جیب تراش لڑکی

Urdu Font Stories

صغیرہ کا تعلق ایک جیب تراش خاندان سے تھا۔ اس کی دادی بھی بسوں میں اپنے شٹل کاک برقعے کی ٹوپی میں بنی جیبوں میں خواتین کے پرس سے نکالے ہوئے پیسے چھپا لیتی تھی۔ اگر کبھی کوئی عورت شور مچاتی اور کنڈیکٹر اور ڈرائیور اس کی تلاشی لیتے تو اس کے تھیلے سے کچھ نہ برآمد ہوتا۔ جب دادی بوڑھی ہو گئی اور اس کا ہاتھ کانپنے لگا تو اس نے گھروں میں برتن دھونے کی نوکری کر لی، مگر پھر بھی وہ کبھی کبھی ہاتھ کی صفائی دکھا جاتی تھی۔ ماں بھی، جو بہت گھیر دار شلوار پہنتی تھی، اس نے بیلٹ کے پاس زپ کے ساتھ ایک جیب لگائی ہوئی تھی۔ اس میں وہ عورتوں کے پرس میں رکھے چھوٹے موٹے زیور اور پیسے چرا کر رکھ لیتی تھی۔ بچپن میں صغیرہ کا خیال تھا کہ اس کا باپ پرچون کی دکان سے ان کے گھر کا خرچ چلاتا ہے۔
 cknwrites
 جب وہ ذرا بڑی ہوئی اور دادی نے اس کی جیب کاٹنے کی تربیت شروع کی تو پتا چلا کہ اس کے خاندان کا اصل دھندا کیا ہے۔ اس کی انگلیاں لمبی تھیں جو جیب تراشی کے لیے آئیڈیل تھیں۔ چھوٹی عمر میں وہ اپنے ہاتھوں سے پیسے نکال لیا کرتی تھی اور اس کو ایک کھیل سمجھتی تھی۔ ایک دفعہ یہ کھیل اس نے اپنی ایک سہیلی کو بھی سکھایا۔ اس لڑکی کے ماں باپ کو جب اس بات کا پتا چلا تو انہوں نے بیٹی کو سخت تنبیہ کی کہ وہ صغیرہ سے دوستی چھوڑ دے اور اس کی ماں سے بھی خوب جھگڑا کیا۔ ماں اور دادی نے صغیرہ کو بہت ڈانٹا کہ وہ آئندہ کسی کو یہ کھیل نہیں سکھائے گی۔ اس کی چھوٹی بہن کے ہاتھ بھدے اور انگلیاں موٹی تھیں۔ وہ کئی دفعہ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی اور لوگوں سے مار کھا کر روتی ہوئی واپس گھر آگئی۔ ماں نے اس کو اس بات پر مزید مارا کہ وہ پکڑی کیوں گئی؟

اپنی مخروطی انگلیوں اور پتلے پتلے ہاتھوں کی وجہ سے صغیرہ اپنے فن میں مشاق تھی۔ صغیرہ کو پڑھنے کا شوق تھا تو اس کے والدین نے کالج میں پڑھنے کی اجازت اس شرط پر دی کہ شروع ماہ میں، جب کالج میں فیس جمع کرانے کا وقت ہوتا ہے، تو وہ لڑکیوں کے بیگ سے فیس کی رقم چرا لیا کرے گی۔ بس اور ویگن میں کالج کے یونیفارم میں ہونے کی وجہ سے کوئی اس پر شک نہیں کرتا تھا اور کالج کی کینٹین میں اپنی سہیلیوں کو کھلانے پلانے کی وجہ سے لڑکیاں اسے امیر گھرانے کی فرد سمجھتی تھیں۔ کالج کے زمانے میں ایک بار اس نے ایک ایسی لڑکی کی کتابوں سے پیسے اڑائے جو آخری تاریخ کو فیس جمع کرانے آئی تھی۔ اس لڑکی نے رو رو کر برا حال کر لیا کہ اس کی غریب ماں نے راتوں کو سلائیاں کر کے یہ رقم جمع کی تھی۔ صغیرہ کو اس پر ترس آگیا۔ وہ اس کو تھوڑی دیر انتظار کرنے کا کہہ کر قریبی بینک چلی گئی اور نوٹ بدلوا کر لے آئی۔ یہ رقم اسے فیس ادا کرنے کے لیے دے دی جبکہ یہ اسی غریب لڑکی کی اپنی رقم تھی۔ کلاس کی لڑکیوں نے اسے تحسین کی نظر سے دیکھا اور تعریف کرنے لگیں کہ اس نے ایک غریب لڑکی کی مدد کی۔ جب یہ بات اس نے ڈرتے ڈرتے ماں کو بتائی تو گھر میں طوفان آگیا۔ ماں نے اسے خوب مارا کہ اگر ہم ایسے ہی ترس کھا کر کمائی ہوئی رقم واپس لوٹاتے رہے تو پھر کھائیں گے کہاں سے؟

گھر والوں نے یہ کہہ کر اسے کالج سے اٹھا لیا کہ وہ شریف لڑکیوں کے ساتھ رہ کر بگڑتی جا رہی ہے۔ اب اسے اتوار بازار میں ٹوکری دے کر بھیج دیا جاتا تاکہ وہ وہاں آنے والی عورتوں کے بٹوے چرائے۔ صغیرہ کا بھائی اپنے فن کا زبردست ماہر تھا۔ اس کا (باپ کا) کہنا تھا کہ میرا بیٹا تو آنکھوں سے کاجل کو ایسے چرا لے کہ آنکھوں والے کو پتا نہ چلے۔ اپنی شادی کے دن نکاح کے بعد جب لوگ دولہا کو مبارکباد دینے آئے تو اس نے کئی لوگوں کے بٹوے اڑا لیے تھے اور اس طرح اپنے ولیمے کا خرچ نکال لیا۔ صغیرہ کا گھرانہ خاندانی جیب کترا تھا۔ اس کے باپ کی پرچون کی دکان تھی جو چلتی نہ تھی۔ گھر میں آئے دن فاقوں کی وجہ سے پریشانی ہوتی تھی، تبھی اس کے باپ کے ایک دوست نے، جو جیب کترا تھا، اس کو یہ فن سکھا دیا۔ اس نے یہ فن اپنی ماں، بیوی اور بچوں میں منتقل کر دیا۔

صغیرہ جانتے تھی کہ جرم وہ دلدل ہے کہ ایک دفعہ جو اس میں پھنس جاتا ہے وہ اندر ہی اندر دھنستا چلا جاتا ہے۔ کبھی کبھی وہ اس سے نکلنے کا سوچتی مگر گھر والوں کا دباؤ اتنا شدید تھا کہ وہ یہ کام کرنے پر مجبور تھی، کیونکہ چھوٹی بہن اس کام میں مہارت حاصل نہیں کر سکی تھی اور گھر کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے اسے ساتھ دینا ہوتا تھا۔ ایک دن مارکیٹ میں اس کو متمول حلیے کی ایک خوبصورت خاتون نظر آئی۔ وہ اس کے پیچھے لگ گئی اور بھیڑ میں اس کے پرس سے روپوں کا لفافہ پار کر لیا۔ اس میں اچھی خاصی رقم کے ساتھ ایک پرچہ بھی رکھا تھا جس میں تحریر تھا: “تو نے ایک کوٹھے والی کی خاطر میرا گھر اجاڑا ہے، اپنی دو بیٹیوں کو اپنے سائے سے محروم کیا۔ ہمارے لیے کوئی جائے پناہ نہ تھی، رشتہ داروں نے منہ موڑ لیا اور فاقوں نے ادھ موا کر دیا تو آج میں نے خود کو فروخت کر دیا ہے۔ کل تیری بیٹیوں کو بھی انہی حالات سے گزرنا پڑے گا، کیونکہ ‘جیسی ماں ویسی بیٹی’ کی مثال تیری اولاد پر مہر بن کر لگ جائے گی۔” اس پرچے پر نہ کوئی نام تھا اور نہ پتا، مگر ان چند جملوں کو پڑھ کر اس کو چکر آگیا۔ دماغ کی عجب کیفیت ہو گئی جیسے سر پھٹ جائے گا۔ صغیرہ کو شدید احساس ہوا کہ اس نے ایک مجبور اور اجڑی ہوئی عورت کے جسم کی قیمت چوری کی ہے، جس نے شوہر کی بے وفائی سے دلبرداشتہ ہو کر یہ راہ اپنائی تھی، کیونکہ بازاری عورت کی اداؤں کا مقابلہ کوئی شریف عورت نہیں کر سکتی۔

جیب کاٹنے والی عورتیں شریفانہ زندگی گزارتی ہیں، وہ جسم فروخت نہیں کرتیں؛ اس پرچے نے صغیرہ کے ذہن کو بدل کر رکھ دیا، شاید وہ فطرت سے ایک حساس دل لے کر پیدا ہوئی تھی۔ اس نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ چاہے اب جان سے مار دو مگر میں آج کے بعد ہرگز کسی کا پرس صاف نہ کروں گی۔ اس کے بھائی نے، جو ملازمت کے سلسلے میں بحرین چلا گیا تھا، فون پر اسے بتایا کہ اسی طرح کا ایک خط اس کو بھی کسی کے بٹوے سے ملا تھا، جس میں کسی لڑکے نے اپنے بڑے بھائی کو لکھا تھا کہ اس نے اپنے دوستوں سے قرض لے کر والد کے کفن دفن کے پیسے جمع کیے ہیں، وہ جلدی سے پیسے بھجوا دے تاکہ مرحوم باپ پر سے بوجھ اتر جائے۔ یہ خط پڑھ کر بھی اس نے جیب کاٹنا نہیں چھوڑی۔ بحرین میں بھی ملازمت کے دوران اگر داؤ چل جائے تو جیب پر ہاتھ صاف کر لیتا ہے۔ اس نے ہدایت کی کہ ایسے پرچوں کو بغیر پڑھے پھاڑ دیا کرو۔ صغیرہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ اڑ گئی کہ اللہ نے اسے نیکی کی راہ دکھائی ہے، لہذا وہ اب ہرگز کسی کی جیب نہیں کاٹے گی اور نہ پرس میں سے کسی کے پیسے اڑائے گی۔ گھر والے سخت پریشان تھے کہ کس طرح اس کو راضی کیا جائے۔ اسی دوران محلے کا ایک لڑکا نور الدین، جو کسی طرح پیسے جمع کر کے امریکہ چلا گیا تھا، دس سال بعد واپس آیا تو اس کی ماں اور بہنوں نے کسی امیر لڑکی کو بہو بنانے کی آرزو میں بنگلے اور کوٹھیوں میں رہنے والی لڑکیوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ امریکہ کا نام سن کر کوئی بھی ان کو لڑکی کا رشتہ دینے سے انکار نہ کرے گا۔

ہاں، ایسے بہت سے گھرانے مل جاتے ہیں جو اپنی لڑکی کو امریکن نیشنل لڑکے کے ساتھ بیاہنے کے آرزومند ہوتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں امریکہ پلٹ لڑکے کو جانے کیا سمجھا جاتا ہے۔ اکثر ماں باپ بغیر سوچے سمجھے صرف امریکہ کا نام سن کر ہی لڑکی دھکیل دیتے ہیں، خواہ وہ لڑکا امریکہ میں گٹر کھولنے یا بوڑھی امریکی عورتوں کے گھروں کے کتے نہلانے کا کام ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ نور الدین کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ وہ زیادہ پڑھا لکھا نہ تھا۔ اس نے شروع میں یہ سب کیا اور اب کسی ہوٹل میں بیرا لگ گیا تھا۔ صغیرہ چونکہ اس کے محلے میں رہا کرتی تھی، وہ اکثر اسے دیکھا کرتا تھا۔ اس نے ماں سے صغیرہ کے ساتھ شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ شروع میں ماں اور بہنوں نے نور الدین کو باز رکھنا چاہا مگر پھر اس کی ضد سے مجبور ہو کر وہ صغیرہ کے گھر والوں سے اس کا رشتہ مانگنے چلی گئیں۔ یوں اس کی شادی نور الدین سے ہو گئی۔ شادی والے دن سب لوگ حیرت سے لڑکی کا جہیز اور قیمتی زیور دیکھ رہے تھے۔ کسی کو علم نہ تھا کہ پیسوں کے ساتھ یہ زیور خود صغیرہ نے خواتین کے پرس سے اڑایا ہے۔ ماں نے اسے سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ ہرگز یہ راز کسی کو نہ بتائے، ورنہ سسرال والے اسے جیب کتروں کی بیٹی کہہ کر طلاق دے دیں گے۔

صغیرہ شادی کے بعد جب امریکہ آئی تو اس نے یہاں ایک پٹرول پمپ پر ملازمت کر لی جہاں میری اس سے ملاقات ہوئی۔ وہ مجھے ایک دلچسپ شخصیت کی مالک لگی۔ میں نے اس سے دوستی کر لی۔ ایک دن اسے گھر کھانے پر بلایا تب اس نے یہ راز اگل دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اب بھی گھر والے اس پیشے سے وابستہ ہیں کیونکہ ان کو کوئی دوسرا کام آتا ہی نہیں، لیکن وہ خود توبہ کر چکی ہے اور اب ہر نماز کے بعد رو رو کر دعا کرتی ہے تاکہ اسے ماضی کی خطاؤں کی معافی مل جائے۔ وہ اس خوف کا شکار تھی کہ جانے کتنی ضرورت مند عورتوں کے پرس خالی کر کے اس نے ان کو تکالیف میں مبتلا کیا تھا اور اب وہ تائب ہو کر اپنے رب کی بارگاہ میں گریہ زاری کرتی تھی۔ نجانے کب نور کی کوئی کرن اس کے دل کو چھو کر اسے منور کر گئی تھی کہ اس نے اس پیشے سے توبہ کر لی، اور واقعی قدرت بڑے پُر اسرار انداز میں اپنا کام کر کے انسان کے دل اور اس کی زندگی کو بدل دیتی ہے؛ مگر آج بھی جب صغیرہ کو اس پرچے کا خیال آتا ہے تو وہ افسردہ ہو جاتی ہے۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ