اندھیری رات کا راز

Sublimegate Urdu Stories

میں اور میری بہن فوزیہ بہت چھوٹے تھے جب ہماری والدہ کا انتقال ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد والد نے ہماری خاطر ہماری مرحومہ ماں کی ایک دور کی رشتہ دار (کزن) سے دوسری شادی کر لی۔یہ ماں یوں تو بہت اچھی تھی، لیکن ابا سے بات بے بات جھگڑتی رہتی تھی۔ ہم دونوں بہنیں سہم جاتی تھیں، حالانکہ ہمارے والد بہت نیک اور شریف انسان تھے۔ محلے والے ان کی عزت کرتے تھے اور کوئی بھی ان کے بارے میں برا نہیں کہتا تھا۔ابا ہماری وجہ سے اس عورت کی زیادتیوں پر چپ رہ جاتے، کیونکہ وہ شوہر سے ضرور جھگڑتی تھی، مگر ہم سے پیار بھرا سلوک رکھتی تھی۔ وہ ہمارا خیال اس طرح رکھتی کہ ہمیں اپنی سگی ماں کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ان دنوں میں چوتھی جماعت میں اور میری بہن دوسری جماعت میں پڑھتی تھی۔
cknwrites
 سوتیلی امی کے دونوں بچے ابھی چھوٹے تھے۔ ابا جو بھی کماتے، ماں کے ہاتھ پر لا کر رکھ دیتے، مگر وہ روز واویلا کرتی کہ تم بہت کم کماتے ہو، اس طرح گھر کا گزارا نہیں چلتا۔ابا غریب ضرور تھے، لیکن ہم سے بہت پیار کرتے تھے۔ وہ کبھی خالی ہاتھ گھر نہیں آتے تھے۔ جب بھی شام ڈھلے لوٹتے، ان کے ہاتھ میں ہمارے کھانے پینے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا۔ اگر جیب میں رقم نہ ہوتی تب بھی فروٹ والے سے اُدھار لے کر کچھ نہ کچھ ضرور لاتے تاکہ ان کے آنے سے ہمیں خوشی کا احساس ہو۔بتاتی چلوں کہ کچھ عرصہ قبل ہماری تائی فوت ہو گئی تھیں۔ تایا کو روٹی پکا کر دینے والا کوئی نہ رہا، تو ابا اُنہیں بھی گھر لے آئے تاکہ وہ اکیلے اپنے گھر میں نہ رہیں۔

ان کا ایک بیٹا تھا جو غیر قانونی طور پر لانچ کے ذریعے دبئی کمانے گیا تھا۔ وہاں پکڑا گیا اور اسے جیل ہو گئی۔ اسی وجہ سے تایا افسردہ رہتے تھے۔ وہ ہم سے بہت پیار کرتے تھے، اس لیے ہم ان کے اپنے گھر آجانے سے خوش تھے، لیکن ماں خوش نہ تھی، تاہم ابا کی وجہ سے مجبور تھی۔تایا کے آنے کے ایک سال بعد ان کا بیٹا، دلدار، دبئی سے کسی طرح رہائی پا کر واپس آ گیا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ رہنے لگا۔ دلدار یہاں مزدوری کرتا تھا، کبھی کام مل جاتا، کبھی نہیں، تو وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہتا۔ایک دن میں اسکول سے گھر آئی تو دیکھا کہ دلدار میری ماں کو مار رہا ہے۔ مجھ سے یہ منظر برداشت نہ ہوا۔ ہم دونوں بہنیں رونے لگیں۔ والد نے تو کبھی ماں کو نہیں مارا تھا، وہ تو جھڑکی تک نہیں دیتے تھے۔ 

اس لیے یہ تشدد ہمارے لیے ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ہم بہنیں شور مچانے لگیں تو دلدار گھر سے نکل گیا، جبکہ ماں تایا کے آگے ہاتھ جوڑ کر منت کرنے لگی:بڑے بھائی! اب میری لاج آپ کے ہاتھ میں ہے۔ کمال کو کچھ مت بتائیے گا، ورنہ میرے بچے در بدر ہو جائیں گے یا مجھ سے جدا کر دیے جائیں گے۔تایا غصے میں تھے۔ بولے:اب احتیاط کرنا، دوبارہ ایسی کوئی غلطی مت کرنا۔ اس بار تمہاری لاج رکھ لی ہے، لیکن دلدار کی ضمانت نہیں دیتا۔ نوجوان خون ہے، کیا جانے کیا کر گزرے۔ اب کسی سے ناتہ مت رکھنا۔تایا اور امی کی باتیں ہماری سمجھ سے باہر تھیں۔ اکثر امی ہانڈی میں نمک تیز کر دیتی تھیں، جبکہ تایا کو بلڈ پریشر کی شکایت تھی، تو ابا اور دلدار اماں کو منع کرتے کہ سالن میں نمک مرچ کم رکھا کرو، ہم بعد میں ڈال لیں گے۔ میں سمجھی کہ آج بھی ماں نے اپنی پسند سے ہانڈی بنائی ہوگی، تبھی دلدار کو غصہ آگیا ہے، اور تایا اسی وجہ سے اماں کو آئندہ احتیاط سے سالن بنانے کا کہہ رہے ہیں۔

ماں نے ہمیں روتے دیکھا تو پیار سے مجھے اور اپنے بچوں کو چپ کرا دیا۔ میں سب سے بڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی نرگس دیکھو یہ بات اپنے باپ کو مت بتانا کہ دلدار نے مجھے مارا ہے ورنہ وہ غصے میں آ کر جھگڑا کرے گا۔ پولیس آ جائے گی اور تمہارے ابا کو پکڑ کر بھانے میں بند کر دے گی۔میں ڈر گئی۔ ٹھیک ہے اماں، ابا سے کچھ نہیں کہوں گی۔ مگر فوزی کو بھی سمجھا دو۔ ماں نے اسے بھی سمجھا دیا اور مٹھائی کھانے کو دے دی۔کچھ دن گزرے تو دلدار کی نوکری ہو گئی۔ وہ کسی کمپنی میں رات کا چوکیدار بن گیا۔ وہاں تنخواہ اچھی تھی، اس لیے اس نے میرے والد کو بھی چوکیدار لگوا دیا۔ اب ابا اور دلدار شام کو چوکیداری کے لیے چلے جاتے اور گھر میں تایا رہ جاتے۔ایک روز ماں نے مجھ سے کہا کہ بیٹی تم اپنی بہن اور دونوں چھوٹے بھائیوں کو لے کر نانا کے گھر چلی جاؤ، کہنا کہ آج گھر میں آٹا نہیں ہے۔ 

شام تک وہیں رہنا۔ تمہارے تایا بھی اپنے گھر روپے لینے گئے ہیں۔ اس لیے تم لوگ وہیں کھانا کھا لینا اور شام کو نانا سے کچھ راشن لے آنا کیونکہ تمہارے ابا گھر نہیں آئے۔ شاید وہ نیند پوری کرنے کے لیے کہیں جا کر سو گئے ہیں۔ دن میں تم لوگ شور مچاتے ہو، وہ ٹھیک طرح سو نہیں پاتے۔امی کے کہنے پر میں فوزی اور دونوں چھوٹے بھائیوں کو لے کر اپنی سوتیلی نانی کے گھر چلی گئی۔ جیسے ماں نے کہا تھا ویسا ہی ان سے کہا، اور تمام دن ہم نانی کے پاس رہے۔ نانی نے ہمیں شام کو بھی کھانا کھلایا اور کچھ کھانا اور رقم بھی ساتھ دے دی کہ ماں کو دینا۔رات کو جب ابا گھر آئے تو میرے بھائی نے معصومیت سے بتا دیا کہ ہم آج نانا کے گھر گئے تھے کیونکہ گھر میں آٹا نہیں تھا۔ ہم نے کھانا بھی وہیں کھایا۔ نانی نے بہت مزے دار سالن دیا اور روپے بھی دیے۔یہ سن کر والد امی پر خفا ہوئے۔ بولے کہ میں نے کل ہی ہزار روپیہ دیا تھا، تم نے آٹا کیوں نہیں منگوایا۔ وہ بولی کہ تایا گھر چلے گئے تھے، اور دلدار بھی نہیں تھا، کس سے منگواتی۔ خیر، معاملہ رفع دفع ہو گیا۔دس دن گزرے تھے کہ تایا اپنے گھر کی دیکھ بھال کے لیے ایک روز کو گاؤں چلے گئے۔

ان کے جانے کے بعد جب دلدار اور ابا ڈیوٹی پر روانہ ہو گئے تو ماں ہمیں نانا کے دروازے پر چھوڑ کر چلی گئی۔ مجھ سے کہا کہ تمہارے ابا کے دوست کا انتقال ہو گیا ہے۔ آج رات وہ اور میں نزدیکی گاؤں جا رہے ہیں۔ نانی کو بتا دینا، میں صبح تمہیں لینے آؤں گی۔ رات وہیں سو جانا۔ہم نے نانی کو یہی بتایا۔ انہوں نے ہمیں کھانا کھلا کر سلا دیا۔ صبح سات بجے ماں ہمیں نانی کے گھر سے لے گئی۔ہم بچے تھے، سمجھ نہیں پاتے تھے کہ ماں ایسا کیوں کرتی ہے۔ تاہم، وہ ہفتے پندرہ دن بعد جب موقع ملتا، ہمیں کبھی نانا، کبھی ماموں اور کبھی خالہ کے گھر سارے دن یا کبھی ساری رات کے لیے چھوڑ آتی۔ صرف سب سے چھوٹے بیٹے کو، جو بالکل ناسمجھ تھا، اپنے پاس رکھتی۔ ہم ڈر کی وجہ سے ابا کو کچھ نہیں بتاتے کہ گھر میں جھگڑا ہوگا۔ ابا اور اماں کی لڑائی ہونے سے ہمارا سکون خراب ہوتا تھا۔ایک سال یوں ہی گزر گیا۔ ابا کام پر چلے جاتے اور اماں ہمیں نانا یا ماموں کے گھر بھیج دیتی۔ حالانکہ ابا ساری کمائی ان کے ہاتھ پر رکھتے، مگر وہ خوش نہ ہوتی۔ وہ ماں کو نئے کپڑے اور جوتے لا کر دیتے، تب بھی وہ محلے کی عورتوں سے شوہر کا گلہ کرتی رہتی۔اماں ابا سے نہیں ڈرتی تھی، لیکن اپنے تایا اور دلدار سے ڈرتی تھی۔ وہ ابا سے کہتی کہ ان کو کہو اپنے گھر جا کر رہیں۔

 یہ ہمارے گھر کا سکون خراب کرتے ہیں۔ وہ ابا سے ایسا کہتی رہتی، مگر تایا اور دلدار کا خیال اپنے شوہر سے زیادہ رکھتی اور ان کی خوشامد کرتی۔ وہ رقم مانگ لیتے تو فوراً دے دیتی۔بالآخر ایک دن والد نے یہ بات محسوس کر لی اور تایا سے کہا کہ اب آپ لوگ اپنے گھر چلے جائیں۔ آپ کے رہنے سے میری بیوی کو تکلیف ہوتی ہے اور ہمارے گھر کا سکون خراب ہوتا ہے۔اس بات کا ان دونوں نے بہت برا مانا اور میری ماں سے کہا کہ ہم اس بات کا تم سے ضرور بدلہ لیں گے، کیونکہ تم نے ہی کمال سے کہہ کر ہمیں اپنے گھر سے نکلوایا ہے۔وہ چلے گئے، اور ابا بھی رات کو ڈیوٹی پر چلے گئے۔ آدھی رات کو کسی کی ہائے پر میری آنکھ کھل گئی۔ میں چارپائی پر اٹھ بیٹھی۔ سوچا، ابا تو گھر میں نہیں ہیں، تایا اور دلدار بھی جا چکے ہیں، پھر یہ کس کی کراہ تھی؟ یہ کسی مرد کی آواز تھی۔ ہمارے گھر میں اور تو کوئی مرد نہیں تھا۔ نیند میں تھی، سوچا شاید خواب دیکھ لیا ہے۔ دوبارہ لیٹ گئی اور نیند کی آغوش میں چلی گئی۔صبح ہوئی تو اماں نے بتایا کہ تمہارے ابا دبئی چلے گئے ہیں، کیونکہ یہاں انہیں تنخواہ اب کم ملتی تھی۔ ان پر بہت لوگوں کا قرضہ تھا۔ اب وہ دبئی سے کما کر بھیجیں گے تو ہمارا قرضہ بھی اتر جائے گا اور ہم امیر ہو جائیں گے۔میں تب بارہ سال کی تھی۔ یہی سمجھتی رہی کہ ہمارا باپ دبئی کمانے گیا ہوا ہے۔ اکثر ہم بچے پوچھتے کہ اماں، ہمارا باپ کب آئے گا۔ وہ ٹال مٹول کر دیتی۔ اس دوران ماں خوش باش رہتی۔ ہم نے کبھی اسے اداس نہیں دیکھا۔

تایا اور دلدار تو اس طرح ناراض ہو کر گئے کہ دوبارہ نہ آئے، لیکن ایک دن دلدار آیا اور ماں سے جھگڑنے لگا کہ سچ بتا کو میرا چچا کہاں گیا ہے ؟ وہ ہر گز دبئی نہیں گیا، تم جھوٹ بولتی ہو۔ تب ماں نے کہا کہ میں اپنے باپ کو بتا دوں گی کہ تم نے میرا زیور مجھ سے ہتھیا لیا ہے اور بہانے سے روپے بھی لیتے تھے۔ تنگ آکر میں نے اپنے خاوند کو بتا دیا تو تم نے اس کو نجانے کہاں غائب کروا دیا ہے۔اس بات سے دلدار اس قدر آگ بگولہ ہوا کہ میری ماں پر چھری نکال لی۔ ہم چاروں بچے زور سے چیخنے اور چلانے لگے کہ وہ ڈر گیا کہیں ہمارے شور پر پڑوسی نہ آجائیں۔ وہ اس وقت تو گھر سے چلا گیا لیکن جاتے ہوئے کہا گیا کہ میں تمہارابھانڈا ضرور پھوڑوں گا۔ اگر تم نے میرے چچا کے بارے میں نہ بتایا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ رات کے وقت ایک بار پھر اس کی ڈرائونی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے لگا کوئی بہت تکلیف سے کرا رہا ہے۔ میں دوسرے کمرے میں تھی۔ میں نے اماں اماں کہہ کر امی کو پکارا۔ وہ دوڑ کر میرے پاس آئی اور میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی۔ چپ ہو جا۔ سو جا، کچھ نہیں ہے۔ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ آنکھیں بند کرلے۔ 
رات کا ایک بجا تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ چلی گئی۔ اب میں سمجھ دار ہو گئی تھی۔ محسوس کر لیا کہ ہمارے گھر کوئی غیر معمولی معاملہ ہے۔ صبح میں نانا کے گھر چلی گئی اور ان کو ساری بات بتائی۔ وہ پریشان ہو گئے۔ ہمارے گھر آئے۔ ماں پریشان بیٹھی تھی۔ انہوں نے کچھ پیار سے کچھ رعب سے پوچھ کیا ہوا ہے ؟ تب ماں نے بتایا کہ رات تایا اور دلدار آئے تھے ، انہوں نے نادر کو قتل کر دیا ہے۔نادر اماں کا خالہ زادتھا۔ یہ سن کر نانا پریشان ہو گئے۔ وہ اماں کو دوسرے کمرے میں لے گئے ، باقی احوال انہوں نے بیٹی سے اکیلے میں پوچھا۔ میں دروازے سے کان لگائے تھی۔ وہ کہہ رہے تھے تو نے کیوں نادر کو بلایا۔ اگر یہ سب تیرے سامنے ہوا ہے تو سمجھ لے کہ تیری جان بھی خطرے میں ہے۔ وہ تجھ کو بھی کسی دن مار جائیں گے۔ وہ بیٹی کو اور ہمیں اپنے گھر لے آئے اور نجانے کس اندیشے کے سبب انہوں نے امی کو بتائے بغیر پولیس میں جا کر یہ رپٹ لکھوادی کہ میرا داماد پردیس گیا ہوا ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں اس کا بڑا بھائی اور دلدار میری بیٹی کے گھر آدھی رات کو آئے تھے۔

نجانے کس نیت سے جب کہ ان کی میرے داماد سے ناراضگی چل رہی تھی۔ لہذا میری بیٹی اور اس کے بچوں کی جان کا تحفظ کیا جائے۔ یہ نانا کی نادانی یا بھول تھی یا بڑھاپے سے مغلوب خوفزدہ ہو کر تھانے گئے۔ اگلے دن تھانیدار نے تایا اور دلدار کو بلا کر تفتیش کی تو انہوں نے جو کہا وہ بیان کے مقابل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس عورت رفعت (میری ماں) کے اپنے خالہ زاد نادر سے مراسم شادی سے قبل تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے مگر بڑوں نے نہ ہونے دی اور رفعت کی شادی کمال دین سے ہو گئی۔ رفعت شادی کے بعد بھی نادر سے ملتی تھی۔ جس کا علم دلدار کو ہو گیا۔ اس نے اپنی چچی کو مارا اور اس امر سے باز رہنے کو کہا مگر وہ باز نہ آئی اور اپنے شوہر کمال دین کو دھوکا دیتی رہی اور تایا اور دلدار سے خوشامد کرتی کہ میرے شوہر کو مت بتانا ورنہ میں برباد ہو جائوں گی۔ اس نے اسی سبب ہم دونوں کو کمال دین سے کہہ کر اپنے گھر سے نکلوا دیا تا کہ جب شوہر گھر پر موجود نہ ہو، وہ اپنے خالہ زاد سے مل سکے۔ اس اثناء میں کمال دین غائب ہو گیا۔ ایک دن وہ ڈیوٹی سے جلدی گھر چلا گیا اور اس کے بعد دوبارہ نہ آیا۔ تب تشویش ہوئی ، رفعت سے پوچھا۔ وہ کہتی تھی کہ دبئی گیا ہے۔ شک کی بنا پر ایک رات ہم دونوں باپ بیٹا آدھی رات کو اس کے گھر دیوار پھلانگ کر گئے تو نادر کو وہاں موجود پایا۔
 تب ہم نے غیرت کی وجہ سے اسے گلا دبا کر قتل کر دیا اور لاش کو صحن میں دبا دیا۔ ہم اپنے کیے کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اب مگر اس عورت سے پوچھا جائے کہ اس کا شوہر کہاں ہے ؟ پولیس نانا کے گھر آئی اور میری ماں کو گرفتار کر کے لے گئی۔ تفتیش کی تو پتا چلا کہ اس نے نادر کے ساتھ مل کر ایک رات ابا کو اسی طرح گلا دبا کر مارا اور صحن میں دفنا دیا اور یہ بات پھیلادی کہ کمال دین کمانے چلا گیا ہے۔ تاہم دلدار کو شک رہا اور وہ اسی سبب ایک رات کو ہمارے گھر گیا اور وہاں نادر کو دیکھا تو اس نے بھی ویسے ہی نادر کے ساتھ کیا جو نادر اور رفعت نے کمال کے ساتھ کیا تھا۔ پولیس نے صحن کھودا تو ایک نہیں، دو افراد کی لاش برآمد ہوئی ۔ مقدمہ چلا نانا نے اماں کو بچانے کی کوشش میں وکیل کیا اور اپنا مکان بیچ کر روپیہ بہایا لیکن وہ بیٹی کو نہ بچا سکے۔ اماں کو عمر قید ہو گئی جبکہ تایا اور ان کے بیٹے کو پھانسی ہو گئی۔ یوں وہ راز ایک بھیانک انجام کی صورت میں گھل گیا جو عرصہ تک میرے اندر گھٹن اور تکلیف بن کر میرے دل کو کھاتا رہتا تھا۔ یہ وہ دکھ کہ جسے نہ میں بھلا سکتی تھی۔ اس کے بعد ہماری زندگی کے روز و شب کیسے گزرے اور ہم پر بڑے ہونے تک کیا گزری ، یہ ایک الگ داستان ہے۔ لیکن یہ میرے زندگی کا ایک ایسا واقعہ ہے جسے مرتے دم تک نہ بھلا سکوں گی۔

(ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ