سوتیلی ماں

Sublimegate Urdu Stories

اس علاقے میں عیسائی، ہندو، سکھ اور مسلمان سب مل جل کر آباد تھے، مگر یہ واردات بالکل مسلمانوں والی تھی۔ وہی پرانا عورت کا چکر، وہی عشق بازیاں جو معلوم نہیں کیوں مسلمانوں کے حصے میں ہی زیادہ آتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو مسلمان بادشاہ بھی عورتوں کی زلفوں کے اسیر نظر آتے ہیں، جو تخت و تاج تک عورتوں کی خاطر ٹھکرا چکے۔ فقیر دیکھیں تو وہ بھی عورت کے تصور میں مست۔ عورت کے نام پر جو مسلمان قتل ہوئے یا پھانسی چڑھے، ان کی تعداد شاید باقی تمام قوموں کے مجرموں سے دگنی ہو گی۔

میں اس وقت تھانے میں بیٹھا کسی کیس کی پیچیدگیوں میں الجھا ہوا تھا کہ دفتر میں ایک نوجوان داخل ہوا۔ عمر پچیس سال کے قریب، چہرہ پریشان۔ اس نے رپورٹ کی کہ اس کی بیوی لاپتہ ہو گئی ہے اور اسے غائب ہوئے ایک دن اور دو راتیں گزر چکی ہیں۔ شادی کو محض ایک سال ہی ہوا تھا۔ اتنی تاخیر سے رپورٹ کرنے کی وجہ پوچھی تو بولا، "جناب، سوچا تھا شاید خود واپس آ جائے۔" میں نے فوراً دریافت کیا کہ یہ امید کیوں باندھی تھی؟ اس نے بتایا کہ عام طور پر گھر والے خود تلاش کرتے رہتے ہیں، ہم نے بھی یہی کیا۔ پہلے سسرال گئے مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ چونکہ شام ڈھلے غائب ہوئی تھی، اس لیے رات کو سہیلیوں کے گھروں جانا مناسب نہ لگااپنی عزت داؤ پر لگانے والی بات تھی۔ اگلے دن سہیلیوں سے پوچھا، مگر کہیں نشان نہ ملا۔ اسی تلاش میں رات ہو گئی اور گھر والوں کو تھانے آنے یا نہ آنے میں عزت کا خیال آڑے آتا رہا۔

جب اس نے بتایا کہ اس کی ماں سوتیلی ہے تو میرے کان کھڑے ہو گئے۔ میں نے پوچھا، "تمہاری سوتیلی ماں کی عمر کتنی ہے؟" اس نے کہا، "شاید تیس سال۔" اور باپ کی عمر؟ "کم از کم ساٹھ کے قریب۔" ہمارے معاشرے میں سوتیلی ماں اکثر ایک خطرناک کردار ثابت ہوتی ہے۔ پولیس کی فائلوں میں ایسے کیسز بھرے پڑے ہیں جوان بیٹا سوتیلی ماں کو بھگا لے جاتا ہے، شادی کر لیتا ہے، یا دونوں مل کر بوڑھے باپ کا قتل کرا دیتے ہیں۔ جوان سوتیلی مائیں سوتیلے بیٹوں کی بیویوں کو رقیب سمجھنے لگتی ہیں۔ اس لڑکی کی گمشدگی میں بھی سوتیلی ماں کا نام سنتے ہی مجھے شک ہوا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس کے گھر جا کر خود معلومات حاصل کروں اور پھر رپورٹ درج کروں۔

میں فوراً اس کے ساتھ اس کے گھر روانہ ہوا۔ سب سے پہلے سوتیلی ماں کو دیکھا، پھر بوڑھے باپ کو۔ بوڑھا تو ایسا لگتا تھا جیسے اس عورت کا باپ ہو، جبکہ سوتیلا بیٹا اور سوتیلی ماں بہن بھائی سے زیادہ قریب نظر آتے تھے۔ باپ اور بیٹے کو باتیں کرنے کے لیے میں نے الگ کمرے میں بٹھا لیا۔ ساجد یعنی گمشدہ لڑکی کے شوہرسے پوچھا کہ سوتیلی ماں کا سلوک کیسا ہے؟ اس نے کہا، "بہت اچھا، بالکل سگی ماں جیسا۔" بوڑھے باپ نے بھی بیوی کی تعریفیں شروع کر دیں۔ بتایا کہ ان کی ایک شادی شدہ بیٹی ہے، تین بچوں کی ماں، جب وہ آتی ہے تو سوتیلی ماں اس کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کرتی ہے کہ سگی ماں بھی شاید نہ کرتی۔ "ہمیں یقین ہی نہیں آتا کہ سوتیلی مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں۔"

دونوں باپ بیٹا اس عورت کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے تھے، مگر میں ان کے الفاظ کم، چہروں زیادہ پڑھ رہا تھا۔ بوڑھے کے چہرے پر بے بسی جھلک رہی تھی، جیسے وہ ہار چکا ہو اور اب الفاظ سے ہار کو جیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہو۔ بیٹے کے تاثرات الگ تھےایک جوان مرد ایک ایسی جوان عورت کی تعریف کر رہا تھا جسے وہ ماں یا بہن بالکل نہ سمجھتا تھا۔ میں نے ساجد سے پوچھا، "کیا تمہاری بیوی یہاں خوش رہتی تھی؟ اس کا سوتیلی ماں سے کوئی جھگڑا تو نہیں تھا؟" دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا، بڑی شد و مد سے یقین دلایا کہ دونوں عورتیں اس گھر میں بہت خوش تھیں۔ ساجد نے غمگین لہجے میں کہا، "کاش میری بیوی مل جائے، وہ خود آپ کو بتا سکتی ہے کہ سوتیلی ماں کا سلوک کتنا اچھا تھا۔" بوڑھے نے اضافہ کیا، "میری یہ دوسری بیوی بہت نیک روح ہے۔ ساجد کی سگی ماں بھی اچھی تھی، مگر اس نے تو میرے گھر کو جنت بنا دیا۔ محلے والوں سے، سسرال والوں سے پوچھ لیجیے۔"

میں نے بوڑھے سے پوچھا کہ دوسری شادی کب کی؟ اس نے بتایا، "ڈیڑھ سال ہو گئے۔" بیوی کہاں کی ہے؟ "ہمارے گاؤں سے سات آٹھ میل دور ایک گاؤں کی۔" کیا وہ بیوہ تھی، طلاق یافتہ یا کنواری؟ بوڑھا بولا، "بیوہ تھی۔ جوانی میں بیوہ ہو جائے تو لوگ ہمدردی کی بجائے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گاؤں والوں نے بدکار ہونے کا الزام لگا دیا، کوئی دوسری شادی کے لیے تیار نہ ہوا۔ میرے ایک دوست نے ساری بات بتائی اور کہا کہ نیکی کا کام ہے۔ میں نے نیکی کی اور اسے گھر آباد کر لیا۔ اس نے مجھے ایک لمحے کو بھی پریشان نہیں کیا۔" ساجد نے کہا، "میری ساس فوت ہو چکی تھیں، شادی کے بعد سوتیلی ماں نے سگی ماں کی کمی پوری کر دی۔ سسرال جا کر تصدیق کر لیجیے۔"

اسی دوران ساجد کی شادی شدہ بہن آ گئی، گمشدگی کی خبر سن کر۔ میں نے اسے بھی اندر بلایا اور سوتیلی ماں کے بارے میں رائے مانگی۔ اس نے باپ اور بھائی سے بڑھ کر تعریفیں کیں۔ اب تو میں خود قائل ہو گیا کہ یہ سوتیلی ماں واقعی اچھی عورت ہے۔ چونکہ سوتیلی ماں کا کردار اکثر سنگین وارداتوں کا سبب بنتا ہے، اس لیے میں شک دور کرنا چاہتا تھا کہ اس گمشدگی میں اس کا ہاتھ تو نہیں۔ مگر یہ سب اس کے مرید بنے ہوئے تھے۔ ساجد تو اپنی بیوی کی گمشدگی برداشت کر سکتا تھا، مگر سوتیلی ماں پر ذرا سا شک بھی نہ برداشت کرتا۔

آخر میں میں نے پوچھا کہ لڑکی کب اور کیسے گھر سے نکلی تھی؟ بوڑھے نے جواب دیا، "اس کی بیوی بتا سکتی ہے، کیونکہ لڑکی نے اسی کو کچھ کہہ کر شام کے وقت گھر سے نکلنا تھا۔"

میں نے باپ، بیٹے اور بیٹی کو کمرے سے باہر بھیج دیا اور سوتیلی ماں کو اندر بلایا۔ وہ آئی تو میں نے اسے سامنے بٹھا لیا۔ اس کے چہرے پر گہری اداسی چھائی تھی اور آنکھیں جھکی ہوئیں۔

میں نے پوچھا کہ گمشدہ لڑکی کس وقت گھر سے نکلی تھی؟ اس نے غم میں ڈوبے لہجے میں جواب دیا، "شام کا کھانا کھا کر۔"

میں نے اس عورت کے چہرے کا گہرا جائزہ لیا۔ گھر والوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ یہ محبت کرنے والی نیک عورت ہے، جسے اس کے گاؤں والوں نے محض بدنام کر دیا تھا۔ مگر اس کے چہرے پر وہ رنگ صاف جھلک رہے تھے جو اکثر عورت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ضروری نہیں تھا کہ وہ واقعی گنہگار بھی ہو، مگر یہ عورت غیر معمولی خوبصورت تو نہ تھی—رنگ گندمی اور سفید کے درمیان، جسم کی بناوٹ اور چہرے کے نقش و نگار میں ایسی کشش تھی جو دیکھنے والوں کی نظریں اس کے جسم پر کھینچ لاتی تھی۔ آنکھوں میں مسکراہٹ اب بھی نمایاں تھی، اداسی کے باوجود۔ اس کے چہرے اور جسم میں ایسی دل کشی تھی جو پاک محبت کی بجائے حیوانی جذبے کو بھڑکاتی تھی۔ وہ شگفتہ مزاج اور زندہ دل معلوم ہوتی تھی۔ نیک اور پاک تو ہو سکتی تھی، مگر میں اسے نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔

میں نے کہا، "مجھے تفصیل سے بتاؤ کہ لڑکی کس طرح گھر سے نکلی تھی؟"

اس نے بتایا، "شام کا کھانا کھا کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور میں باورچی خانے میں تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ میرے پاس آئی، برقعہ اوڑھے ہوئے۔ بولی، 'امی، میں ابھی آتی ہوں، جرسی کا ایک نمونہ لانا ہے۔' میں نے نہیں پوچھا کہ کس کے گھر سے لائے گی، اس نے خود بھی نہیں بتایا۔ بس یوں کہہ کر چلی گئی کہ ابھی آتی ہوں۔ اور پھر واپس نہ آئی۔"

میں نے پوچھا، "تم نے اس سے کیوں نہ پوچھا کہ نمونہ کہاں سے لائے گی؟ جوان لڑکی کا رات کے وقت باہر جانا ٹھیک تو نہیں تھا۔"

وہ بولی، "مجھے اس لڑکی پر پورا بھروسہ تھا۔ وہ کئی بار اسی وقت سہیلیوں کے گھر گئی تھی۔ بعض اوقات ضد کر کے مجھے بھی ساتھ لے جاتی تھی۔ میرا اس کے ساتھ سہیلیوں والا پیار تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ جب سے یہ لڑکی گھر میں آئی، میرے لیے رونق پیدا ہو گئی۔"

میں نے پوچھا، "کیا لڑکی اپنے شوہر سے خوش تھی؟" 
وہ بولی، "جی ہاں، پوری طرح خوش اور مطمئن تھی۔" 
میں نے کہا، "اور تم اپنے بوڑھے شوہر سے خوش ہو؟"

اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بولی، "آپ انہیں بوڑھا سمجھتے ہوں گے، مگر میرے لیے وہ بوڑھے نہیں۔ میں ان سے ہر لحاظ سے خوش اور راضی ہوں۔" وہ میرا اشارہ بخوبی سمجھ گئی تھی۔

میں نے کہا، "گھر والے تمہارے سلوک کی بہت تعریف کرتے ہیں، اور ساجد تو تمہارا غلام لگتا ہے۔" 
وہ بولی، "ہماری عمروں میں چار پانچ سال کا فرق ہے، مگر میں ساجد کو اپنا بیٹا ہی سمجھتی ہوں۔" 
میں نے پوچھا، "سنا ہے تمہارے گاؤں میں لوگوں نے تمہیں بدنام کر رکھا تھا۔ انہیں ایسا شک کیوں ہوا؟"

اس نے کہا، "شوہر کی موت کا صدمہ کس عورت کو نہیں ہوتا؟ لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ میری راتیں روتے گزرتی تھیں۔ انہوں نے بس یہ دیکھا کہ میں ہنستی مسکراتی ہوں۔ ٹھیک ہے، میں ہنستی مسکراتی تھی، مگر یہ کوئی نہ جان سکا کہ میں غم دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔ میری یہی عادت—شوخیاں اور شرارتیں پسند کرنا—مجھے بدنام کروا گئی۔ گاؤں میں عورتوں کے شکاری بھی تھے، انہوں نے میرے مسکراتے چہرے اور جوانی کی بیوگی سے دھوکہ کھایا اور جال پھینکنے لگے۔ کسی نے شادی کی پیشکش نہ کی، سب مجھے بن بیاہی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ میں نے سب کے شک دور کر دیے، دو کو تو دور سے جوتیاں اتار کر دکھا دی تھیں۔ مجھے اغوا اور زبردستی خراب کرنے کی دھمکیاں بھی ملیں۔ میرا کوئی بھائی نہیں، صرف تین بہنیں، ماں فوت ہو چکی تھیں اور باپ بوڑھے۔ اس لیے میں خود مرد بن گئی اور کسی کے جال میں نہ آئی۔ جنہیں جوتیاں دکھائی تھیں، انہوں نے ہی مجھے بدنام کر دیا۔ ایسی ایسی کہانیاں گھڑ لیں کہ میں چکرا کر رہ گئی۔ بوڑھے باپ کی رسوائی ہوئی۔"

"پھر باپ نے گاؤں کے نمبردار سے کہا کہ میری شادی کروا دے، مگر جس سے بھی بات ہوئی، اس نے کہا لڑکی خراب ہے۔ آخر کسی کی معرفت ان سے بات ہوئی اور نکاح ہو گیا۔"

میں نے پوچھا، "کیا تمہیں معلوم تھا کہ ہونے والا شوہر بوڑھا ہے اور اس کی جوان اولاد بھی؟" 
وہ بولی، "جی ہاں، مجھے بتایا گیا تھا کہ ایک جوان بیٹا ہے جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی اور ایک شادی شدہ بیٹی بھی۔"

میں نے کہا، "اکثر دیکھا گیا ہے کہ جوان بیٹے سوتیلی ماں کو پسند نہیں کرتے۔ تو کیا ساجد نے تمہیں ماں کی حیثیت سے قبول کر لیا؟"

وہ بولی، "جی ہاں، پہلے دن سے۔ جب میں نے اسے دل سے قبول کر لیا تو وہ مجھے کیوں نہ قبول کرتا؟" 
میں نے اس کے جواب اور انداز کو ذہن میں محفوظ کر لیا۔ اس عورت کے بارے میں کوئی ایسی رائے قائم نہ کر سکا جو میرے شک کو پختہ کرتی۔ چہرے سے تو شک ہوا تھا، مگر سامنے کوئی مضبوط جواز نہ آیا۔

آخر میں میں نے کہا، "تمہاری بہو اور سہیلی لاپتہ ہو گئی ہے، اور یقیناً تم دونوں میں رازداری بھی رہی ہو گی۔ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہے تو مجھے بتا دو۔ مجھے شک ہے کہ وہ اپنے شوہر سے خوش نہ تھی اور اس کا دل کہیں اور تھا۔ جسے چاہتی تھی، اس کے ساتھ نکل گئی اور تمہیں ضرور کچھ بتایا ہو گا۔"

وہ بولی، "اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دیتیں۔ ویسے بھی یہ شادی اس کی پسند کی تھی۔" 
میں نے پوچھا، "لڑکی گھر سے کوئی پیسے یا زیور تو نہیں لے کر گئی؟"

اس نے کہا، "میں نے گھر میں سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ وہ صرف پہنے ہوئے کپڑوں کے سوا کچھ نہ لے گئی۔ کپڑوں پر کالا برقعہ اوڑھا تھا، نیا فیشن والا۔"

میں نے اس سوتیلی ماں سے کہا اب ایک بات سچ سچ بتاو کیا تمہاری اور ساجد کی آپس میں بے تکلفی تھی ؟ اور کیا تم دونوں اکٹھے بیٹھتے تھے کیونکہ مجھے ایسا شک ہو رہا ہے کہ گمشدہ لڑکی نے تمہاری اور ساجد کی محبت کو کہیں غلط نہ سمجھ لیا ہو تم بھی تو آخر ایک جوان اور خوبصورت عورت ہو ؟
وہ بولی اگر ایسی کوی بات ہوتی تو وہ مجھے یا ساجد کو ضرور بتاتی کوی شکاٸت کرتی یا ناراضگی کا اظہار کرتی !
 
میں اس مرحلے میں اس سے کچھ اور نہیں پوچھنا چاہتا تھا میں تو بس اسے ٹوہ رہا تھا
اصل میں مجھے اس مرحلے میں تین افراد کو دیکھنا تھا نمبر ایک بوڑھا شوہر نمبر دو جوان بیٹا اور نمبر تین سوتیلی ماں یہ تینوں کردار ایسے ہیں جہاں اکٹھے ہو جاییں وھاں جھوٹ بھی سچ ہو جایا کرتے ہیں اب مجھے کچھ سوالوں کے جواب درکار تھےکیا یہ جوان عورت جو جوانی کے عروج پر ہے اپنے اس خاوند سے مطمن ہے جو بڑھاپے کے عروج میں داخل ہو رہا ہے ؟کیا یہ جوان آدمی سوتیلی ماں کو سگی ماں سمجھتا ہےکیا ساجد اور اس کی لاپتہ بیوی میں کوی نا چاقی تھی ؟ اور کیا اس کا باعث یہ سوتیلی ماں ہو سکتی تھی ؟
ایسے سوالوں کے جواب ان کرداروں سے نہیں ملا کرتے بلکہ ان کے جواب ان کرداروں سے خار کھانے والوں یا ان کے قریب رہنے والے کرداروں سے ملا کرتے ہیں
میں نے اس عورت یعنی سوتیلی ماں کو کمرے سے باہر بھیج دیا اور خود بھی کمرے سے باہر آ گیا اور ساجد کو بلا کر گمشدہ لڑکی کا کمرہ اور اس کا سامان دیکھنے کی خواہش ظاہر کی !
ساجد مجھے دوسرے کمرے میں لے گیا میں نے اس وقت صرف ساجد کو اپنے ساتھ رکھا کمرے میں پہنچ کر میں نے کمرے کا سرسری جاٸزہ لیا اور کمرے میں رکھے ایک ٹرنک کو کھولنے کا کہا ساجد نے ٹرنک کھولا جو لڑکی کے کپڑوں سے بھرا ہوا تھا
میں نے تمام کپڑے باہر نکالے نیچے سے ایک کاغذ ملا یہ کسی آدمی کا لکھا ہوا محبت نامہ تھا کھلے الفاظ میں محبت کا اظہار کیا گیا تھا
کاغذ پر کسی کا بھی نام نہیں لکھا تھا پان کے پتے کی طرح دل بنا ہوا تھا اور اس دل میں سے تیر گزرا ہوا تھا تاریخ لکھی ہوی تھی جو ساجد اور لڑکی کی شادی سے دو مہینے پہلے کی تھی
کاغذ کی تحریر پڑھ کر میں خوش ہو گیا کہ چلو مجھے ایک سوال کا جواب تو مل گیا کہ لڑکی کا کسی کے ساتھ کوی چکر تھا اور یقینأ لڑکی اسی آدمی کے ساتھ کہیں نکل گٸ تھی مگر ساجد نے یہ کہہ کر مایوس کر دیا کہ یہ تو میرا رقعہ ہے جو میں نے ہی شادی سے پہلے لکھا تھا
اس نے بتایا کہ اس نے لڑکی کو اور لڑکی نے اس کو شادی سے پہلے پسند کر لیا تھا لڑکی نے ساجد کی شادی شدہ بہن کے گھر آنا جانا شروع کر دیا تھا اور وھاں ان کی ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں
میں نے ساجد سے پوچھا کہ یہ خط اس نے لڑکی تک کس طرح پہنچایا تھا خود دیا تھا یا کسی کے ھاتھ بھیجا تھا ؟
ساجد نے بتایا کہ اس نے یہ خط کسی کے ھاتھ بھجوایا تھا میں نے یہ سوال کسی خاص مقصد کے تحت پوچھا تھا جب میں نے ساجد سے رقعہ لے جانے والے کا نام پتہ پوچھا تو وہ پس و پیش کرنے لگا
میرے اصرار اور تسلی پر اس نے محلے کی ایک عورت کا نام لیا میں نے عورت کے گھر کا پتہ بھی اس سے معلوم کر لیا
اور اس پر ظاہر کیا کہ اس عورت کا اس کیس اور میری تفتیش سے کوی تعلق نہیں !
گمشدہ لڑکی کے متعلق میں نے راے قاٸم کی وہ سیدھی سادی نہیں بلکہ ہوشیار اور چالاک ہے
میں ساجد کو لے کر اس کے سسرال یعنی گمشدہ لڑکی کے ماں باپ کے گھر چلا گیا وھاں لڑکی کا باپ ملا بہت پریشان نظر آتا تھا اس نے میرے ساتھ ھاتھ ملایا اور مجھ سے پوچھا میری بیٹی کا کچھ پتہ چلا ؟
اس کے آنسو نکل آے تھے کہنے لگا تھانیدار صاحب یہ میری ایک ہی بیٹی ہے اور اپنی ماں کی نشانی ہے میں نے اس کی پسند کے لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کی تھی مگر اب پتہ نہیں کہاں چلی گٸ ہے
وہ سسکیاں لے کر رونے لگا ساجد کا بھی صبر ٹوٹ گیا وہ بھی رونے لگا میں نے لڑکی کے باپ سے کہا اگر مجھے مکمل معلومات مل جاییں تو میں لڑکی کا سراغ جلدی لگا لوں گا اس لیے مجھ سے کچھ بھی چھپایں مت !
میں نے ساجد کو باہر بھیج دیا اور باپ سے پوچھا کیا آپ کی بیٹی ساجد کے ساتھ خوش تھی ؟
وہ بولا لڑکی نے کبھی کوی شکاٸت تو نہیں کی تھی اور پھر یہ تو اس کی پسند کی شادی تھی میں نے اس سے ساجد کی سوتیلی ماں کے سلوک کے متعلق پوچھا تو اس نے بھی اس عورت کی تعریفیں بلکل اسی طرح کیں جس طرح ساجد اور اس کے باپ نے کیں تھیں
یہ شخص ساجد کے گھر جاتا رہتا تھا اس نے کہا ایسی اچھی اور رکھ رکھاو والی عورت اس نے کم ہی کہیں دیکھی ہو گی سوتیلی ماں کی تعریفیں سن کر مجھے تفتیش کے لیے دوسری لاٸن اختیار کرنی پڑی !
اب میری تفتیش کا رخ اس طرف ہو گیا کہ لڑکی نے اپنی پسند کی شادی کی تھی اور اکثر برادریوں والے ایسی شادی پسند نہیں کیا کرتے میں نے لڑکی کے باپ سے پوچھا کیا آپ کی بیٹی کا رشتہ کسی اور نے بھی مانگا تھا ؟
اس نے کہا جی ھاں تین گھروں نے میری بیٹی کا رشتہ مانگا تھا مگر میری بیٹی کو یہ لڑکا ساجد پسند تھا حالانکہ ساجد ہماری برادری کا نہیں تھا پھر بھی میں نے لڑکی کی پسند کو پسند کیا اور ان کی شادی کر دی
میں نے کہا پھر تو جن گھروں نے آپ سے آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا وہ ناراض ہوے ہوں گے ؟ =
وہ بولا ناراض تو ساری برادری ہوی تھی مجھے فیصلہ بدلنے کو کہا گیا تھا لیکن میں کسی کا محتاج نہیں تھا میں نے ان سے کہا کہ مجھے اس لڑکے اور اس کے گھر میں کوی خرابی بتا دو جہاں میں رشتہ دے رہا ہوں
میں نے پوچھا کیا کسی نے شدید ناراضگی کااظہار بھی کیا تھا میرا مطلب ہے کسی نے آپ کو انتقام کی دھمکی دی تھی اس نے کہا ایک گھرانے سے مجھے صاف الفاظ میں انتقام کی دھمکی ملی تھی
وہ آخر دم تک رشتے کے لیے پیچھے پڑے رہے بلکہ نکاح کے روز سے ایک دن پہلے بھی ان کا پیغام ملا کہ اب بھی وقت ہے سوچ لو !
لیکن میں سوچ چکا تھا مجھے اپنی بیٹی کی خوشی سے زیادہ کوی عزیز نہیں تھا شادی خیریت سے ہو گٸ اور اس سے اگلے روز ان کی طرف سے دھمکی ملی کہ ہم اپنی بے عزتی کا انتقام لیں گے لڑکی کسی اور کے گھر نہیں بسے گی اس نے مزید بتایا کہ دھمکی دینے والے خاندان کے چار بیٹے ہیں ان کے پاس پیسہ بھی ہے اور اثر و رسوخ بھی اور وہ نیک نام لوگ بھی نہیں ہیں
میں نے اس پہلو پر غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ ایک سال گزر گیا ہے اگر یہ لوگ کوی اوچھی حرکت کرنا چاہتے تو پہلے ہی کر چکے ہوتے وہ سال بھر کا انتظار نہ کرتے !
جب میں نے لڑکی کے باپ سے اس بات پر تبادلہ خیالات کیا تو اس نے کہا اسے اس خاندان کی طرف سے کوی خطرہ نہیں وہ جس لڑکے کے لیے رشتہ مانگ رہے تھے اس کی انہوں نے میری بیٹی کی شادی کے دو ہی مہینے بعد شادی کر دی تھی
مجھ سے صرف یہ انتقام لیا تھا کہ مجھے اپنے بیٹے کی شادی پر نہیں بلایا تھا اس کے بعد انھوں نے کبھی کوی بات نہیں کی تھی

اب میرے دماغ میں وہ عورت کھٹک رہی تھی جس کے ھاتھ ساجد شادی سے پہلے محبت نامے وغیرہ بھیجتا رہا تھا اگر ساجد کی سوتیلی ماں نے مجھے یہ بات مجھے سچ بتای تھی کہ گمشدہ لڑکی برقعہ پہن کر صرف یہ بتا کر گھر سے سے نکلی تھی کہ وہ کسی جرسی کا نمونہ لینے جا رہی ہے اور یہ نہیں بتایا کہ نمونہ کس سے لینے جا رہی ہے تو یہ واردات اغوا کی نہیں تھی
رشتے سے انکار پر لڑکی کے باپ کو انتقام کی دھمکی دینے والا خاندان بھی میرے زہن میں تھا لیکن اس پر میری توجہ اتنی زیادہ نہیں تھی کیونکہ ایک سال تک غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے انتقامی کارواییاں گرما گرمی میں فورأ کر دی جاتی ہیں
میں نے ساجد کو یہ کہہ کر باہر بھیج دیا کہ وہ شام پانچ بجے تھانے میں آ جاے اور خود تھانے آ گیا ایک کانسٹیبل کومحبت نامے پہنچانے والی عورت کا نام پتہ بتا کر اسے تھانے لانے کو کہا تھوڑی دیر بعد وہ عورت آ گٸ
اس کے چہرے پر گھبراہٹ تھی لیکن میں نے اپنے مخصوص انداز میں اس کی گھبراہٹ دور کی اور اس کے دل سے یہ خوف اتارا کہ اسے کسی جرم کی پاداش میں نہیں بلایا گیا تب اس عورت کے متعلق معلوم ہوا کہ اس عورت نے دو شادیاں کیں تھیں اور دونوں خاوند مر گیے تھے
پہلے خاوند سے دو لڑکے ہوے تھے جن میں ایک بچپن میں
ہی مر گیا اور دوسرا پندرہ سال کی عمر میں گھر سے بھاگ گیا اس وقت تک یہ عورت دوسری شادی کر چکی تھی دوسری شادی سے اس کی ایک لڑکی تھی پھر دوسرا خاوند بھی مر گیا
لڑکی کو اس عورت نے سولہ سال کی عمر میں بیاہ دیا تھا اس کے بعد اس کی زندگی تنہا گزری لڑکی کی شادی کر کے زندگی اللہ اللہ کرتے اور گھر گھر کی خدمت کرتے گزار رہی تھی
میں نے اس سے کہا تم گھر گھر جا لوگوں کی خدمت کرتی ہو تو اب کچھ خدمت میری بھی کر دو میں تمہیں اس خدمت کی اجرت بھی دوں گا
اس نے کہا جھاڑو برتن کا کام ہے تو میں حاضر ہوں کھانا وغیرہ میں نہیں بناتی !
میں نے کہا تمہیں کوی کھانا نہیں بنانا اور نہ ہی جھاڑو برتن دھونے پڑے گے پھر بھی اجرت ان کاموں سے زیادہ ملے گی پھر میں نے اسے کام بتایا اور سمجھایا کہ یہ کام کس طرح کیا جاتا ہے یہ پولیس کا ایک خفیہ راز ہوتا ہے اب بھی معاشرے کے اس قسم کے کردار پولیس کے کام آتے ہیں اور ان کرداروں کی بدولت زمین میں اور گھروں کے اندر چھپے ہوے سراغ پولیس تک پہنچ جایا کرتے ہیں
اور اصل مجرم پکڑنے میں آسانی ہو جاتی ہے میں نے اس عورت کو پولیس کے لیے مخبری کرنے کے لیے تیار کر لیا !
اسے اجرت بھی بتا دی اس کے دل سے تھانے اور پولیس کا خوف نکل گیا
تب میں نے اس سے پوچھنا شروع کیا کہ ساجد کی بیوی کے متعلق وہ کیا کچھ جانتی ہے میں نے اس سے پوچھا ساجد کی شادی سے پہلے تم ساجد کے پیغام اور رقعے اس لڑکی تک لے گٸ تھی ؟
اس نے انکار نہ کیا بتا دیا کہ وہ رقعے لے جاتی رہی ہے میں نے اس سے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ لڑکی اب کہاں ہے ؟
وہ بولی لڑکی اپنے گھر یعنی ساجد کے گھر ہو گی کیوں کیا بات ہے ؟
اس کا مطلب تھا کہ اسے لڑکی کی گمشدگی کا علم نہیں تھا میں نے اس سے کہا تم صرف میرے سوالوں کے جواب دیتی جاو بعد میں بتاوں گا کہ بات کیا ہے
میں نے اس سے پوچھا تم یہ بتاو ساجد کے علاوہ بھی کسی نے اس لڑکی پر نظر رکھی تھی ؟
اس نے مسکرا کر میرے بازو پر ھاتھ رکھ کر دبایا اور بولی آپ اس لڑکی کے متعلق جاننے چاہتے ہیں کہ وہ کردار کی کیسی ہے لگتا ہے آپ کے دل میں اتر گٸ ہے آپ نے اسے کہاں دیکھا ہے ؟
میں نے بھی مسکرا کہا جو مرضی سمجھ لو بس تم مجھے اس کے متعلق جوکچھ بھی جانتی ہو وہ بتا دو
اس نے بتانا شروع کیا کہ جب یہ لڑکی بارہ تیرہ سال کی ہوی تو سولہ سال کی لگتی تھی اور ادر گرد کے لڑکوں نے اس پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے تھے
کسی نے رشتے کے لیے تو کسی نے دوستی کے لیے !
چودہ سال کی عمر میں اسے پردے میں بٹھا دیا گیا لڑکی شوخ تھی سہلیوں کے گھروں میں اس کا آنا جانا تھا جب لڑکی بیس سال کی ہو گٸ تو چار لڑکوں نے یکے بعد دیگرے اس عورت کی خدمات حاصل کیں اور اس عورت نے ان چاروں لڑکوں کے پیغام لڑکی تک پہنچاے
ایسے پیغام پہنچانے کا ایک خاص طریقہ ہوتا ہے پیغام پہنجانے والی پہلے اپنی اداکاری سے لڑکی کے دل پر قبضہ کرتی ہے اس میں کٸ دن لگتے ہیں چرب زبانی اور اداکاری کے دیگر کمال دکھانے پڑتے ہیں
اور پھر موقعہ محل موزوں دیکھ کر بات کی جاتی ہے اس عورت نے بھی پہلے لڑکی کو قبضے میں لے لیا اور پھر ان لڑکوں کے پیغام لڑکی تک پہنچاے مگر لڑکی نے کسی بھی لڑکے کی دوستی قبول نہیں کی !
اور اس عورت پر غصہ بھی نہ کیا اور نہ ہی اسے گھر آنے سے منع کیا ! لڑکی کی ماں مر چکی تھی گھر میں کوی بڑی عورت نہ تھی اس طرح اس عورت کے لیے اس گھر میں کوی رکاوٹ نہیں تھی
پھر ایک روز اس عورت نے لڑکی کو ایک شادی شدہ امیرزادے کا پیغام دیا امیر زادے نے اس عورت کو اس کام کے لیے اچھے خاصے پیسے اور سوٹ کا لالچ دے کر لڑکی کے پاس پیغام بھیجا تھا یہ شادی شدہ آدمی امیر بھی تھا اور خوبصورت بھی تھا
یہ عورت اس شادی شدہ آدمی کی طرف سے ایک بڑا اچھا اور قیمتی سوٹ لڑکی کے لیے لے کر گٸ تھی لڑکی نٸے اور مہنگے سوٹوں کی شیدای تھی لڑکی نے سوٹ رکھ لیا اور اس عورت نے لڑکی پر اس امیر زادے کا ایسا طلسم طاری کر دیا کہ ایک دن لڑکی اس امیر زادے کے خاص کمرے میں چلی گٸ
اس عورت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بند کمرے میں کیا ہوا اس کے بعد لڑکی ایک دفعہ دوبارہ اس آدمی کے کمرے میں گٸ پھر اس نے جانا چھوڑ دیا
اس عورت نے اس امیر زادے سے خوب پیسے بٹورے اور تحایف لیے ! ساجد کی بہن اس لڑکی کے پڑوس میں بیاہی ہوی تھی لڑکی ساجد کی بہن کے پاس آتی جاتی تھی
وھاں لڑکی نے ساجد کو دیکھا تو ساجد اسے پسند آ گیا لڑکی نے اس عورت سے کہا وہ ساجد سے اس کی بات کرے عورت نے ساجد کو بتایا کہ فلاں لڑکی اسے چاہتی ہے مرد کو پھانسنا کوی مشکل نہیں ساجد نے اپنی بہن کے گھر میں اس لڑکی کے ساتھ ملاقاتیں شروع کر دیں
ساجد نے دو دفعہ اس عورت کے ھاتھ لڑکی کو رقعہ بھی بھیجا اس میں سے ایک رقعہ لڑکی نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا جو میں اس کے کپڑوں کے ٹرنک میں دیکھا تھا
ساجد اور اس لڑکی کے پیار و محبت کے دوران میں وہ امیرزادہ بھی اس عورت کے پیچھے پڑا رہا کہ لڑکی کو ایک بار پھر اس کے گھر بلاے
لیکن لڑکی نہ مانی وہ اب دل و جان سے ساجد کی ہو گٸ تھی امیر زادہ اس عورت کی معرفت لڑکی کو بلاتا رہا اس نے کپڑوں کا ایک اور قیمتی جوڑا اس عورت کے زریعے لڑکی کو بھیجا لڑکی نے سوٹ تو رکھ لیا مگر اس امیر زادے کے پاس نہ گٸ
امیر زادے نے لڑکی کو پیغام بھجوایا کہ میں اگر چاہوں تو تم کو اغوا کرا سکتا ہوں اور کسی کو تمہارا نام و نشان بھی نہیں ملے گا امیر زادے کی اس دھمکی پر لڑکی اس امیرزادے کے گھر چلی گٸ
لیکن اس کے بعد وہ امیر زادہ بلاتا رہا مگر لڑکی نہیں گٸ
میں نے اس عورت سے پوچھا لڑکی کو اس آدمی کے پاس گیے ہوے کتنا عرصہ ہو گیا ہے
اس عورت نے بتایا کہ چھ سے سات مہینے ہو گیے ہیں وہ آدمی اب بھی لڑکی کو پیغام بھیجتا رہتا ہے
میں نے پوچھا تم نے لڑکی کو آخر بار کب دیکھا تھا اس نے کہا کوی دس روز پہلے میں اس آدمی کا پیغام لے کر گٸ تھی لیکن لڑکی نے ملنے سے منع کر دیا میں نے جا کر امیر زادے کو بتا دیا کہ لڑکی اب اس سے نہیں ملنا چاہتی تو وہ آدمی بہت غصے میں آ گیا کہنے لگا یہ فریبی لڑکی ہے میرے اتنے قیمتی کپڑے ہضم کر گٸ ہے میں اس سے ایک ایک پیسہ وصول کروں گا بس اس کے بعد میں دوبارہ لڑکی کی طرف نہیں گٸ
میں نے اس سے پوچھا کیا اس امیر زادے کے کسی اور عورت کے ساتھ بھی تعلقات ہیں ؟
وہ بولی تین کو تو میں جانتی ہوں اور شاید اس کے علاوہ بھی ہوں گی اس کی بیوی تو اللہ میاں کی گاے ہے اور وہ آدمی رنگین مزاج ہے
یہ عورت نہ جانے کیا کچھ کہتی رہی لیکن میرا دماغ کہیں اور چلا گیا تھا اس آدمی میں اتنی ہمت تھی کہ وہ لڑکی کو غاٸب کر وا سکتا تھا مگر اس عورت کو ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ لڑکی لاپتہ ہو گٸ ہے تو کیا یہ عورت جھوٹ بول رہی تھی ؟
میں نے اس عورت سے پوچھا کیا وہ اب بھی لڑکی کے پاس جاتی یا نہیں ؟
اس نے کہا وہ امیر زادہ تو مجھے روز ہی کہتا ہے کہ میں لڑکی کو بلا کر لاوں لیکن میں نے کہہ دیا تھا کہ لڑکی اب نہیں مانتی وہ اپنے خاوند کو دھوکہ نہیں دے گی اس لیے وہ روز روز لڑکی کے پاس نہیں جاے گی

میں نے اپنی بات کا رخ موڑتے ہوے اس عورت سے پوچھا کہ وہ ساجد کی سوتیلی ماں کیسی عورت ہے ؟ اس عورت نے مجھے بتایا کہ ساجد کی سوتیلی ماں بہت ہی ہوشیار اور چالاک عورت ہے وہ کسی کے ھاتھ آنے والی نہیں !
میں نے پوچھا ساجد کے ساتھ اس سوتیلی ماں کا برتاو کیسا ہے ؟
وہ بولی تھانیدار صاحب سچی پوچھیں تو مجھے ان پر کچھ شک ہے میں نے انھیں دو تین دفعہ اس حالت میں دیکھا ہے کہ ساجد لیٹا ہوا تھا اور سوتیلی ماں اس کا سر دبا رہی تھی اور اس کے سینے پر ھاتھ پھیر رہی تھی
اس وقت میرا دماغ اس امیر زادے کے گرد بھی گھوم رہا تھا میں یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ کہیں لڑکی کو اسی نے تو اغوا نہیں کیا یا کسی سے کرایا ؟ یا پھر اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ لڑکی لاپتہ ہو چکی ہے ؟
جبکہ مجھے یہ شک ہونے لگا تھا کہ لڑکی کو اسی امیر زادے نے بلایا ہو گا لڑکی اس کے پاس گٸ ہو گی اور اس نے لڑکی کو کہیں غاٸب کر دیا میرے پاس ایسا کوی جواز نہیں نہیں تھا کہ میں اس امیر زادے کے گھر چھاپہ مارتا !
بہت سوچ سوچ کر میں نے اس عورت سے کہا کہ وہ اس امیر زادے سے جا کر کہے کہ لڑکی اسے ملنا چاہتی ہے لیکن اس کے گھر میں نہیں آے گی بلکہ کوی اور جگہ مقرر کر لو وہ عورت میری بات سن کر ڈر گٸ
کہنے لگی آپ اس جگہ پر پہنچ کر اس امیر زادے کو گرفتار کر لیں گے اور وہ امیر زادہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا میں نے کہا میں اسے کیوں گرفتار کروں گا ؟ اس نے کوی جرم نہیں کیا میں تو بس تمہارا امتحان لینا چاہتا ہوں
اگر تم اس آدمی کو یہ جھانسہ دے کر کسی خاص جگہ لے جاو اور میں دیکھ لوں کہ تم اسے وھاں لے آی ہو تو تمہاری مخبری کامیاب اور تمہاری تنخواہ پکی !
تم مجھے اپنی استادی دکھاو وہ بولی لیکن آپ نے مجھے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ اس لڑکی کے متعلق اس کے خاوند اور خاوند کی سوتیلی ماں کے متعلق مجھ سے اتنی باتیں کیوں پوچھیں ہیں ؟
میں نے اسے اپنے جال میں پھانسنے کے لیے کہا صرف تمہارا امتحان لینے کے لیے میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تمہیں لوگوں کے گھروں کی کتنی کچھ خبر ہے جب تم نے اس امیر زادے کا بتایا تو میں نے سوچا اسی امیر زادے سے تمہارا امتحان لے لیتا ہوں
پھر میں نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا کہ وہ اس امیر زادے کو کیا کہہ کر مقررہ جگہ پر لاے گی آخر یہ طے پایا کہ وہ عورت اسے اگلی رات نو بجے اپنے گھر بلاے گی میں نے اس عورت سے کہا کہ میں نو بجے سے پہلے اس کے گھر میں آ کر چھپ جاوں گا ہم نے سارا ڈرامہ طے کر لیا اس کی منت سماجت پر میں نے اسے یقین دلایا کہ میں اس امیر زادے کو پکڑوں گا نہیں !
وہ خوش ہو کر چلی گٸ شام پانچ بجے ساجد آ گیا اس سے میں اس کی ازدواجی زندگی کے متعلق بہت سے سوال پوچھے پھر میں نے باتوں کا رخ اس کی سوتیلی ماں کی طرف موڑا تو ساجد پھر اپنی سوتیلی ماں کی تعریفیں کرنے لگا باتوں باتوں میں میں نے اس سے پوچھا جب تمہاری سوتیلی ماں تمہارے پاس بیٹھ کر تمہارا سر دباتی اور تمہارے سینے پر ھاتھ پھیرتی تھی تو کیا اس وقت تمہاری بیوی وھاں موجود ہوتی تھی ؟
میری بات سن کر ساجد بری طرح چونک پڑا جواب دینے کی بجاے وہ مجھے پھٹی ہوی نظروں سے دیکھنے لگا اس کا یہی ردعمل میرے لیے کافی تھا
میں یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ کہیں لڑکی ان دونوں کے نازیبا تعلقات یا بے تکلفی کی وجہ سے اپنے کسی آشنا کے ساتھ بھاگ تو نہیں گٸ تھی لڑکی کا یہ اقدام انتقامی بھی ہو سکتا تھا
میرے سامنے اب امیر زادہ بھی مشتبہ کے طور پر واضح تھا اس نے بھی لڑکی کے لیے راہ ہموار کر رکھی تھی اور اس کے پاس لڑکی کے لیے کشش بھی موجود تھی
اسی لاٸن پر سوچتے ہوے میں نے ساجد کو جرح کے جال میں لانے کی کوشش شروع کر دی میں نے ساجد کے ساتھ گپ شپ کے انداز میں باتیں شروع کر دیں
اور اس پر یہ تاثر پیدا کرنے لگا کہ اگر سوتیلی ماں کے ساتھ اس کا کوی پیار والا معاملہ ہے بھی تو یہ کوی جرم نہیں اور نہ ہی مجھے ایسے کسی پیار پر کوی اعتراض ہے اس کی سوتیلی ماں تو بہت اچھی عورت ہے کہہ کر میں اسے اس مقام پر لے آیا جہاں اس نے مجھے کچھ باتیں بتا دیں
اس نے مجھ سے مسکرا کر پوچھا جناب آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ میرا سر دباتی ہے اور میرے سینے پر ھاتھ پھیرتی ہے ؟
میں نے کہا مجھے تو اس سے بھی زیادہ باتیں معلوم ہیں اور میں تمہیں وہ سب باتیں دن اور وقت بھی بتا سکتا ہوں
ساجد نے ڈرتے ہوے پوچھا جناب آپ مجھے اس جرم کی کوی سزا تو نہیں دیں گے ؟
میں نے کہا بلکل نہیں گھروں میں لوگ جو جی میں آے کریں مجھے تمہارے کسی تعلق پر کوی اعتراض نہیں !
میں تو بس یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ تمہاری بیوی گھر سے کیوں گٸ ہے اور تم اگر ساری باتیں خواہ وہ کتنی ہی بے معنی اور چھوٹی ہی کیوں نہ ہو سب مجھے بتا دو تاکہ میں ان کی روشنی میں آگے بڑھ سکوں اور تمہاری بیوی کو واپس لاوں
ساجد نے کچھ میرے سوالوں کے زریعے اور کچھ اپنے آپ جو انکشاف کیے ان کے مطابق اس کی سوتیلی ماں اس کے ساتھ صرف اچھا سلوک ہی نہیں کرتی تھی بلکہ اسے اپنے پاس بٹھانے کی کوشش بھی کرتی تھی
اس کوشش کو بھی ساجد ماں کا پیار سمجھتا رہا مثلأ ساجد کام سے آ کر لیٹ جاتا تو سوتیلی اس کا سر دبانے لگتی اور کبھی کبھی اس کے سینے پر ھاتھ پھیرنے لگتی ہر تیسرے چوتھے روز وہ یہ حرکت ضرور کرتی !
اس کے ساتھ ہی وہ ساجد کے باپ کی خدمت بھی ایسے والہانہ طریقے سے کرتی تھی کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے تھے پھر جب ساجد کی شادی ہو گٸ توسوتیلی ماں نے ساجد کی بیوی کو بھی اپنی بیٹی بنا لیا اسے کوی کام کرنے نہیں دیتی تھی اور اتنا پیار کرتی کہ وہ اس کی غلام ہو گٸ تھی وہ آپس میں سہلیاں بن گییں تھیں
میں چونکہ ساجد سے ساتھ ساتھ سوالات بھی کر رہا تھا اس لیے میرے مطلب کی باتیں سامنے آ رہی تھیں انہی سوالوں کے جواب میں ساجد نے بتایا کہ سوتیلی ماں اکثر ساجد کی بیوی سے کہا کرتی تھی کہ وہ اس گھر میں اپنے آپ کو قیدی نہ سمجھے وہ اپنے باپ سے ملنے چلی جایا کرے اور سوتیلی ماں ساجد کے باپ سے کہا کرتی آپ اپنی بہو کو اس کے باپ سے ملا لایا کریں بے چاری اپنے باپ کی ایک ہی اولاد ہے اور اپنی ماں کی نشانی ہے
اس کا باپ کہیں یہ نہ سمجھے کہ اس کی بیٹی اپنے سسرال میں قید ہے ساجد کا باپ اپنی بہو کو لے کر چلا جاتا تو سوتیلی ماں ساجد پر اپنی توجہ مرکوز کر دیتی اسے پراٹھے کھلاتی اسے پاس بٹھاتی اور اس کے ساتھ بے تکلف دوستوں کی طرح ہنسنے کھیلنے کی کوشش کرتی !
تین چار بار ایسا بھی ہوا کہ ساجد کی بیوی کی گھر میں موجودگی میں جب وہ غسل خانے میں ہوتی یا کسی کام سے چھت پر جاتی تو سوتیلی ماں نے بے تابی سے ساجد کو بازوں میں بھر لیا اور ساجد کی بیوی نے دیکھ لیا
اپنی بیوی کے چہرے پر ساجد نے ناراضگی کے تاثرات دیکھے تھے لیکن ساجدکی بیوی نے شکاٸت ایک بار بھی نہیں کی تھی
اس مرحلے پر ساجد تھوڑا جھجک گیا اور کچھ باتیں ہضم کرنے کی کوشش کرنے لگا اب وہ مجھ سے بھلا کیا چھپا سکتا تھا میں نے اس کا سینہ کھول دیا تھا اسے اب وہ بندنہیں کر سکتا تھا
میں نے بڑے ڈھنگ سے اس سے سوال کر کے اگلوا لیا کہ اس کی سوتیلی ماں نے چند مہینوں کی بے تکلفی کے بعد اس پر ظاہر کر دیا کہ ان کا رشتہ ماں بیٹے والا نہیں سوتیلی ماں نے یہ اظہار اپنی حرکتوں سے بھی کیا اور باتوں سے بھی !
مگر ساجد ایک خاص حد تک اس کا ساتھ دیتا رہا اور خاص حد سے آگے نہ بڑھا
ساجد نے اس جوان عورت کو ٹھکرایا نہیں تھا لیکن اس کی خواہش بھی پوری نہیں کی تھی ساجد ھاں اور نہ کے درمیان لٹکا رہا اسے بھی سوتیلی ماں کا پیار اچھا لگتا تھا اس لیے وہ ایک خاص حد تک اپنی سوتیلی ماں کا دوست یا آشنا بنا رہا ساجد اپنے باپ اور اپنی بیوی کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا تھا
حالانکہ وہ دھوکہ دے رہا تھا اس نے ماں بیٹے کے رشتے کو دوستی میں بدل دیا تھا دوسری طرف سوتیلی ماں نے ساجد کی بیوی اور ساجد کے باپ کے ساتھ اپنے سلوک میں کوی تبدیلی نہ کی ان کے ساتھ پیار محبت میں کوی فرق نہ آنے دیا
ساجد نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ایک مہینے سے اس کی بیوی اور سوتیلی ماں کے درمیان پہلے والی بے تکلفی نہیں رہی تھی ان میں کچھ کھچاو پیدا ہو گیا تھا
سوتیلی ماں اس کھچاو کو ختم کرنے کی کوشش کرتی تھی وہ اب بھی ساجد کی بیوی سے کہتی تھی وہ اپنے باپ کے گھر باپ سے ملنے چلی جایا کرے یا آس پڑوس میں جہاں دل چاہے چلی جایا کرے
لیکن ساجد کی بیوی اب کہیں نہیں جاتی تھی گمشدگی سے چند روز پہلے وہ خاموش خاموش رہنے لگی تھی اور ساجد پریشان رہنے لگا تھا
ساجد نے سوتیلی ماں سے کہا اب وہ اس سے دور رہے گا کیونکہ اس کی بیوی ناراض ہوتی ہے
بوڑھے باپ کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ گھر میں کیا کچھ ہو رہا ہے وہ تو بس اسی میں خوش تھا کہ اس کی جوان بیوی نے اس کے بڑھاپے کو قبول کر لیا ہے
آپ لوگ زرا تصور کریں اور غور فرماییں کہ ایک بوڑھے شخص نے محض ہوس کاری کے لیے شادی کی اور کتنے بڑے حادثے کا باعث بنا تھا اس نے اپنے بیٹے کی ازدواجی زندگی تباہ کر دی تھی قانون میں ایسے جرم کی کوی سزا مقرر نہیں میں نے اس بوڑھے سے بات کرنا یا تفتیش میں شامل کرنا مناسب نہ سمجھا
ساجد کو میں نے نو بجے جانے کی اجازت دے دی
اب میں اس شک پر غور کرنے لگا کہ لڑکی انتقامأ کہیں چلی گٸ ہے اور اس ٹھکانہ اس امیر زادے کا گھر ہو سکتا تھا
گھر سے مراد وہ گھر نہیں جہاں وہ رہتا تھا بلکہ وہ جگہ جہاں اس نے لڑکی کو رکھا ہو گا
یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ میں اس امیر زادے کو تھانے بلاتا اور کہتا کہ لڑکی اس کے پاس ہے اور وہ واپس کر دے ورنہ اسے حوالات میں بند کردوں گا
اور وہ بڑے آرام سے واپس کر دیتا اس کے گھر پر چھاپہ مارنے کا بھی کوی جواز نہیں تھا لڑکی لواخقین سے بار بار پوچھنے کے باوجود انہوں نے کسی پر شک کا اظہار نہیں کیا تھا اس امیر زادے کو پکڑنے اور پرکھنے کا جو طریقہ میں نے سوچا تھا وہ کمزور سا تھا
کبھی تو خیال آتا کہ میں حماقت کر رہا ہوں اور کبھی سوچتا کہ یہی طریقہ بہتر ہے

اور اس طریقے کے متعلق میں اس نٸی مخبر عورت کو ہدایات دے چکا تھا اور ساتھ ہی اسے کچھ ڈرا بھی دیا تھا کہ تم اب پولیس کے لیے کام کرو گی تو تم صرف پولیس کی مدد کرو گی اور انعام پاو گی اور اگر دھوکہ دو گی تو نقصان اٹھاو گی
وہ سمجھ نہیں سکی تھی کہ میں اس امیر زادے کو اس کے زریعے کسی تفتیش کے سلسلے میں بلا رہا ہوں وہ اسے امتحان ہی سمجھ رہی تھی تاہم پھر بھی میں اس امکان سے بے خبر نہیں تھا کہ یہ عورت لڑکی کے اغوا میں بھی شریک ہو سکتی ہے اور یہ عورت میری تفتیش کو دشوار بنا سکتی تھی
اگلے روز شام کے وقت میں نے اے ایس آی کو بلایا اور اسے بتایا کہ آج رات آٹھ بجے کے بعد فلاں جگہ فلاں عورت کے گھر جاوں گا اور میری سکیم کیا ہے
اے ایس آی اچھی طرح جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اس نے اسی وقت چار اہلکاروں کو سادہ کپڑوں میں تیار رہنے کے لیے الرٹ کر دیا ان چاروں اہلکاروں کو اے ایس آی کے ساتھ اس علاقے میں اس گھر کے آس پاس موجود رہنا تھا
تاکہ میں اگر کسی مصیبت میں پھنس جاوں یا وھاں ایک سے زیادہ افراد کو گرفتار کرنا پڑے تو میری وسل کی آواز سن کر فورأ میرے پاس پہنچ جاییں
رات آٹھ بجے میں اس مخبر عورت کے گھر میں داخل ہوا میرے کپڑوں کے اندر ریوالور چھپا ہوا تھا اے ایس آی بھی اہکاروں کے ہمراہ علاقے میں پہنچ گیا تھا
عورت کا گھر صاف ستھرا تھا دو کمرے تھے کمروں کے درمیان درواہ تھا ایک کمرے میں پلنگ بچھا ہوا تھا جب کہ دوسرا کمرہ بیٹھک کے طور پر استمال ہوتا تھا اور امیر زادے نے بیٹھک میں آنا تھا اس لیے میں نے دوسرے کمرے میں پلنگ کے نیچے چھپنے کا فیصلہ کیا
اس عورت نے پہلی خبر یہ سنای کہ امر زادہ آ رہا ہے دن کے وقت اس عورت نے امیر زادے کے گھر جا کر اسے بتایا تھا کہ لڑکی اس سے ملنا چاہتی ہے لیکن امیر زادے کے گھر میں نہیں ! اور پھر عورت نے اس مسلے کا خود ہی حل نکالتے ہوے امر زادے کو اپنا گھر پیش کیا اور یقین دلایا کہ کسی کو علم نہیں ہو گا اور اس کا گھر ہر طرح سے محفوظ ہے
نو بجے سے زرا پہلے میں درمیان والے دروازے سے گزر کر دوسرے کمرے میں پلنگ کے نیچے چلا گیا
زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا پھر دوسرے کمرے میں مجھے کسی کی آواز سنای دی وہ عورت سے کہہ رہا تھا کہیں وہ آج بھی ٹال نہ دے
عورت بولی اس نے بڑا پکا وعدہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ ٹالے گی نہیں ضرور آے گی اس آدمی نے غصے سے کہا دل تو چاہتا ہے کہ آج وہ آے تو اسے واپس نہ جانے دوں عورت بولی ھاں تو کرو ہمت اگر اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہو تو میں اسے طلاق کے لیے تیار کر لوں گی
وہ بولا نہیں نہیں شادی ایک ہی کافی ہے وہ ایک ہی ایسی ڈاٸن ہے کہ نہ مرتی ہے نہ جان چھوڑتی ہے پھر اس نے عورت سے کہا تم باہر جا کر دیکھو وہ آ رہی ہے یا نہیں ؟
عورت باہر چلی گٸ
اور وہ آدمی کوی فلمی گیت گنگنانے لگا تھوڑی دیر بعد عورت کی آواز سنای دی اس نے کہا نہیں ابھی تک نہیں آی باہر بھی کہیں دکھای نہیں دے رہی
آدمی نے کہا تم ایسا کرو اس کے گھر جاو اور اسے خود یہاں بلا لاو عورت نے کہا نہیں میں اس وقت اس کے گھر کس بہانے سے جاوں گی
وہ آدمی غصے میں آ گیا اس عورت اور لڑکی گالیاں دینے لگا مجھ پر ثابت ہو گیا کہ اسے معلوم نہیں کہ لڑکی لاپتہ ہو گٸ ہے مجھے مایوسی ہوی کہ لڑکی اس کے پاس نہیں تھی مجھے ایک گھنٹہ پلنگ کے نیچے گزارنا پڑا
خدا خدا کر کے وہ آدمی گیا اور جاتے جاتے عورت سے کہہ گیا کہ اسے کہنا کہ کل رات میرے گھر نہ پہنچی تو میں اسے اس کے گھر سے اٹھو دوں گا
مخبر عورت اسے گھر سے نکال کر دروازہ بند کر کے میرے کمرے میں آی اس نے کہا باہر نکل آییں میں اسے باہر چھوڑ آی ہوں میں باہر نکلا تو وہ بولی تھانیدار صاحب !
اب تو آپ مانتے ہیں نہ کہ میں مخبری کر سکتی ہوں میں نے کہا کیا تم لڑکی کے گھر بھی گٸ تھی ؟
اس نے کہا جناب آپ نے ہی کہا تھا کہ لڑکی کے گھر نہیں جانا صرف اس آدمی کو لڑکی کا جھانسہ دے کر یہاں بلانا ہے سو میں نے بلا لیا
اب بتاییں میں امتحان میں پاس ہوں تو نکالیں میرا انعام میں نے کہا تم کل تھانے آ جانا تمہارا انعام مل جاے گا
وہ بولی ٹھیک ہے آ جاوں گی اور کوی خدمت ہو تو بتایں اگر آپ کہیں تو اس لڑکی کو آپ کے پاس لے آوں یا پھر کسی اور پر ھاتھ رکھو جس کو کہیں لے آتی ہوں
مجھے مایوسی تو یہ ہوی تھی کہ جس پر پختہ شک تھا وہ بلکل صاف نکلا تھا اگر لڑکی اس کے پاس ہوتی تو وہ اس عورت کے گھر آتا ہی نا اور سمجھ جاتا کہ عورت جھوٹ بول رہی ہے
میں اس عورت کے گھر سے نکل آیا اے ایس آی اور اہلکاروں کو ساتھ لیا اور تھانے آ گیا
اگلے روز میں دفتر میں بیٹھا اسی کیس پر غور کرتا رہا اس کیس کا سب سے مشکوک کردار سوتیلی ماں کا لگ رہا تھا ساجد نے مجھے بتایا تھا کہ ان دونوں کے درمیان ماں بیٹے کا رشتہ ختم ہو چکا تھا
ان دونوں کے بیچ ابھی میاں بیوی والا رشتہ قاٸم نہیں ہوا تھا اس کے باوجود ساجد اس عورت کو ناپسند نہیں کرتا تھا اس کی تعریفوں کے پل باندھتا تھا
ساجد کی بیوی کے متعلق بھی معلوم ہوا تھا کہ وہ اس قسم کی پردہ نشین لڑکی نہیں تھی جسے عورت اور مرد کی ہیرا پھیری کا علم ہی نہیں ہوتا وہ خود ایک امیر زادے کے گھر جا چکی تھی تحفے قبول کر چکی تھی اور اس دلال عورت کو رابطہ بنا کر ساجد سے محبت پروان چڑھا چکی تھی
اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ چالاک اور ہوشیار تھی اور وہ سوتیلی ماں کی نظروں کو سمجھتی تھی اور سوتیلی ماں کے اشاروں کو بھی جانتی تھی یہ اشارے وہ خود بھی کر چکی تھی وہ یقینأ سمجھ گٸ تھی کہ اس کا خاوند اور سوتیلی ماں کس راستے پر جا رہے ہیں
لڑکی چونکہ ہوشیار تھی اس لیے اس نے خاوند سے کوی احتجاج نہ کیا اور خود بھی کوی آدمی دیکھ لیا اور اس کے ساتھ چلی گٸ
سوتیلی ماں پر میرا شک اس لیے بھی پختہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے بوڑھے خاوند سے بہت اچھا سلوک کرتی تھی اور ساجد کی بیوی کو جو سہیلی بنا لیا تھا وہ اس کی خوبی نہیں تھی بلکہ یہ دکھاوا تھا فراڈ تھا
سوتیلی ماں کا چہرہ اور جسم میرے تصور میں آیا تو میں نے غور کیا مسکراتی آنکھیں ادھ کھلے ہونٹ اس کی گردن کا خم اور اس کا انداز بتاتا تھا کہ یہ عورت ایک دلکش شکاری ہے تشنہ ہے
حیوانی تشنگی کی شدت انسان کو اندھا اور اس کی عقل کو ماوف کر دیتی ہے اور اس کا نتیجہ ہوتا ہے قتل !
اب میرے سامنے تین سوال تھے
کیا لڑکی کو سوتیلی ماں نے غاٸب کرایا ہے ؟
کیا ساجد بھی اس جرم میں شامل ہے یا اسے علم نہیں ؟
اور کیا لڑکی کو غاٸب کروا کر قتل کر دیا گیا ہے ؟
کیس بڑا ہی مشکل اور پچیدہ تھا اس لیے میں نے سوتیلی ماں سے پوچھ گچھ کرنے کا قیصلہ کیا اور اٹھ کر ساجد کے گھر چلا گیا
ساجد اور اس کا باپ گھر میں موجود تھے میں نے بتایا کہ مجھے عورت سے کچھ باتیں پوچھنیں ہیں ساجد مجھے الگ لے گیا اور میری منت سماجت کرنے لگا کہ میں اس کی سوتیلی ماں کو یہ نہ بتاوں کہ اس نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے
میں نے اسے تسلی دی کہ فکر مت کرو میں اس سے تمہارے متلق بات نہیں کروں گا مجھے اس سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں
میں سوتیلی ماں کے ساتھ کمرے میں آ گیا اسے چارپای پر بٹھا کر اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا اور اسے کہا کہ ایک بار پھر مجھے بتاو کہ لڑکی کس وقت کس طرح اور کیا کہہ کر گھر سےنکلی تھی ؟

سوتیلی ماں نے سارا بیان ایک بار پھر دہرایا جو میں آپ کو پہلے سنا چکا ہوں لیکن اس بار وہ شاید بھول گٸ تھی کہ پہلے اس نے کیا کہا تھا جھوٹ کا یہی اثر ہوتا ہے کہ دوسری بار بولو تو پول کھل جاتا ہے
پہلے اس نے کہا تھا کہ لڑکی شام کا کھانا کھا کر گھر سے نکلی تھی اب اس نے کہا لڑکی جانے لگی تو میں نے اسے کہا کھانا کھا کر جانا تو لڑکی نے کہا واپس آ کر کھاوں گی
میں نے کہا جب لڑکی گھر سے نکلی تھی اس وقت ساجد کہاں تھا ؟
اس نے کہا برآمدے میں بیٹھا تھا میں نے پوچھا ساجد کا باپ کہاں تھا وہ بولی کمرے میں لیٹا ہوا تھا
میں نے پوچھا کیا ساجد کے باپ کو باپ کو معلوم تھا کہ لڑکی باہر جا رہی ہے اس نے کہا لڑکی اسی کمرے سے برقعہ پہن کر نکلی تھی تو ظاہر ہے ساجد کے باپ نے ضرور دیکھا ہو گا کہ وہ کہیں جا رہی ہے
میں نے کہا ساجد نے تو ضرور اس سے پوچھا ہو گا کہ وہ کہاں جا رہی ہے ؟
وہ بولی ھاں پوچھا تھا اور لڑکی نے ساجد کو بھی یہی بتایا تھا کہ وہ جرسی کا نمونہ لینے جا رہی ہے
یہ چند سوال تھے جو میں نے اس سے پوچھے تھے آپ اس عورت کا بیان دوبارہ غور سے پڑھیں آپ کو اس کے بیان میں واضح فرق ملے گا
میں دو گھنٹے اس سوتیلی ماں پر سوال پر سوال کرتا رہا ایک ایک سوال کٸ کٸ بار گھما پھرا کر پوچھا ایک گھنٹے بعد وہ نڈھال ہو گٸ دوسرے گھنٹے کے دوران یوں سمجھیے کہ میں اسے اپنے ساتھ گھسیٹ رہا تھا
مندرجہ ذیل سوال جواب میں اس نے اس نے یہ بھی کہا کہ لڑکی نے کہا تھا کہ کھانا واپس آ کر کھاوں گی
ساجد کے متعلق اس نے کہا کہ وہ برآمدے میں بیٹھا تھا جب لڑکی باہر نکلنے لگی تو ساجد نے لڑکی سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے آگے چل کر سوتیلی ماں نے میرے سوالوں کے ہیر پھیر میں الجھ کر کہا کہ ساجد باہر سے آیا تھا تو اس نے مجھ سے اپنی بیوی کے متعلق پوچھا تو میں نے اسے بتایا کہ وہ کسی کے گھر جرسی کا نمونہ لینے گٸ ہے
ابھی اس سوتیلی ماں کو معلوم نہیں تھا کہ میں ساجد کو چار گھنٹے تک اپنی جرح سے گزار چکا ہوں اور اس سے بہت سی باتیں اگلوا چکا ہوں
ساجد کے بیان کے مطابق جب لڑکی گھر سے گٸ تھی وہ گھر نہیں تھا اس کے باپ کو بھی معلوم نہیں تھا ہ لڑکی باہر گٸ ہے
میں نے سوتیلی ماں سے پوچھا تم اپنے خاوند کے ساتھ لڑکی کو اس کے باپ کے گھر کیوں بھیج دیتی تھی
وہ بولی اس لیے کہ لڑکی کا باپ اداس نہ ہو جاے اور میں خود بھی لڑکی کو گھر میں قید نہیں رکھنا چاہتی تھی میں نے کہا تم نے لڑکی اور اپنے خاوند کو جتنی بار بھی بھیجا ساجد اس وقت گھر میں ہوتا تھا ؟
وہ میرا سوال سن کر گھبرا گٸ اس کے ہونٹ خشک ہو گیے وہ بول نہ سکی میں نے کہا تم ساجد کو اپنے ساتھ تنہا گھر میں رکھنا چاہتی تھی وہ تھوک نگلتے ہوے بولی ساجد تو مجھے اپنی ماں سمجھتا ہے
میں نے کہا لیکن تم نے اسے بیٹا سمجھنا چھوڑ دیا تھا ساجد نے مجھے جو اس کی چند حرکتیں بتای تھیں میں نے وہ اسے ساجد کا حوالہ دیے بغیر سنا دیں
اور کہا ساجد کی بیوی نے تمہیں کٸ بار دیکھ لیا بھی تھا اور وہ روٹھی روٹھی رہنے لگی تھی
سوتیلی ماں رونے لگی اور بولی آپ کو یہ جھوٹی باتیں کس نے بتای ہیں ؟
میں نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ھاتھوں میں تھام کر پیار سے کہا اپنی جوانی پر رحم کرو ساجد اور اس کی بیوی کے سہاگ پر رحم کرو اور بتا دو کہ لڑکی کہاں ہے میں یہ کیس یہیں ختم کر دوں گا
تم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ میں اندر کے اور تمہارے سینے کے سارے بھید جانتا ہوں اگر لڑکی کو میں نے برآمد کیا تو پھر معلوم نہیں تم کتنے سال جیل میں گزارو گی
اس کا سر ڈولنے لگا وہ اب اپنے آپ میں نہیں رہی تھی اس کے بعد میں نے اس سے جو بھی بات کی اس نے جواب نہیں دیا
میں اسے لے کر تھانے آ گیا اور حوالات میں بند کر دیا
شام کے وقت ساجد اس کا باپ اور ساجد کا سسر تھانے آے ان کے ساتھ ایک آدمی اور تھا وہ میرے کمرے میں نہیں آیا باہر برآمدے میں کھڑا رہا دیہاتی معلوم ہوتا تھا میں نے اس پر کوی توجہ نہ دی
ساجد اور وہ دونوں بوڑھے سوتیلی ماں کو لینے آے تھے لیکن میں نے ان سے کہا کہ مجھے ابھی اس عورت کی ضرورت ہے کچھ پوچھ گچھ کرنی ہے انہیں تسلی دی کہ عورت میری تحویل میں پوری عزت سے رہے گی اور یہ بھی بتایا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ آج رات گھر نہ آ سکے
ساجد اور اس کا سسر باہر نکل گیے ساجد کا باپ وہیں رک گیا اور مجھ سے پوچھا جناب آپ نے میری بیوی کو کیوں روکا ہوا تھا ؟
میں نے غصے سے کہا بڑے میاں تم نے اس عورت کے ساتھ شادی کیوں کی تھی کیا تمہاری عمر شادی کی تھی ؟
تمہارے گھر میں جوان بیٹا ہے اور تم جوان بیوی لے آے
اس کا منہ کھل گیا میں نے اسے کچھ اور کہنے کا موقع نہ دیا اور غصے سے کہا نکل جاو یہاں سے !
وہ منہ لٹکا کر باہر نکل گیا رات دس بجے کے قریب میں سوتیلی ماں کے سامنے جا کھڑا ہوا ہمارے درمیان سلاخوں والا دروازہ تھا وہ فرش پر سر جھکاے بیٹھی تھی
میں نے اسے آواز دی تو وہ اٹھ کر میرے سامنے آ کھڑی ہوی
میں نے اس سے کہا ابھی تک سوچ رہی ہو یا سوچ چکی ہو اب بھی وقت ہے لڑکی دے دو
وہ ایک ہی سانس میں بہت سی قسمیں کھانے لگی اور کہنے لگی میرا یقین کریں لڑکی اکیلی باہر گٸ تھی
میں تو گھر پر ہی تھی آپ ساجد سے پوچھ لیں ساجد کے باپ سے پوچھ لیں میں اسے کہاں سے نکال کر دوں ؟
میں نے اس سے اور کچھ نہ پوچھا ایک کانسٹیبل سے کہا کہ اسے کھانا کلھلا دو اور خود جا کر سو گیا
اگلی صبح میں بہت کچھ سوچ کر تھانے آیا تھا میں نے آتے ہی اے ایس آی کو بلایا اور اس کیس کے متعلق اس سے تبادلہ خیال کرنے لگا ابھی ہم تبادلہ خیالات کر رہے تھے کہ ایک دیہاتی آدمی آ گیا
اس نے چار پانچ میل دور ایک جگہ کا بتایا کہ اس ویران علاقے میں ایک جوان لڑکی کی لاش پڑی ہے
میں نے اے ایس آی سے کہا یہی ہماری مطلوبہ لڑکی ہو سکتی ہے میں نے فورأ ایک کانسٹیبل کو ساجد کو لانے کے لیے بھیج دیا ساجد کے آتے ہی میں نے اے ایس آی اور ایک کانسٹیبل کو ساتھ لیا اور دیہاتی کے ساتھ تھانے سے روانہ ہو گیے لاش ہمارے علاقے سے چار ساڑھے چار میل ایسے علاقے میں پڑی تھی جہاں سے کوی نہیں گزرتا تھا وھاں زیادہ تر جھاڑیاں اور درخت تھے زمین بنجر تھی
وھاں سے قریبی گاوں تین ساڑھے تین میل دور تھا اطلاع دینے والا دیہاتی اسی قریبی گاوں کا تھا
دیہاتی نے بتایا کہ ہماری ایک بھینس بھاگ گٸ تھی وہ اس کی تلاش میں ادھر آ نکلا تھا اور اسے لاش نظر آ 

لاش کو دیکھتے ہی ساجد سر پکڑ کر بیٹھ گیاوہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا لاش اس کی بیوی کی تھی لاش کے کپڑے بلکل ٹھیک تھے لیکن کپڑوں کے اوپر برقعہ نہیں تھا جبکہ سوتیلی ماں نے بتایا تھا کہ لڑکی برقعہ پہن کر گھر سے نکلی تھی
مقتولہ کے کانوں میں سونے کے کانٹے دو انگلیوں میں سونے کی دو انگوٹھیاں اور ایک کلای میں سونے کی دو چھوٹی چھوٹی چوڑیاں تھیں چہرہ بلکل صاف تھا لاش کی حالت سے پتہ چلتا تھا کہ مرنے سے پہلے اس کے ساتھ کوی دست درازی نہیں ہوی اور سونے کے زیورات کی موجودگی بتاتی تھی کہ قاتل کا ارادہ لوٹنے کا نہیں تھا
میں نے فورأ کانسٹیبل کو واپس تھانے بھیجا اور وھاں کے کھوجی کو لانے کو کہا اور خود موقعہ کی کاروای میں مصروف ہو گیا
موقعہ واردات پر لوگ جمع ہونا شروع ہو گیے تھے تھوڑی دیر بعد قریبی گاوں کا نمبراد اور اس کے ساتھ کچھ لوگ موقعہ پر پہنچ گیے
لاش دیکھتے ہی نمبردار نے کہا اس لڑکی تو گاوں والے جانتے ہیں یہ لڑکی تین چار بار ہمارے گاوں آ چکی ہے میں نے پوچھا یہ لڑکی اس گاوں میں کس کے ھاں آیا کرتی تھی نمبر دار نے سوتیلی ماں کا نام لے کر بتایا کہ وہ فلاں گاوں بیاہی ہوی ہے بیوہ ہو گٸ تھی اور ایک رنڈوے سے نکاح پڑھا لیا تھا اور یہ لڑکی اس کے سوتیلے بیٹے کی بیوی تھی اور لڑکی کے خاوند کو بھی ہم جانتے ہیں
مجھے بھونچال کی طرح جھٹکا لگا میرے زہن سے اتر گیا تھا کہ ساجد کی سوتیلی ماں اسی گاوں کی رہنے والی ہے حالانکہ ابتدا میں مجھے یہ بات بتای گٸ تھی کہ سوتیلی ماں فلاں گاوں کی رہنے والی ہے
اتنے میں کھوجی آ گیا کھوجی نے آتے ہی کھرے دیکھنے شروع کر دیے سب سے پہلے اس نے لاش کے سینڈل کے تلوے دیکھے اور زمین سے بھید لینا شروع کر دیا
اچانک غیر ارادی طور پر میری نظر ایک آدمی پر پڑی وہ تیزی سے گاوں کی طرف جا رہا تھا میں اسے دیکھتا ریا تھوڑی دور جا کر وہ دوڑ پڑا
میں نے اس آدمی کو تماشاییوں میں سے نکل کر تیزی سے گاوں کی طرف جاتا دیکھا تو میری چھٹی حس بیدار ہو گٸ یہ میرا وہم بھی ہو سکتا تھا پھر بھی نے اپنے اس وہم کے تعاقب میں اسی دیہاتی کو جو لاش کی اطلاع لایا تھا اس آدمی کے پیچھے بھیج دیا
اور ساتھ یہ ہداٸت کر دی کہ اس آدمی کا پیچھا اس طرح کرو جس طرح تم اس کا پیچھا نہیں کر رہے ہو دور دور سے دیکھو کہ وہ کہاں جاتا ہے اور کیا کرتا ہے
وہ دیہاتی اس آدمی کے ہیچھے چلا گیا اور میں کھوجی کے پاس گیا اس نے مجھے زمین دکھای کھرے صاف تھے
دو مرد اور ایک عورت کے کھرے تھے عورت کا کھرا اس کے سینڈل کا تھا یہ کھرے اس قریبی گاوں سے موقعہ واردات کی طرف آے تھے
میں زمین پر بیٹھا پاوں کے نشان دیکھ رہا تھا کھوجی پاوں کے نشان دیکھتا ہوا قریبی گاوں کی طرف جانے لگا
نمبردار اور اس کے ساتھ آے دو آدمی میرے پاس ہی کھڑے تھے ان میں سے ایک آدمی نے کہا لگتا ہے لڑکی کو گلہ گھونٹ کر مارا گیا ہے معلوم نہیں بد بختوں نے اتنی دور لا کر کیوں مارا !
اس کے بعد یہ آدمی میرے سر پر سوار رہا اور کسی ماہر سراغرساں کی طرح مجھے مشورے دیتا رہا
کھوجی خاصی دور چلا گیا تھا وہ نشان دیکھتا ہوا قریبی گاوں کی طرف جھا رہا تھا
کھوجی کی طرف دیکھ کر وہ سراغ رساں آدمی بولا جناب تھانیدار صاحب آپ یہ کھوجی کہاں سے پکڑ کر لاے ہیں یہ تو آپ کو غلط سمت میں لے جا رہا ہے
مرنے والی لڑکی کو فلاں گاوں سے اس گاوں کی طرف لایا گیا اور راستے میں ہی اس ویران علاقے میں مار دیا گیا گاوں تو یہ لڑکی پہنچی ہی نہیں تھی اگر گاوں میں آتی تو کوی نہ کوی تو اسے ضرور دیکھتا جبکہ لڑکی کو گاوں میں دیکھا نہیں گیا تو یہ کھوجی گاوں کی طرف کس کے نشانوں پر جا رہا ہے ؟
وہ آدمی بولتا رہا نمبردار بھی اسے نہیں ٹوک نہیں رہا تھا میں نے اس آدمی سے پوچھا تمہارا خیال ہے کہ لڑکی کو گلہ گھونٹ کر مارا گیا ہے ؟
اس نے استادوں کی طرح کہا بلکل گلہ گھونٹا گیا ہے یہ کھوجی تو پیسے کھرنے کرنے کے لیے آپ کو چکر دے رہا ہے اصل کھرے تو ادھر ہوں گے جدھر سے آپ آے ہیں
کھوجی گاوں سے تھوڑی دور رہ گیا تو اس نے ایک آدمی کو بھیج کر مجھے وھاں بلایا میں فورأ کھوجی کی طرف چلا گیا وہ سراغ رساں آدمی بھی میرے پیچھے پیچھے مجھے ہدایات دیتا ہوا آ گیا
کھوجی کے پاس پہنچا تو کھوجی نے مجھے کچھ ایسے نشان دکھاے جیسے وھاں کسی نے درخت کی شاخ سے جھاڑو پھیر دیا ہو کھوجی نے کہا یہاں کھرے مٹانے کی کوشش کی گٸ ہے
وہ سراغ رساں آدمی کھوجی کو مخاطب کرتے ہوے بولا
بابا تمہارا تو دماغ خراب ہو گیا ہے لڑکی گاوں تک تو پہنچی ہی نہیں راستے میں ہی مار دی گٸ اور تم تھانیدار صاحب کو پتہ نہیں کس عورت کے نشانوں پر گاوں لے جا رہے ہو
کھوجی نے کوی جواب نہ دیا بلکہ مسکرا کر شاخ یا جھاڑو کے جو نشان تھے انھیں دیکھتا ہوا آگے چلنے لگا
ہم گاوں کے بلکل قریب پہنچ گیے تھے اور وہی دیہاتی آدمی جسے میں نے بھاگتے ہوے آدمی کے پیچھے بھیجا تھا وہ گاوں کے باہر کھڑا تھا
اس نے میری طرف آنے کی بجاے ھاتھ اوپر کر کے مجھے ھاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا میں اس دیہاتی کی طرف چلنےلگا تو میں نے اس آدمی کو جو میرا استاد بن کے بولے جا رہا تھا اس سے کہا ادھر آو یار تم تو بڑے کام کے آدمی ہو وہ آدمی میرے ساتھ چل پڑا
ہم اس دیہاتی تک پہنچے تو وہ مجھے زرا پرے الگ لے گیا اور میرے کان میں ایک بات کہی میں نے اس سے کہا تم فورأ کانسٹیبل کے ساتھ گاوں چلے جاو اور ساتھ ہی ایک اور ہداٸت بھی کر دی
وہ دیہاتی چلا گیا تو میں نے اپنے خود ساختہ استاد سے کہا چلو یار آج تمہارے گھر چلتے ہیں تم مجھے اپنے گھر لے چلو اور ساتھ ہی میں اپنی نظریں اس کے چہرے پر گاڑھ دیں
وہ شاید میرا لہجہ اور نظریں بھانپ گیا آہستہ سے بولا جناب مجھ غریب کا گھر آپ کے قابل نہیں ہے نمبردار کی بیٹھک میں چلتے ہیں میں نے کہا نہیں مجھے تمہارے گھر جانا ہے وھاں جاوں گا اور مقتولہ کا برقعہ لے کر آ جاوں گا
اس کا ردعمل یہ تھا جیسے میں نے بے خبری میں اسے سوی چبھو دی ہو
یہ شخص انتہای احمق تھا مجھے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا برقعے کا سن کر وہ چونکا اور جواب دینےکی بجاے احمقوں کی طرح مجھے دیکھنے لگا
میں نے اس کے اوپر دوسرا بم پھینکا میں نے ساجد کی سوتیلی ماں کا نام لے کر کہا تم اس عورت کے قریبی رشتے دار ہو یا آشنا ؟
وہ بری طرح گھبرا گیا ہکلاتے ہوے بڑی مشکل سے ادھورے ادھورے الفاظ میں اس نے کہا میرا اس عورت کے ساتھ کوی تعلق نہیں ہے
اتنے میں کھوجی نے مجھے آواز دے کر بلایا میں اس کے پاس گیا تو اس نے پوچھا یہ جو آدمی آپ کے ساتھ ساتھ ہے کیا یہ پولیس کا آدمی ہے ؟
میں نے کھوجی کو بتایا کہ یہ اسی گاوں کا آدمی ہے پولیس کا آدمی نہیں ہے کھوجی نے کہا اللہ جھوٹ نہ بلواے ان کھروں میں ایک کھرا اس آدمی کا ہے موقعہ واردات کے قریب میں نے ایک آدمی اور مقتولہ کے کھرے کے ساتھ اس آدمی کے کھرے دیکھے ہیں
اب اپ اسے لے کر آگے اآگے آے تو میں اس کے تازہ کھروں کے پیچھے آ گیا میں تو اپ کو بھی ملزم سمجھ رہا تھا
 
ہم اس آدمی کی طرف پیٹھ کر کے باتیں کر رہے تھے گھوم کر دیکھا تو وہ غاٸب تھا
وہ آدمی وھاں سے جا چکا تھا میں نے ادھر ادھر دیکھا قریب ہی ایک گلی تھی تماشای مرد اور بچے دور کھڑے تھے میں نے ان سے پوچھا یہ آدمی کہاں کدھر گیا ہے بچوں نے گلی کی طرف اشارہ کر کے بتایا وہ اس گلی میں دوڑ گیا ہے میں اکیلا ہی اس گلی میں دوڑ پڑا
دوڑتے دوڑتے تیرہ چودہ سال کی عمر کے بچے کو بازو سے پکڑ کر ساتھ لے لیا اسے کہا کہ مجھے اس آدمی کا گھر بتاو مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ اپنے گھر گیا ہو گا
گھر دور نہیں تھا گلی میں دو موڑ مڑے تو کھلی جگہ آ گٸ ایک طرف مکان تھے بچے نے دور سے بتایا کہ وہ مکان اس کا ہے اس گھر کے سامنے بھی عورتیں مرد اور بچے کھڑے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ آدمی گھر میں داخل ہوا ہے ؟
ایک عورت نے بتایا کہ ابھی ابھی وہ دوڑتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا میں نے فورأ دروازے پر دستک دی کوی جواب نہ ملا میں نے زور سے دروازہ بجایا مگر پھر بھی دروازہ نہ کھلا میں نے بلند آواز سے کہا دروازہ کھولو نہیں تو گولی مار دوں گا دروازہ پھر بھی نہ کھلا
میں نے جس دیہاتی سے کہا تھا کہ وہ کانسٹیبل کو ساتھ لے کر گاوں چلا جاے مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ قریب ہی موجود ہیں اس نے شاید مجھے دیکھ لیا تھا وہ دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر کہا یہ آدمی دروازہ نہیں کھولے گا آپ میرے ساتھ آییں
وہ مجھے لے کر ساتھ والے مکان کے اندر لے گیا ڈیوڑھی سے گزر کر صحن میں گیے داییں طرف میرے سر کے اوپر تک دیوار تھی اس دیہاتی نے مجھ سے کہا جناب آپ میری پیٹھ پر چڑھ کر دیوار پھلانگیں وہ دوہرا ہو گیا
میں اس کی پیٹھ پر کھڑا ہوا اور دیوار پر چڑھ کر دوسری طرف کود گیا یہ ایک کشادہ صحن تھا سامنے برآمدہ تھا برآمدے کے پیچھے ساتھ ساتھ دو کمرے تھے برآمدے میں ایک عورت کھڑی تھی
صحن کی باییں دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا سا تندور تھا جو اکثر گاوں کے گھروں میں استمال ہوتا ہے اسے تندروی کہتے ہیں تندروی جل رہی تھی
میں نے عورت سے پوچھا کہاں ہے وہ ؟
عورت پر تو جیسے سکتہ طاری ہو گیاتھا آنکھیں ساکن ہو گییں تھیں اس نے کوی جواب نہ دیا
میں نے گرج کر کہا اسے باہر نکالو وہ عورت بلکل خاموش اور بے حس کھڑی رہی اچانک مجھے اپنے پیچھے صحن میں دوڑنے کی آواز آی میں نے گھوم کر دیکھا وہ آدمی باہر کے دروازے کی کنڈی کھول چکا تھا
فاصلہ کم و بیش پندرہ سے بیس فٹ تھا میں نے سروس ریوالور جو ھاتھ میں پکڑ رکھا تھا ھاتھ اوپر کر کے ہوا میں ایک گولی فاٸر کر دی عورت کی چیخ نکل گٸ
میں نے للکار کر کہا وہیں رک جاو ورنہ دوسری گولی تمہارے جسم میں گھسے گی وہ آدمی وہیں دروازے پر رک گیا
میں نے اس سے کہا اپنے ھاتھ سر پر رکھ کر میرے قریب آ جاو
گولی کی آواز سن کر وہ دیہاتی دوڑتا ہوا باہر کے دروازے سے اندر آ چکا تھا میں نے اسے دروازہ بند کرنے کو کہا وہ دروازہ بند کر کے ہمارے پاس آ گیا میں نے اس سے کہا یہاں سے کوی کپڑا یا رسی لے کر اس آدمی کے ھاتھ باندھو
اس نے فورأ ہی برآمدے میں پڑی چارپای پر رکھے کپڑوں میں سے ایک دوپٹہ نکال لیا میں نے کہا اس کے دونوں ھاتھ پیچھے کمر پر باندھ دو دیہاتی نے اس کے دونوں ھاتھ باندھ دیے
میں نے دیہاتی سے پوچھا کانسٹیبل کہاں ہے اس نے بتایا کہ آپ نے جو ڈیوٹی لگای تھی ہم اسی سلسلے میں امجد کے گھر پر تھے اور امجد کو پکڑ لیا ہے کانسٹیبل اسی کے گھر میں ہے میں نے اس سے کہا تم فورأ امجد اور کانسٹیبل کو ادھر ہی لے آو
میں نے اس بندھے ہوے آدمی کو قمیض کے کالر سے پکڑ لیا اور تندور کی طرف آیا میں نے تندرو پر جھک کر دیکھا تندور میں کوی ایندھن نہیں تھا ایک کپڑا جل رہا تھا ادھر ادھر دیکھا ایک سوٹی مل گٸ سوٹی سے جلتا ہوا کپڑا باہر نکالا کپڑا نیچے زمین پر پھینکا اور اس پر پاوں مارے بڑی مشکل سے تھوڑا سا کپڑا بچا سکا
کپڑے کا رنگ کالا تھا غور سے دیکھا تو یہ کسی برقعے کا حصہ تھا اس کی سلاییوں سے پتہ چلتا تھا کہ یہ برقعہ ہے میں عورت سے پوچھا کیا یہ برقعہ تمہارا ہے ؟
عورت نے اس آدمی کی طرف دیکھا پھر آہستہ آواز میں بولی میں نے کبھی برقعہ نہیں لیا میں نے اس عورت سے چند باتیں اور پوچھیں جس سے پتہ چلا کہ عورت اس آدمی کی بیوی ہے اور اس عورت کو معلوم نہیں تھا کہ برقعہ کس کا ہے
کانسٹیبل اور وہ دیہاتی ایک آدمی کو لے کر آ گیے کانسٹیبل نے اس آدمی کو کالر سے پکڑ رکھا تھا
کانسٹیبل نے بتایا کہ یہ امجد ہے اور امجد وہ آدمی تھا جو تماشاییوں میں سے نکل کر گاوں کی طرف چل پڑا اور پھر دوڑ پڑا تھا اور اسی نے کھرے مٹانے کی کوشش کی تھی
جب یہ امجد نامی آدمی تماشاییوں میں سے نکل کر گیا تھا مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ آگے جا کر کھرے مٹاے گا میں کوی فرشتہ نہیں تھا مجھے تو بس اس کی چال ڈھال اور بھاگنے کی رفتار سے شک ہوا تھا کہ کوی بات تو ہے جس کا تعلق اس واردات سے ہو سکتا ہے
اس لیے میں نے اسی وقت اس دیہاتی کو یہ ہدایت دے کر اس کے پیچھے بھیجا تھا کہ اس پر نظر رکھو کہ وہ کیا کرتا ہے کدھر جاتا ہے پھر گاوں کے باہر پہنچ کر اس دیہاتی نے مجھے الگ کر کے یہ رپورٹ دی کہ اس نے امجد کو دیکھا کہ وہ ایک درخت تازہ شاخ ھاتھ میں لیے چلتے چلتے زمین پر پھیرتا جا رہا تھا
میں نے اسی وقت دیہاتی سے کہا وہ کانسٹیبل کو ساتھ لے جاے اور امجد کے گھر پر نظر رکھیں اگر وہ نکلنے کی کوشش کرے تو اسے پکڑ لیں اور اب امجد پولیس کی حراست میں تھا
دوسرا آدمی جس کا نام اصغر معلوم ہوا یہ دونوں پولیس کی پکڑ میں آ گیے تھے میں نے نمبردار اور گاوں کے دو معتبر آدمیوں کو گھر کے اندر بلا لیا اور وہیں برآمدے میں چارپاییوں بچھا کر بیٹھ گیے
میں نے نمبر دار اور ان لوگوں سے ملزموں کے چال چلن کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جو کچھ بتایا اس کے مطابق ساجد کی سوتیلی ماں ان کے گاوں کی رہنے والی ہے
اس کی شادی سے چند سال پہلے اس عورت کے تعلقات اصغر کے ساتھ تھے بعض لوگ اسے پاک محبت کہتے تھے اور بعض ناپاک !
عورت دلیر تھی وہ اصغر سے ملتی تھی وہ دونوں شادی کرنا چاہتےتھے مگر برداری سسٹم کی وجہ سے ان کی شادی نہ ہو سکی اصغر نے دھمکی دی کہ وہ اگر اس کی شادی لڑکی کے ساتھ نہ ہوی تو وہ لڑکی کو اٹھا کر لے جاے گا گاوں کے بڑوں نے اصغر کو سمجھایا کہ اس طرح سارے گاوں کی بے عزتی ہو گی خون خرابہ بھی ہو گا
پھر جلد ہی اس عورت کی شادی برادری کے ایک نہایت شریف اور نیک آدمی سے ہو گٸ لیکن یہ عورت شادی کے بعد بھی اصغر سے ملتی تھی
دوسری طرف اصغر کی بھی شادی ہو گٸ اور وہ بھی اپنی بیوی کو دھوکہ دے کر اس عورت سے ملتا رہا عورت کے خاوند اور اصغر کی بیوی کو بھی معلوم ہو چکا تھا کہ یہ دونوں ملتے ہیں اور ان کے آپس میں ناجاٸز مراسم ہیں پھر کوی دو اڑھای سال بعد اس عورت کا خاوند ایسے روگ سے مر گیا جسے کوی ڈاکٹر یا سیانا سمجھ ہی نہ سکا
 
اصغر نے گاوں والوں سے کہا کہ وہ اس عورت سے شادی کرے گا لیکن کوی بھی نہ مانا
یہ عورت اصغر کی بن بیاہی بیوی بنی رہی پھر یہ عورت زیادہ کھل گٸ اس نے ایک اور آدمی کے ساتھ تعلقات قاٸم کر لیے اسی طرح اس عورت گاوں کے تین چار آدمیوں کو اپنی رقابت میں لڑا دیا
گاوں کے بڑوں نے دیکھا تو اس عورت کی دوسری شادی کا سوچنے لگے مگر گاوں میں کوی بھی اسے بیوی بنانے کے لیے تیار نہیں تھا آخر کسی اور گاوں سے اس کے لیے ایک رشتہ مل گیا جس کی عمر اس عورت سے دوگنی تھی اور یہ ساجد کا باپ تھا عورت کو بتا دیا گیا کہ اس کے ہونے خاوند کا ایک جوان بیٹا اور ایک شادی شدہ بیٹی ہے اس عورت نے کسی قسم کا کوی اعتراض نہ اٹھایا اور ساجد کے باپ کے ساتھ نکاح ہو گیا
نکاح کے بعد یہ عورت گاوں میں آتی رہتی تھی ایک دو دن رہتی تھی یوں لگتا تھا جیسے اصغر سے ملنے آتی ہے تین چار دفعہ ساجد کی بیوی (مقتولہ ) کو بھی ساتھ لای تھی اور سب کو بتایا کہ یہ لڑکی اس کی بہو ہے آخری بار آٹھ دس روز پہلے یہ عورت گاوں میں آی تھی امجد کے متعلق ان لوگوں نے بتایا کہ یہ اصغر کا ساتھی ہے

میں نے اصغر اور امجد کو کانسٹیبل کے ساتھ ایک کمرے میں بٹھا دیا اور اصغر کی بیوی کو بلا کر اس سے بات کی تو وہ زار و قطار رونے لگی اور کہنے لگی کہ وہ مظلوم عورت ہے غریب باپ کی بیٹی ہے اگر اس نے اپنے خاوند کے خلاف زبان کھولی تو خاوند اس کی ہڈیاں توڑ دے گا
میں نے اس سے کہا کیا تم اپنے خاوند سے طلاق لے کر دوسری شادی کرنا چاہتی ہو ؟
وہ بولی طلاق کے لیے تو میں اسے سو بار کہہ چکی ہوں لیکن یہ مارتا ہے طلاق نہیں دیتا !
اگر یہ آج ہی مر جاے تو بھی میں دوسری شادی نہیں کروں گی میرا بوڑھا باپ جب تک زندہ ہے اس کی خدمت کروں گی
  
میں نے اس سے کہا سمجھ لو تمہارا خاوند آج سے مر گیا آج سے تمہاری مصیبت ختم ! اب چاہے دوسری شادی کرو چاہے باپ کی خدمت کرو !
وہ روتے ہوے بولی یہ ظالم اتنی جلدی نہیں مر سکتا اس سے تو موت بھی نفرت کرتی ہے یہ وحشی ایک بدکار عورت کے ساتھ میرے سامنے اس کمرے میں بند رہتا تھا
تین چار دنوں سے معلوم نہیں کہاں سے ایک لڑکی لایا تھا اسے بھی کمرے میں بند کر رکھا تھا میں یہ اذیت برداشت نہیں کر سکتی !
میں نے کہا تمہارا خاوند اب اسی لڑکی کے قتل میں پھانسی کے تختے پر جا رہا ہے اب یہ واپس نہیں آ سکے گا
اصغر کی بیوی نے سوتیلی ماں کے متعلق بتایا کہ اس عورت کی خاطر اصغر نے اس پر ظلم و تشدد کی انتہا کر دی تھی اس نے کٸ بار اصغر کو روکا سوتیلی ماں کے قدموں پر کٸ بار سر رکھا کہ وہ اس کے خاوند کو بخش دے اس کا گھر نہ اجاڑے
مگر سوتیلی ماں کے دل میں زرا بھر بھی رحم نہ آیا اصغر کے گھر میں اس عورت پر جو بیتی وہ بہت درد ناک کہانی تھی
میں نے اس سے پوچھا یہ کالا برقعہ اس گھر میں کس طرح آیا تھا ؟ اس نے بتایا کہ تین چار روز گزرے رات کے وقت اصغر باہر سے آیا اس نے ایک لڑکی کو کندھوں پر اٹھا رکھا تھا اصغر لڑکی کو کمرے میں لے گیا لڑکی اس وقت برقعے میں تھی اصغر نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے لڑکی کے متعلق کسی کو بتایا تو جان سے مار ڈالوں گا
 
کمرے سے کبھی کبھی لڑکی کے رونے کی آواز آتی تھی میں لڑکی کے لیے کھانا پکاتی تھی اور اصغر کھانا کمرے میں لے جاتا تھا
گزشتہ رات کو دو آدمی دو بار آے اور اصغر کے ساتھ لڑکی والے کمرے میں گیے وہ تھوڑی دیر ٹہھرے پھر واپس چلے گیے امجد بھی روز رات کو آتا تھا
اصغر لڑکی کے ساتھ کمرے میں سوتا تھا آج صبح میں جاگ کر باہر آی تو دیکھا کہ لڑکی والے کمرے کا دروازہ کھلا تھا میں نے ڈرتے ڈرتے کمرے میں جھانکا کمرے میں کوی نہیں تھا چارپای کے سرھانے کالا برقعہ پڑا تھا
تھوڑی دیر بعد اصغر آ گیا اور اس کے کچھ دیر بعد گاوں میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ باہر کہیں جھاڑیوں والے علاقے میں ایک جوان لڑکی کی لاش پڑی ہے
یہ خبر سن کر اصغر باہر جانے لگا تو امجد آ گیا دونوں نے آپس میں کوی بات کی تو اصغر سر جھکا کر کچھ سوچنے لگا پھر دونوں باہر چلے گیے
کچھ دیر بعد اصغر باہر سے دوڑتا ہو آیا اس نے کمرے سے کالا برقعہ اٹھایا ماچس لی اور تندوری کے پاس جا کر برقعے کو آگ لگای اور تندوری میں پھینک دیا
اصغر نے مجھ سے کہا اپنی زبان بند رکھنا ورنہ تمہیں بھی اس تندوری میں رکھ کر آگ لگا دوں گا
میں اٹھ کر کمرے میں اصغر اور امجد کے پاس جا بیٹھا اور اصغر سے کہا اقبال جرم کرو گے یا پھانسی پر چڑھنا پسند کرو گے ؟
 
اصغر نے ھاتھ جوڑ کر کہا جناب عالی میں نے کوی جرم نہیں کیا میں نے امجد سے بھی یہی سوال کیا اس نے بھی جرم سے انکار کر دیا
میں نے اصغر کے گھر کی تلاشی لی اس کے گھر سے ایک خنجر اور تیز دھار کی ایک تلوار برآمد کر لی اور پھر ان کو لے کر امجد کے گھر گیا امجد کے گھر سے بھی ایک خنجر کے علاوہ کوی کام کی چیز برآمد نہ ہوی میں ان دونوں کو لے کر تھانے آ گیا
تھانے پہنچ کر میں اصغر اور امجد کو تفتیش والے کمرے میں لے گیا ایک کو ایک دیوار کے ساتھ اور دوسرے کو دوسری دیوار کے ساتھ بٹھا دیا
 
حوالات سے سوتیلی ماں کو بلا کر اسے بھی تیسری دیوار کے ساتھ فرش پر بٹھا دیا اور ان تینوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میرے پاس پورا ثبوت موجود ہے کہ لڑکی کس طرح مری اگر اپنے منہ سے بتا دو گے تو تمہارے لیے آسانی رہے گی دوسری صورت میں اتنی اذیت میں آ جاو گے کہ تم اس اذیت کا تصور بھی نہیں کر سکتے !
سوتیلی ماں نے گھبرا کر کہا نہیں نہیں لڑکی مری نہیں ہے آپ غلط کہہ رہے ہیں
میں نے اس سے کہا اتنی بھولی مت بنو تمہارے کہنے پر ہی لڑکی کو مارا جا چکا ہے
سوتیلی ماں نے اصغر اور امجد کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر حیرت اور غم کے تھا وہ بولی یہ ظلم کس نے کیا ہے اصغر اور امجد نے سوتیلی ماں کو کوی جواب نہ دیا سر جھکاے بیٹھے تھے
میں نے کانسٹیبل کو بلا کر اصغر اور امجد کو حوالات میں بھیج دیا اور ساتھ ہدایت کر دی کہ انھیں الگ الگ بند کرنا یہ آپس میں کوی بات نہ کر سکیں
 !
میں نے تفتیش والے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر لیا سوتیلی ماں سر جھکاے دیوار کے ساتھ بیٹھی تھی میں نے اس کا سر اوپر کیا اس کا چہرہ آنسووں سے دھل گیا تھا
میں نے اس سے کہا لڑکی کی قاتل تم ہو
اس نے سر ہلا کر کہا نہیں میں اسے مروانا نہیں چاہتی تھی میں تو بس اسے گھر سے غاٸب کرنا چاہتی تھی میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اسے مار دو
میں نے اس سے ایسی باتیں کرنی شروع کر دیں جن سے اس کے دل میں یہ ڈالنا مقصود تھا کہ میں اس کا دشمن نہیں ہوں میں نے اس کے لیے پانی منگوایا
میری تسلی اور ہمدری پا کر اس مجھ سے وہی سوال پوچھا جو ہر مجرم اقبال جرم سے پہلے پوچھتا ہے کہ مجھے کیا سزا ملے گی ؟
 
میں نے اس سے کہا اگر تم میری مدد کرو گی تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہیں نہ پھانسی چڑھنے دوں گا اور نہ ہی عمر قید ہونے دوں گا اور ویسے بھی تم مجھ سے کچھ بھی چھپا نہیں سکو گی کیونکہ لڑکی کی لاش تمہارے گاوں سے ملی ہے اور تمہارا سارا گاوں گواہی دینے کے لیے تیار ہے تمہاری زندگی جس طرح گزری ہے وہ عدالت میں بیان کی جاے گی اگر تم خود مجھے ساری بات بتا دو گی تو تمہارے سر سے دوپٹہ نہیں اترے گا
مختصر یہ کہ میری محنت کام کر گٸ اور وہ اقبال جرم پر آمادہ ہو گٸ اس کے بیان کے مطابق وہ ایک اونچی ذات کے گھرانے کی لڑکی تھی اس کی محبت اصغر سے ہو گٸ
اصغر نیچ ذات کا تو نہیں تھا پر اس سے کمتر ذات کا تھا اگر اس کے بڑے بزرگ ذات پات کو الگ رکھتے تو ان کی شادی ہو سکتی تھی
مگر اس کے بڑوں نے اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی برادری کے ایک شخص سے کر دی شادی کے بعد لڑکی خودسر ہو گٸ دوسری طرف اصغر بھی باغی ہو گیا وہ اکثر گھر سے غاٸب رہنے لگا چرس پینے لگا اس کا یارانہ غلط قسم کے لوگوں کے ساتھ ہو گیا
 
لڑکی نے اپنے خاوند سے کہہ دیا کہ وہ اسے طلاق دے یا زہر دے وہ اصغر سے الگ نہیں ہو گی
اصغر کی آوارگی کا اس کے گھر والوں نے یہ علاج کیا کہ اس کی شادی کر دی اصغر اور لڑکی نے اپنی اپنی شادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ملنا ترک نہ کیا
شادی کے دو اڑھای سال بعد سوتیلی ماں بیوی ہو گٸ اس کے بعد گھر والے اور برادری والے کہتے رہے کہ وہ دوسری شادی کر لے مگر وہ نہ مانی گھر والوں کو دھمکی دیتی تھی کہ وہ گھر سے بھاگ جاے گی
اب وہ اصغر سے کھلے عام ملنے لگی تھی اصغر نے بھی اپنی بیوی کے لیے گھر کو جہنم بناے رکھا
تین سال کے عرصے میں سوتیلی ماں خودسری اور سرکشی جو دراصل گناہ کی لذت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا اسے زلت کی گہرایوں میں لے گٸ
 
یہاں تک کہ گاوں کی کسی لڑکی کو والدین اس سے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے عورتیں اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتی تھیں اسے شدت سے محسوس ہونے لگا کہ ساری دنیا اور سارا جہان صرف اصغر ہی نہیں ہے
ایک وقت تھا کہ اس نے دوسری شادی کے پیغام ٹھکرا دیے تھے اور ایک وقت یہ آیا کہ اس نے دوسری شادی کر لینا مناسب سمجھا اور گھر والوں سے کہہ دیا کہ وہ دوسری شادی کرے گی
مگر اب وہ جس سے بھی رشتے کی بات کرتے وہی فحاشہ اور بدکار کر تھوک دیتا برداری اور برداری سے باہر بھی کوی ایسا نہ ملا جو اس کا ھاتھ تھام لیتا
شامت ساجد کے باپ کی آی تھی اس کی اس گاوں میں دور پار کی رشتے داری تھی اسے اس شادی کے لیے پھانسا گیا سوتیلی ماں کو بتا دیا گیا کہ اس کا ہونے والا خاوند بوڑھا ہے لیکن وہ شادی کا فیصلہ کر چکی تھی اور یہ تہیہ بھی کہ وہ اپنے شوہر کی وفا دار رہے گی
مگر اسے توقع نہیں تھی کہ اسے اس آدمی کے حوالے کر دیا جاے گا جو عمر کے آخری حصے میں داخل ہو چکا تھا
 
وہ بوڑھے شوہر کو دیکھ کر جل بھن گٸ شادی کی پہلی صبح اسے گھر میں ساجد نظر آیا اس نے اسی وقت ساجد پر نظر رکھ لی اس نے قبول نہ کیا کہ ساجد اس کا بیٹا ہے اس کا جسمانی عیاشی کا نشہ عود کر آیا
اس نے انسان بننے کا فیصلہ کیا تھا مگر بوڑھے شوہر سے شادی کے دھوکے نے اسے پھر سے حیوان بنا دیا
گاوں میں وہ اپنی گردن تان کر کھے عام اصغر سے ملا کرتی تھی لیکن اس بوڑھے شوہر کے گھر میں اس نے فریب کاری سے کام لیا اس فریب کے لیے اس خلوص اور پیار کا ہتھیار استمال کیا
بوڑھے خاوند کو اپنے پیار اور خدمت سے اندھا کر دیا محلے کی کوی عورت آتی تو اس عورت پر اپنی شرافت اور رکھ رکھاو کی دھاک بٹھا دیتی !
ساجد کو پھانسنے کی زبانی اور عملی جو بھی کوششیں کیں ان کی پوری تفصیل سنای پھر چند ماہ بعد ساجد کی شادی ہو گٸ
سوتیلی ماں نے ساجد کی بیوی کو بھی پیار کے جال میں پھانس لیا بہو کے باپ پر بھی جادو چلا لیا
یہی وجہ تھی کہ میں اس کے متعلق جس سے پوچھتا تھا وہ ہی اس کی تعریفوں کے پل باندھتا تھا سوتیلی ماں نے یہ جادو گری صرف ساجد کو پھانسنے کے لیے کی تھی
اسی دوران وہ اپنے گاوں بھی جاتی اصغر سے ملتی آدھا آدھا دن اس کے گھر میں کمرے میں بند رہ کر گزارتی !
اس کی کوشش یہ تھی کہ اصغر کی کمی ساجد پوری کر دے مگر ساجد اس کے ھاتھ نہیں آ رہا تھا
ساجد کی بیوی نے ایک دو بار دیکھ لیا اور سوتیلی ماں سے صاف کہہ دیا کہ تم بے شک جوان ہو لیکن یہ مت بھولو ساجد میرا خاوند اور تمہارا بیٹا ہے وہ تمہارا خاوند نہیں بن سکتا !
ساجد نے بھی سوتیلی ماں سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ زیادہ بے تکلف نہ ہوا کرے بیوی ناراض ہوتی ہے
پھر سوتیلی ماں اور ساجد کی بیوی میں چپقلش بڑھ گٸ ساجد کی بیوی ان کے درمیان رکاوٹ بن گٸ 
 
سوتیلی ماں کو دراصل جو آگ جلا رہی تھی وہ یہ تھی کہ ساجد اور اس کی بیوی اکٹھے اٹھتے بیٹھتے تھے ایک کمرے میں سوتے تھے آپس میں ہنستے کھیلتے تھے ان کی نٸی نٸی شادی ہوی تھی وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے کھلونے تھے
انہیں یوں اکٹھے دیکھ کر سوتیلی ماں کے سینے میں ایک شعلہ اٹھتا تھا جسے ٹھنڈا کرنے کا کوی زریعہ نہیں تھا
اس کا اپنا خاوند بوڑھا تھا اور اس بوڑھے خاوند کی محبت کا چراغ ٹمٹا رہا تھا سوتیلی ماں اس ٹمٹاتے چراغ کی لو سے جل جل کر اندھی ہوتی رہی اور عقل کی بھی ایسی اندھی ہوی کہ جب لڑکی اس کے اور ساجد کے درمیان آنے لگی تو اس نے کہا ساجد صرف میرا ہے اس لڑکی کا نہیں ہو سکتا
 !
سوتیلی ماں نے کٸی بار محسوس کیا کہ لڑکی جب بھی ساجد کے پاس سے اٹھتی ہے وہ اسے طنزیہ نظروں سے دیکھتی ہے سوتیلی ماں نے اس رقابت کو پیار میں چھپا لیا لڑکی کے آگے جھک کر اسے پھر سے اپنا بنا لیا
سوتیلی ماں واردات سے دس روز پہلے اصغر کے پاس گاوں گٸ اور اصغر سے باتیں کرتے ہوے اس پر انکشاف ہوا کہ اصغر بردہ فروشی بھی کرنے لگا ہے تو سوتیلی ماں کے زہن میں ساجد کی بیوی آ گٸ
اس نے اصغر سے کہا کہ ایک لڑکی ہے جو بہت خوبصورت اور جوان ہے اور وہ گھر سے بھاگنے کے لیے بھی تیار ہے اگر تم اسے لے کر بیچ سکتے ہو تو میں اس کے اغوا میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں وہ لڑکی اتنی خوبصورت ہے کہ تمہیں منہ مانگے دام ملیں گے اور پھر سوتیلی ماں نے اصغر کر یہ بھی بتا دیا کہ وہ لڑکی اس کے سوتیلے بیٹے کی بیوی ہے
 
لڑکی سوتیلی ماں کے ساتھ دو تین دفعہ سوتیلی ماں کے ساتھ اس گاوں میں آ چکی تھی اور اصغر نے لڑکی کو دیکھ رکھا تھا
اب اصغر نے جب یہ سنا کہ لڑکی گھر سے بھاگنا چاہتی ہے تو اصغر لڑکی کو اغوا کرنے کے لیے تیار ہو گیا سوتیلی ماں نے اصغر کو بتایا کہ لڑکی اچھے چلن کی نہیں !
انھوں نے لڑکی کے اغوا کا دن مقرر کر لیا اور وقت رات آٹھ بجے کا رکھا اس روز دن کے وقت اصغر نے امجد کر سوتیلی ماں کے گھر بھیجا اس وقت ساجد گھر نہیں تھا
 
ساجد کا باپ کمرے میں لیٹا ہوا تھا ساجد کی بیوی امجد سے پردہ کرتی تھی سوتیلی ماں نے امجد کو دوسرے کمرے میں بٹھایا امجد سوتیلی ماں سے یہ پتہ کرنے آیا کہ سارا معاملہ تیار ہے یا نہیں !
سوتیلی ماں نے اسے بتایا کہ معاملہ تیار ہے اور وہ رات کو مقرر وقت پر مقرر جگہ موجود رہیں ساجد کا مکان گاوں کے آخری کنارے پر تھا جہاں سے کھیت اور خالی جگہ شروع ہو جاتی تھی اصغر اور امجد کو اس خالی جگہ کے پاس کھیتوں میں چھپ کر موجود رہنا تھا
رات آٹھ کے قریب کے قریب سوتیلی ماں نے ساجد سے کہا کہ میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے اور اس وقت دکانیں بھی بند ہو چکیں ہیں اگر تمہیں کسی حیکم یا ڈاکٹر کے گھر کا پتہ ہو تو مجھے وھاں سے کوی درد گولی لا دو ورنہ میرے لیے رات گزارنا مشکل ہو جاے گی
ساجد سوتیلی ماں کے لیے دوای لینے چلا گیا ساجد کا باپ کمرے میں سویا ہوا تھا سردیوں کی راتیں تھیں ساجد کی بیوی بھی اپنے کمرے میں تھی
 
سوتیلی ماں نے ساجد کی بیوی سے کہا مجھے تمہارے سسر کے لیے ایک جرسی بنانی ہے دن بھر فرصت نہیں ملی تم میرے ساتھ آو فلاں لڑکی کے گھر سے جرسی کا نمونہ لینے جانا ہے لڑکی کی بد قسمتی کہ وہ فورأ تیار ہو گٸ
لڑکی نے ساجد کے متعلق سوتیلی ماں سے پوچھا کہ ساجد کہاں ہے سوتیلی ماں نے اسے بتایا کہ ساجد تو ابھی ابھی باہر نکلا ہے وہ ڈاکٹر کے گھر سے میرے لیے دوای لینے گیا ہے اس کے آنے سے پہلے پہلے ہم واپس آ جاییں گے
 
لڑکی نے برقعہ اوڑھ لیا سوتیلی ماں اسے لے کر ہنستی کھیلتی اس طرف لے گٸ جہاں اصغر اور امجد چھپے بیٹھے تھے یونہی وہ اس مخصوص جگہ پر پہنچیں اصغر اور امجد نے پیچھے سے لڑکی کے سر پر کپڑا پھینکا اور جلدی سے کپڑا لڑکی کے منہ پر باندھ دیا اور لڑکی کو اٹھا کر اندھیرے میں غاٸب ہو گیے
سوتیلی ماں تیزی سے گھر واپس آ گٸ تھوڑی دیر بعد ساجد دوای لے آیا اس نے اپنی بیوی کے متعلق کے پوچھا تو سوتیلی ماں نے ساجد کر بتایا کہ اس کی بیوی کسی سہیلی کے گھر جرسی کا نمونہ لینے گٸ ہے
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ آپ پڑھ چکے ہیں میں نے بھی اسے زیادہ نہ کریدا میرا کام ہو چکا تھا
اس سے فارغ ہوا کہ اے ایس آی نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گٸ ہے میں نے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا مطالعہ کرنا شروع کیا رپورٹ میں موت کا باعث معلوم نہیں ہو سکا رپورٹ کے مطابق گلہ نہیں گھونٹا گیاتھا اور نہ ہی کوی آلہ استمال کیا گیا تھا قتل سے پہلے آبروریزی بھی نہیں کی گٸ تھی تشدد کے آثار بھی نہیں تھے
بظاہر موت قدرتی معلوم ہوتی تھی یہ میرے لیے بڑی مشکل پیدا ہو گٸ تھی رات اڑھای بجے میں نے اصغر کو حوالات سے جگایا اور اسے تفتیش والے کمرے میں لے گیا
 
اس سے کہا کہ وہ اپنے جرم کا سارا قصہ اپنی زبان سے سناے تو اس کی سزا میں کمی ہو سکتی ہے وہ نیند میں تھا مجھے احمقوں کی طرح ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا میں نے اس سے کہا مانا کہ تم استاد آدمی ہو مگر تم نے جرم ایک ایسی عورت کے ساتھ مل کر کیا ہے جو بیک وقت چھ آدمیوں کی داشتہ ہے
تم سمجھتے رہے کہ وہ صرف تمہاری بے نکاہی بیوی ہے مگر اس نے تمہیں اور امجد کو الو کا پٹھہ بنا کر تم سے لڑکی اٹھوای اور خود گھر میں بیٹھی رہی !
اور اب یونہی وہ پولیس کے چکر میں آی اقبالی بیان دے دیا اور تم دونوں کو ننگا کر کے سب کچھ تمہارے کھاتے میں ڈال کر خود صاف بچ گٸ ہے
اگر تم نے جرم کرنا ہی تھا تو کسی مرد کے ساتھ مل کر کرتے ! میں نے جب کٸی بار قتل اور سزاے موت کا نام لیا تو اس نے میرے ھاتھ پکڑ لیے اور قسمیں کھانے لگا کہ اس نے لڑکی کو قتل نہیں کیا
میں نے کہا تو پھر کس نے کیا ہے ؟
 
وہ بولا کسی نے بھی نہیں لڑکی تو ہمارے ساتھ چلتے چلتے اچانک گر پڑی ہم نے اسے ہلایا اور اٹھایا لیکن وہ تو لاش کی طرح بے جان ہو گٸ اور ہم دونوں ڈر کر وھاں سے بھاگ گیے کہ لڑکی مر گٸ ہے
مجھے کچھ ایسے ہی جواب کی توقع تھی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ بتا چکی تھی کہ موت قدرتی ہے لیکن میں نے پھر بھی اسے ڈراے رکھا آخر اس نے ہھتیار ڈال دیے اور بیان دینے پر راضی ہو گیا
اس کے بیان کے مطابق اس نے لڑکی کو بیچنے کے لیے اغوا کیا تھا وہ سمجھ رہا تھا کہ سوتیلی ماں نے اسے اتنی خوبصورت اور مہنگی لڑکی اغوا کرنے میں اس کی مدد کی ہے میں نے بھی اسے بتانا مناسب نہ سمجھا کہ سوتیلی ماں نے تو اسے استمال کیا ہے دھوکہ دیا ہے اس نے تو ساجد پر قبضہ کرنے کے لیے لڑکی کو راستے سے ہٹایا تھا
 
اصغر نے بتایا کہ سوتیلی ماں نے اسے کہا تھا کہ لڑکی کو کہیں دور لے جا کر بیچنا اصغر نے اپنی مجرمانہ زندگی کی اور بھی بہت سی باتیں بتاییں لڑکی کے متعلق اس نے بتایا کہ وہ ایک دبلی پتلی لڑکی تھی اس نے امجد کے ساتھ مل کر لڑکی کو بلکل اسی طرح اغواا کیا جس طرح سوتیلی ماں نے کہا تھا اصغر اور امجد نے باری باری لڑکی کو کندھوں پر اٹھا کر گاوں میں اپنے گھر تک پہنچایا لڑکی کا منہ کپڑے سے بندھا تھا
کمرے میں لے جا کر لڑکی کا منہ کھول دیا گیا اور برقعہ اتار دیا گیا میں نے اصغر سے کہا تم نے لڑکی کی عزت پر تو ضرور حملہ کیا ہو گا ؟
اس نے کہا بلکل نہیں جب میں اتنے بڑے جرم کا اقرار کر رہا ہوں تو اس چھوٹی سی حرکت کو کیوں چھپاوں گا
اصغر نے مزید بتایا کہ اس نے لڑکی سے کہہ دیا تھا کہ یہاں تمہارے ساتھ کوی زیادتی نہیں ہو گی اور یہ بھی بتا دیا کہ یہاں تمہاری مدد کرنے کوی نہیں آے گا پھر بھی لڑکی روتی تھی اور رھای کے لیے منت سماجت کرتی تھی
اصغر نے بتایا کہ اس نے امجد کو ایک آدمی کے پاس بھیجا یہ آدمی بھی بردہ فروش تھا اسے گھر بلا کر لڑکی دکھای گٸ مگر سودا نہیں ہو سکا
 
پھر ایک اور آدمی کو بلایا گیا اس سے بھی سودا نہ ہوا وہ لڑکی کے دام ان کی توقع سے کم لگا رہے تھے اس آدمی کے جانے بعد اصغر اور امجد نے فیصلہ کہ اس دوسرے آدمی کو لڑکی بیچ دینی چاہیے وہ آدمی جاتے جاتے کہہ گیا تھا کہ سوچ لو اگر قیمت منظور ہو تو لڑکی کو اس کے ٹھکانے پر پہنچا دیا جاے
یہ لڑکی کی قید کا تیسرا دن اور چوتھی رات تھی آدھی رات کے بعد جب سب سو گیے تو اصغر نے لڑکی کو ساتھ چلنے کے لیے کہا لڑکی نے اس کے پاوں پکڑ لیے اور رونے لگی لڑکی کے منہ پر کپڑا باندھا گیا امجد نے لڑکی کو کندھوں پر ڈال لیا اور گاوں سے نکل گیے کچھ دور جا کر امجد نے لڑکی کو کندھے سے اتار دیا اور اس کے منہ سے کپڑا کھول دیا
 
دونوں نے لڑکی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اونچی آواز نکالی تو اسے قتل کر دیا جاے گا
لڑکی بلکل چپ ہو گٸ اس نے صرف ایک بار پوچھا کہ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں اصغر نے ڈانٹ کر کہا زبان بند رکھو لڑکی پھر نہیں بولی
چلتے چلتے لڑکی کے قدم لڑکھڑانے لگے اور وہ چلتے چلے گر پڑی دونوں نے لڑکی کو اٹھا کر کھڑا کیا تو اس کا سر ایک طرف کو ڈھلک گیا وہ پھر گر پڑی اصغر نے نبض پر ھاتھ رکھا اور کہا لگتا ہے کہ لڑکی مر گٸ
دونوں سخت گھبراے اور لڑکی کو وہیں چھوڑ کر گاوں بھاگ آے صبح کا اجالا ابھی پوری طرح نمودار نہیں ہوا تھا کہ گاوں کا ایک آدمی جو رات بھر اپنی گمشدہ بھنیس کو ڈھونڈتا رہا تھا وہ اس طرف آ نکلا تو اس کو لڑکی کی لاش نظر آی اس نے فورأ گاوں میں اطلاع دی
 
گاوں کے نمبردار نے اسے تھانے بھیج دیا اور پھر جب مجھ تک لاش کی اطلاع پہنچی تو تو میں فورأ موقعہ پر پہنچ گیا اصغر نے اعتراف کیا کہ وہ مجھے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا
میں نے اس سے بھاگنے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ جب آپ کھرے ڈھونڈتے ڈھونڈتے گاوں تک آ گیے تواسے یاد آیا کہ لڑکی کا برقعہ تو اس کے گھر میں پڑا ہوا ہے
اس نے گھر جا کر دروازہ بند کر لیا کمرے سے برقعہ اٹھایا اور آگ لگا کر تندوری میں پھینک دیا اس کے بعد وہ فرار ہونا چاہتا تھا
 
اس کا بیان ختم ہوا تو صبح طلوع ہو چکی تھی میں نے اس سے کہا امجد سے بھی کہو کہ وہ اقبالی بیان دے دے اصغر نے کہا امجد کا اس جرم میں زیادہ قصور نہیں وہ تو اس کا بڑا پیارا دوست ہے اس نے بس دوستی کا حق ادا کیا ہے میں نے کہا اب میں بھی تم سے دوستی کا حق ادا کروں گا تم امجد کو بیان دینے پر راضی کرو
میں امجد کر حوالات سے نکال کر تفتیش والے کمرے میں لے آیا اصغر نے امجد سے کہا تھانیدار صاحب کو سب کچھ سچ سچ بتا دو میں نے بھی بتا دیا ہے
 
اس نے امجد سے کہا یہ تھانیدار صاحب بڑے رحمدل انسان ہیں کہتے ہیں کہ سزا میں رعاٸت دلا دیں گے
پھر امجد نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا امجد کا بیان اصغر کے بیان کی تصدیق کرتا تھا میں نے ان دونوں کے لیے بڑا اچھا ناشتہ منگوایا اور چاے پلای
اسی دوران میری ان سے دوستی گہری ہو گٸ میں نے انھیں اپنے ساتھ اور زیادہ کھولنے کے لیے فحش مذاق بھی کیے اسی گپ شپ کے دوران میں نے ان پر اپنی جرح بھی جاری رکھی اور وہ بے خبری میں ساری باتیں اگلتے 
رہے
 
ان کے بیانوں میں جو جو کمی تھی وہ میں نے پوری کر لی پھر اسی روز میں نے اصغر امجد اور سوتیلی کو بغیر ہتھکڑیوں کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر دیا اگر ان میں ایک بھی تجربہ کار مجرم ہوتا تو مجسٹریٹ کے سامنے جا کر اقبالی بیان دینے سے انکار کر دیتا اگر ایسا ہوتا تو میرا کیس وہیں ختم ہو جاتا
کیونکہ میرے پاس کوی ٹھوس ثبوت اور شہادت نہیں تھی اور سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ لڑکی کی موت کو پوسٹ مارٹم میں قتل نہیں کہا گیا تھا تینوں نے اقبالی بیان ریکارڈ کروا دییے
کیس چلا تو سیشن جج نے اصغر اور امجد کو اغوا کے کیس میں دس دس سال قید اور لڑکی کی موت پر عمر قید کی سزا سنای سوتیلی ماں کو اغوا میں مدد کرنے پر دس سال اور اس مجرمانہ سازش میں شامل ہونے پر پانچ سال کی سزاے قید دی گٸ بعد میں انھوں نے ھای کورٹ میں اپیل کر دی جو مسترد ہو گٸ
 
(ختم شد )
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ