خاندانی دشمنی

Sublimegate Urdu Stories

 گھر میں عارفہ اکیلی تھی۔ سلیم کو موقع مل گیا۔ اس نے گھر جا کر عارفہ سے شادی کے مسئلے پر بات کی اور پھر دونوں نے فیصلہ کر لیا کہ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ عارفہ ڈٹ گئی کہ وہ شادی سے پہلے اپنی تعلیم مکمل کرے گی اور اگر کسی نے زبردستی شادی کی کوشش کی تو وہ زہر کھا لے گی۔ تایا نے جب خطرہ محسوس کیا تو انہوں نے عارفہ کی شادی اپنی اہلیہ (تائی) کے بھتیجے سے طے کر دی اور تاریخ بھی مقرر کر دی۔  
👇sublimegate👇 
ان دنوں تایا منیر اور ہم ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں: بشریٰ، نجمہ اور عارفہ۔ میں اور عارفہ ہم جماعت تھے، جبکہ سلیم بھائی آٹھویں جماعت میں تھے۔ ہم تینوں اکٹھے اسکول جایا کرتے تھے۔ یہ خوشحالی کا دور تھا اور ہمارا گھرانہ خوشیوں کا مرکز تھا۔ میرے دو تایا تھے۔ والد صاحب تایا منیر سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہماری تھوڑی سی زمین تھی جو تایا ابو کے ساتھ مشترکہ تھی۔ میرے دونوں بڑے بھائی اس زمین پر کاشتکاری کرتے تھے، جس سے خاصی پیداوار ہوتی تھی اور اس کی آمدنی ہماری خوشحالی کا سبب تھی۔

تایا منیر کو جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے اپنے حصے کی زمین فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب والد صاحب کو علم ہوا تو وہ پریشان ہو گئے۔ والد صاحب نے تایا سے کہا: “اگر آپ زمین بیچنا چاہتے ہیں تو کسی اور کے بجائے ہمیں فروخت کر دیں۔” وہ راضی ہو گئے اور ابو نے انہیں رقم دے دی، تاہم رجسٹری وغیرہ کا تقاضا نہ کیا؛ یہ سوچ کر کہ سگا بھائی ہے، ایسی کیا بے اعتباری ہوگی، رجسٹری بعد میں ہو جائے گی۔

جو رقم ابو سے تایا نے لی، اس سے انہوں نے پولٹری فارم کھولا، لیکن تایا منیر کو اس کام میں خاصا نقصان ہوا۔ اسی دوران میرے بڑے بھائی ندیم کی شادی ہونے لگی، تو ابو نے سوچا کہ چلو زمین فروخت کر کے کوئی اور کام کریں گے اور شادی کے اخراجات بھی پورے ہو جائیں گے۔ گاؤں کے ایک زمیندار نے ہم سے زمین خریدنے کا وعدہ کیا، تو ابو نے تمام کاغذات مکمل کر کے تایا منیر سے کہا کہ ان پر دستخط کر دیں۔ انہوں نے انکار کر دیا، جس سے ہم سب حیران رہ گئے۔ غلطی ابو کی تھی کہ انہوں نے جب رقم دی تھی تو تایا سے کوئی رسید نہیں لی تھی کیونکہ انہیں بھائی پر کامل بھروسہ تھا، لیکن اب وہ اپنے ہاتھ کٹوا بیٹھے تھے۔ والد صاحب نے کافی منت سماجت کی، لیکن تایا پر کوئی اثر نہ ہوا۔ انہوں نے صاف کہہ دیا: “کون سی رقم اور کیسی رجسٹری؟ اس سودے کو اب تم بھول جاؤ۔”

والد صاحب بہت ملال محسوس کرنے لگے اور بے بسی کی تصویر بن گئے۔ باپ کی یہ بے بسی بیٹے سے دیکھی نہ گئی تو ندیم بھائی تایا سے لڑ پڑے۔ بات تلخ کلامی سے ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ یوں مکان کے ساتھ ساتھ ہمارے دلوں کے درمیان بھی دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ والد صاحب نے کہیں سے رقم کا بندوبست کیا اور ندیم بھائی کی شادی ہو گئی، جس میں تایا منیر شریک نہ ہوئے۔

عارفہ اور میں دسویں جماعت میں تھے اور سلیم نویں میں۔ ہم اب بھی اکٹھے اسکول جاتے اور وہاں یہ ظاہر نہ کرتے کہ ہمارے بڑوں میں لڑائی ہے۔ اسکول میں ہم بڑی محبت اور اپنائیت سے پیش آتے تاکہ ہمارے ہم جماعتوں کو گھریلو جھگڑے کا علم نہ ہو سکے۔ سلیم بھائی عارفہ کا بہت لحاظ اور احترام کرتے تھے اور اس احترام کے پیچھے محبت کا جذبہ پوشیدہ تھا۔ عارفہ دسویں جماعت میں فیل ہو گئی، اس طرح وہ اور سلیم بھائی ہم جماعت ہو گئے۔ عام طور پر لوگ فیل ہونے پر افسردہ ہوتے ہیں، لیکن عارفہ خوش تھی کیونکہ اب دونوں کا ساتھ ہو گیا تھا۔ وہ کلاس میں ساتھ بیٹھتے اور باتیں کرتے، لیکن گھر پر بات نہ کر پاتے کیونکہ صحن کے بیچوں بیچ دیوار اٹھ چکی تھی۔

جب گرمیوں کی چھٹیاں ہونے والی تھیں، میں نے عارفہ سے کہا کہ جب مغرب کی اذان ہو تو فوراً چھت پر آ جانا۔ وہ کہنے لگی: “جب تم چھت پر آؤ تو سلیم سے بھی کہنا کہ وہ بھی آئے۔” ہم دونوں بہن بھائی روز شام کو چھت پر چلے جاتے اور عارفہ سے باتیں کرتے۔ ایک روز امی کو شک ہو گیا۔ وہ چپکے سے ہمارے پیچھے آئیں اور ہمیں باتیں کرتے دیکھ لیا۔ انہوں نے پوچھا: “روز چھت پر کیا کرنے جاتے ہو؟” امی جان کو سب صاف بتانا پڑا کہ عارفہ اور سلیم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ان کی شادی آپس میں ہونی چاہیے۔

امی نے ابو سے بات کرنے کا کہا۔ میں نے کافی منت سماجت کی، تب کہیں جا کر انہوں نے ایک روز ابو کو اس بات کی خبر دی۔ وہ سنتے ہی آگ بگولہ ہو گئے۔ بات تایا تک پہنچ گئی، جنہوں نے فوراً عارفہ کو اسکول سے اٹھا لیا اور اسے مارا پیٹا، جس سے عارفہ کو بہت دکھ ہوا۔ عارفہ ڈٹ گئی کہ وہ شادی سے پہلے اپنی تعلیم مکمل کرے گی اور اگر کسی نے زبردستی شادی کی کوشش کی تو وہ زہر کھا لے گی۔ تایا نے جب خطرہ محسوس کیا تو انہوں نے عارفہ کی شادی اپنی اہلیہ (تائی) کے بھتیجے سے طے کر دی اور تاریخ بھی مقرر کر دی۔

ایک روز تائی بازار گئی ہوئی تھیں اور تایا ابو بھی گھر پر نہیں تھے۔ گھر میں عارفہ اکیلی تھی۔ سلیم کو موقع مل گیا۔ اس نے گھر جا کر عارفہ سے شادی کے مسئلے پر بات کی اور پھر دونوں نے فیصلہ کر لیا کہ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے بھاگنے کا وقت طے کیا۔ ابھی وہ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ سامنے سے تایا منیر آ گئے۔ انہوں نے دونوں کو پکڑ لیا اور گلی میں سخت سست کہا۔ شور سن کر کچھ پڑوسی بھی جمع ہو گئے۔ یوں یہ خبر سارے گاؤں میں پھیل گئی کہ عارفہ اور سلیم گھر سے بھاگ رہے تھے۔

والدین کو خاندان والوں اور رشتے داروں نے آڑے ہاتھوں لیا کہ تمہارے لڑکے نے بہت غلط کیا۔ اچھے خاندانوں کے لڑکے ایسی حرکات نہیں کرتے۔ ابو اسی بدنامی کے خوف سے گاؤں والا مکان فروخت کر کے فیصل آباد منتقل ہو گئے اور ہم لوگ یہاں رہنے لگے۔ ہمارا دل یہاں نہیں لگ رہا تھا، خاص طور پر عارفہ بہت یاد آتی تھی۔

سلیم بھائی ایک روز کہنے لگے: “میں مرد ہو کر یہاں چھپا بیٹھا ہوں اور عارفہ بیچاری لڑکی ہو کر وہاں گاؤں والوں کی طعنہ زنی اور بدنامی کا مقابلہ کر رہی ہے۔” یہ خیال آتے ہی سلیم گھر والوں کو بتائے بغیر گاؤں روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ دنیا ہی بدل چکی ہے۔ ایک کزن نے سلیم کو بتایا کہ تمہارے جانے کے بعد عارفہ پر سخت پابندیاں لگا دی گئی ہیں، وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتی اور اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

چند روز بعد اس کے ماموں اور ممانی آئے کیونکہ شادی کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔ عارفہ نے ممانی کے سامنے صاف انکار کر دیا۔ ایک تو بھاگنے کی بدنامی اور اوپر سے شادی سے انکار؛ والدین سخت برہم ہو گئے۔ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ غصے میں انہوں نے عارفہ کو اتنا مارا کہ اس کا بازو ٹوٹ گیا۔ چیخ و پکار سن کر پڑوسی آگئے اور عارفہ کو چھڑایا، انہوں نے والدین کو سمجھایا کہ بیٹی پر اس طرح ہاتھ اٹھانا مناسب نہیں۔

بازو کی تکلیف کی وجہ سے عارفہ بری طرح کراہتی رہی، تب اس کی بڑی بہن بشریٰ (جو شادی شدہ تھی اور قریبی شہر میں رہتی تھی) آئی اور عارفہ کو اپنے ساتھ لے گئی تاکہ اس کا بہتر علاج کرا سکے۔ اس کے دیور ڈاکٹر فرخ نے بڑی دلجمعی سے علاج کیا اور جب انہیں عارفہ کے حالات کا علم ہوا تو انہوں نے دلی ہمدردی محسوس کی۔ ڈاکٹر فرخ نے اپنی بھابھی سے کہا: “اگر عارفہ مجھ سے شادی پر راضی ہو جائے تو میں اسے زندگی کی تمام خوشیاں دوں گا تاکہ وہ اپنے پچھلے غم بھول جائے۔” یہ ایک امید افزا بات تھی، کیونکہ عارفہ پر بدنامی کا داغ لگ چکا تھا اور گاؤں میں اس کی شادی کا امکان تقریباً ختم ہو چکا تھا۔یہ پیشکش بری نہیں تھی، لیکن سارا معاملہ عارفہ کی رضا مندی پر منحصر تھا۔ بڑی بہن نے دبے لفظوں میں عارفہ کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ غصے میں آ گئی۔ عارفہ نے سوچا کہ کیا فرخ صاحب اسی لیے اتنی دیکھ بھال کر رہے تھے؟ کیا ان کے دل میں کوئی طمع تھی؟ لیکن حقیقت ایسی نہ تھی، کبھی کبھار انسان کو دوسرے کے دکھ دیکھ کر خالص ہمدردی ہو جاتی ہے۔ بشریٰ نے اسے سمجھایا: “تم نے خود کو ایسے حالات میں پہنچا دیا ہے کہ دیواریں بھی تمہیں دیکھ کر افسردہ ہو جاتی ہیں۔ تمہارے چہرے پر ایسی پژمردگی ہے کہ اگر تم باہر نکلو تو چمن کے پھول بھی رونے لگیں۔”

عارفہ اتنی غمزدہ تھی کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ تھی۔ اسے بس ایک ہی غم کھائے جا رہا تھا کہ سلیم کا ساتھ چھوٹ گیا ہے۔ بچپن کا پیار کھو جائے تو دل مستقل بے قراری کا شکار ہو جاتا ہے اور دنیا کی کوئی شے اچھی نہیں لگتی۔ بشریٰ باجی جب اسے سمجھا کر تھک گئیں تو انہوں نے امی ابو سے اپنے دیور کی خواہش کا اظہار کیا۔ تایا اور تائی بہت خوش ہوئے کہ ان کی بیٹی، جو گاؤں میں بدنام ہو چکی تھی، اب بھی ایک اتنے اچھے رشتے کی حقدار ٹھہری تھی۔ بشریٰ نے انہیں تسلی دی کہ: “آپ فکر نہ کریں، عارفہ کو ہم راضی کر لیں گے، آپ بس دیور سے کہیں کہ شادی کی تیاری کرے۔”

بشریٰ باجی درمیان میں پھنس کر رہ گئیں۔ عارفہ تو شادی سے قبل ہی کسی اجڑی ہوئی سہاگن کی طرح دکھی تھی۔ اس کے چہرے سے اداسی برستی تھی اور وہ سوگواری میں آٹھ آٹھ آنسو بہاتی رہتی تھی۔ ایسی رنجور روح کو سمجھانا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ اصل قصور تو سراسر تایا کا تھا، جو اپنے سگے بھائی سے رقم لینے کے باوجود زمین پر قابض تھے اور ناراض بھی خود ہی تھے۔ ابو نے تو رقم دے کر بھی صبر کر لیا تھا اور خاموشی سے مکان چھوڑ کر چلے آئے تھے۔عارفہ اور سلیم، جو ایک ہی گھر میں پلے بڑھے تھے، اب دریا کے دو کنارے بن چکے تھے۔ ایک روز تایا اور تائی بشریٰ کے گھر گئے، جہاں عارفہ سوگواری کے عالم میں بیٹھی تھی۔ اپنے والدین کو دیکھ کر اسے سکتہ سا ہو گیا، زبان گنگ ہوگئی اور آنکھیں خلا میں معلق رہ گئیں۔ تائی بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر خود سکتے میں آگئیں اور ان کا سارا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ گیا۔ بشریٰ نے جب عارفہ کو زور سے ہلایا اور جھٹکا دیا، تو وہ زمین پر گر پڑی اور پھر کبھی نہ اٹھ سکی۔ دراصل اس کا دل صدمے کی تاب نہ لا کر بند ہو چکا تھا؛ وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی تھی۔ ڈاکٹر فرخ نے جب بتایا کہ عارفہ اب اس دنیا میں نہیں رہی، تو اس بات پر یقین کرنا سب کے لیے مشکل تھا۔

بعد میں تایا کے ملازم کے ذریعے ایک رقعہ ملا، جس میں لکھا تھا: “اگر میں مر جاؤں تو سلیم سے کہنا کہ وہ کسی اچھی لڑکی سے شادی کر لے۔” یہ سب باتیں بعد میں اختر سے معلوم ہوئیں، کیونکہ تایا کے ملازم اکثر عارفہ کے خطوط سلیم بھائی تک پہنچایا کرتے تھے۔ عارفہ کی وفات کا صدمہ سب کے لیے گہرا تھا۔ سلیم کئی دن تک اپنے کمرے میں نڈھال پڑا رہا۔ ایک روز امی کمرے میں آئیں اور کہا: “سلیم بیٹا، تیار ہو جاؤ، آج شائستہ کے گھر والے آ رہے ہیں۔”

شائستہ میری خالہ کی بیٹی تھی۔ سلیم اس شادی کے لیے قطعاً راضی نہ تھے، مگر جب انہیں عارفہ کی آخری نصیحت یاد دلائی گئی تو وہ بوجھل دل کے ساتھ راضی ہو گئے اور شائستہ سے شادی کر لی۔ شائستہ نے اپنے بہترین اخلاق اور حسنِ سلوک سے سلیم کا دل جیت لیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دو بیٹوں سے نوازا اور سلیم ان بچوں کے معصوم پیار میں کھو کر اپنی زندگی کے تمام پرانے غم بھول گیا۔وقت پر لگا کر گزرتا رہا، اور پھر ایک روز اچانک تایا منیر ہمارے گھر آئے۔ ان کے چہرے پر پشیمانی تھی، انہوں نے ابو سے اپنے کیے کی معافی مانگی اور کہا: “میں تمہاری رقم واپس کرنے آیا ہوں، تم چاہو تو اس پر منافع (سود) لے لو یا زمین کا کچھ زائد حصہ رکھ لو، کیونکہ میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی تھی اور مجھے اس کی سزا بھی مل گئی۔”

عارفہ کی وفات کے المیے نے تایا کے سنگلاخ دل کو موم کر دیا تھا۔ والد صاحب نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا، اور یوں برسوں کی تلخیاں ختم ہو گئیں۔ آخرکار سلیم اور شائستہ کی زندگی سکون اور خوشیوں کے ساتھ گزرنے لگی۔

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بہن بھائیوں اور خونی رشتوں کی محبت کو کبھی روپے پیسے کی خاطر داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ یہ رشتے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ انعام ہیں، انہیں ہر حال میں سنبھال کر رکھنا چاہیے کیونکہ 
جائیدادیں واپس آ سکتی ہیں، مگر بچھڑ جانے والے انسان کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ