میری شادی ہو گئی۔ خوشیوں بھرا گھر ملا۔ علیم رحم دل انسان تھے۔ وہ پیدائشی یتیم تھے۔ اچھی طرح جانتے تھے کہ یتیموں کے دکھ کیا ہوتے ہیں، محرومیاں کیسے کیسے زخم لگاتی ہیں، سوتیلی مائیں کتنی بے رحم ہوا کرتی ہیں اور یہ دنیا کتنی بے حس و سفاک ہے۔وہ غربت میں پلے تھے۔ ان کو اور بھی معلوم تھا کہ غربت کی چڑیل کس کس طرح انسانوں کی خودداری سے کھیل کر ان کی عزتِ نفس کو گھائل کرتی رہتی ہے۔ تبھی وہ مجھ کو دکھیاروں پر رحم کی تلقین کیا کرتے تھے۔ کہتے، سائل کو کبھی خالی ہاتھ مت لوٹایا کرو، کچھ نہ کچھ ضرور دے دیا کرو۔اور تو سب ٹھیک تھا مگر مجھ کو بھیک مانگنے والوں سے چِڑ تھی۔
جب کوئی بھکارن عورت بچوں کو لے کر در در پھرتی نظر آتی، جی چاہتا کہ اس کو جیل میں بند کروا دوں۔ البتہ معصوم بچوں کو بھیک مانگتے دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتی کہ ان کو بھیک دوں یا نہ دوں۔ کیونکہ کچھ بچے تو ایسے بدحال اور بھوک سے نڈھال نظر آتے کہ جی کڑھنے لگتا۔ سوچتی کہ بھیک مانگنے سے تو ان کا مزدوری کر لینا اچھا ہے۔ بھیک مانگنے سے تو ان میں خودداری کے جذبات بھی اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ البتہ ان بچوں پر ترس ضرور آتا جو کچرا چنتے نظر آتے تھے۔
ایسے ہی جنگوں کے نتیجے میں کتنی نوخیز نسلیں تباہ ہو گئیں۔اگست کے شروع کی بات ہے۔ ایک صبح میں چائے پی رہی تھی، سر میں شدید درد تھا۔ در پر دستک ہوئی۔ در کھولا تو ایک عورت پھٹے حالوں اندر چلی آئی۔ بولی، صبح سے بھوکی ہوں، اللہ کے واسطے کچھ دے دو۔ مجھ کو غصہ آ گیا۔ ایک تو در کھٹکھٹایا، اوپر سے بھکارن نکلی۔ دلیری تو دیکھو، دروازے پر رکی رہنے کی بجائے گھر کے اندر گھستی چلی آئی تھی۔میری ملازمہ کچن میں پراٹھا بنا رہی تھی۔ اس نے عورت کی طرف رحم بھری نگاہ سے دیکھا پھر میری طرف دیکھ کر سہم گئی۔ تبھی میں نے غصہ پی لیا اور اس سے کہا، صبیحہ! اس کو روٹی دے دو اور دروازہ بند کر دو۔صبیحہ نے شاپر میں ڈال کر پراٹھا دے دیا۔ عورت دعائیں دیتی چلی گئی۔ میں برآمدے میں پڑے صوفے پر لیٹ گئی۔ چائے پینے کے باوجود سر کا درد نہ گیا تھا۔ چند منٹ بعد پھر سے دستک ہوئی۔ بلند آواز سے پوچھا، کون ہے؟ جواب نہ ملا۔ ملازمہ سے کہا کہ تم ہی دیکھو۔ وہ کچن میں کام چھوڑ کر دروازے پر گئی۔
ایسے ہی جنگوں کے نتیجے میں کتنی نوخیز نسلیں تباہ ہو گئیں۔اگست کے شروع کی بات ہے۔ ایک صبح میں چائے پی رہی تھی، سر میں شدید درد تھا۔ در پر دستک ہوئی۔ در کھولا تو ایک عورت پھٹے حالوں اندر چلی آئی۔ بولی، صبح سے بھوکی ہوں، اللہ کے واسطے کچھ دے دو۔ مجھ کو غصہ آ گیا۔ ایک تو در کھٹکھٹایا، اوپر سے بھکارن نکلی۔ دلیری تو دیکھو، دروازے پر رکی رہنے کی بجائے گھر کے اندر گھستی چلی آئی تھی۔میری ملازمہ کچن میں پراٹھا بنا رہی تھی۔ اس نے عورت کی طرف رحم بھری نگاہ سے دیکھا پھر میری طرف دیکھ کر سہم گئی۔ تبھی میں نے غصہ پی لیا اور اس سے کہا، صبیحہ! اس کو روٹی دے دو اور دروازہ بند کر دو۔صبیحہ نے شاپر میں ڈال کر پراٹھا دے دیا۔ عورت دعائیں دیتی چلی گئی۔ میں برآمدے میں پڑے صوفے پر لیٹ گئی۔ چائے پینے کے باوجود سر کا درد نہ گیا تھا۔ چند منٹ بعد پھر سے دستک ہوئی۔ بلند آواز سے پوچھا، کون ہے؟ جواب نہ ملا۔ ملازمہ سے کہا کہ تم ہی دیکھو۔ وہ کچن میں کام چھوڑ کر دروازے پر گئی۔
ایک بڑے میاں تھے۔ تھکی بھری آواز میں بولے، بیٹی! اللہ کے نام پر کچھ کھانے کو دے دو، صبح سے بھوکا ہوں۔ میں جھنجھلا گئی۔ اف! یہ بھکاریوں کی فوج امنڈتی چلی آتی ہے۔ ملازمہ میرا غصہ جانتی تھی، اس نے چپکے سے اپنے پلو میں بندھا ہوا نوٹ گرہ کھول کر بابا کو دے دیا اور دروازہ بند کر دیا۔ میں نے تبھی صبیحہ کو بھی دو چار سنا دیں کہ ان لوگوں نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے۔ یہ کوئی مانگنے کا وقت ہے! اوپر سے ان کو بھگانے کی بجائے تم اپنی گرہ سے دیتی پھرتی ہو، تبھی تو انہوں نے ہمارا دروازہ پہچان لیا ہے۔ اسی لئے تو میں بھکاریوں سے چِڑتی تھی کہ ایک تو انسان کی طبیعت خراب ہو، اوپر سے یہ دروازہ بجا کر پریشان کرتے ہیں۔میں نے صبیحہ سے کہا، میرے سر کا درد کم ہونے کی بجائے اور بڑھ گیا ہے، اب ایک اور پیالی بنا کر دو اور سر درد کی گولی بھی دے دو۔ ابھی میں نے چائے کے دو ہی گھونٹ لئے تھے کہ ایک بھکارن اور آ گئی۔
بوڑھی عورت تھی۔ ایک چھوٹا بچہ ہمراہ تھا۔ میں نے سمجھا دودھ والا آیا ہے، در کھولا تو وہ اندر آ گئی۔ اب میری ملازمہ ڈری کہ کہیں میں اسی کو نہ نکال باہر کروں۔ بولی، آپا میں نے دودھ والے کے لئے در کھولا تھا، یہ آ گئی۔ بڑھیا ہاتھ جوڑنے لگی۔ یہ میرا نواسہ ہے، مجھے نہیں تو اس کو ناشتہ دے دو۔میں نے پوچھا، اس کا باپ کیوں نہیں اسے کھلاتا؟ کیا کماتا نہیں ہے؟ بچے پیدا کر لیتے ہیں اور ان کو کھلا نہیں سکتے!بڑھیا بولی، اس کا باپ مر چکا ہے بی بی۔ جنگ میں وطن سے بے وطن ہو گئے ہیں۔ میرا تو بیٹا بھی جنگ کی نذر ہو گیا ہے۔ ہمارا کوئی سہارا نہیں ہے، بڑی مشکل سے جان بچا کر ادھر آئے ہیں۔ وہ بڑھیا بنگالی تھی مگر اُردو ٹھیک طرح سے بول رہی تھی۔ کہنے لگی، میری لڑکی جوانی میں بیوہ ہو گئی ہے۔میں نے کہا، جوان ہے تو کام کرلے کہیں۔ بولی، اس کے چار بچے چھوٹے چھوٹے ہیں، ان سب کا بوجھ میں بھیک مانگ کر اٹھاتی ہوں۔ صرف دس روپے دے دو۔میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
بوڑھی عورت تھی۔ ایک چھوٹا بچہ ہمراہ تھا۔ میں نے سمجھا دودھ والا آیا ہے، در کھولا تو وہ اندر آ گئی۔ اب میری ملازمہ ڈری کہ کہیں میں اسی کو نہ نکال باہر کروں۔ بولی، آپا میں نے دودھ والے کے لئے در کھولا تھا، یہ آ گئی۔ بڑھیا ہاتھ جوڑنے لگی۔ یہ میرا نواسہ ہے، مجھے نہیں تو اس کو ناشتہ دے دو۔میں نے پوچھا، اس کا باپ کیوں نہیں اسے کھلاتا؟ کیا کماتا نہیں ہے؟ بچے پیدا کر لیتے ہیں اور ان کو کھلا نہیں سکتے!بڑھیا بولی، اس کا باپ مر چکا ہے بی بی۔ جنگ میں وطن سے بے وطن ہو گئے ہیں۔ میرا تو بیٹا بھی جنگ کی نذر ہو گیا ہے۔ ہمارا کوئی سہارا نہیں ہے، بڑی مشکل سے جان بچا کر ادھر آئے ہیں۔ وہ بڑھیا بنگالی تھی مگر اُردو ٹھیک طرح سے بول رہی تھی۔ کہنے لگی، میری لڑکی جوانی میں بیوہ ہو گئی ہے۔میں نے کہا، جوان ہے تو کام کرلے کہیں۔ بولی، اس کے چار بچے چھوٹے چھوٹے ہیں، ان سب کا بوجھ میں بھیک مانگ کر اٹھاتی ہوں۔ صرف دس روپے دے دو۔میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
کیا میں روپے بانٹ رہی ہوں؟ میرے میاں بے شک بہت خوشحال تھے لیکن یہ خوشحالی ایسے نہیں آئی تھی۔ انہوں نے بھی جی توڑ کر محنت کر کے اپنا کام بنایا تھا۔میں نے صبیحہ کو آواز دی، دیکھو تو یہاں آ کر میرا دماغ خراب کر دیا ہے۔وہ دوڑتی ہوئی آئی۔ کہنے لگی، بی بی! آپ اپنے کمرے میں جا کر آرام کیجئے، میں خود ان سے نمٹ لوں گی۔ کل کا سالن اور باسی روٹیاں پڑی ہوئی ہیں، وہی ان کو دے دیتی ہوں۔میں نے کہا، تم جیسے لوگ ہی تو بھیک دے کر ان کا دماغ خراب کرتے ہو۔ دو دن کھانا نہ ملے تو پھر دیکھو یہ کیسے کام کرتے ہیں۔صبیحہ نے کہا، آپ غصہ نہ کیجئے، آج آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ بھیک نہیں مانگتے، ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی کام کرتے ہیں۔ کیا خبر اس بوڑھی عورت کے کیسے حالات ہوں۔ آپ بھی ٹھیک سوچتی ہیں، واقعی جو اچھے بھلے تندرست لوگ بھکاری بن جاتے ہیں، وہ اپنی ساری نسل کو نکما کر دیتے ہیں، ان پر غصہ بجا ہے۔
اس نے اس طرح کی باتیں کر کے میرا غصہ ٹھنڈا کر دیا۔آپ خفا نہ ہوں، انسان کبھی کبھی بہت مجبور ہو کر ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ اس کی باتوں سے میں نے صبر کر لیا اور وہ بچاری بھی میرے ماتھے پر بل دیکھ کر چپ ہو گئی۔میں نے ملازمہ سے کہا، اب دروازے کی کنڈی مت لگانا۔ میں لیٹنے جا رہی ہوں، کنڈی کا کھٹکا نہ سنوں۔ جو آواز لگائے، خود جواب دے دینا۔ یہ کہہ کر میں کمرے میں جانے لگی تو وہ بولی، آپ نے چائے تو پی نہیں۔ اچھا میں ناشتہ کر لیتی ہوں۔ اس نے ایک اور گرم پیالی میرے آگے لا کر رکھ دی۔ بسکٹ پلیٹ میں جوں کے توں رکھے تھے۔ میں نے ایک بسکٹ منہ میں رکھا ہی تھا کہ کھلے دروازے سے ایک عورت بے دھڑک اندر آگئی اور برآمدے کے ستون سے لگ کر بیٹھ گئی۔مجھ کو اس کا اس طرح آنا ایک آنکھ نہ بھایا۔ تنگ آ کر پوچھا، کیا بات ہے؟ بولی، مصیبت زدہ ہوں۔ شوہر ڈرائیور تھا، حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔
اس نے اس طرح کی باتیں کر کے میرا غصہ ٹھنڈا کر دیا۔آپ خفا نہ ہوں، انسان کبھی کبھی بہت مجبور ہو کر ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ اس کی باتوں سے میں نے صبر کر لیا اور وہ بچاری بھی میرے ماتھے پر بل دیکھ کر چپ ہو گئی۔میں نے ملازمہ سے کہا، اب دروازے کی کنڈی مت لگانا۔ میں لیٹنے جا رہی ہوں، کنڈی کا کھٹکا نہ سنوں۔ جو آواز لگائے، خود جواب دے دینا۔ یہ کہہ کر میں کمرے میں جانے لگی تو وہ بولی، آپ نے چائے تو پی نہیں۔ اچھا میں ناشتہ کر لیتی ہوں۔ اس نے ایک اور گرم پیالی میرے آگے لا کر رکھ دی۔ بسکٹ پلیٹ میں جوں کے توں رکھے تھے۔ میں نے ایک بسکٹ منہ میں رکھا ہی تھا کہ کھلے دروازے سے ایک عورت بے دھڑک اندر آگئی اور برآمدے کے ستون سے لگ کر بیٹھ گئی۔مجھ کو اس کا اس طرح آنا ایک آنکھ نہ بھایا۔ تنگ آ کر پوچھا، کیا بات ہے؟ بولی، مصیبت زدہ ہوں۔ شوہر ڈرائیور تھا، حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔
چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ مالکِ مکان کرایہ مانگ رہا ہے، ورنہ گھر سے باہر سامان رکھ دینے کی دھمکی دے رہا ہے۔ کچھ امداد کر دیں۔اف! آج صبح سے تیرے جیسی کتنی آ چکی ہیں۔ خدایا! ہمارے حال پر رحم کر۔ میرے یہ الفاظ سن کر وہ اپنے پھٹے ہوئے پلو سے آنسو پونچھنے لگی۔ اس کے کپڑے بوسیدہ، میلے اور گال پچکے ہوئے تھے۔ چہرہ زرد اور فاقہ زدہ صورت۔ میں نے یکبارگی غور سے دیکھا۔ چھوٹا سا چار برس کا بچہ جو اس کے پہلو سے لگا کھڑا تھا، میری ناشتے کی پلیٹ کو بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔کہنے لگی، بی بی! محنت بھی کرتی ہوں مگر خرچ پورا نہیں ہوتا۔ مکان کا کرایہ دینا پڑتا ہے۔ بچے کس پر چھوڑ کر سارا دن مزدوری پر نکلوں؟میں نے کہا، اچھا! اب دفع ہو جاؤ۔صبیحہ، دروازہ بند کر دو۔ اب جو بھی آئے، چاہے صاحب ہی کیوں نہ ہوں، دروازہ مت کھولنا۔
عورت اٹھ کھڑی ہوئی اور دروازے کی سمت ہو گئی، مگر اس کا بچہ وہاں ستون کے پاس ہی کھڑا رہ گیا۔ وہ تکے جا رہا تھا میرے ناشتے کو۔ اس کی ماں پلٹ کر مڑی اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگی۔ وہ چلانے لگا۔نہیں، نہیں! میں نہیں جاؤں گا تمہارے ساتھ۔ مجھے چائے دو!جب ماں نے اور زور سے اسے کھینچا تو وہ ضد پر اتر آیا، زمین پر لیٹ گیا اور لوٹنے لگا۔ اس کی یہی رٹ تھی، مجھے چائے چاہیئے، بسکٹ چاہئیں۔کوئی سنگ دل سے سنگ دل انسان ہوتا تو اس کا دل بھی پسیج جاتا، مگر میں تو صبح سے غصے میں بھری بیٹھی تھی، موڈ خراب تھا، اوپر سے اس بچے کی ضد نے میرے سر کا درد دوبالا کر دیا۔ بجائے اس کے کہ بچے کو ایک بسکٹ ہی تھما دیتی، میں نے چائے کی پیالی ہی پھینک دی اور چلائی:اٹھو! اٹھو! نکلو اِدھر سے!میرے چلانے پر وہ بچہ سہم گیا۔ ضد بھی خوف کے پردوں میں چھپ گئی۔ ڈر کر کھڑا ہو گیا۔ رونا بند کر کے اب خود ماں کا ہاتھ کھینچنے لگا۔
کہتے ہیں کہ بچوں والی ماں نرم دل ہوتی ہے، وہ کسی دوسرے بچے کا تڑپنا نہیں دیکھ سکتی۔ میں بھی دو بچوں کی ماں تھی، پھر بھی اس بچے کا دل توڑ بیٹھی-ان کے جانے کے بعد میں کمرے میں جا کر منہ لپیٹ کر پڑ رہی۔ سارا دن ڈپریشن میں گزرا۔یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے؟تو ہی ہم پر رحم کر۔ کیا واقعی ہمارے ملک میں اتنی زیادہ غربت ہے؟کیا میرا یہ خیال غلط ہے کہ بھکاری فریبی ہوتے ہیں؟کیا بھیک دے کر بھکاریوں کی ہمت افزائی کرنا چاہیے؟نہیں، یہ تو بہت بری بات ہے۔ لیکن اگر ان میں آدھے بھی بہت بے بس، بے کس، مجبور ہو کر مانگتے ہیں تو ان کی مدد نہ کرنا کیا جرم نہیں؟اور ان بچوں کا کیا قصور جن کے محنت کرنے کے دن نہیں، ان کے تو اسکول جانے کے دن ہیں؟شام کو میرے شوہر آئے۔ تھکے ہوئے تھے۔
کہتے ہیں کہ بچوں والی ماں نرم دل ہوتی ہے، وہ کسی دوسرے بچے کا تڑپنا نہیں دیکھ سکتی۔ میں بھی دو بچوں کی ماں تھی، پھر بھی اس بچے کا دل توڑ بیٹھی-ان کے جانے کے بعد میں کمرے میں جا کر منہ لپیٹ کر پڑ رہی۔ سارا دن ڈپریشن میں گزرا۔یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے؟تو ہی ہم پر رحم کر۔ کیا واقعی ہمارے ملک میں اتنی زیادہ غربت ہے؟کیا میرا یہ خیال غلط ہے کہ بھکاری فریبی ہوتے ہیں؟کیا بھیک دے کر بھکاریوں کی ہمت افزائی کرنا چاہیے؟نہیں، یہ تو بہت بری بات ہے۔ لیکن اگر ان میں آدھے بھی بہت بے بس، بے کس، مجبور ہو کر مانگتے ہیں تو ان کی مدد نہ کرنا کیا جرم نہیں؟اور ان بچوں کا کیا قصور جن کے محنت کرنے کے دن نہیں، ان کے تو اسکول جانے کے دن ہیں؟شام کو میرے شوہر آئے۔ تھکے ہوئے تھے۔
تھوڑی دیر آرام کیا۔ ملازمہ نے رات کا کھانا تیار کر لیا تھا۔ اس نے میز پر کھانا لگایا تبھی علیم نے مجھ سے کہا:چلو اٹھو، کھانا کھا لو۔ کیوں ایسے منہ لٹکائے پڑی ہو؟ لگتا ہے کوئی بات دل کو لگ گئی ہے۔میں نے کھانا نہ کھایا۔ طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر دیا۔ رات کو انہوں نے پھر پوچھا:کیا بات ہے شازی؟ کوئی پریشانی ہے؟تبھی میں نے آج کے واقعے کا تذکرہ کر دیا۔ وہ بولے:ہمارے ملک میں دن بہ دن غربت بڑھ رہی ہے شازی۔ تبھی جرائم بھی بڑھ رہے ہیں۔ جس ملک میں غریبوں کے ساتھ انصاف نہ ہو، وہاں کے حالات نہیں سدھر سکتے۔ لیکن تم فکر نہ کرو، یہاں اچھے لوگ بھی ہیں۔ اللہ نے چاہا تو حالات سدھر جائیں گے کسی نہ کسی دن۔میں نے کہا:آپ ٹھیک کہتے ہیں، لیکن بھیک دینا کوئی اچھی بات نہیں۔ یہ مسئلے کا حل نہیں۔
بہت سے پیشہ ور بھکاری ضرورت مندوں کا حق مار لیتے ہیں۔وہ کہنے لگے:میں تو کہتا ہوں کہ مانگنے والوں کو کچھ نہ کچھ دے دیا کرو، خاص طور پر ان کو جو کھانا مانگتے ہیں۔ کیا خبر ان میں کوئی واقعی ضرورت مند ہو۔میں ان کی یہ تقریر پہلے بھی کئی بار سن چکی تھی، لہٰذا میری کوفت دور نہ ہوئی۔دوسرے روز وہ منحوس صبح آئی جب تیزگام کا لیاقت پور میں حادثہ ہوا تھا۔ میرے شوہر بھی اس منحوس دن ریل میں تھے اور اپنے کاروبار کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ اس حادثے نے میری زندگی کی ساری خوشیاں چھین لیں۔آج میں صحیح معنوں میں دکھ، درد اور غم سے آشنا ہوئی تھی۔ میری معصوم بیٹیاں اپنے باپ کو کفن میں لپٹا دیکھ کر رو رہی تھیں اور لوگ مجھے تسلیاں دے رہے تھے مگر مجھے کچھ سنائی نہ دے رہا تھا۔
بہت سے پیشہ ور بھکاری ضرورت مندوں کا حق مار لیتے ہیں۔وہ کہنے لگے:میں تو کہتا ہوں کہ مانگنے والوں کو کچھ نہ کچھ دے دیا کرو، خاص طور پر ان کو جو کھانا مانگتے ہیں۔ کیا خبر ان میں کوئی واقعی ضرورت مند ہو۔میں ان کی یہ تقریر پہلے بھی کئی بار سن چکی تھی، لہٰذا میری کوفت دور نہ ہوئی۔دوسرے روز وہ منحوس صبح آئی جب تیزگام کا لیاقت پور میں حادثہ ہوا تھا۔ میرے شوہر بھی اس منحوس دن ریل میں تھے اور اپنے کاروبار کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ اس حادثے نے میری زندگی کی ساری خوشیاں چھین لیں۔آج میں صحیح معنوں میں دکھ، درد اور غم سے آشنا ہوئی تھی۔ میری معصوم بیٹیاں اپنے باپ کو کفن میں لپٹا دیکھ کر رو رہی تھیں اور لوگ مجھے تسلیاں دے رہے تھے مگر مجھے کچھ سنائی نہ دے رہا تھا۔
کیسے میرا بھرا پرا ہنستا بستا گھر پل بھر میں برباد ہو گیا! شاید یہ غم میری قسمت میں لکھا تھا۔ابھی میں اس غم سے سنبھلی نہ تھی کہ ایک روز میری پانچ سالہ بیٹی اسکول گئی تو واپس نہ آئی۔ اس کے نانا اسے لینے گئے تھے مگر پتا چلا کہ وہ تو اسکول پہنچی ہی نہیں۔ ابو نے اسے گیٹ پر اتارا اور جلدی سے واپس ہو گئے کہ رش بہت تھا، دوسری گاڑیاں ان کو ہارن دے رہی تھیں۔ جہاں فوزی کو اتارا تھا، گیٹ وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ خدا جانے کس شاطر نے کس طرح اسکول کے اتنے قریب سے میری بیٹی کو اغوا کر لیا۔ہر جگہ ڈھونڈا، وہ کہیں نہ ملی۔ ابو اسی غم میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔میں نے بچی کا غم سینے سے لگا کر اپنی ماں اور دوسری بچی حرا کو پالنے کی خاطر ایک اسکول میں نوکری کر لی۔ ان دو واقعات کے بعد زندگی کی ہر خوشی مجھ سے رخصت ہو گئی۔مجھے ایسی چپ لگی کہ جیسے گونگی ہو گئی ہوں۔ میرے دل کا عالم مت پوچھو۔ اگر کسی ماں کا معصوم بچہ اس کے جیتے جی بچھڑ جائے تو اس سے بڑھ کر اور اذیت کیا ہو سکتی ہے؟ میں تو ظالموں سے ہاتھ جوڑ کر عرض کرتی ہوں کہ کسی ماں کا بچہ اس سے جدا نہ کرنا۔ یہ دنیا چند روزہ ہے۔ جانے کیوں یہ سفاک لوگ پھر ایسا گھناونا جرم کرتے ہیں؟ کیا بچوں سے بھیک منگوانے کے لیے؟ ان کو کس جرم کی سزا دیتے ہیں؟مجھے شاید میرے غرور کی سزا ملی۔کبھی سوچتی ہوں، کیا خبر میری بچی کو بھی کسی نے بھکارن بنا دیا ہو گا؟کیا خبر وہ چائے یا روٹی کے ٹکڑے کو ترس رہی ہو گی؟
خدا جانے مجھ سے بچھڑ کر وہ کس حال میں تھی۔ اگر زندہ ہے تو کس حال میں ہے؟اگر مر گئی تو کن حالوں میں مر گئی؟ایک ماں کے لیے یہ سوچیں الاؤ میں جلنے جیسی ہوتی ہیں۔میں اب بوڑھی ہو گئی ہوں لیکن اب بھی چاند تاروں میں اپنی بچی کی شبیہہ تلاش کرتی ہوں۔ اپنی دوسری بیٹی اور داماد کے پاس زندگی کے دن پورے کر رہی ہوں۔ میری فوزی 15 نومبر 1975ء کو کھوئی تھی اور آج تک اس کا سراغ نہ ملا۔بچوں کو اغوا کرنے والوں کو کاش حکومت سخت سزا دے، تاکہ تڑپتی بلکتی ان ماں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ جائے جن کے بچے کھو جاتے ہیں۔
(ختم شد)
.jpg)
