بدقسمتی سے کمال کی شادی ثریا کی بڑی بہن سے طے ہو گئی جو کمال اور ثریا کی راز دار تھی۔ کمال انی جگہ پریشان تھا اور ثریا نے خود کو کمرے تک محدود کر لیا تھا۔ کمال گھر داماد بن چکا تھا اس لیے ثریا سے اس کا سامنہ ہو جاتا تھا۔ ثریا بیمار پڑ گئی اور بستر سے جا لگی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ بچے کے پیدائیش کے دوران کمال کی بیوی فوت ہو گئی، چونکہ ثریا کا رشتہ بھی طے ہو گیا تھا اس لیے ثریا سے چھوٹی بیٹی کی شادی کمال سے کرنے کا سوچا جا رہا تھا۔
👇👇
والد ایک ماہر کاریگر تھے اور مدت سے ایک مشہور سنار کے پاس کام کر رہے تھے۔ انہوں نے برسوں زیورات میں نگینے جڑنے کا کام کیا۔ ان کی ہنر مندی کا شہرہ پوری صرافہ مارکیٹ میں تھا، اسی لیے بڑے بڑے صراف جب کسی نوآموز کو کام سکھانا چاہتے تو انہیں کے پاس بھیجتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ پتھر کو بھی ہیرا بنا دیتے ہیں۔
کمال انہی شاگردوں میں سے ایک نوآموز جوان تھا، جس نے میٹرک پاس کیا تو اس کا باپ اسے ابو کے پاس لے آیا اور منت کی: “استاد ارشاد! میرے بیٹے کو بھی ہنر سکھا دیں تاکہ یہ خود روزی روٹی کمانے کے لائق ہو جائے، میں عمر بھر آپ کو دعائیں دوں گا۔”
والد نے کہا: “تم اسے میرے پاس چھوڑ جاؤ، میں سیٹھ کے کارخانے جاتا ہوں تو اسے بھی ساتھ لے جایا کروں گا۔” لڑکا گاؤں کا تھا، سادہ لوح اور شریف۔ والد نے اسے اپنے مکان کے سرونٹ کوارٹر میں رکھ لیا اور کام پر جاتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ چند دن بعد والد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا: “کمال! تم میں سیکھنے کی لگن ہے اور تم توجہ سے کام کرتے ہو، اگر یونہی محنت کرتے رہے تو جلد ماہر بن جاؤ گے۔” استاد کی حوصلہ افزائی نے کمال کی ہمت بڑھا دی اور وہ مزید شوق سے نگینہ سازی سیکھنے لگا۔ والد بھی اس کی لگن سے خوش تھے اور اکثر امی سے کہتے: “یہ بچہ بڑا نیک ہے، دیکھ لینا ایک دن اس ہنر میں طاق ہوگا اور نام پیدا کرے گا۔”
والد اس سے محبت اور اس پر بھروسہ کرتے تھے۔ سرونٹ کوارٹر ایک کمرے پر مشتمل تھا جو گیٹ کے پاس باہر کی جانب واقع تھا۔ کمال کو اکثر کام کے سلسلے میں گھر کے اندر بھی بلا لیا جاتا تھا، تاہم اسے اندر آتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی۔ وہ ہمیشہ گردن جھکائے رکھتا اور کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔
اس کی یہ حیا امی کو بھا گئی اور انہوں نے اسے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ ہم چار بہنیں تھیں، اگر ہم سامنے ہوتیں تو کمال گھر میں قدم نہ رکھتا اور نظریں جھکائے برآمدے سے باہر ہی کھڑا رہتا۔ والدہ اسے پکارتی رہتیں: “کمال بیٹے! ادھر آؤ، نزدیک آکر میری بات سنو۔” مگر وہ ایک قدم آگے نہ بڑھاتا۔ تب امی ہمیں حکم دیتیں کہ اندر چلی جاؤ، یہ بہت شرمیلا ہے اور تم لوگوں کی موجودگی میں نہیں آئے گا۔
بڑی باجی اور ثریا آپی ان دنوں جوان تھیں، جبکہ میری عمر تیرہ برس تھی اور میں ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ مجھ سے چھوٹی ایک بہن تھی جو پانچویں میں تھی۔ وہ ہم دونوں سے بات کر لیتا مگر بڑی آپیوں سے بالکل بات نہ کرتا تھا۔ وہ ہم سے پردہ کرتا تھا، حالانکہ ابو سے اس کے والد فخر چاچا کی دور کی رشتہ داری تھی۔ اسی رشتہ داری کی بنا پر امی اور ابو نے کمال کو والدین جیسی محبت دی، جس کی وجہ سے وہ ہمارے گھرانے میں گھل مل گیا اور گھر کے فرد جیسا ہو گیا۔ ابو جب رات کو گھر آتے تو کمال ان کے ساتھ ہوتا۔ اکثر ابو اسے رات کے کھانے پر اپنے ساتھ بٹھا لیتے۔ وہ امی سے کہتے: “یہ پردیسی ہے، اس کے ماں باپ گاؤں میں رہتے ہیں، یہ سعادت مند اور شریف ہے۔ میرا کھانا اسی کے ساتھ لگایا کرو۔” یوں ہم امی کے ساتھ اور کمال والد کے ساتھ کھانا کھانے لگا۔
کمال کی سعادت مندی سے ابو اس قدر خوش تھے کہ امی کو بار بار ہدایت کرتے کہ اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔ اب وہ جب چاہتا ابا کے کمرے میں چلا جاتا اور ان سے گپ شپ کرتا۔ جب وہ دونوں مارکیٹ کی باتیں کر رہے ہوتے تو ہم ابا کے کمرے میں نہیں جاتے تھے، تاہم والدہ سگے بیٹوں کی طرح اس کا خیال رکھتی تھیں۔
میں اور سمیرا چونکہ کمال سے بات کر لیتے تھے، اس لیے اس نے ہمیں اپنی منہ بولی بہنیں بنا لیا تھا۔ ایک روز وہ ہمارے گھر کی کیاریاں صاف کر رہا تھا کہ ثریا آپی نے دور سے کیاری میں ایک کاغذ پھینک دیا۔ کمال نے اسے اٹھا کر دیکھا اور کھولا تو اس میں لکھا تھا: “کمال! میں تم سے بات کرنے کو ترستی ہوں اور تم ہو کہ موقع ہی نہیں دیتے۔ مجھ سے بات کیا کرو۔”
اس نے پرچہ پڑھ کر پھاڑ دیا اور مجھ سے کہا: “فائزہ! اپنی آپی سے کہو کہ یوں کیاریوں میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکا کریں، مجھے صفائی کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔” جب وہ یہ کہہ رہا تھا تو ثریا آپی سب سن رہی تھیں۔ یہ سن کر ان کا دل دکھا اور وہ رو پڑیں۔ کئی روز تک گھر میں ایک اداسی سی چھائی رہی، پھر انہوں نے باجی سائرہ کو ساری بات بتا دی۔ باجی خود کمال کے پاس گئیں، ثریا کی طرف سے معافی مانگی اور آپی کی کمال سے بات کروا دی۔ دراصل یہ آپی اور باجی کی ملی بھگت تھی، جبکہ ہمارے ماں باپ اپنی بیٹیوں کی اس جرات سے بالکل بے خبر تھے۔ اب آپی کمال سے بات کرنے لگی تھیں۔
ایک روز انہوں نے کمال سے پوچھا: “تم میرے ساتھ اتنی بے رخی سے کیوں پیش آتے ہو؟ کیا کسی اور کو پسند کرتے ہو؟” کمال نے جواب دیا: “ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ میرے استاد کی بیٹی ہیں، میں ان کے لحاظ کی وجہ سے بات نہیں کرتا۔ میں شکایت کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا کیونکہ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔” ثریا نے دو ٹوک لفظوں میں کہا: “میں تم سے شادی کروں گی۔” یہ بات کمال کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح لگی۔ اس نے کہا: “میں نے تمہاری دونوں چھوٹی بہنوں کو اپنی منہ بولی بہنیں مانا ہے۔” ثریا بولی: “بے شک انہیں مانا ہے، مگر مجھے تو نہیں مانا نا!”
میں اپنی بہن کی دیدہ دلیری پر حیران تھی اور ڈرتی تھی کہ وہ مستقبل میں کوئی قیامت ڈھانے والی ہیں۔ وہ گھر میں فارغ رہتی تھیں، شاید اسی لیے ان کے ذہن میں ایسے خیالات آتے تھے۔ اگر وہ پڑھائی میں مصروف ہوتیں تو ان کے پاس ایسی باتوں کے لیے وقت کہاں ہوتا۔
عید آگئی۔ باجی اور آپی بازار سے چوڑیاں اور مہندی خریدنے گئیں اور امی کی نظر بچا کر ایک “پرفیوم” بھی خرید لیا۔ انہوں نے یہ تحفہ مجھے دیا کہ کمال کو دے دوں، مگر میں نے انکار کر دیا۔ تب آپی نے خود موقع پا کر اسے تحفہ دیتے ہوئے کہا: “یہ آپ کے لیے عید گفٹ ہے۔” لیکن کمال نے وہ تحفہ واپس کر دیا، جس پر آپی اس قدر دلبرداشتہ ہوئیں کہ انہوں نے وہی پرفیوم پی لیا۔ حالت بگڑنے پر انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔
میں نے کمال سے کہا: “دیکھو! تمہاری وجہ سے میری بہن کی یہ حالت ہوئی ہے۔ اگر تم اس وقت گفٹ رکھ لیتے اور بعد میں مجھے دے دیتے تو میں اسے واپس کر دیتی، مگر ان کی یہ حالت تو نہ ہوتی۔” کمال بہت افسردہ ہوا کہ اس کی وجہ سے کسی کو اتنی تکلیف پہنچی۔ میری بات کا اس پر گہرا اثر ہوا اور وہ افسوس کرنے لگا۔ ثریا آپی کی سب سے بڑی رازداں باجی سائرہ تھیں۔ انہوں نے کمال سے کہا: “تم عید پر گاؤں جا رہے ہو، وہاں اپنے والدین سے کہنا کہ تمہارے لیے ثریا کا ہاتھ مانگ لیں، ورنہ ہماری پھوپھو رشتہ مانگ رہی ہیں اور وہاں بات پکی ہو جائے گی۔”
کمال کی ہمت نہ پڑتی تھی، پھر بھی اس نے اپنی ماں سے رشتے کا ذکر کیا۔ وہ عید کے تیسرے روز بیٹے کے ہمراہ عید ملنے کے بہانے ہمارے گھر آئیں اور دبے لفظوں میں کمال کے رشتے کا تذکرہ چھیڑا۔ امی نے جواب دیا: “ثریا کے لیے اس کی پھوپھی چکر لگا رہی ہیں، لیکن ہم پہلے سائرہ کے بارے میں سوچ رہے ہیں کیونکہ وہ بڑی ہے اور خاندان میں فی الحال اس کے جوڑ کا کوئی رشتہ موجود نہیں ہے۔”
کمال کی والدہ نے گاؤں جا کر بیٹے کو بتا دیا کہ وہ سائرہ کا رشتہ دینے کا اشارہ دے رہے ہیں، ثریا کا نہیں۔ کمال چونکہ ثریا کی خوشی چاہتا تھا، اس لیے وہ خاموش ہو گیا اور اس کی ماں نے دوبارہ آکر بات نہ کی۔ تاہم، ابو جان ہر حال میں کمال کو اپنا داماد بنانا چاہتے تھے۔ کچھ انتظار کے بعد وہ خود اسی سلسلے میں گاؤں گئے اور کمال کے والد سے کہا: “آپ میری بڑی بیٹی (سائرہ) کا رشتہ لے لیں، چھوٹی کے لیے میں اپنی بہن کو زبان دے چکا ہوں۔”
کمال کے والد میرے ابو کو اپنا محسن سمجھتے تھے اور جب محسن خود چل کر ان کے پاس آیا تھا تو انکار کی گنجائش نہ تھی۔ انہوں نے کہا: “آپ کی بڑی بیٹی بھی ہمارے لیے وہی مقام رکھتی ہے جو چھوٹی کا ہے۔ ثریا نہ سہی، سائرہ سہی؛ بچیاں تو سبھی ایک جیسی ہوتی ہیں، مجھے یہ رشتہ قبول ہے۔” کمال کو پتا چلا تو اس نے سر پیٹ لیا، مگر بزرگوں کی بات کی وقعت تھی اور چھوٹے ان کے سامنے من مانی نہیں کر سکتے تھے۔
یہ کیا غضب ہو گیا تھا! بزرگ نہیں جانتے تھے کہ ثریا پر کیا بیتے گی، یہاں تک کہ باجی سائرہ خود بھی اس رشتے سے ہراساں تھیں کیونکہ وہی ثریا کی واحد رازداں تھیں۔ بڑوں کے فیصلے اپنی جگہ تھے اور چھوٹوں کے مسائل اپنی جگہ؛ ان کو ہماری جذباتی الجھنوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور ہمیں ان کی معاشرتی پریشانیوں سے کوئی سروکار نہ تھا۔ انجام کار بڑے جیت گئے اور چھوٹے ہار گئے۔ کمال کی شادی باجی سائرہ سے ہو گئی اور اس غم میں ثریا آپی بیمار پڑ گئیں۔
ہمارا کوئی بھائی نہ تھا، اس لیے ابو کو کمال کی صورت میں نہ صرف ایک تابع دار داماد بلکہ ایک فرمانبردار بیٹا بھی مل گیا تھا۔ چاچا فخر نے بیٹے کو حکم دیا: “کمال! اب تم اپنے سسر کے پاس رہو گے، وہ تمہیں گھر داماد دیکھنا چاہتے ہیں اور میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تمہارے ہوتے ہوئے انہیں بیٹے کی کمی محسوس نہ ہو۔” کمال بھائی فطرتاً شرمیلے واقع ہوئے تھے، وہ کسی بات پر احتجاج نہیں کرتے تھے اور نہ ہی دانستہ کسی کا دل دکھاتے تھے۔ تاہم، شادی کے بعد وہ اور سائرہ باجی ہمارے ساتھ رہ کر ثریا آپی کو دکھ نہیں دینا چاہتے تھے، لیکن یہ بات وہ اپنے بزرگوں کو کیسے سمجھاتے؟
تب میں نے جانا کہ ہمارے معاشرے میں شادی محض دو دلوں کا ملاپ یا خوشیوں کا سودا نہیں ہوتی، بلکہ ایک رسم اور معاشرتی مجبوری بن جاتی ہے۔ مجبوری کے اس طوق کو سائرہ باجی اور کمال بھائی نے بڑے صبر و لحاظ کے ساتھ گلے لگایا تھا، لیکن ثریا آپی کے سامنے رہ کر انہیں اذیت پہنچانا دونوں کے لیے بہت کٹھن مرحلہ تھا۔ انہوں نے گاؤں جانے کی بہت کوشش کی مگر بزرگوں نے ایک نہ چلنے دی۔
ثریا آپی تمام دن کمرے میں بند رہتیں۔ ان کی بیماری طول پکڑتی گئی اور پھپھو اس انتظار میں تھیں کہ وہ صحت یاب ہوں تو شادی کی بات پکی کریں، مگر وہ بستر سے نہ اٹھ سکیں اور کسی کو ان کی بیماری کی سمجھ نہ آئی۔ ان کو جو روگ لگا تھا وہ بظاہر لاعلاج تھا۔ باجی اور کمال بھائی کوشش کرتے کہ ان کے سامنے نہ جائیں، مگر ایک ہی گھر میں رہ کر یہ کیسے ممکن تھا؟ ثریا آپی ایک ان دیکھی آگ میں رات دن سلگتی رہتی تھیں۔ آخر کار پھپھو نے دل بڑا کر کے بیمار بھتیجی سے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کر لی کہ شاید وہ شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے، مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ شادی سے دو ہفتے قبل پھپھا کو ہارٹ اٹیک ہوا اور شادی ملتوی ہو گئی۔
سائرہ باجی امید سے تھیں۔ ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، مگر باجی ننھے کی پیدائش کے وقت زندگی کی بازی ہار گئیں۔ جب ثریا آپی نے اس معصوم بچے کو گود میں لیا تو جیسے اس کے لمس سے ان میں زندگی کی رمق لوٹ آئی۔ رفتہ رفتہ ان کی صحت بحال ہونے لگی اور ننھے بھانجے پر توجہ دینے سے جینے کی خواہش بیدار ہو گئی۔ اب وہی اسے کھلاتی پلاتی، نہلاتی اور سارا دن اٹھائے رکھتیں؛ اس سے توتلی زبان میں باتیں کرتیں۔
گھر کا ہر فرد حیران تھا کہ کیسے سائرہ باجی کے نوزائیدہ بچے کی خاطر ثریا نے خود کو بھلا دیا تھا۔ اسی خود فراموشی میں انہوں نے اپنی اصل شخصیت کو دوبارہ پا لیا۔ وہ تیزی سے تندرست ہونے لگیں۔ ان کا زرد اور مرجھایا ہوا چہرہ پھر سے گلاب کی مانند کھل اٹھا اور وہ جو مردہ سی کمرے میں بند رہتی تھیں، باجی کے جانے کے بعد جیسے دوبارہ جی اٹھیں۔
اب ان کی زندگی ننھے کی پرورش سے مشروط ہو گئی تھی، وہ کسی اور سے شادی کیسے کر سکتی تھیں؟ قدرت نے اس تصویر کو پھر سے سنوار دیا تھا جو کمال بھائی اور سائرہ باجی کی شادی سے مسخ ہو گئی تھی۔ وہ محبت جو برف کی طرح جم کر پتھر ہو چکی تھی، اب پگھل کر ایک گہری اور پرسکون جھیل کی صورت اختیار کر رہی تھی۔ والدین اب بھی ثریا کی شادی طارق (پھپھو کے بیٹے) سے کرنے کا سوچ رہے تھے، جبکہ ثریا صرف باجی کے اس بیٹے کے بارے میں سوچتی تھی جو ان کے بغیر ایک پل نہ رہتا تھا۔
ایک روز ابو نے کمال سے کہا: “بیٹا! میں چاہتا ہوں کہ تمہارا بیٹا فائزہ سے مانوس ہو جائے تاکہ میں ثریا کی شادی طارق سے کر سکوں۔ میں اپنی بہن کو زبان دے چکا ہوں اور اس کا دل نہیں توڑ سکتا۔ البتہ، اگر تم فائزہ کا رشتہ قبول کر لو، تو تم بدستور میرے بیٹے اور گھر داماد رہو گے اور تمہارا بچہ بھی ہمارے پاس ہی رہے گا۔”
کمال میرے والد کو رنجیدہ نہیں کرنا چاہتے تھے اور والد کمال کو دکھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی خوشی کا خیال رکھ رہے تھے، لیکن دل دونوں طرف ویران تھے۔ بالآخر کمال بھائی ایثار کی علامت بن گئے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو ہمارے سپرد کیا اور خود بیرونِ ملک چلے گئے، تاکہ ابو اپنی بہن سے کیا ہوا وعدہ پورا کر سکیں اور ان کا رشتہ نہ ٹوٹے۔
ثریا آپی نے بہت واویلا کیا کہ انہیں اپنے بھانجے سے پیار ہے، وہ اسی کی خاطر جیئیں گی اور مریں گی مگر شادی نہیں کریں گی۔ تب پھپھو نے اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ ثریا ان کی بہو بنے گی اور شادی کے بعد اپنے بھانجے کو بھی ساتھ ہی رکھے گی، انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ ثریا آپی کی طارق سے شادی تو ہو گئی مگر وہ اس رشتے سے خوش نہ ہوئیں۔ وہ آج زندہ تو ہیں مگر بس جی رہی ہیں۔ سائرہ باجی کا بیٹا اب بیس برس کا ہو چکا ہے اور وہ ثریا آپی ہی کو ماں کہتا ہے اور انہی کے پاس رہتا ہے۔ کمال بھائی نے مجھ سے شادی نہیں کی، ان کا کہنا تھا کہ جسے ایک بار بہن مان لیا وہ ہمیشہ بہن ہی رہے گی۔
آج ہم سب اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں، لیکن کمال بھائی دیارِ غیر میں اکیلے محنت و مشقت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہیں کسی نے دوسری شادی نہ کرنے پر مجبور نہیں کیا، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے اور ان کے اس فیصلے کے سامنے سب بے بس ہیں۔
والد ایک ماہر کاریگر تھے اور مدت سے ایک مشہور سنار کے پاس کام کر رہے تھے۔ انہوں نے برسوں زیورات میں نگینے جڑنے کا کام کیا۔ ان کی ہنر مندی کا شہرہ پوری صرافہ مارکیٹ میں تھا، اسی لیے بڑے بڑے صراف جب کسی نوآموز کو کام سکھانا چاہتے تو انہیں کے پاس بھیجتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ پتھر کو بھی ہیرا بنا دیتے ہیں۔
کمال انہی شاگردوں میں سے ایک نوآموز جوان تھا، جس نے میٹرک پاس کیا تو اس کا باپ اسے ابو کے پاس لے آیا اور منت کی: “استاد ارشاد! میرے بیٹے کو بھی ہنر سکھا دیں تاکہ یہ خود روزی روٹی کمانے کے لائق ہو جائے، میں عمر بھر آپ کو دعائیں دوں گا۔”
والد نے کہا: “تم اسے میرے پاس چھوڑ جاؤ، میں سیٹھ کے کارخانے جاتا ہوں تو اسے بھی ساتھ لے جایا کروں گا۔” لڑکا گاؤں کا تھا، سادہ لوح اور شریف۔ والد نے اسے اپنے مکان کے سرونٹ کوارٹر میں رکھ لیا اور کام پر جاتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ چند دن بعد والد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا: “کمال! تم میں سیکھنے کی لگن ہے اور تم توجہ سے کام کرتے ہو، اگر یونہی محنت کرتے رہے تو جلد ماہر بن جاؤ گے۔” استاد کی حوصلہ افزائی نے کمال کی ہمت بڑھا دی اور وہ مزید شوق سے نگینہ سازی سیکھنے لگا۔ والد بھی اس کی لگن سے خوش تھے اور اکثر امی سے کہتے: “یہ بچہ بڑا نیک ہے، دیکھ لینا ایک دن اس ہنر میں طاق ہوگا اور نام پیدا کرے گا۔”
والد اس سے محبت اور اس پر بھروسہ کرتے تھے۔ سرونٹ کوارٹر ایک کمرے پر مشتمل تھا جو گیٹ کے پاس باہر کی جانب واقع تھا۔ کمال کو اکثر کام کے سلسلے میں گھر کے اندر بھی بلا لیا جاتا تھا، تاہم اسے اندر آتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی۔ وہ ہمیشہ گردن جھکائے رکھتا اور کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔
اس کی یہ حیا امی کو بھا گئی اور انہوں نے اسے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ ہم چار بہنیں تھیں، اگر ہم سامنے ہوتیں تو کمال گھر میں قدم نہ رکھتا اور نظریں جھکائے برآمدے سے باہر ہی کھڑا رہتا۔ والدہ اسے پکارتی رہتیں: “کمال بیٹے! ادھر آؤ، نزدیک آکر میری بات سنو۔” مگر وہ ایک قدم آگے نہ بڑھاتا۔ تب امی ہمیں حکم دیتیں کہ اندر چلی جاؤ، یہ بہت شرمیلا ہے اور تم لوگوں کی موجودگی میں نہیں آئے گا۔
بڑی باجی اور ثریا آپی ان دنوں جوان تھیں، جبکہ میری عمر تیرہ برس تھی اور میں ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ مجھ سے چھوٹی ایک بہن تھی جو پانچویں میں تھی۔ وہ ہم دونوں سے بات کر لیتا مگر بڑی آپیوں سے بالکل بات نہ کرتا تھا۔ وہ ہم سے پردہ کرتا تھا، حالانکہ ابو سے اس کے والد فخر چاچا کی دور کی رشتہ داری تھی۔ اسی رشتہ داری کی بنا پر امی اور ابو نے کمال کو والدین جیسی محبت دی، جس کی وجہ سے وہ ہمارے گھرانے میں گھل مل گیا اور گھر کے فرد جیسا ہو گیا۔ ابو جب رات کو گھر آتے تو کمال ان کے ساتھ ہوتا۔ اکثر ابو اسے رات کے کھانے پر اپنے ساتھ بٹھا لیتے۔ وہ امی سے کہتے: “یہ پردیسی ہے، اس کے ماں باپ گاؤں میں رہتے ہیں، یہ سعادت مند اور شریف ہے۔ میرا کھانا اسی کے ساتھ لگایا کرو۔” یوں ہم امی کے ساتھ اور کمال والد کے ساتھ کھانا کھانے لگا۔
کمال کی سعادت مندی سے ابو اس قدر خوش تھے کہ امی کو بار بار ہدایت کرتے کہ اسے کوئی تکلیف نہ ہو۔ اب وہ جب چاہتا ابا کے کمرے میں چلا جاتا اور ان سے گپ شپ کرتا۔ جب وہ دونوں مارکیٹ کی باتیں کر رہے ہوتے تو ہم ابا کے کمرے میں نہیں جاتے تھے، تاہم والدہ سگے بیٹوں کی طرح اس کا خیال رکھتی تھیں۔
میں اور سمیرا چونکہ کمال سے بات کر لیتے تھے، اس لیے اس نے ہمیں اپنی منہ بولی بہنیں بنا لیا تھا۔ ایک روز وہ ہمارے گھر کی کیاریاں صاف کر رہا تھا کہ ثریا آپی نے دور سے کیاری میں ایک کاغذ پھینک دیا۔ کمال نے اسے اٹھا کر دیکھا اور کھولا تو اس میں لکھا تھا: “کمال! میں تم سے بات کرنے کو ترستی ہوں اور تم ہو کہ موقع ہی نہیں دیتے۔ مجھ سے بات کیا کرو۔”
اس نے پرچہ پڑھ کر پھاڑ دیا اور مجھ سے کہا: “فائزہ! اپنی آپی سے کہو کہ یوں کیاریوں میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکا کریں، مجھے صفائی کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔” جب وہ یہ کہہ رہا تھا تو ثریا آپی سب سن رہی تھیں۔ یہ سن کر ان کا دل دکھا اور وہ رو پڑیں۔ کئی روز تک گھر میں ایک اداسی سی چھائی رہی، پھر انہوں نے باجی سائرہ کو ساری بات بتا دی۔ باجی خود کمال کے پاس گئیں، ثریا کی طرف سے معافی مانگی اور آپی کی کمال سے بات کروا دی۔ دراصل یہ آپی اور باجی کی ملی بھگت تھی، جبکہ ہمارے ماں باپ اپنی بیٹیوں کی اس جرات سے بالکل بے خبر تھے۔ اب آپی کمال سے بات کرنے لگی تھیں۔
ایک روز انہوں نے کمال سے پوچھا: “تم میرے ساتھ اتنی بے رخی سے کیوں پیش آتے ہو؟ کیا کسی اور کو پسند کرتے ہو؟” کمال نے جواب دیا: “ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ میرے استاد کی بیٹی ہیں، میں ان کے لحاظ کی وجہ سے بات نہیں کرتا۔ میں شکایت کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا کیونکہ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔” ثریا نے دو ٹوک لفظوں میں کہا: “میں تم سے شادی کروں گی۔” یہ بات کمال کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح لگی۔ اس نے کہا: “میں نے تمہاری دونوں چھوٹی بہنوں کو اپنی منہ بولی بہنیں مانا ہے۔” ثریا بولی: “بے شک انہیں مانا ہے، مگر مجھے تو نہیں مانا نا!”
میں اپنی بہن کی دیدہ دلیری پر حیران تھی اور ڈرتی تھی کہ وہ مستقبل میں کوئی قیامت ڈھانے والی ہیں۔ وہ گھر میں فارغ رہتی تھیں، شاید اسی لیے ان کے ذہن میں ایسے خیالات آتے تھے۔ اگر وہ پڑھائی میں مصروف ہوتیں تو ان کے پاس ایسی باتوں کے لیے وقت کہاں ہوتا۔
عید آگئی۔ باجی اور آپی بازار سے چوڑیاں اور مہندی خریدنے گئیں اور امی کی نظر بچا کر ایک “پرفیوم” بھی خرید لیا۔ انہوں نے یہ تحفہ مجھے دیا کہ کمال کو دے دوں، مگر میں نے انکار کر دیا۔ تب آپی نے خود موقع پا کر اسے تحفہ دیتے ہوئے کہا: “یہ آپ کے لیے عید گفٹ ہے۔” لیکن کمال نے وہ تحفہ واپس کر دیا، جس پر آپی اس قدر دلبرداشتہ ہوئیں کہ انہوں نے وہی پرفیوم پی لیا۔ حالت بگڑنے پر انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔
میں نے کمال سے کہا: “دیکھو! تمہاری وجہ سے میری بہن کی یہ حالت ہوئی ہے۔ اگر تم اس وقت گفٹ رکھ لیتے اور بعد میں مجھے دے دیتے تو میں اسے واپس کر دیتی، مگر ان کی یہ حالت تو نہ ہوتی۔” کمال بہت افسردہ ہوا کہ اس کی وجہ سے کسی کو اتنی تکلیف پہنچی۔ میری بات کا اس پر گہرا اثر ہوا اور وہ افسوس کرنے لگا۔ ثریا آپی کی سب سے بڑی رازداں باجی سائرہ تھیں۔ انہوں نے کمال سے کہا: “تم عید پر گاؤں جا رہے ہو، وہاں اپنے والدین سے کہنا کہ تمہارے لیے ثریا کا ہاتھ مانگ لیں، ورنہ ہماری پھوپھو رشتہ مانگ رہی ہیں اور وہاں بات پکی ہو جائے گی۔”
کمال کی ہمت نہ پڑتی تھی، پھر بھی اس نے اپنی ماں سے رشتے کا ذکر کیا۔ وہ عید کے تیسرے روز بیٹے کے ہمراہ عید ملنے کے بہانے ہمارے گھر آئیں اور دبے لفظوں میں کمال کے رشتے کا تذکرہ چھیڑا۔ امی نے جواب دیا: “ثریا کے لیے اس کی پھوپھی چکر لگا رہی ہیں، لیکن ہم پہلے سائرہ کے بارے میں سوچ رہے ہیں کیونکہ وہ بڑی ہے اور خاندان میں فی الحال اس کے جوڑ کا کوئی رشتہ موجود نہیں ہے۔”
کمال کی والدہ نے گاؤں جا کر بیٹے کو بتا دیا کہ وہ سائرہ کا رشتہ دینے کا اشارہ دے رہے ہیں، ثریا کا نہیں۔ کمال چونکہ ثریا کی خوشی چاہتا تھا، اس لیے وہ خاموش ہو گیا اور اس کی ماں نے دوبارہ آکر بات نہ کی۔ تاہم، ابو جان ہر حال میں کمال کو اپنا داماد بنانا چاہتے تھے۔ کچھ انتظار کے بعد وہ خود اسی سلسلے میں گاؤں گئے اور کمال کے والد سے کہا: “آپ میری بڑی بیٹی (سائرہ) کا رشتہ لے لیں، چھوٹی کے لیے میں اپنی بہن کو زبان دے چکا ہوں۔”
کمال کے والد میرے ابو کو اپنا محسن سمجھتے تھے اور جب محسن خود چل کر ان کے پاس آیا تھا تو انکار کی گنجائش نہ تھی۔ انہوں نے کہا: “آپ کی بڑی بیٹی بھی ہمارے لیے وہی مقام رکھتی ہے جو چھوٹی کا ہے۔ ثریا نہ سہی، سائرہ سہی؛ بچیاں تو سبھی ایک جیسی ہوتی ہیں، مجھے یہ رشتہ قبول ہے۔” کمال کو پتا چلا تو اس نے سر پیٹ لیا، مگر بزرگوں کی بات کی وقعت تھی اور چھوٹے ان کے سامنے من مانی نہیں کر سکتے تھے۔
یہ کیا غضب ہو گیا تھا! بزرگ نہیں جانتے تھے کہ ثریا پر کیا بیتے گی، یہاں تک کہ باجی سائرہ خود بھی اس رشتے سے ہراساں تھیں کیونکہ وہی ثریا کی واحد رازداں تھیں۔ بڑوں کے فیصلے اپنی جگہ تھے اور چھوٹوں کے مسائل اپنی جگہ؛ ان کو ہماری جذباتی الجھنوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی اور ہمیں ان کی معاشرتی پریشانیوں سے کوئی سروکار نہ تھا۔ انجام کار بڑے جیت گئے اور چھوٹے ہار گئے۔ کمال کی شادی باجی سائرہ سے ہو گئی اور اس غم میں ثریا آپی بیمار پڑ گئیں۔
ہمارا کوئی بھائی نہ تھا، اس لیے ابو کو کمال کی صورت میں نہ صرف ایک تابع دار داماد بلکہ ایک فرمانبردار بیٹا بھی مل گیا تھا۔ چاچا فخر نے بیٹے کو حکم دیا: “کمال! اب تم اپنے سسر کے پاس رہو گے، وہ تمہیں گھر داماد دیکھنا چاہتے ہیں اور میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تمہارے ہوتے ہوئے انہیں بیٹے کی کمی محسوس نہ ہو۔” کمال بھائی فطرتاً شرمیلے واقع ہوئے تھے، وہ کسی بات پر احتجاج نہیں کرتے تھے اور نہ ہی دانستہ کسی کا دل دکھاتے تھے۔ تاہم، شادی کے بعد وہ اور سائرہ باجی ہمارے ساتھ رہ کر ثریا آپی کو دکھ نہیں دینا چاہتے تھے، لیکن یہ بات وہ اپنے بزرگوں کو کیسے سمجھاتے؟
تب میں نے جانا کہ ہمارے معاشرے میں شادی محض دو دلوں کا ملاپ یا خوشیوں کا سودا نہیں ہوتی، بلکہ ایک رسم اور معاشرتی مجبوری بن جاتی ہے۔ مجبوری کے اس طوق کو سائرہ باجی اور کمال بھائی نے بڑے صبر و لحاظ کے ساتھ گلے لگایا تھا، لیکن ثریا آپی کے سامنے رہ کر انہیں اذیت پہنچانا دونوں کے لیے بہت کٹھن مرحلہ تھا۔ انہوں نے گاؤں جانے کی بہت کوشش کی مگر بزرگوں نے ایک نہ چلنے دی۔
ثریا آپی تمام دن کمرے میں بند رہتیں۔ ان کی بیماری طول پکڑتی گئی اور پھپھو اس انتظار میں تھیں کہ وہ صحت یاب ہوں تو شادی کی بات پکی کریں، مگر وہ بستر سے نہ اٹھ سکیں اور کسی کو ان کی بیماری کی سمجھ نہ آئی۔ ان کو جو روگ لگا تھا وہ بظاہر لاعلاج تھا۔ باجی اور کمال بھائی کوشش کرتے کہ ان کے سامنے نہ جائیں، مگر ایک ہی گھر میں رہ کر یہ کیسے ممکن تھا؟ ثریا آپی ایک ان دیکھی آگ میں رات دن سلگتی رہتی تھیں۔ آخر کار پھپھو نے دل بڑا کر کے بیمار بھتیجی سے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کر لی کہ شاید وہ شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے، مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ شادی سے دو ہفتے قبل پھپھا کو ہارٹ اٹیک ہوا اور شادی ملتوی ہو گئی۔
سائرہ باجی امید سے تھیں۔ ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، مگر باجی ننھے کی پیدائش کے وقت زندگی کی بازی ہار گئیں۔ جب ثریا آپی نے اس معصوم بچے کو گود میں لیا تو جیسے اس کے لمس سے ان میں زندگی کی رمق لوٹ آئی۔ رفتہ رفتہ ان کی صحت بحال ہونے لگی اور ننھے بھانجے پر توجہ دینے سے جینے کی خواہش بیدار ہو گئی۔ اب وہی اسے کھلاتی پلاتی، نہلاتی اور سارا دن اٹھائے رکھتیں؛ اس سے توتلی زبان میں باتیں کرتیں۔
گھر کا ہر فرد حیران تھا کہ کیسے سائرہ باجی کے نوزائیدہ بچے کی خاطر ثریا نے خود کو بھلا دیا تھا۔ اسی خود فراموشی میں انہوں نے اپنی اصل شخصیت کو دوبارہ پا لیا۔ وہ تیزی سے تندرست ہونے لگیں۔ ان کا زرد اور مرجھایا ہوا چہرہ پھر سے گلاب کی مانند کھل اٹھا اور وہ جو مردہ سی کمرے میں بند رہتی تھیں، باجی کے جانے کے بعد جیسے دوبارہ جی اٹھیں۔
اب ان کی زندگی ننھے کی پرورش سے مشروط ہو گئی تھی، وہ کسی اور سے شادی کیسے کر سکتی تھیں؟ قدرت نے اس تصویر کو پھر سے سنوار دیا تھا جو کمال بھائی اور سائرہ باجی کی شادی سے مسخ ہو گئی تھی۔ وہ محبت جو برف کی طرح جم کر پتھر ہو چکی تھی، اب پگھل کر ایک گہری اور پرسکون جھیل کی صورت اختیار کر رہی تھی۔ والدین اب بھی ثریا کی شادی طارق (پھپھو کے بیٹے) سے کرنے کا سوچ رہے تھے، جبکہ ثریا صرف باجی کے اس بیٹے کے بارے میں سوچتی تھی جو ان کے بغیر ایک پل نہ رہتا تھا۔
پھپھو کو فکر لاحق ہو گئی کہ سائرہ کا بچہ ان کے بیٹے کی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ مگر کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ بچہ نہیں، بلکہ بچے کا باپ (کمال) طارق اور اس کی ماں کی خوشیوں کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے، کیونکہ ثریا آپی اب تک کمال بھائی کی محبت کو اپنے دل سے نہ نکال سکی تھیں۔
ایک روز ابو نے کمال سے کہا: “بیٹا! میں چاہتا ہوں کہ تمہارا بیٹا فائزہ سے مانوس ہو جائے تاکہ میں ثریا کی شادی طارق سے کر سکوں۔ میں اپنی بہن کو زبان دے چکا ہوں اور اس کا دل نہیں توڑ سکتا۔ البتہ، اگر تم فائزہ کا رشتہ قبول کر لو، تو تم بدستور میرے بیٹے اور گھر داماد رہو گے اور تمہارا بچہ بھی ہمارے پاس ہی رہے گا۔”
کمال میرے والد کو رنجیدہ نہیں کرنا چاہتے تھے اور والد کمال کو دکھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی خوشی کا خیال رکھ رہے تھے، لیکن دل دونوں طرف ویران تھے۔ بالآخر کمال بھائی ایثار کی علامت بن گئے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو ہمارے سپرد کیا اور خود بیرونِ ملک چلے گئے، تاکہ ابو اپنی بہن سے کیا ہوا وعدہ پورا کر سکیں اور ان کا رشتہ نہ ٹوٹے۔
ثریا آپی نے بہت واویلا کیا کہ انہیں اپنے بھانجے سے پیار ہے، وہ اسی کی خاطر جیئیں گی اور مریں گی مگر شادی نہیں کریں گی۔ تب پھپھو نے اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ ثریا ان کی بہو بنے گی اور شادی کے بعد اپنے بھانجے کو بھی ساتھ ہی رکھے گی، انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ ثریا آپی کی طارق سے شادی تو ہو گئی مگر وہ اس رشتے سے خوش نہ ہوئیں۔ وہ آج زندہ تو ہیں مگر بس جی رہی ہیں۔ سائرہ باجی کا بیٹا اب بیس برس کا ہو چکا ہے اور وہ ثریا آپی ہی کو ماں کہتا ہے اور انہی کے پاس رہتا ہے۔ کمال بھائی نے مجھ سے شادی نہیں کی، ان کا کہنا تھا کہ جسے ایک بار بہن مان لیا وہ ہمیشہ بہن ہی رہے گی۔
وہ آج بھی سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اپنی کمائی کا بڑا حصہ اب بھی میرے والد کو بھجوا دیتے ہیں۔ کبھی کبھار فون پر بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں: “آپ نے مجھے بیٹا کہا تھا تو میں نے بیٹا بن کر دکھا دیا ہے۔ جب تک زندہ ہوں، اسی طرح آپ کی خدمت کرتا رہوں گا، لیکن اپنے بیٹے کو لینے کبھی نہیں آؤں گا۔” وہ یہ سوچ کر نہیں آتے کہ کہیں ان کی وجہ سے بچہ ثریا سے جدا نہ ہو جائے۔ وہ اپنی شفقتِ پدری پر ضبط کر لیتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر انہوں نے بیٹا اپنے پاس بلا لیا تو ثریا کے پاس کیا رہ جائے گا، وہ تو پہلے ہی تہی دامن ہے۔ اللہ نے ثریا کو اپنی اولاد سے نہیں نوازا، اب ‘ماہتاب’ ہی ان کی امیدوں کا واحد مرکز ہے۔ اسی لیے کمال بھائی ماہتاب کی طرف قدم نہیں بڑھاتے۔
آج ہم سب اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں، لیکن کمال بھائی دیارِ غیر میں اکیلے محنت و مشقت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انہیں کسی نے دوسری شادی نہ کرنے پر مجبور نہیں کیا، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے اور ان کے اس فیصلے کے سامنے سب بے بس ہیں۔
(ختم شد)
