سائرہ میری کلاس فیلو تھی۔ وہ مجھ پر جان چھڑکتی تھی۔ میرا بھائی اس پر فدا ہو گیا، میری بھی خواہش تھی کہ وہ میری بھابی بن جائے، میں نے سائرہ سے اپنے دل کی بات کہ دی تو اس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا اور مجھ سے ملنا بھی بند کر دیا۔ ایک دن میں اس کے گھر جا پہنچی اور یہ جان کر میرے پیروں تلے زمیں ہی نکل گئی کہ وہ اک لڑکی ہی نہیں تھی۔
👇sublimegate👇
👇sublimegate👇
یکم ستمبر سے فرسٹ ایئر کی کلاسیں شروع ہو رہی تھیں۔ میں نئی امیدیں اور نئی خوشیاں لے کر کالج کے گیٹ میں داخل ہوئی اور سیدھی چلتی برآمدے میں ایک لڑکی کے پاس جا کر ٹھہر گئی جو نوٹس بورڈ کے آگے کھڑی تھی۔اس کی نگاہیں بے قراری سے لسٹ میں اپنا نام تلاش کر رہی تھیں۔ وہ بورڈ پر آویزاں فہرست کو دیکھنے میں اس قدر محو تھی کہ اسے میری موجودگی کا احساس نہ ہوا۔ کچھ دیر انتظار کے بعد میں نے ایکسکیوز می کہہ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تب ہی وہ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ ہم دونوں کے مضامین ایک ہی تھے۔ یوں کالج میں بیشتر وقت اکٹھے گزرنے لگا۔ کئی لڑکیوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن ہم نے کسی کو اپنے ساتھ شامل نہ کیا، البتہ ہر ایک سے علیک سلیک ضرور کر لیتے تھے۔
ایک دن باتوں باتوں میں پتا چلا کہ سائرہ اپنے ماموں کے گھر رہتی ہے جبکہ اس کے ماں باپ اور بہن بھائی پنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ والدین کے ہوتے ہوئے وہ ماموں کے گھر کیوں رہ رہی ہے۔ ایک دن پوچھ لیا کہ کیا تم کو تمہارے ماموں اور ممانی نے گود لیا تھا؟ والدین کے پاس کیوں نہیں رہتیں؟اس پر وہ خاموش ہو گئی۔ اس کے چہرے پر اداسی چھا گئی تھی۔ دوبارہ سوال دہرانا مناسب نہ سمجھا۔ دسمبر میں سردیوں کی چھٹیاں آ گئیں۔ ہم نے چچا جان کے گھر جانے کا پروگرام بنا لیا تھا۔ وہ راولپنڈی میں رہتے تھے۔ میں نے سائرہ سے پوچھا کہ چھٹیوں میں تمہارا پروگرام پنڈی جانے کا ہے؟ اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ میں نے پوچھا کہ کیوں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے پاس چھٹیاں نہیں گزارو گی؟ وہ چپ رہی لیکن آبدیدہ ہو گئی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ سائرہ کو کوئی دکھ ہے۔
وہ کسی خاص وجہ سے والدین کے گھر نہیں رہتی۔ مجھے تجسس ہوا کہ شاید اپنا دکھ مجھے بتانا چاہتی ہو مگر جھجھک رہی ہو۔ سائرہ، آج مجھے بتا ہی دو کہ تم ماں باپ سے دور ماموں کے گھر کیوں رہتی ہو؟ میرے اصرار پر بالآخر اسے بتانا ہی پڑا۔ میری ماں سات سال قبل وفات پا گئیں تو ابو نے دوسری شادی کر لی۔ سوتیلی ماں مجھے رکھنا نہیں چاہتی تھی۔ اسی وجہ سے ماموں اور ممانی مجھے اپنے ساتھ لے آئے۔ اب ان کے پاس ہی رہتی ہوں۔ میں نے پوچھا کہ یہاں تم خوش ہو؟اس نے کہا کہ ہاں، کم از کم سکون تو ہے۔ ممانی اچھی ہیں، پیار کرتی ہیں۔ ماموں بھی میرا خیال رکھتے ہیں۔ چوتھی جماعت میں تھی جب سوتیلی ماں نے اسکول سے اٹھا لیا تھا۔ ان کے دو بچے ہو گئے تھے۔ سارا دن بچوں کو سنبھالتی، گھر کا تمام کام بھی کراتی تھیں مگر مجھ سے خوش نہ تھیں۔ کہتی تھیں کہ جب بڑی ہوگی تو ہماری بدنامی کا باعث بنو گی، ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے۔میں نے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کہتی تھیں؟اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا کہ معلوم نہیں۔ پھر کہنے لگی کہ چھوڑو ان باتوں کو۔ اسے میری باتوں سے الجھن ہو رہی تھی۔
اس دن سے سائرہ سے اور بھی زیادہ انس ہوگیا۔ چھٹیاں ہوگئیں۔ ہم نے چچا کے گھر جا کر خوب انجوائے کیا۔ مری میں خوبصورت دن گزارے اور پلک جھپکتے چھٹیاں بیت گئیں۔ کالج کھلا تو سائرہ سے ملاقات ہوئی۔ حسبِ معمول محبت سے ملی۔ کہنے لگی کہ نوشین، میری چھٹیاں تو بہت بور گزری ہیں۔ میں تو بات کرنے کو ترس گئی تھی۔ دن گن رہی تھی کہ کب چھٹیاں ختم ہوں اور تم سے ملوں۔میں نے کہا کہ ہاں سائرہ، میں نے بھی تمہیں بہت مس کیا۔ کاش تمہارے ماموں ممانی سے اجازت مل جاتی اور تمہیں بھی اپنے ساتھ لے جاتی۔ سچ، بڑا مزہ آتا۔کچھ دن گزرے کہ سائرہ نے کالج آنا بند کر دیا۔ ہفتہ بھر اس نے ناغہ کیا تو مجھے تشویش ہوئی۔
اس کے گھر کا فون نمبر میرے پاس تھا۔ فون اس کی ممانی نے اٹھایا۔ میں نے بتایا کہ میں نوشین بول رہی ہوں، سائرہ کی کلاس فیلو۔ وہ ہفتے بھر سے کالج نہیں آرہی، خیریت معلوم کرنے کو فون کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائرہ کو بخار آ رہا ہے، اسی وجہ سے نہیں آسکی۔ میں نے پوچھا کہ کیا اس سے بات ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں بیٹی، تم فون ہولڈ پر رکھو میں اسے بلاتی ہوں۔میں نے پوچھا کہ سائرہ، تم کیسی ہو؟اس نے جواب دیا کہ اب ٹھیک ہوں نوشین۔ میں نے پوچھا کہ کب آؤ گی؟ تمہارے بغیر کالج میں بالکل دل نہیں لگتا۔اس نے کہا کہ ابھی نہیں آ سکتی، دو چار دن بعد آؤں گی۔ میں نے کہا کہ سائرہ، ٹیسٹ کی تیاری کیسے کرو گی؟ تم مجھے نوٹس دینے آجاؤ نا۔ کیا آسکتی ہو؟اس نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں، اپنے گھر کا پتہ لکھوا دو، میں آج آ جاؤں گی۔اس نے پتہ لکھوایا اور اگلے دن میں اس کے گھر چلی گئی۔
سائرہ واقعی بیمار لگ رہی تھی؛ کمزور اور زرد رو ہو گئی تھی۔ میں نے کہا کہ جلد ٹھیک ہو جاؤ۔ سہ ماہی امتحان ہونے والا ہے اور تم نے اتنے ناغے کر لیے ہیں۔ ٹیچر نے بہت کچھ پڑھا دیا ہے۔اس نے کہا کہ کیا کروں، بیماری اپنے بس میں تو نہیں۔ وہ ہاف آستین کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ اچانک میری نظر اس کے بازوؤں پر پڑی۔ کہنی سے اوپر دونوں بازوؤں پر کالے کالے نشان تھے۔میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کیا ہے سائرہ؟ یہ تو جلنے کے نشان ہیں۔اس نے کہا کہ ہاں، جلنے ہی کے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیسے پڑے یہ داغ؟ اس نے کہا کہ سوتیلی امی نے ڈالے ہیں۔ میں نے گھبرا کر پوچھا کہ کیا؟ انہوں نے تمہیں جلایا؟
اس نے کہا کہ ہاں، سزا کے طور پر۔ میں نے کہا کہ کس جرم کی سزا دی انہوں نے؟ اس نے کہا کہ ایسے جرم کی، جو میں نے کیا ہی نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ خدا کے لیے مجھے تو بتاؤ، میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔اس نے بتایا کہ ایک دن مما کی سونے کی انگوٹھی گم ہوگئی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میری انگوٹھی دیکھی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں مما، میں نے نہیں دیکھی۔ وہ بولیں کہ تمہارے سوا اور تو کوئی گھر میں نہیں ہے، تم ہی نے اٹھائی ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے نہیں اٹھائی، میں اس کا کیا کروں گی؟ وہ بولیں کہ میرے آگے زبان چلاتی ہے؟ انگوٹھی تو نے ہی اٹھائی ہے، مجھے پریشان کرنے کے لیے۔ دے دی ہوگی کسی کو۔ انگوٹھی ڈھونڈ کر دے مجھے ابھی ابھی، ورنہ میں تیری جان نکال لوں گی۔
خوف کے مارے میں ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگی۔ اس کمرے، اس کمرے میں، ان کی سنگھار میز کی درازوں میں۔ انگوٹھی کہیں ہوتی تو ملتی۔ معلوم تھا کہ وہ خود ہی چیزیں ادھر اُدھر کر دیتی تھیں اور بہانے سے میری درگت بناتی تھیں۔ اب یقین ہو گیا تھا کہ تھوڑی دیر بعد میری سخت پٹائی ہونے والی ہے۔ دو گھنٹے تک اس لاحاصل انگوٹھی کو تلاش کرنے میں ہلکان ہوتی رہی اور وہ مزے سے اپنے کمرے میں بیٹھی ٹی وی دیکھتی رہیں۔ ایسے ہی مجھے خوفزدہ اور ہراساں کرکے خوش ہوتی تھیں۔ دوپہر سے شام کے چار بج گئے، انگوٹھی نہ ملی۔ میں خدا سے دعا کر رہی تھی کہ یا اللہ کوئی غیبی مدد بھیج دے۔ کچھ دیر بعد بیل ہوئی۔ میں دروازے پر پہنچی کہ شاید ابو آئے ہوں۔ در کھولا تو پڑوسی لڑکا ارشد ہاتھ میں ڈش تھامے کھڑا تھا۔ کہنے لگا کہ امی نے نیاز دلوائی ہے، زردے کی قاب بھجوائی ہے۔ میں نے ڈش لے لی۔اتنے میں مما باہر نکل آئیں۔ پوچھنے لگیں کون تھا، کس نے بیل دی تھی۔ میں نے ڈش انہیں دے کر کہا کہ یہ سامنے والوں کے گھر سے آئی ہے۔ وہ کچن میں گئیں اور چند منٹ بعد واپس آگئیں۔ انہوں نے خالی ڈش مجھے پکڑائی۔ میں گیٹ کی طرف گئی تو وہ بھی دبے قدموں میرے پیچھے چلتی آئیں کہ دیکھیں دروازے پر کون ہے۔ سامنے ارشد نظر آگیا۔
میں پلٹی تو وہ پیچھے کھڑی تھیں۔ بولیں تو یہ لایا تھا زردہ۔ میں نے سہم کر کہا جی۔انہوں نے فوراً پوچھا کیا یہ ویسے بھی آتا ہے تم سے بات کرنے۔ نہیں مما، کبھی نہیں آیا۔ ہمارا تو گیٹ بند ہوتا ہے۔اچھا۔ اب تو انگوٹھی ڈھونڈ لی؟ آدھے گھنٹے میں مل جانی چاہیے، ورنہ… انہوں نے چمٹا اٹھا کر دکھایا۔ میں کانپ گئی کیونکہ جب انہیں مجھ سے نفرت نکالنی ہوتی تو چمٹا گرم کرکے میری پیٹھ داغ دیتی تھیں۔ گرم چمٹے کی اذیت ناک جلن کے تصور سے ہی میری روح کانپنے لگتی۔ میں دوڑی ادھر اُدھر، مگر انگوٹھی نہ ملی۔ اسے ملنا بھی نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد انہوں نے مجھے بلایا۔ آئو دیکھا نہ تائو، چمٹا گرم کرکے میری طرف لپکیں۔ میں خوف سے صحن کی طرف بھاگی مگر انہوں نے مجھے دبوچ لیا اور گرم چمٹے سے میری کمر داغ دی۔ پھر بازوؤں میں پکڑ کر روتے ہوئے کہنے لگیں کہ اللہ کی قسم مجھے تیری انگوٹھی کا کچھ نہیں پتا۔ لیکن ان پر تو مجھے اذیت دینے کا بھوت سوار تھا۔ یہ سب کر کے بھی وہ باز نہ آئیں۔ بالوں سے پکڑ کر گیٹ سے باہر گھسیٹ دیا۔ بولیں کہ تو کون سی لڑکی ہے جسے کوئی کچھ بگاڑ لے گا۔ جب تک بتائے گی نہیں کہ انگوٹھی کدھر ہے، گھر کے اندر نہیں آنے دوں گی۔ چل، اب باہر ہی بیٹھی رہ۔میری چیخوں کی آواز ارشد نے بھی سنی۔ وہ بالکونی میں آ گیا اور سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔وہ سترہ برس کا سمجھدار لڑکا تھا۔ دوڑ کر نیچے آیا اور مما سے مخاطب ہوا کہ آنٹی ہم روز اس بچی پر ظلم ہوتا دیکھتے ہیں۔ آپ کے بھی بچے ہیں، کیا آپ کے دل میں رحم نہیں؟ یہ آپ کے شوہر کی بچی ہے تو کیا ہوا؟ لڑکی ذات کو آپ نے گھر سے نکال دیا، یہ کہاں جائے گی؟مما جو بپھری ہوئی شیرنی بنی کھڑی تھیں، ارشد سے کہنے لگیں کہ پہلے تو مجھے شک تھا، اب یقین ہو گیا ہے کہ میری انگوٹھی اس مردود نے تمہیں دی ہے، تبھی تم اس کی حمایت میں آگئے ہو۔
ارشد غصے سے لال ہوگیا۔ کہنے لگا آپ مجھ پر بھی چور ہونے کا الزام لگا رہی ہیں؟ انگوٹھی کی قیمت میں آپ کو دینے کو تیار ہوں مگر خدا کے لیے اس بچاری کو گھر سے مت نکالیے۔ یہ کہاں جائے گی؟مما بولیں تم رکھ لو اسے اپنے گھر، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ چاہے مار ڈالیے، جیل تو آپ ہی جائیں گی۔ارشد کے ان الفاظ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ وہ چلا گیا تو مما نے مجھے دوبارہ بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور گھر کے اندر لے جا کر پیٹا۔ اب محلے کے لڑکے بھی تیری حمایت میں ہمارے منہ کو آنے لگے۔ کون ہوتے ہیں یہ کل کے چھوکریے ہمارے گھریلو معاملے میں دخل دینے والے؟ آجانے دو اپنے باپ کو، اس لڑکے کو میں نے جوتے پڑوانے ہیں۔میں کمرے میں جا کر فرش پر لیٹ گئی اور سسکتی رہی کیونکہ بلند آواز سے رونے کی اجازت نہ تھی۔ارشد کی امی کے پاس میری ممانی کا فون نمبر تھا اور اس بات کا علم مما کو نہیں تھا۔ ارشد نے جب سارا احوال اپنی والدہ کو بتایا تو انہوں نے ڈائری سے نمبر نکالا اور لاہور فون کر دیا۔ فون ماموں نے اٹھایا۔
آنٹی گل نے تمام حالات ان سے بیان کرکے کہا کہ کیسا ماموں ہے، کسی روز یہ ظالم عورت بیچاری بچی کی جان لے لے گی۔ اگر آپ کل تک نہ آئے تو ہم تھانے رپورٹ کرا دیں گے۔ فون سنتے ہی ماموں لاہور سے چل پڑے اور رات دس بجے کے قریب پہنچ گئے۔ ممانی بھی ساتھ آئیں۔ انہوں نے جب میرے بازوؤں اور کمر پر جلانے کے نشان دیکھے تو والد سے خوب جھگڑے اور کہا کہ میری بھانجی ہمیں دے دیں، ورنہ میں عدالت جاؤں گی۔والد صاحب ڈر گئے اور مجھے ماموں ممانی کے ساتھ بھیج دیا۔ تب سے میں ان کے پاس ہوں۔ سوتیلی ماں کے ظلم سے تو نجات مل گئی ہے، لیکن جو داغ انہوں نے میرے بازوؤں، پیٹھ اور کمر پر لگائے ہیں وہ عمر بھر مٹنے والے نہیں ہیں۔سائرہ کے منہ سے ظلم کی یہ داستان سن کر میں سکتے میں رہ گئی اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ کہنے لگی کہ وہ برے دن مجھ سے دور جا چکے ہیں۔ اب تو آرام اور سکون سے ہوں۔ ماموں نے گھر پر ٹیوشن پڑھا کر میٹرک کا امتحان دلوایا اور کالج میں بھی داخل کرا دیا ہے۔ دعا کرو کہ آئندہ بھی میری خیریت گزرے۔ یہ بھی دعا کرو کہ خدا پھر کبھی مجھے میرے والد کے گھر نہ لے جائے۔ وہ باپ کا گھر نہیں، میرے لیے دوزخ ہےمیں نے کہا کہ سائرہ، مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی دکھی ہو۔ کاش پہلے یہ سب بتا دیتیں۔وہ بولی کہ پہلے بتا دیتی تو تم کیا کرلیتیں؟ میں تمہیں دوست سمجھتی تھی اور اب دل میں جگہ دوں گی۔ دعا کرتی ہوں کہ ہم کبھی جدا نہ ہوں۔ آنے والے وقت کی کیا خبر نوشین، خدا جانے آنے والے دنوں میں زمانہ میرے ساتھ کیسا سلوک کرے۔
سائرہ کا کہا ہوا یہ جملہ آج بھی میرے دل میں تیر کی طرح چبھتا ہے۔ میں نے امی اور باجی کو احوال بتایا تو وہ بھی افسردہ ہوگئیں۔ امی بولیں کہ میں اس کی ممانی سے ملوں گی۔ تم اقبال کو آنے دو، وہ سائرہ کی ایک جھلک دیکھ لے۔ اگر راضی ہوا تو سائرہ کا رشتہ مانگ لیں گے۔ خوبصورت تو ہے۔ دو ماہ بعد اقبال بھائی برطانیہ سے آنے والے تھے۔ وہ وہاں انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کی خاطر گئے ہوئے تھے۔ باجی منزہ کی شادی کی تاریخ رکھی جانی تھی۔ امی کا خیال تھا کہ تاریخ طے ہو جائے تو اقبال کو آنے کا کہیں گے تاکہ بہن کی شادی میں بھی شرکت کرلے۔ تاریخ طے ہو گئی تو امی تیاریوں میں مصروف ہوگئیں۔ کارڈ چھپ گئے۔ میں سائرہ کے گھر کارڈ دینے گئی اور اصرار کیا کہ ضرور آنا ہے۔ جس روز شادی تھی، سائرہ کا شدت سے انتظار تھا۔ تمام مہمان آچکے تھے لیکن وہ ابھی تک نہ پہنچی تھی۔ بالآخر فون کیا۔ اس کی ممانی نے اٹھایا۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ شادی میں ابھی تک کیوں نہیں آئے؟ کہنے لگیں کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں اور سائرہ کے ماموں کسی کام سے پشاور گئے ہیں۔ سائرہ کو اکیلے کیسے بھیجوں؟ میں آجاتی ہوں اسے لینے اور خود چھوڑ بھی جاؤں گی۔ آپ اس کو کہیے کہ تیار رہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے اور انہوں نے فون رکھ دیا۔اس وقت ڈرائیور کسی کام سے گیا ہوا تھا۔ میں نے اقبال بھائی کی منت کی کہ میری سہیلی اکیلی نہیں آسکتی، اس نے گھر بھی نہیں دیکھا۔ بھائی جان، پلیز مجھے لے جائیں، سائرہ کو اس کے گھر سے لانا ہے۔ بھائی جان میری کوئی بات نہیں ٹالتے تھے۔
آج بھی باوجود مصروفیت کے انہوں نے انکار نہ کیا اور ہم سائرہ کے گھر پہنچے۔ وہ تیار تھی۔ بغیر وقت ضائع کیے اسے ساتھ لیا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔وہ تیار ہو کر بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کے والد کشمیری اور ماں مرحومہ ایک ایرانی خاتون تھیں۔ دونوں کا حسن اس میں جھلکتا تھا۔ گوری گلابی رنگت، کالی سیاہ آنکھیں اور دبلا پتلا وجود۔ چہرے کے تیکھے نقوش ایسے تھے کہ گویا چغتائی آرٹ کا کوئی شاہکار ہو۔ اقبال بھائی سارا راستہ خاموش رہے، لیکن اس کی ایک جھلک ان کے دل میں اتر چکی تھی۔میں بھی کسی بہانے سائرہ کی جھلک انہیں دکھانا چاہتی تھی تاکہ باجی کی شادی کے بعد ممانی سے رشتے کی بات کی جائے۔ میں نے سائرہ سے پوچھا کہ تمہیں میرے بھائی کیسے لگے۔ اس نے کہا کہ واہ، کیا بات ہے ان کی، ایک دم نمبر ون ہیں۔ مجھے دل کی بات لبوں پر لانے کا حوصلہ ہوا۔ میں نے کہا کہ پتا ہے جب تم دونوں گاڑی سے نکل کر گھر کی طرف آرہے تھے تو تمہاری جوڑی خوب جچ رہی تھی۔
اگلے دن شام کو اقبال بھائی میرے سامنے صوفے پر بیٹھے اور کہنے لگے کہ میری ایک آرزو ہے، کیا تم پوری کرسکتی ہو؟ میں نے کہا آرزو بتائیں بھائی جان، میری جان بھی حاضر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم سائرہ کو اپنی بھابی بنالو۔ میں نے کہا کہ آپ نے میرے دل کی آرزو کہہ دی، یہی آرزو امی جان کی بھی ہے۔ انہوں نے کہا تو کب بات کرو گی؟ میں نے کہا کہ کل سائرہ سے پوچھ لوں گی، امید ہے وہ انکار نہیں کرے گی۔ اس نے آپ کے بارے میں بہت حوصلہ افزا باتیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس وقت کم ہے، واپس بھی جانا ہے۔دوسرے روز میں نے سائرہ سے بات کی۔ امید تھی کہ وہ خوشی سے جواب دے گی، مگر اس کے چہرے پر رنج کے آثار تھے۔ میں نے کہا کہ اگر سوچنے کا وقت چاہیے تو آج نہیں تو کل جواب دے دینا۔ وہ چپ رہی۔ اس کے بعد سارا دن اس نے مجھ سے بات نہ کی۔
اگلے دن بھی اس نے کوئی بات نہ کی جبکہ میری نگاہیں سوال بن کر اس کے چہرے سے جواب مانگتی رہیں۔ اقبال بھائی بھی منتظر تھے کہ ہاں کرے تو امی کو اس کی ممانی کے پاس بھیجیں۔چھٹی کے وقت میں نے سائرہ سے کہا کہ تم نے جواب نہیں دیا۔ اقبال بھائی انتظار کر رہے ہیں۔ اگر تم پسند کرو تو ہم رشتے کے لیے آئیں گے۔ اس نے خالی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں گھبرا گئی۔ میں نے کہا سائرہ، اگر کسی اور کو پسند کرتی ہو یا کہیں بات طے ہو چکی ہے تو بتادے، اس سے ہماری دوستی نہیں ٹوٹے گی۔اس نے کہا کہ کل بتا دوں گی۔اگلے دن میں اس کے گھر گئی۔ وہ پھر خاموش تھی۔ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا کہ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ ہاں نہیں کہہ سکتی تو ناں کہہ دو، یہ چپ کا ڈرامہ میرے سامنے مت کرو۔ تم تو مجھ پر جان چھڑکتی تھیں، ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتی تھیں، اور اب جبکہ قدرت ہمیں ملانا چاہ رہی ہے تو تم ہم سے دور بھاگ رہی ہو۔ آخر کیوں؟وہ ضبط کرتے ہوئے بولی کہ خدا کے لیے مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور ایسے ہی جینے دو۔ میں تمہیں وجہ نہیں بتا سکتی۔میں نے کہا کہ وجہ بتانی ہوگی سائرہ، ورنہ میں آج کے بعد تمہاری شکل نہیں دیکھوں گی۔ تب اسے سلے ہوئے لب کھولنے پڑے۔ اس نے کہا کہ شاید میں یہ بات ساری عمر نہ بتاتی، لیکن تم نے مجبور کر دیا ہے۔ میں نارمل انسان نہیں ہوں۔ میرا شمار تیسری جنس میں ہوتا ہے۔ یہ بات ابو، میری والدہ، مما اور ماموں ممانی کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ میں تمہاری دوستی کھونا نہیں چاہتی تھی کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ پیار مجھے تم ہی سے ملا ہے۔یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
میں خود اپنی نظروں میں مجرم بن گئی۔ اس کے آنسو پونچھنے کی بھی ہمت نہ رہی۔اس کے بعد وہ کالج نہ آئی۔ اس نے کالج ہی چھوڑ دیا۔میں چند دن صبر کر سکی آخر اس کی ممانی کے پاس چلی گئی۔ انہوں نے بتایا۔ بیٹی وہ بہت رنجیده تهی تبھی اس نے کالج جانے سے انکار کر دیا اور ہمارے گھر سے واپس اپنے والد کے گھر چلی گئی کہ وہ تمہارا سامنا ہی نہ کرنا چاہتی تھی۔ اس کو ڈر تھا کہ تم ضرور آئو گی۔ اس نے کہا کہ ایک ہی دوست میری زندگی تھی اس کو بھی کھو دیا ہے۔ اب یہاں نہیں رہنا جس کو کهو دیا تو بس کھو دیا۔ کچھ دنوں بعد میں اور سائرہ کے ماموں جائیں گے۔ شاید مان جائے اور واپس آجائے۔ کسی اور کالج میں ہم اس کا داخلہ کرا دیں گے۔اقبال بهائی آزرده ہو کر واپس انگلینڈ چلے گئے۔ مجھے آج بھی دکھ ہے کہ میری ذات سے انجانے میں سائرہ کو تکلیف پہنچی۔ وہ مجھے اپنا دوست ہی نہیں غمگسار بھی سمجھتی تھی۔ اس نے غمگسار بھی کھو دیا تھا۔
.jpg)
