آوارگی کا قصہ

Sublimegate Urdu Stories

جس واقعے پر میں دل کھول کر روئی تھی، آج قلم اور کاغذ کا سہارا لے کر دل کی بھڑاس نکال رہی ہوں۔ یہ اُن دنوں کا ذکر ہے جب میں میٹرک کی طالبہ تھی۔ میرے ڈیڈی ایک سرکاری افسر تھے۔ شاید ہم لوگوں کو خانہ بدوش کہنا بے جا نہ ہوگا۔ جب ایک جگہ دل لگ جاتا اور ہم خود کو اس ماحول میں ایڈجسٹ کر لیتے، تو فوراً ہی نئی جگہ پوسٹنگ کے آرڈر آ جاتے۔اُن دنوں ہم نئے نئے سیالکوٹ آئے تھے۔ اسکول میں بھی کسی سے خاص دوستی نہ تھی۔ بس ایک لڑکی ثمینہ سے تھوڑی بہت شناسائی تھی، جو خاموش طبیعت کی مالک تھی۔ چپ چپ اور سہمی سہمی رہتی تھی، جیسے کسی انجانے خوف نے اس پر سایہ ڈال رکھا ہو۔ 
 
ایک دن میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ وہ اتنی خاموش کیوں رہتی ہے۔ اس نے بتایا کہ تقریباً ایک ماہ پہلے اس کی آپی کا انتقال ہوگیا ہے، جنہوں نے حالات سے تنگ آکر خودکشی کر لی تھی اور ابدی نیند سو گئیں۔ یہ سن کر میرا تجسس بڑھا کہ میں اس کی کہانی سنوں۔اس نے آنسوؤں کے اُمڈتے سیلاب میں بتایا کہ اس کی آپی کا نام تابندہ تھا، سب انہیں پیار سے تابی کہتے تھے۔ تابی آپی بڑی پیاری باتیں کرتی تھیں اور اپنی باتوں سے ہر کسی کا دل موہ لیتی تھیں، اسی وجہ سے سب انہیں بہت پسند کرتے تھے۔ وہ ابو کی بڑی لاڈلی تھیں۔ آٹھویں جماعت میں انہوں نے فرسٹ پوزیشن لی تو سارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سبھی رشتے دار مبارک باد دینے آئے، انہی میں خالہ شبو بھی تھیں۔ وہ اپنے بیٹے خاور کے ساتھ آئی تھیں جو میٹرک کا طالب علم تھا۔خاور اور تابی نے آپس میں باتیں کیں اور ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے، مگر انہوں نے اپنی پسند کا اظہار کسی پر ظاہر نہ ہونے دیا۔ باتوں ہی باتوں میں تابی آپی کے رشتے کا ذکر چلا تو خالہ شبو نے خاور کے لیے امی جان سے آپی کا ہاتھ مانگ لیا۔

امی کو انکار کب تھا؟ بھلا خاور میں کیا خرابی تھی! وہ والدین کا اکلوتا بیٹا اور لاکھوں میں ایک تھا۔تابی آپی کی شاندار کامیابی پر امی ابو نے ایک پارٹی رکھی، جس میں آپی کی کلاس فیلوز کے علاوہ خاور اور خالہ شبو بھی شریک ہوئے۔ اُس دن آپی بنی سنوری بے حد پیاری لگ رہی تھیں اور کن انکھیوں سے خاور بھائی کو دیکھ کر شرما جاتی تھیں۔اگلے دن خاور اور خالہ واپس چلے گئے، مگر تابی کو پوری رات نیند نہ آئی۔ خاور کا خیال انہیں بے چین کر رہا تھا۔ وہ سوچتی تھیں کہ نہ جانے تقدیر میں کیا لکھا ہے، ان کی نسبت خاور سے طے ہوگی بھی یا نہیں؟ کبھی کبھی خدا انسان کی دعا بہت جلد سن لیتا ہے، اور تابی کی دعا بھی منظور ہوگئی۔ اگلی بار جب خالہ آئیں تو انگوٹھی بھی ساتھ لے آئیں۔ ابو امی سے کچھ گفت و شنید ہوئی اور خاور کا رشتہ منظور کر لیا گیا۔ یوں خالہ شبو نے تابی کو خاور کے نام کی انگوٹھی پہنا دی۔اس دن میں نے انہیں جتنا خوش دیکھا، پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ جیسے کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگ رہی تھیں۔ 
 
کتنی پیاری، کتنی حسین تھی میری بہن، جسے منوں مٹی کھا گئی۔ منگنی کیا ہوئی کہ دونوں کی امید پوری ہوگئی۔ تابی کی خوشی چہرے سے چھپتی نہ تھی۔ کہا کرتی تھیں کہ میں دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی ہوں۔اس کے بعد خاور بھائی اور تابی میں سلام کلام ہوا یا نہیں، میں نہیں جانتی، کیونکہ میں نے انہیں کبھی بات کرتے نہ دیکھا۔ خاور بھائی ہمارے گھر والوں کا لحاظ کرتے تھے، اس لیے وہ کم آتے تھے، لیکن دونوں ملاقات کے بہانے ضرور ڈھونڈ لیتے تھے۔ ہمارے گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا کہ منگیتر سے کھل کر بات چیت یا ملاقات ہوسکے۔ایک دن تابی آپی اسکول گئیں، تو گیٹ پر خاور کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ اس نے سلام کیا، آپی نے جواب دیا اور آنے کی وجہ پوچھی۔ اس نے بہانہ بنایا کہ یہاں سے گزر رہا تھا، تو سوچا تمہیں دیکھتا چلوں۔ پھر وہ جلدی سےخدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔دو چار روز گزرے، اور ایک دن شام کے وقت جب تابی سورہی تھی، امی نے اُٹھایا اور کہا کہ تمہاری خالہ آئی ہیں، چائے بنا دو۔ وہ اُٹھی تو دیکھا کہ خاور بھی ساتھ ہے۔ سلام کرنے کے بعد وہ چائے بنانے لگی۔ سب باتیں کر رہے تھے، لیکن خاور خاموش تھا اور چپ چاپ تابی کو باتیں کرتے سن رہا تھا۔اس دن خاور بھائی نے مجھے کہا تھا کہ کاش تمہاری آپی باتیں کرتی رہیں اور میں سنتا رہوں۔

سبھی نے محسوس کیا کہ اس کی نظریں آپی کے چہرے سے نہیں ہٹ پا رہی تھیں۔ شاید ان کی باتوں اور تابی کی معصومیت نے خاور کے دل میں ہلچل مچادی تھی۔ کہتے ہیں کہ پیار اور خوشبو کبھی چھپے نہیں رہتے۔ ان دونوں کا پیار آنکھوں سے جھلک رہا تھا۔ دونوں آپس میں بات چیت تو نہیں کر سکتے تھے، مگر نینوں کی گفتگو ہوتی تھی۔خاور ان دنوں کالج کا طالب علم تھا۔ تابی نے بھی میٹرک پاس کر لیا تھا۔ وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی، لیکن والدین کا خیال تھا کہ بس اتنا کافی ہے اور وہ اس کی جلدی شادی کے حق میں تھے۔ ماں تمام دن اس کے جہیز کے جوڑوں پر گوٹا کناری ٹانکتی رہتی تھیں، اور تابی ان جوڑوں کو بڑے پیار سے آنکھوں میں خواب سجاکر دیکھتی تھی۔کافی دن تک خاور اور تابی کی ملاقات نہ ہو سکی، تو ایک روز وہ ہمارے گھر آیا اور مجھ سے کہا کہ یہ رسالہ اپنی آپی کو دے دینا، مگر کسی کو بتانا نہیں۔ میں نے رسالہ سادہ دلی سے آپی کے حوالے کر دیا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ اس کے اندر کوئی خط تھا یا صفحات میں کوئی پیغام لکھا ہوا تھا۔بہر حال، اس کے بعد تابی سہیلی سے ملنے کا بہانہ کر کے گئی۔ 
 
جب واپس آئی تو کچھ گھبرائی ہوئی سی تھی اور کچھ خوش بھی۔ میں چھوٹی تھی، اس لیے سوال نہیں کر سکتی تھی، تاہم میرا دل ایک انجانے خوف سے دھڑک اُٹھا۔ میں جانتی تھی کہ آیا وہ اور خاور ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں اور ملنے کا کوئی راستہ نہیں، یا پھر بازار وغیرہ میں ایک دوسرے کو دیکھ لیتے ہیں۔خاور بھائی نے بی اے کر لیا، تو شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ تابی روز بہ روز پھول کی طرح کھلتی جا رہی تھی۔ روز ہی زیورات کے لیے سنار کی دکان کے چکر لگ رہے تھے۔ کبھی امی تابی کو بھی ساتھ لے جاتی تھیں، مگر جب بدقسمتی تاک میں ہو، تو آدمی راستہ بھٹک جاتا ہے۔ جب منزل دو چار قدم پر ہو، تو صبر کی ڈور ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے۔ایسا ہی کچھ تابی کے ساتھ ہوا۔ صبر کی ڈور ان کے ہاتھ سے بھی چھوٹ گئی۔ ایک دن وہ اپنا دوپٹہ رنگنے کا بہانہ بنا کر گھر سے نکلیں۔ امی سے کہا کہ ثمینہ کے ساتھ جا رہی ہوں، لیکن وہ مجھے ساتھ لے کر نہ گئیں، بس اکیلے ہی چپکے سے دہلیز پار کر گئیں۔ انہوں نے سوچا کہ ماں کی ڈانٹ پڑے گی، تو چپ کرکے سن لیں گی۔ ابا تو اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے۔ بس وہ تقدیر کی ماری شادی سے صرف تین ہفتے پہلے اپنے منگیتر سے ملنے چلی گئی۔

اتفاق سے جب ریسٹورنٹ میں تابی اور خاور بیٹھے تھے، ابا بھی اپنے دوستوں کے ساتھ چائے پینے چلے گئے۔ اگر وہ صرف دوست ہوتے تو کوئی بات نہ ہوتی، مگر وہ ابو کے کزن بھی تھے۔ ایک ابو کے چچا زاد بھائی اور دوسرے ماموں کے بیٹے تھے۔ابو نے تابی اور خاور کو ہوٹل میں بیٹھے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ بھائیوں کے آگے ابو کو شرمندگی اُٹھانی پڑی کہ ان کی بیٹی وہاں منگیتر کے ساتھ چائے پی رہی تھی۔ کزنز نے انہیں ایسی نظروں سے دیکھا جیسے وہ ایک بے غیرت باپ ہوں، پھر وہ کچھ کہے بغیر اُٹھ کر چل دیے۔ابو کی حالت خراب تھی، تو تابی اور خاور کی حالت بھی بری تھی۔ ان کے کانٹوں تو جیسے بدن میں خون نہیں رہا ہو۔ ابو نے بیٹی کو بازو سے پکڑ کر اُٹھایا اور گاڑی میں دھکیل کر گھر لے آئے۔ خاور سے کہا کہ بے حیا لڑکے، تجھ سے میں بعد میں سمجھ لوں گا۔گھر لا کر ابو نے تابی کو مار مار کر آدھا مروادیا۔ امی چھڑا رہی تھیں تو انہیں بھی مار پڑ رہی تھی۔ ابو کسی زخمی شیر کی طرح دھاڑ رہے تھے کہ اس بے حیا لڑکی نے کزنوں کے سامنے مجھے بے عزت کر دیا ہے۔ وہ تو یہی سمجھیں گے کہ باپ بھی جانتا ہوگا۔ 
 
میں ساری برادری میں بدنام ہوگیا۔ وہ چرچہ کریں گے کہ لڑکے اور لڑکی کی محبت کی شادی ہے اور یہ شادی سے پہلے ہی رنگ رلیاں منا رہے ہیں۔تب ہمارے خاندان میں محبت کی شادی کو بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ابو نے تابی کو کمرے میں بند کر دیا اور امی سے کہا کہ ان لوگوں کو ابھی جواب دے دو۔ اب میں اپنی بیٹی کی شادی اس بدمعاش سے نہیں کروں گا۔ خاور میرا داماد بننے کے لائق نہیں ہے۔ خدا جانے کب سے وہ اس سے محبت کا چکر چلا رہا تھا اور ہماری عزت کو بٹہ لگا رہا تھا۔امی تو ہکا بکا رہ گئیں کہ یہ کیا ہوگیا؟ شادی کی تیاریاں مکمل تھیں اور لڑکی نے بے صبری سے بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا۔ تابی خود پریشان تھی اور اس وقت خود کو کوستی تھی کہ جب گھر سے قدم نکالا تھا۔ کاش وہ خاور سے ملنے نہ جاتی، تو آج ہمیشہ کی جدائی نہ سہنی پڑتی۔امی نے ابا جان کو سمجھایا کہ ایسا نہ کرو، شادی قریب ہے، خاور کو اتنی بڑی سزا نہ دو، اسے معاف کر دو۔ بچوں کی بھول کو بزرگ معاف کر دیا کرتے ہیں، مگر ابا جان کی ایک ہی رٹ تھی کہ اس نے میری غیرت کو للکارا ہے اور مجھے برادری کے آگے نیچا کر دیا ہے۔ اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں اس کو اپنی لڑکی دوں۔ خدا جانے کب سے وہ ہماری آنکھوں میں دھول جھونک رہے تھے۔تابی تو اس فیصلے سے تڑپ اٹھی۔ وہ رو رہی تھی اور امی کے پاؤں پکڑ لیے۔ امی بچاری کیا کرتیں، آنکھوں میں آنسو بھرے وہ تو پتھر کا بت بن گئی تھیں۔ ان کے اختیار میں کیا تھا؟ اگر ہوتا، تو وہ کچھ بھی کر گزرتیں، لیکن بیٹی کے دل کو نہ اجاڑتیں۔خالہ اور خالو آئے، انہوں نے بیٹے کی طرف سے بہت معافیاں مانگیں، ہاتھ پاؤں جوڑے، مگر وہ والد کو رام نہ کر پائے۔ ان کا ارادہ بدلنے پر مجبور نہ کر سکے۔ جلد بازی اور غصے میں ابا جان نے تابی کا رشتہ اپنی بہن کے بیٹے آصف سے کر دیا، جو گاؤں میں رہتے تھے۔تابی اپنی بے بسی پر آنسو بہاتی رہ گئی۔ وہ خود کو کوستی تھی کہ مجھے اس دنیا میں آنے کی سزا ملی، جہاں پیار کے رشتے کو پامال کیا جاتا ہے اور جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اگلی صبح کا سورج طلوع ہوا، اور وہ تابی کی خوشیوں، تمناؤں اور امنگوں کی بربادی کا پیغام لے کر آیا۔ادھر خاور کی بُری حالت تھی، جس نے تابی کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں، وہ بھلا کیسے اس کے بغیر جینے کا تصور کر سکتا تھا۔ اُس نے ایک بار پھر ماں کو اس کی ممتا کی قسم دے کر بھیجا۔ وہ دوبارہ ابا کے پاس آئیں، مگر ابا نے ان کی خوب بے عزتی کی اور رشتے داری کا خیال بھی نہ کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ برادری والوں کو پتا چل جائے کہ انہوں نے بیٹی کو منگیتر سے چوری چھپے ملنے کی خوب سزا دی ہے اور وہ بے غیرت نہیں ہیں۔
 
برادری والوں نے اس بات پر خوشی منائی اور ان کو شاباشی دی۔ ان کے سر پر تاج تو نہیں رکھا، لیکن اب ہر ایک کی زبان پر یہی قصہ تھا کہ ملک صاحب بڑے غیرت والے ہیں۔ بے شک لڑکا منگیتر تھا، مگر بیٹی سے اس کا ملنا برداشت نہیں کیا اور خوب سزا دی۔تابی، جس نے گاؤں دیکھا تک نہیں تھا، شہر میں آنکھ کھولی تھی، وہ گاؤں میں دھکیل دی گئی۔ والدین کی غیرت اور سماج کی مجبوریاں اس کے پاؤں کی زنجیر بن گئیں۔ یوں اس کی آرزوؤں اور امنگوں کا خون ہو گیا۔ جو خواب سہانے اس نے سجائے تھے، وہ برادری کی سنگدلی کی بنا پر چکنا چور ہوگئے۔ آپا کی بے بسی ان کے لیے تماشا بن گئی۔ وہ خوشیوں کا جنازہ سجائے کانٹوں کی سیچ پر بیٹھ گئی۔تابی کے سسرال والے کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اس کا خاوند آصف بھی سارا دن کھیتوں میں کام کرتا۔ ساس کہتی کہ بہو کو بھی ساتھ کھیتوں میں لے جاؤ، یہ تمہارا ہاتھ بٹائے گی۔ گھر میں رہے گی تو ہم پر اپنی پڑھائی کا رعب جماتی رہے گی۔

آصف کو برادری والوں کی زبانی بیوی کی آوارگی کا قصہ معلوم تھا کہ وہ شادی سے پہلے منگیتر سے ملتی تھی اور ہوٹل میں جاتی تھی، کہ باپ نے ایک دن دونوں کو پکڑ لیا، تب ہی رشتہ ختم ہوگیا اور بیٹی کو خوب جوتے بھی لگائے گئے۔یہ جرم ایسا تھا جو دن میں ہزار بار آپی کو یاد کرایا جاتا تھا۔ طعنے سن سن کر اس کا کلیجہ چھلنی ہوگیا۔ وہ رو کر کہتی کہ خدا کے لیے اب تو معاف کردو۔ اب تو میں آصف کی بیوی ہوں اور آصف تم تو رحم کرو، مگر وہ بھی اسے بری عورت کہتا اور نفرت سے دھتکار دیتا، جیسے زبردستی اس سے باندھ دیا گیا ہو اور وہ اس سے آزادی چاہتی ہو۔ آپی سے سارا دن کام لیا جاتا، مگر صلہ کچھ نہ ملتا۔ 
ساس نند حکم چلاتیں، شوہر حقارت سے بات کرتا۔چلو خاوند اچھا ہوتا تو پھر بھی وہ خاموشی سے سارے غم جھیل جاتی۔ چھ ماہ میں ہی اس کی صورت اجڑ گئی، جیسے چلتی پھرتی لاش ہو۔ چار سال بھی ستم برداشت کیے اور اولاد بھی نہ ہوئی، تو ساس نے بیٹے سے کہا کہ تم دوسری شادی کر لو، اس عورت سے اولاد کی امید نہیں ہے۔جب ابا کو پتا چلا کہ تابی کا شوہر دوسری شادی کر رہا ہے، تو انہیں کچھ احساس ہوا۔ وہ بہن کے گھر آئے اور کہا کہ پہلے اس کا علاج کرالو، پھر بھی امید پوری نہ ہو تو بے شک بیٹے کی دوسری شادی کرا لینا۔ان کا اتنا کہنا بہت تھا کہ ابا نے انہیں دوسری شادی سے روکا نہیں، یوں انہوں نے ایک دن بہانہ بنا کر آپی کو طلاق دے دی۔ وہ روتی ہوئی گھر سے نکلیں اور ایک وین کے ساتھ جا ٹکرائیں۔ خبر نہیں کیسے وہ اسپتال پہنچیں، کون لایا؟ چند دن موت و زیست کی کشمکش میں رہ کر اللہ کو پیاری ہوگئیں۔اب سب کہتے ہیں کہ انہوں نے خودکشی کی اور جان بوجھ کر وین کے نیچے آگئیں۔
 
اللہ جانتا ہے کہ کیا ہوا، لیکن یہ بات کسی طرح ہم پر کھل ہی گئی کہ انہیں طلاق دے کر نکالا گیا تھا اور وہ انتہائی مایوسی اور پریشانی کے عالم میں گھر سے نکلی تھیں۔اب ابو بھی پچھتاتے ہیں کہ ناحق میں نے جلدی میں ایسا غلط فیصلہ کر دیا۔ کاش میں ان کی شادی گاؤں کے ان پڑھ لوگوں میں نہ کرتا۔ جب غلطی ہو جاتی ہے اور بربادی ہو چکی ہوتی ہے، تب ہوش آتا ہے، پھر کیا فائدہ؟ جانے والا تو اس جہاں سے چلا ہی جاتا ہے۔ صد شکر کہ اب زمانہ کافی بدل گیا ہے۔ ماں باپ کی سوچیں اتنی تنگ نہیں رہیں، لیکن اب بھی اکثر بیٹیاں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ خدا جانے ہمارا معاشرہ کب بدلے گا اور مثبت سوچ کی طرف آئے گا۔

(ختم شد)
  
romantic stories

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ