بدنامی کی رات

Urdu Stories

شاد صاحب ہمارے محلے میں عرصے سے رہ رہے تھے۔ انہوں نے بہت تھوڑے سرمائے سے کاروبار شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں میں کھیلنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت مند بنانا تھا، اس لیے ان کے کاروبار میں برکت دے دی۔ ممکن ہے کہ خالق کو اس شخص کی کوئی نیکی پسند آگئی ہو، ورنہ فہم و فراست، تدبر اور اعلیٰ تعلیم نام کی کوئی ایسی خوبی ان میں نہ تھی جو جلد متمول ہونے میں مدد دیتی۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں، مینا اور تہمینہ۔ مینا میری ہم عمر تھی اور مجھ سے اس کی دوستی بھی تھی۔ یہ دونوں اکثر ہمارے گھر آیا کرتی تھیں۔ ان کی ماں ایک سیدھی سادی عورت تھی۔ تعلیم یافتہ اور معاملہ فہم نہ ہونے کی وجہ سے جلدی سب پر اعتبار کر لیا کرتی تھی۔

جب دولت کی ریل پیل ہو گئی، تو شاد صاحب کو اپنا گھر چھوٹا محسوس ہونے لگا۔ گھر کے قریب ہی ایک بڑا سا پلاٹ بک رہا تھا۔ انہوں نے وہ پلاٹ زیادہ داموں میں خرید لیا، تاکہ حسبِ منشا نئے مکان کی تعمیر کروا سکیں۔ اب وہ شہر کے بڑے اور معروف تاجر تھے۔ انہیں کام کے سلسلے میں اکثر گھر سے دور بھی جانا پڑتا تھا۔ انہیں نئے مکان کی تعمیر کرانی تھی، وہ کسی ماہرِ تعمیر کی تلاش میں سرگرداں تھے اور اس سلسلے میں کئی لوگوں سے مل بھی چکے تھے۔ ایک روز شاد صاحب والد سے ملنے آئے، تو مکان کی تعمیر کا تذکرہ چھڑ گیا۔ ہمارے ایک رشتے دار بھی وہاں بیٹھے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک واقف کار اچھا ٹھیکیدار ہے، وہ کل شام کو اس کو لے آئیں گے۔ اگلے دن وہ ٹھیکیدار طاہر کو لے کر شاد صاحب کے پاس چلے گئے۔

طاہر پنجاب کا رہنے والا تھا۔ وہ ٹھیکے لے کر نئے مکانات وغیرہ تعمیر کرتا تھا۔ ابتدائی بات چیت کے بعد شاد صاحب نے اپنے مکان کی تعمیر کا ٹھیکہ اس کو دے دیا۔ طاہر ایک خوبصورت نوجوان تھا؛ اونچا لمبا اور سرخ سفید رنگت کا مالک۔ جو بھی ملتا، اس کی شخصیت سے متاثر ہو جاتا تھا۔ وہ بااعتماد اور ہنس مکھ بھی تھا۔ غالباً انہی خوبیوں کے باعث طاہر راج مستری سے ٹھیکیدار بن گیا تھا۔ اگلے دن سے کام شروع ہو گیا۔ طاہر نے کچھ مزدور ساتھ لگائے اور شاد صاحب کے مکان کے ساتھ والے پلاٹ پر ریت، بجری اور سیمنٹ کے ٹرک اترنے لگے۔ طاہر واقعی محنتی اور اپنے کام کا ماہر آدمی تھا۔ ایک ماہ میں اس نے خاصا کام کر دکھایا، تو شاد صاحب کے دل میں اس کی عزت بڑھ گئی۔ طاہر کی رہائش کا مسئلہ تھا، شاد صاحب نے اپنے گھر کی بیٹھک اس کو دے دی۔ وہ کھانا بھی ان کے گھر سے ہی کھاتا تھا۔ دن میں تین بار اس کو چائے بھجوائی جاتی۔ شاد صاحب عام دنوں میں رات گئے لوٹتے تھے، لہٰذا چھٹی کے دن پلاٹ کا معائنہ کرتے اور طاہر اور مزدوروں کو ہدایت بھی دیتے تھے؛ یوں وہ اپنے ٹھیکیدار کے کام سے خوش اور مطمئن تھے۔

بیٹھک میں ٹھہرائے جانے کے باعث طاہر کا تعلق شاد صاحب کے گھر والوں سے بھی ہو گیا تھا۔ بطور مہمان اس کو کسی شے کی ضرورت ہوتی تو گھر کی خواتین ملازم کے ذریعے مہیا کر دیتی تھیں۔ اس کے کھانے پینے کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ شاد صاحب کی ہدایت تھی کہ طاہر پردیسی ہے اور ہمارا کام دلجمعی سے کر رہا ہے، لہٰذا اس کو کسی چیز کی تکلیف نہ ہو۔

میں کچھ دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ مینا، طاہر کی ذات میں غیر معمولی دلچسپی لے رہی تھی، جس کی وجہ طاہر کی ظاہری شکل و صورت تھی۔ وہ جب بھی اپنی بہن کے ساتھ ہمارے گھر آتی، اس کی گفتگو کا محور طاہر کی ذات ہی ہوتی تھی۔ شروع میں تو میں نے زیادہ دھیان نہ دیا کیونکہ مجھے ایک اجنبی کے ذکر سے کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن پھر میں مینا کی باتوں پر غور کرنے پر مجبور ہو گئی اور آخر ایک دن میں نے کہہ ہی دیا: “مینا! کیا بات ہے، تم گھما پھرا کر ایک ہی ذکر لے بیٹھتی ہو۔ اب تو مجھے طاہر صاحب کو دیکھنا ہی پڑے گا۔” اگلے روز جب میں ان کے گھر گئی، تو اتفاق سے طاہر بیٹھک میں کھانا کھا رہا تھا۔ مینا نے کہا: “تم اس کو ذرا دیکھو تو سہی۔” مینا نے مجھے قریب بلایا اور میں نے کھڑکی کے سوراخ پر آنکھ جما دی۔ بیٹھک میں چارپائی پر ایک خوبرو جوان بیٹھا بڑے اطمینان سے کھانا کھانے میں مشغول تھا۔ صورت تو اچھی تھی اس کی، لیکن میں نے اپنی سہیلی کا دل برا کرنے کو کہہ دیا کہ یہ تو بالکل بھی اچھا نہیں ہے، کتنا موٹا ہے۔ کیا یہی ہے جس کی تعریف میں تم آسمان کے قلابے ملاتی رہتی تھیں؟ وہ میرے اس تبصرے پر جھینپ گئی۔ اس کو توقع نہ تھی کہ میں ایسا کچھ کہہ دوں گی۔ میں نے جان بوجھ کر ایسا کہا تھا تاکہ وہ جو سوچ رہی ہے، اس سے قدم پیچھے ہٹا لے۔

مینا اور طاہر کا جوڑ کسی طرح نہیں بنتا تھا۔ ذات پات کے فرق کے علاوہ دونوں میں طبقاتی فرق بھی واضح تھا۔ مینا ایک امیر باپ کی بیٹی تھی، جبکہ طاہر ایک عام مزدور تھا۔ بھلا دونوں کی جوڑی کیسے بن سکتی تھی؟ میں چاہتی تھی کہ مینا کو سمجھا دوں تاکہ وہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے ارادے سے باز آ جائے، تاکہ اس کا مستقبل اور اس کے والد کی عزت، دونوں ہی داؤ پر لگنے سے بچ جائیں۔ مینا صرف آٹھویں پاس تھی، اسے پڑھائی سے دلچسپی نہ تھی، اسی لیے اس نے مڈل کے بعد اسکول جانا چھوڑ دیا تھا، جبکہ تہمینہ اب بھی اسکول جاتی تھی۔ تاہم مینا کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی خوبصورتی سے نوازا تھا اور اس کے حسن کا چرچا سارے محلے میں تھا۔ اس کے لیے کئی رشتے آچکے تھے، لیکن شاد صاحب اور ان کی بیگم نے کسی رشتے کو قبول نہیں کیا تھا۔ وہ اپنے سے زیادہ امیر گھرانے میں اپنی بچیوں کا نصیب کھولنا چاہتے تھے، یہی وجہ تھی کہ ان کے ہاتھ پیلے ہونے میں دیر ہو رہی تھی۔

ایک دن جب شاد صاحب اور ان کی بیگم شہر سے باہر اپنے ایک عزیز کی شادی میں گئے ہوئے تھے، طاہر نے گھر کا دروازہ بجایا۔ مینا آواز پہچان کر دوڑتی ہوئی دروازے پر گئی اور دونوں پٹ کھول دیے، جس کی وجہ سے طاہر نے اسے پہلی بار اچھی طرح دیکھ لیا اور اس کے حسن سے مسحور ہو گیا۔ “آپ کے والد صاحب گھر پر ہیں؟” طاہر نے سوال کیا۔ “امی ابو دونوں گھر پر نہیں ہیں،” مینا نے پرمسرت لہجے میں کہا، “وہ شادی میں گئے ہیں اور کل واپس آئیں گے۔ گھر میں صرف میں اور تہمینہ ہیں۔ ہماری پھپھو رات کو ہمارے پاس سونے آئیں گی۔” مختصر سوال کا اتنا تفصیلی اور معلومات سے بھرپور جواب سن کر وہ حیران رہ گیا اور اس کے ساتھ ہی کچھ سوچنے پر مجبور بھی۔ شاد صاحب طاہر کو اچھا آدمی سمجھتے تھے اور اس پر اعتبار کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے شہر چلے گئے تھے اور پیچھے دونوں بہنیں اپنی پھپھو کے سہارے رہ گئی تھیں۔ اس سے پہلے کہ وہ جانے کے لیے مڑتا، مینا نے کہا: “آپ بیٹھک میں بیٹھیں، میں ابھی چائے بھجواتی ہوں۔”

اس نے کچن میں آکر جلدی جلدی چائے بنائی اور ملازم کے آنے کا انتظار کیے بغیر خود چائے ٹرے میں رکھ کر بیٹھک میں چلی گئی۔ آج چائے کے ساتھ عمدہ قسم کے بسکٹ بھی تھے۔ طاہر نے حیران ہو کر کہا: “چائے آپ خود ہی لے آئی ہیں؟”

“ہاں، تو کیا ہوا؟ گھر میں کوئی اور ہے ہی نہیں۔” اس نے برجستہ جواب دیا اور وہیں کرسی پر ٹک گئی۔ جب تک طاہر چائے پیتا رہا، وہ اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی۔ اکثر مردوں کو دوش دیا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی خود عورت ایسا ماحول بنا دیتی ہے جس میں مرد کے لیے بہت کچھ سوچنے کی راہیں کھل جاتی ہیں۔ عورت کی بربادی میں ہر بار صریحاً مرد کا ہاتھ نہیں ہوتا، خود عورت بھی اپنے ناز و ادا کا جال پھیلا کر مرد کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مینا کی باتیں اور اس کی صورت طاہر کو بہت اچھی لگی تھی۔ وہ اس کے دل میں ایک ہلچل سی مچا گئی۔ جب وہ زیرِ تعمیر مکان میں واپس گیا، تو اس کا دل کام میں نہیں لگ رہا تھا، بار بار دھیان مینا کی طرف جا رہا تھا۔ یہ ان کی پہلی باقاعدہ ملاقات تھی، جس نے ایک نامعلوم سا رشتہ دونوں کے درمیان استوار کر دیا تھا۔

عمارت میں ابھی دروازے نہیں لگے تھے۔ تہمینہ برآمدے میں بیٹھ گئی اور مینا نے اندر جا کر طاہر کو جگا دیا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور سخت پریشان ہو گیا۔ اس وقت کوئی بھی ادھر آ سکتا تھا، طاہر کی عزت اور زندگی دونوں کو خطرہ تھا۔ اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا: “مینا، تم یہاں کیوں آئی ہو؟ اگر کسی نے تمہیں یہاں دیکھ لیا، تو میں تمہارے والد کو کیا جواب دوں گا؟ تمہیں اس وقت یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔”

“میں کہہ دوں گی کہ اپنا نیا گھر دیکھنے کے شوق میں آ گئی تھی۔ اصل میں تو اپنی سہیلی کے گھر جا رہی تھی۔ ویسے بھی میں تنہا نہیں آئی، تہمینہ باہر بیٹھی ہے۔”

“اس کو اندر بلا لو۔” طاہر نے کہا۔
“نہیں، مجھے تم سے باتیں کرنی ہیں۔ تم جانتے ہو میں کیوں آئی ہوں؟ یہ کہنے کے لیے کہ کیا تم مجھ سے شادی کر سکتے ہو؟” مینا نے سوال کیا۔

“تم بہت اچھی ہو اور میں تم سے شادی کرنا بھی چاہوں گا، لیکن میں تم سے شادی نہیں کر سکتا کیونکہ تمہارے والد تمہارا رشتہ مجھے نہیں دیں گے۔”

“تم کوشش تو کر سکتے ہو۔ یوں کہو کہ تم کوشش کرنا ہی نہیں چاہتے!” یہ کہہ کر مینا بچوں کی طرح رونے لگی، جیسے اس کے ذہن پر بڑا دباؤ ہو۔ اس کے رونے دھونے سے طاہر گھبرا گیا اور اس نے وعدہ کر لیا کہ وہ اس سے ضرور شادی کرے گا۔ اس کے بعد کسی نہ کسی طرح جب بھی موقع ملتا، مینا اس سے ملنے آ جاتی۔ ان کی زیادہ تر ملاقاتیں زیرِ تعمیر مکان میں ہی ہوتی تھیں۔

جب مکان کی تعمیر تقریباً مکمل ہو گئی، تو طاہر نے رختِ سفر باندھنے کی ٹھان لی۔ شاد صاحب نے اس کا حساب کتاب چکتا کر دیا تھا۔ اب مینا سوچ میں تھی کہ کیا کیا جائے؟ وہ جانتی تھی کہ طاہر ایک بار چلا گیا تو واپس نہیں آئے گا؛ بھلا وہ کس رشتے سے دوبارہ آئے گا؟ ان دنوں وہ بہت بے چین تھی۔ اس کی بے چینی اور اضطراب کو بھانپ کر میں نے پوچھ ہی لیا: “مینا! کیا تم مجھے اپنی پریشانی سے آگاہ نہیں کرو گی؟”

“تم جانتی ہو کہ ہمارے مکان کی تعمیر مکمل ہونے والی ہے اور اب طاہر بھی جانے والا ہے، اس خیال سے ہی میرا دم گھٹا جاتا ہے۔” مینا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔

“ہاں یہ تو ہے کہ اس کو جانا ہی ہے، اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا۔” میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

“ابو میرا رشتہ اسے کبھی نہیں دیں گے، اس لیے رشتہ مانگنے کی حماقت کرنا بھی بیکار ہے۔”
“تو پھر کیا سوچا ہے تم نے؟”

“یہی کہ میں اس کے ساتھ چلی جاؤں، پھر ہم کورٹ میں جا کر شادی کر لیں گے۔” مینا کے منہ سے ایسے کلمات سن کر میں حیران رہ گئی۔

“خدا کے لیے ایسا سوچنا بھی نہیں! کیونکہ تم نہیں جانتیں وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے اور اس نے کہاں جانا ہے؟ اس کے گھر والے کس قسم کے لوگ ہیں؟ میری بہن! خدا کے لیے کچھ تو سوچو، تم کیا ارادہ باندھ رہی ہو؟” مگر میری باتوں کا مینا پر کوئی اثر نہیں ہوا، سوائے اس کے کہ اس نے مجھ سے اس موضوع پر بات چیت ہی بند کر دی۔

گھر کا کام آخری مراحل میں تھا، پھر پندرہ دنوں میں طاہر نے کام مکمل کروا کر سارے مزدوروں کو چھٹی دے دی۔ اب وہ اکیلا ہی آخری کاموں میں لگا ہوا تھا۔ مینا آئی اور طاہر سے پوچھا: “ہم نے یہاں سے کب چلنا ہے؟” اس نے کہا: “آج رات کو، صبح ہی شاد صاحب سے میں نے باقی کا حساب کتاب بھی لے لیا ہے۔”

شام ہوئی تو مینا کو جانے کی فکر کھانے لگی کیونکہ طاہر نے اس سے وعدہ کیا تھا۔ وہ آج بڑی مضطرب تھی، تب ہی شاد صاحب کے گھر محلے کا ایک لڑکا آیا اور کسی کی فوتگی کی اطلاع دی۔ خبر سنتے ہی مینا کی ماں میت والے گھر چلی گئی۔ اب گھر میں صرف مینا اور اس کی بہن تہمینہ تھی۔ مینا نے اسے کسی بہانے اپنی سہیلی کے گھر بھیج دیا اور خود ضروری سامان ایک تھیلے میں رکھنے لگی۔ وہ چلنے کی تیاری کر رہی تھی کہ ایک پرانی بوڑھی ملازمہ اماں حسنہ آ گئی۔ اس نے مینا کو سامان بیگ میں جماتے دیکھ کر پوچھا: “بیٹی! تم اس وقت کہاں جا رہی ہو؟”
اس سوال پر وہ گھبرا گئی۔ اس نے بہانہ کیا کہ وہ یہ کپڑے کوٹھے پر پڑے صندوق میں ڈالنے جا رہی ہے۔ یہ بہانہ کر کے وہ سامان سمیت چھت پر چلی گئی اور حسنہ وہیں صحن میں چارپائی پر لیٹ گئی۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد مینا کی ماں اور شاد صاحب واپس آ گئے۔ ماں نے مینا کو گھر میں نہ پایا تو حسنہ سے پوچھا: “اماں! مینا کہاں گئی ہے؟” ملازمہ نے جواب دیا کہ وہ اوپر کوٹھے پر گئی ہے۔ یہ سن کر مینا کی ماں تسلی سے گھر کے کام میں لگ گئی، مگر جب آدھے گھنٹے بعد بھی مینا نیچے نہ آئی تو ماں پریشان ہو گئی اور بیٹی کو دیکھنے چھت پر گئی۔ وہاں چاروں طرف دیکھا مگر بیٹی کو نہ پایا تو گھبرا گئی۔ رات سر پر آ چکی تھی۔ اس نے نیچے آتے ہی شور مچا دیا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے پورے محلے کو خبر ہو گئی کہ مینا گھر میں نہیں ہے۔

ماں نے جب تہمینہ سے پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا، البتہ یہ بتا دیا کہ مینا کبھی کبھی طاہر کو خط لکھا کرتی تھی۔ یہ سنتے ہی شاد صاحب کا سر چکرا گیا۔ انہوں نے سارے معاملے پر غور کیا، پھر بیوی کو اپنے خدشے سے آگاہ کر دیا؛ یوں ہنستے بستے گھر میں موت کا سا سماں طاری ہو گیا۔ اسی وقت شاد صاحب دوڑے ہوئے تھانے گئے اور طاہر کے خلاف رپورٹ درج کرا دی۔ پورے محلے میں شور مچ گیا اور گلی گلی، نکڑ نکڑ مینا کے غائب ہونے کے تذکرے ہونے لگے۔

ادھر مینا کچھ دیر چھت پر رہی، پھر بوڑھی حسنہ سے نظر بچا کر سیدھی اپنے نئے مکان میں آئی تاکہ طاہر کو تلاش کر سکے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ یہیں اس کے انتظار میں بیٹھا ہوگا، لیکن وہ تو کب کا اسے چکر دے کر جا چکا تھا، البتہ نئے مکان کا گیٹ کھلا چھوڑ گیا تھا۔ کھلے گیٹ سے نہ جانے کس وقت دو آوارہ کتے اندر داخل ہو گئے تھے۔ جوں ہی بیگ ہاتھ میں لیے مینا نئے بنگلے میں داخل ہوئی، کتے اسے دیکھ کر بھونکنے لگے۔ مینا بری طرح گھبرا گئی اور اپنا بیگ وہیں چھوڑ کر واپس گھر کی طرف بھاگی اور ڈر کی وجہ سے سیدھی چھت پر چلی گئی۔ اس وقت تک اس کی ماں چھت کا چکر لگا کر نیچے آ چکی تھی۔ کسی نے بھی مینا کو واپس لوٹتے اور سیڑھیاں چڑھتے نہیں دیکھا تھا۔
شاد صاحب تھوڑی دیر بعد رپورٹ درج کرا کر لوٹ آئے تھے۔ تھانے جانے سے قبل انہوں نے اپنی کوٹھی کا چکر لگایا اور گیٹ بند کیا، لیکن اتفاق یہ کہ انہیں لان میں پڑا ہوا بیگ نظر نہ آیا۔ وہ محض کوٹھی کے اندرونی کمروں میں گھومتے رہے جہاں نہ مینا تھی اور نہ ہی طاہر۔

اب مینا کی عقل دیکھیے کہ وہ نیچے آنے کے بجائے ساری رات اپنے گھر کی چھت پر ہی بیٹھی رہی اور وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئی۔ صبح سویرے شاد صاحب دوبارہ چھت پر گئے تو دیکھا کہ مینا صندوق کی اوٹ میں فرش پر پڑی سو رہی ہے۔ وہ الٹے قدموں نیچے اترے اور غصے میں بیوی کو بالوں سے پکڑ لیا۔ کہنے لگے: “تم کیسی ماں ہو؟ کیا تم اندھی ہو جو تمہیں اپنی پانچ فٹ تین انچ کی بیٹی نظر نہیں آئی؟ تم نے اچھی طرح چھت پر دیکھا بھی نہیں اور آ کر کہہ دیا کہ مینا وہاں نہیں ہے۔ اے بے وقوف عورت! تیری اس نادانی کی وجہ سے پورے محلے میں ہماری بدنامی ہو گئی اور میں تھانے میں بیٹی کے اغوا کی رپورٹ تک درج کروا آیا ہوں۔ اب باہر گلی میں نکلو اور سنو کہ ہر کوئی کیا کہہ رہا ہے۔ ‘شاد صاحب کی بیٹی بھاگ گئی، شاد صاحب کی بیٹی بھاگ گئی ہے’۔ لوگ افسوس کرنے میرے پاس آ رہے ہیں اور بیٹی گھر میں ہی موجود ہے!”

ماں روتی ہوئی چھت پر گئی، بیٹی کو جگایا اور بازو سے پکڑ کر نیچے لائی۔ باپ نے غصے میں مینا کو بھی مارا اور بیوی کو بھی۔ جب لوگ گھر پر اکٹھا ہو گئے تو طیش میں آ کر شاد صاحب نے بیوی کو طلاق دے دی، کیونکہ ان کے خیال میں بیوی کی بے وقوفی کی وجہ سے ان کی عزت خاک میں مل گئی تھی۔

ادھر صبح ہوتے ہی پولیس پارٹی نے طاہر کے اس پتے پر چھاپہ مارا جو وہ جاتے وقت شاد صاحب کو لکھوا گیا تھا۔ وہاں طاہر موجود تھا۔ پولیس اسے گرفتار کر کے تھانے لے آئی اور اس کا ریمانڈ لے لیا گیا۔ حالانکہ طاہر کا بار بار یہی بیان تھا کہ: “میں نے شاد صاحب کی لڑکی کو اغوا نہیں کیا۔ میرا اس (اغوا) سے کوئی تعلق نہیں ہے” اور یہ سچ بھی تھا۔ شاد صاحب شام کو تھانے گئے کیونکہ پولیس والے گھر آکر انہیں بتا گئے تھے کہ ملزم گرفتار ہو چکا ہے۔
جب شاد صاحب تھانے پہنچے تو طاہر نے انہیں دیکھتے ہی ہاتھ جوڑ دیے اور اپنی بے گناہی کی قسمیں کھانے لگا۔ شاد صاحب کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا، لیکن جب پولیس افسر نے بتایا کہ طاہر کے پاس سے نہ تو لڑکی ملی اور نہ ہی کوئی ایسا ثبوت جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ مینا کو ساتھ لے گیا تھا، تو شاد صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ مینا اپنی نادانی کے باعث گھر کی چھت پر ہی موجود تھی، لیکن شاد صاحب کی جلد بازی اور شک نے ایک بے گناہ کو حوالات پہنچا دیا تھا اور خود ان کا اپنا گھرانہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر 
چکا تھا۔ طاہر تو رہا ہو گیا، مگر شاد صاحب کی عزت اور ان کا سکون ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ