اس بھیانک رات میں میں جب چار نقاب پوش ہمارے گھر گھس آئے اور مجھے میری معصوم بچی سمیت اٹھا کر لے گئے۔ راستے میں بچی نے بھوک سے رونا شروع کر دیا توان میں سے ایک آدمی نے غصے سے کہا کہ اس کو چپ کراؤ۔ مگر گھوڑے پر سوار میں بچی کو چپ کرانے سے قاصر تھی۔ وہ تھی کہ مسلسل چلا رہی تھی اور کسی طور خاموش نہ ہو رہی تھی۔ میرے ساتھ جو مرد سوار تھا وہ جھنجھلا گیا۔ اس نے میری بیٹی کو مجھ سے چھین کر نہر میں پھینک دیا۔
👇cknwrites👇
میں نے ایک ایسے علاقے میں جنم لیا جہاں دشمنی کا سلسلہ نسل در نسل چلتا تھا، اور جب تک دو فریق ایک دوسرے سے بدلہ نہ لے لیتے، ان کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی۔ اس وجہ سے دونوں اطراف کے جوان قتل ہوتے جاتے اور اپنی ماؤں اور بہنوں کو تمام عمر روتا چھوڑ جاتے۔ یہ تو ایک قدرتی بات ہے کہ دشمنی ہوتی ہے اور ختم بھی ہو جاتی ہے، لیکن ہمارے قبیلے کا تو دستور ہی جدا تھا۔ یہاں صلح کرانے والے کو بھی دشمن سمجھ لیا جاتا، سو ہمارے دقیانوسی خیالات کے حامل بزرگوں کی سلگائی ہوئی آگ کے شعلے اسی طرح برسوں بھڑکتے رہتے۔ یہاں تک کہ ایک نسل مٹی ہو جاتی تو دوسری نسل کٹ مرنے کے لیے جوان ہو جاتی۔
جن دنوں ہمارے علاقے میں ایک اسکول بننا شروع ہوا، ابتدا میں تو وہ طالب علموں سے خالی رہا۔ رفتہ رفتہ کچھ لوگوں نے جرات کی، کچھ نے روایات سے بغاوت کی، اور اپنے لڑکوں کو اسکول بھیجنے لگے۔اب کچھ صلح جو لوگوں کے دلوں میں امید کی شمع روشن ہو گئی کہ بالآخر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب قبیلے بھر میں علم کی روشنی پھیلے گی، اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ پرانے رسم و رواج میں جو قباحتیں صدیوں سے رواج پا چکی ہیں، ان پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ مجھے بھی اللہ پر یقین تھا کہ ہمارے قبیلے کے رسم و رواج میں ایک دن مثبت تبدیلی ضرور آئے گی۔ چونکہ اللہ بڑا منصف ہے اور میرا پختہ ایمان اپنے اللہ پر ہے، میں سمجھتی تھی کہ قدرت کے نظام میں انصاف کے ترازو کا کوئی پلڑا اگر اونچا یا نیچا ہو جائے تو انصاف کرنے والا فوراً اسے برابر کر دیتا ہے۔ واقعی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انصاف ہوتا ہے، اور میں اس کی زندہ مثال ہوں۔دیہاتوں میں لوگوں کے گھروں کی بناوٹ شہر کی نسبت مختلف ہوتی ہے۔ دیہات میں چند ایک گھروں کی ہی چار دیواری ہوتی تھی، زیادہ تر گھروں کے صحن کھلے ہوتے تھے۔
ہمارے گھر کے صحن کے چاروں اطراف پختہ دیوار تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے پرکھوں کی مدتوں سے ایک قبیلے کے ساتھ دشمنی چلی آ رہی تھی۔ انہی دنوں دونوں گروہوں کی ایک بار پھر ایک عورت کی وجہ سے جھڑپ ہو گئی اور دونوں طرف کے چند مرد زخمی بھی ہوئے۔ فریقین نے ایک دوسرے پر مقدمے درج کرائے مگر واردات زیادہ سنگین نہ ہونے کے باعث جلد ہی معاملہ خارج ہو گیا۔ ہمارے مرد بھی رہا ہو کر گھر آگئے۔ ان میں میرے دو بھائی بھی شامل تھے۔ان دنوں میں سترہ برس کی ہو چکی تھی اور بھائیوں کو میری بڑی فکر لاحق تھی۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے بابا جان پر دباؤ ڈالا کہ خدیجہ کی شادی کر دی جائے، کل کلاں کوئی بات ہو سکتی ہے۔ والد کو خود بھی اس بات کی فکر تھی۔ انہوں نے رشتے داروں میں کہلوایا اور ایک موزوں رشتہ مل گیا۔ بات طے ہوئی اور دو ماہ بعد میری شادی ہو گئی۔ شادی پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ میری شادی کے ڈیڑھ برس تک حالات پُرسکون رہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بیٹی سے بھی نوازا جس کا نام میں نے “گلاب” رکھا۔ گلاب ابھی صرف دو ماہ کی تھی کہ یہ واقعہ پیش آیا۔
میرا سسرالی گھر ہمارے دشمنوں کے گھرانوں سے تقریباً چار میل کے فاصلے پر تھا۔ سسر صاحب ایک مرتبہ میرے بھائیوں کے دشمنوں کو ان کی زیادتی پر دھمکا چکے تھے، جس کا مجھے علم نہ تھا۔ یہ گرمیوں کی رات تھی۔ میرے شوہر اس رات کسی رشتہ دار کی شادی کے سلسلے میں لورالائی گئے ہوئے تھے۔ گھر میں صرف میں، میری بچی اور سسر صاحب تھے۔ آدھی رات کو چار آدمی بندوقوں سے لیس صحن میں کود آئے۔ انہی میں سے ایک نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا تو میری آنکھ کھل گئی۔ اس اثنا میں دو نے آگے بڑھ کر مجھے قابو کیا، میرے ہاتھ باندھ دیے اور میرے سسر کو کمرے میں بند کر دیا۔ انہوں نے مجھے اس طرح بے بس کر دیا کہ میں ہل بھی نہ سکتی تھی۔ دھمکی دی کہ اگر تم نے شور مچایا یا مزاحمت کی تو تمہاری بچی کے دو ٹکڑے کر دیں گے۔وہ مجھے گھسیٹتے ہوئے دروازے سے باہر لے گئے۔ میری بچی رو رہی تھی۔ میں نے ان کو اللہ کا واسطہ دیا کہ بچی کو مجھ سے جدا نہ کریں، وہ معصوم شیر خوار ہے، بھوک سے مر جائے گی۔ میری التجا پر تب ایک نے بچی کو اٹھا لیا۔ انہوں نے ہمیں گھوڑے پر سوار کرایا اور خود بھی گھوڑوں پر سوار ہو کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے۔
ہمارے گاؤں کے ساتھ ایک بڑی نہر بہتی تھی۔ یہ سب اسی نہر کی پٹری کے ساتھ ساتھ چلتے جارہے تھے۔ اس لمحے بچی کی آنکھ کھل گئی اور اس نے رونا شروع کر دیا۔ ان میں سے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ اس کو چپ کراؤ۔ مگر گھوڑے پر سوار میں بچی کو چپ کرانے سے قاصر تھی۔ وہ تھی کہ مسلسل چلا رہی تھی اور کسی طور خاموش نہ ہو رہی تھی۔ میرے ساتھ جو مرد سوار تھا وہ جھنجھلا گیا۔ اس نے میری بیٹی کو مجھ سے چھین کر نہر میں پھینک دیا۔ معصوم نے ایک دلدوز چیخ بلند کی اور ہمیشہ کے لئے نہر کی تہہ میں چلی گئی۔ میرا دل تڑپ اٹھا۔ میں کراہ کر رہ گئی۔ دل رو رہا تھا، آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے مگر با آواز بلند گریه و زاری نہ کر سکتی تھی۔ صرف بد دعا ہی دے سکتی تھی۔ سو میرے دل سے بد دعا ہی نکلی کہ اے خداوند کریم تو نے یہ ظلم خاموشی سے دیکھ لیا اور کچھ نہ ہوا۔ کیا تو اس معصوم روح پر ظلم کا بدلہ نہ لے گا۔ اے اللہ تو انصاف کرنے والا ہے، انصاف کر میرے دل کی جو حالت تھی ، اس کو الفاظ میں بیان کرنا نا ممکن ہے۔ اپنی ہی آنکھوں کے سامنے جگر گوشے کو ڈوبتے دیکھا تھا۔ صبح ہوئی مجھے ایک مقام پر لے جا کر بند کر دیا گیا تھا۔ باندھ کر نکل آئے۔ جب میرے بھائیوں کو اس واقعے کا واقعے کا علم ہوا تو وہ بھی سر پر کفن باندھ کر نکلے دراصل مجھ عورت سے دشمنی نکالنے کی نوبت یوں آئی تھی کہ ان کی بھی ایک عورت کو ہمارا ایک قریبی عزیز نوجوان بھگا کر لے گیا تھا۔ اگر چہ وہ لڑکی اپنی مرضی سے اس کے پیچھے نکلی تھی لیکن دشمنی میں اور زیادہ زہر تو گھل گیا تھا۔
ہمارے قبیلے کا جوان اور ساتھ بھاگنے والی لڑکی تو ہاتھ نہ آسکے لیکن بدلہ انہوں نے مجھ سے لے لیا کیونکہ میرے سسر نے ان کو کچھ دنوں قبل دھمکی بھجوائی تھی اور ان کی لڑکی کی بد چلنی کا طعنہ بھی دیا گیا۔ میری خاطر میرے بھائیوں نے ان سے ٹکر لی۔ خوب لڑائی ہوئی۔ کافی خون خرابے کے بعد بالآخر وہ مجھے ان کی قید سے چھڑا کر لے آئے۔ بتاتی چلوں کہ انہوں نےدشمنی کے باوجود میری حرمت کو خراب نہیں کیا۔ بچی کو بھی اس کارن نہر میں پھینکا کہ اس کے رونے سے ان کے پکڑے جانے کا اندیشہ تھا۔ اور وہ مجھے اپنی قید میں رکھ کر اپنی مغوی لڑکی کا اتا پتہ معلوم کرنا چاہتے تھے۔ ان کو شک تھا کہ بھگا لے جانے والے نوجوان اور ان کی لڑکی کا میرے سسر کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ بہر حال میرا تو اس معاملے میں کوئی قصور نہ تھا۔ محض دشمنی کے سبب وہ مجھے گھر سے اٹھا لے گئے تھے تا کہ جگ میں میرے سسر کی بدنامی ہو اور میرے بھائیوں کی بھی پگڑیاں اچھلیں۔ میں تو گھر واپس آگئی مگر اپنا سکون کھو آئی۔ ہر وقت بچی کی یاد اور اس کی اپنی آنکھوں کے سامنے موت کے سبب بے چین رہتی۔ اس کے ڈوبنے کا وہ منظر بھولتا ہی نہ تھا جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
اس واقعے کے ٹھیک چھبیس دن بعد ہمارے گاؤں میں قتل ہو گیا۔ مقتول کے ورثا نے رپورٹ درج کروائی۔ اس میں اس شخص کا بھی نام لکھوایا گیا تھا جس نے اس رات میری معصوم گلاب کی کلی کو میری گود سے چھین کر نہر برد کر دیا تھا۔ حالانکہ وہ شخص اس قتل میں ملوث نہ تھا۔ لیکن جب کیس چلا ، شواہد کچھ اس طرح اس کے خلاف گئے کہ اس کو سزائے موت ہو گئی کہ جس نے قتل کیا ہی نہیں تھا۔ جب سسر صاحب نے مجھے اس شخص کی سزائے موت کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہ وہ اس قتل میں شامل نہ تھا تو میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ نہیں وہ قاتل ہے، اب اس کو کوئی ماں کا لعل پھانسی کے پھندے سے نہیں بچ سکتا کیونکہ اس نے ایک معصوم پر ظلم کیا اور اس کو نہر میں پھینک کر ہلاک کیا۔ بے شک اس نے وہ قتل نہیں کیا تھا جس کے لئے موت کی سزا اس کو ملی لیکن اس نے میری معصوم بچی کو تو نہر میں عرق کر کے ایک ماں کا کلیجہ شق کیا تھا۔ قتل کے ورثا نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک کوشش کی مگر قدرت نے سزا اس کی تقدیر میں لکھ دی تھی۔ بالآخر اس کو پھانسی ہو گئی۔ پھانسی لگنے سے ایک روز پہلے اس نے اپنے باپ کو کہا تھا کہ میں قتل کا مجرم ہی ہوں کیونکہ میں نے دو ماہ کی ایک بچی کی جان لی تھی۔ اس کی ماں کی آہ مجھے لگی ہے۔ واقعی خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اور جب وہ انصاف کرنے پر آتا ہے تو انصاف ہو کر رہتا ہے، کوئی چھوٹا ہو یا مرتبے والا ، وہ پھر سزا سے بچ نہیں سکتا ہے۔
