ٹھکرائی ہوئی عورت

Sublimegate Urdu Stories

دیہات میں رہنے کی وجہ سے پردے کی پابندی نہ تھی، پھر بھی مجھے اپنے چچا کے سپوت نادر سے حجاب آتا تھا۔ وہ اچانک سامنے آجاتا تو میں چھپنے کی کوشش کرتی، حالانکہ ہمارا بچپن ساتھ کھیلتے گزرا تھا۔ جوانی آئی تو بچپن کا یہ ساتھ رنگ لایا۔ میرے دل میں محبت کے موسم نے نادر کی تصویر بنا دی اور کمسنی کے خوابوں نے اس میں گہرے رنگ بھر دیے۔ دعا کرتی تھی: اے خدا! میری محبت کبھی بے آبرو نہ ہو، کبھی مجھ سے کوئی ایسی لغزش نہ ہو جائے کہ اس کی پاکیزگی میں فرق آئے؛ ورنہ تو مجھے زندان میں رکھنا۔ دل سے نکلی دعا قبول ہوئی۔ ہمارے بڑوں نے ایک روز ہمیں شادی کے بندھن میں باندھنے کا فیصلہ کر لیا۔
cknwrites
 شادی کی رات اس نے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا تھا: تم جانتی ہو کہ میرے دل میں تجھے حاصل کرنے کی کتنی چاہ تھی۔ سوچا بہت ہے کہ ساری برادری سے کیوں نہ ٹکر لینی پڑ جائے، میں تجھے حاصل کر کے رہوں گا۔ لیکن یہ اللہ کا کرم ہوا کہ نادر کو برادری سے ٹکر بھی نہ لینی پڑی اور ہم آسانی سے شادی کے پاک رشتے میں بندھ گئے۔ وہ دن بھی کتنے پیارے تھے جب ہماری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ لگتا تھا کہ ساری دنیا کی خوشیاں میرے قدموں میں ہیں۔ نادر میرا رفیقِ حیات بن چکا تھا اور وہ مجھے دل و جان سے چاہتا تھا۔ وہ میری ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتا تھا۔ میں ایک پھول کی چاہت کرتی تو وہ سارا باغ خرید لانے کی سوچنے لگتا تھا۔ کہتا تھا کہ تمہیں پا کر سب کچھ پا لیا ہے، اب کسی شے کی آرزو نہیں ہے۔انسان جب ایسی باتیں کرتا ہے تو تقدیر اس پر ہنس رہی ہوتی ہے۔ ایسی باتیں کرنے کی پھر یہ سزا ہوتی ہے کہ کل جب آتی ہے تو آج کی خوشیاں بھی جھپٹ لے جاتی ہیں۔ مجھ سے بھی جانے کون سی بھول ہو گئی کہ میں نے اپنا اکلوتا بیٹا کھو دیا جو دو بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ تبھی میری پھولوں بھری زندگی میں انگاروں کا طوفان اُمڑ آیا اور ہر خوشی جل کر راکھ ہو گئی۔ ہمارا دیہاتی ماحول تھا۔ ساس نے بیٹا نہ ہونے کے بہانے میری قدر و منزلت گرانے کے لیے نادر کی دوسری شادی کی باتیں شروع کر دیں۔

پہلے پہل تو مجھے یقین نہ آیا کہ میرے مضبوط قلعے جیسی محبت میں دراڑ پڑ سکتی ہے۔ محبت کا بٹوارہ بھی ہو سکتا ہے؟ کوئی دوسری عورت میری سوتن بن کر اس خزانے کو لوٹ سکتی ہے؟ مگر جب نادر نے دوسری شادی پر رضامندی کا اظہار کر دیا تو میں ساکت رہ گئی۔ ابھی ہماری شادی کو چھ برس ہی گزرے تھے کہ اس کا دل مجھ سے بھر گیا۔ بیٹے کی آرزو بنا کر اس نے ایک ایسی نوخیز کلی کو چن لیا جس کا حسن ایک فریب ناک ناگن جیسا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس ناگن کا زہر میری ہنستی بستی زندگی کو زرد و نیلا کرنے لگا۔ میں ٹھٹھر کر رہ گئی۔ آہ! یہ سچ تھا کہ میرا شوہر ایک نئی نویلی دوشیزہ کے دامِ الفت میں گرفتار ہو چکا تھا۔ وہ ایک گوالے کی سولہ سالہ لڑکی کندن سے شادی کر رہا تھا۔ آہ! یہ خبر سننے سے پہلے میں کیوں نہ مر گئی۔ مرنا تو بہت چاہا مگر مرنا بھی اختیار میں نہ تھا۔ نادر کے ساتھ جینے کا دل نہ رہا تھا مگر وہ مجھے منہ نہ لگاتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ محبت سے دل جیتے جاتے ہیں اور میں اپنی ساری کوششوں کے باوجود اس بھولے ہوئے مسافر کو راہ پر نہ لا سکی۔ کیونکہ اب میں انس کی منزل نہ رہی تھی؛ اب وہ میری آواز بھی نہیں سنتا تھا۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مجھ سے کیا غلطی ہو گئی کہ میرا پیارا جیون ساتھی دور ہو گیا ہے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وہ اپنی توجہ مجھ سے نہ ہٹائے میں گھر میں ایک پالتو بکری کی طرح گزارا کر لیتی، لیکن جس نے آگے قدم بڑھائے تو پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ یہاں تک کہ دوری اتنی بڑھ گئی کہ میں اپنی دنیا کے ایک کنارے پر رہ گئی اور وہ دوسرے کنارے پر نظر آنے لگا۔

 ہم ایک ہی گھر میں رہ کر ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو چکے تھے۔ نادر کو بلاتی تو جواب نہ دیتا۔ اس کی بے رخی کے طمانچے، اس کی بیزاری کے تیر، اس کی بےوفائی کے زخم سب میں نے اپنے دل پر سہہ لیے۔ نہ کبھی برا سوچا اور نہ کبھی میرے دکھی دل سے نادر کے لیے بددعا نکلی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے مجھ سے کلام ہی ترک کر دیا۔ یہ اس کی دوسری بیوی کی شرط تھی کہ اگر تم پہلی بیوی کے پاس گئے تو میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔ میں سرتاپا منت کرتی: تایا جی آپ ان کو سمجھائیں۔ جیسا دوسری بیوی کا حق ہے میرا بھی ہے۔ وہ کیوں میری تذلیل کرتے ہیں؟ تایا کو میرے دکھی ہونے کا ملال ضرور تھا لیکن نادر باپ کے کہنے میں نہیں تھا۔ تایا بےبس تھے، وہی مجھے تسلی دیتے۔ کہتے: بیٹی تم صبر کرو، اللہ تعالی ایک نہ ایک دن صبر کرنے والے کی ضرور سنتا ہے، وہ تمہیں بھی صبر کا بہترین اجر دے گا۔ میں تایا کی ڈھارس پر ہی تو اس گھر میں رہ رہی تھی، ورنہ میری سوتن کب کا مجھے یہاں سے نکال چکی ہوتی۔ ساس کو میری دونوں بیٹیاں پیاری تھیں۔ وہ ان کی خاطر مجھے رکھنے پر راضی تھی۔ کہتی تھی کہ بچیوں کی وجہ سے تمہیں یہ گھر نہیں چھوڑنا ہے؛ ایسی غلطی مت کرنا۔ سوتن تمہاری قسمت میں ہو سکتی ہے مگر اپنا گھر ایک بےوقوف عورت نہیں چھوڑتی۔ تم ایسا مت کرنا ورنہ تمہاری بیٹیاں زلیل ہو جائیں گی۔ تایا کی وفات کے بعد میں اور بھی اس گھر میں بے سہارا ہو گئی۔ ایک ایسی ذات تھی جس کا نادر کو لحاظ تھا۔ ان کے مرتے ہی مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے بھی نہ چُوکنا۔ بات بات پر وہ مجھے بے عزت کرنے لگا۔ جب وہ اپنی چہیتی کے سامنے مجھے ڈانٹتا تو میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا، جیسے ڈھیر سارے شیشے ٹوٹ کر میرے دل میں اتر گئے ہوں۔
ایک دن کندن اپنے میکے چلی گئی۔ اس کی ماں بیمار تھی۔ آج مناسب موقع پاتے ہی وہ چپکے سے نادر کے کمرے میں داخل ہو گئی اور ان کے پیروں پر اپنا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ رکھ دیا۔ وہ نیند سے بیدار ہوا اور غصے میں آپے سے باہر ہو گیا۔ محبت سے جواب دینے کی بجائے دھکا دے دیا اور میں دیوار کے پاس رکھے ٹرنک سے جا لگی۔ میرا سر ٹرنک کے کنڈے سے زخمی ہو گیا اور خون بہنے لگا۔ اٹھ کر باہر آئی کہ یہ وحشی مجھے مار نہ ڈالے، تبھی میرا بھائی آگیا۔ اس نے دیکھا کہ سر سے خون بہہ رہا ہے اور پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ مردوں میں جھگڑے سے بچاؤ کے لیے میں نے کہا کہ الماری کا پٹ لگنے سے چوٹ آ گئی ہے۔ اتنے میں نادر باہر آیا اور بولا: یہ جھوٹ بولتی ہے، میں نے اسے مارا ہے۔ اب تم اپنی بہن کو ساتھ لے جاؤ۔ورنہ اس کا بُرا حال کر دوں گا۔ بھائی نے پوچھا: آخر تم نے اس کو کیوں مارا ہے؟یہ بات اس سے پوچھ لو! نادر نے جواب دیا۔بھائی کو بہت غصہ آیا۔ کہا: ابھی اور اسی وقت چلو، نہیں تو پھر کبھی تم میرا منہ نہ دیکھ سکو گی۔ معاملہ بگڑتے دیکھ کر ساس درمیان میں آ گئیں۔

 وہ میرے بھائی کو سمجھانے لگیں اور اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے خاطر مدارت کرنے لگیں۔اس وقت تک کندن دو بیٹوں کی ماں بن چکی تھی، اس لیے اکڑ کر رہتی تھی۔ اب تو وہ ساس کو بھی نہیں گردانتی تھی۔ تب چاچی (یعنی میری ساس) کو افسوس ہوتا کہ ناحق بہو پر سوتن لائی۔ خدا چاہتا تو اسی سے بیٹا بھی دے دیتا۔ آج دو ٹکے کی چھوکری نے ان کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ لیا تھا۔ بعض عورتیں اپنے حسن کے زور پر اکڑ جاتی ہیں، لیکن حسن تو آنی جانی چیز ہے۔ کل جب اس کی جوانی ڈھلے گی اور حسن ماند پڑ جائے گا تو نادر کیا تیسری بیاہ کر پھر نئی لا ئے گا یہ میری ساس کا کہنا تھا۔ ساس کے تاسف اور ایسی باتوں کا اب کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ اس نے خود ہی تو بیٹے کو دوسری شادی کا رستہ دکھایا تھا اور کندن کی چھب اس کو دکھلائی تھی۔ وہ اگر ایسا نہ کرتی تو آج کھانے پر بیٹھ کر میرے ہاتھ سے عزت کی روٹی کھاتی اور چھوٹی بہو کے آگے پانی نہ بھرتی۔ سچ ہی کہتے ہیں کہ جو جیسا بوتا ہے ویسا ہی کاٹتا ہے۔ چاچی نے میرے بھائی سے کہا: حوصلہ کر، جھگڑے سے نہیں، میں صلح صفائی سے اس کو بھیجتی ہوں۔ تب ہی میں بھائی کے ہمراہ میکے آ گئی۔
یہ بھی سچ ہے کہ انسان اپنے ٹکڑے سہہ سکتا ہے لیکن اپنی محبت کے ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ میں نے بھی سوچا، شاید ان کی نظروں سے اوجھل ہو کر ہی مجھے سکون مل جائے۔ میکے میں آئی تو بچیوں کی جدائی سے چین نہ ملا۔ جنہیں نادر نے میرے ساتھ آنے نہ دیا تھا۔ رات کو سوتے سوتے اٹھ جاتی اور ان کا نام لے لے کر پکارنے لگتی۔ ماں اور بھائی بہن مجھے سمجھاتے کہ اس بے وفا کی اولاد کو یاد نہ کر۔ جیسا باپ ہے ویسا ہی خون بیٹیوں میں بھی دوڑ رہا ہوگا۔ کچھ دن تو آرام سے یہاں رہ لے، جب جانا ہو گا چلی جانا۔وہ تو مجھ سے طلاق لینے کو کہتا تھا مگر میں اپنی بچیوں کی خاطر طلاق بھی نہیں لینا چاہتی تھی۔ بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ اب اسے سسرال نہ بھیجا جائے، لیکن اولاد سے جدائی میرے بس کی بات نہ تھی۔ میں اپنی لڑکیوں کو سوتن کے ہاتھوں میں دینا نہیں چاہتی تھی۔ بے شک دادی ان کا خیال رکھتی تھی مگر وہ بھی کب تک زندہ رہتیں، آخر تو بچیوں کو ماں کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔

میں نے بمشکل تین برس میکے میں جیتے مرتے گزارے۔ ساس بچیوں کو ایک ماہ میں دو بار مجھ سے ملانے لے آتیں۔ وہ بھی روتیں اور میں بھی ان کے گلے لگ کر بلک بلک کر روتی۔ میری حالت سے ماں اور بھائی مجبور ہو گئے کہ مجھے واپس سسرال بھیج دیں کیونکہ میرے دل میں اولاد کی محبت ایسے گڑی تھی جیسے زمین کے سینے میں پہاڑ پیوست ہوتے ہیں۔اس اثنا میں میری سوتن چار بیٹوں کی ماں بن گئی، لیکن چوتھے بچے کی پیدائش کا مرحلہ کسی پیچیدگی کے باعث آسان نہ رہا۔ اسے اسپتال لے گئے، جہاں بچہ تو خیریت و عافیت سے اس دنیا میں آ گیا، لیکن ماں کی جان چلی گئی۔ یہ ایک بڑا سانحہ تھا۔ میرے شوہر اور سسرال کے لیے اب گھر میں چھ بچے تھے جنہیں سنبھالنے والی ماں جیسی کوئی ہستی نہ تھی۔ ساس بوڑھی تھی، وہ کیونکر اتنے بچوں کو سنبھالتی اور ان کے لیے کھانا پکاتی؟ ایسے آڑے وقت میں اگر کوئی ان کے کام آسکتا تھا، ان کے مسائل سمیٹ کر دکھ اپنی جھولی میں بھر سکتا تھا تو وہ میں تھی۔ اب کیوں نہ میرا خیال آتا، جب نادر کا نوزائیدہ بچہ بلکتا اور رات رات بھر اسے جگاتا، جب دوسرے بچے روتے اور میری لڑکیوں سے نہ سنبھلتے، جب بوڑھی دادی ان بچوں کے کام نہ کر سکتی تھیں، تو لا محالہ میری یاد تو آنی تھی۔
چند دنوں میں ہی چاچی بیمار ہو کر بستر سے لگ گئیں، تب نادر مجھے لینے آ گیا۔ جو کہتا تھا کہ آتی ہے تو خود آجائے، میں تو کبھی لینے اس کے در پر نہیں جاؤں گا”  آج قدرت نے اس کی پگڑی نیچی کر دی، یعنی اس کا سر جھکا دیا تھا۔اس نے میری والدہ اور بھائیوں کے پیروں پر اپنی پگڑی رکھ دی اور ہاتھ جوڑ کر مجھے واپس گھر لے جانے کی التجا کی۔ مجھے بھی اپنی بچیاں یاد آتی تھیں، اور کندن کے بچے وہ بھی تو میرے ہی بچے تھے۔ میری بیٹیوں کے چار بھائی، اور میرے شوہر کے بڑھاپے کا سہارا۔ میں نے ماں اور بھائیوں سے کہا:اب ضد نہ کرو، مجھے گھر جانے دو۔ آج یہ عزت سے لے جانے آیا ہے، اس کا مان رکھ لو۔ بیٹیاں اپنے ہی گھر میں اچھی لگتی ہیں۔اور یوں میں، ایک ٹھکرائی ہوئی عورت، ایک بار پھر عزت و احترام کے ساتھ شوہر کے ہمراہ اپنے گھر واپس لوٹ آئی۔ اس گھر میں جس کے سربراہ کی گردن اب میرے احسان کے بوجھ سے جھکی رہتی تھی۔

(ختم شد)
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ