پہاڑی لڑکی

Sublimegate Urdu Stories

میرے بھائی نثار کی اپنے ماموں زاد لطیف سے بہت گہری دوستی تھی۔ میرے ماموں پولیس آفیسر تھے اور انہیں ایک خوبصورت بنگلہ ملا ہوا تھا۔ یہ کوئٹہ کا ایک پُر فضا اور صحت افزا مقام تھا۔ ایسی جگہ جا کر رہنے کو کس کا دل نہیں کرتا، خصوصاً گرمیوں میں! اس بار چھٹیوں میں لطیف بھائی آئے تو انہوں نے نثار کو بھی ساتھ چلنے پر تیار کر لیا اور اصرار کیا: “تم ساتھ چلو اور اپنی کتابیں بھی لے لینا، وہیں تیاری کر لینا۔” بھائی مان گئے۔

یوں نثار بھائی، لطیف کے ساتھ چلے گئے۔ وہ بہت شوخ اور چلبلی طبیعت کے مالک تھے اور ایک منٹ چین سے نہ بیٹھتے تھے۔ ان کے دم سے گھر میں رونق رہتی تھی، اس لیے ان کے جانے کے بعد میرا دل گھبرانے لگا۔ میں نے انہیں خط بھی لکھے کہ: “بھیا! جلدی آ جاؤ، تمہارے بغیر ہم اداس ہیں اور گھر سونا سونا ہو گیا ہے۔” حیرت کی بات یہ تھی کہ انہوں نے میرے خط کا جواب نہ دیا، گویا ان کا دل وہاں لگ گیا تھا۔ بھائی کورس کی کتابیں ساتھ لے گئے تھے، اس لیے امی کو زیادہ پریشانی نہیں تھی۔ ماموں خاصے سخت آدمی تھے، اس لیے امی کا خیال تھا کہ وہ وہاں زیادہ توجہ سے پڑھ سکے گا کیونکہ ماموں اس پر نظر رکھیں گے۔ اُن دنوں بھائی ایف ایس سی (FSc) کے طالب علم تھے۔

پندرہ دن بعد بھائی کا خط آیا۔ وہاں ان کا دل لگ گیا تھا مگر وہ پڑھائی سے بھی غافل نہ تھے اور خوب جی لگا کر پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے ایک ماہ بعد واپسی کا لکھا تھا۔ خط ملتے ہی میں افسردہ ہو گئی کیونکہ میں بھائی کی جدائی سے غمگین تھی۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہے تھے اور کبھی جدا نہیں ہوئے تھے، اب ان کے بغیر میرا جی نہیں لگتا تھا۔

ایک ماہ بیت گیا لیکن نہ بھائی کا کوئی خط آیا اور نہ وہ خود آئے۔ اب امی جان کو فکر لاحق ہوئی۔ کوئٹہ فون کیا تو ممانی نے بات کی اور کہا: “باجی، فکر مت کیجیے۔ نثار ٹھیک ہے اور یہاں بہت خوش ہے۔ پڑھائی میں اس کا دل لگا ہوا ہے۔ ابھی چھٹیاں باقی ہیں، وہاں گرمی میں جا کر کیا کرے گا؟ وہاں تو اچھی طرح پڑھائی بھی نہ ہو سکے گی۔” ممانی کی تسلی سے امی جان کو سکون ملا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: “تیری ممانی ٹھیک ہی تو کہتی ہیں۔ وہ یہاں آ کر کیا کرے گا؟ اتنی سخت گرمی میں اس سے بھلا کیسے پڑھائی ہو سکے گی؟”

مگر جانے کیوں ان دنوں میرا جی بہت گھبرا رہا تھا۔ میں نے ماموں زاد شکیلہ کو خط لکھا کہ: “سچ بتاؤ، کیا بات ہے؟ نثار وہاں کیوں رکا ہوا ہے؟ اس نے ایف ایس سی کے پرچے دینے ہیں۔ اگر وہ وقت ضائع کر رہا ہے تو تمہیں قسم ہے ہمیں اطلاع دو، ہم اس کا کچھ نہ کچھ سدباب کریں گے۔”

ایک ہفتے بعد شکیلہ کا جواب آ گیا۔ اس نے لکھا: “تمہارا خط ملا، نثار کی فکر مت کرو۔ وہ اپنی منزلِ مقصود کو پہنچ چکا ہے۔ کتابیں لے کر روزانہ ایک پہاڑی مقام پر چلا جاتا ہے اور وہاں پڑھتا رہتا ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ کسی اچھے کالج میں داخلہ لے لے۔ اسے یہ جگہ بہت پسند آئی ہے، پُرفضا مقام ہے اور اس کا دل یہاں خوب لگ گیا ہے۔”

ایک ہفتے بعد پھر شکیلہ کا خط ملا۔ اس بار اس نے خط میں ایک لڑکی کا ذکر کیا جو ان کے گھر کے پاس رہتی تھی۔ وہ ایک پہاڑی لڑکی تھی جو بکریاں چرانے آتی تھی۔ نثار بھی اسی پہاڑی پر کتابیں لے کر جاتا اور وہاں بیٹھ کر پڑھتا رہتا تھا۔ اس نے لکھا کہ نثار کی اس لڑکی سے دوستی ہو گئی ہے، وہ بہت خوبصورت اور بھولی بھالی ہے۔ وہ اردو بولنا بھی جانتی ہے، اگرچہ پڑھی لکھی نہیں ہے۔

میں نے فوراً بھائی کو خط لکھا: “مجھے پتا چلا ہے کہ تمہاری دوستی ایک پہاڑی لڑکی سے ہو گئی ہے۔ بھیا! ایسے فضول کاموں کو چھوڑ دیں اور صرف اپنی تعلیم پر توجہ دیں۔” اس کے بعد نثار کا کوئی خط آیا نہ شکیلہ نے کچھ لکھا۔ شاید اسے نثار نے روک دیا ہو کہ میرے گھر ایسی باتیں لکھ کر مت بھیجا کرو۔

چھٹیاں ختم ہو گئیں مگر نثار نہ آیا۔ میں بہت پریشان تھی۔ آخر ان کے گھر پتا کروایا تو ممانی نے بتایا کہ نثار کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس لیے ماموں نے روک لیا ہے، جلد آ جائے گا۔ مگر ایک ہفتہ مزید بیت گیا۔ اب امی جان کو سخت پریشانی ہوئی۔ متعدد بار کال بُک کروائی۔ ہم جس سے بھی بات کرتے وہ یہی کہتا کہ فکر نہ کریں، وہ ٹھیک ہے، آ جائے گا۔ آخر نثار سے بھی بات ہوئی، اس نے کہا: “میں دو تین دن تک آ جاؤں گا۔”

دن گزرتے گئے۔ آخر ایک روز رات دس بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے ہی دروازہ کھولا اور بھائی کو دیکھ کر میری باچھیں کھل گئیں۔ سامنے میرا پیارا بھائی مسکرا رہا تھا۔ میں خوشی سے جا کر امی جان سے لپٹ گئی، ان کی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں۔ بھائی کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے ان کی خاطر تواضع کی اور کہا کہ اب آرام کر لیں۔ وہ لیٹتے ہی سو گئے۔ میں اس سوچ میں گم تھی کہ میرا بھائی اتنا دبلا کیوں ہو گیا ہے؟ ان کے خوبصورت چہرے کی سرخی زردی میں تبدیل ہو چکی تھی۔

صبح میں نے سب سے پہلے انہیں جگا کر ناشتہ دیا۔ میں بے قرار تھی کہ نثار سے وہاں گزارے ہوئے دنوں کی روداد پوچھوں کہ آخر انہوں نے کوئٹہ میں اتنے دن کیوں لگائے؟ یہاں تک کہ کالج سے بھی ایک ماہ کی چھٹی کر لی، حالانکہ وہ کبھی ایک دن بھی ناغہ نہیں کرتے تھے۔ نثار کا مختصر سا جواب تھا: “کالج سے لوٹ کر بتاؤں گا۔” اس کے بعد وہ کالج چلے گئے۔ شام تک مجھے بھائی سے بات کرنے کا موقع نہ ملا۔ اگلے دن چھٹی تھی، میں نے سوچا شاید وہ ہمارے ساتھ بیٹھیں گے تو باتیں ہوں گی، لیکن چھٹی کا دن آنے سے پہلے ہی اسی شام ہمیں باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔

میں نے ان سے پوچھا: “آپ کی صحت کو کیا ہوا ہے؟ صحت افزا مقام پر تو لوگ سرخ و سفید ہو جاتے ہیں اور آپ اپنی شکل ایسی بنا کر آئے ہیں!” میرے اس سوال کا ان کے پاس ایک طویل جواب تھا۔ ہم نے کبھی ایک دوسرے سے کوئی بات نہ چھپائی تھی، چنانچہ وہ یوں گویا ہوئے:

“کیا بتاؤں تم کو بہنا! اگر میں نہیں بتاؤں گا تو ماموں جان خود یا وہاں سے کوئی نہ کوئی آ کر بتا دے گا، لہٰذا بہتر ہے کہ میں ہی بتا دوں۔ وہاں جا کر شروع کے دنوں میں تو بہت خوش تھا، موسم اور مناظر سب سہانے لگتے تھے، لیکن بعد میں ایک بڑی مصیبت میں پھنس گیا۔ تم کو شکیلہ نے لکھا تھا کہ وہاں ایک پہاڑی لڑکی ہے جو مجھے اچھی لگتی ہے، اس کا نام زرغونہ تھا۔ اس سے باتیں کر کے مجھے بہت مزہ آتا تھا۔ وہ ایک معصوم، بھولی بھالی اور بہت خوبصورت لڑکی تھی۔ رفتہ رفتہ ہماری دوستی گہری ہوتی گئی۔ میں کتابیں لے کر اور وہ اپنی بکریاں لے کر پہاڑ پر آ جاتی اور ہم سارا دن ادھر ادھر کی باتیں کرتے۔ کتاب ہاتھ میں ہوتی مگر گفتگو کا موضوع بھیڑ بکریاں اور ان کے بچے ہوتے، جو کبھی ادھر بھاگتے تو کبھی ادھر، اور ہم انہیں اکٹھا کرتے رہتے۔”

“ایک دن زرغونہ کی ماں اسے بلانے آئی۔ ہم دونوں ایک پتھر پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ اس نے ہمیں ساتھ دیکھ لیا، بس پھر کیا تھا، وہ زرغونہ پر خوب برہم ہوئی۔ اس وقت میں سمجھ نہ سکا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے، لیکن اتنا جان گیا کہ وہ اس پر غصہ کر رہی ہے۔ اگلے دن زرغونہ نے کہا کہ اب تم یہاں نہیں بیٹھ سکتے، اگر ماں نے ہمیں دوبارہ ساتھ دیکھ لیا تو وہ مجھے گھر میں بند کر دے گی اور میری جگہ خود بکریاں چرانے آیا کرے گی، اس طرح گھر کا سخت کام مجھے کرنا پڑے گا۔ بہتر ہے کہ تم رات کو گھر کے باہر جھاڑیوں میں مجھ سے ملنے آ جایا کرو۔”

“میں اس کی باتوں میں آ گیا اور ہم راتوں کو چھپ کر ملنے لگے۔ ایک دن زرغونہ کے بھائی گل خان کی آنکھ کھلی تو اس نے بہن کو غائب پایا۔ اس نے کسی کو نہ جگایا اور خود ہی اسے تلاش کرنے لگا۔ جب وہ باہر سے واپس اندر آیا تو دیکھا کہ زرغونہ اپنے بستر پر لیٹ چکی ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ معاملہ گڑبڑ ہے۔”

اگلی صبح گل خان کام پر نہ گیا۔ جب زرغونہ بکریاں لے کر پہاڑی پر پہنچی تو میں بھی وہاں جا پہنچا، تبھی اچانک گل خان جھاڑیوں سے نکل آیا۔ اس نے آتے ہی ایک بڑا سا پتھر زرغونہ کی طرف تاک کر مارا۔ اگر وہ پتھر اسے لگ جاتا تو یقیناً اس کی جان چلی جاتی۔ وہ ڈر کر گھر کی طرف بھاگ گئی اور گل خان کے ساتھ میری تکرار شروع ہو گئی۔
اصولی طور پر قصور میرا ہی تھا۔ میں نے چاہا کہ گل خان سے معافی مانگ لوں اور صاف صاف کہہ دوں کہ میں زرغونہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں، مگر جب اس نے گالم گلوچ شروع کر دی تو مجھے بھی غصہ آ گیا اور میں نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔ اس کے بعد ہماری ہاتھا پائی شروع ہو گئی اور میں نے ایک مکا اس کی کنپٹی پر جڑ دیا۔ اس کا سر چکرا گیا اور وہ گر پڑا، جبکہ میں وہاں سے ماموں کے گھر آ گیا۔

شام تک ماموں جان کو اطلاع مل چکی تھی، انہوں نے مجھے بہت ڈانٹا کہ: “تم نے یہاں آ کر خوب گل کھلائے اور ہمارے پڑوسیوں سے دشمنی مول لے لی!” اگلی صبح تو گویا قیامت خیز تھی۔ یہ خبر ہر طرف پھیل گئی کہ زرغونہ کی لاش قریبی پہاڑی نالے کے ایک کھڈ سے ملی ہے۔ یہ سن کر میں ساکت و جامد (گونگا بت) رہ گیا۔ میں ہی اس معصوم کی موت کا ذمہ دار تھا، یقیناً اس کے بھائی نے گھر جا کر غصے میں اسے قتل کر دیا تھا۔

جی چاہتا تھا کہ میں بھی خودکشی کر لوں، لیکن جان لینا آسان نہیں ہوتا۔ ماموں نے مجھے سختی سے ہدایت کی: “خبردار! اب تم چند دن تک گھر سے باہر قدم مت نکالنا، ورنہ وہ لوگ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔” ماموں نے خود بھی ایک ہفتے کی چھٹی لے لی۔ وہ چونکہ پولیس آفیسر تھے، اس لیے وہ لوگ (مخالفین) تھوڑا دبک گئے۔ ماموں ہر وقت گھر پر رہتے تھے تاکہ میں کوئی غلط قدم اٹھا کر خود کو نقصان نہ پہنچا لوں۔

زرغونہ کے بھائی چند دن میری تاک میں رہے، پھر جب انہیں لگا کہ میں جا چکا ہوں تو وہ کچھ خاموش ہو گئے۔ ایک رات میں سب سے چھپ کر قبرستان گیا، اس کی قبر پر فاتحہ پڑھی اور اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگی۔ اگلے روز ماموں نے گاڑی میں میری نشست (Seat) بک کروا دی اور یوں میں یہاں پہنچ گیا۔ اسی صدمے کی وجہ سے میں اتنا کمزور ہو گیا ہوں اور اب میرا جینے کو جی نہیں چاہتا۔
اپنے بھائی کی روداد سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں نے امی کو تمام حال سنایا۔ انہوں نے صدقہ و خیرات دی اور خدا کا شکر ادا کیا کہ نثار ایک بڑی مصیبت سے زندہ سلامت لوٹ آیا، ورنہ جہاں ان لوگوں نے اپنی لڑکی کو مار ڈالا، وہاں وہ بھائی کو کب چھوڑنے والے تھے؟ اس واقعے نے نثار کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالا، جس کی وجہ سے وہ اچھے نمبروں سے ایف ایس سی (FSc) نہ کر سکا۔ شروع میں وہ کالج جاتے رہے پھر پرائیویٹ داخلہ لے لیا۔ انہوں نے جیسے تیسے تعلیم تو مکمل کر لی، لیکن وہ آج تک اس واقعے کو نہیں بھلا سکے؛ کیونکہ جو دل ایک بار ریزہ ریزہ ہو جائے، وہ پھر سے نہیں جڑ پاتا۔

ہم نے انہیں بہت سمجھایا کہ شادی کر لیں، مگر بھائی اب تک نہ مانے۔ شاید ان کے دل سے زرغونہ کی یاد نہیں جاتی۔ اب جب کبھی ہمیں موقع ملتا ہے تو ہم کوئٹہ جاتے ہیں، لیکن امی نثار بھائی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دیتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ: “کیا خبر وہ دشمن اب بھی تاک میں ہوں اور اپنا زخم نہ بھولے ہوں۔ اگر میرے بیٹے کو کچھ ہو گیا تو میں کیا کروں گی؟” حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ قصوروار نہ نثار تھا اور نہ وہ پہاڑی لڑکی۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ