مدت بعد جب بابل کے گھر کا بند تالا کھولا تو دل بیٹھ گیا۔ اسی گھر میں جنم لیا، ماں باپ اور بہن کے سائے تلے پیارا بچپن گزرا اور شعور کی پہلی منزل تک پہنچی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس مضبوط سائبان سے محروم ہو جاؤں گی اور مدتوں اس دہلیز پر قدم نہ رکھ سکوں گی۔ دراصل میں ایک غریب گھر کی لڑکی تھی جو کار اور کوٹھی کے خواب دیکھنے کے باعث تباہ ہوئی۔ دھوپ سے تپتے صحرا کو پار کرنے نکلی تھی اور اپنے گھر کے دیوار کے سائے سے بھی گئی۔
سچ کہوں تو یہ ہمسایہ مکان ہی تھا جو میری چاہ کا مقبرہ بنا۔ اس برابر والے مکان کی طرف دیکھتی ہوں تو اس کی اینٹیں مجھ پر گرتی محسوس ہوتی ہیں۔ عمر رسیدگی میں تنہائی سے تنگ آ جاتی ہوں تو دیوار سے لگ کر بیٹھ جاتی ہوں کہ شاید سکون مل جائے، مگر سکون نہیں ملتا۔ کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہمسائیگی کا یہی مکان میرا ہمدم، مونس اور غمگسار ہے؛ یہی میرا ساتھی بھی ہے اور دشمنِ جاں بھی۔ یہی وہ دیوار ہے جس کی وجہ سے میری آپا کی تقدیر کھلی اور اسی کے باعث میری قسمت پر تالے پڑ گئے۔ ہمارے برابر کا یہ مکان عجیب بھوت پریت کے ڈیرے جیسا ہے۔ کبھی آباد ہوتا ہے تو کیاریوں میں گلاب مہکنے لگتے ہیں، اور کبھی ویران ہو جاتا ہے تو آنگن کی دھول بھی باہر نہیں جا سکتی۔ اس مکان کی دیوار اور ہماری دیوار ایک ہے اور اسی دیوار میں وہ کھڑکی نصب ہے جس نے ہمارے ٹھکانے سے اپنا اٹوٹ رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ یہی کھڑکی میری بربادی کا راستہ بنی۔ جب بھی اس پر نگاہ جاتی ہے، دل میں غم کے سیکڑوں دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہ ڈائن کھڑکی اب بند رہتی ہے۔ میرے والد نے ہی اس پر لوہے کی پٹیاں لگوا کر اسے بند کر دیا تھا۔
ایک وقت تھا جب یہ کھلی رہتی تھی اور اسی سے جوڑ بنتے اور رابطے قائم رہتے۔ پڑوسی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہتے تھے، لیکن چالیس برس پہلے میری بدبختی بھی اسی کھڑکی سے اندر آئی تھی۔ ان دنوں میری عمر سولہ برس کی تھی اور آپا بیس برس کی تھیں۔ انہی دنوں ولید نام کا ایک اوورسیئر اس مکان میں رہنے آیا۔ اس وقت ابا کی ملازمت ان کے ہی محکمے میں تھی۔ ولید کا کھانا ہمارے گھر سے جاتا تھا۔ اکثر ہم کھڑکی کھول کر کھانے کی ٹرے ادھر کر دیتی تھیں۔ ایک بار ملازمہ کام میں مصروف تھیں تو آپا بینا نے ٹرے ادھر کر دی۔ ولید نے ہاتھ دیکھ کر خود ٹرے تھام لی۔ گورے ہاتھوں میں کالی چوڑیاں دیکھ کر وہ جان گیا کہ دیوار کے اس طرف کوئی جوان لڑکی رہتی ہے۔ یہ ہاتھ ملازمہ کے جھریوں بھرے ہاتھوں سے مختلف تھے اور انہی کی ایک جھلک نے ولید کو دیوانہ بنا دیا۔
پھر نہ جانے کیسے ان ہاتھوں کی رسائی ہمارے آنگن میں کھلنے والے گلابوں تک ہو گئی۔ صبح جب آپا جاگتیں تو بالوں میں گلاب کی باسی پتیوں کی مہک پائی جاتی۔ میں نے ایک بار پوچھا بھی کہ آپا رات کو کہاں جاتی ہیں تو انہوں نے ڈانٹ کر چپ کرا دیا۔ میں ڈر کے مارے خاموش ہو گئی۔ ہمارے آنگن سے اس مکان کا آنگن صرف ایک دیوار کے فاصلے پر تھا۔ اسی دیوار میں وہ چھوٹی سی دریچہ (یا کھڑکی) لگی تھی جس کو کبھی میرے تایا ابو نے لگوایا تھا۔ اگر دیوار مکمل بنا دی جاتی تو آنگن ایک ہی تھا۔
بٹوارہ ہو تو بہت کچھ ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔ دادا کے انتقال پر گھر کا بٹوارہ ہوا۔ دونوں بیٹوں کے دلوں میں بیویوں نے تفریق ڈال دی اور گھر کے بیچوں بیچ دیوار اٹھ گئی۔ لیکن درمیان میں یہ چھوٹی دری رہ گئی جو اب مجھے پتھریلے بت کی مانند جیتی جاگتی آنکھوں سے گھورتی ہے۔ ایسے بٹے ہوئے گھروں میں لوگ چوری چھپے آنا جانا نہیں چھوڑتے، چاہے جان اور عزت کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کبھی ہمارے تایا کا گھر تھا اور یہ دری دونوں طرف کے مکینوں کے درمیان محبت کی علامت تھی۔ بعد میں گھر بک گیا۔ خریدنے والے چند ماہ رہے اور پھر چلے گئے۔
مکان کرائے کے لیے خالی ہو گیا۔ پھر ایک کرایہ دار ولید آیا اور اسی کے آنے سے آپا کی قسمت کے در کھل گئے۔ ولید نے آپا کے لیے رشتے کا پیغام بھیجا، ابا نے فوراً قبول کر لیا۔ یوں آپا کی شادی ہو گئی اور وہ خوابوں جیسی زندگی کی مالک بن گئیں۔ شادی کے بعد ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہ رہی۔ میں ان کی زندگی پر رشک کرتی تھی۔ میرے من مندر کا دیوتا بھی انہی جیسا تھا۔
چند ماہ بعد ولید بھائی کا تبادلہ ہو گیا اور آپا ان کے ساتھ دوسرے شہر چلی گئیں۔ مکان پھر خالی رہا۔ کچھ عرصہ بعد نیا کرایہ دار آیا جس کا نام اجمل خان تھا۔ میں نے پہلی بار اسے اسی چھوٹی کھڑکی کی درز سے دیکھا۔ وہ صحن میں کرسی پر بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا۔ مجھے وہ اپنے نام کی طرح دیومالائی شہزادوں جیسا لگا۔ دل دھڑک اٹھا اور میں وہاں سے ہٹ گئی۔ سب کے نصیب آپا جیسے نہیں ہوتے۔ کیا خبر تھی کہ اجمل خان مجھ سے وفا نہ کرے گا۔ میں نے اس پر اعتبار کر لیا، کم عمری نے سوچنے کا موقع نہ دیا۔ گلابوں کی خوشبو مجھے بھی دریچے کی طرف کھینچنے لگی۔ جب ادھر سے رات کی رانی کی خوشبو پیغام لاتی تو میں آدھی رات کو چوری چھپے اس پار چلی جاتی۔ ایک رات ملازمہ کی آنکھ کھل گئی اور انہوں نے مجھے دریچہ کھولتے دیکھ لیا۔ صبح انہوں نے ابا کو بتا دیا۔ ابا کرایہ دار کو تو نہیں ہٹا سکتے تھے لیکن کھڑکی بند کرا دی۔ جب ملاقات کا راستہ بند ہوا تو ایک رات میں خود گھر کی دہلیز پار کر کے اجمل کے پاس چلی گئی اور اپنی بربادی کو آواز دے دی۔ وہ مجھے اپنے ایک دوست کے سپرد کر کے خود غائب ہو گیا۔
اس لفنگے نے مجھ پر رحم نہ کیا اور مجھے کوٹھے کی زینت بنا دیا۔ میرے لیے زمین تنگ ہو گئی۔ چاہتی تھی کہ کوئی شریف آدمی مجھے اپنا لے مگر کوئی آمادہ نہ تھا۔ محبت اور ہمدردی کے دعوے تو بہت ہوئے مگر کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس دلدل سے نہ نکالا۔ پھر ایک کرم فرما مجھ پر اس قدر وارفتہ ہوئے کہ میری نائکہ سے معاہدہ کر لیا کہ یہ لڑکی صرف ان کے زیرِ سایہ رہے گی۔ انہوں نے میرا تمام خرچ اٹھا لیا۔ نائکہ بھی جانتی تھی کہ میں دل سے خوش نہیں۔ اسی دوران مجھے امید بندھی کہ شاید یہ شخص مجھ سے نکاح کر لے اور میں عزت کی زندگی پا لوں۔ میں دعا کرتی کہ اللہ مجھے اولاد دے، بیٹی دے تاکہ وہ نکاح پر مجبور ہو جائیں۔ اللہ نے میری سن لی اور میری بیٹی پیدا ہوئی۔
مجھے یقین تھا کہ اب وہ بدل جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ انہوں نے نکاح سے انکار کر دیا۔ وہ خاندانی اور بااثر آدمی تھے، کہنے لگے کہ بیوی، خاندان اور بچوں کے ہوتے ہوئے وہ یہ رشتہ علانیہ قبول نہیں کر سکتے۔ البتہ انہوں نے تجویز دی کہ وہ مہوش کو اپنے گھر لے جائیں گے اور وہیں اس کی پرورش کرائیں گے۔ میں بہت روئی، ان سے کہا کہ یہ کیسی محبت ہے؟ بولے کہ محبت سے بڑھ کر خاندان کی عزت ہوتی ہے۔ “اگر بیٹی کا بہتر مستقبل چاہتی ہو تو اسے مجھے دے دو، میں اسے اپنی بیوی کی گود میں ڈال دوں گا۔ اس کے بدلے کبھی یہ راز ظاہر نہ کرنا۔” میں نے شرط رکھی کہ پیدائش کے سرٹیفکیٹ پر وہ اپنا نام لکھوائیں، وہ مان گئے۔
یوں تیس برس پہلے وہ میری کلی کو لے گئے اور اس کا نام نورِ سحر رکھ دیا۔ جب تک بچی چھوٹی تھی، کبھی کبھار مجھ سے ملوانے لے آتے، پھر ملنا بند کرا دیا۔ میں نے بھی صبر کیا کیونکہ مجھے بچی کا مستقبل عزیز تھا۔ اس صبر کے صلے میں انہوں نے مجھ سے عقد کر لیا تاکہ ہمارا رشتہ گناہ آلود نہ رہے، مگر شرط یہی رہی کہ یہ راز کبھی ظاہر نہ ہو۔ ان کی بیوی نے میری بچی کو اپنی اولاد کی طرح پالا۔ وقت گزرتا گیا، مہوش جوان ہوئی اور اس کی شادی خاندان میں ہی طے پا گئی۔ مجھے بھی ایک دور پار کی مہمان کے طور پر بلوایا گیا۔ میں برقع اوڑھ کر گئی، دور سے اپنی بیٹی کو دلہن بنے دیکھا اور واپس آ گئی۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے صبر کا صلہ دے دیا۔
مہوش کی بیٹی ہوئی تو دل چاہا کہ اسے دیکھوں مگر خود کو روک لیا کہ کہیں میری ایک لغزش اس کی خوشیوں کو برباد نہ کر دے۔ ہسپتال کے برآمدے تک گئی، مگر کمرے میں جانے کی ہمت نہ کر سکی۔ آپا کے شوہر ریٹائر ہو گئے اور مجھے خریدنے والی نائکہ مر گئی۔ میں نے آپا کا نمبر تلاش کیا اور انہیں فون پر سارا احوال سنایا۔ وہ بولیں کہ میں اس وقت پاکستان میں نہیں ہوں مگر ابا کا مکان تمہارا منتظر ہے۔
میں نے مہر صاحب کی دی ہوئی کوٹھی مہوش کے نام کر دی۔ کچھ عرصے بعد جب مہر صاحب کا انتقال ہو گیا تو کوٹھی کے کاغذات ان کے وکیل کے ذریعے مہوش کو بھجوا دیے اور خود ابا کے پرانے مکان میں منتقل ہو گئی۔ میں اب اس انتظار میں زندہ ہوں کہ کبھی تو آپا وطن لوٹیں گی اور مجھے گلے سے لگائیں گی۔ یہی میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہو گی کہ اس دنیا میں میرا بھی کوئی اپنا ہے۔ آج جب آپا سے دل کی باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے تو ان کی تصویر سے باتیں کر لیتی ہوں۔ مجھے یقین ہے وہ دن ضرور آئے گا جب میری بہن واپس آئے گی اور مجھے گلے سے لگا لے گی۔
.jpg)