سفر ہموار رفتاری سے جاری تھا۔ گمان بھی نہ تھا کہ اونٹنی کا قدم کسی غلط زاویے پر پڑے گا اور وہ ٹھوک کر گِر جائے گی۔اچانک وہ اونٹنی آگے پیروں کے بل گر پڑی۔ راجہ کو زور کا جھٹکا لگا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ وہ اونٹنی نیچے گر آیا۔ رات کے دوسرے پہر واپس آگئی اور گیٹ پر کھڑی پاؤں مارنے لگی۔ اس کے گلے میں گھنٹی اور پاؤں میں جھانجھر تھیں۔ گھنگرو بولے تو پاشا کی آنکھ کھل گئی۔ خیال آیا، چھوٹا بھائی واپس آگیا ہے۔
👇cknwrites👇
👇cknwrites👇
زمیندارنی اماں گاؤں میں بڑی دیالو مشہور تھیں، اور کیوں نہ ہوتیں!اللہ کا دیا اتنا تھا کہ گھر میں سماتا نہ تھا۔ جہاں دولت کی بہتات ہو، عموماً وہاں اولاد کا کال پڑ جاتا ہے۔ عرصے تک اماں باوا دل مسوسے رہے۔پیروں فقیروں، منتوں مرادوں اور علاج معالجے سے مایوس ہو گئے تو صبر کر لیا کہ اب جو کچھ خدا نے دیا ہے، اُسے خدا کے نام پر خرچ کر دیں۔ بعد میں بھی لوگ ہی کھائیں گے، اپنے ہاتھ سے کیوں نہ کھلا جائیں۔اللہ پاک کو اپنے بندوں کی یہی ادائیں بھاتی ہیں۔ اماں کی سخاوت بھی اس کو پیاری لگی۔گاؤں میں سب اُن کو سخی زمیندارنی کہنے لگے۔ شادی کے چودہ برس بعد بالآخر ماں بننے کی خوشی نصیب ہوئی، اور دو بیٹے ہو گئے۔ ابا کو بھی بہتوں کی چاہ نہ تھی۔ ان کی سوتیلی ماں کہا کرتی تھیں:اندھے کو دو آنکھیں چاہیئے تھیں، سو مل گئیں۔
بہت ناز سے ان کی پرورش ہونے لگی۔ بیٹے چودہ اور پندرہ برس کے ہو گئے تو ایک روز زمیندارنی کے جی میں کیا سمائی کہ اب سخاوت میں کچھ کمی کرنا چاہئے۔اولاد والوں کو وراثت کی فکر ہوتی ہے۔ وارث پیدا ہو تو اثاثہ بھی رہنا چاہئے۔وہ یہ بھول گئیں کہ خدا دینے والوں کو دیتا ہے، اور ہاتھ کھینچ لینے والوں سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔اماں زمیندارنی کے ہاں ہر جمعرات کو لنگر چلتا تھا، پہلے وہ بند ہوا۔دو پرانی حویلیاں، جن میں غریب مزارعے سر چھپائے ہوئے تھے، اُن سے خالی کروا کر کرایے پر اٹھا دی گئیں۔آخر میں یتیم خانے کو وہ رقم بھی بند کر دی گئی جو چندے کے نام پر ہر ماہ دی جاتی تھی۔خدا کا دیا بہت ہے، اتنا بخل نہ کرو۔
زمیندار باوا نے سمجھانا چاہا،مگر اماں زمیندارنی بگڑ گئیں۔کہنے لگیں، اب وارث ہیں تو فضول خرچی کی کیا ضرورت ہے؟وہ بیچارے گھر میں فساد کے ڈر سے چپ ہو رہے۔نہ چاہتے تھے کہ عورت ذات سے اونچا بولیں اور لوگ سنیں۔ان کی گھر والی اب دو بیٹوں کی ماں تھی، اونچا بول بھی سکتی تھی۔اماں زمیندارنی ایک روز صحن میں بیٹھی دھوپ سینک رہی تھیں۔سردیوں کی سنہری حدت بدن کو بہت اچھی لگتی ہے۔اسی وقت در پر ایک سائل نے صدا دی:خدا تیری گود ہری بھری رکھے، میرا خالی کشکول بھر دے۔اس صدا پر وہ ہمیشہ بڑا کٹورا بھر کے خیرات دیا کرتی تھیں، مگر نجانے کیوں آج یہ صدا انہیں بے وقت کی راگنی لگی۔وہ دھوپ سینکتے اٹھنا چاہتی تھیں۔ بے دلی سے مٹھی بھر آٹا اُس گدا کے کشکول میں ڈال دیا۔کہتے ہیں، سوال کرنے والا کم تر، اور سوال رد کرنے والا اس سے بھی کم تر۔تبھی اس بی بی نے سوالی کا سوال رد نہ کیا۔سائل نے مٹھی بھر آٹا کشکول میں دیکھا تو سوچا:اس سے تو آدھی روٹی بھی نہ بنے گی۔آزردہ ہو کر بولا:ایسی خیرات ہے کہ اس سے رزق گھٹتا ہے۔ بی بی، میں اس در سے پھر کسی اور در جاؤں، تب جا کر آج ایک فقیر کی بھوک کا سامان کر پاؤں گا۔
اماں، تم تو ہمیشہ ہاتھ کھول کر آٹا دیا کرتی تھیں، آج مٹھی بند کر کے کیوں دیا؟اس بات پر اماں زمیندارنی کو غصہ آگیا۔ بولیں:اچھا، تو اب تم ہی کھانے والے رہ گئے ہو اور رزق گھٹانے والے بھی تم ہی ہو؟ خدا تیرے کھانے والے سلامت رکھے، زمیندارنی! اتنا ہی ذخیرہ کرو جو زندوں کے کام آئے۔اچھا اچھا، اب چلتے ہو؟ یہ کیسی بدعائیں دینے لگے ہو؟اُسی دم اُن کے دونوں بیٹے آگئے۔ماں کو گدا سے الجھتے دیکھا تو تیوریوں پر بل پڑ گئے۔بولے: بابا، اب جاؤ۔سائل بولا:میں تو جاتا ہوں۔ خدا تمہاری جوڑی سلامت رکھے۔ ایک بات کہوں، دل کے کانوں سے سننا —چھوٹے کو سفر پر مت جانے دینا۔یہ کہہ کر وہ تو چلتا بنا۔دیالو بی بی دو دن تک خوف زدہ رہیں،پھر سائل کی باتوں کا اثر جاتا رہا۔
یہ چاند کی بائیس تاریخ تھی۔ گھر میں کچھ راشن ختم ہو گیا۔ مالک کھیتوں کو گیا ہوا تھا، نوکر بیلی بھی ساتھ تھے۔ زمیندارنی نے بڑے بیٹے سے کہا کہ کچھ سامان لانا ہے، تم شہر جا کر لا دو۔ اس پر چھوٹے بیٹے نے کہا۔ اماں شہر مجھے جانا ہی ہے۔ سامان بتا دو، میں لیتا آؤں گا۔ چھوٹے صاحب زادے، تم نہیں جانا۔ میرا دل وحشت میں ہے۔ اس روز سائل دل میں وسوسے ڈال گیا تھا۔ دونوں لڑکے بننے لگے کہ ماں بھی کمال کی شے ہے۔ ممتا کی محبت ماؤں کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔ ان کو دیکھو، ان کا دل وحشت میں ہے؛ جب کہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو مردے کو زندہ کر دے اور اجل کو بھی ٹال دے۔ بڑے والے پاشا کو ایک دوست کے پاس جانا تھا۔ چھوٹے راج نے ماں سے بہانہ کیا کہ بھائی کے ساتھ جاتا ہوں، اونٹنی اُن کے قابو میں نہیں آتی، میں ساتھ ہو جاؤں تو سہل ہو جائے گی، تب میں واپس لوٹ آؤں گا۔
پاشا اسے لے کر چلے گئے۔ ایسا پہلے بھی ہوجاتا تھا کیونکہ اونٹنی چھوٹے راج سے زیادہ مانوس تھی۔ ماں باتوں میں آ گئی؛ یوں دونوں بھائی اکٹھے گھر سے نکل گئے۔ماں کی تاکید کو دونوں نے وہم سمجھا۔ آگے جا کر پاشا دوست کے گھر چلا گیا، جب کہ راجہ شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں خشک علاقہ آتا تھا۔ یہ دریا کا خشک تلا، صحرا جیسا پھیلاؤ ہوتا ہے اور اونٹنی اس پتلے پٹ کو ایسے طے کرتی ہے جیسے سمندر میں بحرے تیرتے ہوں۔ اس اونٹنی کا نام ریشم تھا۔ اس کی چال متوازن اور مزاج نرم و بردبار تھا؛ صبر و تحمل اس کا خاصہ تھا۔ سات برس کا بچہ بھی اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر بے فکر ہو جاتا تھا، جیسے ماں کی پشت پر سوار ہو۔ راجہ کو یہ اونٹنی بہت پیاری تھی۔ وہ اپنے مالک کے اشارے سمجھتی تھی۔ سفر ہموار رفتاری سے جاری تھا۔ گمان بھی نہ تھا کہ ریشم کا قدم کسی غلط زاویے پر پڑے گا اور وہ ٹھوک کر گِر جائے گی۔اچانک وہ اونٹنی آگے پیروں کے بل گر پڑی۔ راجہ کو زور کا جھٹکا لگا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ وہ اونٹنی نیچے گر آیا۔
اس زمانے میں پکی سڑکیں نہ تھیں؛ مسافروں کو ریت کے راستے اونٹوں پر ہی طے کرنے پڑتے تھے۔کچھ دیر تک اونٹنی اپنے مالک کے پاس کھڑی رہی۔ جب دیکھا کہ وہ اٹھتا نہیں، تو بلبلانے لگی۔ تبھی پاس سے گزرتے ایک مسافر کی نظر پڑی۔ وہ اس جانب متوجہ ہوا۔ سوار کو مردہ اور اونٹنی کو غم سے نڈھال پایا۔ مسافر کو گھر جانے کی جلدی تھی، مگر رحمِ انسانی نے اسے روک دیا۔ اپنی مجبوری اسے روکے رکھتی تھی۔ وہ چند قدم آگے جا کر رک گیا اور سوچنے لگا کہ اس دشت میں کب کسی اور مسافر کا گزر ہوگا۔ کیا خبر کب تک یہ بدنصیب ویرانے میں پڑا رہے گا، رات کو جانور لاش کو نوچ ڈالیں گے۔ جانے کون ہے، کیوں اپنی منزل کھو دوں؟ کس سے اس کے گھر کا پتہ پوچھوں، اور اونٹنی تو بے زبان ہے۔ اس سے کیا پوچھوں؟ یہ کسی کو کیا بتا پائے گی؟سوچتے سوچتے اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ اس نے راجہ کے بےجان جسم کو اونٹنی کی کمر پر لاد کر رسی سے باندھ دیا اور کہا: جا، صحرا کی شہزادی جس طرف ہے، اسی نگر کو چل۔ مجھے بھی دور جانا ہے۔ تیرا مالک تیری کمر پر ہے، اپنی منزل ڈھونڈ لے گا۔ یہ کہہ کر وہ اپنی راہ ہو لیا اور یہ اپنے گھر کو پلٹی۔رات کے دوسرے پہر واپس آگئی اور گیٹ پر کھڑی پاؤں مارنے لگی۔
اس کے گلے میں گھنٹی اور پاؤں میں جھانجھر تھیں۔ گھنگرو بولے تو پاشا کی آنکھ کھل گئی۔ خیال آیا، چھوٹا بھائی واپس آگیا ہے۔سوچا، اماں کی نیند خراب نہ ہو، یہ سوچ کر وہ جلدی سے پھاٹک پر پہنچا اور اُسے کھول دیا۔اونٹنی اندر آگئی تو نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا:راجہ، تم آگئے ہو؟ تیرے انتظار میں اماں کی آنکھ ابھی لگی ہے، آواز نہ کرنا۔اور یہ جانے بغیر کہ بھائی نے جواب کیوں نہیں دیا، وہ دھم سے بستر پر لیٹ کر پھر سو گیا۔اونٹنی چھپر تلے خاموشی سے جا کر بیٹھ گئی۔اس نے بھی آدھی رات کو اتنی بری خبر مالکوں کو دینے سے گریز کیا۔سارا بوجھ اپنے بدن پر لیے، وہ گونگی بنی رات بھر بیٹھی رہی۔یہ رات بڑی اندھیری تھی، جاڑا بھی خوب پڑا تھا۔اونٹنی دو تین بار ہلی جُلی، تھوڑی سی آواز بھی نکالی، مبادا اس کا پیارا مالک، جو اس کی پشت پر محوِ خواب ہے، بے آرام ہو جائے۔رات بھر وہ جاگتی رہی اور صبح کا انتظار کرتی رہی۔کسی غمزدہ ماں کی طرح راجہ کے مردہ جسم کو اپنے وجود سے لپٹائے بیٹھی رہی۔صبح ہوئی، پرند چرند بھی نہ جاگے تھے کہ ماں اُٹھ گئی۔نماز اور دعا سے فارغ ہو کر صحن میں آئی تو دیکھا، اونٹنی چھپر تلے موجود ہے اور راجہ اس کے جسم سے بندھا ہوا، ریشم کی پشت پر اوندھے منہ محوِ خواب ہے۔
زمیندارنی کفِ افسوس ملنے لگی اور پاشا کو پکار کر فریاد کرنے لگی:تو نے بھائی سے دھوکا کیا! میں نے تجھے بھیجا تھا، اور تو نے تھل کا صحرا پار کرنے کو اُسے بھیج دیا۔فقیر کا کہا سچ ثابت ہوا۔ تم تو کہتے تھے کہ یہ وسوسہ ہے۔پاشا ماں کے رونے کی آواز سن کر جاگ گیا اور کمرے سے باہر آیا۔چھپر تلے ماں کو روتا دیکھا تو دوڑ کر قریب پہنچا۔ تب غمزدہ اونٹنی کو بھی روتے پایا۔ اس کے منہ سے چہرہ رگڑتے ہوئے بولا:یہ سب باتیں وسوسے ہی ہوتی ہیں، ماں!یہ کہو، قضا آئی تھی، سو آ کر لے گئی ہمارے راجہ کو۔میرا یقین نہ ہو تو اسی اونٹنی سے پوچھ لو۔ میں نے کتنا راجہ کو منع کیا تھا کہ مت جاؤ،مگر وہ نہیں مانا۔روزِ اوّل سے جو لکھا تھا، وہ پورا ہو کر رہا۔
.jpg)