نور کی تباہی کا وقت آ چکا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس کے والد اور چچا نے نور کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ نور نے خود انجم سے اصرار کیا کہ وہ اپنی امی کو رشتہ لے کر بھیجے۔ یوں ایک دن خاموشی سے نور کی انجم سے شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد سب پر سکتہ طاری ہو گیا۔ تیسرے دن بعد نور کو طلاق ہو گئی اور وہ روتی دھوتی اپنے والدین کی دہلیز پر آ گری۔
👇👇
👇👇
یہ گزرے دنوں کا قصہ ہے۔ میں اور نور بچپن کی سہیلیاں تھیں، مگر لوگ ہمیں سگی بہنیں سمجھتے تھے۔ ہم ایک جیسا لباس پہنتی تھیں، وضع قطع ایک سی تھی اور بال بھی ایک ہی طرح سے بنے ہوتے تھے۔ اس کا گھر ہمارے پڑوس میں تھا۔ نور کے والد اچھے عہدے پر فائز تھے۔ اس کا گھر کیا تھا، گویا جنت کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس کی ماں کو میں خالہ کہتی تھی، مگر بچپن میں انہیں ’امی‘ کہا کرتی تھی۔ اسی طرح نور میری ماں کو امی بلاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں شعور آتا گیا، تاہم ہماری جوڑی کوئی نہ توڑ سکا۔ اسکول سے کالج تک یہی سلسلہ چلتا رہا اور لڑکیاں ہمیں بہنیں ہی سمجھتی تھیں۔
جب ہم نے کالج میں داخلہ لیا تو سب کچھ نیا نیا لگ رہا تھا۔ کالج کا ماحول اسکول سے بہت مختلف تھا۔ آہستہ آہستہ ہمیں نئے ماحول کی عادت ہو گئی۔ اکثر اوقات ہم کالج سے فارغ ہو کر اکٹھے بازار چلے جاتے، کیونکہ ہمارے والدین نے ہمیں اجازت دے رکھی تھی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہم اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے والدین کی عزت کو بٹہ لگائیں، مگر ہونے والی بات ہو کر رہتی ہے۔
ہوا یوں کہ جب ہم کالج سے چھٹی کے بعد امی کے لیے کوئی چیز لینے جاتے، تو نور تمام بازار چھوڑ کر صرف ایک ہی دکان پر رک جاتی اور مطلوبہ شے طلب کرتی۔ اگر وہ چیز اس دکان پر موجود نہ ہوتی، تو وہ کسی اور دکان یا اسٹور پر جانے کے بجائے دکاندار سے اصرار کرتی کہ وہ کسی دوسری دکان سے منگوا کر دے۔ وہ بے چارہ فوری طور پر اس کے حکم کی تعمیل میں دوڑا جاتا۔ نور کی یہ عادت میرے لیے پریشان کن تھی۔ میں اس سے کہتی: “اتنا بڑا بازار ہے، آخر اور بھی تو دکانیں ہیں، تم ایک ہی جگہ کیوں اڑ جاتی ہو؟” لیکن وہ میری بات ان سنی کر دیتی۔ اب میں نے بھی محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ میری سہیلی اس نوجوان دکاندار میں دلچسپی لے رہی ہے؛ میں یہ سب محسوس تو کرتی، مگر اسے کچھ کہہ نہیں پاتی تھی۔
ایک دن تو نور نے حد ہی کر دی۔ وہ مجھے بتائے بغیر دوسرے پیریڈ میں غائب ہو گئی۔ میں نے سارا کالج چھان مارا مگر اس کا کچھ پتا نہ چلا، یہاں تک کہ چھٹی کا وقت ہو گیا۔ میں گیٹ پر پریشان کھڑی تھی کہ وہ نظر آئی۔ میں نے پوچھا: “تم کدھر گئی تھیں؟” مگر وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔ تب مجھے محسوس ہوا جیسے وہ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہے۔ میں نے بھی زیادہ اصرار نہ کیا، لیکن زندگی میں پہلی بار گھر جاتے ہوئے ہم نے تمام راستہ خاموشی سے طے کیا۔ وہ اپنے گھر چلی گئی اور میں اپنے، مگر مجھے چین نہ آیا۔ میں ساری رات اس کے یوں غائب ہونے کے بارے میں سوچتی رہی لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ رات کو اتفاق سے نور کے گھر جانا ہوا تو وہ بظاہر خوش دلی سے ملی، مگر کھوئی کھوئی سی تھی۔ اس نے تب بھی مجھ سے کھل کر بات نہ کی۔
اگلے دن صبح ہم پھر کالج کے لیے گھر سے نکلے۔ وہ راستے بھر خاموش رہی۔ کالج پہنچ کر اس نے بتایا کہ وہ آج پیریڈ اٹینڈ نہیں کرے گی۔ اس نے کہا: “صوفیہ، تم کلاس ختم ہونے کے بعد کینٹین میں آ جانا، میں تمہیں وہیں ملوں گی۔” میں کلاس میں چلی گئی۔ جب پیریڈ ختم ہوا اور میں کینٹین پہنچی تو دیکھا کہ نور ایک رقعہ پڑھ رہی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے وہ چھپا لیا۔ میں نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نور سے کہا: “کل سے تم پریشان سی لگ رہی ہو، آخر ایسی کون سی بات ہے جو تم مجھ سے چھپا رہی ہو؟ تم نے آج تک کوئی بات مجھ سے نہیں چھپائی۔” مگر اس نے میری کسی بات کا جواب نہ دیا۔ جب میں نے کافی اصرار کیا اور دوستی کا واسطہ دیا، تو وہ مجھے اپنی پریشانی کی وجہ بتانے لگی۔ تاہم اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں یہ باتیں کسی کو نہیں بتاؤں گی، پھر وہ یوں گویا ہوئی:
“سنو صوفیہ! بازار میں ہم جس دکان سے چیزیں لیتے ہیں، اس کا مالک نہایت خوبصورت ہے، ہے ناں؟” “ہاں ہے تو، مگر پھر؟” میں نے پوچھا۔ “پھر یہ کہ اس نے مجھ سے اکیلے آنے کا کہا تھا۔ کل میں اس کے پاس گئی تھی، اس کی دکان پر۔ ہمیں کچھ باتیں تنہائی میں کرنا تھیں، تبھی ہم دکان سے سڑک پار پارک میں چلے گئے۔ اس نے براہِ راست مجھ سے شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے اور التجا کی ہے کہ میں اس کی یہ پیش کش نہ ٹھکراؤں۔”
غرض یہ کہ نور نے مجھے وہ تمام باتیں بتا دیں جو اس عمر کے نوجوان لڑکے معصوم لڑکیوں سے کرتے ہیں اور والدین کی بدنامی کا سبب بن کر لڑکیوں کی زندگی برباد کر دیتے ہیں۔ نور نے بتایا کہ انجم نے اس سے آج جواب مانگا ہے۔ نور کی باتیں سن کر میرے بدن میں کپکپی دوڑ گئی۔ میں نے زندگی میں پہلی بار ایسی باتیں سنی تھیں۔ بڑی مشکل سے خود پر قابو پانے کے بعد میں نے نور سے کہا: “یہ فضول باتیں ہیں، ایسی باتوں میں کچھ نہیں رکھا۔ وقتی طور پر سب دل کو تسلی دیتے ہیں، لیکن ایسے کوئی ہمدرد نہیں بن جاتا۔ یہ عزت کا سوال ہے اور والدین سے بڑھ کر اس مسئلے کو کوئی حل نہیں کر سکتا۔ ہمارے والدین جیسا سوچیں گے، تمہیں ویسا ہی کرنا ہو گا۔” غرض جتنی مجھ میں ہمت تھی، میں نے ایک اچھی دوست ہونے کے ناتے نور کو بہت سمجھایا، مگر وہ باز نہ آئی۔
اب اس کا ایک ہی کام تھا؛ صبح کالج آتی، ایک یا دو پیریڈ لیتی، پھر جانے کہاں چلی جاتی اور چھٹی کے وقت واپس آ جاتی۔ اس کی یہ حرکتیں بڑھتی جا رہی تھیں، جن کی وجہ سے میں بہت پریشان رہنے لگی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ اس کی ماں کو سب کچھ بتا دوں تاکہ وہ کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں، پھر سوچا کہ دوستی کی لاج رکھتے ہوئے ایک بار پھر نور سے بات کر لی جائے، لیکن اب وہ اپنی ضد میں اتنی پکی ہو چکی تھی کہ اس نے مجھے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ غصے میں نہ جانے اس نے مجھے کیا کچھ کہہ دیا، یوں ہماری دوستی کا پہلا باب آج ختم ہو گیا۔ میں روتی ہوئی بڑی مشکل سے گھر آئی۔ میں نے امی کو کچھ نہ بتایا لیکن نور سے دوستی ختم کر لی، کیونکہ اس نے اپنی آزادی کا ناجائز استعمال شروع کر دیا تھا۔
اب میں اپنے بھائی کے ساتھ کالج جاتی اور اکثر اسی کے ساتھ واپس آتی تھی۔ بھائی اور باپ وہ واحد سہارا ہوتے ہیں جو اپنی بہن بیٹی کے سر سے دوپٹہ اترنے نہیں دیتے، جبکہ نور کا مجھ سے تعلق بالکل ٹوٹ چکا تھا۔ اب وہ نہ جانے کس کے ساتھ آتی جاتی تھی۔ امی نے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تو میں نے تب بھی کچھ نہ بتایا اور نہ ہی نور کی امی کو کچھ کہا، البتہ نور نے خود اپنی ماں سے کہہ دیا کہ: “میں اس لیے صوفیہ کے ساتھ نہیں جاتی کیونکہ وہ راستہ بھر باتیں کرتی ہوئی جاتی ہے۔” خیر، میں یہ سن کر چپ رہی۔ ایک دن کالج کی لڑکیوں نے مجھے بتایا کہ نور کسی کے ساتھ گاڑی میں آتی اور جاتی ہے۔ میں نے تب بھی زبان نہ کھولی اور بس اتنا کہا کہ وہ اس کا بھائی یا کوئی کزن ہو گا۔
گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں۔ پہلے میں ان طویل چھٹیوں میں بھی کہیں نہیں جاتی تھی، صرف نور کی خاطر، کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی تھی، لیکن اس بار میں سخت بور اور دل گرفتہ تھی، دل پر منوں بوجھ تھا۔ میں نے سوچا کہ اب یہاں رہ کر یہ لمبی چھٹیاں تنہا کاٹنا مشکل ہو گا، چنانچہ میں نے امی سے کہا کہ خالہ جان کے گھر چلتے ہیں۔ میری خالہ زاد بہن مجھ سے بہت محبت کرتی تھی اور ہمیشہ مجھے اپنے شہر آنے کا کہتی تھی، لیکن میں کبھی نہیں گئی تھی۔ نور کی محبت نے مجھے سب سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔ پہلی بار جب تنہائی محسوس ہوئی تو مجھے اپنی خالہ زاد بہنوں کی ضرورت کا احساس ہوا، چنانچہ ہم نے ان کے شہر کا رخ کر لیا اور تمام چھٹیاں وہیں گزار دیں۔ اس عرصے میں نور سے کوئی رابطہ نہ ہوا اور نہ ہی اس نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔
ابو یہ باتیں سن کر کافی رنجیدہ ہو گئے۔ خیر، کسی طرح خالو کو سمجھا بجھا کر گھر چھوڑ آئے۔ صبح ابو پھر خالو کو اپنے گھر لے آئے اور انہیں سمجھایا: “دیکھو! بیٹی کا رشتہ کرنا ہے تو ٹھنڈے دل سے سوچ لو۔ بہرحال رشتہ تو کرنا ہی ہے، بیٹی ایسی چیز نہیں جسے گھر میں بٹھا کر رکھا جائے، آج نہیں تو کل اسے بیاہنا ہی ہے۔ شاید خدا کی طرف سے یہی کوئی وسیلہ بن رہا ہو۔ ایسا کرتے ہیں کہ لڑکے کی اچھی طرح چھان بین کر لیتے ہیں۔ اگر مناسب سمجھیں گے تو کوئی اگلا قدم اٹھائیں گے۔” ابو کے سمجھانے پر خالو کسی حد تک مان گئے۔ پھر امی نے بھی جا کر نور کو تسلی دی۔ خالو نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی دوسرے شہر سے بلوا لیا اور تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ اب نور کے چچا لڑکے کی چھان بین میں لگ گئے۔
چھان بین کرنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے؛ لڑکی کوئی ایسی چیز تو نہیں کہ جسے اٹھا کر پھینک دیا جائے۔ خیر! ابو، خالو اور نور کے چچا نے اس لڑکے کے بارے میں تمام معلومات اکٹھی کر لیں۔ ابو امی کو بتا رہے تھے کہ لڑکا، جس کا نام انجم ہے، مذہبی اور نظریاتی طور پر ہم سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، غرض یہ کہ عبادت کے طریقے بھی ہم سے جدا ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا اور اپنی بیوی کو طلاق دے چکا تھا۔ اس دوران اس کی ایک منگنی بھی ٹوٹ چکی تھی۔ اس کا باپ نہیں تھا، صرف بوڑھی ماں تھی، جبکہ خاندانی لحاظ سے بھی کوئی سرپرست موجود نہ تھا۔ یہ تمام حقائق خالو نے نور کے سامنے رکھے۔ انہوں نے بہت پیار سے اپنی نادان بیٹی کو سمجھایا، مگر وہ تو جیسے کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھی۔ اب گھر کے تمام افراد نور کے خلاف ہو گئے تھے۔ وہ اپنی ضد پر قائم تھی اور گھر والے اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے۔ خالو کو البتہ کوئی ضد نہ تھی، ان کے لیے تو بیٹی کی زندگی کا مسئلہ تھا، مگر وہ لڑکی تو جیسے پاگل ہو رہی تھی۔ اس کی دیوانگی بڑھتی گئی، یہاں تک کہ اس نے گھر کا سکون تباہ کر ڈالا۔
نور کی امی اتنی پریشان تھیں کہ میں ان کی کیفیت لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ وہ بیٹی کی سرکشی سے دلبرداشتہ ہو کر صدمے سے بیمار پڑ گئیں۔ نور کے بھائی کی تعلیم ادھوری رہ گئی؛ وہ بے حد حساس تھا، اس لیے ہر وقت خلاؤں میں گھورتا رہتا اور نجانے کیا کچھ سوچتا رہتا تھا۔ خالو کی حالت تو دیکھی نہ جاتی تھی۔ روزانہ ان کے گھر سے لڑائی جھگڑے کی آوازیں آتیں۔ امی نے بھی اسے بہت سمجھایا، مگر اس نے امی سے بھی بدتمیزی شروع کر دی۔ وہ محبت میں بالکل اندھی ہو چکی تھی۔
ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے؛ انسان جب خود گڑھے میں گرنے پر تلا ہو تو خیر خواہ بھی ایک دن پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ نور کی تباہی کا وقت آ چکا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس کے والد اور چچا نے نور کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ نور نے خود انجم سے اصرار کیا کہ وہ اپنی امی کو رشتہ لے کر بھیجے۔ یوں ایک دن خاموشی سے نور کی انجم سے شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد سب پر سکتہ طاری ہو گیا۔ لڑائی جھگڑے بند ہو گئے اور بظاہر سکون ہو گیا۔ نور کی تو ہر وقت باچھیں کھلی رہتی تھیں؛ وہ خوشی خوشی اپنی شادی کی تیاریوں میں مگن تھی۔ ایک دن وہ میرے پاس آئی اور مجھ سے بازار چلنے کو کہا، لیکن میں نے ہمیشہ کے لیے نور سے دوستی کا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا، لہذا میں نے صاف کہہ دیا: “میرے امتحان ہو رہے ہیں، میرے پاس وقت نہیں ہے۔”
نور کی شادی نہایت سادگی سے ہوئی کیونکہ اس کے والدین کی بیماری پر کافی پیسہ خرچ ہو چکا تھا، اور یہ سب نور کی حرکتوں کا نتیجہ تھا۔ شادی کے محض دو ماہ بعد نور کی ساس نجانے کیسے لاپتہ ہو گئیں یا پھر انہیں جان بوجھ کر غائب کر دیا گیا۔ انہیں کافی تلاش کیا گیا، مگر یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا تھا تاکہ نور پر الزام آ جائے۔ پھر وہی ہوا، شوہر نے اس پر الزام لگایا: “تم میری ماں کی گمشدگی کی ذمہ دار ہو، تمہاری بدسلوکی سے گھبرا کر وہ کہیں چلی گئی ہیں، لہذا تم بھی اپنے والدین کے گھر دفع ہو جاؤ۔” انجم نے اسے طلاق کا کاغذ تھما کر رخصت کر دیا اور وہ اپنے والدین کی دہلیز پر آ گری۔ اس کے شوہر نے جہیز کا تمام سامان بھی ہڑپ کر لیا اور ایک سوئی تک واپس نہ کی۔
اس دن کی روداد میں بیان نہیں کر سکتی کہ نور کی کیا حالت تھی۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس کے تاسف اور افسردگی کو رقم کر سکوں۔ وہ غم سے چور اور صدمے سے نڈھال تھی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ماں باپ نے اسے کچھ بھی نہ کہا۔ سب خاموش رہے اور اسے ٹھکرانے کے بجائے گلے سے لگا لیا، کیونکہ اگر وہ بھی نور کو ٹھکرا دیتے یا کوئی سخت بات کہتے، تو یقیناً وہ صدمے سے مر جاتی۔
کافی دن تک وہ اپنے ہوش و حواس میں نہ رہی۔ اسے کسی بات کا ہوش نہ تھا کہ کس حال میں ہے، کیسے کپڑے پہنے ہیں یا کچھ کھایا پیا بھی ہے کہ نہیں۔ وہ ہر وقت گم صم خلاؤں میں تکتی رہتی تھی۔ گھر والے اس سے محبت کرتے تھے اور اس کے دکھ پر کڑھتے تھے، مگر کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ اس نے بی اے بھی مکمل نہیں کیا تھا، اس لیے ملازمت ملنی بھی آسان نہ تھی کہ اس کا جی بہل جاتا۔
کہتے ہیں جب برے دن آتے ہیں تو اکیلے نہیں آتے۔ ایک دن تیز بارش ہو رہی تھی۔ میں بھی اداس تھی اور وہ بھی، کیونکہ اب ہم زیادہ ایک دوسرے سے نہیں ملتی تھیں۔ آج ہم دونوں کو تنہائی کھا رہی تھی؛ میں اسے یاد کر رہی تھی اور وہ مجھے۔ اچانک اس کے جی میں کیا سمائی کہ موسم کا لطف لینے چھت پر چڑھ گئی، وہیں کسی طرح اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سیڑھیوں سے گر پڑی۔ اس حادثے میں اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد میں روز ہی اس کے پاس جانے لگی۔ وہ جیسی بھی تھی، میری پیاری دوست تھی۔ غلطی انسان سے ہو جاتی ہے، یہ اس کی قسمت تھی کہ انجم اچھا لڑکا نہیں نکلا، ورنہ اس کی زندگی قابلِ رشک بھی ہو سکتی تھی۔ بہر حال اس کے بعد ہماری دوستی پھر سے پہلے جیسی ہو گئی۔
میں نے بی اے کر کے بی ایڈ کیا اور میری شادی ہو گئی، میں اپنے گھر کی ہو گئی۔ نور نے بھی حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ بدقسمتی سے اس کی ٹانگ صحیح طرح نہ جڑ سکی اور وہ لنگڑا کر چلنے لگی۔ اب چلنے کے لیے اسے بیساکھیوں کی مدد لینی پڑتی تھی، جس سے وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو گئی۔ جب اس کے ابو ریٹائر ہو گئے اور بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں، تو اس نے خود کو مصروف رکھنے کے لیے گھر پر ہی بچوں کو دینی تعلیم سے نوازنے شروع کر دیا۔ اس نے پھر کبھی شادی کا نام نہ لیا، یہاں تک کہ سر میں چاندی کے بال چمکنے لگے۔
آج کل اس کے والدین کو اس کا غم کھائے جاتا ہے۔ وہ اب بوڑھے ہو چکے ہیں اور انہیں فکر اس بات کی ہے کہ ان کے بعد اس بے سہارا بیٹی کا کیا بنے گا۔ وہ نادانی میں کی گئی ایک غلطی، جس نے نور کی زندگی کے تمام رنگ چھین لیے، اب اس کے والدین کے لیے ایک دائمی پچھتاوا بن چکی ہے۔ نور اب اپنا زیادہ تر وقت مصلے پر گزارتی ہے یا پھر محلے کے بچوں کو قرآنِ پاک پڑھاتی ہے۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی خاموشی اور ٹھہراؤ آ گیا ہے، جیسے اس نے تقدیر کے لکھے کو پورے دل سے قبول کر لیا ہو۔ کبھی کبھی وہ پرانی یادوں کی راکھ کریدتی ہے تو اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، لیکن اب وہ ان آنسوؤں کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتی۔
میں جب بھی اس سے ملنے جاتی ہوں تو اس کی بیساکھیاں دیکھ کر میرا دل بھر آتا ہے۔ وہ اکثر کہتی ہے: “صوفیہ! انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے سمجھتا ہے کہ وہ جیت گیا، لیکن اصل جیت اپنے والدین کے مان اور ان کی رضا میں ہوتی ہے۔ ” نور کی کہانی آج کی ہر اس لڑکی کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے جو جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے مخلص رشتوں کی قربانی دے دیتی ہے۔
جب ہم نے کالج میں داخلہ لیا تو سب کچھ نیا نیا لگ رہا تھا۔ کالج کا ماحول اسکول سے بہت مختلف تھا۔ آہستہ آہستہ ہمیں نئے ماحول کی عادت ہو گئی۔ اکثر اوقات ہم کالج سے فارغ ہو کر اکٹھے بازار چلے جاتے، کیونکہ ہمارے والدین نے ہمیں اجازت دے رکھی تھی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہم اس آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے والدین کی عزت کو بٹہ لگائیں، مگر ہونے والی بات ہو کر رہتی ہے۔
ہوا یوں کہ جب ہم کالج سے چھٹی کے بعد امی کے لیے کوئی چیز لینے جاتے، تو نور تمام بازار چھوڑ کر صرف ایک ہی دکان پر رک جاتی اور مطلوبہ شے طلب کرتی۔ اگر وہ چیز اس دکان پر موجود نہ ہوتی، تو وہ کسی اور دکان یا اسٹور پر جانے کے بجائے دکاندار سے اصرار کرتی کہ وہ کسی دوسری دکان سے منگوا کر دے۔ وہ بے چارہ فوری طور پر اس کے حکم کی تعمیل میں دوڑا جاتا۔ نور کی یہ عادت میرے لیے پریشان کن تھی۔ میں اس سے کہتی: “اتنا بڑا بازار ہے، آخر اور بھی تو دکانیں ہیں، تم ایک ہی جگہ کیوں اڑ جاتی ہو؟” لیکن وہ میری بات ان سنی کر دیتی۔ اب میں نے بھی محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ میری سہیلی اس نوجوان دکاندار میں دلچسپی لے رہی ہے؛ میں یہ سب محسوس تو کرتی، مگر اسے کچھ کہہ نہیں پاتی تھی۔
ایک دن تو نور نے حد ہی کر دی۔ وہ مجھے بتائے بغیر دوسرے پیریڈ میں غائب ہو گئی۔ میں نے سارا کالج چھان مارا مگر اس کا کچھ پتا نہ چلا، یہاں تک کہ چھٹی کا وقت ہو گیا۔ میں گیٹ پر پریشان کھڑی تھی کہ وہ نظر آئی۔ میں نے پوچھا: “تم کدھر گئی تھیں؟” مگر وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔ تب مجھے محسوس ہوا جیسے وہ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہے۔ میں نے بھی زیادہ اصرار نہ کیا، لیکن زندگی میں پہلی بار گھر جاتے ہوئے ہم نے تمام راستہ خاموشی سے طے کیا۔ وہ اپنے گھر چلی گئی اور میں اپنے، مگر مجھے چین نہ آیا۔ میں ساری رات اس کے یوں غائب ہونے کے بارے میں سوچتی رہی لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ رات کو اتفاق سے نور کے گھر جانا ہوا تو وہ بظاہر خوش دلی سے ملی، مگر کھوئی کھوئی سی تھی۔ اس نے تب بھی مجھ سے کھل کر بات نہ کی۔
اگلے دن صبح ہم پھر کالج کے لیے گھر سے نکلے۔ وہ راستے بھر خاموش رہی۔ کالج پہنچ کر اس نے بتایا کہ وہ آج پیریڈ اٹینڈ نہیں کرے گی۔ اس نے کہا: “صوفیہ، تم کلاس ختم ہونے کے بعد کینٹین میں آ جانا، میں تمہیں وہیں ملوں گی۔” میں کلاس میں چلی گئی۔ جب پیریڈ ختم ہوا اور میں کینٹین پہنچی تو دیکھا کہ نور ایک رقعہ پڑھ رہی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے وہ چھپا لیا۔ میں نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نور سے کہا: “کل سے تم پریشان سی لگ رہی ہو، آخر ایسی کون سی بات ہے جو تم مجھ سے چھپا رہی ہو؟ تم نے آج تک کوئی بات مجھ سے نہیں چھپائی۔” مگر اس نے میری کسی بات کا جواب نہ دیا۔ جب میں نے کافی اصرار کیا اور دوستی کا واسطہ دیا، تو وہ مجھے اپنی پریشانی کی وجہ بتانے لگی۔ تاہم اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں یہ باتیں کسی کو نہیں بتاؤں گی، پھر وہ یوں گویا ہوئی:
“سنو صوفیہ! بازار میں ہم جس دکان سے چیزیں لیتے ہیں، اس کا مالک نہایت خوبصورت ہے، ہے ناں؟” “ہاں ہے تو، مگر پھر؟” میں نے پوچھا۔ “پھر یہ کہ اس نے مجھ سے اکیلے آنے کا کہا تھا۔ کل میں اس کے پاس گئی تھی، اس کی دکان پر۔ ہمیں کچھ باتیں تنہائی میں کرنا تھیں، تبھی ہم دکان سے سڑک پار پارک میں چلے گئے۔ اس نے براہِ راست مجھ سے شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے اور التجا کی ہے کہ میں اس کی یہ پیش کش نہ ٹھکراؤں۔”
غرض یہ کہ نور نے مجھے وہ تمام باتیں بتا دیں جو اس عمر کے نوجوان لڑکے معصوم لڑکیوں سے کرتے ہیں اور والدین کی بدنامی کا سبب بن کر لڑکیوں کی زندگی برباد کر دیتے ہیں۔ نور نے بتایا کہ انجم نے اس سے آج جواب مانگا ہے۔ نور کی باتیں سن کر میرے بدن میں کپکپی دوڑ گئی۔ میں نے زندگی میں پہلی بار ایسی باتیں سنی تھیں۔ بڑی مشکل سے خود پر قابو پانے کے بعد میں نے نور سے کہا: “یہ فضول باتیں ہیں، ایسی باتوں میں کچھ نہیں رکھا۔ وقتی طور پر سب دل کو تسلی دیتے ہیں، لیکن ایسے کوئی ہمدرد نہیں بن جاتا۔ یہ عزت کا سوال ہے اور والدین سے بڑھ کر اس مسئلے کو کوئی حل نہیں کر سکتا۔ ہمارے والدین جیسا سوچیں گے، تمہیں ویسا ہی کرنا ہو گا۔” غرض جتنی مجھ میں ہمت تھی، میں نے ایک اچھی دوست ہونے کے ناتے نور کو بہت سمجھایا، مگر وہ باز نہ آئی۔
اب اس کا ایک ہی کام تھا؛ صبح کالج آتی، ایک یا دو پیریڈ لیتی، پھر جانے کہاں چلی جاتی اور چھٹی کے وقت واپس آ جاتی۔ اس کی یہ حرکتیں بڑھتی جا رہی تھیں، جن کی وجہ سے میں بہت پریشان رہنے لگی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ اس کی ماں کو سب کچھ بتا دوں تاکہ وہ کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں، پھر سوچا کہ دوستی کی لاج رکھتے ہوئے ایک بار پھر نور سے بات کر لی جائے، لیکن اب وہ اپنی ضد میں اتنی پکی ہو چکی تھی کہ اس نے مجھے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ غصے میں نہ جانے اس نے مجھے کیا کچھ کہہ دیا، یوں ہماری دوستی کا پہلا باب آج ختم ہو گیا۔ میں روتی ہوئی بڑی مشکل سے گھر آئی۔ میں نے امی کو کچھ نہ بتایا لیکن نور سے دوستی ختم کر لی، کیونکہ اس نے اپنی آزادی کا ناجائز استعمال شروع کر دیا تھا۔
اب میں اپنے بھائی کے ساتھ کالج جاتی اور اکثر اسی کے ساتھ واپس آتی تھی۔ بھائی اور باپ وہ واحد سہارا ہوتے ہیں جو اپنی بہن بیٹی کے سر سے دوپٹہ اترنے نہیں دیتے، جبکہ نور کا مجھ سے تعلق بالکل ٹوٹ چکا تھا۔ اب وہ نہ جانے کس کے ساتھ آتی جاتی تھی۔ امی نے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تو میں نے تب بھی کچھ نہ بتایا اور نہ ہی نور کی امی کو کچھ کہا، البتہ نور نے خود اپنی ماں سے کہہ دیا کہ: “میں اس لیے صوفیہ کے ساتھ نہیں جاتی کیونکہ وہ راستہ بھر باتیں کرتی ہوئی جاتی ہے۔” خیر، میں یہ سن کر چپ رہی۔ ایک دن کالج کی لڑکیوں نے مجھے بتایا کہ نور کسی کے ساتھ گاڑی میں آتی اور جاتی ہے۔ میں نے تب بھی زبان نہ کھولی اور بس اتنا کہا کہ وہ اس کا بھائی یا کوئی کزن ہو گا۔
گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں۔ پہلے میں ان طویل چھٹیوں میں بھی کہیں نہیں جاتی تھی، صرف نور کی خاطر، کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی تھی، لیکن اس بار میں سخت بور اور دل گرفتہ تھی، دل پر منوں بوجھ تھا۔ میں نے سوچا کہ اب یہاں رہ کر یہ لمبی چھٹیاں تنہا کاٹنا مشکل ہو گا، چنانچہ میں نے امی سے کہا کہ خالہ جان کے گھر چلتے ہیں۔ میری خالہ زاد بہن مجھ سے بہت محبت کرتی تھی اور ہمیشہ مجھے اپنے شہر آنے کا کہتی تھی، لیکن میں کبھی نہیں گئی تھی۔ نور کی محبت نے مجھے سب سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔ پہلی بار جب تنہائی محسوس ہوئی تو مجھے اپنی خالہ زاد بہنوں کی ضرورت کا احساس ہوا، چنانچہ ہم نے ان کے شہر کا رخ کر لیا اور تمام چھٹیاں وہیں گزار دیں۔ اس عرصے میں نور سے کوئی رابطہ نہ ہوا اور نہ ہی اس نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔
ابو یہ باتیں سن کر کافی رنجیدہ ہو گئے۔ خیر، کسی طرح خالو کو سمجھا بجھا کر گھر چھوڑ آئے۔ صبح ابو پھر خالو کو اپنے گھر لے آئے اور انہیں سمجھایا: “دیکھو! بیٹی کا رشتہ کرنا ہے تو ٹھنڈے دل سے سوچ لو۔ بہرحال رشتہ تو کرنا ہی ہے، بیٹی ایسی چیز نہیں جسے گھر میں بٹھا کر رکھا جائے، آج نہیں تو کل اسے بیاہنا ہی ہے۔ شاید خدا کی طرف سے یہی کوئی وسیلہ بن رہا ہو۔ ایسا کرتے ہیں کہ لڑکے کی اچھی طرح چھان بین کر لیتے ہیں۔ اگر مناسب سمجھیں گے تو کوئی اگلا قدم اٹھائیں گے۔” ابو کے سمجھانے پر خالو کسی حد تک مان گئے۔ پھر امی نے بھی جا کر نور کو تسلی دی۔ خالو نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی دوسرے شہر سے بلوا لیا اور تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ اب نور کے چچا لڑکے کی چھان بین میں لگ گئے۔
چھان بین کرنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے؛ لڑکی کوئی ایسی چیز تو نہیں کہ جسے اٹھا کر پھینک دیا جائے۔ خیر! ابو، خالو اور نور کے چچا نے اس لڑکے کے بارے میں تمام معلومات اکٹھی کر لیں۔ ابو امی کو بتا رہے تھے کہ لڑکا، جس کا نام انجم ہے، مذہبی اور نظریاتی طور پر ہم سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، غرض یہ کہ عبادت کے طریقے بھی ہم سے جدا ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا اور اپنی بیوی کو طلاق دے چکا تھا۔ اس دوران اس کی ایک منگنی بھی ٹوٹ چکی تھی۔ اس کا باپ نہیں تھا، صرف بوڑھی ماں تھی، جبکہ خاندانی لحاظ سے بھی کوئی سرپرست موجود نہ تھا۔ یہ تمام حقائق خالو نے نور کے سامنے رکھے۔ انہوں نے بہت پیار سے اپنی نادان بیٹی کو سمجھایا، مگر وہ تو جیسے کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھی۔ اب گھر کے تمام افراد نور کے خلاف ہو گئے تھے۔ وہ اپنی ضد پر قائم تھی اور گھر والے اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے۔ خالو کو البتہ کوئی ضد نہ تھی، ان کے لیے تو بیٹی کی زندگی کا مسئلہ تھا، مگر وہ لڑکی تو جیسے پاگل ہو رہی تھی۔ اس کی دیوانگی بڑھتی گئی، یہاں تک کہ اس نے گھر کا سکون تباہ کر ڈالا۔
نور کی امی اتنی پریشان تھیں کہ میں ان کی کیفیت لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ وہ بیٹی کی سرکشی سے دلبرداشتہ ہو کر صدمے سے بیمار پڑ گئیں۔ نور کے بھائی کی تعلیم ادھوری رہ گئی؛ وہ بے حد حساس تھا، اس لیے ہر وقت خلاؤں میں گھورتا رہتا اور نجانے کیا کچھ سوچتا رہتا تھا۔ خالو کی حالت تو دیکھی نہ جاتی تھی۔ روزانہ ان کے گھر سے لڑائی جھگڑے کی آوازیں آتیں۔ امی نے بھی اسے بہت سمجھایا، مگر اس نے امی سے بھی بدتمیزی شروع کر دی۔ وہ محبت میں بالکل اندھی ہو چکی تھی۔
ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے؛ انسان جب خود گڑھے میں گرنے پر تلا ہو تو خیر خواہ بھی ایک دن پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ نور کی تباہی کا وقت آ چکا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس کے والد اور چچا نے نور کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ نور نے خود انجم سے اصرار کیا کہ وہ اپنی امی کو رشتہ لے کر بھیجے۔ یوں ایک دن خاموشی سے نور کی انجم سے شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد سب پر سکتہ طاری ہو گیا۔ لڑائی جھگڑے بند ہو گئے اور بظاہر سکون ہو گیا۔ نور کی تو ہر وقت باچھیں کھلی رہتی تھیں؛ وہ خوشی خوشی اپنی شادی کی تیاریوں میں مگن تھی۔ ایک دن وہ میرے پاس آئی اور مجھ سے بازار چلنے کو کہا، لیکن میں نے ہمیشہ کے لیے نور سے دوستی کا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا، لہذا میں نے صاف کہہ دیا: “میرے امتحان ہو رہے ہیں، میرے پاس وقت نہیں ہے۔”
نور کی شادی نہایت سادگی سے ہوئی کیونکہ اس کے والدین کی بیماری پر کافی پیسہ خرچ ہو چکا تھا، اور یہ سب نور کی حرکتوں کا نتیجہ تھا۔ شادی کے محض دو ماہ بعد نور کی ساس نجانے کیسے لاپتہ ہو گئیں یا پھر انہیں جان بوجھ کر غائب کر دیا گیا۔ انہیں کافی تلاش کیا گیا، مگر یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا تھا تاکہ نور پر الزام آ جائے۔ پھر وہی ہوا، شوہر نے اس پر الزام لگایا: “تم میری ماں کی گمشدگی کی ذمہ دار ہو، تمہاری بدسلوکی سے گھبرا کر وہ کہیں چلی گئی ہیں، لہذا تم بھی اپنے والدین کے گھر دفع ہو جاؤ۔” انجم نے اسے طلاق کا کاغذ تھما کر رخصت کر دیا اور وہ اپنے والدین کی دہلیز پر آ گری۔ اس کے شوہر نے جہیز کا تمام سامان بھی ہڑپ کر لیا اور ایک سوئی تک واپس نہ کی۔
اس دن کی روداد میں بیان نہیں کر سکتی کہ نور کی کیا حالت تھی۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس کے تاسف اور افسردگی کو رقم کر سکوں۔ وہ غم سے چور اور صدمے سے نڈھال تھی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ماں باپ نے اسے کچھ بھی نہ کہا۔ سب خاموش رہے اور اسے ٹھکرانے کے بجائے گلے سے لگا لیا، کیونکہ اگر وہ بھی نور کو ٹھکرا دیتے یا کوئی سخت بات کہتے، تو یقیناً وہ صدمے سے مر جاتی۔
کافی دن تک وہ اپنے ہوش و حواس میں نہ رہی۔ اسے کسی بات کا ہوش نہ تھا کہ کس حال میں ہے، کیسے کپڑے پہنے ہیں یا کچھ کھایا پیا بھی ہے کہ نہیں۔ وہ ہر وقت گم صم خلاؤں میں تکتی رہتی تھی۔ گھر والے اس سے محبت کرتے تھے اور اس کے دکھ پر کڑھتے تھے، مگر کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ اس نے بی اے بھی مکمل نہیں کیا تھا، اس لیے ملازمت ملنی بھی آسان نہ تھی کہ اس کا جی بہل جاتا۔
کہتے ہیں جب برے دن آتے ہیں تو اکیلے نہیں آتے۔ ایک دن تیز بارش ہو رہی تھی۔ میں بھی اداس تھی اور وہ بھی، کیونکہ اب ہم زیادہ ایک دوسرے سے نہیں ملتی تھیں۔ آج ہم دونوں کو تنہائی کھا رہی تھی؛ میں اسے یاد کر رہی تھی اور وہ مجھے۔ اچانک اس کے جی میں کیا سمائی کہ موسم کا لطف لینے چھت پر چڑھ گئی، وہیں کسی طرح اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سیڑھیوں سے گر پڑی۔ اس حادثے میں اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد میں روز ہی اس کے پاس جانے لگی۔ وہ جیسی بھی تھی، میری پیاری دوست تھی۔ غلطی انسان سے ہو جاتی ہے، یہ اس کی قسمت تھی کہ انجم اچھا لڑکا نہیں نکلا، ورنہ اس کی زندگی قابلِ رشک بھی ہو سکتی تھی۔ بہر حال اس کے بعد ہماری دوستی پھر سے پہلے جیسی ہو گئی۔
میں نے بی اے کر کے بی ایڈ کیا اور میری شادی ہو گئی، میں اپنے گھر کی ہو گئی۔ نور نے بھی حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ بدقسمتی سے اس کی ٹانگ صحیح طرح نہ جڑ سکی اور وہ لنگڑا کر چلنے لگی۔ اب چلنے کے لیے اسے بیساکھیوں کی مدد لینی پڑتی تھی، جس سے وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو گئی۔ جب اس کے ابو ریٹائر ہو گئے اور بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں، تو اس نے خود کو مصروف رکھنے کے لیے گھر پر ہی بچوں کو دینی تعلیم سے نوازنے شروع کر دیا۔ اس نے پھر کبھی شادی کا نام نہ لیا، یہاں تک کہ سر میں چاندی کے بال چمکنے لگے۔
آج کل اس کے والدین کو اس کا غم کھائے جاتا ہے۔ وہ اب بوڑھے ہو چکے ہیں اور انہیں فکر اس بات کی ہے کہ ان کے بعد اس بے سہارا بیٹی کا کیا بنے گا۔ وہ نادانی میں کی گئی ایک غلطی، جس نے نور کی زندگی کے تمام رنگ چھین لیے، اب اس کے والدین کے لیے ایک دائمی پچھتاوا بن چکی ہے۔ نور اب اپنا زیادہ تر وقت مصلے پر گزارتی ہے یا پھر محلے کے بچوں کو قرآنِ پاک پڑھاتی ہے۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی خاموشی اور ٹھہراؤ آ گیا ہے، جیسے اس نے تقدیر کے لکھے کو پورے دل سے قبول کر لیا ہو۔ کبھی کبھی وہ پرانی یادوں کی راکھ کریدتی ہے تو اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، لیکن اب وہ ان آنسوؤں کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتی۔
میں جب بھی اس سے ملنے جاتی ہوں تو اس کی بیساکھیاں دیکھ کر میرا دل بھر آتا ہے۔ وہ اکثر کہتی ہے: “صوفیہ! انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کر کے سمجھتا ہے کہ وہ جیت گیا، لیکن اصل جیت اپنے والدین کے مان اور ان کی رضا میں ہوتی ہے۔ ” نور کی کہانی آج کی ہر اس لڑکی کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے جو جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے مخلص رشتوں کی قربانی دے دیتی ہے۔
.jpg)
