اس وقت میں چودہ برس کی تھی ، ماں باپ کی پیاری ، کبھی غم کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جانتی نہ تھی کہ وہ دکھ ، جو دل کو اپنی مٹھی میں لے کر توڑ ڈالتا ہے، کیسا ہوتا ہے؟ اُن دنوں مجھ کو سجنے سنورنے سے کام تھا یا پھر شادیوں میں جانے کا شوق تھا، شاید اس لئے کہ دلہنیں اچھے اچھے کپڑے پہنتی ہیں۔ زیورات میں ڈھکی جھلمل کرتی ہیں ، تو بہت پیاری لگتی ہیں۔ میں بھی جلدی سے دلہن بن جانے کے خواب دیکھا کرتی تھی۔
جب میری بنتِ عم کی شادی ہوئی ، میں نے خوب تیاری کی تھی۔ اپنے جوڑے کو اتنے گوٹے کناری سے سجالیا تھا کہ جیسے عروسی جوڑا عالم جان کو نہیں ، مجھے پہننا ہو۔ مجھے یاد ہے ، وہ دوپٹہ خوب بڑا سا اور ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ عالم جان کی شادی کے دن جب میں نے اسے اوڑھا، تو اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکی تھی۔ اسی تقریب میں اُس نے مجھے دیکھا۔
جب میری بنتِ عم کی شادی ہوئی ، میں نے خوب تیاری کی تھی۔ اپنے جوڑے کو اتنے گوٹے کناری سے سجالیا تھا کہ جیسے عروسی جوڑا عالم جان کو نہیں ، مجھے پہننا ہو۔ مجھے یاد ہے ، وہ دوپٹہ خوب بڑا سا اور ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ عالم جان کی شادی کے دن جب میں نے اسے اوڑھا، تو اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکی تھی۔ اسی تقریب میں اُس نے مجھے دیکھا۔
نو عمر بچیاں تو ہر صورت میں دلہن کا قرب چاہتی ہیں۔ اس کے پہلو سے لگ کر بیٹھتی ہیں ، تو پھر اُٹھنے کا نام نہیں لیتیں۔ مجھے بھی عورتوں نے کہا۔ “بھیڑ بھاڑ چھوڑو، دلہن کے دستخط لینے کے لئے بزرگ اندر آرہے ہیں”، پر میں نہ اُٹھی۔ مجھے ڈر تھا اگر میں نے اپنی جگہ چھوڑ دی، تو کوئی اور لڑکی یہاں آکر بیٹھ جائے گی اور میں شادی کی رسومات نہ دیکھ سکوں گی۔ خاندان کے کچھ مرد اندر آگئے۔ انہی میں وہ بھی تھا۔ یہ دولہا کا رشتہ دار تھا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ کون کون لوگ آئے ہیں۔ میں تو دلہن کی خوشبو میں گم تھی۔ کیسے وہ سر جھکائے بیٹھی تھی، ‘ہاں’ کرتے ہوئے کتنا شرما رہی تھی۔ مجھ کو تو یوں لگتا تھا جیسے میں خود دلہن ہوں اور شرما رہی ہوں ۔ ان لمحات میں ڈوب کر کھو جانے میں کتنا لطف تھا۔
جلد ہی یہ لوگ رشتہ لے کر میرے بابا جان کے پاس آگئے۔ وہ امی جان کو پہلی نظر میں ہی جچ گیا۔ کہنے لگیں۔ “خدا نظرِ بد سے بچائے، یہ تو یوسفِ ثانی ہے ، لیکن میری زہرہ جبیں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ چاند سورج کی جوڑی کہلائے گی ۔ خاندان بھر میں ہمارے داماد کے حسن کی دھوم مچ جائے گی۔” جس روز یہ لوگ بابا جان سے بات کرنے آئے تھے، میں نے بھی اس کو دروازے کی جھری سے دیکھا تھا، تبھی میں نے صندوق سے ستاروں بھرا دوپٹہ نکال لیا اور دیر تک کمرہ بند کر کے آئینے کے سامنے دوپٹہ اوڑھے بیٹھی رہی تھی۔
پندرہویں برس میں قدم رکھا تو چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا۔ جس روز نکاح تھا، پھولوں کی چادر میں دولہا کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا ۔ چائے کی پیالی لیتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ دونوں جانب سے دوستوں نے پکڑ رکھا تھا۔ وہ دھیرے سے چلا رہے تھے۔ جیسے انہوں نے دولہا کو نہیں ، دلہن کو پکڑ رکھا ہو ، جو گھونگھٹ میں آنکھیں موندے، دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنے پر مجبور ہوتی ہے۔ نکاح ہوگیا، چھوہارے بٹ گئے، سجی ہوئی کار میں مجھ کو دولہا کے پہلو میں بٹھا کر ماں باپ نے وداع کردیا۔ بابا جان نے دعا دی۔ ماں رو رہی تھیں، سکھیاں پرنم آنکھوں سے رخصت کے لمحات دیکھ رہی تھیں اور میں سسرال جارہی تھی، پھر انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے میرا گھونگھٹ اٹھایا۔
میں نے بہت دشواری سے یہ مرحلہ طے کیا کہ نظر اُٹھا کر ان کے چہرے کی جانب دیکھ لیا، بس یہی غضب ہو گیا۔ میں تو ان کی صورت دیکھتے ہی بے ہوش ہوکر گر پڑی۔ چیخ میرے حلق میں دم توڑ گئی۔ یہ کیا ہوا کہ قیامت ہی ٹوٹ پڑی۔ سہاگ رات تھی کہ کوئی بھیانک خواب، یہ وہ نیلی آنکھوں والا سجیلا گبرو تو نہ تھا ، جس کا نام یوسف تھا ۔ یہ تو اس کا بوڑھا چچا تها، ستر سال کا سفید بگلے جیسے بالوں والا بڈھا دولہا، جس کے منہ میں ایک دانت نہ تھا۔ میری آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ مجھ کو خبر نہ رہی کب صبح ہوئی۔
وہ رات تو اندھیری نکلی ہی تھی، اس کے بعد کے سویرے بھی سارے اندھیرے ہوگئے ، پھر کبھی میری زندگی میں کوئی سورج بھرا سویرا نہ آیا۔ میرے سرتاج نے مجھے خوش رکھنے کو زر و جواہر میرے قدموں میں ڈال دیئے۔ روکر، ہاتھ جوڑ کر مجھ سے معافی مانگی۔ اپنی مٹتی ہوئی ہستی کا واسطہ دیا کہ اب اس کی لاج رکھ لوں ۔ اس نے بتایا کہ جب میں عالم جان کے نکاح کے وقت بطور گواہ آیا تها تو تم دلہن کے پہلو میں بیٹھی کوئی ننھی منی پریوں کی شہزادی لگ رہی تھی۔ مجھ کو اسی دن یہ محسوس ہوا کہ اگر تم مجھ کو حاصل نہ ہوئیں، تو میری سانس رک جائے گی، دم گھٹ جائے گا اور میں مرجاؤں گا۔ تمہاری فرشتوں جیسی معصوم صورت نے میرا سکون لوٹ لیا۔ میں جانتا تھا کہ میری عمر شادی کے قابل نہیں ہے۔ تمہارا رشتہ حاصل کرنا آسان نہ تھا۔ بس پھر یہی ترکیب سمجھ میں آئی کہ اپنا نوجوان اور خوبصورت بھتیجا دکھا کر تمہارا رشتہ حاصل کرلوں اور اس کی جگہ خود دولہا بن کر تمہیں بیاہ لاؤں۔ دیکھو، دل کی دنیا بڑی نرالی ہوتی ہے۔ اس پر تو کسی کا اختیار نہیں۔ محبت کسی شے کی مرہونِ منت نہیں ہوتی اور میرا قصور یہ ہے کہ مجھے تم سے محبت ہوگئی۔ یہ قصور معاف کردو۔ بوڑھے سرتاج نے میرے پیر پکڑ لئے۔ دادا کی عمر کا شخص سامنے بیٹھا رورہا تھا، منت زاری کررہا تھا۔
بابا جان نے کہا۔ “میں اس خبیث بڈھے کو شوٹ کردوں گا۔ اس نے ہمارے ساتھ کتنا بڑا دھوکا کیا ہے۔” بھائی نے تلوار سونت لی مگر میں آخر مشرقی عورت تھی۔ میں نے بابا جان کے قدم اور بھائی کے بازو تھام لئے۔ ان سے التجا کی کہ اب غصہ تھوک دیں۔ میری قسمت میں یہی لکھا تھا۔ طلاقیں ہمارے خاندان میں پشتوں سے ممنوع امر ہیں۔ جو شریفوں کے طریقے ہیں، وہ ہمارے بھی ہیں۔ باباجان خون کے گھونٹ پی کر چپ ہوگئے ۔ لالہ جان کو میں نے سمجھادیا کہ آپ کے عمر رسیدہ بہنوئی کو اتنے عارضے لاحق ہیں کہ مشکل سے چند ماہ اور جئیں گے، اس عمر میں ان کو کیا دکھ دینا، یہ تو عدم کی کشتی میں سوار ہوا ہی چاہتے ہیں۔میرا اندازہ درست نکلا۔ وہ مشکل سے سال بھر جیئے اور میں پندرہ برس کی دلہن، سولہویں میں بیوہ ہوگئی۔ عدت بعد میں نے واپس میکے جانا چاہا کہ بابا بھی یہی چاہتے تھے۔ جس قوم سے ہم تعلق رکھتے ہیں ، کاش میں اس کا نام بھی تحریر کرسکتی ۔ یہاں نہ طلاق ممکن تھی، نہ بیوہ واپس میکے جاسکتی تھی کیونکہ ایک بار بیاہ ہوجائے، تو عورت میکے کی نہیں سسرال کی ملکیت ہوجاتی ہے۔ عورت پر جھگڑا ہو، تو فریقین بندوق کی گولی سے یہ جھگڑے حل کرتے ہیں۔ میرے شوہر کے جوان بیٹوں اور سوتیلے لڑکوں نے بھی بندوق تان لیں۔ کہا۔ “تم اب ہماری ماں ہو۔ ہمارے باپ کی عزت بن چکی ہو۔ دوسری شادی کا خیال دل سے نکال دو۔ اس گھر سے جس روز باہر قدم رکھوگی ، وہ تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا۔” میرے بابا جان کا تو اس جھگڑے میں انتقال ہوگیا، پھر میکہ ماں تک تھا، وہ بھی چل بسیں تو لالہ جان، بیگم اور بچوں کے پیار میں کھو کر مجھے بھول گئے ۔ جب میکہ ہی باقی نہ رہا تو سُسرال کے پنجرے سے کیسے نکلتی۔
آج مجھے بیوہ ہوئے پچاس برس ہوچکے ہیں۔ لگتا ہے ، زندگی کوئی سنسان جنگل ہے ، جہاں ہر وقت تنہائی کے سانپ پھنکارتے رہتے ہیں ۔ وہ پرائے لوگ، جنہوں نے آج تک مجھے اپنایا نہیں ، انہی کو اپنا کہنا پڑتا ہے ۔جب خود سے بڑی عمر کے پوتے اور نواسے مجھے دادی ماں کہتے ہیں، تو آنسو دل پہ گرنے لگتے ہیں ۔ خدا نے انسان کو زندگی ایک بار دی ہے، مگر مجھے زندگی کے نام پر عمر قید اور حبسِ دوام کی سزا ہوگئی تھی۔ موت جب رہائی کا پروانہ لائے گی تب قید و بند کی صعوبتیں ختم ہو جائیں گی۔ خدا ہی جانے کہ یہ مہربان موت کب آئے گی؟
(ختم شد)

