اک رات کی لغزش

Sublimegate Urdu Stories

دلاور ہمارا ملازم ساتھ والے کمرے میں رہتا تھا اور ایک رات میں اس کے کمرے سے رسالے اٹھانے چلی گئی
 کیونکہ وہ رات کو سینما کا آخری شو دیکھنے جاتا تھا۔ اس کے کمرے میں مجھے اک ایسا رسالہ بھی ملا جسے دیکھ کر میرے تن بدن میں بجلی کوند گئی، نسوانی جذبات بھڑک اٹھے۔ اچانک وہ آ گیا اور پھر اس رات جذبات کی شدت میں بہ کر ہم سے اک بڑی غلطی ہو گئی، جب میں واپس اپنے کمرے میں آئی تو سارا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ میں بستر پر گر گئی اور رونے لگی۔
👇sublimegate👇
جب میری آپا کی شادی ہوئی تو میں سترہ برس کی تھی۔ بہن رخصت ہو کر سسرال چلی گئی تو میرا دل ویران سا لگنے لگا۔ ہم دو ہی بہنیں تھیں اور کبھی آپس میں جدا نہیں ہوئی تھیں۔ اب آپا کی جدائی شاق گزرنے لگی، اُداس رہتی تھی، گھر میں دل نہیں لگتا تھا۔ ایف اے کے بعد کالج جانا بھی موقوف ہو گیا تھا۔ والدہ اکیلے کہیں آنے جانے نہیں دیتی تھیں، بڑی پابندیاں تھیں۔ حتیٰ کہ آپا کے گھر بھی رات رکنے کی اجازت نہیں تھی جب تک امّی ساتھ نہ ہوتیں۔ ایسے ماحول میں ظاہر ہے اور بھی گھٹن محسوس ہوتی۔ آپا دولہا بھائی کے ساتھ میکے صبح آتیں، شام کو وہ انہیں لینے آ جاتے۔ میں دعا کرتی کہ خدا میری آپا کو اولاد سے نوازے تاکہ اسی بہانے میں آپا کے گھر جا سکوں۔ شادی کے کچھ عرصے بعد بہنوئی کا تبادلہ ہو گیا اور وہ دوسرے شہر چلے گئے۔ آپا نے امّی کو بلا لیا کہ یہاں بہت اچھا اور خوبصورت مکان ملا ہے لیکن اسے سیٹ کرنا میرے بس کی بات نہیں۔ آپ چند دنوں کے لیے کوئٹہ آ جائیے اور گھر کی سیٹنگ میں مدد کیجیے، مدیحہ کو بھی ہمراہ لیتی آئیے۔ان دنوں آپا امید سے تھیں، اس وجہ سے امّی جان نے فیصلہ کیا کہ تھوڑے دنوں کے لیے بیٹی کے پاس جا رہی ہیں۔ مجھے ساتھ لیا اور آپا کے پاس چلی آئیں۔ ہمارے آنے سے آپا تو خوش ہوئیں ہی، میری خوشی کا بھی ٹھکانہ نہ تھا۔ ان کے گھر جا کر رہنے کا میرا خواب پورا ہو گیا تھا۔ امّی نے ان کے خوبصورت گھر کو سیٹ کیا اور میں نے سجا سنوار دیا۔ میرے بہنوئی بھی ہمارے آنے سے بہت خوش تھے اور خاطر مدارت کرتے تھکتے نہ تھے۔مکان کافی بڑا تھا، اس لیے ہمیں الگ کمرہ دے دیا گیا۔ میں رسائل اور مختلف ڈائجسٹ منگوا لیا کرتی تھی۔

جس ملازم سے میں رسالے منگواتی تھی وہ ایک مقامی نوجوان تھا۔ اس کا نام دلاور تھا۔ بہت خوبصورت، گورا چٹا، جیسا کہ پہاڑی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ تابعدار قسم کا تھا، تبھی سب اس سے خوش رہتے تھے۔ جو کمرہ مجھے اور امّی کو دیا گیا تھا، اس کے ساتھ ہی ایک کمرہ ایسا بھی تھا جو بظاہر الگ رخ پر بنا ہوا تھا، مگر بوقتِ ضرورت درمیانی دروازہ کھول کر اسے باقی گھر سے ملایا جا سکتا تھا۔ ملازم کا کوارٹر کافی دور تھا اور رات میں ضرورت پڑنے پر دلاور کو بلانا دقت طلب ہوتا۔ چونکہ آپا کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی، اس لیے جب دولہا بھائی کی رات کی ڈیوٹی ہوتی تو دلاور کو اسی متصل کمرے میں ٹھہرا لیا جاتا۔ اس طرح خواتین کو ڈر محسوس نہ ہوتا۔ درمیانی دروازہ مقفل رکھنے کی وجہ سے وہ الگ تھلگ بھی رہتا۔ آپا اور حسیب بھائی دلاور سے بہت خوش تھے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ہر کام نہایت خوش اسلوبی سے کرتا تھا۔ کھانا پکانے سے لے کر جوتے پالش کرنے تک تمام ہنر جانتا تھا۔ صبح بازار سے سودا سلف لینے جاتا تو ہم اسے اشیاء کی فہرست دے دیتے، وہ ہر چیز عمدہ اور ٹھونک بجا کر لاتا۔ پیسوں میں ہیرا پھیری بھی نہیں کرتا تھا۔ دولہا بھائی اور آپا اسے اکثر جیب خرچ دیا کرتے کہ ایماندار ہے اور کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ 

ہمیں کوئٹہ آئے ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا کہ پاکستان کے دوسرے بازو میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ بہت سے اعلیٰ افسران اور ملازمین اُدھر بھیج دیے گئے۔ انہی میں میرے بہنوئی بھی تھے۔ ڈھاکہ جانے سے پہلے حسیب بھائی نے دلاور کو تاکید کی کہ گھر اور گھر کی خواتین کا خیال رکھنا۔ جب تک میں نہ لوٹوں، تم چھٹی لے کر اپنے گاؤں بھی مت جانا۔ حسیب بھائی چلے گئے۔ انہیں اطمینان تھا کہ امّی اور میں آپا کے پاس ہیں، لیکن امّی زیادہ دن نہ رہ سکیں۔ والد صاحب کا فون آ گیا تھا۔ وہ بیمار ہو گئے تھے اور پھوپھا نے انہیں اسپتال داخل کروا دیا تھا۔ والدہ یہ خبر سنتے ہی گھر روانہ ہو گئیں، مگر منت سماجت کر کے آپا نے مجھے اپنے پاس روک لیا کیونکہ میرے ہونے سے انہیں ڈھارس تھی۔

آپا کے گھر کے سامنے ایک آفیسر کا گھر تھا۔ ان کی بیگم میری بہن کی اچھی دوست بن گئی تھیں۔ وہ اکثر آپا کے پاس آجاتی تھیں۔ ایک دن آئیں تو مجھے دیکھ کر بولیں کہ شکیلہ، کیا تمہاری بہن کی شادی ہو گئی ہے؟آپا نے جواب دیا کہ ابھی نہیں ہوئی، کوئی اچھا رشتہ ملے تو کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ رشتے اب یونہی نہیں مل جاتے۔ وہ زمانے چلے گئے کہ ازخود پیغام آجاتے تھے۔ اب تو بچیوں کے لیے رشتے تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ کیا ابھی تک بات نہیں چلائی؟ تمہاری بہن کی عمر تو کافی ہو گئی ہے۔ ابھی سے رشتے کی تلاش میں لگو، ورنہ اس طرح تو بچیاں گھر میں بیٹھی رہ جاتی ہیں اور شادی کی عمر نکل جاتی ہے۔آپا نے کہا کہ ہاں مسز اکرم، ضرور اس بات پر دھیان دوں گی۔ مجھے لگا کہ میری بہن کو اپنی دوست کی بات بری لگی ہے، کیونکہ میری عمر ابھی اتنی زیادہ نہ ہوئی تھی کہ گہری تشویش ہوتی، لیکن اس خاتون نے بڑی سنجیدگی سے جو نکتہ اٹھایا تھا اس نے میرے اندر کی محرومی کو جگا دیا اور میں ڈپریشن سا محسوس کرنے لگی۔

سوچا کہ ابا بیمار ہیں اور اماں کہیں آتی جاتی نہیں۔ آپا کے یہاں چند ماہ بعد ننھا منا بچہ ہو جائے گا تو وہ اپنے بچے میں مشغول ہو جائیں گی۔ تب کیا میں واقعی غیر شادی شدہ رہ جاؤں گی؟ ایسی سوچوں نے مجھے بے آرام اور اداس کر دیا۔ کافی دن بے چین رہی۔ پڑوسن کی باتوں نے میرے اندر عجیب سا احساس جگا دیا تھا۔ اس مایوسی سے بچنے کے لیے میں سارا دن رسالے پڑھتی رہتی تھی۔ یہ دسمبر کی سرد رات تھی۔ دلاور رات کا کھانا لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کبھی کبھی وہ اپنی سائیکل پر رات کا آخری شو دیکھنے جاتا تھا۔ اس رات بھی شاید شو دیکھنے نکلا۔ آیا کہنے لگیں کہ یہ پھر شو دیکھنے جا رہا ہے، حالانکہ حسیب نے اسے منع کیا تھا کہ گھر اکیلا چھوڑ کر کہیں مت جانا۔ مگر اس کو تو سینما جانے کا ہی شوق ہے، ہمارا کچھ خیال نہیں۔ جاتے ہوئے بتا کر بھی نہیں گیا کہ میں جا رہا ہوں۔ آپا کو غصہ آنے لگا۔ دلاور جب باہر جانا ہوتا تو گیٹ کو باہر سے تالہ لگا کر چلا جاتا۔ جب آتا تو خود ہی تالہ کھول کر آجاتا اور اپنے کمرے میں دبک کر سو جاتا۔ وہ اس قدر دبے پاؤں اپنے کمرے میں جاتا کہ آہٹ تک نہ ہوتی، مبادا ہماری نیند خراب ہو۔ اس روز بھی میں جاگ رہی تھی جب وہ رات کا آخری شو دیکھنے نکلا تھا۔ مجھے نیند نہیں آرہی تھی، ذہن پراگندہ تھا، آپا سو چکی تھیں۔ تنہائی سے وحشت ہونے لگی۔ عجیب سوچوں نے گھیر لیا۔ کیا بتاؤں کہ اس رات تو وحشت ایک بلا کی مانند مجھ پر ٹوٹ پڑی تھی۔اس وحشت سے بچنے کو میں دلاور کے کمرے میں چلی گئی۔ 
مجھے معلوم تھا کہ وہ فلم دیکھنے گیا ہے۔ چونکہ اس کے پاس فلمی رسالے ہوتے تھے، سوچا وہی اٹھا لاؤں۔ تصویریں دیکھ کر وقت پاس کر لوں گی۔ وہ چارپائی پر بڑے سلیقے سے اپنا بستر بچھا کر گیا تھا، سرہانے رسالے رکھے تھے، پائنتی لحاف جما ہوا تھا۔ سوچنے لگی کہ یہ ہر رات آخری شو دیکھنے کیوں جاتا ہے؟ کیا اسے بھی نیند نہیں آتی؟ شاید اس لیے کہ یہ بھی میری طرح غیر شادی شدہ ہے۔ اس کا کوئی دوست، غمگسار یا جیون ساتھی بھی نہیں۔انہی سوچوں میں غلطاں میں اس کی چارپائی پر بیٹھ کر فلمی رسالوں کی ورق گردانی کرنے لگی اور وقت کے گزرنے کا احساس نہ ہوا۔ تبھی ایک رسالہ دیکھ کر پسینہ آگیا۔ یہ رسالہ عام رسالوں سے بالکل مختلف تھا۔ تصویریں دیکھ کر میرے اندر جذبات کا کہرام مچ گیا۔ میں ابھی اسی رسالے میں محو تھی کہ وہ آگیا۔ مجھے اس کے آنے کا بھی پتہ نہ چلا۔ جب اس نے مجھے رات گئے اپنے بستر پر بیٹھے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ میرا جسم پسینے سے شرابور ہو رہا تھا۔ اچانک میں نے محسوس کیا کہ کمرے میں میں اکیلی نہیں ہوں۔ نظر اٹھائی تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ بس چند لمحے ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر وہ سب ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسمیں میری بھی غلطی تھی۔ میں کچھ زیادہ ہی جزبات میں بہ گئی۔ اس رات کی تنہائی کتنی خطرناک تھی۔ اپنی تمام تر تاریکیوں کے باوجود یہ رات میری زندگی میں ایک نیا انداز لے کر آئی، اور میں نے وہ سب جان لیا جو ساری عمر میں ابھی تک نہ جان پائی تھی۔ افسوس کہ اس بھیانک رات کے صدمے سے میں صبح تک نہ سو سکی۔

ڈھاکہ کا سقوط ہو گیا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ جنگ ختم ہو گئی مگر میری بدنصیب آپا کے شوہر لوٹ کر واپس نہ آسکے۔ وہ وہاں مکتی باہنی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ جب ان کی شہادت کی خبر ملی تو آپا کی مختصر دو سالہ ازدواجی زندگی کا دور ختم ہو گیا۔ دو ماہ بعد مکان بھی خالی کرنا پڑا۔ والد صاحب کی وفات ہو گئی۔ ہم بہنیں دو عزیز ازجان گھر کے سربراہوں کی وفات پر آنسو بہاتے کوئٹہ سے اپنے شہر روانہ ہوئیں۔ آپا کی گود میں اولاد کا پھول آنے میں ابھی تین ماہ باقی تھے۔ دلاور ہمیں چھوڑنے ہمارے شہر تک آیا۔ جب وہ واپس اپنے گاؤں جانے لگا تو اس نے مجھے اپنا فون نمبر اور گھر کا پتہ دے دیا کہ اگر ضرورت پڑے یا کوئی مشکل ہو تو مجھ سے رابطہ کر لینا۔ مشکل تو آنی ہی تھی، یہی تقدیر کا فیصلہ تھا۔
 اس ایک رات کی لغزش کی سزا میری تقدیر میں لکھی جا چکی تھی۔ گھر میں کوئی مرد نہ رہا تھا۔ میں نے آپا کو، اور آپا نے امی کو سب کچھ بتا دیا۔ وہ تھرا کر رہ گئیں۔ کہنے لگیں کہ اب اسی بدبخت کو بلواؤ۔ اگر آجاتا ہے تو اس کم نصیب کو اس کے پلے باندھ دیتے ہیں۔ آپا نے دلاور سے رابطہ کیا۔ وہ آگیا۔ انہوں نے اس کو جو لعن طعن کرنی تھی کر لی، لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں تھا۔ دلاور مجھ سے شادی کرنے پر راضی تھا۔ یوں سادگی سے نکاح کر کے ماں اور بہن نے اپنی اور میری عزت بچا لی۔ بے شک وہ معمولی ملازم تھا، لیکن میں بھی تو ایک یتیم لڑکی تھی اور زندگی کے ایک خطرناک موڑ پر کھڑی تھی۔ امی اور آپا نے سوچا کہ چلو کچھ تو میسر آئے گا۔ میکے میں بھی کیا رکھا ہے؟ اس کے لیے دنیا کی نظروں میں عزت سے رخصت کر دیں تو اسی میں عافیت ہے۔خدا کا شکر کہ میرے راز کا پردہ رہ گیا۔

 اس راز سے کوئی واقف نہیں کہ یہ شادی کیوں اور کیسے ہو گئی، تاہم میں آج بھی اپنے خدا سے شرمندہ ہوں۔ دلاور میرا ہی نہیں، میری بوڑھی ماں کا بھی سہارا ہے۔ اس کے مضبوط بازوؤں نے ان کے بڑھاپے کو تھام لیا ہے۔ میں اور وہ عاصی ضرور ہیں، تبھی ہم دونوں ہر گھڑی توبہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ہماری خطا کو بخش دے، کیونکہ وہی بندوں کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔آپا نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ یوں ہی چند سال بعد والدہ نے ان کی شادی اپنے ایک عزیز کے بیٹے سے کر دی، جن کی بیوی ایک بیٹے کو جنم دے کر وفات پا گئی تھی۔ وہ اپنے گھر آباد ہیں۔ میں اور امی دلاور کے گھر سر چھپائے عزت سے زندگی گزار رہے ہیں۔
(ختم شد)
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ