ہوس کی بھٹی

Urdu Stories

عارفہ میری بچپن کی سہیلی تھی اور رشتے میں کزن لگتی تھی، مگر ہم دونوں کو دوستی رشتہ داری سے زیادہ پیاری تھی۔ گھر ساتھ ساتھ تھے لہذا روز ہی ملاقات رہتی تھی۔ انٹر تک ساتھ پڑھا پھر اس نے پڑھائی چھوڑ دی اور بیوٹی پارلر کا کورس کرنے لگی۔ چونکہ پڑھائی سے اسے دلچسپی نہ تھی، والدین نے بھی سوچا کہ جو کرنا چاہتی ہے کر لے، ہاتھ میں کچھ ہنر تو آئے۔ عارفہ کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا جہاں اخراجات زیادہ اور آمدنی کم ہوتی ہے اور سفید پوشی کا بھرم رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کارن والدین نے اسے یہ کورس کرنے دیا کیونکہ وہ کسی دوسرے شعبے میں جانے کے لیے تیار نہ تھی۔ بیوٹی پارلر کھولنے کا اسے شروع سے شوق تھا۔ والدین نے سمجھایا کہ بی اے کر لو مگر وہ نہیں مانی۔

میں نے بی اے کر لیا تو ایک اچھی کمپنی میں جاب مل گئی اور میں ڈیوٹی پر جانے لگی۔ تنخواہ اچھی تھی، پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی حاصل تھی لہذا میں اپنی جاب سے مطمئن تھی، جبکہ عارفہ بیوٹی پارلر کا کورس مکمل کرنے کے بعد بھی بے روزگار تھی اور کوئی ملازمت حاصل نہ کر سکی تھی۔ وہ اکثر چھٹی کے روز میرے پاس آتی اور تقریباً سارا دن ہم ساتھ گزارتے۔ وہ کہتی: “میرے لیے بھی اپنی کمپنی میں کوئی ملازمت دیکھو، بے کار رہنے کی وجہ سے پریشان رہتی ہوں۔” میں تسلی دیتی: “ضرور دیکھوں گی، اگر کسی لڑکی نے ملازمت چھوڑی تو اس کی جگہ تمہارے لیے اپنے منیجر صاحب سے بات کروں گی۔” ایسے ہی دن گزرتے رہے اور سال بیت گیا۔ عارفہ اب ہاتھ ملتی تھی کہ گریجویشن کیوں نہ کر لی، کیونکہ معمولی ملازمت کے لیے بھی اب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی مانگ تھی۔ انہی دنوں عارفہ کی پھوپھی حیدرآباد سے آگئیں۔ وہ عارفہ کے ہاں ٹھہریں، ان کا بیٹا اسد بھی ساتھ آیا تھا۔ عارفہ ہنس مکھ تھی، اسد کو پسند آگئی۔ میری اس دوست میں یہ بڑی خوبی تھی کہ وہ بہت مہمان نواز تھی اور گھر آئے مہمانوں کی دل سے خدمت کرتی تھی۔ تبھی اس نے اپنی پھوپھی کا دل موہ لیا اور انہوں نے اپنے بھائی سے عارفہ کا رشتہ مانگ لیا۔

اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، والدین کو ہمیشہ اچھے رشتوں کی تلاش رہتی ہے۔ انہوں نے فوراً اپنی بہن کو ہاں کر دی کیونکہ اسد ایک ہونہار اور لائق لڑکا تھا۔ وہ بینک میں ملازمت کرتا تھا اور تنخواہ معقول تھی، لہذا “چٹ منگنی پٹ بیاہ” والی بات ہو گئی اور عارفہ کی منگنی اسد سے طے پاگئی۔ خوش قسمتی سے انہی دنوں اسد کا تبادلہ حیدرآباد سے کراچی ہوا تو انہوں نے ہماری گلی میں ہی کرائے پر مکان لے لیا۔ پھوپھی تقریباً روز ہی ان کے گھر جانے لگیں۔ عارفہ اس رشتے سے خوش تھی کیونکہ اسد ایک خوبصورت اور نیک سیرت لڑکا تھا، اور سب سے بڑھ کر وہ اپنا تھا۔ روز ان کی ملاقات ہو جاتی۔ وہ اپنے ماموں کے گھر جاتا تو کچھ نہ کچھ لے کر جاتا اور عارفہ بھی تحائف پا کر خوش ہوتی۔ اس بات پر کسی نے اعتراض نہ کیا کیونکہ بہت جلد دونوں شادی کے بندھن میں بندھنے والے تھے۔

منگنی کو سال گزر گیا تو پھوپھی نے شادی کے لیے اصرار شروع کر دیا جبکہ عارفہ کے والدین تھوڑا وقت لینا چاہتے تھے تاکہ جہیز مکمل ہو جائے۔ وہ بیٹی کو پورے طریقے اور سلیقے سے رخصت کرنا چاہتے تھے۔ اس دوران عارفہ نے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن اسے کہیں ملازمت نہ مل سکی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ انہی دنوں اس کے ابو بیمار ہو گئے اور انہوں نے آفس سے رخصت لے لی۔ علاج پر روپیہ خرچ ہونے لگا تو ان لوگوں کے معاشی حالات خراب ہوتے گئے۔ گھر میں پریشانیاں بڑھیں، چھوٹے بہن بھائی پڑھ رہے تھے اور عارفہ بڑی اولاد ہونے کے ناطے ان پریشانیوں کو زیادہ محسوس کرتی تھی۔ ادھر پھوپھی بیٹے کی شادی کر دینا چاہتی تھیں، مگر عارفہ کہتی تھی کہ پہلے گھر کے حالات سنبھل جائیں پھر شادی کروں گی۔

وہ تندہی سے ملازمت کی تلاش میں لگ گئی اور کئی بیوٹی پارلرز میں بھی گئی۔ آخر اسے ایک جگہ جاب مل گئی۔ جس شخص کا یہ بیوٹی پارلر تھا، وہ ایک ادھیڑ عمر شخص تھا، خاصا بدشکل مگر دولت مند۔ جب اس نے عارفہ کو دیکھا تو فوراً ملازمت دے دی۔ اس شخص کا نام اللہ دتہ تھا۔ اسے اپنے پارلر میں کسی کارکن کی ضرورت نہ تھی لیکن عارفہ پہلی نظر میں اسے پسند آگئی تو اس نے اسے ہاتھ سے جانے نہ دیا اور معقول معاوضے کی پیشکش کر دی، حالانکہ لڑکی کو پہلے سے کام کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ عارفہ ملازمت پر جانے لگی۔ یہ بات پھوپھی اور اسد کو اچھی نہ لگی مگر گھر کی مجبوری دیکھ کر وہ چپ ہو گئے۔ پھوپھی چاہتی تھی کہ بھائی جلد صحت یاب ہو جائے تاکہ وہ عارفہ کو بہو بنا کر گھر لے آئے۔ ملازمت پر گئے ابھی چند روز ہی ہوئے تھے کہ رکشہ کی بجائے وہ کار میں آنے جانے لگی۔ یہ کار بیوٹی پارلر والے کی تھی۔ اس کا ڈرائیور روز گھر کے دروازے پر کار لاتا اور عارفہ ٹھاٹ سے اس میں سوار ہو کر چلی جاتی۔

یہ سب اسد نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جو وہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ کوئی بھی منگیتر بھلا ایسے نظارے کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کی منگیتر اپنے باس کی ذاتی گاڑی میں ڈیوٹی پر آئے جائے؟ وہ یہ دیکھ کر ایسا گم صم ہوا کہ دفتر جانے کی بجائے گھر واپس آگیا اور بوجھل قدموں سے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ ماں نے پوچھا: “بیٹا کیا بات ہے؟ آج آفس نہیں جا رہے؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟” اس نے جواب دیا: “ہاں ماں، ویسے ہی دل پر کچھ بوجھ سا ہے، سونا چاہتا ہوں۔” اسد نے دفتر فون کر دیا کہ طبیعت ناساز ہے، چونکہ وہ ایک فرض شناس آفیسر تھا اس لیے اسے آسانی سے چھٹی مل گئی۔ شام کو جب عارفہ واپس آئی تو اسد اس کے گھر گیا اور سمجھایا کہ نوکری پر اس طرح جانا ٹھیک نہیں، لوگ باتیں کریں گے اور تم بدنام ہو جاؤ گی۔ عارفہ نے درشتی سے کہا: “بدنامی کس بات کی؟ کیا لوگ دفتر کی سواری میں ڈیوٹی پر نہیں جاتے؟” اسد نے کہا: “جاتے ہیں لیکن وہ اور طرح کی سواری ہوتی ہے، باس کی قیمتی کار نہیں ہوتی۔” عارفہ نے تیکھے لہجے میں پوچھا: “آخر تم کیا چاہتے ہو؟” اب اس کا لہجہ اور رویہ بالکل بدل گیا تھا۔ اسد نے کہا: “میں چاہتا ہوں کہ تم گھر سے چادر لے کر نکلو اور غیر مردوں سے دور رہو۔” اتنا سننا تھا کہ وہ بھڑک اٹھی اور تیوری چڑھا کر بولی: “میں جو چاہوں کروں، تم کون ہوتے ہو مجھ پر دھونس جمانے والے؟ میں نے تمہیں کبھی کسی کام سے نہیں روکا تو تم کیوں روک رہے ہو؟” اسد نے کہا: “میں تمہارا ہونے والا جیون ساتھی ہوں، زمانے کی اونچ نیچ سمجھتا ہوں۔” عارفہ نے جواب دیا: “میں بھی اب ورکنگ وومن ہوں، باہر کی دنیا دیکھنے لگی ہوں، اور ہاں! کان کھول کر سن لو کہ میں اب تم جیسے غریب آدمی سے شادی نہیں کر سکتی۔”

اسد اپنی منگیتر کی رعونت سے اس قدر دلبرداشتہ ہوا کہ اس نے آفس سے چھٹی لے لی اور منگنی کی البم بھی جلا دی۔ ماں کے منع کرنے پر بھی وہ نہ مانا اور یوں عارفہ سے رشتہ توڑ بیٹھا۔ اسد اسے دل سے چاہتا تھا، اس لیے رشتہ ٹوٹنے پر بے بس ہو کر آنسو بہاتا رہا مگر عارفہ کو اب اس سے کوئی سروکار نہ تھا۔ چند دنوں بعد ہی پتا چلا کہ اس کا رشتہ اللہ دتہ سے طے ہو گیا ہے جو اس کا باس تھا۔ ایک ماہ بعد شادی ہوگئی۔ دولہا کالا، موٹا اور بھدا تھا، سب نے تعجب کیا لیکن عارفہ خوش تھی۔ اسد اور پھوپھی کے سوا سبھی شادی میں شریک ہوئے۔ محلے والے رشک کر رہے تھے کہ عارفہ کی قسمت کھل گئی ہے۔ کوٹھی بہت بڑی تھی اور باغیچہ ایسا خوبصورت جیسے شالیمار گارڈن ہو۔ شادی کے بعد وہ حیدرآباد آگئی کیونکہ اس کا سسرال وہیں تھا۔
 
 اسد اپنی محبت کو اپنے ہی شہر میں دیکھ کر غم میں مبتلا ہوا اور شراب کا سہارا لیا، لیکن جلد ہی اچھے دوستوں کی مدد سے سنبھل گیا۔ عارفہ نے اللہ دتہ کے گھر کا نظام بدل دیا اور ہر معاملے میں دخل دینے لگی۔ وہ اپنے شوہر کی تیسری بیوی تھی جبکہ اللہ دتہ دو بیویوں کو طلاق دے چکا تھا۔ گھر کا انتظام اس کی ماں سنبھالتی تھی۔ عارفہ نے ساس کو ایک خبطی بوڑھی کہہ کر ایک طرف کر دیا اور خود تمام اختیارات سنبھال لیے۔ جلد ہی اس نے شوہر کو مٹھی میں کر لیا اور اصرار کرنے لگی کہ جب سارا کاروبار کراچی میں ہے تو وہاں کوٹھی بنوا لو اور حیدرآباد والی بیچ دو۔ اس کا منصوبہ تھا کہ کراچی کی جائیداد اپنے نام کرالے گی۔ اللہ دتہ اس کی ترغیب میں آگیا اور وہ لوگ مستقل کراچی آگئے۔
انہی دنوں عارفہ کے والد کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے اسے منحوس کہنا شروع کر دیا۔ ان باتوں سے دلبرداشتہ ہو کر وہ واپس اپنے گھر چلی گئی۔ عارفہ کو بچی کی پرورش میں خاصی دقت محسوس ہوتی تھی، صحیح دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بچی بیمار پڑ گئی۔ خدا جانے اسے کیسی بیماری لگی کہ وہ تندرست نہ ہو سکی۔ دس برس گزر گئے، وہ بچی نہ اپنے پاؤں پر چل سکتی تھی نہ بیٹھ سکتی تھی، بس بستر پر لیٹی رہتی۔ عارفہ کو اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا اور کپڑے بدلنا پڑتے، یہ ایک تھکا دینے والا کام تھا۔ اب وہ اپنی ماں یا ساس کو یاد کرتی تھی لیکن دونوں خفا تھیں۔ ان حالات کی وجہ سے اللہ دتہ کا کاروبار زوال کا شکار ہو گیا اور اس کا بیوٹی پارلر بھی بند ہو گیا۔ اب صرف تین دکانوں کا کرایہ آتا تھا جس پر گزر بسر ہوتی تھی۔ انہی دنوں بیٹی صوفیہ کی حالت بگڑی تو اسے سرکاری اسپتال لے جانا پڑا۔ جس مکان میں رہتے تھے وہ بک گیا اور کرائے کے مکان میں منتقل ہونا پڑا۔ عارفہ کے ایک کزن محمود نے ترس کھا کر اپنا خالی مکان انہیں رہنے کے لیے دے دیا جس کا بل بھی وہی ادا کرتا تھا۔ عارفہ اب اپنے شوہر سے لڑنے جھگڑنے لگی کیونکہ بچی کی بیماری اور مفلسی نے اسے چڑچڑا کر دیا تھا۔ اللہ دتہ نے بھی کام کاج چھوڑ دیا اور گھر بیٹھ گیا۔ عارفہ نے بچی کی ذمہ داری اسے سونپی اور خود پارلر میں جاب شروع کر دی۔

جب محمود کی بیوی کو پتا چلا کہ عارفہ ان کے مکان میں ہے تو وہ لڑنے آگئی اور گھر خالی کروا لیا۔ یہ لوگ مجبوراً ایک گندے نالے کے قریب ایک چھوٹے سے کمرے میں شفٹ ہو گئے۔ انہی دنوں بیٹی کا انتقال ہو گیا تو وہ اور بھی دل گرفتہ ہو گئی۔ اسے اپنی ساس اور سسر کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا احساس ہوا جنہیں اس نے گھر سے بے دخل کیا تھا۔ بیٹی کے مرنے کے بعد وہ جاب کے بہانے غیر مردوں سے ملنے لگی، جس پر شوہر نے احتجاج کیا اور اس کی پٹائی کر دی۔ عارفہ نے غصے میں آکر اسے کھانے میں پارہ دے دیا، جس سے اس کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ اسپتال میں دم توڑ گیا۔ عارفہ اس کی میت پر بھی نہ آئی اور لوگوں کو بتایا کہ ان کی طلاق ہو چکی تھی۔
انہی دنوں ہمارے آفس میں ایک جگہ خالی ہوئی تو میں نے سفارش کر کے عارفہ کو نوکری دلوا دی۔ وہ پارلر چھوڑ کر ادھر آگئی۔ وہاں تنویر نامی ایک شخص سے اس کی دوستی ہو گئی جو اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ عارفہ اکثر تنویر کے گھر جانے لگی اور اس کی ماں اسے پسند کرنے لگی۔ تنویر کی عمر کوئی بتیس برس تھی اور وہ شادی کرنا چاہتا تھا۔ جب بات آگے بڑھی تو عارفہ نے ان سے جھوٹ بولا کہ وہ غیر شادی شدہ ہے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ حقیقت مت چھپاؤ ورنہ نقصان ہو گا، مگر وہ نہ مانی۔ رشتہ طے ہو گیا لیکن شادی سے چند دن پہلے تنویر کو پتا چل گیا کہ عارفہ نہ صرف شادی شدہ تھی بلکہ ایک بچی کی ماں بھی تھی اور اب بیوہ ہے۔ تنویر کی ماں نے ایک جھوٹی عورت کو بہو بنانے سے انکار کر دیا اور تنویر نے بھی معذرت کر لی۔ تنویر ملازمت چھوڑ کر واپس سیالکوٹ چلا گیا جس کا عارفہ کو بہت دکھ ہوا۔ میں اسے سمجھاتی تھی کہ دکھ نہ کرو، اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے۔ ایک دن وہ بینک میں کسی کام سے گئی تو وہاں اسے اسد نظر آیا، جو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ ایک خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا۔ اسے دیکھ کر عارفہ کو اپنی تمام غلطیوں اور دولت کی ہوس کا شدت سے احساس ہوا، مگر اب پچھتانے سے کچھ حاصل نہ تھا کیونکہ اس کا اپنا لگایا ہوا جھوٹ کا پودا اب ایک کانٹے دار درخت بن چکا تھا۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ