ہم شکل جڑواں

Sublimegate Urdu Stories

میرا بھائی بلال ایک نہایت شریف لڑکا تھا۔ کسی نے سوچا تک نہ تھا کہ وہ کبھی اپنے بزرگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسی بات کہے گا، مگر اس پر تو سدا بہار کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا تھا۔ جب گھر میں ہر کسی نے اس کی بات کو رد کر دیا تو بلال نے خود کشی کی دھمکی دے ڈالی ، یہی نہیں اس نے عملی طور پر بھی جان دینے کی کوشش کی اور سب کا سکون تباہ کر کے رکھ دیا۔ بات یہ تھی کہ وہ ایک سدا بہار نامی رقاصہ سے شادی کرنا چاہتا تھا جب کہ والد صاحب نے کہہ دیا تھا کہ اگر بلال اس کو گھر میں لایا تو وہ خود کو گولی مار لیں گے۔ والد صاحب کا اعتراض بجا تھا ایک رقاصہ کو بھابھی بنا لینے پر ہمیں بھی اعتراض تھا۔ اگر کوئی لڑکی عریب اور بدصورت ہونے کے ساتھ ساتھ لولی لنگڑی بھی ہوتی تو ہم اس کو بھائی کی خوشی اور پسند سمجھ کر قبول کر لیتے مگر سدابہار تو و ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتی تھی جس کے بارے میں سوچ کر شریف لوگ کانپ جاتے تھے۔ تبھی گھر میں بھائی کی اس خواہش کی ہر کسی نے مخالفت کی۔ ہوا یہ کہ بھائی بلال  ایک روز کچھ من موجی قسم کے دوستوں کے ساتھ ایک جگہ رقص دیکھنے اور گانا سننے چلے گئے اور سدا بہار کو دیکھتے ہی دل ہار دیا۔ جانے پھر کیسے یہ روابط بڑھے کہ بات شادی تک پہنچ گئی۔ 
 
انہی دنوں امی جان نے بلال بھائی کے لئے اپنے رشتہ داروں میں ایک لڑکی پسند کر لی۔ بھیا پانچ برس دبئی رہ کر واپس آیا تھا۔ چاہتی تھیں کہ بلال کا گھر آباد ہو جائے مگر بلال نے صاف کہہ دیا کہ وہ شادی سدا بہار ے کرے گا۔ جب پتا چلا کہ سدا بہار تو بکائو مال ہے۔ سب گھر والوں نے احتجاج کیا، بلال کو سمجھایا مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اس کی تو بس ایک ہی رٹ تھی کہ شادی کروں گا تو سدا بہار سے ورنہ جان دے دوں گا یا گھر چھوڑ کر چلا جائوں گا۔ اکیلے بلال کا یہ حال نہ تھا۔ آگے دونوں طرف برابر لگی ہوئی تھی۔ وہ لڑکی سترہ سال کی تھی۔ جب سے اس نے بلال کے ساتھ دل کا بندھن جو ڑا تھا۔ اس نے بھی اپنے پیروں سے گھنگھرو اتار ڈالے تھے اور اٹھوائی کھٹوائی لے کر پڑ گئی تھی۔ تبھی اس کی پالنے والی بھی منہ پر پلو ڈال کر روتی تھی کہ اس کی بھی دنیا بر باد ہو گئی تھی۔

اس نام نہاد ماں نے تو بیٹی کے اس مسئلے کا یہ حل نکال لیا کہ نقد بھاری رقم کے علاوہ ایک کوٹھی کے عوض وہ بیٹی کا بیاہ بلال سے کرنے پر راضی ہو گئی لیکن والد نقد رقم اور کو ٹھی تو کیا اس جیسی بہو کو زہر کا پیالہ تک دینے کے روادار نہ تھے۔ بلال کی الٹی کھوپڑی میں کوئی بات نہ سماتی تھی نہ ماں کی فریاد ، نہ بہنوں کے آنسو اور نہ باپ کی دھمکیاں اس کے دو مطالبے تھے کہ میرے حصے کی جائیداد دے دو۔ میں نکاح سدا بہار سے ہی کروں گا۔ دونوں مطالبے ہی ناقابل قبول تھے۔ ابا نے کہا۔ بے شک کھالے یہ زہر ۔ میں تو قیامت تک نہ مانوں گا۔ مگر بلال نے سچ مچ زہر کھا لیا۔ اب اس کی جان کے لالے پڑ گئے۔ ابو کے آنسو نہ تھمتے تھے اور اماں نے منت مان لی اللہ میرے بچے کو نئی زندگی دے دے تو میں سدا بہار کو نہ صرف بہو بنا کر لے آئوں گی بلکہ اس کو وہی عزت دوں گی جو ایک بہو کو ملنی چاہئے۔ 
 
ابو کے آنسو اور اماں کی دعائیں رائیگاں نہ گئیں۔ چھ روز کی بے ہوشی کے بعد بالآخر بلال بھائی نے آنکھیں کھول دیں۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر بھائی سے کہا۔ بلال خدارا تو ٹھیک ہو جا تو ہم تمہاری شادی سدا بہار ہی سے کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کو میرے اکلوتے بھائی کی زندگی منظور تھی، وہ رفتہ رفتہ صحیح ہو گیا۔ اماں نے نفل شکرانہ پڑھے اور اپنے اللہ سے کیا وعدہ پورا کیا کہ وہ سدا بہار کو بیاہ کر گھر لے آئیں۔ میں بھی دلہن بھابی کو سلام کرنے گئی۔ اس کو دیکھ کر حیرت سے آنکھیں جھپکنا بھول گئی۔ ایسی پری چہرہ لڑکی تو میں نے زندگی میں کبھی نہ دیکھی تھی۔ اگر میرے بھائی نے اس حسن کی دیوی کے لئے جان دینے کی سعی کی تھی تو بر حق بات تھی کہ عشق میں ایسا ہوتا ہی ہے جبکہ حسن بھی سدا بہار جیسا بے مثال ہو۔ ایسی موہنی صورت پر تو آدمی جان دے بھی سکتا ہے۔ غزالی روشن آنکھیں، سنہرے بال، سونے حبیبی رنگت، سنگ مرمرسے بنی حور تھی یا کہ کوئی اپرسرا تھی جس نے بھی ہمارے خاندان میں اس حسن بے مثال کو دیکھا وہ دنگ رہ گیا۔

بلال دبئی سے چھٹی پر آیا تھا، چھٹی ختم ہو گئی۔ واپس جاتے ہوئے سدا بہار سے وعدہ کیا بہت جلد رہائش کا انتظام کر کے تم کو لینے آئوں گا۔ چند روز کی جدائی تو برداشت کرنا ہی ہو گی۔ جب تک بلال موجود تھا، گھر والوں نے سدا بہار کو توجہ دی مگر اس کے جاتے ہی سبھی نے اس کی طرف سے دل برا کر لیا۔ اس کو منہ نہ لگاتے ، ملال تھا کہ ہم ایسے شریفوں کے گھر کی بہو کہلانے کے یہ لائق نہ تھی اور بہورانی بن کر آگئی ہے۔ سدا بہار مرجھا کر رہ گئی، تبھی مجھ کو اس پر ترس آتا تھا کہ وہ اگر رقاصہ تھی یا کسی غلط جگہ جنم لیا تھا۔ اس میں اس کا تو کوئی قصور نہ تھا۔ یہ سب تقدیر کے کھیل تھے اور اب اگر وہ ایک شریف گھرانے کی بہو بن چکی تھی تو یہ کر وہ بھی اس کی تقدیر میں ہی ہو گا پھر اس سے اتنی نفرت کیوں؟ ایک میں ہی اس گھر میں وہ واحد ہستی تھی جو اس پر رحم کھاتی، اس سے بات کرتی اور اس کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتی تھی ، وہ بھی صرف مجھ ہی پر تکیہ کرنے لگی تھی۔ دن گنتے گنتے بالاخر وہ دن بھی آگیا جب بلال لوٹ کر گھر آیا۔ وہ اپنی دلہن کو لینے آیا تھا۔ 
 
اماں نے بہو کو اکیلے دبئی بھیجنا مناسب خیال نہ کیا۔ وہ خود گھر چھوڑ کر نہ جا سکتی تھیں۔ جبکہ بھیا کی خواہش تھی کہ ان کی بیوی کے ساتھ کوئی چلے، تبھی بھابی نے میرا نام لیا کہ نورین ہمارے ساتھ چلے تو میرا وہاں دل لگا ر ہے گا۔ میں جانتی تھی وہ مجھ کو پسند کرتی ہے اور باقی گھر والوں سے اس کا تعلق واجبی سا تھا۔ دبئی جانے سے ایک ہفتہ قبل جب کہ بھائی بلال کسی کام سے شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔ رات کو زور کی بارش ہوئی اور بجلی فیل ہو گئی، میں نے بارش کو طوفان میں بدلتے دیکھا تو مجھ سے نہ رہا گیا۔ اسی وجہ سے مجھ کو فکر ہوئی اور میں اوپر چلی گئی۔ بھائی اور بھائی کا کمرہ اوپر کی منزل پر تھا۔ طوفانی رات کو ایسے عالم میں وہ اکیلی اندھیرے میں پڑی تھی۔ یہی سوچ کر میں اوپر گئی تھی۔ ٹارچ میرے ہاتھ میں تھی، کمرے میں ٹارچ کی روشنی میں، میں نے دیکھا کہ بھابی بستر پر لیٹی تھی، قریب گئی اور ان کے چہرے پر روشنی پڑی وہ رو رہی تھی۔

ملکی زرد روشنی میں بھی وہ دیو مالائی کہانیوں کا کردار لگ رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا۔ تم کو ڈر تو نہیں لگ رہا۔ ہاں لگ تو رہا تھا مگر اب نہیں لگ رہا تم جو آ گئی ہو۔ اپنائیت پا کر وہ میرے قریب آگئی۔ تیز ہوا کے جھونکے بند کھڑکیوں سے بھی گھسے چلے آرہے تھے۔ بارش کی بوچھار گھر سے باہر قیامت کا شور برپا کر رہی تھی۔ جب تک قریب جا کر کان میں بات نہ کہو بات بھی اس شور میں اڑ جاتی تھی اور آواز ٹھیک طرح سنائی نہ دیتی تھی۔ ایسے میں ٹارچ بھی بجھ گئی اور کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔ ڈر کر وہ میرے اور قریب ہو بیٹھی، میرے کندھے پر سر رکھ دیا۔ رو کر اقرار کیا کہ اس گھر میں آ کر اس نے بڑی غلطی کی ہے کیونکہ گھر کا کوئی فرد بھی اس کو دل سے قبول نہیں کر رہا، اسی لئے ہر وقت اس ماحول میں اس کا دم گھٹتا رہتا ہے۔ کہنے لگی . آپا نورین بس اک تم ہی ایسی ہو کہ جس سے مجھ کو اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ اگر تم بھی میرا خیال نہ کرتیں تو جانے میرا کیا حال ہوتا۔ 
 
اس وقت وہ مجھے کوئی رقاصہ نہیں ایک بھولی بھالی کسی قابل رحم بچی لگ رہی تھی۔ مجھ کو اس کے دل کے حال کی سنگینی کا احساس ہوا۔ وہ طوفانی رات بیت گئی، اس رات میں، بھابی کے ساتھ ان کے پاس سو گئی کیونکہ بھائی کو اگلے روز واپس آنا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتہ بعد میں بلال بھائی اور سدا بہار بھابی کے ساتھ دبئی آ گئی۔ بلال بھائی ایک عربی کی کمپنی میں منیجر تھا۔ وہ صبح کا گیا شام کو آتا۔ تب میں ہی بھابی کو کمپنی دیتی، اس دوران ہماری دوستی زیادہ ہو گئی تو ایک دن میں نے سوال کر ہی دیا کہ بھابی تم کیا اسی ماں کی بیٹی ہو یا انہوں نے تم کو کسی سے لے کر پالا اور اپنی دنیا کا فرد بنا دیا ؟ بھابی بولی۔ میں اس ماں کی بیٹی نہیں ہوں۔ مجھ کو انہوں نے اس وقت خریدا جب میں پانچ برس کی تھی اور پانچ برس کی بچی کی یادداشت ٹھیک ٹھاک ہوتی ہے۔ مجھے اپنے والدین کی شکلیں اور گھر کا نقشہ تک یاد ہے، اگر کوئی مجھے اس شہر کے اس محلے میں لے جائے کہ جہاں ہمارا گھر تھا تو میں اپنے گھر کو پہچان لوں گی۔ یہ کہہ کر وہ رونے لگی۔ بولی۔ میرا نام سدا بہار ، میری اس اماں نے رکھا جس نے مجھے خریدا تھا۔ میرا اصل نام شمسہ بی بی ہے۔

مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ بھابی کو اپنا اصل نام اور بچپن کے حالات و واقعات یاد تھے حتی کہ والدین کے نام اور بہن بھائیوں کے نام بھی تبھی میرا دل نہایت افسردہ ہوا یہ سوچ کر کہ جیسی زندگی میں یہ تھی تو اس بچاری پر کیا گزری ہو گی ؟ اگر یادداشت نہ رہے تو دکھ بھی نہیں رہتا لیکن یادداشت کے ہوتے ہوئے دکھ سوا ہو جاتے ہیں۔ جب اپنے بھلائے نہیں جاتے اور ان سے جدائی کا دکھ بھی دل کو نوچتا رہتا ہے۔ بھائی تم اپنوں سے کیونکر جدا ہو گئیں ؟ کیا ان سے ملنے کی پھر سبیل نہ بن سکی؟ بولی۔ ایک روز امی کے ساتھ بازار آ گئی تھی۔ وہ کچھ خرید رہی تھیں، رش بہت تھا۔ میں ان سے بھیڑ میں جدا ہو کر ان کو ڈھونڈتی الگ سمت کو چل پڑی۔ وہ مجھ کو تلاش کرتی رہی ہوں گی لیکن میں کچھ دور نکل گئی تو رونا شروع کر دیا۔ لوگ اکٹھے ہو گئے ، تبھی ایک عورت آگے بڑھی، میرا نام پوچھا۔ لوگوں سے کہا کہ بچی اپنے والد کا نام اور گھ کا نام اور گھر کا پتا جانتی ہے۔ میں اس کو کسی مرد کے ہاتھ میں نہ دوں گی۔ مجھ سے ابو کافون نمبر پوچھا۔ میں نے بتایا۔ وہ مجھے ایک دکان پر لے گئی اور فون ملایا۔
 خدا جانے غلط نمبر جان بوجھ کر ملایا ہو گا۔ بولی۔ اچھا آپ کی بچی میرے پاس ہے۔ پتا لکھوائے میں لارہی ہوں۔ پھر دکان والے سے کاغذ پینسل لے کر پتا لکھا اور مجھے رکشے میں بٹھا لیا اور میرے گھر لے جانے کی بجائے اپنے گھر لے گئی۔ اس کا شوہر صحیح آدمی نہ تھا۔ اس نے مجھے میری موجودہ نام نہاد ماں کے پاس لا کر فروخت کر دیا اور پھر اس کے بعد میرے والدین سے ملنے کی کوئی سبیل نہ بن سکی۔ ایک آدھ بار کوشش کی مگر تب تک فون نمبر بھول چکی تھی۔ گھر کا نمبر بھی یاد نہ رہا تھا صرف ماں باپ کا نام اور ان کے چہرے یاد رہ گئے۔ یہ سب بتا کر بھائی بہت دیر تک روتی رہی۔ میں نے اسے چپ کرانے کی کافی کوشش کی۔ اس وقت میری عمر 25 برس ہو گی جب کہ وہ سترہ برس کی تھی۔ اور بھائی بلال 23 برس کا تھا۔

ہماری عمروں میں زیادہ فرق نہ تھا۔ میں بھابی کے جذبات کو سمجھ سکتی تھی۔ اب مجھ کو اور زیادہ اس سے محبت ہو گئی اور میں اس کو اس کے اصل نام شمہ بھابی کہہ کر بلانے لگی۔ ہر نماز کے بعد دعا کرتی۔ اے اللہ میری بھابی کو اس کے والدین سے ملا دے۔ اللہ نے میری دعا سن لی۔ ایک روز ہم دبئی کے ایک مال میں گئے تو میں نے شمسہ کی ہم شکل لڑکی کو دیکھا۔ اتنی مماثلت دونوں کی صورت میں پائی کہ مجھے لگا ان کا آپس میں کوئی رشتہ ضرور ہے۔ تبھی میں اس لڑکی کے پاس گئی اور پوچھا۔ کیا آپ کے والد کا نام چوہدری اسرار ہے۔ وہ چونک پڑی اور بولی۔ ہاں۔ اور کیا آپ کی امی کا نام زیب النساء ہے ؟ وہ اور زیادہ حیران ہو گئی۔ ہاں ہے، لیکن آپ کون ہیں اور میرے والدین کو کیسے جانتی ہیں ؟ کیا آپ کی بہن بچپن میں بازار میں اپنی ماں سے بچھڑ گئی تھی ؟ ہاں ہاں لیکن آپ کو کیسے معلوم ؟ وہ رہی آپ کی بہن۔
 
 میں نے شمسہ کو آواز دی جو بلال کے ساتھ ایک دکان میں کھڑی جیولری دیکھ رہی تھی۔ بھائی ادھر آؤ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ وہ میری طرف آ گئی۔ اتنے میں اس لڑکی کی ماں بھی قریب آگئی۔ آپ کی شمسہ نام کی بیٹی کھو گئی تھی۔ جب وہ پانچ برس کی تھی ، وہ میری بھابی ہے، یہ رہی۔ میں نے بھابی کو ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا خاتون نے غور سے بھابی کو دیکھا اور اگلے لمحے وہ اس سے لپٹ گئی کیونکہ یہ ان کی کھوئی ہوئی بیٹی تھی جو دوسری بیٹی کی ہم شکل تھی۔ یہ دونوں ان کی جڑواں بیٹیاں تھیں۔ اگر یہ ہم شکل جڑواں نہ ہوتیں تو یقینا ان کی والدہ کے لئے شمسہ کو پہچان لینا مشکل ہوتا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طاقت و قدرت پر رطب اللسان ہو گئی کہ واہ میرے رب تیری شان ، تیری قدرت، تو جو چاہے کر سکتا ہے۔
 تیرے معجزات بے مثال اور تیری ذات مکمل باکمال ہے۔ اپنے والدین سے ملنے کے بعد شمسہ کو جو سکون ملا اتنا تو شاید اس کے گھر والوں کو بھی نہ ملا ہو گا، تاہم ہم کو اللہ نے یہ دکھلا دیا کہ جس کو تر سمجھ کر ہم اس سے نفرت کر رہے تھے اور اس کو قبول نہ کر رہے تھے وہ پشاور کے ایک نہایت معزز خاندان کی چشم و چراغ تھی اور وہ لوگ حیثیت میں ہم سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھے۔ آج بھابی کو ہم پر فخر ہے تو ہمیں بھابی پر فخر ہے کہ ان کا حسب نسب اعلیٰ ہے اور شاید بلال بھائی سے اس کو خدا نے اس لئے ملایا تھا کہ اس کو اس کے گھر اور لئے خاندان والوں سے ملانا تھا۔ خدا جانے یہاں کتنی ایسی لڑکیاں ہوں گی جو شریف خاندان اور اعلیٰ حسب و نسب کے باوجو د غلط لوگوں کے ہاتھوں سے غلط جگہوں پر پہنچ گئیں اور اپنا حسب نسب کھو بیٹھیں۔

(ختم شد)
  
romantic stories

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ