عبرت کا نشان

Sublimegate Urdu Stories

خدا ایسا چہرہ کسی کو نہ دکھائے۔ جب میں نے اچانک اسے دیکھا تو چیخ نکل گئی۔ دوڑ کر بھوسے والی کوٹھری میں چھپ گئی۔ بھائی اس وقت بوری میں بھوسہ بھر کر باڑے کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے بدحواس دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ کیا ہوا ہے ملوکاں؟ کیوں ادھر چھپ رہی ہے؟ بھائی! وہ باہر بھوت کھڑا ہے، بہت ہی خوفناک شکل والا۔ اتنے میں کسی نے بھائی کا نام پکارا: وزیر خان!ارے کملی! یہ تو جیرا ہے، میرا بچپن کا دوست۔ تو اسے پہچانتی نہیں؟ پہچانتی ہوں بھیا… مگر!مگر کیا؟ ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بھائی نے میری بات پوری ہونے نہ دی اور دروازے سے باہر نکل گیا۔ جلنے کے بعد جیرا پہلی بار بھائی سے ملنے آیا تھا اور اس کا نام سن کر میں حیرت زدہ رہ گئی تھی۔ کیا یہ وہی جیرا تھا؟ ہمارے گاؤں کا سب سے خوبصورت نوجوان! جسے اپنے حسن پر ناز تھا، گاؤں کی گوریاں جس پر مرتی تھیں۔ یہ اتنا بدصورت اور بھیانک شکل والا کیسے ہو گیا؟ 
cknwrites
قصہ یہ تھا کہ رمضان شریف کا مہینہ تھا۔ لوگ سحری کے بعد سوتے نہیں تھے۔ اس روز بھی جب مخبر کی اذان ہوئی تو نمازی گھروں سے نکل کر مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ اچانک جیرے کے گھر سے دردناک چیخوں کی آوازیں آنے لگیں، جیسے کوئی کسی کا گلا دبا رہا ہو۔ یہ آواز جیرے کی بیوی کی تھی۔ اس کی دل دوز چیخوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ زندگی اور موت کی جدوجہد میں تڑپ رہی ہے۔ بالآخر وہ تڑپتی پھڑکتی زندگی کی بازی ہار گئی اور موت کے بے رحم ہاتھ جیت گئے۔ یہی نہیں، سنگ دل قاتل نے اس کی معصوم ایک ماہ کی بیٹی کی بھی جان لے لی۔ یہ سمجھ سے بالاتر تھا کہ بے گناہ نعیمہ یعنی نمو اور اس کی نوزائیدہ بچی کا کیا قصور تھا۔ گھر میں اکیلا پا کر کسی ظالم نے ان دونوں کو گلا دبا کر ہلاک کر دیا۔ سب جانتے تھے کہ جیرا اپنے کزن کی شادی پر دوسرے گاؤں گیا ہوا تھا۔ گھر میں بیوی اور بچی کے ساتھ صرف بوڑھی ماں تھی، مگر جب یہ واقعہ ہوا تو وہ بے ہوش پڑی تھی۔ بہو کی ہولناک چیخیں بھی اسے جگا نہ سکیں۔

معمہ یہ تھا کہ وہ کون شخص تھا جس نے ایسی نیک اور شریف عورت اور اس کی بچی کو اس بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا؟دو سال پہلے ہی تو جیرا اور نمو کی شادی ہوئی تھی۔ جیرا اس شادی پر راضی نہ تھا، مگر وٹے سٹے کے سبب اسے والدین کی بات ماننا پڑی۔ بعد میں دونوں کی بن گئی تھی۔ نہ کوئی جھگڑا تھا نہ ناچاقی۔نعیمہ ایک غریب مگر شریف گھرانے کی بیٹی تھی۔ گاؤں کے پرائمری اسکول ٹیچر کی لڑکی تھی، سوتیلی ماں کے ہاتھوں پلی بڑھی تھی، اسی لیے شاید شوہر کی خدمت گزار اور وفا شعار تھی۔ اس کی شادی کی کامیابی کا انحصار اس کے بھائی اور بھاوج پر بھی تھا، جو خود بھی خوش تھے، اس لیے وہ کبھی کوئی جھگڑا پیدا نہ کرتی تھی کہ مبادا اس کے بھائی کا گھر خراب نہ ہو جائے۔ نہ جیرے کی کسی سے دشمنی تھی، نہ نمو کے میکے والوں کا کسی سے تنازع۔ پھر اس قتل کا سبب کیا ہو سکتا تھا؟ قاتل کون تھا؟ یہ سب کے لیے معمہ تھا۔بہر حال، واقعے کے بعد پولیس پہنچی اور مقدمہ درج ہو گیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے جیرا کو بھی گرفتار کر لیا۔ یہ سن کر گاؤں والے حیران رہ گئے۔ جیرا تو امن پسند اور نرم دل انسان تھا، اس کا کسی سے کوئی جھگڑا نہ تھا۔ پھر اسے کیوں گرفتار کیا گیا؟مگر پولیس تجربہ کار تھی۔ چند سخت سوالات اور دباؤ کے بعد بالآخر جیرا ٹوٹ گیا اور اعتراف کر لیا کہ اس نے ہی اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے، کیونکہ وہ اس کی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ بن گئی تھیں۔ اس نے وقوعہ والی رات ماں کو چائے میں نشہ آور گولیاں دے کر سلا دیا تھا

یہ بات تھی کہ شادی سے پہلے ہی جیرا گاؤں کی ایک حسینہ، جو یا سے پیار کرتا تھا، دونوں نے دلوں میں کبھی نہ بچھڑنے اور شادی کرنے کا عہد کر رکھا تھا۔ لیکن والدین کے دباؤ پر جیرا کو نمو سے شادی کرنی پڑ گئی۔ یہ وٹے سٹے کا معاملہ تھا۔ اگر وہ نمو سے شادی نہ کرتا تو اس کی بہن کو طلاق لازمی لینا پڑتی، جبکہ وہ اب چار بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ اسی پس منظر میں جیرا کی شادی ہو گئی، لیکن اس نے دل میں عہد کر رکھا تھا کہ دوسری شادی وہ اپنی من پسند دوشیزہ یعنی جویریہ سے ضرور کرے گا۔ شادی کے بعد بھی ان کی محبت میں فرق نہ آیا اور جیرا جو یا سے ملتا رہا۔ جو یا بھی اپنے محبوب سے ملے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔ جان پر کھیل کر راتوں کو ندی پار ملنے جاتی تھی۔ پہلے وہ جیرا سے روٹھ گئی تھی کہ اس نے شادی کیوں کر لی، لیکن پھر درد فرقت نے اسے ستایا اور وہ نہ رہ سکی۔ بالآخر وہ تیرنے والا مشکیزہ لے کر ندی پار اس کنارے آ گئی جہاں جیرا رہتا تھا۔ گویا شادی نے آتش عشق کو اور تیز کر دیا تھا۔

 جیرا نے جویریہ سے کہا کہ مجھے اپنی زندگی تمہارے بغیر ادھوری لگتی ہے، کیا تم مجھ سے شادی کرو گیجویریہ بولی کہ میں کیسے تم سے شادی کر لوں اور اپنے ماں باپ کی نافرمانی کروں، جب کہ تم شادی شدہ ہو۔ میری اب تم سے شادی کیسے ہو سکتی ہے۔ ہاں، یہ وعدہ کرتی ہوں کہ کسی اور سے شادی نہیں کروں گی۔ اگر گھر والے مجبور کریں گے تو میں دریا میں کود کر اپنی جان دے دوں گی، مگر تیرے سوا کسی اور کی نہیں بنوں گیجیرا نے کہا کہ میں نے ماں باپ کو منا لیا ہے کہ دوسری شادی اپنی مرضی سے کروں گا، تبھی تو پہلی شادی ان کے کہنے پر کی ہے جویریہ نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا، تم شادی شدہ ہو اور ایک بچی کے باپ بھی ہو۔ جب تک تمہاری بیوی اور بچی گھر میں موجود ہیں، میری تم سے شادی نہیں ہو سکتیحالانکہ جویریہ جانتی تھی کہ جیرا کی شادی وٹے سٹے کی تھی، اس لیے وہ کسی صورت بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا، پھر بھی اس نے ایسی شرط لگا دیاس کا مطلب صاف تھا کہ جیرا نے شادی کر کے اسے تڑپا دیا تھا، اور اب وہ بھی اسی طرح اسے تڑپانا چاہتی تھی۔ جویریہ کو تو یہ بھی گمان نہ تھا کہ اسے پانے کے لیے جیرا کیا کچھ کر ڈالے گا۔ اس نے سمجھ لیا کہ نمو سے چھٹکارا حاصل کیے بغیر جویریہ کو دلہن بنا کر گھر نہیں لاسکتا، تبھی وہ ایسا قدم اٹھا گیا پولیس کو بیان دیتے ہی جیرا اور جویریہ کی محبت طشت از بام ہو گئی۔

 کچھ دن کیس چلتا رہا، ایک ہی خاندان کا جھگڑا تھا تو غم بھی سانجھا تھانمو قتل ہو گئی، اور اس کی بھابی اپنے گھر کی بربادی پر رو رہی تھی۔ ماسٹر صابر دہر اہوا سوچ میں مبتلا تھا کہ اگر بیٹی کے قتل کے بدلے داماد کو پھانسی ہو جائے تو بھی بھتیجے کا کیا ہوگا۔ تب اس کا بیٹا بیوی کو طلاق دے، اور ان چار معصوم بچوں کو کون پالے گابڑھی دادی بہو کے غم میں گھل رہی تھی۔ ماسٹر صابر کسی طور محل کی طلاق نہیں چاہتے تھے۔ وہ بیوہ ہی نہیں، بھتیجی بھی تھی، اور وہ بے قصور تھی۔ قتل تو جیرے نے کیا تھا، سزا اس بچاری کو کیوں مل رہی تھیاسی سوچ بچار میں وہ تھے کہ جیرے کا باپ برادری کے کچھ لوگوں کے ساتھ ماسٹر صابر کے گھر آیا۔ اس کا چھوٹا بھائی بھی تھا۔ بھائیوں نے ماسٹر کے پیر پکڑ لیے اور بیٹے کی جان بخشی کے لیے منت زاری کرنے لگے۔ برادری کے بزرگوں نے کہا کہ بھتیجے کو پھانسی دینے کے بجائے صلح کر لو، اور دیت پر فیصلہ کر لو۔ بیٹی کا خون معاف کرنے کا اختیار تمہیں ہے۔ اس طرح بہن در بدر نہیں ہوگی اور پوتے پوتیاں بھی ماں سے جدا نہیں ہوں گے

ماسٹر صابر عجب صورتحال سے دوچار تھے۔ ان کی بیٹی نمو مر گئی، جیرے کو پھانسی سے بچا لیا گیا، لیکن گھر اجڑنے کا خطرہ بھی باقی تھا۔ اس نے برادری کی بات مان لی اور جیرے کو پھانسی سے بچا لیا۔ برادری کے بزرگوں نے مل ملا کر معاملہ دبا دیاکچھ عرصہ قید بھگت کر جیرا گھر آگیا۔ ماسٹر نے بیٹی کا خون معاف کیا، لیکن قدرت نے نہیں۔ جیرے کی سزا مقرر ہو چکی تھی، بے گناہ نمو اور اس کی بچی کا خون رنگ لا کر رہ گیاکچھ دن بعد جیرے کی ماں بیٹے کے لیے جویریہ کا رشتہ لینے گئی، لیکن جویریہ کے والدین نے کہا کہ تمہارے قاتل بیٹے کو اپنی بیٹی سے رشتہ نہیں دے سکتے۔ وہ دونوں حقارت سے منہ پھیر گئے اور مزید چوکنا ہو گئےانہوں نے بیٹی کی سخت نگرانی شروع کر دی تاکہ وہ کھیتوں میں بھی اکیلی نہ نکلے۔ ان کا خیال تھا کہ جیرا عمر بھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے یا پھانسی پا کر رہے گا۔ مگر جیرا نہ صرف صحیح سلامت جیل سے نکلا بلکہ اپنے عشق کا اعتراف پولیس کے سامنے کر کے سب کے چہروں پر کالک بھی مل دیاس کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے صرف جویریہ کے والدین ہی نہیں، گاؤں کی عورتیں بھی اسے دیکھ کر منہ پھیر لیتی تھیں۔ جیرے کا گھر گاؤں میں نہ تھا، بلکہ ندی پار کھیتوں میں تھا جہاں وہ جیل سے چھوٹنے کے بعد رہتا تھاعشق کے مارے محسنوں کو ایسی باتوں کی پرواہ نہیں ہوتی۔
 ایک رات ہمت کر کے جویریہ جیرے سے ملنے ندی کی جانب نکل پڑی۔ دبے قدم، سانس روکے، دہلیز پار کی۔ کانوں کی بالیوں کے سوا سارے زیور اتار دیے تاکہ ان کے گھنگھرو اور پازیب کی آواز نہ ہو۔ یہ احتیاط اس لیے تھی کہ اس کا بھائی صحن میں موجود تھامگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ دہلیز تو بغیر آہٹ کے پار کر گئی، لیکن اس کے بھائی کی چھٹی حس جاگ گئی۔ ابھی وہ آدھا کھیت پار کر چکی تھی کہ سجاول کی آنکھ کھل گئی۔ گھر کا چکر لگایا، کمرے میں بھی جھانکا، مگر جویریہ کہیں نہ تھی۔ پلٹ کر دروازے کی طرف گیا، مگر کنڈی نہیں لگی تھی۔ گویا جویریہ گھر کی دہلیز پار کرتے وقت چپکے سے نکل گئی تھی وہ سائے کی مانند اس کے پیچھے نکل کھڑی ہوئی۔ پگڈنڈیاں اور نالے پھلانگتی وہ رات کی تاریکی میں ندی کی جانب جا رہی تھی۔ مشکیزے پر لیٹ کر ندی پار کرنے کا فن جانتی تھی، لیکن سجاول کو سندھاری کی بھی ضرورت نہ تھی۔ وہ منٹوں میں تیرتے ہوئے ندی پار کر گئیجویریہ کو گمان بھی نہ تھا کہ اس کا بھائی موت کا فرشتہ بن کر اس کے تعاقب میں چل رہا ہے

ندی اگرچہ چھوٹی سی تھی، پھر بھی پانی میں اترنے سے کپڑے بھیگ گئے۔ وہ بھیگے کپڑوں کے ساتھ جیرے کی بیٹھک تک پہنچی، تو خنکی جسم میں اتر چکی تھی اور اسے کپ کی لگی۔ بیٹھک میں دیا جل رہا تھا، جس کا مطلب تھا کہ وہ ابھی تک کسی کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ اس ایک کمرے کی بیٹھک میں اکیلا جاگ رہا تھا۔ جو یا نے دروازہ بجایا۔ اس دستک کو وہ فوراً پہچان گیا، در کھولا اور جو یا بیٹھک میں داخل ہو گئی۔ جو یا نے کہا کہ ندی کا پانی بہت ٹھنڈا تھا، مجھے سردی لگ رہی ہے، مجھے خشک کپڑے دو۔انہیں خبر نہ تھی کہ سجاول بیٹھک تک پہنچ چکا ہے اور دری پر کان رکھ کر ان کی باتیں سن رہا ہے۔ جوش و جذبات میں اس نے گھر سے کوئی ہتھیار نہیں اٹھایا تھا، جیب میں صرف ایک ماچس کی ڈبیا تھی۔ 

بیٹری نہ ہونے کے باوجود اس کے اندر آگ بھڑک رہی تھی۔ بیٹھک کا در اندر سے بند تھا، اور وہاں اس کی بہن ایک غیر مرد کے ساتھ موجود تھی۔ اس کا خون کھول اٹھا اور جسم و جان غصے کی بھٹی میں سلگنے لگے۔اس نے اپنے کیشے میں ہاتھ ڈالا، ماچس کی ڈبیا نکالی اور ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر پاگل جنونی کی طرح جیرے کی بیٹھک کو آگ لگا دی۔ بیٹھک لکڑی کی بنی ہوئی تھی۔جیرے نے کھڑکی اور دروازے کی باہر سے لگی زنجیریں چڑھا دی تھیں۔ بیٹھک کی دیوار کے ساتھ کپاس کی سوکھی لکڑیوں کے ڈھیر رکھے ہوئے تھے، تبھی آگ نے تیزی سے ان کو گھیر لیا۔ جانوروں کے چارے کے لیے خشک گھاس کے ڈھیر بھی موجود تھے، آگ نے ان کو بھی پکڑ لیا اور جیرے کی بیٹھک کو جہنم بنا دیا۔ جب چاروں طرف سے بھوسے نے آگ پکڑ لی، لکڑی کی انگارہ چھت راکھ بن گئی۔ جو یا کے لباس کا ایک تار بچا، اور اس کا جسم بھی سرمے کی مانند جھلس گیا۔ چاندی کی بالیاں تک پگھل کر اس راکھ میں مل گئیں۔ جلتی ہوئی کھڑکی کا ایک پٹ گرا، جس سے جیرے کو بھاگ نکلنے کا راستہ مل گیا۔ اس نے ایک خبیث روح کی طرح چھلانگ لگا کر خود کو جلنے سے بچایا۔
سجاول جائے وقوع سے فرار ہو گیا تھا۔ جیرے کی حالت یہ تھی کہ اس کے ہونٹ اور منہ جھلس کر ٹیڑھے میڑھے ہو گئے تھے، پلکیں، بال اور بھنویں تک غائب تھیں، اور جسم کی کھال جگہ جگہ سے سکڑ کر سیاہ ہو گئی تھی۔ آگ کی لپٹوں سے وہ اتنا بھیانک اور مکروہ ہو چکا تھا کہ اس کی طرف دیکھنا بھی مشکل تھا۔ وہ اب ایک ایسی جلی ہوئی تصویر بن چکا تھا جس کا وجود دیکھنے والوں کے لیے باعث کوفت تھا۔ وہ عبرت کا ایک تازہ نشان تھا، جسے زندہ لوگوں کی آنکھیں برداشت نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ اپنی بے قصور بیوی اور ننھی منی پھول سی بچی کا گلا دبانے کا نہایت بھیانک انتقام قدرت نے اس سے لے لیا تھا۔جیرے کے جسم و چہرے کے مسخ شدہ حالات سے لوگ خوفزدہ ہو گئے تھے، اور بچے خوف کے مارے دور بھاگتے تھے۔ لوگ اس کے ساتھ راہ و رسم رکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ سجاول کو سزا ملی کہ اس کے خلاف وہاں کوئی ثبوت نہیں تھا، اور کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا تھا کہ آگ کیسے اور کیوں لگی۔ مگر جیرے زندگی بچ جانے سے خوش نہ تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے پھانسی ہو جاتی۔ پھانسی ہو جاتی تو شاید میں اس کڑی سزا سے بچ جاتا۔

(ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ