف کر دیں۔” “کیا آپ کو یقین ہے کہ میں وہی لڑکی ہوں جس نے آپ کے ہاں فون کیا تھا؟” “جی ہاں! آپ وہی لڑکی ہیں، میں آپ کی آواز نہیں بھول سکتا۔” “مگر میرا نمبر کس نے دیا ہے آپ کو؟” “ایکسچینج سے پتا کر لیا ہے۔” مجھے ڈر لگنے لگا تو فون رکھ دیا۔ دوبارہ گھنٹی بجی، میں نے فون اٹھا لیا۔ “بات تو سنیے! میں آپ کو چاہتا ہوں۔” میں نے کہا: “اچھا؟ یہ تو کوئی نئی بات نہیں۔ میرے ابو، بھائی، چچا، ماموں سب مجھ کو چاہتے ہیں۔ اگر ان میں آپ کا نام بھی شامل کر لوں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔” اس نے کہا: “میں ان سب لوگوں سے الگ چاہتا ہوں۔ میں تم کو اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتا ہوں۔”
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہوش میں تو ہیں؟” وہ بولا: “نہیں، میں ہوش میں نہیں ہوں۔ پاگل ہو گیا ہوں آپ کی باتوں سے، آپ کی آواز میں جادو ہے۔” میں سہم گئی۔ مجھے اس کا انداز اچھا نہیں لگا اور فون رکھ دیا۔ پھر یہ روز کا معمول بن گیا۔ وہ روز ہی مجھے دن میں کئی بار فون کرنے لگا۔ جب میں فون اٹھاتی تو میری آواز پہچانتے ہی کہتا: “میں بول رہا ہوں۔” “کیا بولنا چاہتے ہو؟ تم کیوں مجھے تنگ کرتے ہو؟” تب اس نے دیدہ دلیری سے کہا: “میں آپ کو جیون ساتھی بنانا چاہتا ہوں اور آپ کے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں، اس کے علاوہ میں کچھ نہیں چاہتا۔” “بغیر مجھے دیکھے ہی؟” بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ “دیکھ بھی لوں گا، اگر آپ اجازت دیں گی تو۔” میں نے فون رکھ دیا۔
دوسرے ہفتے میں نانی کے گھر چلی گئی۔ واپس آئی تو چھوٹی بہن نے کہا: “تمہیں اتنا چاہنے والا ملا ہے، تو پھر مصیبت کیا ہے؟” اس دن بھی گھر میں کوئی نہ تھا۔ فون کی گھنٹی بجی تو میں نے اٹھایا اور “ہیلو” کہا۔ وہ بولا: “کیسی ہو تم؟ کتنے دنوں بعد تمہاری آواز سنی ہے۔ تمہاری آواز سنے بغیر مجھے چین نہیں آتا۔ میری بات کا جواب نہیں دیا، کیوں؟” اب وہ روز ہی سوال کرتا۔ میں بات کرتے کرتے تھک گئی تھی، لیکن میں نے اُف تک نہ کی۔
ایک دن اس نے کہا: “اپنا خیال رکھنا، میں کام سے پنڈی جا رہا ہوں ایک ماہ کے لیے۔” “اچھا، خدا حافظ۔” یوں کئی دنوں تک گھنٹی نہ بجی۔ کانوں کو جیسے گھنٹی سننے کی عادت پڑ گئی تھی۔ عجیب سی بے قراری رہنے لگی۔ جب فون آتا تھا تو کوفت ہوتی تھی، بے دلی سے اس کی باتیں سنتی تھی، اسے فضول آدمی سمجھ کر؛ اور اب جب فون نہیں آ رہا تھا تو دل بجھا بجھا سا محسوس ہونے لگا تھا۔
پندرہ روز بعد اچانک فون آیا۔ اس کی بہن بول رہی تھی—جس نے کبھی چند منٹ بات کرنے کا بُرا منایا تھا، آج وہ کہہ رہی تھی: “میرا بھائی اسرار اسپتال میں ہے۔ اس کا بہت برا حادثہ (ایکسیڈنٹ) ہوا ہے، دعا کرنا۔ شاید اس نے تمہارا دل دکھایا ہو، شاید تمہاری بددعا لگ گئی ہو۔” یہ سنتے ہی میرے ہوش اڑ گئے اور میں زار و قطار رونے لگی۔ میری بہن بھی پریشان ہو گئی۔ اس طرح میرے پندرہ دن اس کے بغیر شدید اداسی میں گزرے۔ یوں لگتا تھا جیسے مجھے بھی اس کے فون کا انتظار رہنے لگا ہو۔
پھر اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ “ہیلو، کون؟” مگر کوئی آواز نہ آئی۔ میں سمجھی کہ اسی کا فون ہے، مگر وہ میری خالہ تھیں۔ ان کو امی سے بات کرنی تھی۔ امی نے کہا: “میں جا رہی ہوں، تمہاری خالہ نے بلایا ہے۔ کیا تم بھی چلو گی؟ “میں نے جواب دیا: “نہیں، مجھے کہیں نہیں جانا۔” میں ان کے ساتھ نہ گئی۔ شاید اس لیے کہ مجھے فون کی گھنٹی کا انتظار تھا۔
چھ بجے کے قریب گھنٹی بجی۔ میں اس وقت عصر کی نماز پڑھ رہی تھی اور اللہ سے رو رو کر اس کی سلامتی کے لیے دعا کر رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد گھنٹی دوبارہ بجی۔ “ہیلو!” “میں بول رہا ہوں۔” اس کے یہ کہتے ہی میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکی: “کیسے ہو تم؟ زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟ تمہاری بہن کہہ رہی تھی کہ حادثہ خطرناک تھا۔ مجھے بہت فکر تھی!” اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ میں بول رہی ہوں۔ اس نے (ہنستے ہوئے) کہا: “میں ٹھیک ہوں۔ میں نے صرف تمہیں پرکھنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا تھا، ورنہ میں کہیں نہیں گیا تھا۔ میں بھلا چنگا ہوں، میرا کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ یہ سب ایک ناٹک تھا۔”
“اُف!” میرے منہ سے نکلا۔ “کتنے بڑے دھوکے باز ہو تم! آئندہ مجھے فون نہ کرنا۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں؟” میں نے غصے سے فون بند کر دیا۔
اگلے دن اس کا فون نہ آیا۔ میں نے خود پر ضبط کر لیا۔ اس سے اگلے دن بھی خاموشی رہی۔ پھر دن پر دن گزرتے گئے، یہاں تک کہ ایک ماہ بیت گیا۔ اب پھر میرا دل اداس رہنے لگا۔ زندگی میں کسی شے کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی۔ میں سوچتی تھی کہ خواہ مخواہ اس روز اسے اتنا برا بھلا کہہ دیا؛ کسی کی اس طرح تذلیل نہیں کرنی چاہیے تھی۔
ایک دن جب میں اداسی کے اندھیروں میں گھری بیٹھی تھی، اچانک اس کا فون آ گیا۔ میں نے اسے اپنا فرضی نام “سونو” بتایا تھا۔ اس نے پوچھا: “کیا سونو بات کر رہی ہیں؟” حالانکہ وہ میرے محض “ہیلو” کہنے سے ہی پہچان لیتا تھا کہ میں ہوں۔ میرا دل بلیوں اچھلنے لگا، مگر میں نے انجان بن کر کہا: “جی نہیں!” اور فون رکھ دیا۔
تھوڑی دیر بعد پھر گھنٹی بجی۔ اس بار امی نے فون اٹھایا۔ اس نے پوچھا: “سونو ہیں؟ مجھے سونو سے بات کرنی ہے۔” امی بولیں: “کون سونو؟ یہاں کوئی سونو نہیں رہتی، رانگ نمبر ہے۔”
رات کو امی کسی رشتے دار کے ہاں چلی گئیں۔ اس نے پھر فون کیا۔ میں نے فون اٹھایا اور اسے ڈانٹا: “میں نے تمہیں اپنا غلط نام بتایا تھا، صرف تمہارا امتحان لینے کے لیے کہ کہیں تم مجھے بدنام تو نہیں کرنا چاہتے؟ میرا اندیشہ درست نکلا، تم میرے گھر والوں کو بھی میرا (فرضی) نام بتانے لگے ہو۔” وہ پشیمان ہوا اور معافی مانگنے لگا۔ میں نے کہا: “معاف کیا، اب پرسکون ہو جاؤ۔”
اگلے روز اس نے نئی فرمائش کر دی: “ایک بار چہرہ دکھا دو تاکہ میں امی کو رشتے کے لیے تمہارے گھر بھیجوں، صرف ایک جھلک۔” وہ منتیں کرنے لگا۔ میں نے کہا: “اچھا، کل شام چار بجے میں اپنی بالکونی میں کھڑی ہوں گی، تم دیکھ لینا۔”
ٹھیک شام کے چار بجے میں کسی وجہ سے بالکونی پر نہ جا سکی، لیکن میری چھوٹی بہن اتفاقاً وہاں چلی گئی۔ وہ اس تمام معاملے سے بے خبر تھی۔ وہ تھوڑی دیر بالکونی سے جھانکنے کے بعد واپس اندر آ گئی، مگر اس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہ تھا، جیسے اس نے کسی کو نہ دیکھا ہو۔
اگلے دن ہمارے محلے کی ایک بزرگ خاتون کے ہمراہ اسرار کی والدہ رشتے کے لیے ہمارے گھر آ گئیں۔ امی نے کہا کہ کچھ روز بعد آئیے گا، تب ہم جواب دیں گے۔ وہ کچھ دن بعد پھر آئیں تو امی نے ہاں میں جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ اسرار کے والد سے ابو کی پہلے سے جان پہچان تھی۔ اس کی امی اور بہن دوبارہ آئیں اور کہنے لگیں کہ آپ لڑکے کو دیکھ لیں اور لڑکی کی تصویر ہمیں دے دیں، ہم ایک دن بعد واپس کر دیں گے۔ امی نے اکیلی میری تصویر دینے کے بجائے گروپ فوٹو دے دی اور کہا کہ اس میں شاہینہ بھی ہے، دیکھ کر واپس کر دینا۔
اگلے دن فوٹو واپس آگیا۔ پتا چلا کہ اسرار نے شاہینہ کے بجائے زرینہ سے منگنی کا مطالبہ کیا ہے۔ امی بولیں کہ شاہینہ بڑی ہے، پہلے ہم اس کا رشتہ کریں گے۔ انہوں نے وضاحت کی، مگر وہ بضد رہے کہ ہم تو زرینہ کے رشتے کے لیے آئے ہیں۔ معاملہ کافی دنوں تک الجھا رہا۔ اس دوران اسرار نے کوئی فون نہ کیا۔ ابا جان نے امی سے کہا کہ “لڑکا اچھا ہے اور گھرانہ میرا دیکھا بھالا ہے، آپ نے یہ رشتہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا۔ بڑی نہ سہی، چھوٹی سہی—آخر وہ بھی ہماری بیٹی ہے۔ بڑی کا رشتہ پھر کہیں ہو جائے گا۔”
یوں اسرار نے جس صورت کو بالکونی میں دیکھا تھا، اسی کا انتخاب کر لیا۔ اس کی شادی میری چھوٹی بہن زرینہ سے طے پا گئی اور میں، جس نے فون کی گھنٹی کے ساتھ اس کے تصور کو دل میں بسا لیا تھا، خاموش رہ گئی۔ اسرار کی منگنی زرینہ سے ہو چکی تھی، تب بھی میں کچھ نہ بولی اور نہ ہی اس راز کو کسی پر ظاہر ہونے دیا۔ گھر میں میری پوزیشن ایسی تھی کہ میں کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی۔
منگنی کے بعد ایک دن اس نے فون کیا۔ میں نے فون اٹھایا تو اس کی آواز سن کر میرا گلا بھر آیا۔ اس نے گھبرا کر پوچھا: “کیا ہوا سونو؟” میں نے جواب دیا: “سونو نہیں، شاہینہ… اور اب تمہارا میرا رشتہ ایک مقدس رشتے (بہنوئی اور سالی) میں بدل چکا ہے، اس لیے اب مجھے فون مت کرنا۔” وہ حیرت سے بولا: “کیوں نہ کروں؟ پہلے بھی تم تھیں، اب بھی تم ہو۔ منگنی سے تو یہ رشتہ اور بھی مضبوط ہو گیا ہے، اب تو مجھے تم سے بات کرنے کا پورا حق ہے۔”
تب میں نے وضاحت کی کہ “میں وہ نہیں ہوں جس سے تمہاری منگنی ہوئی ہے، بلکہ میں اس کی بڑی بہن شاہینہ ہوں۔ تمہاری منگیتر کا نام زرینہ ہے۔” یہ سن کر وہ ہکا بکا رہ گیا اور بولا: “مگر میں نے تو تم سے پیار کیا تھا! تمہارے لیے ہی امی کو بھیجا تھا۔ اس دن جب تم بالکونی میں آئی تھیں، تبھی تم میری نظروں اور میرے دل میں اتر گئی تھیں۔”
میں نے کہا: “وہ میں نہیں تھی بلکہ میری چھوٹی بہن زرینہ تھی۔ تم نے میری بجائے اسے دیکھا تھا۔” وہ حیرت سے بولا: “اوہ! اسی لیے تو میں نے تصویر میں اسے دیکھ کر امی سے کہہ دیا تھا کہ یہی لڑکی ہے، لیکن مجھے تو تم نے بالکونی میں آ کر صورت دکھانے کو کہا تھا۔”
میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا: “خیر، اب جو ہونا تھا ہو چکا۔ تم جس کی قسمت میں تھے، اسے مل گئے۔ اب اس بندھن کو نبھانا ہوگا۔ اگر تم نے یہ منگنی توڑ بھی دی تو بھی مجھے نہ پا سکو گے۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بہن سے منگنی توڑنے کے بعد وہی والدین تمہیں اپنی دوسری بیٹی کا رشتہ دے دیں؟ اس لیے چپ کا زہر اب ہم دونوں کو عمر بھر پینا ہوگا۔ اس واقعے کو ایک خواب سمجھ کر بھلا دو۔”
میں رو رہی تھی۔ اس نے تڑپ کر کہا: “میں یہ سب کیسے بھلا سکوں گا؟ سنو! میں سچ کہتا ہوں، اگر مجھے تمہارا ہاتھ نہیں مل سکتا تو میں یہ منگنی توڑ دوں گا۔” میں نے التجا کی: “ایسا ہرگز نہ کرنا اسرار، تمہیں میری قسم! میری بہن تم سے منسوب ہو کر بہت خوش ہے۔ میں اس کی خوشیاں چھین کر کبھی سُکھی نہیں رہ سکوں گی۔ میرے دل پر تو زخم لگ چکا ہے، اب اس کے دل کو داغدار نہ کرنا۔”
میری قسم نے اسے مجبور کر دیا اور وہ خاموش ہو گیا۔ تب میں نے اسے ایک اور قسم دے کر کہا: “تمہیں میری قسم، اب دوبارہ مجھے فون نہ کرنا اور اس راز کو زہر کا گھونٹ سمجھ کر پی جانا۔ کبھی کسی پر یہ ظاہر نہ کرنا کہ ہم ایک دوسرے سے آشنا تھے۔”
اس نے میری قسموں کی لاج رکھی، پھر کبھی مجھے فون نہ کیا اور اس راز کو سینے میں دفن کر دیا۔ ہم دونوں نے تلخ حقیقت کو ایک خواب سمجھ کر بھلا دیا۔ اگرچہ اب بھی دل کے کسی کونے میں ایک کسک باقی ہے، مگر ہم اپنے رشتے کے تقدس کا دل سے احترام کرتے ہیں۔
زرینہ اور اسرار کی شادی کے بعد میں نے شادی کا خیال دل سے نکال دیا اور ایک اسکول میں ملازمت کر لی، جو آج بھی جاری ہے۔ میں نے اپنی زندگی تعلیم کے لیے وقف کر دی ہے۔ بچوں کو پڑھا کر سکون ملتا ہے، تھک جاتی ہوں تو سو جاتی ہوں۔ میں ماضی کو یاد کرنے کی کوشش نہیں کرتی، اگرچہ انسان کا ماضی اسے کبھی نہیں بھولتا، مگر اسے بھلانا ہی پڑتا ہے کہ اسی میں انسان کی عظمت اور آبرو ہے۔
میرا دل چاہتا ہے کہ میں زرینہ کے گھر کبھی نہ جاؤں، لیکن بعض اوقات جانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تب بھی میں اپنے بہنوئی سے بات نہیں کرتی یا بہت کم بات کرتی ہوں۔ میں ہمیشہ فاصلہ برقرار رکھتی ہوں، البتہ زرینہ کے بچوں سے مجھے بہت لگاؤ ہے۔ وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتے اور نہ میں ان کے بغیر، اس لیے وہ اکثر ہمارے گھر آتے رہتے ہیں۔ زرینہ کو آج تک اس بات کا علم نہیں کہ اس کا شوہر کبھی مجھ سے محبت کرتا تھا۔ ہمارا رازداں صرف ایک ہی شخص ہے اور وہ ہے اسرار کی بہن، جس نے اپنے بھائی کی خاطر ہمیشہ کے لیے چپ سادھ لی ہے۔
(ختم شد)
.jpg)
