پیاسی بیوی

Sublimegate Urdu Stories

وہ روز اس کا انتظار کرتی۔ اگر وہ کسی دن نہ آتا یا دیر ہو جاتی تو پروین بے چین ہو جاتی، جیسے اس کی جان پر بن گئی ہو۔ اپنا شوہر بوڑھا اور بدصورت لگنے لگا اور ایک غیر شخص، جس کو اسلم نے خود اپنے گھر آنے کی اجازت دی تھی، پروین کے دل پر راج کرنے لگا۔ بات اتنی آگے نکل گئی کہ ساتھ مرنے جینے کی قسمیں کھائے بنا چارہ نہ رہا۔
cknwrites
جانے کب سے زندگی کی ناؤ وقت کے دریا میں بہتی چلی آ رہی ہے۔ وقت کے مدّ و جزر، زندگی کی کشتی میں سفر کرنے والوں پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ جو تیزرو ہوں، کبھی کبھی آگے نکل جانے کی چاہ میں اپنی ناؤ ہی ڈبو دیتے ہیں اور باقی ساری عمر تنکے کا سہارا ڈھونڈتے گزارتے ہیں۔ یہی حال پروین کا بھی ہوا۔وہ ایک چھوٹی بستی کی رہنے والی تھی۔ شادی ہوئی تو اللہ نے یکے بعد دیگرے اسے پانچ بیٹے عطا کیے۔ شوہر ریلوے میں ملازم تھا، اپنی بیوی اور بچوں سے بےپناہ محبت رکھتا تھا اور گھر ہی اس کی راجدھانی تھا۔ پروین کو اپنی خوشحالی کا غرور تھا۔ اوپر سے اللہ نے پانچ بیٹے دیے تو اس کی گردن مزید اکڑ گئی۔وہ ایک خوش شکل عورت تھی، قد کاٹھ بھی اچھا تھا۔ شاید اسی سبب اس کے شوہر اسلم کو اپنی بیوی سے جنون کی حد تک محبت تھی۔ وہ گھر کی ہی نہیں، اس کے دل کی بھی ملکہ تھی۔ کچھ عورتیں شوہر کا ضرورت سے زیادہ پیار سہہ نہیں سکتیں اور ان کے ظرف کا پیمانہ چھلک جاتا ہے۔ اسلم کے حد سے بڑھے ہوئے پیار اور اعتماد نے پروین کا دماغ خراب کر دیا۔ وہ خود کو ملکۂ عالم سمجھنے لگی اور فلموں کی شوقین پروین کا زیادہ وقت سجنے سنورنے میں گزرنے لگا۔چھوٹی عمر میں شادی کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اولاد جلدی برابر کی لگنے لگتی ہے۔پروین بیٹوں کے درمیان دب سی جاتی تھی اور لوگ کہتے تھے کہ بڑے چار تو تمہارے بیٹے لگتے ہی نہیں۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوتی۔

شوہر اس سے پندرہ برس بڑا تھا اور سخت محنت نے اسے وقت سے پہلے ہی بوڑھا کر دیا تھا۔ پروین کا بڑا بیٹا عبداللہ موٹر سائیکل سے گرا اور حادثے کا شکار ہوگیا۔ اسے کافی چوٹیں آئیں۔ موقع پر موجود اس کے دوست شیر دل نے اسے اسپتال پہنچایا اور گھر والوں کو اطلاع دی، تو ماں باپ بھاگتے ہوئے اسپتال پہنچے۔ چوٹیں زیادہ تھیں، مگر دو دن بعد اس کی حالت خطرے سے باہر ہوگئی۔ شیر دل نے خون بھی دیا تھا، جس پر دونوں اس کے بہت ممنون تھے۔ اگر وہ بروقت مدد نہ کرتا تو عبداللہ کا بچ جانا مشکل تھا۔شیر دل، عبداللہ سے عمر میں بڑا تھا اور گاؤں سے شہر کام کی تلاش میں آیا تھا۔ کچھ واقف کاروں کے ساتھ مل کر اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا ہوا تھا، جہاں وہ بس مجبوراً سر چھپائے رہتا تھا، کہ اتنے بڑے شہر میں اچھی رہائش کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔ کچھ دن بعد جب عبداللہ اسپتال سے گھر آگیا تو شیر دل اس کی خیریت پوچھنے آنے لگا۔ 

پروین اور اسلم اس کی خوب آؤ بھگت کرتے۔ وہ اسے اپنا محسن سمجھتے تھے۔ جانتے تھے کہ وہ پردیس میں ہے اور گاؤں سے شہر روزگار کی تلاش میں آنے والوں کے لیے رہائش اور خوراک سب سے بڑے مسئلے ہوتے ہیں، جن کا براہِ راست تعلق صحت اور سکون سے ہوتا ہے۔عموماً سب سے پہلے ناقص غذا اور غیر معیاری رہائش کے باعث صحت خراب ہوتی ہے، پھر سکون جاتا رہتا ہے۔ایسے میں اگر کوئی اس پردیسی کو گھر جیسی توجہ اور محبت دے، اوپر سے گھر کا کھانا بھی مل جائے، تو وہ اپنے میزبانوں کا دیوانہ ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حال شیر دل کا بھی ہوا۔ عبداللہ کے ماں باپ کی اپنائیت نے اسے اُن کا دیوانہ بنا دیا۔ خاص طور پر پروین کی توجہ اور کرم نوازی نے اس کا دل جیت لیا، کیونکہ گھر میں خاطر مدارات اور کھانا پیش کرنے کی ذمہ داری اسی کی تھی۔ اسلم تو زیادہ تر کام پر چلا جاتا تھا۔یہ سلسلہ آگے چلتا رہا۔ شیر دِل اکثر فروٹ اور سبزی لے آتا، پروین کھانا بنا دیتی۔ وہ روزانہ ہی دوپہر کا کھانا ان کے گھر کھانے لگا۔

اکثر رات کا کھانا بھی یہیں کھا لیا کرتا تھا، کیونکہ عبداللہ اور پروین اصرار کرتے کہ کھانا کھا کر جانا۔حقیقت یہ تھی کہ شیر دِل گاؤں کا پروردہ تھا۔ بہت حسین صورت رکھتا تھا۔ رنگ، روپ اور قد کاٹھ بھی اچھا تھا۔ اوپر سے گفتگو کا انداز مودبانہ—یہی چیزیں پروین کو لبھانے لگیں۔شیر دِل اس سے عمر میں دس بارہ سال چھوٹا تھا مگر اپنے اونچے قد اور اچھی صحت کی وجہ سے پروین کا ہم عمر لگتا تھا۔ عبداللہ باپ کے ساتھ ڈیوٹی پر چلا جاتا اور شیر دِل، پروین کے اصرار پر روز کھانا کھانے آ جاتا۔ دونوں تنہائی میں باتیں کرتے، جب کہ دیگر تین بیٹے اسکول چلے جاتے تھے۔ چھوٹا اور پانچواں بیٹا ناسمجھ تھا، وہ ابھی اسکول جانے کے قابل نہ تھا، لہٰذا کھیل کود میں مشغول رہتا تھا۔ پروین کے ساتھ شیر دِل کی ذہنی ہم آہنگی اور بے تکلفی بڑھنے لگی۔

 وہ روز اس کا انتظار کرتی۔ اگر وہ کسی دن نہ آتا یا دیر ہو جاتی تو پروین بے چین ہو جاتی، جیسے اس کی جان پر بن گئی ہو۔ وہ خود کو سخت اضطراب اور مشکل میں گھرا ہوا پاتی اور عجیب سے اندیشے اسے گھیر لیتے۔ یہ کون سی کیفیت تھی، اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ایسی کیفیت سے وہ اس سے قبل کبھی دوچار نہ ہوئی تھی۔اسے شیر دِل سے شدید لگاؤ تھا۔ اس کی صورت دیکھ کر وہ ایسی مسرت سے دوچار رہتی جس کا بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اپنا شوہر بوڑھا اور بدصورت لگنے لگا اور ایک غیر شخص، جس کو اسلم نے خود اپنے گھر آنے کی اجازت دی تھی، پروین کے دل پر راج کرنے لگا۔ یہ سب کچھ کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نہیں ہوا تھا، مگر اب پروین کے اختیار کی بات نہ رہی تھی کہ وہ شیر دِل کو اپنے دل کی راجدھانی سے نکال دے۔

حقیقت میں وہ ایک خود پرست اور خود غرض قسم کی عورت تھی جسے تعریف کرنے والے کی اشد ضرورت تھی۔ بننے سنورنے کی شوقین کو ازل سے اپنی ستائش کرنے والے کا انتظار تھا، اور وہ اسے شیر دِل کی صورت میں مل گیا تھا، جو پہلے تو صرف اس لیے اس کی زیبائش کی تعریف اور سلیقے کی مدح سرائی کرتا تھا کہ پردیس میں گھر کا اچھا اور مزیدار کھانا مل رہا تھا۔ پروین اس کی خاطر بہت توجہ سے پکاتی اور اسے ہوٹل کے مضرِ صحت اور بدمزہ کھانے سے نجات مل گئی تھی۔ بعد میں وہ بھی اس خیال رکھنے والی کی جانب مائل ہو گیا۔بات اتنی آگے نکل گئی کہ ساتھ مرنے جینے کی قسمیں کھائے بنا چارہ نہ رہا۔ شیر دِل نے اتنی توجہ دی کہ پانچ بچوں کی ماں کا دماغ بالکل خراب ہو گیا اور وہ خارزارِ عشق کی صحرانورد بن کر باقی ہر شے کو بھلا بیٹھی۔گھر، شوہر اور پانچ بچوں کو وہ خوشیوں کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگی، حالانکہ ایسی نعمتیں جس عورت کو نصیب ہوں وہ خوش بخت کہلاتی ہے۔

جب گھر کی جنت میں ایسا خفیہ طوفان چھپا ہو، تب زلزلہ آتا ہے اور پھر سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے۔ بات بے بات وہ شوہر سے لڑنے لگی۔ اسے اسلم میں سو عیب دکھائی دینے لگے۔ بچوں کو محبت دینے کے بجائے وہ ان سے بھی الجھنے لگی، بچوں پر ہاتھ اٹھانے لگی۔ دیکھتے دیکھتے اس کے مزاج میں ایسی تیزی و تندی در آئی کہ اسے خود پر قابو نہ رہا۔اتنے میں شیر دِل کو گھر سے سندیسہ آ گیا کہ جلدی آؤ اور اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کرو، کہ تمہارا ماموں بہت بیمار ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ تم جلد آ کر گل زیب کو اپنا لو۔یہ بات جب پروین کو اس نے بتائی تو وہ سخت مضطرب ہو گئی اور قسمیں دینے لگی کہ تم برگژ گاؤں مت جانا۔ اگر جانا ضروری ہے تو مجھے اپنے ہمراہ لے کر جاؤ، ورنہ جانے کیا ہو جائے۔ شیر دِل نے کہا: تم نادان ہو، کیا نہیں جانتیں کہ تم کسی شخص کی منکوحہ ہو؟ پھر میں تم کو کیسے اپنے ساتھ لے جا سکتا ہوں؟ ہاں، اگر تم اسلم سے طلاق لے لو، تب ہم کورٹ میرج کر کے ایک جائز رشتے میں بندھ جائیں گے، تب ہی میں تمہیں اپنے ہمراہ گاؤں بھی لے جا سکوں گا۔

پروین پر تو ایک طرح سے بھوت سوار تھا۔ وہ اپنی ایک رشتے کی خالہ کے پاس گئی جس کا بیٹا وکیل تھا۔ اسے جا کر اسلم کے ظلم و ستم کی ایسی من گھڑت داستان سنائی کہ خالہ بھی رو دی۔ اس نے وعدہ کیا کہ ضرور اپنے بیٹے سے مدد کے لیے کہے گی۔ خالہ کا بیٹا، ارشد وکیل، گھر آیا تو ماں نے بھانجی کی دلدوز داستان سنا کر خلع کا کیس دائر کرنے کو کہا، مگر وکیل حضرات اتنے ناسمجھ نہیں ہوتے۔ روز ہی ایسے کیس ان کے پاس آتے رہتے ہیں۔اس نے پروین کو سمجھایا کہ شوہر خواہ کتنا برا ہو، پھر بھی اس خود غرض معاشرے میں وہ تمہارا سائبان ہے اور تمہیں زندگی میں ہر قدم پر اس کی ضرورت پڑے گی۔ وہ تمہارے پانچ بیٹوں کا باپ ہے؛ کل کو یہی پانچوں لڑکے تم سے حساب لیں گے۔ گھر عورت کی بہترین پناہ ہے۔ تم واپس گھر لوٹ جاؤ اور خاوند سے خلع لینے کا خیال ترک کر دو۔ جب پروین نے دیکھا کہ دال ایسے نہیں گلے گی تو اس نے گاہ شیر دل کے ساتھ گھر سے بھاگنے کا منصوبہ بنا لیا۔جس رات پروین نے گھر سے بھاگنا تھا، اسی رات شیر دل کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔وہ مقررہ وقت پر اسٹیشن نہ پہنچ سکا، جب کہ گھر سے بھاگتے وقت پروین پکڑی گئی۔ شوہر کو پہلے سے شک ہو چکا تھا۔ اس نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

 اسلم نے بیوی کو بہت مارا اور کمرے میں بند کر دیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ سامنے جوان ہوتے بیٹے تھے جن کو ماں کے کرتوتوں کا کوئی علم نہیں تھا اور وہ پروین کہہ رہی تھی کہ میں تم سب سے تنگ تھی، اس لیے دارالامان جا رہی تھی۔اسلم نے اپنی ساس کو بلایا جو قصور میں رہتی تھی۔ وہ اپنے ساتھ رشتے کی اسی خالہ کو بھی لے آئی جس کے گھر پروین خلع کی درخواست لے کر جا چکی تھی۔ دونوں خواتین جب داماد کے گھر پہنچیں تو اسلم کے گھر کی صورتحال دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔ ساری بات سن کر معاملہ سمجھ میں آیا تو انہوں نے پروین پر بھی لعن طعن کی۔ اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر پروین کی ایک ہی رٹ تھی کہ مجھے اسلم کے ساتھ نہیں رہنا۔ اگر تم لوگوں نے میرا ساتھ نہ دیا تو کچھ کھا کر مر جاؤں گی یا گھر سے بھاگ جاؤں گی لیکن اب اس ظالم انسان کے ساتھ نہیں رہوں گی جس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے۔اس کا سب سے چھوٹا بیٹا ڈھائی سال کا تھا لیکن اسے اپنے بچوں کی بالکل فکر نہ تھی۔

چھوٹا لڑکا اس گھر کے الجھے ہوئے ماحول سے سب سے زیادہ متاثر تھا۔ وہ ہر وقت روتا رہتا تھا مگر ماں کی ممتا بھی جیسے سو گئی تھی۔ وہ ٹس سے مس نہیں ہوتی تھی۔ اسلم اس صورت حال سے ازحد پریشان تھا۔ وہ حیران تھا کہ اس کے گھر میں نقب کس نے لگایا ہے۔بڑے دونوں بیٹے حد سے زیادہ طیش میں تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ کیا سلوک کریں، جو خاوند پر سراسر بہتان باندھتی اور جھوٹے الزام لگاتی ہے، کیونکہ وہ ماں اور باپ دونوں کے رویوں کو جانتے تھے۔ ماں کے منہ سے طلاق کا مطالبہ سن کر ان کا خون کھولنے لگتا تھا۔ انہیں یہ مطالبہ ایک گالی معلوم ہوتا تھا، کہ ان کی ماں ہر طرح کا عیش و آرام پا کر بھی گھر سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے۔

جب صورتحال گمبھیر ہو گئی تو اسلم نے عبداللہ کو اپنے دو بیٹوں کے ساتھ میاں چنوں بھجوا دیا، جہاں اس کی بہنیں اور بھائی رہتے تھے۔ کیونکہ عبداللہ اور سمیع اللہ اتنے طیش میں تھے کہ لگتا تھا وہ پاگل ہو جائیں گے یا پھر غصے میں اپنی والدہ کو قتل کر دیں گے۔اسلم چونکہ بیوی سے محبت کرتا تھا، وہ پھر بھی ہوش و حواس قائم رکھے ہوئے تھا۔ اس کا حوصلہ تھا، تب ہی اس نے بڑے لڑکوں کو اپنے بھائی کے گھر بھجوانا ہی بہتر جانا کہ فی الحال یہ بچے منظرِ عام سے ہٹ جائیں تاکہ وہ ان کی غیر موجودگی میں حالات پر قابو پا لے۔ یہ پروین سے اس کی بے انتہا محبت تھی جو اب بھی اسے کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے باز رکھ رہی تھی۔ادھر پروین نے ہنگامہ اٹھایا ہوا تھا کہ وہ مزید اسلم کے ساتھ نہیں رہے گی۔ ایسے حالات دیکھ کر پروین کی ماں اور خالہ اسے اپنے ساتھ لے آئیں تاکہ گھر سے دور رہ کر وہ بہتر سوچ سکے۔ اسلم نے اسے ماں کے ساتھ جانے کی اجازت تو دے دی لیکن وہ بہت پریشان تھا۔ دو ماہ گزر گئے۔ 

اسلم کے لیے یہ عرصہ کاٹنا قیامت سے کم نہ تھا۔ تاہم اسے امید تھی کہ گھر اور بچوں سے دوری اور جدائی شاید اس کی بیوی کو راہِ راست پر لے آئے۔ دو ماہ گزر گئے مگر یہ عورت اپنے مؤقف سے نہ ہٹی کیونکہ عشق کا بھوت ایک ایسا عفریت تھا جو اس کے مستقبل کی خوشیوں کو نگلنے والا تھا۔اس نے طلاق کی رٹ جاری رکھی تو ماں بھی تنگ آگئی۔ وہ کسی بھی حال میں گھر بسانے پر تیار نہ تھی۔ جب اسلم نے دیکھا کہ یہ عورت کسی طرح بھی نہیں مان رہی اور واپس گھر آنے پر راضی نہیں ہے بلکہ جگ ہنسائی الگ ہو رہی ہے، تو اس نے اپنی شرافت کے تقاضے کے مطابق بیوی کو اس کی منشا کے مطابق طلاق دے دی۔ یہ عجیب عورت تھی۔ یہ ماں نہ تھی، محض عورت تھی۔ اسی لیے طلاق کی صورت میں آزادی کا پروانہ لے کر مسرور تھی۔ اس کا شیر دل کے خیالوں میں کھوئے رہنا جاری تھا۔خیر، پھر عدت گزار کر دونوں نے نکاح پڑھوا لیا اور شیر دل پروین کو اپنے گاؤں لے گیا، جہاں اس کا چھوٹا سا اینٹوں کا بنا ہوا گھر تھا۔ اس گھر میں ماں کی شفقت موجود نہ تھی کیونکہ ماں کو مرے چھ برس گزر چکے تھے۔ 

بن بیاہی بہن اور بیمار باپ رہتے تھے۔ باپ نے جب ایک اجنبی عورت کو بہو کے روپ میں دیکھا تو صدمے سے نڈھال ہو گیا اور دو چار ہفتوں میں چل بسا، کیونکہ اپنے برادرِ نسبتی سے شرمندہ تھا جس کی بیٹی سے اس کی بیوی برسوں پہلے شیر دل کی منگنی کر چکی تھی۔ماں تو پہلے ہی نہ تھی، باپ بھی نہ رہا—اب کس کا ڈر تھا؟ ماموں نے ناراض ہو کر قطع تعلق کر لیا اور شیر دل پروین کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارنے لگا۔ دونوں نے نکاح کیا تھا لہٰذا گاؤں کے لوگ بھی سرگوشیاں کرنے کے بعد خاموش ہو گئے۔پروین چند ماہ محبت کے نشے میں مدہوش رہی، پھر یہ نشہ اترنے لگا۔ ایک بیاہی عورت، بچوں کی ماں کو بھلا محبت کیا راس آتی؟ مگن رہنے کے دن تمام ہوئے تو حقائق کی دھوپ آنگن میں اترنے لگی۔

شیر دل ایک آرام پسند نوجوان تھا۔ وہ کوئی کام دل لگا کر نہیں کرتا تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ اسے نشہ کرنے کی عادت تھی۔ پھر زندگی کی سب سے ٹھوس حقیقت—پیسہ—جو ان کے پاس بالکل نہیں تھا۔ کچھ عرصہ تو اس نے صبر سے گزارا، مگر جب وہ بنیادی ضروریات کو بھی ترسنے لگی تو آئے دن ان میں لڑائیاں ہونے لگیں۔ سب سے بڑا سبب ان لڑائیوں کا یہ تھا کہ شیر دل کو پروین پر اعتبار نہیں تھا۔ وہ اس پر شک کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ عورت اگر ایک چاہنے والے شریف شوہر اور پانچ بچوں کو چھوڑ کر ان سے بے وفائی کر سکتی ہے تو اس کی متلون مزاجی کسی وقت اسے بھی داغِ مفارقت دے سکتی ہے۔طعنے بازی کی یہ مشق روز و شب جاری رہنے لگی تو پروین کا سہل پسند مزاج ٹھکانے پر آگیا۔
 وہ شیر دل کو بے غیرتی اور نکمے پن کے طعنے دینے لگی۔ تب شوہر نے ہاتھ اٹھا لیا اور پھر یہ معمول ہو گیا۔ وہ روز ہی اسے مارتا تھا، اور یہ بہت تکلیف دہ صورتِ حال تھی۔اسلم بھلے زیادہ امیر آدمی نہ تھا لیکن اس کے گھر میں کسی شے کی کمی نہ تھی، اور اسلم پروین پر جان چھڑکتا تھا۔ ادھر جب اسلم کو پتا چلا کہ پروین نے اپنے سے دس سال چھوٹے شیر دل سے شادی کر لی ہے تو وہ ششدر رہ گیا۔ وہ یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ تاہم اسلم سے زیادہ صدمے میں عبداللہ تھا۔ اسلم بالکل گم صم ہو گیا جب کہ بیٹے ماں سے شدید نفرت کرنے لگے۔ ان سب کے دل میں پروین کے لیے جو احترام اور پیار تھا، جاتا رہا اور یوں گھر کا شیرازہ بکھر گیا۔ سب سے زیادہ مشکل چھوٹے بیٹے منان کے لیے تھی جو ماں سے نفرت نہیں کر سکتا تھا، اسی لیے ہمہ وقت ماں کے لیے روتا رہتا تھا۔وقت گزرتا گیا، یہاں تک کہ اسلم کے سارے بیٹے باشعور اور جوان ہو گئے۔ باپ نے بڑی محنت مشقت سے انہیں پڑھایا لکھایا، یہاں تک کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے۔

عبداللہ اور اس سے چھوٹے عبدالسمیع نے اپنی پسند سے شادیاں کر لیں۔ گھر میں دو بہوئیں آگئیں تو اسلم کو کچھ سکون ملا۔ چھوٹے بیٹے عبدالمنان کے علاوہ سب ہی کی شادیاں ہو گئیں۔ اتفاق سے سب ہی کی بیویاں نوکری کرتی تھیں، سو وہ مختلف بہانے کر کے باپ سے علیحدہ ہو گئے۔اسلم کے ریٹائر ہونے تک عبدالمنان بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا، تب اسلم نے اس کی شادی کر دی۔ سب لڑکے اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے۔اسلم نے خانہ بدوشی اختیار کر لی۔ کبھی اس شہر، کبھی اس شہر؛ وہ نگر نگر گھومنے لگا۔ کھانا کسی لنگر سے کھا لیا، رات کسی مزار پر گزار لی۔ کبھی دل کیا تو اپنے بچوں سے ملنے آ جاتا۔ پوتے پوتیوں کو دیکھ کر خوش ہوتا تھا مگر زیادہ دن کسی کے گھر نہیں رہتا تھا۔ بہوئیں بھی برداشت کم کرتی تھیں۔ سسر کی خدمت نہیں کرنا چاہتی تھیں کیونکہ اپنی آزاد زندگی میں پابندی کون برداشت کرتا ہے۔

اسلم کی حالت مجنوں جیسی ہو گئی۔ اسے اب بھی طلب تھی کہ کسی طرح ایک بار پروین کو دیکھ لوں۔ اسی آس میں وہ اکثر پروین کی چھوٹی بہن کے گھر چلا جاتا تھا کیونکہ اس کے گھر پروین کا آنا جانا تھا۔ اس کی چھوٹی بہن نورین کافی خوشحال تھی۔ اس کا شوہر دبئی میں کام کرتا تھا۔ اسی وجہ سے پروین اکثر بہن کے پاس جاتی تھی کہ وہ چپکے چپکے مالی مدد کر دیا کرتی تھی۔ خاندان میں اور کوئی پروین کو بلانا پسند نہیں کرتا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروین کو اب شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔ عشق کا نشہ اترنے لگا اور شیر دل کی مار پیٹ، غلیظ گالیاں روز اس کو تحفے میں ملنے لگیں تو دل کا نازک شیشہ چور چور ہو گیا۔ اوپر سے غربت و افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ وہ تیل، صابن جیسی نعمتوں سے بھی محروم تھی۔ جب لباس گندا ہو جاتا اور سر سے بو آنے لگتی تو وہ چھوٹی بہن کے پاس ہاتھ پھیلانے آ جاتی۔ اس پر بھی شیر دل طعنے دیتا تھا کہ وہ روز کس سے ملنے جاتی ہے اور یہ سوغاتیں کہاں سے بٹور لاتی ہو۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ پروین اپنی بہن نورین کے گھر کے سوا کہیں نہیں جاتی۔وقت نے جلد ہی اس کے چہرے پر جھریاں ڈال دیں۔ عمر سے پہلے بوڑھی لگنے لگی۔ بھوکے پیٹ شیر دل کی مار بھی نہیں کھائی جاتی تھی۔ وہ ان حالات سے فرار کے راستے ڈھونڈنے لگی۔ تب وہ اپنی بہن نورین کے پاس مستقل لاہور آگئی اور سال بھر تک لوٹ کر شیر دل کے گھر نہ گئی۔
نورین کو پروین پر ترس آتا تھا، اس لیے اسے گھر میں رہنے دیا، مگر اب وہ اور اس کے بچے ڈسٹرب تھے اور شوہر سے بھی ڈر تھا جو پروین کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا۔ پروین نہ صرف کام چور بلکہ ناشکری اور چغل خور تھی۔ وہ نورین کی پرسکون زندگی سے حسد کرنے لگی تھی۔ ہر آئے گئے سے اس کی خامیاں گنوانے لگتی۔ اس وجہ سے نورین اور بچے اس نامعقول خالہ سے تنگ آگئے۔ پروین کو اپنا بھیانک بڑھاپا صاف نظر آ رہا تھا، اور ضعیفی کی خواری کا خوف بھی تھا لہٰذا وہ بیٹوں سے صلح کرنا چاہتی تھی، مگر بیٹے کسی صورت اس سے ملنا نہیں چاہتے تھے۔جب خالہ نے بھاگ دوڑ کی، منت سماجت کی، تو نورین کے کہنے پر بڑے تینوں بیٹے ماں سے ملنے آگئے۔ مگر باری باری اور ایک دوسرے سے چھپ کر آئے۔ تینوں ماں سے مل کر بہت روئے۔ ماں کی ممتا بھی جاگ چکی تھی۔ وہ بہت روئی، مگر وقت بیت گیا تھا اور پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا۔اس نے بیٹوں سے کہا کہ تم لوگ مجھے رکھ لو، میں شیر دل سے طلاق لے لیتی ہوں۔ مگر قسمت بار بار مہربان نہیں ہوتی۔ کسی بیٹے نے بھی اسے ساتھ رکھنے کی ہامی نہ بھری۔ اب اس کا بہن کے گھر ٹھہرنا بھی محال ہو گیا کیونکہ نورین کا شوہر چھٹی پر دبئی سے گھر آنے والا تھا اور وہ پروین کو قطعی پسند نہیں کرتا تھا۔ بہن نے اسے مجبور کیا کہ اب وہ اپنے گھر چلی جائے۔ 

پروین نہ مانی تو نورین نے شیر دل کو فون کیا کہ آ کر اپنی بیوی کو لے جاؤ۔اسی دن اسلم بھی نورین کے گھر پہنچ گیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ پروین یہاں ٹھہری ہوئی ہے۔ اتنے عرصے بعد اسے اپنے سامنے دیکھ کر حیران رہ گیا، اور پروین اسے دیکھتے ہی رونے لگی، جس کی حالت فقیروں جیسی تھی۔ پروین نے اسلم سے رو رو کر معافی مانگی۔ اسلم نے کہا کہ اگر تم میرے بچوں کی ماں نہ ہوتیں تو کبھی تم کو معاف نہ کرتا، لیکن میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا اور پیچھے اس کے قدموں کی دھول اڑتی رہ گئی۔اسی شام شیر دل پروین کو لینے آگیا اور وہ بہن کے دباؤ کے باعث اس کے ساتھ جانے سے انکار نہ کر سکی۔ یہ گھر نہیں، جہنم تھا جہاں جانا تھا، مگر یہ زندگی اس کی اپنی منتخب کردہ تھی۔ اتنی آسائشیں چھوڑ کر، اتنا چاہنے والا شوہر چھوڑ کر، اس جہنم میں جانا اس کا اپنا انتخاب تھا۔رخصت ہوتے وقت پروین کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ وہ بار بار پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔ جانتی تھی کہ اب شیر دل اسے قید کر دے گا اور یہی ہوا۔ اس روز کے بعد شیر دل نے پھر کبھی اسے لاہور نہیں آنے دیا اور گھر میں قید کر دیا۔ پروین سے ملنے کے بعد اسلم جانے کہاں غائب ہو گیا کہ اس کا بھی کچھ پتا نہ چلا۔ پروین کی غلطی کے باعث دونوں ہی ایک دردناک انجام سے دوچار ہو گئے تھے۔ اسلم نے باقی تمام زندگی خانہ بدوشی میں گزار دی۔ پروین کے بیٹوں نے شہر بدل لیا، پچھلے سارے حوالے ختم کر دیے، مگر یہ زخم کبھی نہ بھر سکا۔وقت کا کیا ہے، گزر جاتا ہے مگر نادان لوگوں کے لیے صرف پچھتاوے چھوڑ جاتا ہے۔
کچھ عرصہ بعد پتا چلا کہ اسلم بہت بیمار ہے اور اسپتال میں داخل ہے۔ یہ فون ایک واقف کار نے اسپتال سے کیا تھا جہاں وہ کام کرتا تھا اور اسی اسپتال میں اسلم داخل تھا۔ فون ملتے ہی نورین اسپتال گئی اور اپنے بھانجوں کو بھی لے گئی۔ بیٹے باپ کو دیکھ کر دیوانہ وار اس کے سایہ فگن ہو گئے اور پانچوں نے اس پر چھاؤں کر دی۔ وہ تقریباً ایک ماہ زندگی اور موت کی کشمکش میں اسپتال میں رہا۔ بیٹوں نے دن رات باپ کی خدمت اور دیکھ بھال کی۔مرنے سے ایک دن پہلے اسلم نے کافی باتیں کیں۔ اس کی زبان پر پروین کا نام بار بار آ جاتا تھا۔ اسے بڑی فکر تھی کہ جانے وہ کس حال میں جی رہی ہے۔ بیٹوں کو تلقین کی کہ اگر تمہاری ماں کبھی تمہارے در پر آجائے تو اس کے لیے گھر کے دروازے کھول دینا اور کبھی اسے دھتکارنا نہیں، کیونکہ ماں جیسی بھی ہو، اس کا اولاد پر حق ختم نہیں ہوتا۔یہ ہدایت کرتے ہوئے وہ نیک آدمی اس جہاں سے رخصت ہوگیا۔باپ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے بیٹے ماں سے چپکے چپکے بات کر لیتے ہیں، ہر ماہ کچھ رقم بھی بھیج دیتے ہیں، مگر کسی کے سامنے اپنی زندگی کے اس تاریک باب کو نہیں لاتے۔پروین کی کہانی لکھتے ہوئے میں سوچتی ہوں، کبھی کبھی زندگی میں ایک چھوٹی سی لغزش زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔

(ختم شد)
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ