میں یونیورسٹی میں اور بھائی نصیر نیشنل کالج آف آرٹس کے طالب علم تھے۔ میں گرلز ہاسٹل میں رہتی تھی اور بھائی نے اپنے ایک دوست کے ساتھ رہائش اختیار کر لی تھی۔ چھٹیاں ہوتیں تو ہم بہن بھائی بذریعہ ریل لاہور سے خانیوال آ جاتے اور گھر چھٹیاں گزار کر اکٹھے واپس اپنی اپنی درسگاہوں کو چلے جاتے۔
اس بار جب ہم ریل میں سوار ہوئے تو اگلے کسی اسٹیشن پر ایک عورت ہمارے کمپارٹمنٹ میں آگئی۔ اس نے سیاہ حجاب اوڑھا ہوا تھا۔ کالے رنگ کے نقاب میں اس کا چہرہ پورے چاند کی مانند دکھ رہا تھا۔ بلا شبہ وہ بلا کی حسین تھی۔ عمر لگ بھگ چوبیس برس ہوگی، دبلا پتلا ہونے کے سبب اپنی عمر سے کم لگ رہی تھی۔ نصیر بھائی کھڑکی کی جانب اور میں ان کے برابر بیٹھی تھی۔ سامنے کی نشست پر میاں بیوی اور ان کے تین بچے موجود تھے۔ وہاں کسی اور مسافر کے بیٹھنے کی گنجائش نہ تھی۔ نووارد خاتون نے پہلے سے سیٹ ریزرو نہ کرائی تھی اور اب وہ نشست کے حصول کی خاطر پریشان تھی۔ تب میں نے اسے اپنے برابر بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔ وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئی۔
کچھ دیر سفر خاموشی سے جاری رہا۔ تاہم عورتیں اپنی فطرت کے مطابق زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتیں۔ بات پہلے میں نے ہی شروع کی۔ “آپ کہاں جا رہی ہیں؟” “ملتان۔” اس نے دھیرج سے جواب دیا۔ “آپ کا نام؟” “روحانہ۔” “ملتان کس سے ملنے جا رہی ہیں؟” “کسی سے نہیں۔”
ان مختصر جوابات سے اندازہ ہو گیا کہ خاتون مزید گفتگو کے موڈ میں نہیں ہیں۔ میں اپنا سا منہ لے کر خاموش ہو بیٹھی۔ روحانہ کے پاس ایک چھوٹے سے ہینڈ بیگ کے سوا کوئی سامان نہ تھا۔ وہ تنہا سفر کر رہی تھی۔ خیر، اکثر عورتیں تنہا سفر کرتی ہیں، اس میں کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔
جب کھانے کا وقت ہوا تو میں نے ٹفن نکالا۔ کچھ کھانا ہاسٹل کے باورچی خانے سے تیار کرا لیا تھا۔ فروٹ وغیرہ بھی بھائی نے خرید لیا تھا تاکہ راستے میں گزر بسر ہو سکے۔ میں نے ٹفن کھولا اور خاتون سے کھانے کا پوچھا۔ اس نے نیم دلی سے “نہیں” کہا تو میں نے پلیٹ میں اس کے لیے بھی قیمہ اور پراٹھا نکال لیا۔ بھائی نے کولر سے ٹھنڈے پانی کا گلاس بھر کر دیا، جو میں نے خاتون کو پکڑا دیا۔ اس نے پانی پی لیا، گویا اسے پیاس لگی تھی۔ بعد میں میرے اصرار پر کھانے کی پلیٹ بھی لے لی۔
میں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ عورت کچھ غیر معمولی حالات میں گھر سے نکلی ہے اور مجبوری میں سفر اختیار کیا ہے، ورنہ کچھ نہ کچھ زادِ راہ تو ہر کوئی ساتھ لے کر نکلتا ہے، خاص طور پر عورت جب وہ تنہا سفر کر رہی ہو۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے شکریہ ادا کیا۔ اب قدرتی طور پر اس کا جھکاؤ میری طرف ہو گیا اور وہ دوستانہ انداز سے گفتگو کرنے لگی۔ حسبِ روایت پہلے میرا نام پوچھا، پھر اگلا سوال کہ میں کہاں جا رہی ہوں اور کہاں سے آ رہی ہوں۔ میں نے اس کے تمام سوالات کے تسلی بخش جواب دے دیے۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی، تاہم اس کے چہرے پر نہ کوئی تاثر تھا اور نہ تجسس۔ وہ کچھ پریشان سی بیٹھی تھی۔ جوں جوں اسٹیشن قریب آ رہا تھا، اس کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ خانیوال کے قریب تو وہ ایسی بے بس و لاچار نظر آئی جیسے بھول بھلیوں میں گھر گئی ہو اور اب کسی کا سہارا ڈھونڈ رہی ہو۔
گاڑی کی رفتار آہستہ پڑنے لگی۔ ہم بھی اترنے کی تیاری کرنے لگے۔ ریل اسٹیشن پر رکی تو ہم اتر گئے۔ تبھی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، روحانہ ہمارے پیچھے ہی اتر پڑی تھی۔ مجھے حیرت ہوئی۔ “آپ نے تو ملتان جانا تھا؟ پھر یہاں کیوں اتر پڑی ہیں؟” وہ بولی، “معلوم نہیں تھا کہ یہ گاڑی ملتان نہیں جاتی، تبھی خانیوال اتر گئی۔” “تو اب کیا کرو گی؟ کیا ملتان جانے والی گاڑی کا انتظار کرو گی؟”
ابھی میں نے یہ فقرہ ادا ہی کیا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ بولی، “میں آگے ملتان نہیں جا سکتی۔ میرے پاس وہاں تک جانے کا کرایہ نہیں ہے۔” میں نے نصیر بھائی سے کہا، “ہم اس بے چاری کو کرایہ دے دیتے ہیں۔ خدا جانے کن حالات میں سفر کر رہی ہے۔” وہ بولے، “کرایہ تو دے دیتے ہیں لیکن ان سے پوچھو کہ یہ جائیں گی کیسے؟”
خاتون کا مسلسل رونا جاری تھا۔ اس کے آنسو لڑیوں کی صورت آنکھوں سے گر رہے تھے۔ میں نے پوچھا، “کیا ہم آپ کو خانیوال ویگن اڈے سے ملتان کے لیے کسی گاڑی یا بس پر سوار کرا دیں؟” اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ بولی، “اب رات ہو رہی ہے، میں اس وقت تنہا کسی لاری یا ویگن کا سفر نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے ملتان میں جہاں جانا ہے، وہاں کا پتہ لکھا ہوا ہے، لیکن اگر وہاں پہنچ کر پتہ تلاش نہ کر پائی تو کیا کروں گی؟ مجھے آپ لوگ اپنے گھر لے چلیں، میں صبح ملتان چلی جاؤں گی۔”
میں نے بھائی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ خاتون کے ٹپ ٹپ گرتے آنسو دیکھ کر وہ انکار نہ کر سکے اور ہم اس اجنبی عورت کو اپنے ساتھ گھر لے آئے۔ اس نے بتایا کہ وہ بھائی پھیرو کے ایک زمیندار مزارع کی لڑکی تھی۔ رنگ روپ کی اچھی تھی۔ گاؤں کے اسکول سے آٹھ جماعتیں پاس کی تھیں۔ جب شادی کی عمر کو پہنچی تو زمیندار کے ایک رشتہ دار کا اس پر دل آ گیا۔ جلیل نے ضد کی کہ وہ روحانہ ہی سے بیاہ کرے گا۔ زمیندار نے سمجھایا، ماں باپ نے روکا، مگر لڑکا ضد پر اڑ گیا۔ وہ والدین کا اکلوتا تھا، اس نے گھر چھوڑنے کی دھمکی دی۔ ناچار زمیندار نے اس کی شادی اپنے رشتہ دار نوجوان سے کرا دی، لیکن خاندان والوں نے اسے دلہن قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
وہ انجینئر تھا، دبئی چلا گیا اور وہاں اچھا کمانے لگا۔ کچھ عرصہ اس نے روحانہ کو اپنے ساتھ رکھا، پھر پاکستان اس کے میکے بھجوا دیا کہ بعد میں خود آ جائے گا۔ شادی کو سال بھر ہو چکا تھا۔ ایک اور سال گزر گیا مگر وہ نہ آیا۔ آیا بھی تو اپنے گھر والوں کے پاس۔ والدین اور رشتہ داروں کے دباؤ میں آ کر اس نے روحانہ کو طلاق بھجوا دی۔
روحانہ کا میکہ کیا تھا؟ ماں باپ مر چکے تھے۔ ماموں ممانی کے پاس رہتی تھی۔ طلاق ملی تو ممانی کے تیور بدل گئے۔ کہنے لگیں کہ ہم تجھے نہیں رکھیں گے، تو نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی، اب اپنے شوہر کے پاس جا، تیرا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بیچاری مجبور ہو کر جلیل کے گھر گئی، ان لوگوں سے منت سماجت کی کہ کوئی ٹھکانہ نہیں، رہنے کو گھر نہیں، رشتہ دار نہیں رکھتے، کہاں جائے؟ انہوں نے یہ کہہ کر نکال دیا کہ تم کو طلاق ہو چکی ہے، اب ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتی۔ جلیل بھی چپ رہا، اس نے مجبوری ظاہر کر دی کہ مطلقہ بیوی کو نہیں رکھ سکتا۔
جب انہوں نے اسے گھر سے نکالا تو اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کدھر جائے۔ ایک سہیلی کا خیال آیا جو ساتھ پڑھتی تھی اور بعد میں ملتان چلی گئی تھی۔ اس کا پتہ پاس تھا، لہٰذا یہ بغیر سوچے سمجھے ریل میں چڑھ بیٹھی۔ یہ بھی معلوم نہ کیا کہ جس ریل میں بیٹھ رہی ہے وہ ملتان جاتی بھی ہے یا نہیں۔
ان تمام باتوں کا لبِ لباب یہ تھا کہ اب اسے ملتان نہیں جانا تھا۔ جس سہیلی کا پتہ اس کے پاس تھا، بھائی نے ملتان جا کر وہ پتہ تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ سہیلی کے والد کا تبادلہ ہو چکا ہے اور وہ کسی دوسرے شہر جا چکے ہیں۔ اب وہ کہاں جاتی؟ یہ طے پایا کہ اس کے ماموں سے رابطہ کیا جائے تاکہ اسے قریبی رشتہ داروں کے گھر پہنچا دیا جائے۔
اب روحانہ ہماری بن بلائی مہمان بن چکی تھی۔ وہ رکھ رکھاؤ والی تھی اور سلیقے سے باتیں کرتی تھی۔ اپنی من موہنی شخصیت اور دلکش اندازِ گفتگو سے اس نے ہمارے دلوں میں جگہ بنا لی۔ اس نے میری ماں کا بھی دل موہ لیا تھا۔ وہ اپنی باتوں سے گھر کے ہر فرد کو متاثر کرنے لگی۔ ہمیں گرمیوں کی ڈھائی ماہ کی چھٹیاں ملی تھیں۔ وہ ڈھائی ماہ ہمارے ساتھ رہی۔ لگتا تھا جیسے وہ ہمارے گھر رہنے کی خاطر ہی ریل میں چڑھی تھی۔ اس عرصے میں ہم ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے تھے۔
دو ماہ کا عرصہ پلک جھپکتے گزر گیا۔ وہ دن بھی آ گیا جب ہماری چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں۔ پندرہ دن باقی رہ گئے تھے کہ روحانہ کے ماموں کا فون آ گیا۔ دراصل والد صاحب مسلسل اسی تگ و دو میں تھے کہ کسی طور اس کے ماموں سے رابطہ ہو جائے تاکہ ان کی امانت ان کو سونپ دیں۔ اس کے ماموں کے گھر فون نہ تھا۔ روحانہ نے پڑوس کا نمبر دیا تھا اور وہ پڑوسی ماموں سے بات کرانے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔ دراصل ہماری مہمان کا نام روحانہ نہیں تھا، بلکہ اصل نام حاجرہ تھا۔ ہمیں اس نے غلط نام بتایا تھا۔ جب ابو اس کے ماموں کے پڑوسی سے کہتے کہ روحانہ کے ماموں کو بلوا کر بات کرا دیں، تو جواب ملتا کہ کون روحانہ اور کون صدر الدین؟ یہاں نہ کوئی روحانہ ہے اور نہ کوئی صدر الدین رہتا ہے۔
حاجرہ کا جادو میرے بھائی پر چل چکا تھا۔ جس روز ہم نے واپس جانا تھا، جب ریل چلنے لگی تو حاجرہ بھی ہمارے ڈبے میں سوار ہو گئی۔ اس طرح ہم نے ساہیوال تک ساتھ سفر کیا۔ ساہیوال آنے سے کچھ دیر قبل حاجرہ نے میرے بھائی سے کہا کہ مجھے یہاں اترنے دو، یہاں بھی میری ایک سہیلی کا گھر ہے، میں ابھی ماموں کے پاس جانا نہیں چاہتی۔ بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم اکیلی لاہور اسٹیشن اتر کر وہاں سے یونیورسٹی چلی جاؤ گی؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں بھائی، پہلے بھی اکیلی آتی جاتی رہی ہوں، آپ فکر نہ کریں۔
انہیں مجھ پر بھروسہ تھا، لہٰذا نصیر بھائی نے مجھے تو اکیلا جانے دیا اور خود حاجرہ کے ساتھ ساہیوال اتر گئے۔ بولے کہ نجانے تمہاری یہ سہیلی بھی تمہیں ملتی ہے یا گھر بدل چکی ہے، تم انجانے شہر میں کہاں بھٹکو گی؟ میں تمہیں خود اس کے گھر پہنچا کر لاہور جاؤں گا۔ خدا جانے میرے بھائی کے دل میں کیا سمائی تھی کہ انہوں نے حاجرہ کو تنہا نہ چھوڑا، شاید انہیں شک تھا کہ حاجرہ ہم سے جھوٹ بول رہی ہے اور وہ اس جھوٹ کی حقیقت تک پہنچنا چاہتے تھے۔
جو بھائی نے سوچا، وہی صحیح نکلا۔ حاجرہ نے جو پتہ دیا تھا، وہاں اس کی سہیلی کا گھر نہ ملا۔ پتہ ہی غلط تھا۔ اب رات ہو چکی تھی، ناچار بھائی نے ہوٹل میں ایک کمرہ لے لیا اور حاجرہ سمیت وہاں رات گزارنے کی ٹھانی۔ صبح یہ بذریعہ ٹیکسی لاہور آ گئے۔ حاجرہ بھائی کو اپنے ماموں کے گھر لے گئی۔ وہ گھر کے اندر نہ گئے، دروازے تک اسے پہنچا کر آ گئے۔ چلتے چلتے اس نے کہا کہ جمعرات کو داتا دربار جاؤں گی، مجھ سے ملنا ہو تو شام پانچ بجے وہاں آ جانا۔
جمعرات کو بھائی دربار گئے، وہ انہیں وہاں مل گئی۔ اس نے رو کر بتایا کہ ماموں نے میرے آنے پر کوئی سواگت نہیں کیا بلکہ برا بھلا کہا اور ممانی نے تو گالیاں دیں۔ اتنا جھگڑا ہوا کہ محلے والے اکٹھے ہو گئے۔ انہوں نے دونوں کو سمجھایا بجھایا تو وہ خاموش ہوئے۔ “اب تم ہی بتاؤ، میں کہاں رہوں اور کہاں جاؤں؟ میرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔” پھر اس نے آنسو بہانے شروع کر دیے۔ سچ ہے، عورت کے آنسوؤں میں بڑی طاقت ہوتی ہے، بھائی کا دل پسیج گیا۔
بولے، “میں نے ایک دوست کے ساتھ کرائے کا مکان لے رکھا ہے۔ دوست سے کہتا ہوں کہ وہ کسی اور طالب علم کے ساتھ شیئر کر لے اور یہ گھر میرے پاس رہنے دے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ آدھا کرایہ دیتا ہے، میں اسے کوئی اور سستا گھر ڈھونڈ دیتا ہوں اور اس کا کرایہ بھی اپنی جیب سے ادا کر دوں گا۔ تم فی الحال میرے مکان میں رہ سکتی ہو جب تک ہم کوئی مناسب حل نہ سوچ لیں۔”
وہ بولی، “دوست کو اپنے ساتھ رہنے دو، لیکن اسی محلے میں کوشش کرو کہ میرے لیے کوئی چھوٹا سا الگ مکان مل جائے تاکہ میں سکون سے رہ سکوں اور سلائی وغیرہ کر کے اپنی آمدنی کا ذریعہ بھی پیدا کر لوں۔”
نصیر بھائی نے اسی دن سے تگ و دو شروع کر دی اور ایک ہفتے کے اندر اپنی رہائش کے قریب ایک کمرے کا چھوٹا سا مکان کرائے پر لے لیا۔ اس میں ضروری سامان رکھا اور حاجرہ کو چابی دے کر کہا کہ اب تم یہاں رہ سکتی ہو، میں موقع ملنے پر تمہاری خبر گیری کرتا رہوں گا۔ وہ صاحب پھر اس کے ماموں سے نہ ملے کہ کہیں کسی مشکل میں نہ پھنس جائیں۔
حاجرہ کا بھائی کی رہائش کے پاس مکان لینے کا مقصد یہی تھا کہ وہ اپنی مشکلات کا بوجھ ان پر ڈالنا چاہتی تھی۔ نصیر نے بھی یہ بات سمجھ لی تھی، تاہم روپے پیسے کی کمی نہ تھی۔ ایک مصیبت زدہ کی مدد کو مقدم جان کر وہ اس کی پاسداری کرتے رہے۔ اصل بات تو دل کی تھی۔ معاملہ اب عشق کا بن گیا تھا۔ نصیر کو حاجرہ پسند آنے لگی تھی اور انجام سے بے خبر وہ عشق کے تپتے صحرا میں چل نکلے تھے۔
نصیر بھائی کی توجہ پڑھائی سے ہٹ کر حاجرہ پر مرکوز ہو گئی تھی۔ یہ بات تو صحیح تھی کہ اس کی ممانی اسے رکھنا نہیں چاہتی تھی لیکن یہ درست نہیں تھا کہ وہ مطلقہ تھی۔ اس کا شوہر دبئی میں کما رہا تھا اور ہر ماہ رقم بھیجتا تھا، لیکن سسرال والوں سے جھگڑے کی وجہ سے حاجرہ گھر سے نکل آئی تھی۔ وہ تو خودکشی کے ارادے سے نکلی تھی، لیکن جان سب کو پیاری ہوتی ہے، چنانچہ وہ ریل کے پہیوں کے نیچے آنے کے بجائے ریل کے اوپر چڑھ گئی اور ہمارے ڈبے میں سوار ہو گئی۔ کاش کہ وہ ہمیں سچی بات بتا دیتی تو ہم اس کی حقیقی مدد کرتے۔
شروع میں نصیر بھائی حاجرہ سے ہفتے میں ایک بار ملتے تھے اور اس کی ضروریات پوری کرتے تھے۔ دونوں کو علم نہیں تھا کہ اس کا کیا انجام ہوگا۔ کچھ عرصہ بعد بھائی کا یہ حال ہوا کہ حاجرہ سے ملے بغیر انہیں چین نہ آتا تھا۔ اب محلے کے لوگوں کو شک ہونے لگا۔ ایک دن جب نصیر بھائی حاجرہ کے مکان میں تھے، محلے والوں نے باہر سے تالا لگا دیا اور پولیس بلا لی۔ نصیر بھائی نے صرف تھانیدار کو اندر آنے کی اجازت دی اور اسے اپنے خاندان اور ماموں (جو پولیس افسر تھے) کا تعارف کرایا۔ تھانیدار کچھ نرم ہوا لیکن رشوت کا مطالبہ کر دیا۔
مرتا کیا نہ کرتا، نصیر بھائی اور حاجرہ کو تھانے جانا پڑا۔ وہاں تھانیدار نے محلے والوں کے سامنے ڈرامہ کیا اور ایک فرضی نکاح نامہ دکھا کر کہا کہ “یہ دونوں میاں بیوی ہیں اور انہوں نے کورٹ میرج کی ہے، تم لوگ شریفوں پر تہمت لگاتے ہو۔” لوگ نکاح نامہ دیکھ کر خاموش ہو گئے اور چلے گئے۔ اس روز تھانیدار نے پیسے تو لیے لیکن ان کی عزت بچا لی۔
اب محلے میں دشمن پیدا ہو گئے تھے، اس لیے حاجرہ نے سب کچھ اگل دیا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ مطلقہ نہیں ہے، بلکہ سسرال سے جھگڑ کر نکلی تھی۔ نصیر بھائی نے جب نکاح کا اصرار کیا تو اس نے سچ بتا دیا کہ اس کا شوہر دبئی میں ہے۔ اس نے سوچا تھا کہ نصیر سے شادی کر کے شوہر سے پیچھا چھڑا لے گی لیکن سچ سامنے آ گیا۔
آخر کار تھانیدار نے حاجرہ کے ماموں کو بلوایا اور اسے ان کے حوالے کر دیا۔ ماموں نے اس کے شوہر کو دبئی سے بلوا لیا اور اسے اس کے حوالے کر دیا۔ وہ بیچارہ جو پردیس میں اس کے لیے محنت کر رہا تھا، اسے اپنے گھر لے گیا اور یوں یہ قصہ تمام ہوا۔ صد شکر کہ میرے بھائی کی عقل بھی ٹھکانے آ گئی، ورنہ یہ عشق ہمیں کہیں کا نہ چھوڑتا۔
.jpg)