گل محمد اور اکبرخان غازی گھاٹ کے رہنے والے تھے ، جہاں دریا چناب کے نزدیک ان کی تھوڑی سی زرعی اراضی تھی۔ یہ اس علاقے کے قدیم باشندے اور رشتہ دار تھے، جو مل جل کر پیار محبت سے رہتے تھے ، لیکن ان کی بیویوں کی آپس میں نہ بنتی تھی۔ ایک روز کسی بات پر عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوا ، تو بات بڑھ گئی۔ تب رشتہ ختم کرنا پڑا حالانکہ بعد میں اکبرنے بہت زور لگایا کہ اس کا چچا زاد اپنی لڑکی کا رشتہ اس کے بیٹے وحید کو دے دے، مگر گل محمد نے نہ دیا اور بیٹی کی سگائی ساتھ والی بستی کے گھر والوں میں کر دی۔ عمل کو اس رشتے کے ٹوٹنے کا بہت دکھ تھا۔ وہ جہاں بیٹھتا، بس یہ کلمہ اس کے لبوں پر ہوتا کہ گل محمد نے اچھا نہیں کیا۔ دودھ کی گاگر کے بدلے، آٹے کی مٹکی بھر لانے والوں کو بیٹی دے دی۔ وہ تو سال بھر کا اناج بھی اکٹھا نہیں خرید سکتے۔
یہ تو اپنی سمجھ اور پسند کی بات ہوتی ہے۔ گل کو ان میں کچھ گن نظر آئے ہوں گے ، جو غیر لوگوں سے ناتا جوڑ لیا، تبھی سے اکبرکے کنبے کا سکون جاتا رہا۔ وہ اس بات کو اپنی توہین سمجھے تھے کیونکہ ان کا دادا ایک ہی تھا، جس نے مومل کی پیدائش پر اس کی نسبت اپنے چھ سالہ پوتے وحید سے طے کر دی تھی۔ اب یہ منگنی کیا ٹوٹی کہ ان کے گھروں کی بنیادیں ہل گئیں۔ کسی دیہاتی کے سر کی پگڑی گر جائے یا منگیتر کسی اور کی ہو جائے، ایک ہی بات ہے۔ ان دنوں مومل بمشکل تیرہ برس کی ہوگی، جب یہ تنازعہ اٹھا۔ تبھی باپ نے اس کو منع کر دیا کہ اب تو گھر سے مت نکلا کر، تیرا یوں کھلے بندوں کھیتوں میں گھومنا خطرے سے خالی نہیں۔ منگنی ٹوٹ جانے کی وجہ سے اکبراور اس کے بیٹے دشمن ہو گئے ہیں، کسی نہ کسی دن دن ہاتھ دکھائیں گے ضرور۔ اس کی بات ٹھیک تھی۔ اکبراور اس کے پوتے اب چین سے بیٹھنے والے نہ تھے ۔ وہ روز ہی ایسے منصوبے بناتے رہتے تھے کہ کسی طور گل کی عزت پر ضرب لگا کر اپنا نقصان برابر کر لیا جائے۔
مومل زیادہ گھر سے نہیں نکلتی تھی، لیکن باپ اور بھائیوں کو کھیتوں میں کھانا پہنچانے ضرور جاتی تھی۔ ایک دن وہ کھانا دے کر لوٹ رہی تھی کہ راستے میں وحید مل گیا۔ اس نے مومل کو آواز دے کر روکا۔ اس کے ہاتھوں میں درانتی تھی۔ وحید نے درانتی سے اس کے بالوں میں گندھے پراندے کی ڈوریاں کاٹ لیں اور کہنے لگا۔ اپنے باپ سے کہنا، تیری ماں کو وہ منگنی والی چیزی دے کر ہمارے گھر بھیج دے ، جو ہم نے تیرے سر پر ڈالی تھی۔ پھر وہ تیری چوٹی کے یہ دھاگے لے جائے گی ، تب تک یہ دھاگے ہمارے پاس امانت رہیں گے۔ مومل گھبرائی ہوئی گھر آئی اور پھولی سانسوں کے درمیان بتایا کہ رستے میں روک کر وحید نے اس کے پر اندے کی ڈوریاں زبر دستی کاٹ لی ہیں اور یہ سندیسہ بھی بھجوایا ہے۔
یہ تو اپنی سمجھ اور پسند کی بات ہوتی ہے۔ گل کو ان میں کچھ گن نظر آئے ہوں گے ، جو غیر لوگوں سے ناتا جوڑ لیا، تبھی سے اکبرکے کنبے کا سکون جاتا رہا۔ وہ اس بات کو اپنی توہین سمجھے تھے کیونکہ ان کا دادا ایک ہی تھا، جس نے مومل کی پیدائش پر اس کی نسبت اپنے چھ سالہ پوتے وحید سے طے کر دی تھی۔ اب یہ منگنی کیا ٹوٹی کہ ان کے گھروں کی بنیادیں ہل گئیں۔ کسی دیہاتی کے سر کی پگڑی گر جائے یا منگیتر کسی اور کی ہو جائے، ایک ہی بات ہے۔ ان دنوں مومل بمشکل تیرہ برس کی ہوگی، جب یہ تنازعہ اٹھا۔ تبھی باپ نے اس کو منع کر دیا کہ اب تو گھر سے مت نکلا کر، تیرا یوں کھلے بندوں کھیتوں میں گھومنا خطرے سے خالی نہیں۔ منگنی ٹوٹ جانے کی وجہ سے اکبراور اس کے بیٹے دشمن ہو گئے ہیں، کسی نہ کسی دن دن ہاتھ دکھائیں گے ضرور۔ اس کی بات ٹھیک تھی۔ اکبراور اس کے پوتے اب چین سے بیٹھنے والے نہ تھے ۔ وہ روز ہی ایسے منصوبے بناتے رہتے تھے کہ کسی طور گل کی عزت پر ضرب لگا کر اپنا نقصان برابر کر لیا جائے۔
مومل زیادہ گھر سے نہیں نکلتی تھی، لیکن باپ اور بھائیوں کو کھیتوں میں کھانا پہنچانے ضرور جاتی تھی۔ ایک دن وہ کھانا دے کر لوٹ رہی تھی کہ راستے میں وحید مل گیا۔ اس نے مومل کو آواز دے کر روکا۔ اس کے ہاتھوں میں درانتی تھی۔ وحید نے درانتی سے اس کے بالوں میں گندھے پراندے کی ڈوریاں کاٹ لیں اور کہنے لگا۔ اپنے باپ سے کہنا، تیری ماں کو وہ منگنی والی چیزی دے کر ہمارے گھر بھیج دے ، جو ہم نے تیرے سر پر ڈالی تھی۔ پھر وہ تیری چوٹی کے یہ دھاگے لے جائے گی ، تب تک یہ دھاگے ہمارے پاس امانت رہیں گے۔ مومل گھبرائی ہوئی گھر آئی اور پھولی سانسوں کے درمیان بتایا کہ رستے میں روک کر وحید نے اس کے پر اندے کی ڈوریاں زبر دستی کاٹ لی ہیں اور یہ سندیسہ بھی بھجوایا ہے۔
گویا جنگ کا آغاز ہوگیا ۔ لڑکی کے پراندے سے دھاگے کاٹ لینے کا مطلب تھا کہ ہم نے تمہاری لڑکی کی چوٹی کاٹی ہے، اب جیسا چاہو اس اہانت کا جواب دو۔ گل نے لڑکوں کو بلا کر کہا۔ وحید نے تمہاری بہن کا پراندہ کاٹا ، تو سمجھ لو پوری چوٹی کاٹی۔ عوت کی چوٹی کاٹنے کا مطلب تم سمجھتے ہو؟ جس کی بے عزتی کرنا مقصود ہو اس کی چوٹی کاٹتے ہیں۔ ہم خاموش رہے تو بے غیرت ہیں۔ چاروں لڑکوں نے یک زبان ہو کر کہا۔ ابا ہم بے غیرت نہیں ہیں۔ غم نہ کر، ان کو بےعزت نہ کیا تو اپنے بیٹے نہ کہنا ۔ ہم انہیں مزہ چکھا کر دم لیں گے۔
ہفتہ گزرا تھا کہ اکبرکی بہو دلشاد صبح سویرے ضرورت کے تحت اپنے گھر کے پچھواڑے کھیتوں میں گئی۔ دیہاتوں میں عورتیں عموماً منہ اندھیرے کھیتوں میں چلی جاتی ہیں۔ وہاں کہیں فصل کے اندر گل محمد کے لڑکے چھپے ہوئے تھے۔ انہوں نے دلشاد کے منہ پر کپڑا باندھا اور اسے اٹھا لے گئے۔ گھنٹہ بھر بعد وہ اسے مکان کی پچھلی دیوار کے پاس ڈال گئے، مگر اس کے جسم پر کپڑے نہیں تھے۔ اس کے گرد صرف ایک باریک چنری لپٹی ہوئی تھی، جو دیہات میں منگنی یا شادی کے موقع پر دلہن کے سر پر ڈالی جاتی ہے۔ یہ رنگ برنگی چنری بہت خوبصورت مگر چھوٹی سی ہوتی ہے۔ یہ وہی اوڑھنی تھی جو چاچی نے منگنی پر مومل کے سر پر ڈالی تھی۔ اکبرکی بہو کا ایسا حشر ہوا کہ اس کے چاروں لڑکوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وحید نے تو مومل کے دھاگے سے بنے پراندے میں سے صرف چند ڈوریاں ہی کاٹی تھیں، مگر گل محمد کے لڑکوں نے تو حد کر دی۔ جواب میں بھابھی جیسے مقدس رشتے کو دو گز کی باریک چنری میں لپیٹ دیا تھا۔ ایسی بے حرمتی! اکبرکی بہو کا ایسا حشر ہوا کہ اس کے گھر والوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
تیرہ برس کی عمر میں بچیوں کو گہری نیند آتی ہے، مومل بھی بے سد سو رہی تھی۔ جب انہوں نے اسے چار پائی سمیت اٹھایا، تو اس کی آنکھ نہ کھلی۔ دیہات میں عموماً مکانوں کی دیواریں زیادہ اونچی نہیں ہوتیں۔ پچھواڑے کی دیوار سے جڑی بھینس کی ناند پر وہ چار پائی سمیت چڑھ گئے، دوسری جانب ان کے اور ساتھی بھی موجود تھے، جنہوں نے چارپائی کو اپنے سروں کے اوپر اٹھا کر دیوار سے ادھر کی طرف اتار لیا۔ گل کا کتا اس کی چارپائی کے پاس سو رہا تھا۔ اس نے غیر معمولی حالات کی بو سونگھ لی اور بھونکنے لگا۔ اس پر اکبرکے لڑکے . تیز تیز بھاگے ، تو مومل کی آنکھ کھل گئی۔
ہفتہ گزرا تھا کہ اکبرکی بہو دلشاد صبح سویرے ضرورت کے تحت اپنے گھر کے پچھواڑے کھیتوں میں گئی۔ دیہاتوں میں عورتیں عموماً منہ اندھیرے کھیتوں میں چلی جاتی ہیں۔ وہاں کہیں فصل کے اندر گل محمد کے لڑکے چھپے ہوئے تھے۔ انہوں نے دلشاد کے منہ پر کپڑا باندھا اور اسے اٹھا لے گئے۔ گھنٹہ بھر بعد وہ اسے مکان کی پچھلی دیوار کے پاس ڈال گئے، مگر اس کے جسم پر کپڑے نہیں تھے۔ اس کے گرد صرف ایک باریک چنری لپٹی ہوئی تھی، جو دیہات میں منگنی یا شادی کے موقع پر دلہن کے سر پر ڈالی جاتی ہے۔ یہ رنگ برنگی چنری بہت خوبصورت مگر چھوٹی سی ہوتی ہے۔ یہ وہی اوڑھنی تھی جو چاچی نے منگنی پر مومل کے سر پر ڈالی تھی۔ اکبرکی بہو کا ایسا حشر ہوا کہ اس کے چاروں لڑکوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وحید نے تو مومل کے دھاگے سے بنے پراندے میں سے صرف چند ڈوریاں ہی کاٹی تھیں، مگر گل محمد کے لڑکوں نے تو حد کر دی۔ جواب میں بھابھی جیسے مقدس رشتے کو دو گز کی باریک چنری میں لپیٹ دیا تھا۔ ایسی بے حرمتی! اکبرکی بہو کا ایسا حشر ہوا کہ اس کے گھر والوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
تیرہ برس کی عمر میں بچیوں کو گہری نیند آتی ہے، مومل بھی بے سد سو رہی تھی۔ جب انہوں نے اسے چار پائی سمیت اٹھایا، تو اس کی آنکھ نہ کھلی۔ دیہات میں عموماً مکانوں کی دیواریں زیادہ اونچی نہیں ہوتیں۔ پچھواڑے کی دیوار سے جڑی بھینس کی ناند پر وہ چار پائی سمیت چڑھ گئے، دوسری جانب ان کے اور ساتھی بھی موجود تھے، جنہوں نے چارپائی کو اپنے سروں کے اوپر اٹھا کر دیوار سے ادھر کی طرف اتار لیا۔ گل کا کتا اس کی چارپائی کے پاس سو رہا تھا۔ اس نے غیر معمولی حالات کی بو سونگھ لی اور بھونکنے لگا۔ اس پر اکبرکے لڑکے . تیز تیز بھاگے ، تو مومل کی آنکھ کھل گئی۔
چار پائی کو ہوا میں اڑتے پاکر وہ چلانے لگی۔ اس وقت وہ آم کے گھنے باغ سے گزر رہے تھے، جس کی جھكی ہوئی ٹہنیاں اپنے پتوں بھرے جھنڈ سمیت مومل کو لگ رہی تھیں۔ اس کے سر، بازوؤں اور چہرے پر خراشیں پڑتی جارہی تھیں۔ اسی دم مومل کے گھر والے، جو کتے کے بھونکنے سے بیدار ہو گئے تھے، مومل کو چار پائی سمیت غائب پا کر ادھر اُدھر بھاگنے دوڑنے لگے۔ اس بھگڈر میں صبح کی سپیدی نمودار ہوگئی۔ گل اور اس کے بیٹے علاقے کے زمیندار کے کے پاس جا رہے تھے کہ اس کی مدد سے تھانے دار تک رسائی حاصل کریں کہ رستے میں ان کو زمیندار کا کارندہ ملا۔ یہ آموں کے باغ کا رکھوالا تھا۔ صبح جب وہ باغ میں آیا، تو درخت کے نیچے مومل کو بے ہوش پڑا پایا۔ تب وہ تھانے جانے کے بجائے، باغ میں آگئے۔
ایک بھائی نے مومل کو بازوؤں پر اٹھا لیا۔ شاید اس کو ضربات لگی تھیں یا وہ خوف سے بے ہوش ہو گئی تھی۔ گھر لاکر اسے چار پائی پر لٹایا اور منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تو اسے ہوش آگیا۔ وہ کچھ دیر تک ڈری سہمی رہی، مگر جب ماں باپ اور بھائیوں کی صورتیں دیکھیں، تو حواس درست ہو گئے۔ اس نے بتایا کہ وہ صحن میں چار پائی پر سورہی تھی۔ جب آنکھ کھلی تو دیکھا ، چارپائی ہوا میں اڑ رہی ہے۔ وہ ڈر کر چلانے لگی اور درخت کی موٹی شاخ کو پکڑ لیا ، اس کے بعد کچھ یاد نہیں۔ خدا کا شکر ، میری بچی کی جان اور آبرو بچ گئی۔ ماں نے اسے گلے سے لگایا ۔ بات مگر بڑھ چکی ہے مومل کی ماں! گل نے کہا۔ انہوں نے کاری وار کیا ہے۔ اب ہم ان پر اس سے بھی بھاری وار کریں گے۔
چند روز بعد دلشاد کے بھائی کی شادی تھی۔ بارات بیل گاڑیوں میں جانی تھی۔ ان میں ایک بیل گاڑی ہماری طرف سے ہوگی۔ گل نے کہا۔ بارات والے دن وہاں آٹھ بیل گاڑیاں تیار کھڑی تھیں ، جب نویں قطار میں آلگی تو کسی نے دھیان نہ دیا کہ یہ اس آخری بیل گاڑی کا اضافہ کیوں ہوا ہے۔ گاڑی بان سر پر پگڑیاں اور منہ پر صافے لیٹے ہوئے تھے، کیوں کہ تپتی دوپہر کا وقت تھا اور گاؤں میں تپش بہت تھی۔ کھانے کے بعد یہ بیل گاڑیاں باراتیوں کو لے کر روانہ ہو گئیں۔
دیہات میں شادی کی رسمیں دن میں ادا ہوتی ہیں اور شام کو بارات دلہن کو لے کر کوچ کا نقارہ بجا دیتی ہے۔ جونہی دلہا نے دلہن کو اپنے بازوؤں میں اٹھا کر گوٹے کناری سے سجى بیل گاڑیوں میں ڈالا، باقی عور تیں اور بچے بھاگ بھاگ کر پچھلی چھکڑیوں میں سوار ہونے لگے۔ اکبرکی بہو دلشاد کی گود میں اس کا نو ماہ کا دودھ پیتا بچہ تھا اور دوسرا بچہ ماں کی انگلی پکڑے چل رہا تھا۔ ایک گاڑی بان نے لپک کر اس کے دو سالہ بچے کو گود میں اُٹھالیا اور بولا۔ بی بی ! ادھر آجاؤ، یہ بیل گاڑی خالی ہے۔ اس نے ترنت بچے کو اپنی بیل گاڑی میں چڑھا دیا، تو دلشاد بھی اس میں چڑھ گئی ، جس میں اس کا بچہ بٹھا دیا گیا تھا۔ بارات روانہ ہوگئی۔ مرد ڈھول باجوں اور شہنائیوں کے ساتھ آگے تھے ، عور تیں اور بچے بیل گاڑیوں میں پیچھے آرہے تھے ۔ چلتے چلتے سورج غروب ہونے کو تھا، اندھیرا پھیل رہا تھا ۔ بارات آگے نکل گئی تھی ، مگر آخری بیل گاڑی کی رفتار کم ہوتی جارہی تھی، تبھی دلشاد چونکی۔ یہ بیل کیوں نہیں چل رہے؟ ہم کارواں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب گاڑی دریا کے کٹاؤ سے دوسری طرف جارہی تھی، تب دلشاد نے گھبرا کر آواز دی۔ او گاڑی بانو! کدھر جارہے ہو ؟ غازی گھاٹ تو اس طرف ہے ۔ اس کی آواز سن کر ایک مرد کود کر گاڑی سے اتر آیا، جب کہ باقی دو وہیں بیٹھے آہستہ آہستہ بیلوں کو ہانک رہے تھے۔
دیہات میں شادی کی رسمیں دن میں ادا ہوتی ہیں اور شام کو بارات دلہن کو لے کر کوچ کا نقارہ بجا دیتی ہے۔ جونہی دلہا نے دلہن کو اپنے بازوؤں میں اٹھا کر گوٹے کناری سے سجى بیل گاڑیوں میں ڈالا، باقی عور تیں اور بچے بھاگ بھاگ کر پچھلی چھکڑیوں میں سوار ہونے لگے۔ اکبرکی بہو دلشاد کی گود میں اس کا نو ماہ کا دودھ پیتا بچہ تھا اور دوسرا بچہ ماں کی انگلی پکڑے چل رہا تھا۔ ایک گاڑی بان نے لپک کر اس کے دو سالہ بچے کو گود میں اُٹھالیا اور بولا۔ بی بی ! ادھر آجاؤ، یہ بیل گاڑی خالی ہے۔ اس نے ترنت بچے کو اپنی بیل گاڑی میں چڑھا دیا، تو دلشاد بھی اس میں چڑھ گئی ، جس میں اس کا بچہ بٹھا دیا گیا تھا۔ بارات روانہ ہوگئی۔ مرد ڈھول باجوں اور شہنائیوں کے ساتھ آگے تھے ، عور تیں اور بچے بیل گاڑیوں میں پیچھے آرہے تھے ۔ چلتے چلتے سورج غروب ہونے کو تھا، اندھیرا پھیل رہا تھا ۔ بارات آگے نکل گئی تھی ، مگر آخری بیل گاڑی کی رفتار کم ہوتی جارہی تھی، تبھی دلشاد چونکی۔ یہ بیل کیوں نہیں چل رہے؟ ہم کارواں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب گاڑی دریا کے کٹاؤ سے دوسری طرف جارہی تھی، تب دلشاد نے گھبرا کر آواز دی۔ او گاڑی بانو! کدھر جارہے ہو ؟ غازی گھاٹ تو اس طرف ہے ۔ اس کی آواز سن کر ایک مرد کود کر گاڑی سے اتر آیا، جب کہ باقی دو وہیں بیٹھے آہستہ آہستہ بیلوں کو ہانک رہے تھے۔
ذرا دیر بعد بیل ٹھہر گئے۔ وہ دونوں بھی جو آگے بیٹھے تھے، گاڑی میں چڑھ آئے۔ تینوں نے دلشاد کو قابو کر کے اس کے منہ پر کس کر کپڑا باندھ دیا۔ جنگل کا ویرانہ ، رات کا اندھیرا اور اکبرکی بے بس بہو ، جس کے بچے رو رو کر ہلکان ہوئے ، پھر بےسد ہو گئے۔ ان تین مردوں کے درمیان وہ بے چاری ایک مٹی کی بے جان کھلونے کی مانند ادھر سے اُدھر لڑھکنے لگی یہاں تک لڑھکنے لگی یہاں تک کہ بے ہوش ہو گئی، تب انہوں نے اس کو دوبارہ بیل گاڑی میں ڈالا اور صبح صادق کے وقت اکبرکے کھیت میں پھینک کر چلے گئے۔ منگنی توڑنے کا ایسا بدلہ انہوں نے لیا کہ اکبراور اس کے لڑکوں کے سروں پر خون سوار ہو گیا۔ بے ہوش دلشاد اور اس کے بے حال بچوں کو وارثوں نے گھر لا پھینکا اور تمام دن بے تابی سے سورج ڈوبنے کا انتظار کرنے لگے۔
مغرب کے وقت کلہاڑیوں سے لیس وہ گل محمد کے گھر پہنچ گئے ۔ اس کی بیوی نے ہانڈی، چولہے پر سے اتار کر رکھی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ گل کے چاروں بیٹے ایک ہی چار پائی پر کھانے کے انتظار میں بیٹھے تھے اور مومل تنور پر روٹیاں لگارہی تھی۔ گل محمد دروازے کے پاس ہی نلکے پر ہاتھ دھو رہا تھا۔ دستک دوبارہ ہوئی تو نزدیک ہونے کی وجہ سے وہی باہر گیا۔ تبھی اس کی دلدوز چیخ سنائی دی۔ آواز پر بیٹے بجلی کی سی تیزی سے دروازے کی طرف لپکے۔ باہر اکبرکے بیٹے خونخوار آنکھوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ کلہاڑیاں ہوا میں لہرائیں اور آن واحد میں گل محمد اور اس کے دو بیٹے لہو میں نہا گئے۔ صحن میں چیخ و پکار مچ گئی۔ مومل اور اس کی ماں دیوانہ وار دوڑیں، لیکن وحید کی کلہاڑی نے کسی پر رحم نہ کھایا۔ جب دشمن رخصت ہوئے تو وہاں صرف لاشیں اور خاموشی تھی۔
مغرب کے وقت کلہاڑیوں سے لیس وہ گل محمد کے گھر پہنچ گئے ۔ اس کی بیوی نے ہانڈی، چولہے پر سے اتار کر رکھی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ گل کے چاروں بیٹے ایک ہی چار پائی پر کھانے کے انتظار میں بیٹھے تھے اور مومل تنور پر روٹیاں لگارہی تھی۔ گل محمد دروازے کے پاس ہی نلکے پر ہاتھ دھو رہا تھا۔ دستک دوبارہ ہوئی تو نزدیک ہونے کی وجہ سے وہی باہر گیا۔ تبھی اس کی دلدوز چیخ سنائی دی۔ آواز پر بیٹے بجلی کی سی تیزی سے دروازے کی طرف لپکے۔ باہر اکبرکے بیٹے خونخوار آنکھوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ کلہاڑیاں ہوا میں لہرائیں اور آن واحد میں گل محمد اور اس کے دو بیٹے لہو میں نہا گئے۔ صحن میں چیخ و پکار مچ گئی۔ مومل اور اس کی ماں دیوانہ وار دوڑیں، لیکن وحید کی کلہاڑی نے کسی پر رحم نہ کھایا۔ جب دشمن رخصت ہوئے تو وہاں صرف لاشیں اور خاموشی تھی۔
غازی گھاٹ کی وہ زمین، جس پر کبھی پیار و محبت کی فصلیں اگتی تھیں، اب اپنوں کے خون سے سیراب ہو چکی تھی۔ غیرت کے نام پر شروع ہونے والی اس جنگ نے دونوں گھروں کے چراغ گل کر دیے تھے۔ اکبرکے بیٹے قتل کر کے روپوش ہو گئے اور پیچھے رہ جانے والی عورتیں جیتے جی مر گئیں۔ انا کی اس بھٹی میں مومل کا پراندہ جلا تھا یا کسی کی چنری، نقصان صرف انسانیت کا ہوا تھا۔ دریا چناب کا پانی اب بھی بہہ رہا تھا، مگر ان دو خاندانوں کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے اسی ریت میں دفن ہو گئیں جسے وہ اپنی انا کی پگڑی سمجھتے تھے۔
(ختم شد) اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ