قبرستان کا راز

urdu stories

میرے والد گورکن تھے اور ہم قبرستان میں رہتے تھے۔ ہمارا گھر وہاں جنازہ گاہ کے عقبی حصے میں تھا۔ یہ دو کمروں کا چھوٹا سا مکان تھا جس کا صحن والد نے قبرستان سے اینٹیں اکٹھی کر کے خود چار دیواری کھڑی کر کے بنا لیا تھا۔ صحن کی دیوار سے ایک دروازہ قبرستان کی جانب کھلتا تھا۔ پہلے ہمارے دادا اس قبرستان کے گورکن تھے، پھر یہ کام ابا نے سنبھال لیا۔ میرے دو چچا تھے، وہ روزگار کی خاطر دوسرے قبرستانوں کی طرف نکل گئے۔میرے والد کی شادی ہوئی تو وہ اپنی دلہن کو اسی گھر میں لے آئے جہاں ابا رہتے تھے۔ ہم تین بہن بھائی اسی گھر میں پیدا ہوئے۔ لوگ کہتے تھے کہ قبرستان خوفناک جگہ ہوتی ہے اور یہاں آنے سے انھیں ڈر لگتا ہے، لیکن ہم تو پیدا ہی یہاں ہوئے تھے۔
sublimegate
 قبروں کے بیچ کھیل کود کر بڑے ہوئے، اس لیے ہمیں قبرستان سے کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا تھا۔والدہ کو ابا کا گورکنی کا پیشہ پسند نہ تھا، لہٰذا انہوں نے مجھے پڑھانے کا عزم کر لیا تاکہ ہم اس ماحول سے باہر نکل سکیں، جب کہ ابا کو اپنا گھر پیارا تھا۔ اس وجہ سے نہیں کہ انھیں قبرستان بہت پسند تھا، دراصل وہ اس کام کے سوا کوئی دوسرا ہنر جانتے ہی نہ تھے۔ پڑھے لکھے نہیں تھے اور شہر میں مکان خریدنا ان کے بس کی بات نہ تھی، اس لیے ان کو یہیں رہنا راس آ گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روزی اسی جگہ سے وابستہ کر دی تھی۔ یوں بھی ان کے بقول، یہ کوئی بری جگہ نہیں تھی۔ ویرانی سہی مگر نہایت پرسکون جگہ تھی۔ وہ اور ان کا خاندان قبرستان کے اندر بڑے سکھ چین سے رہتے تھے۔

یہاں نہ شہر کا شور و غوغا تھا، نہ آلودگی اور دھواں، نہ ہی پڑوسیوں کی جھک جھک۔ کوئی بن بلایا مہمان آ کر بلاوجہ پریشان نہیں کرتا تھا۔ وہی عزیز و اقارب آتے جنہیں ہم سے سچی محبت تھی۔ ٹریفک کے حادثات کا ڈر بھی نہ تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم ہوتا۔ ایسا پُرامن سناٹا کہ اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دیتی تھی۔یہاں صرف نئی پرانی، کچی پکی، چھوٹی بڑی قسم قسم کی قبریں تھیں جو کسی سے کچھ کہتی سنتی نہ تھیں، بس چپ چاپ اپنی جگہ پڑی رہتی تھیں۔ یہاں امتحان کی تیاری بہت اچھی طرح ہوتی۔ اگر کبھی کوئی گلہ ہوتا بھی تو اپنے جیسے زندہ لوگوں سے جو یہاں آ کر انسانیت سے گری ہوئی حرکتیں کرتے، اور ابا ان کو دیکھ لیتے۔ اکثر کو تو نصیحت کر کے چھوڑ دیتے، کبھی کبھار دو ہاتھ بھی کسی کے جڑنے پڑ جاتے تو جڑ دیا کرتے۔ایک روز کا ذکر ہے، مجھے اپنے گھر کی مغربی دیوار کی جانب سے کچھ ایسی آوازیں سنائی دیں جیسے کوئی آہستہ آہستہ زمین کھود رہا ہو۔ میں اسکول کی کتابیں سامنے رکھ کر پرچے کی تیاری کر رہی تھی۔ ابا نے مجھ سے لالٹین لے لی اور باہر چلے گئے۔ لالٹین کی روشنی مدھم تھی۔ رات کا وقت تھا اور وہ دبے پاؤں چل رہے تھے۔ 

انھوں نے دیکھا کہ ایک شخص ہمارے مکان کی جانب پشت کیے اپنے کام میں منہمک ہے۔ اسے ابا کے قریب آنے کا احساس تک نہ ہوا۔ جب وہ اس کے سر پر پہنچ گئے تو دیکھا کہ وہ ایک لمبی داڑھی اور میلی جٹاؤں والا بھکاری ہے۔ اس کا کاسہ اور لاٹھی پاس پڑے تھے اور ایک گٹھڑی بھی تھی۔ گلے میں مالا تھی۔ ابا کو دیکھ کر وہ بھاگنے کے بجائے ان کے پاؤں پڑ گیا۔ بولا: اللہ کا واسطہ ہے تمھیں، بھائی! مجھے معاف کر دو۔ میں ایک غریب بھکاری ہوں، اپنی چھ ماہ کی کمائی یہاں دفن کر رہا تھا کہ کوئی مجھ سے اُچک نہ لے۔ اللہ کی قسم! رات بھر اسی فکر سے نیند نہیں آتی، گٹھڑی کو سر کے پیچھے رکھ کر سوتا ہوں کہ کہیں کوئی چھین نہ لے۔ ابا نے کہا: اگر تو سچ کہہ رہا ہے تو گٹھڑی کھول کر دکھا دے۔ واقعی اس میں بہت سی ریزگاری اور کچھ نوٹ بھی تھے۔ روپے والے سکوں کا تو انبار لگا تھا۔ ابا نے اس وعدے پر اس روز اسے چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ اپنی رقم دبانے یہاں نہیں آئے گا اور نہ کسی قبر کی بے حرمتی کرے گا۔کچھ دن گزرے کہ رات کے سناٹے میں پھر ویسی ہی آواز سنائی دی۔ ابا نے جا کر بھکاری کی گردن دبوچ لی اور کہا: پھر وہی حرکت کرنے آ گیا؟وہ گھگھیا کر بولا: سرکار! میں قبر کی بے حرمتی نہیں کر رہا، اپنی دبائی ہوئی رقم نکال رہا ہوں۔ میں یہ شہر چھوڑ کر جا رہا ہوں، اسی لیے پونجی نکال رہا ہوں۔ وعدہ ہے کہ پھر کبھی آپ کو یہاں نظر نہیں آؤں گا۔

قبرستان میں رات کے وقت کبھی کبھی چلہ کاٹنے والے اور عملیات کرنے والے بھی آ جاتے تھے۔ جادو ٹونے کرنے والے یہاں آ کر الٹی سیدھی حرکتیں کرتے۔ ایسے مشکوک لوگوں کو میرے والد خوب پہچانتے تھے۔ اکثر کا کام تو صرف قبروں کی مٹی اٹھانا، پرانی ہڈیاں دبانا یا تعویذ دفن کرنا ہوتا، لیکن کچھ ایسے بھی دیکھے گئے جو بظاہر صاف ستھرے نظر آتے مگر چور اچکے ہوتے تھے۔ جرائم پیشہ تو قبرستان کو اپنی جنت جانتے۔ وہ اس گورستان کی ہولناکی کے اندر اپنے ہولناک جرم چھپانے آ جاتے تھے۔ ایسے بہت سے عجیب و غریب واقعات ابا کی یادداشت میں موجود تھے جنہیں سن کر حیرت ہوتی تھی۔بہر حال ایک واقعہ تو ایسا ہوا کہ جس نے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ابا بتاتے تھے:یہ مغرب سے ذرا پہلے کا وقت تھا۔ وہ گھر کی دیوار کے پاس باہر چارپائی پر بیٹھے سوچ رہے تھے کہ ابھی اذان ہوگی تو اٹھ کر مسجد جائیں۔ 

اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ سامنے کچھ فاصلے پر بنی قبروں کے پاس دو عورتیں نظر آئیں۔ دونوں نے برقعے اوڑھ رکھے تھے جو تمبو نما تھے۔ ایک عورت ایک تازہ قبر کے پاس بیٹھ گئی جہاں کچھ اینٹیں پڑی تھیں، اور دوسری عورت ابا کو چارپائی پر بیٹھے دیکھ کر ان کی طرف چلی آئی۔ اس کے ہاتھ میں آدھا سیر میٹھے چنے ایک کاغذ میں لپٹے ہوئے تھے۔جس زمانے کا ذکر ہے، تب کلو نہیں بلکہ سیر اور آدھ سیر کا وزن رائج تھا۔ عورت نے ابا سے کہا کہ آپ ان پر فاتحہ پڑھ دیں، میں نے ان کو مسجد کے دروازے پر بانٹنا ہے۔ ابا نے عورت سمجھ کر احترام کیا اور کہنے لگے: تم یہاں رکو، میں درود و فاتحہ مسجد کے امام صاحب سے پڑھوا کر لاتا ہوں، وہ مسجد میں ہی ہیں۔ابا چنے لے کر مسجد کے اندر چلے گئے اور وہ عورت وہاں چارپائی پر بیٹھ گئی۔ دراصل وہ ابا کو وہاں سے ہٹانا چاہتی تھی تاکہ دوسری عورت، جو تازہ قبر کے پاس موجود تھی، اپنا کام کر لے۔
ابا نے یہ سوچ کر اس دوسری عورت کے بارے میں سوال نہ کیا کہ شاید اپنے کسی عزیز کی قبر پر آئی ہوگی۔تھوڑی دیر بعد وہ مسجد سے فاتحہ پڑھوا کر چنے لے آئے اور عورت کے ہاتھ میں کاغذ کا پڑا دیا۔ عورت نے مٹھی بھر کر ان میں سے کچھ چنے ابا کو دیے اور دوسری عورت سے بولی: نماز ہو تو یہ باقی بھی تم بانٹ دینا۔ اس نے چنے ابا کے حوالے کر دیے اور چلتی بنی۔ذرا دیر بعد اذان ہو گئی اور پھر چند لوگ جو اردگرد تھے، مسجد کے اندر چلے گئے۔ جب ابا نماز کے بعد باہر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ عورتیں وہاں نہیں تھیں۔ ابھی وہ باہر ہی تھے کہ ان کو دور سے ایک بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔ وہ آواز کی سمت چل دیے۔ یہ آواز اسی تازہ قبر کے پاس سے آ رہی تھی جہاں کچھ دیر قبل وہ دو عورتیں بیٹھی تھیں۔

قریب پہنچے تو عجب منظر دیکھا۔ دو قبروں کے بیچ کی گہرائی میں چار چار پختہ اینٹیں اوپر تلے رکھ کر ایک چار دیواری بنائی گئی تھی، جس کے اندر ایک ننھا سا بچہ لیٹا ہوا تھا۔ ایک اینٹ اتفاق سے گر گئی تھی، شاید اس بچے کے پاؤں کی حرکت کی وجہ سے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس ننھی سی جان پر کرم کیا اور اسے محفوظ رکھا۔ اینٹ کا ذرا سا کونا بچے کے پیر پر لگا ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ تکلیف سے رو رہا تھا، جبکہ باقی اینٹیں ایک دوسرے کے سہارے جوں کی توں موجود تھیں۔ اس کے ہاتھ پاؤں چلنے سے وہ کسی بھی وقت گر سکتی تھیں۔بچے کو بہت ڈھیلے ڈھالے انداز سے کپڑے میں لپیٹا گیا تھا۔ والد نے کمال ہوشیاری سے ان اینٹوں سے بنی بغیر چھت کی قبر کے اندر سے بچے کو اٹھا لیا۔ وہ ململ کے کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ نازک سا بچہ بر وقت بچا لیا گیا۔ کسی بھی وقت اینٹوں کے گرنے سے اس کی جان جا سکتی تھی۔خدا جانے وہ شقی القلب عورتیں کہاں سے وہاں آئی تھیں اور کہاں کو روانہ ہو گئیں، مگر اس پھول جیسے معصوم کی موت کا اپنی طرف سے پورا اہتمام کر گئی تھیں۔ لیکن جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے۔
والد اسی وقت امام صاحب کو ساتھ لے کر فریبی تھانے چلے گئے۔ وہاں ساری تفصیل لکھوا دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت اس بچے کی پرورش کے اسباب بھی پیدا کر دیے کہ تھانے کا ایک کلرک، جو بے اولاد تھا، اس نے بچے کو گود لینے کی خواہش ظاہر کی۔ چونکہ وہ نیک اور اچھا انسان تھا، لہٰذا تھانیدار نے بچہ اس کے سپرد کر دیا۔ اس طرح ابا کو اطمینان ہو گیا کہ یہ معصوم ٹھیک ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔جب بچہ پانچ برس کا ہوا تو وہ شخص ابا سے ملنے آیا اور بچے کو بھی ساتھ لایا۔ وہ بے حد پیارا اور خوبصورت تھا۔ گود لینے والے کی بیوی اس کی بہت پیار سے پرورش کر رہی تھی۔ پھر وہ اسکول جانے لگا۔ وقت گزرتا رہا۔ اس بچے نے ایف ایس سی کر لی اور پھر اسے پولیس کی نوکری بھی مل گئی۔ ابا کی زندگی میں آخری بار جب وہ ان سے ملنے آیا تو پولیس کی وردی پہنے ہوئے تھا۔ اس نے جھک کر ابا کے پیر چھوئے اور کہا:چچا جان، بابا جان ہمیشہ مجھ کو آپ کی عزت و تکریم کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔

 اگر میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور بتانا، مجھے آپ ہر وقت حاضر پائیں گے۔جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے، سوچتی ہوں نجانے وہ کون بدنصیب ماں اور بدکردار باپ ہوں گے جنہیں اس نعمت سے محرومی مقدر میں ملی۔ دنیا کی لعنت کے ساتھ ساتھ آخرت کے عذاب کے بھی وہ حق دار ہوئے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اولاد صرف نیک لوگوں کو عطا کرے جو اس کی اس نعمت کی حفاظت کر سکیں اور شکر گزاری کے طور پر اس نعمت پر سر بسجود رہیں۔

(ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ