حسن کا جادو

Sublimegate Urdu Stories

ان دنوں ہم ایک چھوٹے علاقے میں رہتے تھے۔ ہمارے گھر کے قریب ایک انڈسٹریل ہوم تھا۔ اس ادارے کی مالکہ ایک بہت اچھی خاتون اور سوشل ورکر تھیں، وہ غریب لڑکیوں سے فیس نہیں لیتی تھیں۔ میں نے وہاں داخلہ لے لیا۔ وہاں عذرا نامی ایک لڑکی سلائی سیکھنے آیا کرتی تھی۔ وہ اکثر خاموش رہتی اور اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔ دوسری لڑکیاں آپس میں ہنسی مذاق کرتیں، مگر وہ یونہی چپ چاپ رہتی تھی، جیسے اندر ہی اندر کڑھ رہی ہو۔

بہت جلد اس پریشان حال لڑکی نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ میں نے چند دنوں کے بعد اس سے اداسی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا، “میرے ابو کا انتقال ہو گیا ہے، ان کا غم مجھے دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔” میں نے اسے تسلی دی کہ قدرت کو یہی منظور تھا۔ “اب تم اپنے بارے میں سوچو، تمہارے والد تو ایسی دنیا میں چلے گئے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آ سکتا۔”

اس کے بعد میں عذرا کا زیادہ خیال رکھنے لگی۔ میں نے محسوس کیا کہ میری توجہ نے اس کے مرجھائے ہوئے دل کی کلی کو کھلا دیا ہے۔ اب وہ میری باتوں پر ہنس دیتی تھی۔ جس روز میں نہ آتی، وہ بے چین ہو جاتی؛ گویا اس کی شخصیت کے خلا کو میری ذات نے پُر کر دیا تھا۔ اچانک امی کو بخار آ گیا تو میں پانچ دن تک سینٹر نہ جا سکی اور ان کی دیکھ بھال میں لگی رہی۔ چھٹے دن جب میں سینٹر گئی تو عذرا کو بہت بے چین پایا۔ وہ بے حد پریشان تھی اور مجھے دیکھتے ہی رونے لگی۔ کہنے لگی، “خدا کے لیے اتنی لمبی چھٹی نہ کیا کرو۔ تم سے نہ ملوں تو تنہائی کا زہر مجھے ہلاک کرنے لگتا ہے۔”

“اتنی سی عمر میں ایسی بڑی بڑی باتیں نہ کیا کرو،” میں نے اسے سمجھایا۔ “دیکھو، ہمارا ساتھ عارضی ہے۔ جب ہم انڈسٹریل ہوم سے چلے جائیں گے، تب روز نہ مل سکیں گے، پھر تم کیا کرو گی؟”

اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، “ابو کے انتقال کے بعد خاندان والوں نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے، کوئی بھی ملنے نہیں آتا۔ امی نے بھی سب رشتے داروں سے آس ہٹا لی ہے، لیکن مجھے اپنی کزنز یاد آتی ہیں۔ چچا اور پھپھو کی لڑکیاں جو ہماری سہیلیاں تھیں اور کبھی ہمارے گھر آیا کرتی تھیں، اب نہیں آتیں تو میں کیسے جاؤں؟ امی بھی اب ان کے گھر نہیں جاتیں، اسی لیے وہ بیمار رہنے لگی ہیں۔ میں گھر میں سب سے بڑی ہوں۔”

اس کی بات سن کر میں نے کہا، “دھیرج پکڑو عذرا! اگر بڑی ہو تو دل بھی بڑا کرو۔ ایسے مسائل تو اکثر لوگوں کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔ اگر تم ہمت ہار بیٹھو گی تو تمہارے چھوٹے بہن بھائیوں کا کیا بنے گا؟” “یہ تو ہے،” وہ سر ہلانے لگی۔ “تم صحیح کہتی ہو، مجھے حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔ ہمارا کوئی نہیں ہے، لیکن تم مجھے مل گئی ہو تو اب زمانے کی کیا پروا۔”

عذرا کی تین بہنیں اور دو چھوٹے بھائی تھے۔ بڑا کنبہ ہونے کی وجہ سے ان کے معاشی حالات خراب تھے، اسی لیے آٹھویں کے بعد اسے اسکول سے اٹھا لیا گیا تھا۔ گھر کے کام کی ذمہ داری بھی عذرا پر آ پڑی تو وہ گھبرا گئی۔ اتنی چھوٹی عمر میں گھر سنبھالنا، بیمار ماں کی دیکھ بھال اور بہن بھائیوں کی پرورش؛ ان ذمہ داریوں نے اسے وقت سے پہلے بڑا بنا دیا تھا۔ جب عذرا کی ماں کی طبیعت ٹھیک ہوتی تو وہ کپڑے سینے بیٹھ جاتی، جس کی آمدنی سے گھر کا سودا سلف آ جاتا تھا۔ باقی تمام کام عذرا ہی کو کرنا پڑتا تھا۔ اس کے والد نے اپنی زندگی میں ایک چھوٹا سا مکان تعمیر کروا لیا تھا جسے انہوں نے کرایے پر اٹھا رکھا تھا۔ کرایے دار شریف لوگ تھے جو ہر ماہ خود آ کر کرایہ دے جاتے تھے، یوں ان کا گزارہ چل رہا تھا۔ عذرا اکثر مجھ سے کہتی، “تمہارے پاس آنے کے بعد میرا گھر جانے کو دل نہیں کرتا، وہاں ڈھیروں کام میرے منتظر ہوتے ہیں۔ میں روز روز کے کاموں سے تھک گئی ہوں۔”

ایک دن وہ سینٹر دیر سے آئی۔ میڈم نے پوچھا، “آج اتنی دیر سے کیوں آئی ہو؟” وہ چپ رہی تو میڈم نے ڈانٹا، “دیکھو عذرا! اگر تم آئندہ لیٹ آئیں تو میں تمہارا نام کاٹ دوں گی۔” وہ پھر بھی کچھ نہ بولی۔ میں حیران تھی کہ وہ معذرت کیوں نہیں کر لیتی۔ اس دن میں اپنی قینچی لانا بھول گئی تھی، اس سے قینچی مانگی تو بولی، “بیگ سے نکال لو۔” میں نے بیگ کھولا تو اس میں چوہے مار دوا پڑی تھی۔ “عذرا! یہ تم نے بیگ میں کیوں رکھی ہے؟” میں نے پوچھا، مگر وہ بات ٹال گئی۔

کلاس ختم ہوئی تو ہم دونوں سینٹر سے باہر آئیں۔ اب میں اس کے سر ہو گئی کہ بتاؤ آخر یہ دوا بیگ میں کیوں ہے؟ تب اسے بتانا ہی پڑا۔ وہ یوں گویا ہوئی: “میں امی کی دوا لینے میڈیکل اسٹور جاتی تھی، وہاں ایک کمپاؤنڈر اکرم مجھ سے بڑے اخلاق سے پیش آتا اور جلدی دوا بنا دیتا تھا۔ کبھی پیسے کم ہوتے تو اپنی طرف سے پورے کر دیتا اور کہتا کہ بعد میں دے دینا۔ میں اس کی مشکور تھی اور دل سے اس کی عزت کرنے لگی۔ ایک دن امی کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی، میں ڈاکٹر کو بلانے گئی تو وہ وہاں نہیں تھے، مگر اکرم موجود تھا۔ اس نے میری گھبراہٹ بھانپ لی اور کہا کہ جب تک ڈاکٹر صاحب نہیں آتے، میں چل کر تمہاری امی کو دیکھ لیتا ہوں۔ وہ میرے ساتھ گھر آیا، امی کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اس نے انجکشن لگایا جس سے ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ وہ اگلے دن بھی مزاج پرسی کے لیے آیا، تب تو امی اخلاق سے ملیں، لیکن جب وہ تیسرے دن بھی آیا تو امی کو برا لگا اور انہوں نے کہہ دیا کہ بیٹا! میں اب ٹھیک ہوں، آئندہ تم تکلیف نہ کرنا۔”

“اکرم جان گیا کہ میری ماں کسی غیر نوجوان کا بار بار گھر آنا پسند نہیں کرتیں، لیکن اسے مجھ سے ملنا تھا۔ سو جب میں سینٹر آنے لگی تو وہ مجھے راستے میں مل گیا اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ مجھے بھی ایک دوست کی ضرورت تھی، میں اس کی باتوں میں آنے لگی۔ ایک دن ہم گلی میں کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ ہمارے پڑوسی ابرار نے دیکھ لیا۔ اس کے چہرے پر ناگواری تھی، میں ڈر گئی کہ وہ امی سے شکایت نہ کر دے۔ میں نے اکرم سے کہا کہ اب میں تم سے راستے میں نہیں ملوں گی، اگر تم سنجیدہ ہو تو اپنی امی کو ہمارے گھر بھیجو۔ اس کے بعد وہ کافی دن نظر نہ آیا۔”

“مجھے افسوس ہوا کہ اکرم ایک مطلبی شخص نکلا۔ کچھ دن بعد امی کی طبیعت پھر خراب ہوئی تو مجھے کلینک جانا پڑا۔ اکرم نے مجھے دیکھا مگر دوسرے مریضوں میں مصروف رہا۔ میں نے خود جا کر اسے پکارا کہ امی کی طبیعت خراب ہے دوا بنا دو، تو اس نے ان سنی کر دی۔ وہ ایسا انجان بن گیا جیسے مجھے جانتا ہی نہیں۔ مجھے بڑی توہین محسوس ہوئی۔ گھر آئی تو امی نے ڈانٹا کہ دوا کیوں نہیں لائیں؟ تم کلینک گئی ہی نہیں، آخر کہاں گئی تھی؟ امی کے شک نے میرا دل زخمی کر دیا۔ وہ مجھے بری لڑکی سمجھ رہی ہیں، یہی خیال مجھے مارے ڈال رہا ہے۔ اب جینے سے جی اچاٹ ہو گیا ہے، سوچا ہے کچھ کھا کر مر جاؤں، اس لیے یہ دوا خریدی ہے۔”
میں عذرا کی باتیں سن کر حیران رہ گئی۔ میں نے اسے سمجھایا کہ خودکشی حرام اور بہت بڑا گناہ ہے۔ “تم نے سیدھے دوزخ میں جانے کا پروگرام بنا لیا ہے؟ اس میں تمہاری بھی غلطی ہے۔ تم اپنی امی کا تو سوچو، تمہارے بعد ان کا کیا ہوگا؟ وہ تم پر اعتبار کرتی ہیں اسی لیے اکیلے باہر بھیجتی ہیں۔ اپنا دل مضبوط کرو اور اپنی ماں کا اعتماد بحال کرو۔” میری باتوں کا اثر ہوا، اس نے دوا نالی میں پھینک دی اور پہلی بار فرمائش کی کہ میں اس کے گھر چلوں۔

اس کا گھر ہمارے راستے میں ہی پڑتا تھا۔ صحن میں برتنوں کا ڈھیر لگا تھا اور گھر کا سارا کام بکھرا پڑا تھا۔ در و دیوار سے بے چارگی برس رہی تھی۔ عذرا کچن میں چائے بنانے لگی تو میں نے اسے روک دیا اور گلے لگا کر کہا، “عذرا! میں مہمان نہیں تمہاری دوست ہوں۔” وہ میرے گلے لگ کر خوب روئی۔ میں نے اس کے آنسو پونچھے اور اسے دوبارہ نہ رونے کا حوصلہ دیا۔ ہم اس کی ماں کے پاس جا بیٹھے، وہ بہت ناامید زندگی گزار رہی تھیں۔ اس دن گھر آ کر میں نے امی کو سارا حال سنایا تو انہوں نے بھی ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک ہفتے بعد میں اور امی عذرا کے گھر گئے۔ باتوں باتوں میں پتا چلا کہ وہ ہماری امی کی دور کی رشتے دار بھی ہیں۔ اس ملاقات نے ہمیں مزید قریب کر دیا۔ میری دوستی نے عذرا کو بااعتماد بنا دیا، اب وہ مسکرانا سیکھ گئی تھی۔

میں نے بی اے کر لیا مگر عذرا گھریلو حالات کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ وہ اب فارغ وقت میں ماں کے ساتھ سلائی کرتی اور چھوٹے بہن بھائی اسکول جاتے۔ میری امی سے جو بن پڑتا وہ خاموشی سے ان کی مدد کر دیتیں۔ ہمارے ماموں (جو شاید ڈاکٹر تھے) ہر ہفتے وہاں جاتے، انہوں نے تشخیص کی کہ عذرا کی امی کو ٹی بی کا پہلا مرحلہ ہے۔ علاج شروع ہوا تو وہ بھلی چنگی ہو گئیں۔ جب گھر کی سرپرست صحت یاب ہوئیں تو گھر کا بکھرا ہوا شیرازہ سنبھل گیا۔ امی تمام خاندان سے زکوٰۃ کی رقم جمع کر کے ان کے ہاں سال بھر کا اناج بھجوا دیتیں۔ یہ میری ماں کی نیکی تھی جس نے ایک ڈوبتے کنبے کو بچا لیا۔

ماموں عذرا کی ہمت اور سلیقے سے بہت متاثر تھے۔ عذرا خوبصورت تھی، اگرچہ غربت نے نکھار چھین لیا تھا۔ ماموں نے امی سے کہا کہ وہ اپنے بیٹے زوہیب کے لیے عذرا کا رشتہ لے لیں۔ زوہیب بی کام کر رہا تھا، اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ عذرا صرف آٹھویں پاس ہے۔ امی نے زور نہیں دیا، مگر ماموں کو اس گھرانے سے لگاؤ ہو چکا تھا۔ انہوں نے اپنے منجھلے بیٹے احسن کو آمادہ کر لیا جو ایک ورکشاپ میں ملازمت کرتا تھا۔
عذرا بہت خوش قسمت نکلی۔ شادی کے بعد اس نے ہمت نہ ہاری، پڑھائی جاری رکھی اور محنت کر کے ایف ایس سی میں بہترین نمبر لیے، جس کے بعد اس کا داخلہ میڈیکل کالج میں ہو گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ جو کل نانِ شبینہ (ایک وقت کی روٹی) کو ترستے تھے، وہ اپنی محنت سے خوشحال ہو گئے۔ عذرا کا بھائی عارف سعودی عرب چلا گیا اور وہاں اپنی ورکشاپ قائم کر لی۔ پھر عذرا اور اس کے باقی بھائی بھی وہاں چلے گئے۔

آج میری بھی شادی ہو چکی ہے اور میں خوش ہوں، لیکن اتنی دولت میرے پاس نہیں جتنی عذرا کے پاس ہے۔ عذرا کے بھائی اب بہت دولت مند ہیں۔ خدا نے ماموں جان کو ان کی نیکی کا صلہ دیا۔ عذرا نیک بخت بن کر ان کے گھر آئی اور آج ان کی اپنی بیٹیوں کے رشتے بھی بہت اچھے گھرانوں میں ہوئے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ میں نے صرف ایک مایوس لڑکی کو حوصلہ دیا تھا، جس نے صبر و ہمت سے حالات کا مقابلہ کیا اور تقدیر اس پر مہربان ہو گئی۔ سچ ہے کہ ہم کل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، لیکن صبر، شکر اور ہمت سے کام لینے والے ایک نہ ایک دن روشن سورج ضرور دیکھتے ہیں۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ