پچھتاوے کی رات

Urdu short stories pdf

فرحانہ سے میری اچھی دوستی تھی۔ ایک دن اس نے کہا کہ تم میرے گھر آنا، تو میں تمہیں اپنی منگنی کی تصویریں اور ویڈیو فلم دکھاؤں گی۔ تب میرے دل میں شوق جاگا کہ اس کی منگنی کی ویڈیو فلم دیکھنی چاہیے۔ اس کی میری بڑی بہن سے بھی دوستی تھی، لہذا ہم دونوں بہنیں چھٹی والے دن اس کے گھر جا پہنچیں۔ وہ ہمیں اپنے کمرے میں لے گئی اور کچھ دیر باتوں کے بعد فوٹو البم اٹھا لائی۔ “دیکھو، کلاس میں کسی کو مت بتانا کہ میں نے تمہیں منگنی کی تصویریں دکھائی ہیں، ورنہ اور لڑکیاں بھی فرمائش کریں گی”۔ ہم نے وعدہ کیا کہ ہم کسی کو نہ بتائیں گے۔ تصویروں میں فرحانہ بڑی پیاری لگ رہی تھی، لگتا نہیں تھا کہ یہ منگنی کی تقریب کی تصویریں ہیں۔ وہ پوری طرح دلہن بنی ہوئی تھی۔ بھاری جوڑا اور سارا زیور پہنے ہوئے تھی، جیسے شادی یا رخصتی کا سماں ہو۔
sublimegate
گھر آکر باجی نے کہا: “فرحانہ بڑی خوش قسمت ہے کہ اس کا دولہا بہت خوبصورت ہے اور لوگ بھی امیر ہیں، لیکن ایک بات مجھے ٹھیک نہیں لگی۔ منگنی کی ایسی تصویریں اور ویڈیو نہیں بنوانی چاہیے تھیں”۔ میں نے پوچھا: “کیوں؟”۔ “اس لیے کہ وقت کا کوئی اعتبار نہیں، کیا پتہ کل کیا ہونے والا ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کسی وجہ سے منگنی ٹوٹ جائے یا کوئی حادثہ…”۔ “خدارا باجی! ایسی بدشگونی کی باتیں تو منہ سے نہ نکالیں”۔ میں باجی کی سوچ پر لرز کر رہ گئی کہ کیسی منفی باتیں کر رہی تھیں، مگر کبھی کبھی انسان جو سوچتا ہے، شاید وہ واقعہ ہونے والا ہوتا ہے۔ باجی نے بھی کسی بدنیتی سے ایسا نہیں کہا تھا، یہ محض ان کے خیالات تھے، لیکن شاید فرحانہ کی اپنی قسمت میں یہ حادثہ لکھا تھا۔

ہمارے سالانہ پرچے ختم ہوئے ہی تھے کہ پتہ چلا فرحانہ بیمار ہے۔ میں اور باجی اس کا حال دریافت کرنے گئے۔ وہ واقعی بہت بیمار تھی۔ اس کی امی سے پتہ چلا کہ فرحانہ کی منگنی ٹوٹ گئی ہے۔ لڑکے والے لالچی نکلے، وہ زیادہ جہیز کا تقاضہ کر رہے تھے، حالانکہ لڑکا چاہتا تھا کہ منگنی نہ ٹوٹے۔ اس نے فون کر کے کہا بھی کہ اگر فرحانہ راضی ہے، تو وہ کورٹ میرج پر بھی تیار ہے، لیکن یہ راضی نہ ہوئی۔ وہ والدین کی عزت کو بٹہ لگانا نہیں چاہتی تھی۔ ماں، باپ کی مرضی سے شان کے ساتھ رخصت ہونا چاہتی تھی۔ فرحانہ کو منگنی کے ٹوٹنے کا بہت غم تھا۔ وہ ہر صورت اپنے منگیتر سے ہی شادی کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ اس سے پیار کرنے لگی تھی۔ دونوں فون پر باتیں بھی کیا کرتے تھے۔ یہ سب باتیں ہمیں خود اسی نے بتائیں۔ ہمیں بھی افسوس تو بہت ہوا لیکن تقدیر کے لکھے کو کیا کر سکتے تھے۔

گھر آکر باجی نے کہا: “دیکھا، میں نہ کہتی تھی کہ ان کو منگنی اتنی دھوم دھام سے نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ویڈیو بھی ایسی بنائی ہے جیسے شادی ہو، تبھی تو بیچاری فرحانہ کو اتنا دکھ ہوا ہے”۔ میٹرک کا نتیجہ آیا، ہم سب پاس ہو گئے، تو اکٹھے کالج میں داخلہ لے لیا۔ کچھ لڑکیوں نے البتہ تعلیم چھوڑ دی اور گھر بیٹھ گئیں، لیکن فرحانہ نے پڑھائی نہ چھوڑی۔ وہ ہمارے ساتھ کالج جانے لگی۔ ایف اے کے سالانہ پیپر ہونے والے تھے کہ اچانک فرحانہ نے کالج آنا ترک کر دیا۔ سننے میں آیا کہ اس نے کالج چھوڑ دیا ہے، کیونکہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔ ٹیچرز یہ سن کر ششدر رہ گئیں، کیونکہ وہ عام سی شکل و صورت کی لڑکی تھی اور میٹرک پاس تھی، جبکہ اس کی شادی ایک انجینئر سے ہو رہی تھی۔ لڑکیوں کو تو اس وقت اتنا شعور نہ تھا، لیکن وہ ٹیچرز جو لیکچرار ہونے کے باوجود ابھی تک غیر شادی شدہ تھیں، اس کی قسمت پر رشک کرنے لگیں۔ فرحانہ کی شادی امیر گھرانے میں ہو رہی تھی۔ یوں وہ بیاہ کر اپنے گھر کی ہو گئی، اس کے بعد وہ کبھی کالج نہ آئی۔ ہم نے بھی کالج کی تعلیم مکمل کر لی اور اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ کسی نے بھی فرحانہ کی زندگی کے متعلق کبھی جاننے کی کوشش نہ کی کہ وہ کیسی ہے؟ کہاں ہے؟ کیونکہ ایسی باتوں کی اس وقت کوئی وقعت نہ تھی۔

کافی عرصے بعد ایک محفل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں فرحانہ نامی عورت سے ملاقات ہوئی۔ کوئی وجہ بظاہر نظر نہ آئی تھی، لیکن نظریں بار بار اس کی طرف اٹھ جاتیں۔ جب میں اس کی طرف دیکھتی، تو وہ بھی میری طرف توجہ مرکوز کیے ہوتی۔ پھر اچانک ہی وہ اٹھ کر چلی گئی۔

اس کے جانے کے بعد ہر زبان پر ایک ہی قصیدہ تھا کہ ہائے بیچاری کتنے ظلم سہتی ہے۔ اتنے سال ہو گئے شادی کو، پھر بھی نہ جانے کیوں اس ظالم کو ترس نہیں آتا۔ ایک نے کہا: “سنا ہے مارتا بھی ہے اس غریب کو”۔ دوسری نے کہا: “جو مرد اپنی عورتوں کو مارتے ہیں، میرا دل کرتا ہے کہ ان کو گولی مار دوں”۔ غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں، ہر زبان پر اس کے لیے ایسے ہی زخم خوردہ الفاظ تھے۔ مجھ سے نہ رہا گیا تو میں نے ایک عورت سے پوچھ ہی لیا کہ آخر یہ عورت تھی کون؟ ان میں سے ایک خاتون بولیں: “آپ اس کو نہیں جانتیں؟ اس بیچاری کی تو زندگی عذاب ہو کر رہ گئی ہے”۔ اس نے بتایا کہ بہت عرصے پہلے اس کی شادی ہو گئی تھی۔ اس کا خاوند انجینئر ہے، ٹھیک ٹھاک کماتا ہے، اس کے بعد وہ خاتون چپ ہو گئیں۔

میں انجینئر اور فرحانہ کے نام پر چونکی کہ کہیں یہ وہی فرحانہ تو نہیں، جو کبھی میری کلاس فیلو تھی؟ تبھی میرے تجسس نے جوش مارا۔ “تو کیا اس کے بچے نہیں ہیں، جو یوں ظلم کرتا ہے اس کا خاوند؟”۔ “کیا بات کرتی ہو! بچے نہیں، پوری کرکٹ ٹیم ہے”۔ مزید کچھ پوچھنے کے بجائے میں سوچنے لگی کہ جب گھر میں آسودگی ہے، شادی کو بھی اتنا عرصہ ہو گیا، تو اس صورتحال کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ ہر کوئی اس کے لیے دل میں رحم کے جذبات رکھتا ہے۔

میں وہاں سے تو چلی آئی، لیکن میرے دل میں کسک رہ گئی کہ اگر یہ میری دوست فرحانہ ہے، تو اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا اس کا اپنا کردار مشتبہ ہے، جس کی وجہ سے یہ حالات ہیں یا پھر اس کے خاوند کا کردار صحیح نہیں؟ بہت سوچنے کے بعد جب کچھ نہ بن پڑا، میں نے اپنی والدہ سے پوچھا۔ انہوں نے فرحانہ کے والدین کا بتایا کہ وہ لوگ یہاں سے جا چکے ہیں، البتہ فرحانہ کا خاوند اب یہیں ٹرانسفر ہو کر آ گیا ہے۔ اس کو یہاں شفٹ ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے۔ اس سے آگے مزید مجھے کچھ پوچھنے کی جرات نہ ہوئی، کیونکہ مجھے کچھ اندازہ نہ تھا کہ اس کے حالات کی کیا وجوہات ہیں۔ میں نے اپنی ایک دوست سے رابطہ کیا اور اس کو ساری صورتحال بتائی، وہ بھی افسردہ ہو گئی۔ بہرحال اس نے وعدہ کیا کہ وہ چند دنوں تک تمام حقائق کا پتہ لگا کر مجھے بتائے گی، پھر وہ کچھ دنوں بعد آئی اور یوں گویا ہوئی: “یہ فرحانہ ہماری کلاس فیلو ہی ہے۔ پہلی منگنی ٹوٹنے کے دو سال بعد انہی انجینئر صاحب کا رشتہ آیا اور شادی ہو گئی۔
 
 ان لوگوں کو اتنا تو پتہ تھا کہ فرحانہ کی پہلے کبھی کہیں منگنی ہو کر ٹوٹی ہے، لیکن ان کو پتہ نہیں تھا کہ منگنی پر اتنا اہتمام ہوا تھا۔ ان لوگوں کی بھی غلطی یہ کہ جب دوسری جگہ رشتہ طے ہو گیا تھا، تو ان کو چاہیے تھا کہ پہلی منگنی کی تصاویر اور ویڈیو ضائع کر دیتے، لیکن کہتے ہیں ناں کہ عورت کی عقل گٹے میں ہوتی ہے، تبھی فرحانہ بی بی نے یہ کمال کیا کہ اپنی منگنی والی تصویریں اور ویڈیو ضائع کرنے کے بجائے سنبھال کر رکھیں۔ فرحانہ کا کچھ سامان اس کے میکے میں پڑا تھا۔ ماضی کا یہ خزانہ بھی انہی چیزوں میں شامل تھا۔ فرحانہ کی ماں نے بھی خیال نہ کیا کہ یہ چیزیں کیوں پڑی ہیں؟ تصویروں کی البم اور فلم فرحانہ کے پاس ہی رہتی تھی، جو اس نے اپنی الماری کی سیف میں چھپا رکھی تھی۔ شاید اپنے پہلے منگیتر کی ان یادوں کو مٹانا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ شاید وہ سمجھتی تھی کہ کسی دن جب دل ماضی کی ان سنہری یادوں سے باغی ہو جائے گا، تو ان چیزوں کو اپنے ہاتھوں سے جلا دے گی”۔

انسان کا کچھ پتہ نہیں، کیا کچھ سوچتا ہے اور انسانی رویے جو برسوں تبدیل نہیں ہوتے، وہ ایک پل میں کسی چھوٹی سی وجہ سے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پھر عورت تو ہوتی ہی جذباتی ہے۔ فرحانہ نے جس طرح دل سے پہلے منگیتر کو قبول کیا تھا، کسی اور کو نہ کر سکی، پہلی چاہت اس کی روح میں اتر گئی تھی۔ شومئی قسمت کہ ایک دن اس کی الماری کی چابیاں اس کے شوہر کے ہاتھ لگ گئیں۔ اس نے الماری کا سیف کھولا۔ نہ جانے کیوں آج وہ اس کی چیزوں کی تلاشی کے موڈ میں تھا، تبھی اس کو فرحانہ کی پہلی منگنی کی البم اور ویڈیو فلم مل گئی، ساتھ ہی کچھ تحفے، سینٹ، رومال، چوڑیاں، سوکھے ہوئے پھول اور منگیتر کے محبت بھرے خط بھی تھے۔ رضی نے کمرہ بند کر لیا اور ساری چیزیں اپنی تحویل میں لے لیں اور ایک بیگ میں بھر کر گھر لے آیا۔ فرحانہ کو پتہ نہیں تھا کہ آج اس کا شوہر میکے سے اس کی موت کا سامان گھر اٹھا لایا ہے۔

رات کو رضی نے فرحانہ کو وی سی آر پر اس کی منگنی کی فلم دکھائی اور تمام چیزوں کا بغور مطالعہ کیا۔ بس پھر کیا تھا، اس کے دل میں فرحانہ کے لیے نفرت اور غصے کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے سوچا کہ بیوی ایک دوغلی زندگی گزار رہی ہے، وہ رہتی تو اس کے ساتھ ہے، لیکن اس کا دل و دماغ کہیں اور ہوتا ہے۔ مرد کے دل میں شک کو گھر کرتے دیر نہیں لگتی، خاص طور پر جب معاملہ اپنی بیوی کا ہو۔ اسے یقین ہو گیا کہ فرحانہ ضرور کبھی نہ کبھی چوری چھپے اپنے سابقہ منگیتر سے ملتی ہو گی، ورنہ ابھی تک ان چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کی کیا تک تھی؟ رضی کو آج یہ احساس ہوا کہ وہ محض ایک مصنوعی رشتے سے بندھا ہوا ہے۔ جب بیوی کی وفاداری مشکوک ہو جائے، تو پھر مرد میں کام کرنے کی امنگ بھی ختم ہو جاتی ہے اور گھر کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔

اسی توڑ پھوڑ میں رضی کا کچھ نہ بچا۔ اس کے مزاج میں ایسی تبدیلی آئی کہ وہ ہر وقت غصے اور قہر کا شکار رہنے لگا. فرحانہ نے لاکھ قسمیں کھائیں، یقین دلایا کہ وہ یہ چیزیں رکھ کر بھول گئی تھی اور پھر ان کو تلف کرنا یاد نہیں رہا، مگر اس کے شوہر نے مان کر نہ دیا۔ ظاہر ہے، پرانی محبت کی نشانیاں سنبھال کر رکھنا بھی معنی رکھتا ہے۔ رضی نے پہلی بار طیش میں آکر فرحانہ کے منہ پر تھپڑ مارا اور اس کے بعد وہ زبان نہ کھول سکی اور وہ اپنا ہاتھ نہ روک سکا۔ اوپر سے بچوں کی لائن لگتی گئی۔

اگر روٹھ کر میکے بھی جاتی، تو خاوند کا نام سن کر مارے دہشت کے آگے چل پڑتی۔ والدین کہتے کہ طلاق لے لیتے ہیں، تو بھی نہ مانتی کہ یوں تو بچوں کی زندگیاں برباد ہو جائیں گی۔ آج کل کوئی کسی کے ایک بچے کو نہیں سنبھالتا، اتنے بچوں کی ذمہ داریاں ماں کے علاوہ کون اٹھا سکتا ہے؟ جبکہ اس کا بڑا بیٹا تیرہ سال کا ہو گیا تھا۔ اب بھی خاوند بات بے بات اس کی بے عزتی کرتا اور سابقہ منگیتر کے طعنے دے کر اس کو لمحہ لمحہ روحانی موت مارتا رہتا تھا، جیسے وہ انسان نہیں ڈھور ڈنگر ہو۔

میری سہیلی یہ سب باتیں بتا کر چلی گئی، تو میرا جی بہت دُکھا۔ میں جانتی تھی کہ فرحانہ بری لڑکی نہ تھی، پہلی منگنی بھی اس کے ماں باپ نے کی تھی اور منگنی ٹوٹی تو بھی اس کا کوئی دوش نہ تھا، پھر رضی سے رشتہ ماں باپ نے کیا اور وہ اپنے والدین کی رضا کے آگے سر جھکاتی رہی۔ ایک روز میں خود فرحانہ کے گھر چلی گئی۔ اس کا خاوند گھر پر نہیں تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ غریب منہ چھپانے لگی، کیونکہ اس کے منہ پر جا بجا نشانات اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ شوہر سے مار پڑی تھی۔ وہ بہت شرمندہ ہو رہی تھی۔ میں نے اپنا تعارف کرایا، تو بولی: “میں نے تو اسی روز تمہیں پہچان لیا تھا، لیکن وہاں زیادہ دیر نہ رکی، اسی وجہ سے بات چیت نہیں ہو سکی۔ اصل میں، میں خود اعتمادی کھو چکی ہوں۔ غیر تو غیر، اپنوں سے بات کرنے سے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے”۔ میں مسلسل اس کے چہرے پر نیلے نشانات دیکھ رہی تھی۔ وہ بات بنانے لگی کہ غسل خانے میں گر گئی تھی، اس لیے یہ چوٹیں آئی ہیں۔ اس بہانے پر مجھے بے حد دکھ ہوا اور فرحانہ پر بے اختیار پیار آ گیا۔ میں نے کہا: “اپنا دکھ چھپاؤ نہیں، مجھے سب پتہ ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے”۔ یہ سن کر اس کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہنے لگے، پھر اس نے شروع سے آخر تک وہی کہانی سنائی، جو میں پہلے سن چکی تھی۔

“فرحانہ! تم کو یہ ساری چیزیں تلف کر دینی چاہیے تھیں، اب دیکھو، زندگی تو تلخ ہو گئی”۔ “ہاں شہلا، تم ٹھیک کہتی ہو۔ بس خیال ہی نہ رہا۔ شادی ہو کر رضی کے گھر آ گئی، پھر جب بھی میکے جاتی، یہ ساتھ جاتے تھے۔ سوچتی تھی، کسی دن یہ ساتھ نہ ہوں گے اور دو چار دن امی کے گھر رہوں گی، تو ان چیزوں کو جلا دوں گی، لیکن وقت گزرتا رہا اور موقع نہ ملا۔ امی کو بھی نہ کہا کہ کہیں ان کو دکھ نہ ہو۔ کیا خبر تھی کہ میری لاپروائی سے راز فاش ہونا ہے، تبھی میں اتنی لاپروا کیوں بن گئی”۔ فرحانہ کچھ اس بے بسی اور تاسف سے یہ باتیں کہہ رہی تھی، جیسے واقعی وہ مجرم ہو حالانکہ وہ مجرم نہ تھی۔ میں جانتی تھی مگر رضی کو کون سمجھاتا، جس نے اپنے برے سلوک سے بیوی کی شخصیت کو برباد کر دیا۔ مار پیٹ سے انسان کسی کا دل نہیں جیت سکتا، اس کے لیے محبت ہی ایک راستہ ہے، جس پر چل کر کسی کا دل جیتا جا سکتا ہے۔ “تمہارے گھر والے، عزیز رشتہ دار منع نہیں کرتے؟ کسی کو بیچ میں ڈال کر بات کرو۔
 
 ایک آدھ بار تو چلو غصے کی وجہ سے ان کی بدسلوکی برداشت کی، مگر اس مسلسل ذہنی عذاب سے چھٹکارا پانا لازمی ہو جاتا ہے”۔ “سب ان سے بات کر چکے ہیں۔ وقتی طور پر وعدہ کر لیتے ہیں کہ اب کچھ نہیں کہیں گے۔ دو چار روز اس پر کاربند بھی رہتے ہیں، لیکن پھر وہی غصہ اچانک جاگ پڑتا ہے، جو ان کے وجود کو جلانے لگتا ہے اور پھر وہی بک بک شروع ہو جاتی ہے۔ بھائی بہت اصرار کرتا ہے کہ سب چھوڑ چھاڑ کر واپس آ جاؤ، کیوں اپنی زندگی کو جہنم میں جھلسا رہی ہو؟ لیکن کیا کروں، میں بے بس ہوں اپنی ممتا کے ہاتھوں، سات بچے ہیں۔ اگر سب کو لے جاؤں، تو میکے والے کب تک ان کا بوجھ اٹھائیں گے اور اگر چھوڑ کر جاتی ہوں، تو بچے رُل جائیں گے۔ کوئی بھی نہ ہو گا، جو اُن کی ضروریات کا خیال رکھے گا”۔ “تم نے کم عمری میں ہی اتنے دکھ سہ لیے”۔ میں نے اس کو پیار کیا، تو وہ رو دی اور بولی: “ہاں، میری کم عمری اور کم عقلی ہی تو مجھے لے ڈوبی ہے، تبھی تو اپنی زندگی داؤ پر لگا بیٹھی ہوں”۔

گھر کے سامان سے اس کی امارت اور فرحانہ کا سلیقہ جھلک رہا تھا، اتنے بچوں کے ہوتے ہوئے بھی گھر کی ہر چیز طریقے اور سلیقے سے رکھی ہوئی تھی۔ صفائی بھی بہت تھی، حالانکہ سب کچھ ہونے کے باوجود ایک ملازم بھی بیوی کو رکھ کر نہ دیا تھا۔ گھر کا ہر چھوٹا بڑا کام فرحانہ کو خود کرنا پڑتا تھا، اوپر سے بلاوجہ کی مار، طعنے اور بدسلوکی جو صرف اسی کا نہیں، اس کے بچوں کا بھی مقدر بن گئی تھی۔

لڑکیاں بیچاری ہمارے معاشرے میں کس قدر زیادتی سہتی ہیں۔ شادی میں ان کی پسند اور مرضی شامل نہیں ہوتی اور آگے جو پیش آئے، اسے اس کا مقدر کہا جاتا ہے، جس کو وہ کبھی بدل نہیں سکتیں۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ