نوکر سے شوہر تک

Sublimegate Urdu Stories

جن دنوں میری عمر آٹھ، نو برس تھی، ہمارے گھر ایک لڑکا آیا۔ یہ ماجھے کریم کا بیٹا شاہد تھا۔ ماجھے کی گاؤں میں آٹا پیسنے کی چکی تھی۔ لڑکے کو اس نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا، کیونکہ وہ اسکول جاتا تھا اور باپ کے ساتھ چکی پر بیٹھنے سے انکاری تھا۔ ان دنوں ابا جان اسی گاؤں میں اسکول ماسٹر تھے جہاں ماجھا رہتا تھا۔ جب ابا جان کا تبادلہ گاؤں سے شہر ہو گیا تو ہم بھی شہر آ گئے۔ والد نے شاہد کو اپنے پاس رکھ لیا۔ ماجھے کو سمجھایا کہ تمہارا لڑکا ہوشیار ہے، یہ پڑھنا چاہتا ہے تو پڑھنے دو۔ کوئی نوکر رکھ لو، زبردستی اسے چکی پر مت بٹھاؤ۔ پڑھ لکھ جائے گا تو اس کی زندگی بن جائے گی۔ ماجھا ابا کا بڑا لحاظ کرتا تھا، سو چپ ہو گیا۔ شاہد ہمارے گھر رہنے لگا۔ وہ اب روز اسکول جاتا، اسکول سے واپس آ کر ہمارے گھر کے کام کاج کر دیا کرتا۔ بہت ذہین تھا، تبھی ابا جان اس پر خاص توجہ دیتے تھے اور اپنے بچوں جیسا برتاؤ کرتے تھے۔ تاہم جب بھی ہم اسے پکارتے، وہ دوڑ کر آتا اور ہر حکم بجا لاتا۔
sublimegate
 شاید وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو گیا تھا، کیونکہ رفتہ رفتہ ہم اس سے نوکروں سا برتاؤ کرنے لگے تھے۔حالانکہ وہ میری ماں کو اماں جی اور والد کو ابا جی کہہ کر پکارتا تھا، اور وہ بھی اسے بیٹا کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے، مگر جب کوئی کام بتانا ہوتا تو مجھے یا بھائیوں کو آواز دینے کے بجائے شاہد کو ہی بلاتے تھے۔ اس امتیاز نے ہم بہن بھائیوں کو نکما اور کام چور بنا دیا، اور ہم شاہد کو اپنا ملازم سمجھنے لگے۔ شاہد شکل و صورت کا بھلا نہیں تھا، رنگت سانولی اور نقوش بھدّے تھے، جسم گٹھا ہوا اور قد چھوٹا تھا۔ یوں کہنا چاہیے کہ ظاہری ہیئت متناسب نہیں تھی۔ وہ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا، لیکن اس کا ذہن عام ذہن نہیں تھا بلکہ تیز اور چالاک سوچوں کی ایک فیکٹری تھا۔ وہ بڑا سازشی اور ہوشیار لگتا تھا۔ اکثر اپنی چالاکیوں کے باعث ہم بہن بھائیوں کو آپس میں لڑوا دیتا، خود نیک اور معصوم بن جاتا، اور ہماری پٹائی ہو جاتی۔ 

میرے والدین اس کی چالاکیوں کو سمجھ ہی نہ پاتے، مگر میں سمجھ جاتی تھی۔ میرے دل میں غصہ بھر جاتا لیکن میں اس کا کچھ نہ بگاڑ پاتی۔ شاہد تیزی اور پھرتی کے باعث میری والدہ کو بے حد پسند تھا۔ وہ ان کے بہت سے کام کر دیتا۔ اس باعث اماں اس کے ہونے سے سکون محسوس کرتی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے کام جو ہم بہن بھائی کرنے سے کتراتے تھے، مثلاً ماں کپڑے دھوتیں تو وہ پانی کی بالٹیاں بھر بھر کر لاتا، کپڑے کھنگال کر الگنی پر ڈالتا، جب کپڑے سوکھ جاتے تو رسی سے اتار کر تہہ کر کے الماریوں میں رکھ دیتا۔ وہ ہر کام توجہ اور دلچسپی سے کرتا، تبھی اماں اسے اولاد سے بڑھ کر چاہتی تھیں۔ ہم سے کہتیں، تم سے تو توبہ! پرایا بچہ اچھا ہے۔ اگر یہ میرا خیال نہ کرتا تو میں اکیلی اتنے سارے کام کر کے ٹوٹ جاتی، بیمار پڑ جاتی۔غرض، ہم اسے نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کیے ہوئے تھے، کیونکہ وہ ہمارے بھی بہت سے کام کر دیتا تھا۔

ایک بات جو مجھے اس کی بہت بری لگتی تھی، وہ یہ کہ وہ ہر وقت اپنے باپ کو برا بھلا کہتا رہتا تھا۔ اس کے لبوں پر اکثر یہ الفاظ ہوتے:ماسٹر صاحب اگر آپ مجھے اپنے پاس نہ رکھتے تو آج میں اسکول میں پڑھنے کے بجائے گاؤں میں گارا، مٹی اور گوبر ڈھو رہا ہوتا، یا گدھے کی طرح کام کر رہا ہوتا۔ آپ کی بدولت علم کی دولت نصیب ہوئی ہے۔ ایک میرا باپ ہے جس نے مزدور بنانے کی خاطر مجھے گھر سے نکال دیا۔ اللہ اسے غارت کرے! ابا اسے سمجھاتے کہ اپنے باپ کو برا مت کہو۔ لیکن یہی ایک بات وہ نہ سمجھتا تھا۔ جب اس نے میٹرک پاس کر لیا تو والد نے چاہا کہ وہ اب اپنے باپ کے پاس گاؤں لوٹ جائے اور ان کا دست راست بن جائے۔ وہ نہ مانا۔ گڑگڑانے لگا، منتیں کرنے لگا کہ آپ کا بیٹا ہوں، آپ کے پاس رہوں گا، کالج پڑھوں گا۔ میٹرک میں اس نے پہلی پوزیشن لی تھی، اس لیے والد صاحب نے کالج میں داخل کرا دیا۔ کالج جا کر وہ بھی نہ بدلا؛ اسی طرح نوکر بنا رہا۔ کام کاج میں میرے والدین کا ہاتھ بٹاتا رہا۔ بازار کا سودا سلف لاتا۔ مہمان آتے تو خاطر داری میں معاونت کرتا؛ کبھی ٹوٹی ہوئی چارپائی بنوا کر لا رہا ہوتا تو کبھی چوکھٹ کی مرمت کرواتا۔ سردیوں کا موسم آتا تو لحاف ادھیڑتا، روئی کے گٹھر اٹھاتا اور دھونے کو لے جاتا۔ عرض ہے کہ بیس، تیس ایسے کام تھے جو گھر کے دوسرے افراد اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے، مگر وہ انہیں اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرتا تھا۔

گریجویشن مکمل ہوتے ہی وہ ہمارے گھر سے چلا گیا۔ وہ اپنے باپ کے پاس گاؤں نہیں گیا بلکہ لاپتا ہو گیا۔ بعد میں کسی نے بتایا کہ وہ لاہور میں ہے۔ شام کو ملازمت کرتا اور صبح کالج جاتا ہے اور وکالت پڑھ رہا ہے۔ کسی کو خاص پتا نہیں مگر مجھے افسوس ہوتا تھا کہ اس کے رہنے سے میرے بھائی بھی کام چور ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ وہ پڑھائی سے بھی جی چرانے لگے تھے۔ میٹرک کے بعد انہوں نے پڑھائی جاری نہ رکھی، جبکہ ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والا ایک معمولی دیہاتی لڑکا وکیل بن گیا۔ وکالت پاس کرنے کے بعد شاہد نے ہمارے شہر میں پریکٹس شروع کر دی۔ کبھی کبھار وہ ہمارے گھر آنے لگا۔ اس کے آنے سے والدین خوش رہتے، اس کی خاطر داری کرتے اور بھائی اس کی مثال دیا کرتے۔

ایک دن شاہد نے والد صاحب سے کہا کہ وہ ان کا داماد بن کر ہمیشہ کے لیے اس گھر سے جڑ جانا چاہتا ہے۔ وہ کسی صورت ہم لوگوں سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتا۔ اس نے گویا ابو سے میرا رشتہ مانگا تھا، حالانکہ میری منگنی بچپن میں خالہ زاد سے طے تھی۔ مجھے شاہد اس لحاظ سے بالکل پسند نہیں تھا کہ میں اس کے ساتھ زندگی بھر بندھن قائم کروں۔ وہ بھدے نقوش اور چھوٹے قد کا سانولا لڑکا تھا، جس پر ہم نے ہمیشہ ایک مالک کی طرح حکم چلایا تھا؛ بھلا میں کیسے اسے اپنی زندگی کا ساتھی قبول کر لیتی؟ ہم بہن بھائی تو ابھی تک اسے اپنے گھریلو ملازم جیسا ہی سمجھتے تھے۔امی نے مجھے افسردہ اور برہم دیکھا تو صاف انکار کر دیا۔ شاہد سے کہہ دیا کہ میری بیٹی کی منگنی ہو چکی ہے؛ تمہارے ساتھ رشتہ داری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس پر وہ منہ پھیر کر چلا گیا۔ کئی دن تک وہ ہمارے گھر نہ آیا۔ ہم یہی سمجھے کہ رشتے سے انکار پر وہ ناراض ہو گیا ہے۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ایک روز صبح سویرے کچھ پولیس والے آئے اور والد صاحب کو بلا کر ایسی بات بتائی کہ وہ سکتے میں آ گئے۔ وہ گھبرائے ہوئے اندر آئے اور امی کو ایک طرف لے جا کر بتایا کہ پولیس والوں کا کہنا ہے کہ تمہاری لڑکی کا چال چلن ٹھیک نہیں ہے؛ وہ کسی مشکل سے نجات پانے کے لیے ایک نرس کے پاس گئی تھی اور اسی نرس کے بھائی نے اطلاع پولیس کو دی ہے اور رپورٹ درج کرائی ہے۔ آپ شریف لوگ ہیں، ہم نے بغیر تصدیق رپورٹ درج کرنا مناسب نہیں سمجھا، لیکن اس معاملے کی تفتیش ضروری ہے۔ ہم نے کبھی رپورٹ لکھی ہے؟ ہماری لیڈی پولیس آپ کی بیٹی سے تفتیش کرے گی، پھر میڈیکل ہوگا۔ آپ کی بیٹی کو بلا کر لے جانا ہوگا۔ تاہم ہم آپ کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ اپنی بیوی کے ذریعے سے پہلے لڑکی سے کچھ پوچھ لیں، اس سے پہلے کہ معاملہ آگے بڑھے۔

یہ سراسر جھوٹ ہے۔ میری بچی پر بے بنیاد الزام لگایا گیا ہے۔ والدہ رو پڑیں۔ ہماری پروین ایسی نہیں ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ان دنوں میں سلائی کڑھائی کے اسکول جاتی تھی اور ڈپلومہ لینے والی تھی۔ جب امی نے مجھ سے پوچھا تو میں رونے لگی۔ یہ ایسی بھیانک بات تھی جسے کوئی بے قصور لڑکی برداشت نہ کر سکتی تھی، جبکہ میں نے تو کبھی کسی غیر مرد کے ساتھ ایسی بات تک نہ کی تھی۔ بھلا اتنا بڑا الزام میں کیسے سہہ سکتی؟ میں تو غم سے فرش پر گر کر بے ہوش ہو گئی۔ والد بےچارے گھبرا کر بیٹھک میں گئے جہاں حوالدار موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ یقینا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میری بیٹی نیک، شریف اور قطعی درست چال چلن والی ہے۔ آپ کے خدشے کی باز پرس کے لیے اس کی ماں نے بچی سے پوچھ گچھ کی تو وہ اس الزام کو سن کر بے ہوش ہو گئی۔ آپ دوبارہ رپورٹ کی پڑتال کریں، یقیناً یہ کسی اور لڑکی کے بارے میں ہوگی۔ پولیس والا بولا، تم شریف آدمی ہو، ہم نرمی سے کام لے رہے ہیں۔ لڑکی کا نام پروین اور باپ کا نام علم دین ہے، مکان کا پتا وہی ہے جو آپ کا ہے۔ اگر ہمیں غلط فہمی ہے تو تصدیق کی خاطر لڑکی کا میڈیکل کروا رہے ہیں تاکہ اگر وہ بے قصور ہے تو اس الزام سے بری ہو جائے اور ہم رپورٹ لکھوانے والے کی گردن کو دبوچ سکیں۔ والد بےچارے ایک باریش معلم تھے، رونے لگے۔ ایسی آفت کا انہوں نے کب تصور کیا ہوگا؟ وہ قسمیں کھانے لگے کہ میری بچی تو فرشتوں کی طرح معصوم ہے۔ مگر پولیس والے بنا کچھ لیے ماننے کو تیار نہیں تھے۔ بولے، مِیاں جی آپ لاکھ شریف ہو، لیکن عورتوں کا کیا بھروسہ؟ ماں اگر بیٹی کے راز کو نہ رکھے تو اور کون رکھے گا؟ ایسے معاملات میں مجبور مائیں رازدان بن جاتی ہیں، مردوں کے خوف کی وجہ سے خبر نہیں ہونے دیتیں۔ تمہاری لڑکی سلائی سینٹر تو روز جاتی ہے نا، گھر سے بھی نکلتی جاتی ہے، اس کے آگے کسی شیطان صفت کے چنگل میں شریف لڑکیاں بھی پھنس سکتی ہیں۔
حوالدار نے ابّا جی کو یہ مشورہ دیا کہ کسی وکیل سے مدد لے لیں۔ ابّا جی نے شاہد کو مدد کے لیے پکارا تو وہ حاضر ہو گیا۔ اس نے حل یہ نکالا کہ آپ میرے سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیں، ماسٹر صاحب مجھ پر اعتماد کیجئے، مجھ کو صرف آپ کی عزت بچانا مطلوب ہے۔ ایسا ہی ہو گا۔ نکاح کے بعد حوالدار کو نکاح نامہ دکھاتے ہی کیس ختم ہو گیا۔ پولیس والا حوالدار شاہد کا دوست تھا اور اس کے ساتھ ملی بھگت کر کے ہی شاہد نے یہ ڈرامہ رچا کر مجھ سے نکاح کر کے اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا۔ نکاح کی اطلاع بھی اس نے فوراً بعد اپنے کسی ذریعے سے میرے منگیتر تک پہنچ دی۔ انہوں نے اب رشتہ تو رشته تو ختم کرنا ہی تھا، اس کے بعد وہ کھلے بندوں ہمارے گھر آنے جانے لگا۔ مجھ سے مخاطب ہوتا، کھانے پکواتا اور حکم چلانے کی کوشش کرتا۔ بالآخر ایک روز وہ مجھے بیاہ لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ شادی کے بعد وہ ٹھیک رہتا تو شاید مجھے اس قدر پچھتاوا نہ ہوتا ، لیکن ایسا نہ ہوا، شادی کے بعد اس نے نہایت گھٹیا پن کا ثبوت دیا۔ والدین کو مجھ سے ملنے سے روک دیا، مجھے میکے جانے سے منع کرتا۔ والد صاحب نے سمجھانا چاہا تو ان کے سامنے تابعدار بن جاتا، بعد میں برابھلا کہتا کہ تم اپنے گھر میں سب سے زیادہ مجھ سے حقارت بھرا رویہ رکھتی تھیں۔ تم اپنے آپ کو کیا سمجھتی تھیں۔ تمہارے والدین کا حسن سلوک میرے مد نظر ہے ورنہ تو تم کو ویسے نوکرانی بنا کر رکھتا جیسے تم مجھ کو نو کر سمجھتی تھیں۔ 

میں تو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے خون گھونٹ پی کر تم بہن بھائیوں کے ذلت بھرے رویوں کو برداشت کر تا رہا کہ مجھے پڑھ لکھ کر کوئی مقام حاصل کرنا تھا۔ ورنہ کوئی اور ہوتا تو مزہ چکھا دیتا۔اب مجھے شاہد کی نفسیات کی اچھی طرح سمجھ آ گئی کہ وہ کس قسم کی سوچ کا مالک ہے۔ اس نے خوشی سے ہمارے گھر کی چاکری نہیں کی تھی، بلکہ وقت سے مجبور ہو کر صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہماری خدمت کی تھی۔ یہ خدمت اس کے مزاج میں ہرگز نہ تھی۔ ظاہر ہے، کون خوشی سے کسی کی اس طرح غلامی کرتا ہے۔جب میں نے اس نکتے کو سمجھ لیا تو خود کو بدل لیا۔ میں نے سوچا کہ اب جب میں اس کی بیوی بن چکی ہوں، تو اسے شوہر کا درجہ دے کر اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ ماضی کی باتوں کو بھول کر اپنے والدین کے سکون کا خیال رکھوں۔ آخر اس نے کم عمری میں دکھ جھیلے، ایک اچھے مقصد کے لیے ہمارے والدین کو بھی سکون پہنچایا۔ لیکن جب بھی مجھے وہ چال یاد آتی جس کے ذریعے اس نے پولیس کے ذریعے مجھ پر غلیظ الزام لگایا اور دھوکے سے نکاح کر کے اپنا مقصد حاصل کیا، تب مجھے اس سے شدید نفرت ہونے لگتی۔ جی چاہتا کہ اس سے طلاق لے لوں، جس نے بلیک میل کر کے مجھے حاصل کیا۔ گویا وہ ایسا انسان تھا جو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔
دنیا میں طرح طرح کے انسان ہوتے ہیں۔ ان میں ہر ایک میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور خامیاں بھی۔ اگر ہم چاہیں تو کسی کی خرابیوں کو نظر انداز کر کے اس کی خوبیوں سے سکون حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ پس، میں نے بھی یہی سوچ کر شاہد کو معاف کر دیا اور اس کے ساتھ ایک اچھی بیوی کی طرح گزارا کرنے کی ٹھان لی، ورنہ اس کے سوا چارہ کیا تھا۔وہ میرے والدین کی نظروں میں ایک اچھا انسان تھا، اب بھی ان کی عزت کرتا تھا۔ میرے والدین ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ میں شاہد سے طلاق لوں، چاہے وہ مجھے پسند ہو یا نہ ہو۔ ماں باپ کی خوشی کی خاطر میں نے ایسا کیا۔ مگر میرے دل نے کبھی بھی اسے قبول نہ کیا بچے ہو گئے، تب بھی نہیں۔اور اس کی وجہ یہ تھی کہ شادی کے بعد اس نے خود مجھے بتایا کہ میں نے ہی تمہیں حاصل کرنے کے لیے پولیس کے حوالدار سے تم پر بہتان لگانے والا ڈراما کھیلا تھا۔ تمہارے سیدھے سادے والد کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کہ وہ تمہارا نکاح مجھ سے کر دیں، کیونکہ تم مجھے اچھی لگتی تھیں اور میں تم سے محبت کرتا تھا۔جب اس نے یہ راز مجھ پر افشا کیا تو مجھے اس سے اور بھی چِڑ ہو گئی۔ اے کاش، وہ یہ بات پہلے بتا دیتا تو شاید میں بھی اس کی بے شمار خوبیوں کے باعث اپنے شوہر سے محبت کرنے لگتی اور اپنی زندگی یوں اضطراب میں نہ گزارتی۔

(ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ