معصومیت کی سزا

masomiat ki saza urdu story
 
اکرم میرے چچا کا بیٹا تھا۔ ہم بچپن سے ہی ایک دوسرے سے مانوس تھے، لیکن اس معاملے میں جیت میری خالہ کی ہوئی۔ امی نے اپنی بہن کی خواہش کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور میری منگنی خالہ کے بیٹے سہیل سے ہو گئی۔ میں ایک روایتی مشرقی لڑکی تھی اور اپنے والدین سمیت خاندان کی مجبوریاں خوب سمجھتی تھی۔ محبت کے جذبات اپنی جگہ، لیکن اب میں دل سے زیادہ دماغ کی بات ماننے پر مجبور تھی کیونکہ منگنی کا باقاعدہ اعلان ہو چکا تھا۔ لہٰذا جب اکرم آیا تو میں نے اس سے دوری اختیار کر لی۔ میں جانتی تھی کہ میری بے رخی اسے صدمہ پہنچائے گی، مگر مجبوری یہ تھی کہ اب میں کسی اور کی نسبت بن چکی تھی۔ بچپن کی پسندیدگی کو جاری رکھنا اب آگ سے کھیلنے کے مترادف تھا۔
cknwrites
اس نے مجھ سے شکوہ کیا کہ میں بے وفا اور مغرور ہو گئی ہوں۔ میں نے اسے صاف کہہ دیا کہ میری منگنی ہو چکی ہے اور اب میں مجبور ہوں، اس لیے ہم پہلے کی طرح نہیں مل سکتے۔ پہلے ہم گھل مل کر باتیں کرتے تھے، مگر اب یہ قصہ یہیں ختم ہو جانا چاہیے۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ منگنی یا شادی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ مجھ سے سچی محبت کرتا ہے اور اگر میں چاہوں تو یہ تعلق قائم رہ سکتا ہے۔ مجھے اس کا یہ فلسفہ سمجھ نہ آیا، لیکن میں حقیقت میں اسے پسند کرتی تھی، لہٰذا اس کی باتوں میں آ گئی اور اس سے وعدہ کر لیا کہ شادی ہونے تک ہم پہلے کی طرح ملتے رہیں گے۔ وہ آنسو بھر کر خاموش ہو گیا۔

کچھ دنوں بعد گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم کراچی اکرم کے گھر گئے۔ اس کی بہن نے زبردستی مجھے روک لیا اور کہا کہ دو ماہ بعد چلی جانا، ابھی تو زندگی تمہارے اپنے اختیار میں ہے، شادی کے بعد تو دوسروں کی مرضی کے تابع ہو جاؤ گی۔ اکرم کی بھی یہی خواہش تھی کہ آزادی کے آخری دنوں کو کچھ طول دیا جائے، کیونکہ پھر نہ جانے ملاقات ہو سکے یا نہیں۔ ان لوگوں کے اصرار پر میں بدنصیب وہاں ٹھہر گئی اور گھر والے واپس آگئے۔ وہ میرے سگے چچا کا گھر تھا، اس لیے وہاں رہنے پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا، بلکہ چچی کی خوشنودی کی خاطر امی نے بھی زیادہ مخالفت نہ کی۔ اکرم کی حالت دیکھ کر مجھے اس پر بہت ترس آتا تھا۔ وہ جو آٹھ سال سے کسی موقع کی تلاش میں تھا، اس کے پیار کا آخری مرحلہ شاید یہی تھا۔ اس نے میرے بھولے پن کی ایسی سزا دی کہ میں عمر بھر یہ دکھ فراموش نہ کر سکوں گی۔ ایک ماہ میں وہاں رہی اور جب ایک بار غلطی ہو گئی تو اس کا اعادہ مشکل نہ رہا۔ جب پہلی بار شرم کی حد ٹوٹ جائے تو دوشیزگی کے تقدس کو بار بار لٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ مجھے میری نرم مزاجی کی سزا ملی؛ اب میں پچھتاوے سے ہاتھ ملنے لگی کہ میں نے اس کے آنسوؤں کے سامنے ہتھیار کیوں ڈالے؟ کیوں اتنی کمزور پڑ گئی کہ جو مظلوم نظر آ رہا تھا وہی شکاری بن گیا۔

میں پریشان اور خوفزدہ حالت میں اندر ہی اندر گھٹتی رہی۔ میں بیان نہیں کر سکتی کہ وہ ایک ماہ کتنی مشکل سے گزرا۔ میں ہر روز چچی سے کہتی کہ خدا کے لیے مجھے واپس لاہور بھیجنے کا انتظام کریں، لیکن وہ ہنس کر ٹال دیتیں کہ ایسی کیا جلدی ہے، کچھ دن اور رہو، اب تو تم پرائی ہو جاؤ گی پھر نہ جانے کب آنا ہو۔ میں دل ہی دل میں تلملا کر رہ جاتی کہ چچی کو کیسے بتاؤں کہ ان کے سپوت کے کرتوت کیا ہیں اور میں کیوں بھاگنا چاہتی ہوں۔ آخر حیدرآباد سے چچا آگئے، وہ وہاں ملازمت کرتے تھے اور مہینے بعد چکر لگاتے تھے۔ انہیں دیکھ کر میں رو پڑی۔ انہوں نے اگلے ہی دن میرا ٹکٹ لیا اور خود مجھے لاہور چھوڑنے آئے۔ خدا خدا کر کے جان چھوٹی، مگر میں وہاں سے سب کچھ ہار کر آئی تھی۔ اب تو اکرم کے بارے میں سوچ کر ہی وحشت ہوتی تھی۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ وہ ایسا نکلے گا۔ کاش میں اس کی نیت پہلے بھانپ لیتی تو کبھی اعتبار نہ کرتی۔ وہ نہ اعتبار کے قابل تھا نہ محبت کے۔ افسوس کہ میں نے غلط آدمی کا انتخاب کیا اور سنگین حالات میں گھر گئی۔ میں قدرت کے اٹل اصولوں کا شکار ہو کر ایسے جال میں پھنس گئی تھی جس سے نجات ناممکن نظر آتی تھی۔

جب مجھے اپنے اندر نئی زندگی کا احساس ہوا تو سر چکرا گیا اور میں بے ہوش ہو گئی۔ ماں بے چاری کچھ نہ سمجھ سکی اور پریشانی میں میرے ہاتھ پاؤں ملنے لگی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شادی سے قبل لڑکیوں کو ایسے دورے پڑ جاتے ہیں اور شادی ہوتے ہی سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر اصل حقیقت صرف میں جانتی تھی۔ اب مجھے اکرم کے سوا کوئی نجات دہندہ نظر نہیں آتا تھا۔ وہی اس عذاب کی وجہ تھا اور وہی رسوائی سے بچا بھی سکتا تھا۔ میں نے اسے مبہم الفاظ میں کئی خط لکھے مگر اس نے کسی کا جواب نہ دیا۔ شاید وہ میرا مدعا سمجھ نہیں پا رہا تھا یا جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا تھا۔ یوں پانچ ماہ گزر گئے اور میں کچھ نہ کر سکی۔ اب میری موت میری آنکھوں کے سامنے رقص کرتی صاف نظر آ رہی تھی۔

میں سنجیدگی سے زہر کھانے کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ امید کی ایک کرن نظر آئی۔ اکرم کی بہن کی شادی کا کارڈ آگیا اور میری جان میں جان آئی۔ اکرم کی منگنی کی بات چیت پھوپھی کی لڑکی روبینہ سے چل رہی تھی اور وہ اس سے پسند کی شادی کر رہا تھا۔ مجھے دکھ تو بہت ہوا، مگر میں ایسی مصیبت میں گرفتار تھی کہ خود سے وعدہ کر لیا کہ اپنی زبان بند رکھوں گی۔ اس وقت میں مجبور تھی، اگر اس کا نام لیتی تو وہ صاف مکر جاتا۔ میرے پاس اس کے جرم کا کیا ثبوت تھا؟ جبکہ میں خود اس کے جرم کی منہ بولتی تصویر تھی۔ اس نے کئی ڈاکٹروں سے رابطہ کیا، مگر وقت بہت گزر چکا تھا اور ہر طرف سے مایوس کن جواب ہی ملا۔ آخر کار اس نے اپنے بڑے بھائی سے رابطہ کیا۔ بھائی کی عزت اس کی اپنی عزت تھی اور میں بھی کوئی غیر نہیں بلکہ اسی خاندان کی عزت تھی۔ بڑے بھائی معظم نے بہت کوشش کی، مگر ڈاکٹروں نے یہی مشورہ دیا کہ کسی طرح تین ماہ گزار لیں، پھر ہم بچے کو اپنے پاس رکھ لیں گے۔ آپ دونوں شادی کر لیں اور اپنا بچہ لے جائیں، ہم بس یہی کر سکتے ہیں۔

میری زندگی برباد کرنے والا اگر اب بھی شادی پر رضامند نہ ہوتا، تو میں کیوں اپنی کوکھ اجاڑنے کے درپے ہوتی؟ مگر ہائے ری عورت کی مجبوری کہ وہ قدرت کی طرف سے شاید کمزور ہی پیدا ہوئی ہے اور کبھی مرد سے جیت نہیں سکتی۔ معظم نے مجھے اس بات پر آمادہ کر لیا کہ میں اپنی امی کو اس راز میں شریک کر لوں، ورنہ بدنامی یقینی تھی۔ اس کے بعد یقیناً ابا جان کو تو ہارٹ فیل ہو سکتا تھا۔ امی کو جب معظم نے یہ بات بتائی تو وہ سکتے میں رہ گئیں۔ وہ تو یہاں شادی میں آئی تھیں، مگر اب یوں لگتا تھا جیسے کسی کی موت پر بین کرنے والی ہوں۔ معظم نے انہیں سمجھایا کہ “لڑکی ہے، غلطی ہو گئی۔ اب آپ سمجھداری سے کام لیں۔ اگر آپ نے بھی حواس کھو دیے تو یاد رکھیے، سارے خاندان کی عزت بیچ بازار نیلام ہو جائے گی۔”

اکرم اب بھی چین میں تھا کیونکہ اس کے بھائی نے اس کا نام نہیں لیا تھا، بلکہ مجھے ماں سے یہی کہنا پڑا کہ لاہور میں ایک لڑکے سے میری اتفاقیہ ملاقات ہوئی تھی اور میں چھپ چھپ کر اس سے ملتی رہی، جس کے نتیجے میں اب بدنامی کے جہنم میں گرنے والی ہوں۔ امی بے چاری چھپ کر آنسو پونچھتی تھیں۔ دیورانی کا رشتہ ایسا تھا کہ وہ چچی تک سے اپنے دل کا حال نہیں کہہ سکتی تھیں اور یہاں میرا عالم یہ تھا کہ ایک ایک لمحہ عذاب تھا۔ گھڑی کی ٹک ٹک ایسے سنائی دیتی تھی جیسے موت دبے قدموں لمحہ بہ لمحہ میری طرف بڑھ رہی ہو۔

آخر معظم نے ایک ادارے سے بات کی جہاں مجھے سلائی کڑھائی کا کورس کرنے کے بہانے رہنا تھا۔ امی نے بھی گھر جا کر یہی کہا اور میں معظم بھائی کی وجہ سے اس ادارے میں داخل ہو گئی۔ کیا بتاؤں کہ وہ تین ماہ کا عرصہ مجھ پر کیسے بیتا؟ میں سچ کہتی ہوں کہ اگر کوئی قیامت کا تصور کر سکتا ہے تو وہ وہی دن تھے جو مجھ پر بیتے تھے۔ خدا خدا کر کے وہ دن آیا جب مجھے اس قید سے رہائی ملنی تھی۔ میں صرف روحانی تکلیف ہی نہیں اٹھا رہی تھی، بلکہ اب جسمانی کرب بھی تنہا برداشت کرنا پڑا اور موت کے سمندر میں غوطہ لگا کر پھر سے زیست کی کشتی پر سوار ہوئی۔ تیسرے روز میں گھر آگئی۔ میں صرف دو روز اپنے لختِ جگر کو دیکھ سکی، وہ بھی چند گھنٹوں کے لیے۔ کیا بتاؤں کہ ماں کی ممتا کیا ہوتی ہے؛ یہ ہر اصول اور ہر مجبوری سے بے نیاز ہوتی ہے۔ جب میں نے ہسپتال سے رخصت ہوتے وقت آخری نظر اس پھول پر ڈالی جس کو میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا رہی تھی، تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے کلیجے میں سینکڑوں خنجر گھونپ دیے ہوں۔ خاموشی سے آنسو پونچھتے ہوئے میں معظم بھائی کے ساتھ ہسپتال کی سیڑھیاں اتر کر اسٹیشن آگئی۔ سیٹ انہوں نے پہلے ہی بک کروا دی تھی۔ میں ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح گھر لوٹ آئی۔ ہاتھ میں انڈسٹریل ہوم کا جعلی سرٹیفکیٹ تھا اور دامن اس عظیم متاع سے خالی تھا۔ کاش میں اس وقت اپنی ماں کے گلے لگ کر رو سکتی، مگر ماں نے مجھے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا اور میں اپنے ہی گھر میں منہ چھپا کر بھی نہ رو سکی۔

آج میری شادی ہو چکی ہے۔ میرا شوہر بہت اچھا اور شریف انسان ہے۔ میرے چار بچے ہیں، دو لڑکے اور دو لڑکیاں، مگر دل آج بھی اس دکھ کو نہیں بھولا۔ جب چاروں بچوں کو اکٹھا بیٹھا دیکھتی ہوں تو ایک معصوم صورت آنکھیں موندے سامنے آ جاتی ہے۔ میں ذہن سے اس تصویر کو جھٹکنے کی کوشش کرتی ہوں۔ کاش میں اس تصویر کے نقوش دل و دماغ سے مٹا سکوں جو اس دنیا کے بحرِ بے کراں میں ہزاروں چہروں کے درمیان کھو چکی ہے۔ میری ڈالی کا وہ پھول کس کی گود کا سنگھار بنا؟ وہ زندہ بھی ہے یا مر گیا؟

جب بھی معظم بھائی آتے ہیں، میری نظریں ان سے وہی ایک سوال کرتی ہیں، مگر وہ کسی بات کا جواب نہیں دیتے۔ بس خاموشی سے سر جھکا لیتے ہیں۔ رہی بات اکرم کی، تو وہ آج بھی بہت خوش اور مطمئن نظر آتا ہے، جیسے اس پوری کہانی میں اس کا کردار صرف ایک “مہمان اداکار” جیسا تھا۔ مجھے اس سے شدید نفرت محسوس ہوتی ہے۔ میرا ذہن ہر وقت ایک کبھی نہ ختم ہونے والے دکھ کی آگ میں سلگتا رہتا ہے۔ اب میں پانچوں وقت نماز پڑھتی ہوں، توبہ استغفار کرتی ہوں اور ہر پل یہی دعا کرتی ہوں کہ خدا معصوم لڑکیوں کو محبت کے اس فریب، اس جال اور مجھ جیسے دائمی ذہنی عذاب سے محفوظ رکھے۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ