چال باز انسان

Sublimegate Urdu Stories

میں اک خوبصورت اداکارہ تھی اور وہ فلم پروڈیوسر تھا۔ میں اس پر مرتی تھی اور وہ کسی اور پر۔  میرا نام دل آرا اور میرے محبوب پروڈیوسر کا نام نور شاہ تھا۔ اور مشہور اداکارہ، جس پر نور شاہ فریفتہ تھا، اس کا نام دلربا تھا۔ یہ نام بھی اس پر خوب جچتا ہے، کیونکہ وہ واقعی دلربا تھی، لاکھوں دلوں کی دھڑکن۔ ایک دن میں مسٹر نور شاہ کے کمرے میں بیٹھی تھی کہ وہاں داربا آ گئی۔ نور شاہ صاحب کے دل کو جیسے قرار آ گیا ہو، ان کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ ہستی کو آفس کی سب سے معتبر کرسی پر بٹھایا۔ اس عورت کی اتنی توقیر دیکھ کر میں جل تو گئی مگر اپنے تاثرات ظاہر نہ ہونے دیے۔ آخر میں بھی تو ایک اداکارہ تھی، اگرچہ صفِ اوّل کی نہ تھی، مگر اداکاری کے اسرار و رموز جانتی تھی۔ 
sublimegate
اس حسن پری کو میں نے گمان بھی نہ ہونے دیا کہ اس کی آمد سے مجھے تکلیف ہوئی ہے۔ مسٹر نور شاہ نے ابھی دو چار ادھر اُدھر کی باتیں ہی کی تھیں کہ دو اور مہمان آگئے۔ ایک اداکار جس کا نام فاضل تھا اور دوسرا اس کا بھائی، جو جرنلسٹ تھا۔ لہٰذا میں اس کا فرضی نام سوچنے کے بجائے اسے جرنلسٹ ہی لکھوں گی۔ فاضل نیا اداکار تھا۔ دلربا اس سے واقف نہ تھی۔ اس نے جب اس حسین نوجوان کو دیکھا تو اس کے بارے میں مسٹر نور شاہ سے سوالات کرنے لگی۔ دو چار سوالات کے بعد وہ براہِ راست فاضل سے مخاطب ہو گئی۔ نوجوان ہاں اور نہ میں جواب دیتا رہا۔ میں دیکھ رہی تھی کہ نور شاہ صاحب کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا، کیونکہ وہ خود دلربا پر دل و جان سے فریفتہ تھے۔ داربا کی عادت تھی کہ شوٹنگ کے بعد وہ ایک لمحہ بھی اسٹوڈیو میں فضول نہیں ٹھہرتی تھی۔ کسی سے غیر ضروری بات نہیں کرتی تھی، نہ کسی کو بلاوجہ توجہ دیتی تھی۔ وہ کسی کو گھر بھی نہیں بلاتی تھی۔ اس کا یہ رکھ رکھاٗو اس کی نیک نامی کا بھی سبب تھا۔ 

اسی کی یہ ادائیں مسٹرنور شاہ کے دل کو اور بے چین کر دیتی تھیں۔ ایک وقت آیا کہ وہ اس اداکارہ کے بارے میں سنجیدہ ہو گئے ۔بتاتی چلوں کہ مسٹرنور شاہ اپنے دل سے مجبور تھے اور میں اپنے دل سے بے بس۔ میں ان سے محبت کرتی تھی اور وہ مجھے صرف ایک اچھا دوست سمجھتے تھے۔ جب انہیں کوئی راز کی بات کہنی ہوتی یا دل کا دکھ ہلکا کرنا ہوتا، تو ہلکا سا پیگ لے کر میرے پاس آ جاتے اور اپنا دکھ میری جھولی میں ڈال کر ہلکے پھلکے ہو جاتے۔ مجھے تو ہر حال میں ان کی خوشی عزیز تھی۔ میں اپنے حوصلے سے ان کی چبھتی باتیں بھی مسکرا کر برداشت کر لیتی تھی اور ظاہر نہ ہونے دیتی تھی کہ مجھے تکلیف پہنچ رہی ہے۔

اس روز دلربا کی فاضل پر توجہ نے نور شاہ کے چہرے پر رنگ بدل دیے تھے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ دلربا آٹوگراف دینے کے بجائے اس کی ڈائری میں اشعار لکھ رہی ہے۔ یہ بات اس کے معمول کے خلاف تھی۔ وہ عموماً کسی ایسے ویسے سے بات کرتے وقت بار بار گھڑی کی طرف دیکھتی تھی۔ لیکن آج تو اسے وقت کا گزرنا بھی محسوس نہ ہو رہا تھا۔ہم نے اسے یہ کہتے بھی سنا کہ فاضل میں تم میں وہ جوہر دیکھ رہی ہوں کہ اگر صحیح معنوں میں استعمال کرو تو صفِ اوّل کے ہیرو بن سکتے ہو۔ مجھ سے پھر کبھی ملنا، میں تمہیں اداکاری اور کامیابی کے چند گر بتاؤں گی۔ فاضل نے کہا کہ یہاں ہی بتا دو دلربا جی۔ دلربا نے کہا کہ یہاں کیا بات ہو سکتی ہے، فاضل کبھی میرے گھر آؤ تو باتیں کریں گے۔ یہ کہہ کر اس نے ایک پرچے پر اپنا پتہ لکھ کر اسے دے دیا۔نور شاہ کے لیے یہ سب زیادہ برداشت نہ ہو سکا۔ انہوں نے فاضل کے ہاتھ سے پرچا لے کر کہا کہ تم ان کے گھر اکیلے کیسے جاؤ گے؟ تمہارے پاس تو گاڑی بھی نہیں۔ میں خود لے جاؤں گا تمہیں۔ دلربا نے اسے سخت نظروں سے دیکھا مگر خاموش رہی اور بولی کہ ٹھیک ہے نور شاہ، آپ ہی لے آئیے گا۔ اس کے بعد ایک دن نور شاہ صاحب کو فاضل کو دلربا کے گھر لے جانا ہی پڑا۔ انہوں نے سوچا کہ دلربا یوں تو انہیں لفٹ دیتی نہیں؛ چلو فاضل کے بہانے آنا جانا رہے گا اور کسی دن راستہ صاف ہو جائے گا۔ لیکن کچھ ہی دنوں بعد جب نور شاہ صاحب نے فاضل کے انداز بدلے ہوئے دیکھے تو انہوں نے اسے دوبارہ ساتھ چلنے کو کہا، مگر وہ ٹال گیا۔اب وہ دلربا کا نام تک نور شاہ صاحب کے سامنے لینے سے کترانے لگا تھا۔ تب پروڈیوسر صاحب کو یقین ہو گیا کہ اس کا دلربا کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہو چکا ہے۔ کھوج لگانے پر معلوم ہوا کہ وہ روز ہی دلربا کے گھر جاتا ہے۔ یہ جان کر نور شاہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

اس نے رقابت میں فنکاروں کو ایک عصرانہ دیا لیکن فاضل کو نہ بلایا، مگر دلربا کو خاص طور پر مدعو کیا۔ وہ بھی خوب سنور کر آئی، مگر اکیلی نہیں، فاضل اس کے ساتھ تھا۔ اس نے الگ جا کر نور شاہ سے معذرت کی کہ آج میرا ڈرائیور بیمار تھا اور گاڑی چلانے والا کوئی نہ تھا، تبھی میں نے فاضل کو تکلیف دی ہے۔ آپ مائنڈ کریں کہ میں آپ کی دعوت میں ایک بغیر بلائے مہمان کو کیوں لے آئی ہوں۔اس کے بعد دلربا نے فاضل کو باہر والی نشست پر بٹھا لیا اور خود پلیٹ میں کھانے پینے کی اشیاء ڈال کر دینے لگی۔ وہ سرو کرنے پر اتنی متوجہ رہی کہ نور شاہ صاحب کی سٹی گم ہو گئی، جیسے وہ فاضل کو توجہ دے کر اس کی اہانت کر رہی ہو۔ یہ منظر پروڈیوسر صاحب کو شدید ناراض کر گیا۔ میں نے سمجھ لیا کہ معاملہ نازک ہے۔ دلربا نے بے چین صاحب سے کار مانگی کہ ان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور وہ ورکشاپ گئی ہوئی تھی۔ انہوں نے دل و جان سے اپنی گاڑی ان کے حضور پہنچادی، لیکن جب علم ہوا کہ یہ کار فاضل کے لیے مانگی گئی ہے تو ان کا کلیجہ دہل گیا۔دلربا روز نور شاہ کی گاڑی میں فاضل کے ساتھ ادھر ادھر جاتی رہی۔
 صاحب نے بہت کوشش کی کہ دلربا اسے بھی ساتھ لے جائے، بے شک فاضل ساتھ ہو، لیکن انہوں نے اسے دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکا اور سیر و سپاٹے کے لیے خود اپنی کار میں جانے لگے۔ جب پانی سر سے گزر گیا تو پروڈیوسر صاحب فاضل کے جرنلسٹ بھائی کے پاس گئے اور کہا کہ تمہارا بھائی ایک اداکارہ کے چنگل میں پھنس گیا ہے۔ اس طرح تو اس کا کیریئر تباہ ہو جائے گا۔ ابھی اس کے کیریئر کی شروعات ہے اور دلربا کے ساتھ اس کے ہر قسم کے اسکینڈل بن رہے ہیں۔ ورنہ اس جیسا خوبصورت اور ہوشیار لڑکا تباہ ہو جائے گا۔پھر انہوں نے ایک خطرناک منصوبہ تیار کر لیا۔ فاضل کو اپنی نئی فلم میں ہیرو کے رول کی پیشکش کی اور خوشی میں گھر پر پارٹی رکھی۔ دلربا کو بھی بلایا۔ محفل میں انہوں نے گلاس میں افیم ملا کر وہ گلاس فاضل کے سامنے رکھ دیا۔ میں نے یہ حرکت دیکھ لی تھی، لہٰذا فاضل نے گلاس اٹھانے سے انکار کیا، تو میں نے دلربا کو اشارہ کیا۔ وہ نہایت ذہین عورت تھی، سمجھ گئی اور اٹھ کر نور شاہ کے پہلو میں جا بیٹھی۔ میں نے باتوں میں اس کا دھیان لگایا اور گلاس بدل دیا۔ اس طرح وہ ایک بڑے حادثے سے بچ گیا۔ 

فوراً دلربا نے وہ گلاس خود اٹھا لیا، مگر بس اپنے سامنے رکھ کر بیٹھی رہی۔یہ حربہ ناکام ہو گیا، مگرنور شاہ صاحب کی آتش ٹھنڈی نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک بار اسے ایکسپائرڈ جوس پلا دیا جس سے وہ زہر خوری کا شکار ہوا۔ اسپتال لے جانا پڑا، مگر جوان اور صحت مند آدمی تھا، بچ گیا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے گی، لیکن سانپ نہ مرا اور لاٹھی ٹوٹ گئی، یعنی نور شاہ صاحب نے ہمت ہار دی۔ تب وہ میرے پاس آئے۔ ہاتھ میں پیگ لیا ہوا تھا۔ کچھ ہوش اور کچھ عالم بے ہوشی میں رور کر اپنے دل کا دکھ بیان کرتے رہے۔ میں صبر کے ساتھ ان کے دکھ سنتی اور ان کو تسلی دیتی رہی، پھر بولے کہ تم بہت اچھی ہو۔ اب جو فلم بناؤں گا، تم ہی اس کی ہیروئن ہو گی۔ میں نے ان کی بات سن کر مسکرا دیا۔بعد میں انہوں نے آخری حربہ آزمایا اور فاضل اور دلربا کے اسکینڈل کو اخبارات میں چھپوا دیا، مگر اس سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑا۔ انہوں نے خاموشی اختیار کر لی اور تردیدی بیان بھی نہ چھپوایا۔

نور شاہ صاحب اتنے بے چین تھے کہ ہر ایک سے کہتے، فاضل نہایت غلط آدمی ہے، اس کو آفس میں قدم نہ رکھنے دینا چاہیے۔ تب دوسرے پروڈیوسر جواب دیتے، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، وہ نہایت اچھا آدمی ہے۔ شوٹنگ پر ٹائم پر آتا ہے، کسی کو پریشان نہیں کرتا۔ اس کا برتاؤ اعلیٰ ہے، تعلیم یافتہ ہے، نجانے کیوں آپ کو ٹھیک نہیں لگتا۔ دلربا نور شاہ سے ناراض ہو گئی اور اپنی فلم میں مزید کام کرنے سے انکار کر دیا، جب کہ نور شاہ کی یہ فلم آدھی سے زیادہ بن چکی تھی۔ وہ تاریخیں دینے سے کترانے لگے۔ نقصان کے اندیشے پر میں نے انہیں سمجھایا کہ آپ جلد دلربا والے سین مکمل کروا لیں، ایسا نہ ہو کہ آپ کا سرمایہ ڈوب جائے۔بات ان کی سمجھ میں آ گئی۔ فاضل سے رقابت کو پسِ پشت ڈال کر انہوں نے منت سماجت کر کے دلربا کو منا لیا اور تاریخیں لے لیں۔ دلربا نے بھی ہامی بھر لی اور کچھ سین شوٹ بھی کرائے۔
 جب نور شاہ صاحب نے سیٹ تیار کرالیا اور لاکھوں روپے لگا دیے، متعلقہ لوگوں کو ایڈوانس بھی دے دی، تو اچانک فاضل اور داربا غائب ہو گئے۔ بعد میں ان کا یورپ سے فون آیا کہ انہوں نے شادی کرنا تھی، سو یورپ جانا پڑا کیونکہ وہاں ملک میں حالات ان کے لیے موافق نہ تھے۔ ہنی مون کے بعد دلربا شوٹنگ مکمل کر دیں گی، فی الحال دیگر سین کی شوٹنگ کر لی جائے۔ جس روز داربا اور فاضل کا فون آیا، نور شاہ صاحب کی حالت دیدنی تھی۔ بے حد دلگرفتہ اور اداس تھے۔ میرے پاس آئے، غم بہت زیادہ تھا۔ بہت پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ میں نے سنبھالا، سہارا دیا، سمجھایا، غم بانٹا۔ بہت دیر تک انہوں نے فاضل کو گالیاں دے کر دل کا غبار نکالا، اور جب دل ہلکا ہو گیا اور نشہ بھی ہلکا ہوا، تو میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بولے کہ اب تم ایکسٹرا نہیں رہو گی۔ اب جب نئی فلم بناؤں گا وعدہ کرتا ہوں کہ تم ہی اس میں میری ہیروئن ہو گی۔

 میں حسب معمول مسکرا دی۔بعد میں بھی کئی بار یہ وعدہ کیا، مگر ہیروئن نہ بنایا، یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔ آج بھی ان کو یاد کرتی ہوں تو دکھی ہو جاتی ہوں۔ وہ اگر مجھ کو دوست سمجھتے تھے تو میں بھی ان کی سچی دوست ہی تھی۔ میں ہیروئن بننے کے لالچ میں ان کی دوست نہیں بنی کیونکہ جانتی تھی کہ ہیروئن، ہیروئن ہوتی ہے اور ایکسٹرا، ایک راہی ہوتی ہے، جو میں تھی۔ یہ فلمی دنیا ایسی ہی ہوتی ہے، یہاں انسان کچھ بننے آتے ہیں، کچھ بن جاتے ہیں اور جو نہیں بن سکتے وہ ایسے تجربات سے گزرتے ہیں کہ تجربہ کار انسان بن جاتے ہیں۔

(ختم شد)
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ