شیطانی ٹوٹکا

Sublimegate Urdu Stories

خالدہ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایک دن ایک فقیرنی نے اسے اک ایسا شیطانی ٹوٹکا بتایا جس سے وہ ماں بن سکتی تھی۔ اگر خالدہ کو تین برس کے پہلوٹی کے بچے کی قربانی کرنا ہو گی۔  بچے کو ریل کی پٹری پر لٹانا ہو گا۔ اوپر سے ریل گزر گئی تو خالدہ کی مراد پوری ہو جائے گی، اور اگر بچ نہ پایا تو بھی اس کی قربانی سےخالدہ کواولاد ہو جائے گی۔ آخر کا اک ہمسائی کا بچہ اس کے نظر میں آ گیا۔
👇cknwrites👇
خالدہ ایک دلچسپ عورت تھی لیکن غصے کی ذرا تیز تھی۔ میرے پڑوس میں دائیں طرف کا مکان خالی پڑا تھا اور خالدہ بائیں طرف والے مکان میں کرایہ دار بن کر آئی تھی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ چلو کوئی تو پڑوسی آئے اور ویران گھر آباد ہوا۔ بغیر پڑوسیوں کے بھی جیون سونا سونا رہتا ہے۔ ہمائے ماں جائے یونہی نہیں کہلاتے۔ پڑوسی اچھے ہوں تو ان سے بڑی ڈھارس رہتی ہے۔ بال بچے دار ہوں تو رونق دوگنی ہو جاتی ہے۔ خالدہ بے اولاد تھی مگر بھانجے کو گود لے کر اس نے اولاد کی کمی پوری کر لی تھی۔ اس کے بھانجے کا نام یحییٰ سجاد تھا۔ وہ میرے بلاول کا ہم عمر تھا۔ دونوں کی عمریں لگ بھگ تین برس ہوں گی۔ تبھی سجاد روز ہمارے گھر آ جاتا اور دونوں بچے لان میں کھیلتے رہتے۔بعض اوقات بچوں کی وجہ سے پڑوسیوں سے زیادہ انسیت ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ فرشتے بڑوں کو آپس میں ملاتے ہیں، رنجشیں اور کدورتیں دور ہو جاتی ہیں۔ چونکہ بچے زیادہ دیر تک روٹھے نہیں رہ سکتے اور نہ ایک دوسرے کے بغیر کھیل سکتے ہیں۔ 

سجاد اور بلاول میں اکثر کھیل کھیل میں لڑائی ہو جاتی مگر تھوڑی دیر بعد دوبارہ گھل مل جاتے اور پھر کھیلنے لگتے۔ تب مجھے یقین ہوتا کہ بچوں کو فرشتہ کہنا بالکل ٹھیک ہے۔ان کی روز کی لڑائی کوئی نئی بات نہ تھی۔ اس روز بھی گیند پر لڑائی ہو گئی۔ گیند کہیں سے اچھل کر ہمارے گھر آپڑی تھی۔ دونوں ہی اس کی طرف لپکے۔ بلاول نے دوڑ کر گیند اٹھا لی۔ سجاد نے کہا: مجھے دو، یہ میری ہے۔ بلاول بولا: نہیں، یہ میری ہے۔ جب میرے سمجھانے پر بھی انہوں نے جھگڑا بند نہ کیا تو میں نے گیند اٹھا کر گلی میں پھینک دی اور کہا کہ یہ تم دونوں کی نہیں۔ باہر گلی میں جو لڑکے کھیل رہے ہیں، یہ ان کی ہے۔ واپس ان بچوں کو دینی چاہیے۔ اس طرح کسی کی چیز کو اپنا کہنا بری بات ہے۔

تم دونوں کے پاس اپنی گیندیں ہیں، انہی سے کھیلو۔ابھی میں بچوں سے بات ہی کر رہی تھی کہ خالدہ آگئی۔ اس نے معاملہ سن کر تکرار شروع کر دی کہ تم عجیب ماں ہو، اپنے بچوں سے گیند چھین کر باہر پھینک دی۔ میں نے اسے بھی سمجھانا چاہا مگر وہ بگڑتی چلی گئی۔ بات بڑھ گئی اور وہ خوب لڑی۔ پھر سجاد کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتی ہوئی لے گئی۔ جاتے جاتے کہنے لگی: خبردار! اب کبھی بلاول کے ساتھ نہ کھیلنا۔ ادھر کا رخ کیا تو جان سے مار دوں گی۔ بلاول کو بھی دھمکایا کہ اگر تم ہمارے گھر آئے تو تمہاری ایسی درگت بناؤں گی کہ یاد رکھو گے۔ خالدہ کے اس روپ پر میں حیران رہ گئی۔ سوچا بھی نہ تھا کہ وہ ایسی بد تہذیبی دکھائے گی۔ میں تو اسے ایک اچھی پڑوسن سمجھتی تھی۔ تاہم سوچا کہ وقتی غصہ ہے، دو چار روز میں خود ہی ٹھنڈا ہو جائے گا۔ ورنہ میں جا کر منا لوں گی۔ 

ہفتہ گزرا، پندرہ روز، ایک ماہ گزر گیا۔ حیرت تھی کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے سجاد کو بھی ہمارے گھر آنے نہ دیا۔ مجھ سے بول چال بالکل بند کر دی۔آخرکار میرے شوہر اس کے خاوند کے پاس گئے اور کہا: بھابی ناراض ہو گئی ہیں تو میں معافی مانگنے آیا ہوں۔ میری بیوی بھی آکر معذرت کر لے گی۔ بچوں کی بات پر ہمسائیوں میں ایسا بغض و عناد نہیں چلتا۔ شوہر کے سمجھانے سے وہ مان تو گئی اور دوبارہ ہمارا آنا جانا بھی شروع ہو گیا۔ میں تو جھگڑا بھول گئی، مگر اس خبیث عورت کے دل میں جانے کیسا کانٹا چبھ گیا تھا کہ بیر پال کر بیٹھ گئی۔ہم اس محلے میں برسوں سے رہتے آئے تھے۔ خالدہ نئی تھی۔ دیوار شریک ہونے کے سبب میں نے خود اس سے میل جول بڑھایا تھا۔ سوچا تھا کہ ساتھ رہتے ہیں تو آڑے وقت میں ایک دوسرے کے کام آئیں گے۔ شروع میں وہ نہایت مہذب اور خوش اخلاق لگی تھی۔ مجھے اس میں کوئی چالاکی یا بد مزاجی نظر نہیں آئی۔ دل کو اچھی لگی۔ دعا کی کہ ہم سے یہ بن جائے۔ اگر روٹھی بھی تو مان جائے گی۔

اول تو خدا وہ وقت نہ لائے کہ پڑوسیوں میں ان بن ہو اور روٹھنے کی نوبت آئے۔ خالدہ نے بھانجے کو پالا تھا، مگر تھی تو بے اولاد، اسی لیے میں اس کا زیادہ خیال رکھتی تھی۔ اس کی دل آزاری نہیں کرتی تھی۔ وہ علاج کرا کرا کر تھک چکی تھی۔ شادی کو آٹھ برس گزر چکے تھے مگر اولاد کی نعمت سے محروم رہی۔ اب پیروں، فقیروں کے چکر لگاتی تھی۔جو کہتے ہیں کہ جب تک سانس، تب تک آس بالکل درست ہے۔ ایک دن ایک منحوس فقیری عورت ادھر آنکلی۔ خالدہ نے گیٹ کھولا۔ فقیرنی دعائیں دینے لگی: خدا کرے تیرے بچے جئیں۔ بے اختیار خالدہ کے منہ سے نکلا: بچے ہوں گے تو جئیں گے نا…! ضرور ہوں گے۔ کوئی ٹوٹکا ہے تو بتا دو؟خالدہ نے کہا: ضرور کروں گی۔ اولاد کس کو نہیں چاہیے۔ اولاد ہو گئی تو تیرا منہ موتیوں سے بھر دوں گی، ٹوٹکا بتا دے۔اس عورت نے کہا: تین برس کے پہلوٹی کے بچے کی قربانی کرنا ہو گی۔ وہ کیسے؟ بچے کو ریل کی پٹری پر لٹا دینا۔ اوپر سے ریل گزر گئی تو بھی تیری مراد پوری ہو جائے گی، اور اگر بچ نہ پایا تو بھی اس کی قربانی سے تجھے اولاد ہو جائے گی۔ یہ آسان ٹوٹکا ہے۔ اس طرح تجھے اپنے ہاتھوں کسی معصوم کا خون نہیں بہانا پڑے گا۔ آگے اس کی مرضی، مگر قربانی قبول ہو جائے گی۔
 یہ شیطانی شوشہ چھوڑ کر وہ مخبوط الحواس چند روپے مٹھی میں لے کر چلتی بنی۔ مگر خالدہ کا شیطانی ذہن میرے بلاول کی طرف گیا۔ رات کے وقت جب میں کچن میں کھانا بنا کر فارغ ہوئی تو بلاول کا خیال آیا۔ گیٹ بند تھا اور نہ مجھے لگا کہ وہ سجاد کے گھر کھیلنے چلا گیا ہوگا۔ دیوار کے پاس گئی اور آواز دی، کوئی جواب نہ ملا۔ پھر خالدہ کو فون کیا، اس نے بھی فون نہ اٹھایا۔ میں پریشان ہو گئی۔ اس کے گھر گئی تو گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا۔ ابھی میں شش و پنج میں تھی کہ خالدہ سامنے سے آتی دکھائی دی۔ سجاد اس کے ساتھ نہیں تھا۔ مجھے پریشان پاکر پوچھنے لگی: کیوں پریشان کھڑی ہو؟میں نے کہا: شام کو بلاول اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا، اب گھر میں نہیں ہے۔ سارا گھر دیکھ لیا ہے۔ تم سے معلوم کرنے نکلی ہوں۔ یہاں بھی تالا لگا دیکھا تو دل بیٹھ گیا۔ نجانے میرا بلاول کہاں چلا گیا ہے۔کہنے لگی: تم بھی ہر وقت کچن میں لگی رہتی ہو، بچے پر دھیان ہی نہیں رکھتیں۔ کہیں گیٹ کھول کر باہر نہ نکل گیا ہو۔میں نے کہا: وہ کہیں اور نہیں جاتا سوائے تمہارے گھر کے۔ سجاد سے کھیلنے جاتا ہے تو پہلے مجھے بتاتا ہے۔ میں گیٹ کھول دیتی ہوں تب ہی وہ تمہارے گیٹ تک جاتا ہے۔ مگر آج تو ایسے غائب ہوا ہے کہ سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔میں نے پوچھا: بھائی عارف کو فون کیا ہے؟کہنے لگی: ہاں، کیا ہے۔

میرے بھائی لاہور سے آنے والے تھے۔ وہ ان کو لینے اسٹیشن گئے ہیں۔ شالیمار آج لیٹ ہو گئی ہے۔ آٹھ نو بجے تک آ جانی چاہیے تھی مگر ابھی تک نہیں آئی۔ اب گیارہ بجنے کو ہیں اور میں آٹھ بجے سے بلاول کو ڈھونڈ رہی ہوں۔اچانک مجھے سجاد یاد آیا۔ میں نے پوچھا: سجاد تمہارے ساتھ نہیں ہے؟بولی: میں صبح سے بہن کے گھر گئی ہوئی تھی۔ آج سجاد وہیں رک گیا ہے۔ اس کا دل ان کے بچوں میں لگ رہا تھا تو میں نے اسے وہیں رہنے دیا۔میرا دل بند ہونے لگا کہ اسی وقت ہماری گاڑی گیٹ کے سامنے آکر رکی۔ عارف کے ساتھ میرے بھائی اور بلاول بھی تھا۔ وہ غنودگی میں تھا۔ بھائی جان نے اسے بازوؤں میں اٹھا رکھا تھا۔ 

میں حیران رہ گئی کہ عارف تو میرے سامنے اکیلے گئے تھے، یہ بلاول کہاں سے آ گیا؟گھر آکر انہوں نے بتایا کہ اسٹیشن کی حدود ختم ہونے کے بعد کچھ آگے ویرانے میں کسی نے بلاول کو ریل کی پٹری پر پھینک دیا تھا۔ وہ بے ہوش تھا۔ وہاں اندھیرا تھا، لیکن ریلوے کا ایک ملازم اس طرف کہیں گشت کر رہا تھا۔ اس کی نظر بچے پر پڑی اور ریل کے آنے سے چند منٹ قبل اس نے بلاول کو وہاں سے اٹھا لیا۔ اسے اسٹیشن ماسٹر کے کمرے میں لایا۔جب ہم اسٹیشن پر کھڑے تھے تو اعلان ہوا کہ ایک بچہ ریل کی پٹری پر بے ہوش ملا ہے۔ تجسس کے باعث ہم وہاں گئے تو دیکھا کہ وہ بلاول ہے۔ اسے اپنی تحویل میں لینے کی قانونی کارروائی کی وجہ سے دیر ہو گئی۔
 والٹ میں اس کی تصویر میں نے لگائی ہوئی تھی، وہ کام آگئی اور ہم اسے لے آئے۔ بعد میں عقدہ تب کھلا جب بلاول ہوش میں آیا۔ اس نے بتایا کہ جب میں آنٹی کے گھر سجاد سے کھیلنے گیا، انہوں نے مجھے مٹھائی دی تھی۔ پھر مجھے نیند آ گئی۔اس کے بعد کی کہانی بچے کو کیا یاد رہتی؟ وہ تو بے ہوش ہو چکا تھا۔ خالدہ نے سوچا: مر گیا تو مر گیا، نہیں مرا تو ریلوے کے ہجوم میں کھو جائے گا۔ جو بھی اٹھائے گا، لے جائے گا۔ خدا جانے اس نے کیا سوچا تھا۔ بہرحال وہ مردود عورت اگلے روز گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ انہوں نے یہ کرائے کا مکان بھی خالی کر دیا۔ مگر میرے دل پر اس بھیانک یاد کا جو داغ لگا، وہ کبھی نہ مٹنے والا ہے۔ جب تک جیوں گی، اس درد کے ساتھ جیوں گی۔خدا کا شکر ہے کہ اس نے میرا بلاول مجھے زندہ سلامت لوٹا دیا۔ شاید ہماری کوئی نیکی کام آگئی یا کسی کی دعا لگ گئی، ورنہ جب تک جیتی، مرتی ہی رہتی۔ بلاول کہاں ملنے والا تھا؟ وہ تو گھر کا صحیح پتا بھی نہیں بتا سکتا تھا۔

(ختم شد)
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ