میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جس کا سر براہ معذوری کے باعث کمانے سے قاصر تھا تبھی گھر کے اخراجات پورے کرنے میں مشکل آپڑی تھی۔ ان دنوں میں بی اے کی طالبہ تھی اور بہن، بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھی۔ بڑی بہن نے نویں کے بعد پڑھائی چھوڑ دی اور وہ والد صاحب کی خدمت میں لگ گئیں چونکہ بابا جان کو فالج تھا۔ والدہ گھر کے کام کاج اور بہن، ابو کی دیکھ بھال میں مصروف ہو تیں اور میں پڑھائی میں۔ طاہر سب سے چھوٹا بھائی تھا۔ وہ ان دنوں پانچویں کلاس کا طالب علم تھا۔
sublimegate
بچپن سے ہی میرے خوابوں کی اونچی اڑان تھی۔ جب خوشحالی تھی تب بھی تعلیم کے ذریعے اعلیٰ مقام پانے کے خواب دیکھا کرتی تھی اور اب تو محنت کیسے بنا چارہ نہ تھا کہ ان حالات سے دامن چھڑانے کا بس ایک ہی راستہ تھا۔ تعلیم مکمل کر کے اچھی ملازمت حاصل کرنا تا کہ گھر کی ڈولتی کشتی کنارے لگے ۔
میں نے کبھی اپنے بارے میں نہ سوچا۔ ہمیشہ والدین اور بھائی، بہنوں کے لیے سوچتی۔ ان کو کسی طرح سکھ پہنچائوں۔ ان کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے ہر کوشش اور انتھک محنت کروں۔ ہمارا خاندان پھر سے خوشحال ہو جائے۔ بس یہی تھا میری زندگی کا مقصد اور یہی تھے میرے خواب …!
ایک عمر ہوتی ہے جب کوئی لڑکی ہمہ وقت خواب ہی دیکھتی ہے۔ خوابوں کے بارے میں سوچتی ہے۔ خوابوں کو ہی اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ہے بلکہ صرف خوابوں کی دنیا میں ہی زندہ رہنا چاہتی ہے ۔ جب میری عمر کا یہ عہد شروع ہوا تو میں نے اپنے بجائے گھر والوں کے بارے میں سوچا۔ یوں محنت سے تعلیم مکمل کی اور اپنے علاقے کے ایک اسکول میں ٹیچر لگ گئی۔ تنخواہ زیادہ نہ تھی لیکن اس طرح عزت سے دو وقت کی روٹی کا آسرا ہو گیا۔
وقت گزرنے لگا۔ بہن، بھائی پڑھ رہے تھے۔ باقاعدگی سے والدہ انہیں اسکول بھیجتیں۔ مجھے سکون قلب میسر تھا کہ میری زندگی کا کوئی مقصد ہے اور وہ مقصد اعلیٰ ہے۔ اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جیو۔ جن کے لیے میں نے روز و شب محنت کی تھی ، وہ میرے اپنے تھے۔ ان کے لیے جینا میری آرزو تھی۔
وقت بے رحم ہے۔ جب گزرتا ہے تو دبے پائوں لیکن جب نو خیزی سنجیدہ صورت میں ڈھلتی ہے۔ بالوں میں چاندی کے تار چمکنے لگتے ہیں، تب احساس ہوتا ہے کہ وقت بہت آگے چلا گیا ہے۔ چیونٹی کی رفتار سے گزرنے والے لمحے ماہ و سال کی گرد میں چھپ کر عمر عزیز کو ادھیڑ عمری کی چادر اڑھا دیتے ہیں۔ بڑھاپے کی سرحد تک لے آتے ہیں۔ تب لگتا ہے کہ پلک جھپکتے ہی کیا سے کیا ہو گیا۔
ان دنوں میری عمر تیس برس کے قریب تھی جب پہلی بار محکمہ تعلیم کے ایک خوبصورت آفیسر نے مجھے ایک ایسا جملہ کہا کہ میں گم صم ہو گئی۔ ان کا نام حبیب تھا اور مجھے اکثر اپنے اسٹاف کی تنخواہوں کے بل پاس کروانے کے لیے ان سے رابطہ کرنا پڑتا تھا۔
ایک روز میں ان کے آفس میں متعلقہ رجسٹر اور کا غذات لیے بیٹھی تھی کہ چائے کی پیالی میرے سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے ایک ایسی بات کہہ دی جس کی توقع مجھے ہر گز نہ تھی۔ وہ تعلیم یافتہ ، بہت مہذب اور مہربان افسر تھے۔ نجانے اس روز کیا ہوا کہ اپنی سوچ کے اظہار کی خواہش پر قابو نہ رکھ سکے۔
پہاڑوں پر کبھی کسی نے بجلی گرنے کی آواز تو سنی ہو گی؟ کتنی گونج، کتنی شدت اور کیسی طاقت کے ساتھ جب وہ سنگلاخ پتھروں پر گرتی ہے توان کو بھی ریزہ ریزہ کر ڈلتی ہے۔ ایسی آواز کہ ہر صدا اس آواز تلے دب جاتی ہے، گم ہو جاتی ہے۔ جب اس نے کہا۔ روشن صبا ! مجھے تم سے محبت ہے تو دنیا کی ہر آواز جیسے اس ایک جملے میں گم ہو گئی اور اس جملے کی پُر تاثیر شدت نے مجھے گنگ کر دیا۔
میں حیران و پریشان سوچنے لگی کہ اب جبکہ نو خیزی میرے رنگ وروپ سے روٹھ چکی ہے اور میں ادھیڑ عمری کی سرحد پر ہوں۔ اس نے ایسا کیوں کہا۔ کیا واقعی میں اسے اچھی لگتی تھی؟ بغیر جواب دیئے اس روز کا غذات سمیٹ کر میں نے فائل میں رکھے اور اٹھ کر آفس سے باہر آگئی۔
گھر آتے ہی آئینے کے سامنے اپنے سراپے پر نظر ڈالی۔ وہاں کچھ نہ تھا۔ کچھ محنت ، کچھ پریشانیوں نے سارارنگ روپ جلا ڈالا تھا۔ اب نہ غزالی آنکھیں تھیں اور نہ دمکتی رنگت، نہ پر کشش سرایا اور نہ زندگی بسر کرنے کی ہمت۔ مشقت میں گم ایک بیمار مدقوق چہرہ تھا جس پر بہت سی ذمہ داریوں کے احساس کی تلخ تحریر کندہ تھی۔ بیمار باپ کی نہ خرید پانے والی دوائوں کا تاسف تھا۔ چھوٹی دو بہنوں اور ایک چھوٹے بھائی کی پوری نہ ہو سکنے والی حسرتیں تھیں۔ میرے حساس چہرے کا بگڑا ہو ا عکس ہی بس میرا حسن تھا۔
کیسے ے لائوں باپ کی دوائیں، کیسے بنوں ان کا بازو، کیسے خریدوں والدہ کے لیے نئی شال اور جوتے اور بہن، بھائی کے لیے نئے یونیفارم ، ان کی کتابیں، کاپیاں اور پنسلیں …؟ بڑی بہن کے ادھورے ارمانوں کا مداوا کیسے کروں جو مجھ سے صرف سوابرس بڑی تھیں اور چھوٹے معصوموں کی محرومیوں کو کیونکر دور کروں۔ یہ سب کچھ لاکھ کوشش پر بھی نہ کر پاتی تھی کہ دو وقت کی روٹی ہی پوری کرنی ہوتی تھی۔
میں ذات کو بھول بیٹھی تھی۔ اپنی خواہشوں کو روند ڈالا تھا۔ فراموش کر دیا تھا۔ یہ بھول گئی تھی کہ میں بھی ایک لڑکی ہوں جس پر جوانی آئی ہے۔ پھولوں کے کھلنے کی مہک کوئی معنی رکھتی ہے اور جوانی کے عہد میں خواہشات بھی جنم لیتی ہیں۔ ایسی خواہشات کہ جن میں ان دیکھی دنیا چھپی ہوتی ہے۔ اس دنیا کی چاہت انسان کو بے قرار کر دیتی ہے۔ انسان سپنے بنے لگتا ہے۔ خیالوں میں آئیڈیل تراشتا ہے اور خوابوں میں عکس سنوارتا ہے۔ تبھی خواب اسے حقیقت سے بیگانہ کر دیتے ہیں۔
میں ایک مشین بن چکی تھی۔ حالات کی چکی میں پستے پستے مشقت کی عادی ہو گئی تھی۔ صبح سویرے اٹھنا، رات کو دیر سے سونا، سوتے میں چونک جانا۔ کہیں چھوٹوں کو سر دی تو نہیں لگ رہی ہے، کہیں کھانستے کھانستے ماں کا گلا نہ سوکھ گیا ہو۔ ماں کے پاس پانی کا گلاس رکھا بھی ہے یا نہیں۔ کہیں بابا کے پائوں لحاف سے باہر تو نہیں ہیں۔ ٹھنڈ نہ لگ جائے انہیں غرض کتنے ہی تفکرات تھے جنہوں نے میری آنکھوں سے سپنوں کو نوچ ڈالا تھا۔
کبھی ماں حسرت سے کہتی۔ رب نے تین بیٹیاں دے دیں۔ ایک بیٹادیا وہ بھی چھوٹا ہے۔ کاش یہ سیٹیاں ، بیٹے ہوتے تو بڑھایے کا سہار ا بن جاتے۔ تب میں اور دکھی ہو جاتی تھی۔
اور اب حبیب نے ایک جملہ کہہ کر مجھے دہلا کر رکھ دیا تھا۔ شاید وہ کئی دنوں سے مجھ سے یہ بات کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن مجھے فرصت کہاں کہ میں اس کی آنکھوں میں دیکھ پاتی۔ کام کی دھن میں تیزی سے گزر جاتی۔ مجھے معلوم ہی نہ ہو پاتا کہ قریب سے کون گزر گیا ہے، کس کی آنکھوں نے ہوس کے اندھے پن میں سراپے کو تو لا ہے۔ کن نگاہوں میں میرے لیے تمسخر چھپا ہے اور کون نظر میرے لیے پیام محبت لائی ہے۔
آج سے پہلے شاید یہ احساس ہی نہ ہو ا تھا کہ میں ایک لڑکی ہوں، ایک جوان لڑکی جس سے کسی کو محبت بھی ہو سکتی ہے۔ اب تک تو بس ضرورت کے رشتے ہی نباہتی آئی تھی۔ چھوٹی سی عمر سے گھر سنبھالنے کی ضرورت، تلاش معاش کے بعد ضروریات زندگی گھر لانے کی ضرورت ہاتھوں میں مہندی، کلائی میں چوڑی ، آنکھوں میں خواب … حبیب کیا ظلم کر دیا تم نے؟ مجھے میری ذات سے آشنا کر دیا۔ وہ ذات جس کو کب سے فراموش کر چکی تھی۔
آج تک میرے کانوں نے بس یہی جملے سنے تھے۔ آٹا شام تک ختم ہو جائے گا ، چائے کی پتی تھوڑی سی بچی ہے ، چینی تو کل سے نہیں ہے، دودھ کا ادھار بھی بہت ہو گیا ہے۔ بل نہیں دیا تو بجلی کٹ جائے گی اور ان سب چیزوں کو پورا کرتے کرتے اب میرے ہاتھ، پائوں میں ہی نہیں دل میں بھی چھالے پڑ چکے تھے۔ ان چھالوں پر مرہم بن کر ایک جملے کی باز گشت گونج رہی تھی۔ ” مجھے تم سے محبت ہے…!
محبت؟ محبت ؟ محبت ؟ میں نے ایک بار پھر آئینے کے سامنے جا کر اپنے سراپے پر نظر ڈالی ۔ آئینہ میر امنہ چڑا رہا تھا۔
او نہ … محبت ہے کیا تم میں ؟ یہ سانولی رنگت، یہ کمزور سراپا نہیں صاحبہ تم اس قابل کہاں کہ تمہیں چاہا جائے۔ شادابی کھو جائے تو لوگ اپنے پیاروں سے پیار نہیں کرتے۔ تم سے کوئی رشتہ ، نہ تعلق ! حبیب کل تک یہ بات بھی بھول جائے گا کہ اس نے تم سے اظہار محبت کیا تھا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ وہ فیکٹری کے دور افتادہ سنسان راستے پر بھی مجھے منتظر ملا۔ صبا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے تم سے محبت ہے۔
یہ کیا بات ہوئی ؟ اس طرح کی باتیں کیا یوں راہ چلتے کی جاتی ہیں ؟ بظاہر میں نے بڑے غصے سے کہا۔ مگر دل کی دھک دھک نے لہجے کا ساتھ نہ دیا۔
ہاں ! حبیب یوں ہی کہتے رہو۔ جس طرح کہو۔ بس کہتے رہو۔ مجھے تم سے محبت ہے۔ میری سماعتوں کے لیے یہ لفظ ابھی اجنبی ہیں۔ ابھی انہیں اپنی جگہ بنانے دو۔ مجھے سمجھ لینے دو یہ لفظ سنتے ہیں تو کیسا لگتا ہے اور کیا محسوس ہوتا ہے۔ میں کیا جانوں…؟ یہ کہ تمہیں میری بات بری نہیں لگی ، بس کہنے کا انداز پسند نہیں آیا۔ حبیب مجسم سوال تھا اور میں لاجواب ….
میری امی سے بات کرنا۔ تبھی میں انتہائی گھبراہٹ میں آجانے والی بس میں سوار ہو گئی۔ کہنے کو تو میں نے بڑی ہمت سے کہہ دیا تھا۔ مگر اب ہمت جواب دے رہی تھی۔ امی سے کیا کہوں گی اور ابو کیا سوچیں گے ۔ باجی سے کیا کہوں گی۔
میرے اس گھر سے رخصت ہو جانے پر ان سب کا کیا بنے گا۔ تھک کر میں نے آنکھیں موند لیں۔ بند آنکھوں میں بھی حبیب کا مسکراتا عکس ہی نظر آیا۔
میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے تم سے محبت ہے۔ میں ان لمحوں کے حصار سے جتنا نکلنا چاہ رہی تھی، اتنی ہی اسیری دامن گیر ہو رہی تھی۔ رات خوابوں میں اپنے ہا تھوں پر حنا اترتے دیکھی اور صبح اپنے زر در خساروں پر شفق جیسا سایہ لہراتا ہوا دیکھا۔ تبھی چور نظروں سے ماں کی جانب دیکھا۔ کہیں ماں نے میرے دل کی چوری نہ پکڑ لی ہو۔ مگر ماں کے ہاتھوں میں خالی شیشی تھی۔ بیٹی ! میری دواختم ہو گئی ہے ۔ شام کو ضرور لیتی آناور نہ کھانسی رات بھر سونے نہیں دے گی۔
جی اچھا امی جان … لے آئوں گی ۔ میں نے ماں کو تسلی دی۔ قریب آتی بہن کو دیکھ کر میں کچھ گھر آگئی کہ باجی کو پتا نہ چل جائے۔
صبا مجھے پتا ہے۔ باجی کے بولنے سے میرا دل دھک سے رہ گیا۔ اے اللہ ! باجی کوکیسے پتا چلا۔ میں نے گھبرا کر بہن کی طرف دیکھا جو روانی میں اپنی بات پوری کر رہی تھی۔ صبا! مجھے پتا ہے تم ہی چھوٹی کو صحیح کنٹرول کر سکتی ہو۔ وہ آج کل اپنی پڑھائی پر دھیان نہیں دے رہی۔ نہ جانے اس کا دھیان کہاں رہتا ہے۔ یہ سن کر میں نے سکون کا سانس لیا۔
صبا.. میری بات سنو ۔ ابو نے لڑکھڑاتی زبان سے بہ مشکل جملہ ادا کیا تو میر اسانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ اف….
کہیں ابو ہی کچھ نہ کہہ دیں۔ میں گھبرا کر بھاگی اور باپ کے سرہانے جا کر کھڑی ہو گئی ۔ جی ابو ! دل دھک دھک کر رہا تھا۔ اگر انہوں نے کہہ دیا کہ تم یہ کیا سوچنے لگی ہو تو کیا جواب دوں گی۔
وہ ساتھ والے پڑوسی آئے تھے جن کے اسکول میں تم پڑھاتی تھیں۔ وہ رک گئے، سانس لیا۔ درمیان کے اس وقفے میں مجھے فکر نے گھیر لیا کہ کہیں حسین صاحب حبیب کی بات کرنے تو نہیں آئے تھے۔ میری جان سولی پر جنگی تھی۔ کچھ دیر بعد بابا نے اپنی پوری قوت جمع کر کے کہا۔
وہ کہہ رہے تھے ان کے نواسے کو ایک ماہ ٹیوشن پڑھا دو۔ پانچ سوروپے دیں گے۔ کیا پڑھادو گی ؟ میری دوا کا خرچہ نکل آئے گا۔ اتنا کہہ کر ہانپ گئے اور کھانسی شروع ہو گئی۔
ادہ تو یہ بات تھی اور میری جان نکلی جارہی تھی۔ جی پڑھادوں گی ابو… میں نے لمبا سانس لیا۔ ابا پانچ سو کی اضافی آمدنی سے خوش تھے اور میرے دل پر چوٹ کی پڑی۔ ان میں سے کسی کو بھی میری فکر نہیں ہے۔ میں افسردہ کی فیکٹری جانے کو گھر سے نکل آئی۔ کچھ آگے چلی تھی تو حبیب گاڑی لیے ملا۔ آئو تم کو چھوڑ دوں ۔ بس نجانے کب آئے گی۔ دیر نہ ہو جائے تمہیں۔ میں سنی ان سنی کر کے آگے چلتی گئی۔
دیکھو آ جائو۔ تم تھک جائو گی ۔ نجانے کیا بات تھی اس کے انداز گفتگو میں کہ اس کے اس ایک جملے سے یوں لگا کہ جیسے میری برسوں کی تھکن اتر گئی ہے۔ قدم ڈگمگائے، گرنے لگی تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر سہارا دے دیا۔
میں اس کی کار میں بیٹھ گئی۔ کار فراٹے بھرنے لگی۔ جیسے وہ ہوائوں میں اڑا جا رہا تھا۔ ایک کافی ہائوس پر جب اس نے کار رو کی تو میں گویا خواب سے چونک پڑی۔ یہ تم مجھے کہاں لے آئے ہو ؟ بس ایک کپ کافی میرے ساتھ پھر تمہیں فیکٹری چھوڑ دوں گا۔
کافی کا مگ تھامتے ہوئے اس کی انگلیوں کے لمس کی حدت نے مجھ کو دہکادیا۔ دبے ہوئے جذبوں کا عکس چہرے پر اتر آیا۔ وہ بڑی محویت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ یا میں تم کو اتنی خوشیاں دینا چاہتا ہوں جو تمہیں کبھی نہ ملی ہوں گی۔ تمہارے قدموں میں سب خوشیاں لانے کی کوشش کروں گا۔
وقت پر لگا کر اڑنے لگا۔ حبیب نے مجھ میں اپنا آپ سنوارنے کی خواہش پیدا کر دی۔ ڈیوٹی سے آنے کے بعد گھر آکر جب ذرا دیر کو آرام کے لیے آنکھیں بند کر کے لیٹتی تو روزانہ کی مشینی زندگی میں سے اپنی محبت کے لیے کچھ لمحات چرا کر میں حبیب کے ساتھ تصور ہی تصور میں کسی انجانی راہ پر ہو لیتی۔
پہلے خوف دل سے جانے لگے ۔ کون کیا کہے گا۔ اس سے زیادہ میرے لیے یہ بات اہم تھی کہ کہیں حبیب ناراض نہ ہو جائے۔ کسی دن اس کا فون نہ آتا تو میں بے قرار ہو جاتی۔ اگرچہ فون پر ہم صرف بس ایک دوسرے کی خیریت ہی دریافت کرتے اور دل کی باتیں دل میں رہ جاتی تھیں کیونکہ ارد گرد بہت سے لوگ موجود ہوتے تھے ، جو میری بات فون کرتے وقت سن رہے ہوتے اور میں اپنی نیک نامی کو کسی شک و شبے میں ڈالنا نہ چاہتی کی تھی۔
اس دفعہ تنخواہ لی تو پہلی بار اپنی محنت کی کمائی سے کچھ خود پر خرچ کرنے کو دل چاہنے لگا۔ لباس، شوز ، میک آپ کبھی اپنے لیے لینے کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا بس ضرورت کے مطابق بنالیا کرتی۔ اس بار پیسوں میں کچھ کمی محسوس ہوئی تو امی چونکیں۔ ابو نے بھی پوچھا۔ باجی بول اٹھیں ۔ صباتم فضول خرچ تو نہیں ہو گئی ہو ؟ تبھی میرا دل ٹوٹنے لگا۔ جس دن میرے دل میں چور تھا کہ کوئی پوچھے گا کہ تیرے دل کی دنیا میں کوئی آگیا ہے کیا …؟ تب تو کسی نے سوال نہیں کیا۔ آج چند روپوں میں کمی آنے پر سب سرا پا سوال تھے اور میں ہر سوال کے جواب سے نظریں چرار ہی تھی۔ پہلی بار سوچا کسی ر سوچا کسی کو بھی نہیں فکر میری … سب کو بس پیسوں کی فکر پیسوں کی فکر ہے۔ یہی ایک شخص ہے حبیب جس کو میرا ا خیال ہے۔ آج میں اس سے کہہ دوں گی کہ اگر شادی کرنی ہے تو ہمارے گھر آ جائو۔ حسین صاحب کے ساتھ بابا جان کے پاس … وہ پہلے مل تولیں، دیکھ تو لیں تم کو۔ پھر ہی آگے بات چلے گی۔
ہمیشہ کہہ دیتی تھی کہ مجھ پر بڑی ذمہ داریاں ہیں شادی نہیں کر سکتی۔ جب بابا اس کو دیکھ لیں گے۔ پھر کہہ دوں گی کہ اب اپنی اماں جان کو بھیج دو میری اماں کے پاس … ایسے ہی تو آگے بات چلے گی۔ میں نے خوبصورت خوابوں سے سجا ایک فیصلہ کر لیا۔ حبیب سے شادی کا فیصلہ ۔
فیکٹری جاتے ہوئے یا واپس لوٹتے ہوئے اکثر وہ مل جاتا اور گھر تک لے آتا۔ بس اتنا ہی ساتھ ہوتا۔ کبھی کولڈ ڈرنک یا پھر آئسکریم کا ایک کپ جو ہم گاڑی میں کھا پی لیتے تھے۔
بالآخر میں نے حبیب سے کہہ دیا کہ حسین صاحب کو اعتماد میں لو اور میرے والد کے پاس عیادت کے بہانے آجائو۔ امی، ابو تم کو ایک نظر دیکھ لیں پھر بات آگے چل سکے گی۔
اگلے روز وہ حسین صاحب کے ساتھ آگیا۔ ابا سے ملا ، امی نے بات کی اور چھوٹی بہن چائے کی ٹرے لے کر سامنے آگئی۔ اس کے جانے کے بعد میں نے امی سے سوال کیا ۔ امی ! کیسا لگا حبیب آپ کو انہوں نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ ان کی امی بھی آئیں گی آپ کے پاس۔ میں نے نظریں جھکائے بتایا۔ کس لیے کیا رشتے کے لیے؟
جی اٹھیک ہیں آجائیں۔ خوشی سے میرے من میں لڈو پھوٹنے لگے مگر ضبط کیا خوشی کو ظاہر نہ کیا۔
دودن بعد حبیب کی والدہ حسین صاحب کی بیوی کے ہمراہ آگئیں۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد مدعا بیان کر دیا۔ حبیب کے لیے رشتے کی آرزومند ہوں۔ میرا بیٹا اکلوتا ہے ۔ صاحب جائداد ہے ، بر سر روز گار ہے ، افسر ہے اور باقی تفصیل حسین صاحب سے پوچھ لیں۔
ان کے بابا جان سے مشورہ کر کے ایک دور وز بعد جواب دوں گی۔ امی نے کہا۔
دوروز بعد وہ دوبارہ آئیں۔ والدہ نے کہا۔ جی ہمیں رشتہ منظور ہے۔ انہوں نے مگر باجی کے لیے کہا۔ تب حبیب کی والدہ بولیں۔ میں آپ کی تیسرے نمبر والی بیٹی کے لیے رشتہ مانگنے آئی ہوں بہن … میرے بیٹے نے اس سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تیسرے نمبر والی یعنی ثناء سے . مگر وہ تو ابھی میٹرک میں ہے بہن …! میٹرک بھی کرلے گی۔ میری بڑی بیٹی ابھی موجود ہے۔ پہلے اس کی شادی کرنی ہے۔ دوسری کی توفی الحال نہیں کر سکتی کیونکہ وہی گھر چلا رہی ہے اور تیسری چھوٹی ہے۔
چھوٹی نہیں ہے بہن … شناء بھی اب شادی کے لائق ہے۔ آپ خوب اچھی طرح سوچ لیجیے۔ اس روز وہی چائے کی ٹرے لے کر حبیب کے سامنے آئی تھی نا …! اس کو پسند کر لیا ہے میرے بیٹے نے ! اب آپ کی مرضی مگر میرے حبیب جیسے لڑکے کم ہی خوش نصیب لوگوں کو ملتے ہیں۔ ایسے داماد تو چراغ لے کر ڈھونڈو تو بھی نہیں ملتے۔ سوچ کر بتا دیجئے گا۔ بے شک گھر میں سب سے مشورہ کر لیں۔
ان کے جانے کے بعد امی نے باجی سے مشورہ کیا۔ وہ بولیں ۔ اماں … انکار مت کرنا۔ ایک اچھے گھر بیاہی جائے گی تو اور وں کے رشتے بھی اچھے گھروں میں ہو جائیں گے ۔ حبیب کا رشتہ بہت اچھا ہے۔ ثناء کو بیاہ دو۔ ایک بیٹی کا بوجھ تو کم ہو جائے گا سر سے … میری اور صبا کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ جو اللہ کو منظور ہو گا، ہو جائے گا۔ بابا بہت علیل ہیں۔ ایک بیٹی کو اپنی آنکھوں کے سامنے رخصت ہوتا دیکھ لیں۔ پھر حسین صاحب اور ان کی بیوی ضامن بن رہے ہیں تو ڈر کس بات کا۔
بھئی لڑکا شناء سے عمر میں کچھ بڑا نہیں ہے ؟ اماں ! آٹھ دس برس بڑا بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے۔ آفیسر ہے ، خوبصورت ہے ، صاحب جائداد ہے اور کیا چاہیے ؟
ماں نے میری رائے لی۔ دل اندر سے خون کے آنسو رو رہا تھا۔ زبان نے دل کا ساتھ نہ دیا۔ میں نے خود کو سنبھال کر کہا۔ جی امی ! جیسا آپ بہتر سمجھیں، مجھے کیا اعتراض ہے۔
ثناء کی شادی حبیب سے ہو گئی۔ میں نے بہنوئی کے سامنے آنا چھوڑ دیا۔ وہ آتے میں فیکٹری چلی جاتی۔ وہ جاتے تب گھر آتی۔ چھٹی کے دن وہ جان کر نہ آتے۔ مجھ سے نظریں کیسے ملاتے ؟ دل میں چور جو تھا۔ ہمت نہ تھی۔ سامنا نہیں کرتے تھے اور میں بھی کوشش کرتی تھی کہ سامنا نہ ہو۔ میں کب بھلا اب ان سے سامنا کرنا چاہتی تھی۔ صد شکر خوابوں کی دنیا سے نکل کر پھر سے حقیقت کی دنیا میں بسنے لگی۔ وہی محنت مشقت ، وہی مشینی زندگی … گھر چلانا جو تھا۔ بھائی کو بھی تو پڑھانا تھا۔ میں ہی اس گھر کی کمائو پوت“ تھی اگر میں چلی جاتی تو کیا ہوتا۔ اگر ناخدا نہ رہے تو کشتی کیسے کنارے لگے ؟
جب تک لفظ محبت سے آشنا نہ ہوئی تھی، کتنی بے نیاز تھی۔ کوئی غم نہیں تھا اور اس لذت آشنائی کے بعد اپنے دل کا درد خود سے سنبھالا نہ جاتا تھا۔ لیکن محبت کا یہ زخم ضروری تھا شاید میرے لیے کیونکہ میرے گھر والوں کو، بوڑھے باپ اور بیمار ماں کو، چھوٹے بھائی اور باجی کو میری کتنی ضرورت تھی اور میں بہک گئی تھی اپنی خوشیوں کی تلاش میں۔ ٹھیک کیا حبیب نے کہ لوٹ گیا وہ میری دنیا سے ! میری چھوٹی بہن شاء کی بس ایک جھلک دیکھتے ہی کچھ عرصے بعد وہ ٹھیک کیا حبیب اسے لے کر کینیڈا چلا گیا اور میں نے اپنی زندگی کی کتاب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محبت کے باب کو نکال پھینکا کہ اسی میں میرے اپنوں کی بہتری تھی۔
