حمزہ برآمدے میں کھیل رہا تھا۔ میز پر چڑھنے کی کوشش میں وہ گر پڑا۔ سر زمین پر لگا، چیخ ماری اور بےہوش۔ اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ کوما میں چلا گیا ہے۔ میں وہیں فرش پر گر پڑی۔ جس پھول کے لیے میں نے ساری جوانی قربان کر دی تھی، وہ مرجھا رہا تھا۔ مالی حالت پہلے ہی تباہ تھی۔ عمران کا اسٹور بند ہو گیا۔ جو تھوڑی بہت جمع پونجی تھی، علاج پر اڑ گئی۔ قرض لینا پڑا۔ تین ماہ گزر گئے، حمزہ بستر پر بےجان پڑا تھا۔
👇sublimegate👇
👇sublimegate👇
ہمارے گھر کے بالکل قریب ایک لڑکیوں کا پرائمری اسکول تھا جو آٹھویں جماعت تک تھا۔ نویں جماعت میں داخلہ لینے کے لیے مجھے شہر کے دوسری طرف بڑے اسکول جانا پڑا۔ وہاں میری ملاقات صہبا سے ہوئی۔ صہبا انتہائی ذہین، لائق اور محنتی طالبہ تھی۔ شکل و صورت میں وہ کوئی خاص خوبصورت نہ تھی، مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی کشش تھی۔ سانولی رنگت، بڑی بڑی معصوم آنکھیں اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ، وہ دیکھتے ہی دل میں اتر جاتی تھی۔ چند ہی دنوں میں ہم بہت اچھی سہیلیاں بن گئیں۔
صہبا اپنی ماں سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ اس کی ماں کئی سالوں سے بیوہ تھیں۔ دن رات محنت مزدوری، سلائی کڑھائی کر کے وہ اکیلے گھر کا گزارہ کرتی تھیں۔ صہبا ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ باپ کے انتقال کے بعد اس کی ماں نے دوبارہ شادی نہ کی بلکہ اپنی ساری جوانی، ساری خوشیاں بیٹی کی پرورش پر قربان کر دیں۔
ایک دن صہبا نے شرماتے ہوئے بتایا، ”سامنے، میرے چچازاد بھائی عمران سے میرا رشتہ بچپن میں ہی طے ہو گیا تھا۔ میٹرک کے فوراً بعد شادی ہو جائے گی۔“ اسے کالج جانے، مزید پڑھنے کا بڑا شوق تھا، مگر ماں کے لیے اتنا خرچ اٹھانا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ میٹرک ہوتے ہی اس کی شادی کر دی گئی۔ کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ وہ کرائے کا گھر چھوڑ کر کہیں اور شفٹ ہو گئی تھیں۔ رابطہ ٹوٹ گیا۔
وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ میری شادی ہوئی اور شوہر کی ملازمت کی وجہ سے میں لاہور سے کراچی منتقل ہو گئی۔ کئی برس گزر گئے۔ ایک دن ایک بڑے شاپنگ مال میں اچانک کسی نے میرا نام لے کر آواز دی۔ میں مڑی تو سامنے ایک عورت کھڑی تھی۔ پہلی نظر میں پہچاننا مشکل تھا۔ چہرہ جھلسا ہوا، آنکھوں میں تھکن، بال بکھرے ہوئے، لباس پرانا۔ وہ اپنی عمر سے دس بارہ سال بڑی لگ رہی تھی۔ دل نے گواہی دی کہ یہ صہبا ہی ہے۔
میں نے حیرت سے پوچھا، ”صہبا؟ یہ تم ہو؟ کیا ہو گیا ہے؟“
وہ میرے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ لوگ دیکھ رہے تھے مگر اسے کوئی پروا نہ تھی۔ پھر ایک کنارے بیٹھ کر اس نے اپنی دردناک کہانی یوں شروع کی:
” شادی کے ابتدائی دن بہت خوبصورت تھے۔ عمران مجھ سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ زندگی اتنی حسین ہو سکتی ہے۔ ہر شام ہم گھر سے نکلتے، سمندر کنارے، پارک، ریستوران۔۔۔ رات گئے واپس آتے۔ عمران کی امی بہت سخت مزاج خاتون تھیں۔ میں ان کا جتنا خیال رکھ سکتی تھی رکھتی تھی، مگر وہ ہر بات پر ناراض ہو جاتیں۔ عمران ماں کے بہت فرماں بردار تھے۔ ان کے نزدیک امی کا ہر لفظ حکم تھا۔ اگر کبھی بھولے سے میں ساس کی کوئی بات زبان پر لا بھی لیتی تو وہ کئی کئی دن مجھ سے بات نہ کرتے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ساس کی کوئی شکایت عمران سے نہ کروں گی، چاہے کتنا ہی دکھ کیوں نہ سہنا پڑے۔ ساس ماں نہیں بن سکتی اور بہو کبھی بیٹی نہیں بن سکتی۔ یہ تلخ سچ ہے۔
شادی کو دو سال ہو گئے مگر اللہ نے اولاد نہ دی۔ اب ساس نے طعنے دینا شروع کر دیے۔ ’یہ بانجھ ہے، میرا بیٹا ضائع ہو رہا ہے، دوسری شادی کرواؤں گی۔‘ عمران مجھ سے سچی محبت کرتے تھے۔ وہ ہر بار لوگوں کا منہ بند کرتے، ’ابھی تو وقت ہے، جب اللہ کو منظور ہوگا، اسی بیوی سے اولاد ہوگی۔‘ مگر میرے دل پر ہر طعنہ خنجر کی طرح چھری چلا جاتا تھا۔
میں بہت پریشان رہنے لگی۔ جب ساس زیادہ تنگ کرتیں تو میں اپنی خالہ کے گھر لاہور چلی جاتی۔ ایک دن خالہ نے شفقت سے پوچھا، ”بیٹی، ابھی تک ماں بننے کی خوشخبری کیوں نہیں آئی؟“
بے اختیار میری زبان سے نکل گیا، ”خالہ، اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔“
خالہ نے کہا، ”کسی اچھی لیڈی ڈاکٹر سے چیک اپ کروایا؟“
میں نے بتایا، ”کئی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ سب کہتے ہیں مجھ میں کوئی کمی نہیں۔ جب اللہ کی مرضی ہوگی تب ہوگا۔“
خالہ بولیں، ”میری بیٹی کو میں نے ڈاکٹر فرحت کے پاس لے گئی تھی۔ بہت اچھی گائناکالوجسٹ ہیں۔ کل تمہیں لے چلوں گی۔“
میں راضی ہو گئی۔ اگلے دن خالہ مجھے ڈاکٹر فرحت کے کلینک لے گئیں۔ مکمل چیک اپ کے بعد ڈاکٹر صاحبہ نے کہا، ”تمہارے ہارمونز شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے خراب ہو گئے ہیں۔ تناؤ ختم کرو، چند دوائیں کھاؤ، انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔“
صہبا نے بات ختم کرتے ہوئے ایک گہری سانس لی اور پھر آہستہ سے کہا، ”پتہ نہیں سامنے، وہ دوائیں کتنی کارگر ثابت ہوئیں گی۔۔۔ مگر اس تناؤ سے تو جان چھوٹ جائے۔“
ڈاکٹر فرحت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا، ”بس دو ماہ یہ علاج جاری رکھو، تناؤ بالکل نہ لو، انشاءاللہ بہت جلد خوشخبری ملے گی۔“
میں نے دل و جان سے ان کی ہدایات پر عمل کیا۔ تین ماہ بعد جب میں نے عمران کو بتایا کہ اللہ نے ہمیں ماں باپ بننے کا شرف عطا کیا ہے تو وہ خوشی سے پاگل ہو گئے۔ فوراً فون اٹھایا اور امی کو بتایا۔ امی کی آواز میں بھی خوشی جھلک رہی تھی۔ سب سے بڑی خوشی مجھے یہ تھی کہ اب وہ طعنے بند ہو جائیں گے جو ہر وقت میرے کانوں میں زہر گھولتے تھے۔
حمل کے دنوں میں نہ صرف عمران بلکہ ساس بھی میرا خیال رکھنے لگیں۔ جب ایک خوبصورت، گول مٹول، صحت مند بیٹا دنیا میں آیا تو گھر خوشیوں سے جھوم اٹھا۔ ہم نے اس کا نام حمزہ رکھا۔ حمزہ میری جان، میری زندگی، میری ہر دعا کا پھل تھا۔ اتنے انتظار، اتنے دکھ کے بعد آیا تھا کہ لگتا تھا میری مرجھائی ہوئی روح پر گلاب کا پھول کھل گیا ہو۔ پہلی بار زندگی میں سچا سکون ملا تھا۔
مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
ایک دن اچانک عمران کے کاروباری دوست کی گارمنٹس کی دکان میں شدید آگ لگ گئی۔ سارا مال جل کر راکھ ہو گیا۔ اب صرف ایک چھوٹے سے جنرل اسٹور کی آمدنی رہ گئی تھی۔ گھر کا خرچہ بمشکل چلتا تھا۔
اچھے دنوں میں انسان رب کی نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حمزہ کی پیدائش کے فوراً بعد میں نے عمران سے کہا، ”مجھے کوئی مددگار عورت چاہیے جو بچے کی دیکھ بھال کرے اور گھر کے کام میں ہاتھ بٹائے۔ کوئی غریب، ایماندار، ضرورت مند۔“
عمران کی دکان پر نوید نامی ایک غریب لڑکا کام کرتا تھا۔ عمران نے اس سے بات کی تو اس نے کہا، ”سر، میری والدہ بیوہ ہیں۔ اگر آپ کہیں تو میں انہیں لے آؤں۔ وہ بہت محنت کرتی ہیں۔“
عمران نے فوراً ہامی بھر لی۔ ”لے آؤ، رہائش بھی دیں گے، تنخواہ بھی۔“
اگلے دن نوید اپنی ماں کو لے کر آیا۔ ان کا نام عذرا خالہ تھا۔ چالیس برس کی سادہ سی، سمجھدار اور انتہائی محنتی عورت۔ جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئیں، سارا بوجھ میرے کندھوں سے اتر گیا۔ حمزہ کی دیکھ بھال، کھانا پکانا، گھر کی صفائی۔۔۔ سب کچھ وقت پر، بلا ناغہ۔ ہم نے تنخواہ تین ہزار روپے ماہوار رکھی۔ وہ ہر جمعہ کو اپنے گھر جایا کرتی تھیں، مگر ایک دن جب وہ چلی گئیں تو مجھے اتنی پریشانی ہوئی کہ میں نے ان کی چھٹی ہی بند کر دی۔
کچھ دن سب اچھا چلا۔ پھر شیطان نے میرے دل میں وسوسہ ڈالنا شروع کر دیا۔
مجھے لگنے لگا کہ عذرا خالہ چپکے سے کچن سے کھانا چرا کر کھاتی ہیں۔ کبھی دودھ کی پیالی کم ہو جاتی، کبھی روٹیوں کی تعداد گھٹ جاتی۔ میں نے انہیں کبھی چوری کرتے دیکھا نہ تھا، مگر بدگمانی کی کوئی دلیل نہیں مانگتی۔ بس دل میں وہم بیٹھ گیا۔
رات کو بھی نیند نہیں آتی تھی۔ بار بار اٹھ کر کچن میں جھانکتی کہ کہیں عذرا خالہ تو نہیں کھا رہی ہیں۔ جب وہ برتن دھو رہی ہوتیں یا حمزہ کو سلاتی ہوتیں تو میں خالی ہاتھ واپس لوٹ آتی اور خود کو سمجھاتی کہ ”اے اللہ! مجھے معاف کر، یہ تیری دی ہوئی نعمت ہے، میں اس کی ناشکری کر رہی ہوں۔“
مگر شیطان کہاں ماننے والا تھا۔ ایک دن غصے میں آ کر میں نے عذرا خالہ کو بری طرح ڈانٹ پلائی۔ ”اگر کام ٹھیک نہ کیا تو تنخواہ کاٹ لوں گی! تم سارا دن کچن میں کیا کرتی ہو؟“ وہ خاموش رہیں، سر جھکائے کھڑی رہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بھی میرا دل نہ پسیجا۔ غرور نے مجھے اندھا کر دیا تھا۔
شام کو وہ روتے ہوئے اپنا بنڈل اٹھایا اور چلی گئیں۔
رات کو نوید آیا۔ دروازے پر کھڑا ہو کر بولا، ”باجی، میری ماں نے آپ کا کیا بگاڑا تھا؟ وہ رو رو کر بےہوش ہو گئی ہیں۔ آخر ان کا قصور کیا تھا؟“
میں نے غرور سے سر اٹھایا اور کہا، ”تمہاری ماں سے کوئی کام ٹھیک نہیں ہوتا تھا۔ سارا دن کچن میں گھسی رہتی تھی، آوازیں دے دے کر تھک جاتی تھی۔ اوپر سے تم ان کی حمایت کرنے آ گئے ہو؟“
نوید نے آہستہ سے کہا، ”جو تنخواہ بنتی ہے، حساب کر دیں۔“
میں نے طنز سے کہا، ”کوئی تنخواہ نہیں۔ اپنی مرضی سے گئی ہیں، میں نے تو نکالا نہیں۔“
وہ بے چاری سر جھکائے، اپنا سا منہ لے کر چلا گیا۔
اس رات جب میں سونے گئی تو حمزہ رو رہا تھا۔ عذرا خالہ کے جانے کے بعد پہلی بار گھر میں ایسی خاموشی تھی کہ لگ رہا تھا کوئی مر گیا ہو۔
عذرا خالہ کے جانے کے چند ہی دنوں میں مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ ننھے حمزہ کے ساتھ اکیلے گھر سنبھالنا میری طاقت سے باہر ہے۔ صفائی، کپڑے دھونا، استری، کھانا پکانا، بچے کے کپڑے الگ دھونا، فیڈر ابالنا؛ میں پاگل ہو رہی تھی۔ راتوں کو نیند نہ آتی تھی، دن میں سر چکراتا تھا۔
آخر میں نے عمران سے کہا، ”کسی طرح عذرا خالہ کو واپس لے آؤ، براہِ کرم۔“ عمران نے نوید سے بات کی تو جواب ملا، ”امی آنے کو تیار نہیں۔ کہتی ہیں باجی بات بات پر بےعزتی کرتی ہیں۔“
بات دل پر خنجر کی طرح لگی۔ سچ تو یہی تھا۔ اللہ نے مجھے سب کچھ دیا تھا، میں اترا گئی تھی، اور ایک بیوہ کی عزتِ نفس کو روند ڈالا تھا۔
اپنی غلطی ماننے کی بجائے شیطان نے پھر سر اٹھایا۔ میں غصے میں بول اٹھی، ”اچھا؟ اگر کل تک عذرا خالہ نہ آئیں تو نوید کو بھی دکان سے نکال دینا!“ عمران مجھے ناراض نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انہوں نے نوید کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔ نوید روتے ہوئے التجا کرتا رہا، ”باجی، میرا کیا قصور؟ میں گھر کا اکلوتا سہارا ہوں!“ مگر میری ضد نے اس کی آواز دبا دی۔
ٹھیک چھ دن بعد قیامت ٹوٹ پڑی۔ گارمنٹس کی دکان جل کر راکھ ہو گئی۔ ساری جمع پونجی خاکستر۔ عمران نے سر پکڑ کر کہا، ”تم نے ناحق ایک بیوہ اور اس کے یتیم کو سڑک پر ڈال دیا۔ یہی بددعا ہے۔“
اب تنگ دستی شروع ہو گئی۔ ادھر حالات یہ تھے کہ اچانک حمزہ کو تیز بخار ہوا اور دورے پڑنے لگے۔ ایمرجنسی لے گئے تو ڈاکٹر بولے، ”پانچ سال تک دورے پڑ سکتے ہیں۔“ ساس بیمار ہو کر اپنی بیٹی کے گھر چلی گئیں۔ گھر میں صرف ہم تین رہ گئے تھے، لیکن اب تین بھی نہ رہے۔
ایک دن کچن میں کام کر رہی تھی، حمزہ برآمدے میں کھیل رہا تھا۔ میز پر چڑھنے کی کوشش میں وہ گر پڑا۔ سر زمین پر لگا، چیخ ماری اور بےہوش۔ اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے کہا، ”کوما میں چلا گیا ہے۔ کب واپس آئے گا، کچھ نہیں کہہ سکتے۔ چند دن بھی ہو سکتے ہیں، عمر بھر بھی۔“
میں وہیں فرش پر گر پڑی۔ جس پھول کے لیے میں نے ساری جوانی قربان کر دی تھی، وہ مرجھا رہا تھا۔
مالی حالت پہلے ہی تباہ تھی۔ عمران کا اسٹور بند ہو گیا۔ جو تھوڑی بہت جمع پونجی تھی، علاج پر اڑ گئی۔ قرض لینا پڑا۔ تین ماہ گزر گئے، حمزہ بستر پر بےجان پڑا تھا۔ دن رات دعائیں، رو رو کر قرآن پڑھتی، اس کے کان میں باتیں کرتی، کہانیاں سناتی۔ ڈاکٹر کہتے تھے، ”دماغ کام کر رہا ہے، وہ سن رہا ہے۔“
آخر ایک دن اس نے آنکھیں کھول دیں۔ خوشی کے آنسو نکلے، مگر وہ صرف سن سکتا تھا، بول نہیں سکتا تھا، ہل نہیں سکتا تھا۔ تین سال کا بچہ بستر سے بندھ گیا۔
ابھی اس صدمے سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ ایک اور قیامت آ گئی۔ گرمی کے جھلسا دینے والے دنوں میں عمران حمزہ کی دوائیں لینے گئے تھے۔ بلڈ پریشر اچانک بہت بڑھ گیا۔ سڑک پر گرے اور دل نے ساتھ چھوڑ دیا۔
میری دنیا لُٹ گئی۔ جو شخص میری ڈھال تھا، میری طاقت تھا، میرا سہارا تھا، وہ چلا گیا۔ اب صرف میں اور حمزہ۔ ساس نے ترس نہ کھایا۔ مجھے ”منحوس“ کہہ کر گھر سے نکال دیا۔ سارا سامان اپنی بیٹی کو دے دیا۔ حمزہ اسپتال میں، میں سڑک پر۔
امی کو فون کیا تو وہ دوڑی آئیں۔ مجھے گلے لگا کر رونے لگیں۔ ”بیٹی، زندگی امتحان ہے۔ حمزہ کے لیے جینا ہے ابھی۔“
وہ مجھے اپنے پاس لے آئیں۔ وہی پرانا کرائے کا گھر، وہی سلائی مشین۔ میری تعلیم زیادہ نہ تھی، نوکری کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ پڑوسن نے مشورہ دیا، ”کھانا بنا کر بیچو، حمزہ کا خرچہ نکل آئے گا۔“ اپنا آخری زیور بیچا، چند برتن خریدے، کام شروع کیا۔ چھ ماہ تک جان ماری، مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
ایک صبح حمزہ نے کومے ہی میں آنکھیں بند کر لیں۔ اب دنیا میں صرف میں اور امی۔
امی صبر کی تلقین کرتیں، مگر میرا دل پتھر ہو چکا تھا۔ آنسو خود بہتے رہتے۔ راتوں کو حمزہ کی آواز سنائی دیتی، ”اما!“
پڑوس میں لڑکیوں کا مدرسہ تھا۔ ایک خاتون نے کینٹین کا ٹھیکہ لیا تھا۔ وہ امی سے بولیں، ”چالیس لڑکیاں ہیں، میس کا کھانا نہیں کھاتیں۔ سنا ہے آپ کی بیٹی کھانا بناتی ہے۔ اگر وہ کھانا دے تو لڑکیوں کو بھی گھر کا کھانا ملے گا اور اس کا بھی گزارہ ہو جائے گا۔“
میں نے کہا، ”اب کس کے لیے کروں؟“ امی نے سمجھایا، ”کام سے دل بہلے گا، وقت گزرے گا۔ اور بیٹی، دوسری راہ یہ ہے کہ تیری شادی کر دوں۔ تو ابھی جوان ہے، مرد کے سہارے کے بغیر گزارہ مشکل ہے۔ میری عمر ہو چلی، کل کو میں نہ رہی تو؟“
ساری رات سوچتی رہی۔ دوبارہ شادی کا خیال دل میں زہر لگا۔ میں نے کہا، ”امی، میں کھانا بنایا کروں گی۔“
دو عورتوں کو ساتھ لگایا۔ ہوم کچنگ شروع کی۔ اللہ نے رزق کشادہ کر دیا۔ ہاتھ تنگ نہ رہا۔ مگر دل اب بھی خالی تھا۔
ایک دن خالہ زاد بولی، ”میری پانچویں اولاد ہے، گود لے لو۔ ہم غریب ہیں، پرورش نہیں ہو پا رہی۔“ میں نے بچے کو گود لیا، نام حمزہ رکھا۔ چند دن بعد اس کی ساس نے واویلا کیا اور بچہ واپس لے گئی۔ میں روتی رہ گئی۔
پھر ایک دن، مدرسے کا کھانا پہنچا کر واپس آ رہی تھی۔ گلی میں دیوار کے ساتھ ایک ٹوکری ہل رہی تھی۔ قریب گئی تو نوزائیدہ بچے کی رونے کی آواز آئی۔ امام صاحب گزر رہے تھے۔ بولے، ”بیٹی، گھر لے جاؤ۔ میں سارے معاملات سنبھال لوں گا۔ یہ اللہ کی امانت ہے۔“
میں نے اس کا نام بھی حمزہ رکھا۔ امام صاحب نے اعلان کروایا، کاغذات بنوائے۔ آج وہ چار سال کا ہو گیا۔ میری گود ہری ہو گئی۔
امی اب بہت کمزور رہتی ہیں، ان کی خدمت میرا فرض ہے۔ میں کام کرتی ہوں، حمزہ کو پالتی ہوں، امی کی دیکھ بھال کرتی ہوں۔ دل میں عمران اب بھی زندہ ہے۔ اس کی جگہ آج تک کوئی نہ لے سکا، نہ کبھی لے سکے گا۔
زندگی نے مجھے سب کچھ چھین لیا تھا، مگر اللہ نے پھر حمزہ دے دیا۔ یہ میرا بڑھاپے کا سہارا ہے، میری دعاؤں کا پھل ہے، میری امید ہے۔ خدا جانے اس کے والدین کون ہیں، مجھے کوئی غرض نہیں۔ میں نے تو اسے اللہ کی مخلوق سمجھ کر اٹھایا تھا کہ میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے اور ایک بے سہارا جان بچ جائے۔
صہبا نے یہ ساری کہانی مجھے اس دن سنائی جب میں نے اسے اپنے گھر چائے پر بلایا تھا۔ سن کر میرا دل کانپ گیا۔ سچ کہتی ہے صہبا، اللہ کی رضا میں ہی بندے کی بھلائی ہے۔ جو کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے، وہ صرف نیت اور عمل ہے۔ باقی سب اسی مالکِ کائنات کے ہاتھ میں ہے۔
