جب سے ہوش سنبھالا، والدہ کو عبادت گزار پایا۔ وہ پردہ کرتی تھیں اور والد کی اجازت کے بغیر گھر کے آنگن میں بھی قدم نہیں رکھتی تھیں، پھر بھی والد صاحب امی پر شک کرتے اور کبھی تو غصے میں ان کے بال کھینچ لیتے۔ میں چھوٹی سی تھی، یہ سب دیکھ کر ڈر جاتی تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ابو گھر میں داخل ہوتے ہی پہلا سوال یہ کرتے تھے کہ “کوئی آیا تو نہیں تھا؟” امی جواب دیتیں، “کوئی نہیں آیا۔” پھر جب کوئی نشان نہ ملتا تو مایوس ہو کر بیٹھ جاتے اور اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے امی پر دھاڑنے لگتے، “اگر مجھے معلوم ہو گیا کہ میری غیر موجودگی میں تیرا سگا بھائی بھی آیا تو کھال کھینچ لوں گا۔ دیکھ، مجھ سے کبھی جھوٹ مت بولنا۔”
کبھی کبھی ان کا رویہ اس قدر خوفناک ہو جاتا کہ ہم دوڑ کر پھوپی کے گھر چلے جاتے اور ان کو بتاتے کہ آج پھر ابو کو شک کا دورہ پڑا ہے۔ تب وہ ہم ننھے منے بچوں کے خوفزدہ چہروں کو پریشان دیکھ کر ہمارے ساتھ ہو لیتیں اور آکر والد کو ڈانٹتیں کہ “احسان، ہوش کے ناخن لو۔ کیا تم کو ان ننھے منوں پر بھی رحم نہیں آتا؟ تم ان معصوموں کو اس قدر دہشت زدہ کر دیتے ہو کہ یہ گھر سے بھاگنے لگتے ہیں اور دوبارہ گھر واپس آنے سے کتراتے ہیں۔ میں ان کو پہنچانے آگئی ہوں، آئندہ ایسا نہ ہو خیال رکھنا، ورنہ تیرے بچے کسی دن کسی اور طرف نکل گئے تو پھر عمر بھر پچھتاتے رہنا۔” اس وقت تو والد صاحب سر جھکا لیتے مگر جلد ہی سب کچھ بھول کر دوبارہ پہلے جیسا طرز اپنا لیتے۔ خدا جانے ان کے ذہن میں کیا چلتا تھا، یہ بات ہم بچے تو کیا، اچھے بھلے باشعور بھی سمجھ نہیں پاتے تھے۔
ابو کی ذہنی کیفیت کو ان کے رشتے دار، محلے دار اور پڑوسی سب ہی رفتہ رفتہ جان گئے، اسی لیے اب ہمارے گھر کوئی نہیں آتا تھا۔ یہاں تک کہ محلے کی عورتیں اور بچے بھی ہم سے لا تعلق ہو گئے۔
میری بڑی بہن کی منگنی پھوپی کے بیٹے شرجیل سے ہو چکی تھی۔ اس کے باوجود شرجیل تو کیا پھوپھا بھی نہ آتے تھے۔ سب کو پتا تھا کہ احسان میاں نفسیاتی مریض ہیں۔ پھوپی، بیٹے اور شوہر کو خود ہمارے گھر نہیں آنے دیتی تھیں تاکہ امی اور ہمارا سکون برباد نہ ہو۔ ایک روز والد صاحب کے سینے میں درد ہوا تو فوراً اسپتال چلے گئے۔ شک تھا کہ دل کی تکلیف نہ ہو۔ وہ پھوپی کو ہمارے پاس سلا کر گئے تھے۔ اس دن جانے شرجیل کو کیا سوجھی کہ اپنی والدہ کو دیکھنے کے بہانے رات بارہ بجے ہمارے گھر آگئے۔ امی اور پھوپی تو سو رہی تھیں لیکن باجی جاگ رہی تھیں۔
دروازے کی آہٹ پر میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ شرجیل اور باجی اوپر چھت پر جا رہے ہیں۔ میں جاگ رہی تھی کیونکہ والد کے گھر پر نہ ہونے کے باوجود ان کی دہشت دل پر بیٹھی تھی۔ اس تصور سے جان جا رہی تھی کہ اگر اچانک اس وقت والد اسپتال سے گھر آگئے اور ان کو علم ہو گیا کہ باجی اور شرجیل چھت پر ہیں تو کیا ہوگا؟ وہ تو غصے میں سبھی کو قتل کر دیں گے۔ خدا کا شکر کہ وہ نہیں آئے لیکن میں نے صبح امی کو یہ بات بتا دی۔ تب انہوں نے باجی کو بہت ڈانٹا کہ “تمہیں معلوم ہے تمہارے والد کس قدر شکی مزاج ہیں۔ اگر ان کو خبر ہو جائے تو جانتی ہو تمہارے ساتھ شرجیل کی بھی جان لے لیں گے۔”
باجی نے شرجیل سے کہا ہوگا، اسی لیے اگلے روز اس نے امی سے معافی مانگی اور کہا کہ آئندہ کبھی ایسا نہ ہوگا۔ وہ بہت شرمندہ تھا۔ بہرحال اس واقعے کا علم ابو کو نہ ہو سکا۔ یوں باجی کی شادی شرجیل کے ساتھ خیر و عافیت سے ہو گئی۔ وہ تو وقت پر دوزخ سے جنت میں چلی گئیں مگر ہم دوزخ میں ہی رہے۔
باجی کی شادی کے ایک سال بعد میرے لیے ماموں اور ممانی اپنے بیٹے کا رشتہ لائے۔ بہت اچھا اور نیک لڑکا تھا، وہ تعلیم یافتہ بھی تھا لہذا ابو سوچ میں پڑ گئے۔ بالآخر بیٹیوں کو بیاہنا ہی تھا، تاہم والدہ سے منتیں کروائیں تب رشتے کے لیے ہاں کہی۔ اس معجزے پر والدہ خوش ہوئیں اور اپنے بھائی و بھابھی کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ “دیکھو، اب ہاں ہو گئی ہے مگر جب تک شادی کا دن نہیں آجاتا، یہاں آنا جانا مت رکھنا۔ تم لوگ نہیں جانتے کہ احسان میاں کیسے تنک مزاج ہیں۔ بس اب شادی والے دن ہی لڑکی کو بیاہنے آجانا۔”
“ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں،” ماموں نے کہا، “جانتے ہیں احسان میاں کے بارے میں اچھی طرح سے، پہلے بھی نہیں آتے تھے، اب بھی بلاوجہ نہیں آئیں گے۔ تم اطمینان رکھو۔”
میری شادی میں دو ماہ رہتے تھے کہ بدقسمتی سے ان ہی دنوں نانا جان کے انتقال کی اطلاع آگئی۔ یہ ایسا سانحہ تھا کہ امی کو گھر سے قدم نکالنا پڑا۔ ابو بھی ان کو نہ روک سکتے تھے، البتہ وہ امی کے ساتھ نانا کے گھر پہنچے۔ یہ میت کا گھر تھا، سبھی رشتے دار آئے ہوئے تھے۔ ابو کسی کو آنے سے روک نہ سکتے تھے مگر وہ بہت بے چین ہو رہے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ ایک دن گزرے اور وہ ہمیں واپس گھر لے جائیں تاکہ کوئی رشتے دار ہم سے بات چیت نہ کر سکے۔ امی کے سگے ماموں حافظ صاحب بھی آئے تھے۔ انہوں نے دلاسا دینے کو نانی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ابو یہ دیکھ رہے تھے۔ بس پھر کیا تھا، ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پوچھنے لگے کہ “یہ شخص کون ہے؟” امی نے بتایا کہ “میرے ماموں ہیں۔ ہمارے گھر کوئی نہیں آتا تبھی آپ رشتے داروں کو نہیں پہچانتے۔” مگر ابو کا مزاج بگڑ چکا تھا، پارہ ساتویں آسمان پر تھا۔ یہ بھی خیال نہ کیا کہ سسر فوت ہو گئے ہیں اور ابھی جنازہ نہیں اٹھایا گیا۔ امی سے کہا، “بس دیکھ لیا مرے ہوئے باپ کا منہ… اب چلو گھر…”
سارا گھر رشتے داروں سے بھرا ہوا تھا۔ نانی اور خالائیں رو رہی تھیں۔ ایسے موقع پر بھی والد صاحب نے ڈرامہ کر دیا۔ سب نے سمجھایا کہ حافظ صاحب ہمارے سگے ماموں ہیں، بزرگ ہیں۔ نانی بیچاری بھی اس انوکھے جھگڑے میں اپنے شوہر کا غم دبا کر داماد کو صفائیاں دینے لگیں گے۔
تمام برادری نے اکٹھے ہو کر والد صاحب کی منت کی کہ “اپنے سسر کا جنازہ تو اٹھنے دو، پھر بیوی کو لے جانا۔” مگر والد کسی کی کب سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ ماموں سے بھی کہہ دیا کہ “مں تمہارے لڑکے کو اپنی بیٹی کا رشتہ ہرگز نہیں دوں گا۔ بس تمہارا خاندان دیکھ لیا ہے۔ ایسی بے غیرتی مجھ سے برداشت نہیں ہوگی۔” بڑے ماموں نے کہا کہ “آپ جنازے میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو آپ کی مرضی، ہماری بہن اس وقت نہیں جائے گی۔ تیسرے روز ہم خود ان کو آپ کے گھر چھوڑ آئیں گے۔” والد جیسے بات کو بڑھانا چاہ رہے تھے۔ تمام برادری کی منت سماجت کے باوجود وہ ہم بچوں کو ساتھ لے کر نانی کے گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور والدہ ان کا منہ تکتی رہ گئیں۔ ہم بہن، بھائی حیران تھے کہ یہ کیا ہو گیا۔ نانا کے انتقال پر گئے تھے اور ماں کو کھو کر آگئے۔ گھر پہنچ کر ابو نے بچوں سے کہا کہ “تمہارا اپنی نانی، والدہ یا ان کے گھرانے سے آئندہ کوئی تعلق نہ ہوگا۔”
ایک سال گزر گیا۔ ابو والدہ کو لینے گئے اور نہ ماموؤں نے ان کو پہنچایا، بلکہ والد نے ہی ان لوگوں کو آنے نہ دیا۔ یہاں تک کہ عید آگئی۔ تب چھوٹے ماموں یعنی سرفراز کے والد اور ان کی بیوی ابو سے معافی مانگنے آئے تاکہ وہ بیوی کو گھر آنے دیں، جو ہم بچوں کی جدائی میں نہ جیتی تھیں اور نہ مرتی تھیں۔ انہوں نے ہاتھ جوڑے، معافیاں مانگیں مگر انہوں نے ایک نہ مانی۔ وہ مایوس لوٹ گئے۔
نانی اور بڑے ماموں بھی آئے، وہ بھی بے عزت ہو کر گئے۔ والد نے کہہ دیا کہ “آپ کی بیٹی اب اس گھر میں قدم نہیں رکھ سکتی۔” وہ کہتے تھے، “اس روز قسم کھا کر واپس آیا تھا کہ اب رقیہ سے ناتا نہ رکھوں گا، تو اب کیسے قسم توڑ دوں؟” ہم کو امی کی یاد ستاتی تھی۔ ہر روز رو کر سوتے تھے۔ پھوپی نے بھی سمجھایا کہ “تم زیادتی کر رہے ہو” لیکن والد تو پتھر کا دل رکھتے تھے۔ بالآخر پھوپی نے کہا کہ “ناصرہ کا رشتہ تم میرے چھوٹے بیٹے سے کر دو، یہ بیاہے جانے کے بعد تمہارے پاس ہی رہے گی تاکہ بہن، بھائیوں کو کھانا وغیرہ پکا دیا کرے۔” پھوپی کا گھر برابر میں ہی تھا۔ والد نے اپنی سہولت دیکھ کر ہاں کر دی لیکن پھوپی کا یہ لڑکا مجاہد نہایت نکما اور ان پڑھ تھا۔ مجھے بالکل پسند نہ تھا۔ اب روز منگنی کی انگوٹھی کو نکال کر دیکھتی اور دعا کرتی کہ “خدا کرے میری شادی ماموں زاد سرفراز سے ہو جائے اور میں اپنی والدہ کے خاندان میں چلی جاؤں۔”
یہ تھے وہ حالات جنہوں نے مجھے باغی کر دیا۔ جس روز شام کو میرا مجاہد سے نکاح تھا، میں نے صبح دو جوڑے کپڑے بیگ میں ڈالے اور پڑوس میں چلی گئی۔ ان کی منت کی کہ مجھے میری نانی کے گھر پہنچا دیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایسا کریں گے تو آپ کے والد ہمارے ساتھ جھگڑا کریں گے اور ہنگامہ کر دیں گے۔ یہاں تک بھی برداشت کر لیں، لیکن اگر انہوں نے ہمارے خلاف پولیس میں کیس درج کرا دیا تو ہم کیا کریں گے؟ بہتر ہے کہ تم خود ویگن پر بیٹھ کر اپنی نانی کے شہر چلی جاؤ، البتہ ہم تمہاری نانی کو فون کر دیں گے کہ آپ کی بچی آ رہی ہے، اڈے سے آکر لے جائیں۔” انہوں نے مجھے رقم بھی دی اور یوں میں اکیلی ہی ویگن اڈے پہنچ گئی۔ مجھے معلوم تھا کہ نانی کے شہر کون سی گاڑی جاتی ہے۔ ٹکٹ لے کر سوار ہو گئی اور پڑوسیوں نے ماموں کے گھر فون کر کے اطلاع کر دی۔ جب گاڑی پہنچی تو دونوں ماموں مجھے لینے اڈے پر آئے ہوئے تھے۔ وہ مجھے گھر لے آئے۔ میں والدہ کے گلے لگ کر خوب روئی۔ اچھا بھی لگا کہ اتنے دنوں بعد ماں سے ملی تھی۔ وہ بہت اداس تھیں۔ والہانہ گلے لگ گئیں اور میرے بہن، بھائیوں کے بارے میں پوچھتی رہیں۔ آنسو ان کی آنکھوں میں تھمتے نہ تھے۔ کیا بتاؤں کتنا دکھ بھرا ہوا تھا ان کے دل میں۔
والد کو علم ہوا کہ میں گھر سے چلی گئی ہوں، تو فوراً پڑوس میں جا کر پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے بتا دیا کہ “آپ کی بیٹی بیگ لے کر آئی تھی۔ ہم نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا، وہ نانی کے گھر جانے کے لیے نکلی تھی۔” والد صاحب نے اسی وقت ماموں کو فون کیا۔ انہوں نے بتا دیا کہ ناصرہ ہمارے پاس ہے۔ والد صاحب نے تھانے جا کر ماموں اور ان کے بیٹے سرفراز پر پرچہ کٹوا دیا کہ انہوں نے میری بیٹی کو اغوا کیا ہے، جبکہ سرفراز وہاں تھا بھی نہیں۔ اس کی ملازمت ایک دوسرے شہر میں تھی اور وہ وہاں گیا ہوا تھا۔
ماموں نے والد سے فون پر کہا کہ “آپ کی بیٹی ہمارے پاس ہے، آپ کی امانت ہے۔ آپ پرچہ وغیرہ کیوں کٹوا رہے ہیں؟ لڑکی اپنی والدہ کے پاس ہے۔ آپ کہیں تو ہم خود ناصرہ کو آپ کے پاس چھوڑنے آجاتے ہیں؟”
میں مگر کسی طور اب باپ کے گھر جانے پر تیار نہ تھی۔ جانتی تھی کہ میرے ابو کتنے سخت گیر ہیں، یقیناً وہ میری ہڈیاں توڑ دیتے۔ اس لیے میرے شدت سے انکار پر امی نے ماموں سے کہا، “سرفراز کو بلوا کر جلدی سے نکاح کرا دیں اور میں خود بیٹی کو لے کر عدالت میں پیش ہو جاؤں گی، دیکھتی ہوں کون پھر اس کو زبردستی لے جاتا ہے۔”
ماموں نے بیٹے کو فوراً بلوا کر ہمارا نکاح پڑھوا دیا۔ عدالت میں والد نے کہا کہ “ان لوگوں نے ناصرہ کو اغوا کیا ہے اور میں بیوی کو طلاق دے چکا ہوں” حالانکہ انہوں نے تحریری طلاق نہ دی تھی۔ عدالت نے کہا کہ “طلاق دی ہے تو کنفرم بھی کرائیں” اور مجھ سے بیان لیا۔ اس وقت مجھے دکھ تو ہوا کہ باپ کے خلاف بیان دیا مگر کوئی اور چارہ نہ تھا۔ میں ماں کے آنچل میں پناہ چاہتی تھی، ماموؤں کے محفوظ ہاتھوں میں تھی، کسی غیر کے ساتھ تو گھر سے نہ بھاگی تھی۔ بہرحال ماموں کے وکیل نے جو کہا تھا، میں نے وہی عدالت میں بیان دیا تو عدالت نے مجھے سرفراز کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی اجازت دے دی۔ اس دن پہلی بار میں نے اپنے باپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ یہ وہی تھے جنہوں نے ناحق میری ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر بھر دیا تھا، ان کو گھر سے بے گھر اور اپنے بچوں کے لیے تڑپایا تھا۔ آج نجانے کیوں ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ کیا اتنے سخت دل آدمی کی آنکھوں میں آنسو آ سکتے ہیں؟ میں حیرت زدہ تھی۔ کیا وہ اس لیے رو رہے تھے کہ ان کو بیٹی سے محبت تھی یا پھر اس وجہ سے کہ عدالت میں آکر انہوں نے اپنی بے عزتی محسوس کی تھی کیونکہ بیٹی نے ان کے خلاف اور ماں کے حق میں بیان دیا تھا۔
میں کیوں نہ اپنی والدہ کی طرفدار ہوتی اور کیوں نہ ماں کے حق میں بیان دیتی، وہ آخر میری ماں تھیں، بے قصور تھیں لیکن انہیں اتنی بڑی سزا ملی کہ اپنی اولاد کو دیکھنے اور اس سے ملنے سے محروم تھیں۔ جب میں والدہ، ماموں اور اپنے شوہر سرفراز کے ہمراہ عدالت کے احاطے سے نکلی تھی تو ایک بار مڑ کر والد کو دیکھا تھا جو رومال سے اپنے آنسو پونچھ رہے تھے۔ مجھے گمان ہوا شاید کہ یہ اپنے کیے پر پچھتا رہے ہیں اور یہ آنسو پچھتاوے کے ہیں۔ اے کاش! وہ عدالت میں یہ نہ کہتے کہ “میں نے بیوی کو طلاق دے دی ہے” تو شاید ایک بار اور خاندان کے سب بزرگ ان کی منت سماجت کر کے امی اور ابو میں صلح کرا دیتے، لیکن اب سب نے کہہ دیا کہ “ہمارا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ شخص اتنا انا پرست ہے کہ صلح کے لیے اس کی منت سماجت کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔”
(ختم شد)

